Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 72 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 72 Part 2
سکندر نے اپنے آدمیوں سے کہہ کر داؤد کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔۔۔۔
سکندر نے اپنے آدمیوں سے کہہ کر داؤد کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔۔۔۔
اس شرط پر کے فلک داؤد کی جان کے بدلے اُس سے شادی کریگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بس رویے جا رہی تھی۔۔۔۔اسی دن کا ڈر تھا اُسے جو آج آ پہنچا تھا۔۔۔
رو کر اپنی آنکھوں پر ظلم نا کرو۔۔۔
کل میری دلہن کو دیکھنے سارا زمانہ جمع ہوگا۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب زمین پر بیٹھ کر اُس کے آنسو کی ایک بوند کو اُنگلی پر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔فلک نے نفرت سے بھیگی نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
افف یہ غصّہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکی تو ہر ادا قاتل ہے سرکار۔۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر دل تھام کر بولا۔۔
فلک نے غصے سے نظریں پھیر لیں۔۔۔۔
اُس کی نظریں سنجیدہ ہو کر فلک کے چہرے کا طواف کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح الگ سا احساس تھا جو اُسے دیکھ کر ہی محسوس ہوتا تھا۔
اگر تم سے ہار جیت کا معاملہ نا ہوتا۔۔۔تو شاید تمہاری آنکھوں سے محبت ہوجاتی سکندر کو۔۔۔۔
وہ بے خود انداز میں بولا فلک نے ضبط سے آنکھیں بند کرلیں جب کے سکندر خود ہی اپنی بات پر ہنسنے لگا
محبت۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنستا ہوا اپنے کہے لفظ کو دہرانے لگا فلک نے ناگواری سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر ٹیبل پر رکھی شراب کی بوتل اٹھا کر دوبارہ اُس کے پاس آیا
کل تمہاری مجھ شادی ہے۔۔۔۔۔۔
بیچلر پارٹی تو بنتی ہے۔۔۔۔
بوتل سے ایک گھونٹ بھر کر مسکراتے ہوئے بولا
میں اُن کی بیوی ہوں سکندر تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔
فلک نے پریشانی و بے بسی سے کہا۔۔
میں نہیں مانتا۔۔۔۔مجھے تو نکاح شادی سب فضول ہی لگتے ہیں۔۔۔۔
میں تو جِسے پسند کروں اُسے ایسے اپنا بنا لیتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا۔۔۔۔۔اور بوتل کو منہ سے لگایا
میرے نزدیک نا تمہارے اس کے ساتھ نکاح کی کوئی حیثیت ہے نہ میرے ساتھ۔۔۔۔۔
یہ تو بس دنیا کو دکھانا ہے کے سکندر کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
وہ مغرور سے انداز میں مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔۔مطلب اُسے دونوں کے نکاح سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا
چلو میں جا کر ہماری شادی کا انتظام کرتا ہوں۔۔۔۔تم کل دلہن بن کر ایسے سامنے آنا کے سکندر ساری دنیا کو بھول کر بس تمہیں دیکھتا رہے۔۔۔۔۔
وہ بھاری ہوتی آنکھوں کو جھپک کر اُسے دیکھتا ہوا بولا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
فلک اللہ سے اپنے لیے مدد اور داؤد کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
وہ کھڑکی کے راستے بنا آواز کیے اندر اترا اور پورے کمرے پر ایک نظر ڈالی۔۔۔
بلیو گھٹنوں سے اونچی نائیٹی میں رینا اپنے بیڈ پر گہری نیند میں سوئی تھی۔۔۔
وہ اُس پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھا اور بنا آواز کیے کمرے کی تلاشی لینے لگا۔۔۔۔ایک ایک دیوار ٹٹولی ہر ڈراور کھول کھول کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
