Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 48
No Download Link
Rate this Novel
Episode 48
ان دونوں کے درمیان میں نوک جھوک اور جھگڑے تھے لیکِن ایک دوسرے کے لیے فکر و احساس بھی تھا اور یہ بات کوئی سمجھے نا سمجھے دادی کو ضرور سمجھ آرہی تھیں۔۔۔۔
رابعہ بیگم کے تلخ لفظوں پر نین کی نا پسندیدگی اور ساحل کا لاکھ بیزاری کے باوجود نین کے ہر احساس کو سمجھ کر اُس کا ساتھ دینا۔۔۔۔۔۔اُس کا غصّہ تک برداشت کرنا
اُن سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا۔۔۔
اُن کی نظر میں وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلکل صحیح تھے دونوں ادھورے تھے اور ایک دوسرے کو مُکمل کر سکتے تھے بس ضرورت تھی تو دونوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کرنے کی۔۔۔
اور یہ کوشش اُنہیں ہی کرنی تھی۔۔۔۔
دادی کیا سوچ رہیں ہے آپ۔۔۔۔۔۔
عشرت شیرین اور فلک تینوں ہی اُن کے پاس بیٹھیں تھیں۔۔۔
انہوں نے ہی تینوں کو بلایا ہوا تھا تاکہ اس کوشش میں اُن کی مدد لے سکیں
کُچھ نہیں ۔۔۔۔۔تم دونوں مجھے یہ بتاؤ میرے یہ کڑے کیسے لگتے ہے تم دونوں کو۔۔۔۔۔۔
دادی نے مسکراتے ہوئے نفی کرکے اپنی کلائی میں پہنے چار بھاری خوبصورت کنگنوں کو ہاتھ سے آگے کرتے ہوۓ پوچھا
جنہیں دیکھ کر عشرت اور شیرین کی آنکھیں چمک اُٹھیں جب کے فلک سب سے لا تعلق دادی کے کپڑے تہہ کر رہی تھی
یہ کڑے تو بہت سے بھی بہُت خوبصورت ہے دادی۔۔۔۔
عشرت نے حسرت بھری نظروں سے اُن کی کلائیوں کو دیکھتے ہوئے کہا شیرین کا حال بھی الگ نہیں تھا
ہوں گے کیسے نہیں تین تین تولے کا ایک کڑا ہے۔۔۔۔بلکل خالص سونے کے بنے ہے
تمہارے دادا جی کی اماں نے منہ دکھائی پر دیے تھے۔۔۔۔۔
دادی نے تفصیل بتاتے ہوۓ اُن کڑوں کی ویلیو بڑھائی
میں سوچ رہی ہوں کے یہ کڑے تم چاروں میں سے کس کو دوں۔۔۔
دادی نے پرسوچ نظروں سے كنگنوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا عشرت اور شیرین کی آنکھیں صدمے سے پھیل گئیں
سچی دادی ۔۔۔۔۔۔یہ کنگن آپ ہمیں دینے کا سوچ رہیں ہے۔۔۔۔
شیرین نے حلق سے آواز نکالتے ہوئے پوچھا
دادی آپ یہ کڑے نہ مجھے دے دینا میں اسے بلکل ویسے سنبھال کر رکھوں گی جیسے آپ رکھتیں ہے۔۔۔۔
عشرت اُن کے ہاتھ کو پکڑ کردباتے ہوئے بولی
ایسے کیسے۔۔۔۔۔۔۔میں جو دادی کی اتنی خدمت کرتی ہوں اُن کا خیال رکھتی ہوں کڑے تو مجھے ہی ملنے چاہیے۔۔۔,
شیرین اُن کا ہاتھ اُس سے چھین کر خود کے ہاتھ میں لیتے ہوئے جلدی سے بولی
اچھا مطلب میں دادی کی خدمت نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔
عشرت نے فوراً اُن کا ہاتھ دوبارہ سے تھاما۔۔۔۔دادی نے جھٹک کر اپنا ہاتھ چھڑایا
چُپ ہو جاؤ دونوں۔۔۔۔۔۔۔میں یہ کڑے اُسی کو دوں گی جو ثابت کرے گی کے وہ زیادہ قابل ہے اور اس کے لیے تم دونوں کو میرا ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔۔
دادی نے دونوں کو ڈپٹتے ہوئے کہا
کونسا کام دادی۔۔۔
دونوں نے ایک سر میں پوچھا فلک نے بھی اُن کی جانب دیکھا
خُدا کی حکمت کے آگے کِسی کا زور نہیں چلتا۔۔۔۔حالات کی نزاکت نے نین اور ساحل کو نکاح کے رشتے میں جوڑا ہے۔۔۔لیکِن وہ دونوں بلکل بھی اپنے رشتے کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں ہی اُنہیں اس کی اہمیت کا احساسِ دلانا ہے۔۔
دونوں کے دل بے حد جذباتی ہے۔۔۔۔بس درمیان میں ایک گره لگانے کی ضرورت ہے
