Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

شٹ اپ۔۔۔۔۔۔
میں کوئی بہانا نہیں سننا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے۔۔۔۔
سکندر پوری قوت سے چلایا۔۔۔سامنے کھڑا اُن کا خاص ملازم گھبرا کر پیچھے ہوا۔۔۔۔
سارے گاؤں اور۔فلک کے ماں باپ بہن نے تو اُس کی موت کو قبول کر لیا تھا لیکِن سکندر کو اُس کا غرور ایسا کرنے سے روک رہا تھا۔۔۔۔۔فلک کی موت مطلب اُس کی ہار جسے قبول کرنا اُس کے لیے نا ممکن تھا
ندی میں گرنے کے بعد کِسی کا بچنا نا ممکن ہے سرکار۔۔۔۔۔
وہ ملازم خوفزدہ ہونے کے باوجود بہت ہمت سے بولا
اگر وہ مر چکی ہے تو مجھے اُس کی لاش چاہیے اگر اُس کی لاش مچھلیاں کھا چکی ہے تو مجھے اُس کی ہڈیاں لا کر دو۔۔۔۔وہ سکندر کی جیت کا میڈل ہے۔۔۔۔اُس کا ملنا میری جیت کا ثبوت ہے۔۔۔چاہے زندہ یا مردہ وہ مجھے چاہیے۔۔۔۔
وہ عجیب جنونی انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتے میں وہ ایک رات بھی سکون کی نیند نہیں سویا تھا۔۔۔
اُسے یقین تھا کے فلک زندہ ہے یا وہ خود کو سمجھانے کے لیے اس یقین پر قائم تھا۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
چل سیدھی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔
حولدار نے اُسے اندر کھینچ کے ڈی سی پی پرتاب کے ڈیسک کی جانب دھکا دیا وہ لڑکھڑا کے سیدھا ہوا
آرام سے یار۔۔۔۔اِدھر ہی تھوڑی عزت ہے اپن کی۔۔۔۔کچرا کرےگا کیا
وہ غصے سے اُسے گھور کر بولا
تم پھر آگئے۔۔۔۔۔۔
پرتاب نے اُسے سر تا پیر گھورا۔۔۔۔۔بلیک جینس اور آدھی کھلی آسمانی شرٹ میں وہ بے شرمی سے مسکرا رہا تھا
کیا کروں ساب۔۔۔۔۔۔ اتنا ٹائم ادھر گز ارا ہے۔۔۔آپکے لوگوں کو اب اپن کے بنا چین ہی نہیں آتا ۔۔۔۔۔اس واسطے بار بار اٹھا لیتے ہے۔۔۔۔۔
اب تو میرے کو یہ جیل اپنا مدر لینڈ ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے بنا شرمندہ ہوئے شاں سے جواب دیا پرتاب نے اُسے گھور کر دیکھا
کیا کِیا ہے اس بار۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔
پرتاب نے سامنے رکھی فائل پر جھکتے حولدار سے پوچھا۔
سر ۔۔۔۔۔بس اسٹینڈ پر لڑکیوں کو چھیڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
حولدار نے جواب دیا پرتاب نے گھورا تو وہ حجل ہونے کی ایکٹنگ کرتا سر کھجا رہا تھا
بس یہی رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار لمبا جاؤگے تم
پرتاب نے سر تاسف سے ہلاتے ہوئے کہا
ساب چھوڑو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔لے دے کر دفع کرو
وہ پرتاب کی طرف جھک کے اشارے کرتے ہوئے بولا۔۔۔پرتاب نے غصے سے اٹھ کر ٹیبل پر ہاتھ مارا
اندر ڈالو اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔بڑا آیا لینے دینے والا
پرتاب اُسے غصے سے گھورتا ہوا بولا تو حولدار جلدی سے اُسے کھینچتا سیل کی جانب لے گیا اور دروازہ کھول کر اُسے اندر دھکیلا۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اُسے غصے سے گھورا
ماموں۔۔۔۔۔اپنے داماد کو بھی گھر آنے پر ایسی عزت دیتا ہے کیا تو۔۔۔۔۔
وہ اُسے دروازہ بند کرتے دیکھ سلاخوں کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے بولا
میرا داماد تمہاری طرح بار بار منہ اُٹھا کر چلا نہیں آتا۔۔۔۔۔
حولدار نے نخوت سے جواب دیا اور اُسے گھورتا وہاں سے چلا گیا ساحل نے زیرِ لب اُسے گالی سے نوازا
پیچھے پلٹا تو وہاں رکھے بینچ پر بیٹھا شخص اُسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
کیا دیکھ رہا ہے بے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کی شادی کرائے گا میرے سے۔۔۔۔
ساحل سلاخوں سے بیک لگائے اُسے گھور کر بولا اُس آدمی نے غصے سے پیشانی پر بل ڈالے۔۔۔۔ساحل نے شرٹ نکال کر نیچے پھینکی اور اپنے مضبوط بائسپ پر ہاتھ پھیرا