شاید کوئی فون کوئی ٹیب کچھ ایسا ملے جس کے ذریعے وہ اپنے لوگو سے کانٹیکٹ کرتی ہو۔۔۔کیوں کے اُس کے موبائل نمبر کے ذریعے کوئی کلو نہیں مل رہا تھا۔۔۔
اُس کمرے سے باہر نکل کر ڈرائنگ روم کچن اور دوسرے بیڈروم کا بھی ایک ایک کونہ تلاش کیا لیکن اُسے کچھ نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے کان میں موجود چھوٹے سے ایئر پیس میں بیپ ہوا تو اُس نے اپنی کلائی میں موجود بینڈ میں لگا بٹن پریس کیا۔۔۔
میں نے رینا کے پورے گھر کو سرچ کیا ہے لیکن یہاں کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔
شاد اُسے کوئی بات کہہ رہا تھا کے وہ درمیان میں بول پڑا آواز بلکل دھیمی تھی
وہاٹ۔۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے یہ کتنا رسکی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت و غصے سے بولا۔۔۔
رسکی ہے تو کیا یونہی بیٹھے رہیں۔۔۔۔صبح اُن کے کچھ کرنے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈروم کی دیوار پر لگی پینٹنگ کو اپنی جگہ سے ہٹا کردیوار پر ہتھیلی پھیرتے ہوئے بولا
لیکن اب کیا ۔۔۔۔۔۔وہاں بھی تو کچھ ہاتھ نہیں لگا۔۔۔۔۔۔
شاد نے بیزاری سے سر جھٹک کر کہا
اب وہ خودبتائے گی۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے پینٹنگ کی جگہ درست کرکے اطمنان سے کہا اور وہ اُسے روکے یا کوئی سخت بات کرے اُس کے پہلے لائن ڈسکنیکٹ کردی۔۔۔۔
وہاں وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔۔
اور کچھ آفیسرز کو جمع کرکے اُنہیں اگلے ڈن کی پلانگ سمجھانے لگا۔۔۔
وہ پورے گھر میں کچھ نہ پاکر دوبارہ سے رینا کے بیڈروم میں آیا اور اُس بیڈروم کے واشروم کو بھی اچھے سے چیک کیا۔۔۔۔۔ایک ایک چیز اٹھا کے دیکھی لیکِن کچھ بھی ابنارمل نہیں لگا۔۔۔
اُس نے وہاں بنی شیلف میں رکھا سامان ہٹا کر پیچھے کی دیوار کو ناک کیا تو اُس میں ایک کانچ کی بوتل فلور پر گر کر ٹوٹ گئی۔۔۔۔
اور آواز اتنی تھی کے اُسے یقین تھا رینا تل ضرور پہنچی ہوگی۔۔۔۔۔
وہ چھناک کی آواز پرایکدم سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
گہری نیند کے باعث آنکھیں رگڑ کر کھولیں اور سوئچ بورڈ ٹٹول کر لائٹ آن کی۔۔۔۔۔
چند سیکنڈ لگے ذہن کو بیدار اور آنکھوں کو نارمل ہونے میں تو اپنے کمرے میں ٹھیک سامنے ایک اجنبی کو دیکھا جو آرام سے راکنگ چیئر پر بیٹھا انگلی میں اُس کیز گھماتے ہوئے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔۔اندر کیسے آئے تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتی بیڈ سے اتری ساحل نے مسکرا کر کھلی کھڑکی کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اُس نے غصے سے ساحل کو دیکھتے ہوئے ڈراور کھول کر پسٹل نکالی اور اُس کی جانب کی
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔
چور ہوں ۔۔۔۔۔آپکی نیند چرانے آیا ہوں۔۔۔۔۔
اُس نے سر سائیڈ میں جھکا کے اُسے ونک دیتے ہوئے کہا۔۔۔
سیدھی طرح جواب دو۔۔۔۔۔ کیسے پہنچے یہاں تک۔۔۔۔
رینا نے پسٹل اُس کے نزدیک کرکے اُس کے ماتھے پر رکھی۔۔ساحل نے ایکدم سے کھینچ کر اُسے خود پر گرا لیا۔۔۔,
آپ نے ہی پکارا تھا۔اشاروں میں۔۔۔۔ ۔۔۔میں آگیا۔۔۔۔
اُس کے چہرے کو قریب کیے اُنگلی سے لکیر بنائی۔۔۔۔رینا کے تاثرات بدلے۔۔۔۔۔۔غصے کی جگہ نخرے نے لے لی۔۔۔۔
اُس نے بلکل اسی انداز میں پسٹل کا سرا ماتھے سے نیچے کرتے ہوئے شیو پر پھیرا۔۔۔
اس حرکت کے لیے جان بھی لے سکتی ہوں تمہاری۔۔۔۔
مصنوعی غصے سے اُسے دھمکی دیتے ہوئے پسٹل اُس کے لبوں تک لائی تو اُس نے مسکرا کر پسٹل کو چوم لیا
جان لینے کے لیے اس کی کیا ضروت ہے ۔۔۔آپ تو یونہی نظروں سے مار دیجئے۔۔۔۔