جو تم دونوں کو لگانی ہے۔۔۔۔
دادی نے دونوں کو سمجھاتے ہوئے کہا دونوں نا سمجھی سے انہیں دیکھ رہیں تھیں
اُن دونوں کو قریب لانا ہے تاکہ اُنہیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کا موقع ملے۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کا خیال رکھے۔۔
تُم میں سے جو بھی میرا یہ کام کرےگا اُسے انعام میں میں یہ دوں گی۔۔۔۔۔
دادی نے اُنہیں تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کہا تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا فلک بھی بہت غور سے اُنہیں سن رہی تھی۔۔۔۔
دادی تب تو یہ انعام میں ہی جیتوں گی۔۔۔کیوں کے یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے
عشرت مسکراتی ہوئی شیرین کو جتاتی نظروں سے دیکھ کر بولی
کیوں میں کیا ہالیڈے پر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔دادی میں ہی اُن دونوں کو ایک ساتھ لاوں گی۔۔۔۔جھگڑا وگڑا بھول کر لوو برڈز بن جائیں گے دونوں۔۔۔۔
شیرین نے بھی برابر کا جواب دیا۔۔۔۔
دادی نے مسکرا دونوں کو دیکھا۔۔۔۔۔
بھابھی کیا اس کام میں میں بھی آپ دونوں کی مدد کر سکتی ہوں۔۔۔۔
پہلی دفعہ وہ بولی۔۔۔کیوں کے وہ نین کی تکلیف کی وجہ خود کو سمجھتی تھی تو اُس کی زندگی کو کچھ بہتر بنائے کی کوشش کا موقع جانے نہیں دینا چاہتی تھی
دونوں نے اُسے بیزاری سے دیکھا اور دادی نے مسکرا کر
ٹھیک ہے اگر ہمیں ضرورت پڑی تمہاری تو ہم بتا دیں گے۔۔۔لیکِن لالچ میں تو نہیں کر رہی نا۔۔۔کیونکہ انعام تمہیں نہیں مِلنے والا۔۔۔
عشرت نے ناک بھویں چڑھاتے ہوئے احسان جتا کر کہا یہ سوچ کر کے کام آئیگی
نہیں بھابھی مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔۔۔میں بس آپ کی مدد کرنا چاہتی ہوں
وہ جلدی سے مسکرا کر بولی
∆∆∆∆∆∆∆
وہ اندر ہی اندر بری طرح شرمندہ تھی ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔شاد کی نفرت بھری نظریں اپنے وجود کے پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
سارے دن سے وہ کمرے میں بند تھی۔۔۔۔۔۔طبیعت خرابی کا بہانا بھی دھیرے دھیرے سچ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
خود کو اتنا کمزور محسوس کر رہی تھی کے اٹھنا بھی مشکل لگ رہا تھا
اُس نے بہُت ہمت کرکے شاد سر سے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا اور اُن کے نمبر پر کال ملائی۔۔۔۔
دوسری جانب سے فون اٹھا لیا گیا لیکِن وہ ایک لفظ نہیں بول پائی۔۔۔۔۔ایسا لگا حلق میں آواز ہی نہیں بچی ہو۔۔۔۔۔
بولو جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے بنا کچھ بولے بھی اُس نے جان لیا کے جیا ہی ہے۔۔۔نہایت سرد لہجے میں بولا
سر۔۔۔۔۔سر۔۔۔۔۔ آۓ ایم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آۓ ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔میں نے جو کیا۔۔۔
وہ۔سسکتی ہوئی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اُس سے معافی مانگنے لگی
میں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ میں نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔سوری سر۔۔۔۔سوری سوری سوری۔۔۔۔
دوسری جانب خاموشی تھی اور وہ روتی ہوئی مسلسل سوری کی گردان کیے جا رہی تھی
مجھے ملنا ہے تم سے۔۔۔۔۔۔۔کالج میں ہوں۔۔۔۔۔