مسلز دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔ایک ہاتھ پڑا نا تو تھوبڑے کا نقشہ بدل جائے گا۔۔۔۔۔
وہ اُسے دھمکاتے ہوئے بولا سامنے بیٹھا جیکی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور اپنی ٹی شرٹ اُتارنے لگا
لگتا ہے اپنی طاقت دکھانے کا بہُت شوق ہے۔۔۔۔۔لیکِن پہلے سامنے والے کے بارے میں بھی جان لینا چاہیے۔۔۔۔
وہ اُسے چیلنجنگ انداز میں بولا اور ٹی شرٹ دور اچھال دی۔۔۔۔اُس کی پہلوان جیسی باڈی دیکھ کے ساحل کے آنکھیں پھیل گئی۔۔۔۔اُس نے گلا تر کیا
باڈی سے اگر زور ہوتا نا تو ہاتھی جنگل کا راجا ہوتا۔۔۔۔۔۔
وہ خود کو یقین دلاتے ہوئے بولا اب جو پنگا لے ليا تھا تو پیچھے کیوں ہٹتا۔۔۔۔
جیکی غصے سے آگے بڑھا اور ساحل بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوسرے کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑے آنکھوں میں آنکھیں گڑائے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پورا زور ڈالنے لگے۔۔۔۔۔جیکی نے ایک دم سے سر اُس کے منہ پر مارا تو اُس کا بیلنس بگڑ گیا وہ پیچھے دیوار پر گرا
اتنی زور کا وار تھا کے اُس کا ذہن جھنجھنا گیا تھا۔۔۔۔۔۔اُسے اپنے لبوں پر خون کا ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔۔اچانک ہی اُس کے تاثرات تبدیل ہوئے وہ سیدھا ہوا اور وحشت بھرے انداز میں سرخ نظروں سے اُسے دیکھتا دوبارہ اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
صرف ایک یہی چیز تھی جو اُس سے برادشت نہیں ہوتی تھی کے کوئی اُس پر وار کرے۔۔۔۔اُسے چوٹ پہنچائے۔۔۔۔۔
یہ چیز اُسے آپے سے باہر کر دیتی تھی۔۔۔۔۔وہ ہر لحاظ بھول جاتا تھا۔۔
اور اس دفعہ بھی وہ اپنا ہر ارادہ بھولے جیکی پر ٹوٹ پڑا۔۔۔۔ایک کے بعد ایک اُس پر اتنے وار کیے کے وہ حیران پریشان رہ گیا۔۔۔۔۔اُسے اپنا بچاؤ بھی نہیں سوجھا۔۔۔۔۔۔
ساحل کو جب خود اپنے حد سے آگے بڑھنے کا اندازا ہوا تو ہوش میں آکر پیچھے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ موقع ملتے ہی جیکی نے آگے بڑھ کر اپنا غصّہ اُس پر نکالنا شروع کر دیا اور وہ بس ہلکی سی مزاحمت کرتا اُس سے مار کھانے لگا
وہاں موجود سپاہی اس جنگ کو دیکھ ہڑبڑا کے اُس سیل کے قریب آئے اور دونوں کو دھمکیاں دینے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن دونوں پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔جیکی اُسے ایک کے بعد ایک پنچ مار کر خوش ہو رہا تھا اور وہ بمشکل اپنے آپ کو روکے مار کھا رہا تھا
سپاہی تنگ آکر سیل میں آئے اور دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔۔۔۔۔۔ دونو کو اول فول سنا کر الگ الگ پھینکے وہ سب باہر نکل گئے
ساحل چھوٹتے ہی دیوار سے لگ کر زمین پر بیٹھ گیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا
اُسے بے دم دیکھ اور اُس کے پسینے سے نم چہرے اور بدن پر جگہ جگہ خون دیکھ جیکی مسکرا کر اپنی ٹی شرٹ پہن رہا تھا
دم ہے تیرے میں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر دوبارہ اپنا زور آزما نے کا شوق ہوا تو جیکی کو یاد کر لینا
جیکی اُس کی حالت پر ہنس کر بکھری سانسوں سمیت بولا ۔۔۔۔دل اُس کا متعارف بھی تھا۔۔۔۔کیوں کے وہ واقعی اُس کی ٹکر کا تھا
جیکی۔۔۔۔۔ تمہاری بیل ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔
ایک سپاہی نے آکر سیل کھولتے ہوئے کہا جیکی مسکرا کر اُسے دیکھتا باہر نکلنے لگا
سن۔۔۔۔۔۔۔۔ٹریننگ دیگا میرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے روک کر مسکراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔جیکی نے پلٹ کر اُسے دیکھا
رویل باکسنگ کلب۔۔۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہتا وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔باہر ہی پرتاپ اور ایک وکیل کھڑے ہوئے تھے
