Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 90
No Download Link
Rate this Novel
Episode 90
Episode 90
ہاں یار میں بس آرہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ تھوڑی دیر ویٹ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی سے اتر کر ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے دوسرے سے جھک کے سینڈل کے سٹرپ کو ٹھیک کرتی ہوئی جھنجھلائ سی بولی اور فون بند کر کے اپنے قیمتی پرس میں ڈال کر آگے بڑھنے لگی
چند قدم ہی لیے تھے کے سامنے سے چار بدمعاش اُسے عجیب نظروں سے دیکھتے قریب آکر اس کے راستے کی رکاوٹ بنے۔۔
کون ہو تم لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نا گواری سے کہتے اطراف میں نظر گھمائی تو شام کے وقت خود کو اس سنسان جگہ پر اکیلا محسوس کیا۔۔
اکیلے اکیلے کہاں جا رہی ہو جانے من ہمیں بھی ساتھ لے چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لوفر اس کے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا بلیو گھٹنوں تک آتے سلیو لیس ٹاپ اور اس کا گہرا گلا اُن شیطانوں کے برے ارادے جگانے کا کام کررہے تھے
وہ حالانکہ دوسروں کو ڈرانا پسند کرتی تھی لیکن ایسی صورتِ حال میں آس پاس کسی کا نہ ہونا۔۔سنسان جگہ اور گہرا ہوتا اندھیرا۔۔۔۔۔
وہ اندر ہی اندر خوفزدہ ہوکر گلا تر کرنے لگی۔
دیکھو۔۔۔۔۔۔۔چپ چاپ یہاں سے نکل جاؤ ۔۔۔سمجھے۔
تم لوگ جانتے نہیں میں کس کی بیٹی ہوں۔۔۔۔۔۔
خود کو بے خوف ظاہر کرتے ہوئے اُنہیں دھمکانے کی کوشش کی لیکن پیشانی پر چمکتا پسینہ بتا رہا تھے کے وہ اندر ہی اندر کتنی گھبرائی ہوئی ہے۔۔۔
جاننے ہی تو آئے ہیں میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بات کرنے کے درمیان ہی آدمی نے اس کا بازو پکڑ لیا خوف سے انجو کی آنکھیں پھیل گئی
Help ۔۔۔۔۔۔۔please help me۔۔۔۔۔۔۔
وہ زوروں سے چلانے لگی کیوں کے اس سے زیادہ بہادری وہ بھی اکیلے۔۔۔۔۔ اس کے بس کے باہر تھی وہ لڑکے شیطانیت سے قہقہہ لگانے لگے اور انجو کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔۔
دہلی کی سڑکوں پر آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے تھے جسے سن کر انسان کی روح کانپ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایسی ہی کسی سوچ کے تحت اس کا دل لرزنے لگا۔۔۔۔۔
اپنے باپ کے لاکھ منع کرنے کے بعد وہ بنا گارڈز کے اکیلی گھر سے باہر نکلی تھی اپنے دوست کے گھر جانے کے لیے اور اب اپنی بے وقوفی پر بے حد پچھتاوا ہو رہا تھا۔۔۔
اس آدمی نے خباثت سے مسکرا کر جب اُس کے سفید بازو کو چھونے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو انجو نے آنکھیں سختی سے میچ لی۔۔
لیکن اس کے بازو سے ایک انچ دوری پر کسی نے اس کی کلائی پکڑے اس کی کوشش ناکام کی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کررہے آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بدمعاش نے اپنا ہاتھ روکنے والے کو غصے سے دیکھا تو وہ حیرت جتاتے لہجے میں نہایت شرافت سے بولا
جب کے اس کی آواز پر انجو نے آنکھیں کھولیں اور اس آدمی کو اپنے بچاؤ میں آتے دیکھ اُس کے دل میں اُمید جگی خوف کم ہوا