شاد نے جواب میں صرف اتنا کہا
وہ حیرت زدہ سی رونا بھول گئی
سر اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی حیرت ظاہر کرتی اُس کے پہلے ہی فون بند ہو چکا تھا اُس نے گھڑی پر۔نظر ڈالی جو رات کے نو بجا رہی تھی۔۔
اس وقت کالج میں تو بہُت سناٹا ہوگا اور ایسی سچویشن۔ میں جب شاد کے دل میں اُس کے لیے بے حد نفرت تھی اس وقت وہ وہاں جا کر کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔
اس وقت کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُنگلیاں مروڑ رہی تھی شدید بے چینی تھی کشمکش تھی۔۔گھبراہٹ تھی خوف تھا۔۔۔۔۔
جو ختم نہیں ہونی تھی جب تک وہ شاد سے معافی مانگ کر اُسے اپنی مجبوری نہیں بتا دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے اُس نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔
اور اپنا پرس کندھے پر لٹکاتے ہوئے روم سے باہر نکلی۔۔۔
اُس نے گاڑی سے جانے کی بجائے ٹیکسی لی تھی کیوں کے وہ بنا کِسی کو بتائے گھر سے نکلی تھی۔۔۔
اُس کی توقع کے مطابق کالج میں گہرا سناٹا تھا۔۔۔۔۔۔
اور نیم اندھیرا بھی۔۔۔۔گیٹ پر واچمن بھی موجود نہیں تھا
ہر بڑھتے قدم کے ساتھ۔اُس کا خوف مزید بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کی رفتار حد سے سوا تھی۔۔۔۔
گراؤنڈ میں ہی کالج کینٹین کی کرسی پر شاد اُس کا منتظر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُسے دیکھتے ہی وہ خشک گلے کو۔تر کرتی آگے بڑھی
شہش۔۔۔۔شاد سر۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے لرزتی آواز میں پکارا تو وہ جو سر۔جھکائے زمین کو گھور رہا تھا سر اٹھا کر اُسے دیکھا
تمہارا ہی اِنتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد نظروں نے اُسے دیکھتے ہوئے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کے پاس آیا۔۔۔۔۔
جیا کا دل خوف سے بری طرح لرز رہا تھا
دو دن پہلے اسی جگہ ایک سٹوڈنٹ نے آکر مجھ سے کہا تھا کے میں اُس کا رول ماڈل ہوں۔۔۔۔۔۔وہ میری طرح بننا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے فالو کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیا کے اطراف میں چکّر کاٹتے ہوئے بولنے لگا وہ بے حرکت کھڑی تھی
آج اُسی سٹوڈنٹ کی نظر میں میرے لیے حقارت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آج کہا کے وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہے۔۔۔
صرف وہی نہیں مجھے ریسپکٹ دینے والے ہر اسٹوڈنٹ کی نظر آج مجھے نفرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گرد دائرے کی شکل میں چکر لگاتا نہایت سنجیدگی سے بول رہا تھا اور جیا نظریں جھکائے آنسو بہا رہی تھی
میں نے دِن رات محنت کرکے ایک مقام بنایا تھا اور تم نے چند لمحوں میں مجھے وہاں سے گرا دیا۔۔۔۔۔۔
جتنے ایوارڈز ملے تھے اُس سے زیادہ آج خطاب ملے ہیں۔۔
وہ۔ اُسکے سامنے آکر رکا سرد نظروں سے اُسے دیکھ کر ٹھٹھرنے پر مجبور کر گیا
ریپسٹ۔۔۔۔۔۔۔
بد کار۔۔۔۔۔۔
بلتکاری۔۔۔۔۔۔۔
شیطان صفت۔۔۔۔۔۔۔
سب تمہاری بدولت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتا ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔۔۔۔۔جیا کے پورے بدن میں لرزش ہونے لگی وہ بمشکل اپنے پیروں پر کھڑی تھی