بنا آستین کے بازو کو اُنگلیوں سے چھوتے ہوئے ہاتھ اوپر لیجاتے اُنگلی کندھے پر موجود اسٹرپس سے الجھائی۔۔ لیکن اُسے نیچے کرنے سے پہلے ہی رینا نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا اور خود اس کی گود سے اٹھ کر دور ہوئی
انٹریسٹنگ۔۔۔۔۔۔۔
اُسے دیکھتے ہوئے کہتی پسٹل واپس رکھ کے شراب کی بوتل اٹھا کر گلاس میں ڈالنے لگی
کیا لوگے۔۔۔۔۔۔
مسرور سے لہجے میں اُس سے پوچھا۔۔
یہ خاطر رہنے دیجئے۔۔۔۔۔۔۔میں مہمان نہیں عاشق ہوں۔۔۔۔۔۔
اور یہ عاشقی سر چڑھ رہی ہے ۔۔۔۔
اسے اُتار دیجئے بس۔۔۔۔
وہ آه بھر کر کہتا کرسی پر ہی مانو نیم دراز ہو گیا۔۔۔۔
اگر اُس کو پتہ چلا تو سر دیوار سے مار مار کر اتار دیگی۔۔۔۔۔
نین کا خیال آتے ہی ایک سوچ دماغ میں آئی ۔۔۔۔
وہ ایک گلاس اُسے تھما کر خود کے لئے دوسرے میں شراب ڈالنے لگی۔۔۔
میں نے تم جیسا انسان آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔۔چوبیس گھنٹے پہلے تم سے معمولی سی ملاقات ہوئی تھی ۔۔۔۔
اور تم میرے گھر بھی گھس آئے۔۔۔۔۔
وہ اُس سے رخ موڑے اپنا گلاس بھرتے ہوئے بول رہی تھی ساحل نے اُس پر نظریں جمائے گلاس کو پیچھے کرکے آدھے سے زیادہ شراب ٹیبل پر رکھے واس میں انڈیل دی اور جیسے ہی اُسے پلٹتے محسوس کیا گلاس منہ کے قریب کرکے لبوں سے لگا لیا
آپ کے چوبیس گھنٹے میرے لیے چوبیس دن جیسے گزرے ہے آپ کے بنا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے پلٹنے سے پہلے ہی وہ اپنے تاثرات سنبھال چکا تھا۔۔۔
رینا ہنس کر بال سنوارتی ہوئی شراب پینے لگی۔۔۔۔
وہ عمر میں اُس سے بہت بڑی تھی۔۔۔۔۔۔آنکھوں کے نیچے صاف جھریاں نظر آرہی تھی۔۔۔۔
بنا بازؤں والی چھوٹی سی نائیٹی میں اُس کے سامنے بلکل کمفرٹیبل کھڑی تھی۔۔جس کا مطلب تھا اُس کے لیے یہ بلکل نارمل بات ہے۔۔۔۔
لیکن پھر بھی اگر آپ چاہے تو میں چند گھنٹے اور قربان کر سکتا ہوں۔۔۔اگر آپ مجھ سے کل ملاقات کا وعدہ کریں۔۔۔۔
وہ گلاس رکھ کر اُسے دیکھتا ہوا بولا۔۔
رینا نے اپنا گلاس ٹیبل پر رکھا اور اُس کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے اُس کے قریب ہوئی
کل کس نے دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس پر پوری جھک کر چہرہ اُس کے چہرے کے قریب کرکے بولی ۔۔۔۔۔ساحل کے تاثرات سخت ہوئے اس کے پہلے کے وہ اُس کے لبوں کو چھوئے اُسے اپنے پیٹ پر کچھ محسوس ہوا۔۔۔۔۔
اُس نے پیچھے ہو کر اپنے اور اُس کے درمیان دیکھا تک۔۔۔۔وہ گن اُس کے پیٹ سے لگائے ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ گھبرا کے پیچھے ہوئے۔۔۔۔ساحل اسی طرح سکون سے بیٹھا تھا گن اُس کے پیٹ پر رکھے۔۔۔جب کے رینا کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔۔۔
اپنی ہوس میں وہ سب نظر انداز کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
گولی کھا کر الٹی کروگی یا ایسے ہی۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔
کیا چاہیے تمہیں۔۔۔۔۔۔
وہ گھبراہٹ و غصے سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
تمہارے ہارڈ ڈسک میں جو جو ہے سب اگلو۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔۔۔
اس دفعہ وہ نہایت سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔
مجھے نہیں سمجھ ۔۔۔۔
وہ انجان بننے کے کوشش کرنے لگی لیکن ساحل نے ایکدم سے اپنے لبوں پر اُنگلی رکھ کر اُسے بولنے سے روکا
شش۔۔۔۔۔۔۔صرف ایک چانس دیا ہے۔۔۔۔۔
Because I hate voilence۔۔۔۔۔
اُسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔
رینا ابھی کچھ بولنے ہی لگی تھی کے پیچھے کھلی کھڑکی سے بنا آواز گولی چلی اور اُس کے پیشانی کے اندر دھنس گئی۔۔۔
وہ ایک ہی لمحےمیں بے جان ہو کر ساحل کے اوپر گری۔۔۔۔۔۔۔