جب لڑکی منع کر رہی ہے تو کیوں زبردستی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا انجو کی جانب دیکھے جتنے پرسکون انداز میں بولا پکڑ اتنی ہی سخت تھی۔۔
اس بدمعاش نے اس کا ہاتھ غصے سے جھٹکا پیچھے کھڑے تینوں بھی حیران ہو کر دیکھ رہے تھے جب کے انجو سہمے دل سے بار بار اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
کون ہے بے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آدمی پیشانی پر بل ڈالے اُسے گھورنے لگا وہ اس کے مقابل آکر کھڑا ہوا لڑکی کے ٹھیک سامنے۔۔۔۔۔ وہ اُسے اپنی ڈھال بنتے دیکھ کچھ ریلیکس ہوئی۔۔۔اور مکمل اس کے پیچھے چھپ گئی
رشتے میں تو ہم آپ کے کچھ نہیں لگتے اور نام بتانے میں بھی ہمیں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔
بس ایک ریکویسٹ ہے کے شرافت سے یہاں سے چلے جائیے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے آرام سے کہا
اور نہیں گئے تو کیا کرلیگا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیچھے کھڑے ایک نے آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اُس نے افسوس زدہ سانس خارج کی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے تم لوگ آج اس ہاسپٹل کے ڈاکٹروں کی جیبیں بھرنے کے ارادے سے گھر سے نکلے ہو
اس نے دور سے نظر آتے ہسپتال کو دیکھتے ہوئے اپنی قیمتی رسٹ واچ نکال کر بنا پیچھے دیکھے انجُو کی جانب بڑھائی
انجو نے ہچکچاتے ہوئے اُسے تھام لیا۔۔
اے ہیرو ۔۔۔۔۔۔چل اپنا راستہ ناپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے کھڑے بدمعاش نے تیش میں آکر اس کا کالر پکڑ لیا تو اُس کا اپنی آستین اوپر چڑھاتا ہاتھ تم گیا
اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔۔پہلے تم سب کو راستے تو لگا دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے
اس کا ہاتھ اپنے کالر سے ہٹا کر ایک مکّہ اس کے جبڑے پر اتنی زور سے مارا کے وہ کراہتا ہوا پیچھے ہوا۔۔۔
اُسکے ساتھی آگ بگولا ہو کر اس کی جانب بڑھے اور وہ ایک کے بعد ایک مہارت سے ہاتھ اور لات چلاتا اُنہیں گراتا گیا خود پر وار کی ہر کوشش کو ناکام کرکے اس نے کچھ دیر میں اُن چاروں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا ۔۔۔۔۔
انجو سہمی نظروں سے اُنہیں لڑتے دیکھتی رہی اور جب وہ لوگ وہاں سے بھاگ گئے تو سکون کی سانس لی۔۔۔۔
اس آدمی کو دیکھنے لگی جس نے بروقت آکر اسے بچا لیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بدمعاش ہزار کوششوں کے باوجود ایک دفعہ بھی اس شخص پر وار نہیں کر پائے تھے۔۔۔
اس کی سفید شرٹ اور نیلی جینس پر جگہ جگہ مٹی لگ گئی تھی اور براؤن فیڈیڈ بال بھی بکھر کر پیشانی پر آگئے تھے۔۔۔۔۔
اُنہیں بھاگتا دیکھ وہ تیز سانسوں کو معتدل کرتا اپنے شرٹ سے مٹی جھٹکنے لگا۔۔
تھینک یو سو مچ۔۔۔۔اگر آپ نہیں آتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجو نے اُس کی طرف بڑھ کرکے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