اور سب سے بڑی بات میں اس عزت افزائی کی وجہ تک نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دو جیا کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جھکی نظروں پر۔نظریں گڈائے سرد لہجے میں پوچھنے لگا
میں مجبور تھی سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے بے بسی سے دیکھتے ہوئے بولنے لگی
میں سچ میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔مجھ سے غلطی
جسٹ ۔۔۔۔شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولے جا رہی تھی کے اُس کی دہاڑ پر بری طرح گھبرا گئی۔۔۔۔ سانس اور لفظ حلق میں اٹک گئے۔۔۔
شاد نے جارحانہ انداز میں آگے بڑھ کر اُس کے دونوں بازوں جکڑے اُسے کھینچا
آنسو بہا کر انوسینٹ بننے کی کوشش مت کرو جیا۔۔۔۔۔۔۔
جو تم نے کیا ہے اُس کے بعد میری نفرت کا اندازبھی نہیں لگا سکتی تم۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے ایک ایک لفظ کو چبا کے بولا جیا خوفزدہ سے سانس روکے اُسے دیکھ رہی تھی
تم نے مجھ پر ریپ اٹیمپ کا الزام لگایا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں اس الزام کو سچ کر دوں تو۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بھیگی نظروں کو اپنی سرد نگاہوں سے گھائل کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر جیا کی روح فنا ہونے لگی۔۔۔
تمہارے جھوٹ کو سچ میں بدل دوں تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کے مزید نزدیک ہوا کے اُس کی سانسیں جیا کا چہرہ جلانے لگی۔۔۔۔۔۔
تمہیں اس مذاق کے پیچھے کی حقیقت کا تجربہ ہوجائے گا۔۔۔۔۔
آسانی ہوجائے گی تفصیل بتانے میں دنیا کو۔۔۔کہانیای نہیں بنانی پڑےگی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے لرزتے لبوں کو فوکس کرکے اُسے کمر سے تھامے خود سے لگاتے ہوئے بولا
نو سر۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی آنکھیں سختی سے میچ کر چہرہ پھیر گئی
شاد نے ہاتھ سے اُس کا چہرہ اپنے سامنے کیا
جو کوشش کر سکتا ہے وہ کامیاب بھی تو ہو سکتا ہے نہ۔۔۔
وہ جلتی ہوئی سرگوشی کرکے ہاتھ اُس کے چہرے سے گردن تک لاتے ہوئے اُس کے چہرے پر جھکنے لگا
جیا نے پوری قوت لگا کر اُسے پیچھے دھکیل دیا اور وہاں سے بھاگنے کے لیے پلٹی لیکِن چار قدم پر ہی کسی سے بري طرح ٹکرائی۔۔۔۔۔
خوف سے سانس روکے سر اٹھایا تو ساحل کو وہاں دیکھ کر جیسے جسم جو جان چھوڑنے لگا تھا دوبارہ زندہ ہو گیا۔۔۔۔۔
ل
ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے آواز اُس کا نام لیتی اُس کے سینے سے لگ کر شدتوں سے رونے لگی۔
ساحل نے شاد کو غصے سے دیکھتے ہوئے اُسے خود سے دور کیا
چُپ۔۔۔۔رونا بند کر ۔۔۔۔۔۔ایک آنسو مت نکال۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے پیچھے کرکے سختی سے بولا جیا بھیگی سہمی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی
کیا کیا اس نے تیرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سرد نظروں سے جیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔وہ سر جھکائے آنسُو بہانے لگی تھی
جواب دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے بولا تو جیا نے آنکھیں سختی میچ لی۔۔۔
اُس کے لب ہل رہے تھے لیکن وہ بول نہیں پا رہی رہی جتنا شاد کا خوف تھا اُس سے کچھ کم ساحل کے غصے کا بھی تھا
میں دیتا ہوں جواب۔۔۔کل اس نے مجھ پر ایک جھوٹا الزام لگایا تھا ۔۔۔آج میں اُسے سچ ثابت کر رہا ہُوں۔۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا اسے کوئی اعتراض ہو سکتا ہے
جو اپنی عزت کا جھوٹا تماشا بنا سکتی ہے۔۔۔۔۔اُس کے لیے ریپ کونسی بڑی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد اُس کی طرف قدم بڑھا تا ہوا جیا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔اس کا ریپ کرےگا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جیا کا بازو پکڑ کر اُسے سائیڈ پر کرتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا سرخ نظریں آگ برسا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
بہتر ہے تم ہمارے بیچ میں نا بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
شاد نے بھی بدلے میں اُسے وارن کیا
تو ایک بار اسے ہاتھ لگا کے دکھا۔۔۔۔۔۔۔اگر دکھا دیا تو میں منہ بند کرکے نکل جاوں گا یہاں سے۔۔۔۔۔۔مجھے اس زمین کی قسم۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا
تم جانتے ہو۔میرے لیے بہت مشکل نہیں ہے
شاد اُس کے مقابل کھڑا اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتے ہوئے بولا
تو جانتا ہے اپن کے ہوتے ہوئے نا ممکن ہے
وہ اُسی طرح کھڑا اُسی کے انداز میں بولا
اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنا چھوڑ دو ساحل شیرازی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد نے دانت بھینچےہوئے کہا
سچ پر یقین کرنا سیکھ لے پر وفیسر۔۔۔۔۔
اُس نے اطمینان سے جواب دے
شاد نے غصے سے اُسے دیکھتے پھرتی سے جیا کی طرف ہاتھ بڑھایا
جیا نے خوف سے آنکھیں بند کرکے ساحل کے بازو سے شرٹ کو۔جکڑ لیا
لیکن اُس کے بازو کو چھونے سے پہلے ہی شاد کی ہتھیلی ساحل کے ہاتھ میں اور اُنگلیاں ساحل کی انگلیوں میں پھنسی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد کا ہاتھ اپنے آگے کرتے ہوئے اُس نے زوردار جھٹکا دیا جس سے شاد کے پورے جسم کو کرنٹ لگا اور وہ جھنجھنا کر پیچھے ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اور چانس لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے ہاتھ جھٹکتے ہوئے دیکھ کر بولا۔۔۔اس دفعہ وہ بھی پورے طیش میں آگے بڑھا ۔۔۔۔۔۔
ساحل نے لات اٹھا کر اُس کے پیٹ میں مارتے ہوئے اُسے روکا۔۔۔
وہ کراہ کرپیچھے ہوا۔۔۔ایسا نہیں تھا کے وہ ساحل کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔لیکِن فلحال اُسے صرف جیا سے مطلب تھا اور ساحل کو درمیان سے ہٹانے میں
جیا اس سچویشن سے بری طرح پریشان اور گھبرائی بس رویے جا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔چل آ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر اس بار نہیں دکھایا نا تو میں تجھے دکھاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد کو غصے میں گھورتے دیکھ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولا
اس دفعہ شاد جیا کی بجائے سیدھا اُس کی طرف بڑھا آگے بڑھ کر اُسے مارنے کے لیے ہاتھ گھمایا
ساحل نے اُس کے ہاتھ کو ہوا میں ہی تھام کر۔۔۔۔۔۔پھر پیر سے اسے پیچھے دھکیلا۔۔۔۔۔
اور اس دفعہ وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرا۔۔۔۔
دکھا ہاتھ لگا کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل پوری قوت سے دھاڑتے ہوئے بولا کے جیا کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔۔۔۔