یور ویلکم لیکن میں آپکو ایک صلح دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کندھے سے گرد کو جھٹکتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔۔وہ غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔
اگر آپ کہیں جائے تو ساتھ کسی باڈی گارڈ کو رکھا کیجئے۔۔۔۔ورنہ جتنی آپ خوبصورت ہے ان جیسوں کا کیا کسی شریف کا بھی ایمان بگڑتے دیر نہیں لگے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے لبوں پر ہلکی سے مسکراہٹ سجائے کہا تو دائیں گال میں پڑتی گہرائی نے اُس کے چہرے کو اتنا خوبصورت بنا دیا کے انجو اُس کی بات پر ریکٹ کرنے کی بجائے میسمرائز ہو کر اُسے دیکھنے لگی۔۔
لیکن پھر فوراً ہی خود کو سنبھال کر مسکرائی۔۔۔
اُن لڑکوں کو بھگا کر اب آپ خود میرے ساتھ فلرٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بالوں کو کانوں کو پیچھے کرتے ایک ادا سے کہا
جی نہیں ۔۔۔میں تو بس آپکو آگاہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں پھیر کر ویسے ہی مسکراتا ہوا بولا اور انگلیوں سے اپنے بکھرے بال سنوارنے لگا تبھی اُس کا موبائل بج اٹھا۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ بے حد دلکش تھی۔۔۔۔اُس کے گہرے براؤن بال جو کہیں کہیں سے مدھم تھے۔۔۔
گہری نیلی آنکھیں جن میں بےپناہ جاذبیت تھی۔۔۔۔ خوبصورت نقوش جو بے حد پُر کشش تھے ۔۔
مضبوط بھاری بازو جو کسی کو بھی زیر کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔
گردن پر خوبصورت سا بیل جیسا ٹیٹو بنا ہوا تھا اور کلائی میں ردراکش کے موتی بندھے تھے۔۔۔
اپنے کپڑوں جوتوں اور انداز و اطوار سے وہ انجو کو اپنی ہی طرح کسی ہائیر کلاس سوسائٹی کا لگ رہا تھا۔۔۔
اُس کی سحر انگیز پرسنیلٹی انجو کو خود میں اُلجھا رہی تھی۔۔حالانکہ اُسے ہر شخص اور ہر چیز میں نقطے نکالنے کی عادت تھی۔۔۔۔لیکن اس وقت وہ پوری طرح سے اُسے دیکھنے میں مگن چاہ کر بھی کوئی کمی ڈھونڈھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
وہ فون کان سے ہٹا کر اُس کی طرف دیکھتا اُس کے پہلے انجو اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا گئی۔۔۔۔
سو۔۔۔۔ میں آپکو کہیں ڈراپ کردوں۔۔۔
وہ انجو کو خاموش دیکھ کر بولا تو وہ اُس کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔بال گردن سے ہٹائے
نہیں میرے پاس گاڑی ہے۔۔۔
By the way۔۔۔۔۔
I m Anjali Singh۔۔۔۔
اس نے انکار کرکے ہاتھ بڑھا کر اپنا تعارف دیا
سامنے والے نے اس کے نازک ہاتھ کی انگلیوں کو تھاما
Daksh۔۔۔۔۔۔۔
Daksh Singhania۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدھم سا مسکرا کر لبوں سے اپنا نام ادا کیا۔۔۔۔
انجو نے بے آواز اُس کا نام لیا اور مسکرائی۔۔۔
خود کو کالج کی پرنسپل سمجھتی ہے چڑیل۔۔۔۔اتنا بیزار کیا ہوا ہے نا سب کو کے نا پوچھو۔۔۔شروع شروع میں تو میں نے کہا چلو جانے دو۔۔۔نادان ہے لیکِن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے نا۔۔۔۔
وہ ریا کو اپنے کالج کے قصے سنا رہی تھی اور ریا اُس کے کارنامے ہنسی روک کر سن رہی تھی۔۔۔
انسان کتنا سہے آخر۔۔۔۔
ظلم برداشت کرنا بھی گناہ سے کم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