اُس کی آواز گراؤنڈ کو دیواروں سے ٹکرا کے وہاں گونج اٹھی۔۔۔
جیا نے سسکی لیتے ہوئے بھیگی نظریں اُس کی جانب اٹھائی
تُم سے بہتر تو گلی کے کتے ہے۔۔۔۔اُنہیں بھی ایک بار جھڑک دو نا تو دوبارہ راستے میں نہیں آتے۔۔۔۔
اُسے اپنے ہی کہے الفاظ یاد آئے۔۔۔۔وہ لڑکھڑا کے زمین پر ڈھہ گئی۔۔۔۔شرمندگی ہی شرمندگی تھی جس انسان کو دن رات اُس کی اوقات کے طعنے دئیے تھے
بار بار بے عزت کیا تھا وہ اُس کی عزت بچانے کے لیے کھڑا تھا
قِسمت نے جیا کو بدلے کا یہ تھپڑ بہُت زوروں سے مارا تھا
ہاتھ لگا کردکھا اسکو۔۔۔۔۔
وہ اُس کی کالر پکڑ کر اُسے اٹھاتے ہوئے اپنے مقابل کھڑا کرکے بولا
تم جانتے ہو اُس نے کیا کیا۔۔۔۔
شاد غصے سے چلّایا
اس نے تجھ پر زور زبردستی کا الزام لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن تو بدلے میں یہ نہیں کر سکتا
وہ اُس کی کالر کو۔جھٹکا دیتے ہوئے دھیمے سخت لہجے میں بولا
یہ جھوٹی ہے دھوکے باز گنہگار ہے۔۔۔۔۔ لیکِن تو یہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں آگ اُگل رہی تھی شاد کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا ایک ایک لفظ چبا کر بول۔رہا تھا۔۔۔۔
جیا کچھ دوری پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی
بدلہ لینا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔لیکن ریپ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
اُس نے ہر لفظ کو سختی سے ادا کرکے گردن نفی میں ہلائی اور ایک زوردار مکہ مار کر اسے پرے دھکیلا
میں نے تجھ سے کہا تھا نہ۔۔۔
مجھے تھوڑا ٹائم دے۔۔۔۔
میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔
تو پھر تونے کیوں نہیں مانی
کیا سوچ کر ہاتھ لگایا اُسے
جانتا ہے نا میری بہن ہے وہ۔۔۔۔
وہ قدم بقدم اُس کی طرف بڑھتا ہوا غم و غصے سے بول رہا تھا
میں بس اُس سے جواب چاہتا ہوں ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد نے جبڑے میں ہوتے درد کو برداشت کرتے ہوئے ضبط سے کہا۔۔۔۔
ایسے جواب مانگے گا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے مانگے گا۔۔۔۔۔
ساحل نے غصے سے کہتے ہوئے اُس کے چہرے پر تھپڑ مارا۔۔۔۔۔
جس کی آواز خاموشی میں زوروں سے گونج اٹھی جیا سنبھل کر اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی اُس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
ساحل بس کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز
وہ بھاگ کر اُس تک پہنچتی اُس کے دوبارہ اٹھے ہاتھ کو روکتے ہوئے بولی
ساحل غصے سے اُس کی طرف پلٹا اور وہی ہاتھ کا الٹا تھپڑ اُسے مارتے مارتے رک گیا۔۔۔
اُس نے خوف سے آنکھیں بند کرلیں تھیں۔۔۔۔۔دل رک گیا تھا
دل تو کر رہا ہے تجھے بھی اس کے ساتھ باندھ کر مرنے تک ماروں۔۔۔۔۔کیسی عورت ہے کیسی انسان ہے تو۔۔۔۔۔۔بھیجا نہیں ہے کیا تیرا۔۔۔۔۔
وہ اُس پر برس پڑا
ایک نظر شاد کو گھور کر دیکھا اور جیا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے وہاں سے لے جانے لگا جیا اُس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی
وہ چند فاصلے تک ہی پہنچے تھے کے شاد نے اچانک اٹھ کر دوڑتے ہوئے لات مار کر اُس کی پیٹھ پر زوردار وار کیا۔۔۔۔