میرا بھی ایکدم دِماغ گھوم گیا۔۔
پتہ ہے میں نے کیا کیا۔۔۔۔
اُس کی آئسکریم میں فیویکول ملا دی۔۔۔۔۔اُس کے بعد نا ریا۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتی اپنے کارنامے کا رئیکشن یاد کرکے ہنستی چلی گئی اتنے زوروں سے کے بات کرنا بھی نہیں سوجھا۔۔۔
جب کے اُس کی مسلسل ہنسی کی آواز پر ریا سنجیدہ ہو گئی۔۔۔کیوں کے وہ بلکل نہیں بدلی تھی اُس کا ہنسنا مسکرانا شرارتیں کرنا باتیں بنانا سب جوں کا تھا لیکن اُس کی ہنسی اُس کی آواز اُس کے ہر عمل میں ایک ضبط سا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بہُت مشکلوں سے خود کو یہ سب کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔۔ جیسے درد پر جبر کیے اُسے باہر نکلنے سے روک رکھا ہے اور خود کو نارمل رہنے پر مجبور کیا ہوا ہے
اور یہ ہنسی بھی ریا کو اُسی زبردستی کا حصہ لگی۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا نین۔۔۔۔۔
اُس نے نین کی باتوں کے درمیان میں پوچھا تو وہ ایک پل کو چُپ ہو گئی لب سمٹ گئے۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے ۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔۔اپنے سر پر بندھا نماز کا دوپٹہ نکال کر سائیڈ میں رکھا۔۔۔۔۔۔
تم کتنا بھی ہنس لو نین لیکِن میں جانتی ہوں تم ٹھیک نہیں ہو۔۔۔۔۔۔
پانچ مہینے ہو گئے۔۔واپس آنا ہوتا تو اب تک آجاتا وہ۔۔۔۔۔شاید اُسے تمہاری پرواہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔اگر ہوتی تو ایسے بے خبر نہیں ہوتا تم سے۔۔۔۔۔۔
سمجھتا۔۔۔جانتا کے اُس کے نا آنے سے تم کتنی مایوس ہو۔۔۔۔
ریا نے سنجیدگی سے کہا تو جہاں نین کے لیے ہمدردی اور فکر تھی وہیں ساحل کو لے کر غصّہ اور ناگواری تھی۔۔۔۔
میں مایوس نہیں ہوں ریا۔۔۔۔۔بس تھوڑی اُداس ہوں۔۔۔۔۔لیکِن مجھے پتہ ہے وہ مجھ سے بے خبر نہیں ہے۔۔۔محسوس کر سکتا ہے میری ہر فیلنگ کو۔۔۔جانتا ہے کے میں اُس کا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔
اور مجھے معلوم ہے وہ آنا چاہتا ہوگا لیکِن ضرور کوئی وجہ ہوگی جو اُسے اتنی دیر لگ رہی ہے۔۔۔
نین نے ہمیشہ کی طرح اب بھی ساحل کی سائیڈ لیتے ہوئے صفائی دی۔۔اور وہ اس بات پر یقین بھی رکھتی تھی جس کی وجہ تھے اُس کے آخری تین لفظ۔۔۔
انف نین۔۔۔۔تم صرف اپنے آپ کو تسلی دے رہی ہو اور کچھ نہیں۔۔۔صرف تین مہینے رہی ہو اُس کے ساتھ اتنا وقت کافی نہیں ہوتا کسی کو جاننے کے لیے۔۔۔۔۔اور تم جو اُسے سمجھ رہی ہو وہ نہیں ہے وہ۔۔۔
ریا نے غصے سے۔ اُس کی عقل پر ماتم کیا۔۔۔
جاننے کے لیے کبھی زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے ریا اور کبھی ایک لمحہ بھی بہت ہوتا ہے۔۔۔۔اور وہ لمحہ جیا ہے میں نے اُس کے ساتھ۔۔۔اُس نے کبھی نہیں کہا کے وہ کیسا ہے لیکِن میں نے جان لیا۔۔۔۔۔
اُس نے خلاف مزاج بہُت دھیرے اور سنجیدگی سے جواب دیا تو ریا نے تاسف سے سر ہلایا۔۔
ایک وقت تھا جب تم کہتی تھی تمہیں ڈیلی سوپ اور اُس کے ڈائیلاگز سخت نا پسند ہے اور اب خود بھی بلکل ویسے ہی بہیو کر رہی ہو۔۔۔۔پریکٹیکل ہوجاؤ نین پلیز۔۔۔۔۔مجھے تمہارے لیے بلکل اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔
ریا نے اُس پر طنز کرتے ہوئے آخر میں تھکے تھکے انداز میں کہتے ہوئے اُسے سمجھانا چاہا
اگر اب تم یہی سب باتیں کرنے کے موڈ میں ہو تو میں فون رکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔
نین نے عاجز آکر کہا کیوں کے وہ اپنے یقین کو ڈگمگانے نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔بھول کر بھی یہ نہیں سوچنا چاہتی تھی کے جیسا ریا کہہ رہی ہے ویسا ہو سکتا ہے۔۔
اچھا سنو تو۔۔۔۔۔
شادی کی ڈیٹ نزدیک ہے۔۔۔مجھے شاپنگ پیکنگ اور ڈیکوریشن ہر چیز میں تمہاری ہیلپ چاہیے ہوگی۔۔۔تم اب جلدی سے ڈہلی آجاؤ۔۔۔۔۔۔
ریا نے اُس کی ناراضگی کے خیال سے بات کا رخ بدل کر اپنی شادی کا ٹاپک چھیڑا۔۔۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔میں کیسے آسکتی ہوں ریا۔۔۔۔سوری یار لیکن ۔۔۔۔
نین اُس کی بات پر پریشان ہوئی
میں تمہاری شادی پر نہیں آئی اِس لیے تم مجھ سے بدلا لے رہی ہو نا ۔۔لیکِن تمہیں پتہ ہے اُس وقت ڈیڈ کتنے بیمار تھے۔۔۔۔۔بھائی بھی یہاں نہیں تھے ۔میں کیسے آسکتی تھی۔۔۔
ریا نے اُس کی بات کاٹ کر خفگی سے کہا۔۔
میں کوئی بدلا نہیں لے رہی سمجھی تم۔۔۔۔اور تم جانتی ہو میں کیوں منع کر رہی ہوں۔۔۔۔وہ واپس آگیا اور میں اُسے نہیں ملی تو۔۔۔۔
اُس نے سختی سے کہا تو آخر میں اُس کی آواز میں ہلکی سی نمی گھل گئی۔۔۔
مانا کے وہ تمہارے لیے بہت امپوٹنٹ ہے لیکن کیا اُس کے آگے میری کوئی امپوٹنس نہیں رہی نین۔۔۔۔۔تم ایسے وقت مجھے اکیلے چھوڑ دوگی جب مجھے تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔
ریا نے بھی اپنے تئیں اُسے اموشنل بلیک میل کرکے کام بنانا چاہا۔
تمہارے ساتھ تو تمہاری ممی تمھاری بہنیں بھابھی اور باقی پوری فیملی تھی پر میرے پاس تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔نا ماں نا بہن۔۔۔۔۔۔ایک دوست جو میرے لیے سب کچھ ہے اب اُس کے پاس بھی میرے لیے وقت نہیں۔۔۔۔
ریا نے اُداسی سے کہا تو وہ پریشانی سے سر پکڑ گئی
ریا۔۔۔۔۔اموشنل بلیک میل۔۔۔۔ریا۔۔۔
وہ اُسے کچھ کہتی سمجھاتی اُس کے پہلے کو فون بند کر چکی تھی اور نین اب بری طرح پریشان تھی کے کیا کرے۔۔۔۔کیسے اُسے سمجھائے
پانچ ماہ سے اُس کا ایک ایک لمحہ بھاری تھا۔۔۔۔ہر پل اس آس کی نظر تھا کے شاید اب وہ اچانک سامنے آجائے۔۔۔شاید فون پر اُس کی آواز سننا ہی نصیب ہوجائے۔۔۔۔۔شاید کوئی خبر مل جائے۔۔۔۔شاید کوئی پل قسمت اُس پر مہربان ہوجائے۔۔۔لیکِن ہر آس ہر لمحے ٹوٹتی اور پھر ایک نئے پل میں نئی اُمید بندھ جاتی
یہ سلسلہ پانچ ماہ سے جاری تھا اور جانے کب تک چلنا تھا۔۔۔۔۔
داؤد عبّاس صاحب اور باقی سب بھی پریشان تھے کیوں کے کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔۔۔داؤد بھی معلوم کرنے کی کوشش میں ناکام تھا۔۔۔۔۔سب کو نین سے شکائت تھی کے اُس نے نا روکا نا پوچھا کے وہ کہاں جا رہا ہے
وہ کیسے بتاتی کے اُس نے بارہا کوشش کی لیکن ناکام رہی۔۔
اُس کا دل ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترس رہا تھا لیکن تقدیر کا امتحان ختم ہونے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