وہ اِس حملے سے بے خبر تھا اس لیے اُس دھکے کے زور سے بری طرح منہ کے بل زمین پر گرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیا کی رونما چینخ چاروں اور گونج اٹھی
جب تک یہ جواب نہیں دیتی اسے نہیں لیجانے دوں گا۔۔۔۔۔
شاد اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔اُسے اب ضد چڑھ چُکی تھی۔۔۔۔وہ ساحل سے ہار کر جیا کو نہیں چھوڑنا چاہتا تھا
وہ ہاتھوں کے سہارے زمین سے اٹھا۔
ہتھیلی سے اپنی پیشانی کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ہتھیلی نظر کے آگے کی تو وہ خون سے سرخ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ کیوں کے زمین پتھریلی تھی اس لیے اُس کی پیشانی پر بہُت گہری چوٹ لگی تھی۔۔۔۔
وہ ہتھیلی سے نظریں ہٹا کر دانت سختی سے بھینچتا ہوا اُس پر جھپٹا تھا۔۔۔۔
شاد بھی پوری طرح اُس سے سامنے کو تیار تھا۔۔۔۔
دونوں آپس میں بری طرح اُلجھ کر ایک دوسرے پر بھاری پڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
شاد اُس کے ہر وار کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور ساحل بھی غصے میں سب بھول کر اُسے مارے جا رہا تھا
ساحل اُس کے مقابلے فائٹنگ میں زیادہ بہتر تھا اور غصے میں تو ویسے بھی وہ کِسی کے ہاتھ نہیں آتا تھا اس لیے شاد پر بھاری پڑتا جا رہا تھا
اور دھیرے دھیرے شاد اُس کے آگے کمزور پڑتا جا رہا تھا
وہ ساری سود بھلائے اُسے زمین پر لگائے اُس کے۔منہ پر۔مکے در مکے برسائے جا رہا تھا۔۔۔۔
اُس کی حالت بہت بری کر چکا تھا۔۔
وہ خود بھی کافی زخمی ہو گیا تھا لیکِن خود کو روکنا اب اُس کے خود کے بس میں بھی نہیں رہا تھا
جیا دونوں کو لڑتے دیکھ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی جان لے کر ہی ہار مانتے اگر وہاں اچانک سے چند آدمی آکر اُنہیں ایک دُوسرے سے دور نہیں کرتے۔۔۔
جیا کی جان میں جان آئی تھی
شاد تو زمین پر پڑا کراہ رہا تھا
اور تین آدمیوں نے بڑی مُشکل سے اُسے پکڑ کر روکا ہوا تھا۔۔۔۔
سر سے پیر تک حالت تر بدر ہو چکی تھی۔۔۔بال بری طرح بکھرے ہوئے تھے
سانسیں بے ترتیب چل رہیں تھیں
کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے
سرِ سے خون بہہ رہا تھا
لبوں کے کنارے سے خو ن رس رہا تھا۔۔۔۔
ہاتھ بھی جگہ جگہ سے زخمی تھے
اور سب سے بڑھ کر اُس کی آنکھیں ۔۔۔۔
جو غصے سے سامنے والے کو بھسم کردینے کو بے چین تھی
وہ بری طرح جھٹپٹا رہا تھا لیکن جو اُسے تھامے تھے وہ بھی زور میں کچھ کم نہیں تھے
اُسے آزاد نہیں ہونے دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔
دو آدمیوں نے سہارا دے کر شاد کو اٹھا یا تھا اُس کا پورا چہرہ زخمی ہو گیا تھا۔۔۔آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔۔لیکِن تب بھی اُن میں ساحل کے لیے نفرت و غصّہ تھا۔۔۔۔۔
وہ لوگ سہارا دے کر اُسے وہاں سے باہر لے گئے تھے لیکن تب بھی ساحل کو جکڑا ہوا ہی تھا۔۔۔۔
چھوڑ سالے۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چینخ کر ایک کو دیکھنے لگا تو اُن تینوں نے اُسے آزاد کر دیا۔۔۔۔
سوری سر۔۔۔۔۔۔
وہ آدمی گڑبڑا کر بولا تو ساحل نے اُسے گھور کر جیا کی جانب دیکھا۔۔۔۔
وہ اپنے صدمے میں اتنی مگن تھی کے اُس نے نوٹس ہی نہیں کیا۔۔۔
چلے گی اب۔۔۔۔۔یا کچھ رہ گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر غصے سے بولا وہ اُسے دیکھتی جلدی سے سر ہلا گئی۔۔۔