ساحل نے اپنی دوسری اُنگلی لبوں پر رگڑ کر آنکھوں کے آگے کی تو وہ سرخ رنگ میں بدل گئی تھی اُس نے مدھم سا مسکراتے ہوئے باہر دیکھا اور پرتاب کو ونک پاس کرتے ہوئے آنکھیں بند کرکے سر دیوار سے ٹکا گیا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
نہیں ممی۔۔۔۔پاپا کے بنا ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے زینب کو دیکھتے ہوئے کہا
بیٹا کل داؤد کا برتھ ڈے ہے۔۔۔۔۔۔اسلئے ہم سوچ رہے تھے کل ہی تم دونو کی منگنی ہو جائے۔ ۔۔۔۔۔۔داؤد کے جنم دن کا اس سے خوبصورت تحفہ کیا ہو سکتا ہے
رابعہ بیگم نے اُسے پیار سے سمجھایا۔۔۔۔۔
وہ لوگ داؤد کے جنم دِن پر دونوں کی منگنی کی خواہش کر رہے تھے لیکن وقار صاحب نے مصرفیت کی وجہ سے آنے سی انکار کر دیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کے منگنی اُن کے بغیر ہی کر لی جائے۔۔۔۔۔۔لیکِن نین کو یہ بات منظور نہیں تھی لیکن وہ مان ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔زینب بس چُپ تھی ۔۔۔۔دل میں دکھ تھا کے ہمیشہ ہی وقار خان نے اپنوں سے زیادہ اپنے پیسے اور نام کو اہمیت دی تھی۔۔۔۔۔
لیکِن پاپا کے بنا میں انگیجمنٹ نہیں کروں گی بڑی مامی۔۔۔۔میری زندگی کے اتنے خاص موقعے پر میرے پاپا ساتھ نے ہو۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔
نین صاف انکار کرکے وہاں سے اٹھ گئی اور رابعہ بیگم نے ہے بسی سے زینب کو دیکھا
∆∆∆∆∆∆∆
تُو اتنی رات کو کدھر سے آرہی ہے۔۔۔۔۔
وہ اور جیا ایک ساتھ گھر کے گیٹ تک پہنچے تھے۔۔۔۔رات کے تقریباً دس ہو گئے تھے۔۔۔۔ساحل نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
اور یہ پوچھنے والے تم کون ہوتے ہو۔۔۔۔۔
جیا نے دونوں ہاتھ باندھے طنز بھرے لہجے میں پوچھا
جس کی تو بہن ہے نہ وہ اپن کا بھائی ہے اس ناطے میری بھی تو کچھ نہ کچھ لگتی ہے۔۔۔۔۔
ساحل نے ضبط سے دانت بھینچے جواب دیا
اوقات بھول گئے شاید۔۔۔۔۔۔۔شکل دیکھی ہے اپنی آئینے میں۔۔۔۔۔۔۔جیا نے نخوت سے جواب دیا ایک نظر میں اُس کے چہرے اور لگی چوٹ کے نشان کا جائزہ لیتے ہوئے
روز دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔ہر اینگل سے ہیرو لگتا۔۔۔
وہ ہاتھ سے گردن سہلاتے ہوئے بولا
ہا ہا ہا۔۔۔سو فنی۔۔۔۔۔۔۔اپنی ہیرو شکل لے کر کسی اورس رشتے جوڑو۔۔۔۔۔۔میرا راستہ کاٹا نا تو تمہاے ساتھ اچھا نہیں ہوگا
جیا نے آخر میں غصے سے کہا
تو کالی بلّی ہےکیا۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو وہ بھڑک اٹھی۔
یو۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔ساحل نے سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھا
جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راہب کے پکارنے پر وہ چونک کر مڑی۔۔۔۔
اندر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
راہب نے سنجیدگی سے کہا تو وہ ساحل کو ایک نظر گھورتی اندر کی طرف بڑھی اور راہب بھی اُسے اگنور کیے جیا کے پیچھے چلا گیا۔۔۔ساحل نے کندھے اچکا دیے
ڈیڈ آخر بات کیا ہے۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب کو مسلسل چکر کاٹتے دیکھ وہ پریشانی سے بولا جن کے چہرے سے ہی اُن کے ضبط کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔لیکِن اُنہوں نے اس دفعہ بھی کوئی جواب نہیں دیا اُن کا دھیان دروازے کی طرف تھا
سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے صرف نین ہی وہاں تھی ۔۔۔۔۔داؤد آج اپنی مام کے آرڈر پر جلدی گھر آیا تھا تاکہ تھوڑا وقت نین کو دے سکے۔۔۔۔
لیکن عبّاس صاحب کے تاثرات دیکھ اُس کا سارا دھیان اُن کی طرف تھا ۔۔۔۔
وہ واپس آکر صوفے پر نین کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
لگتا ہے ماما کے بیٹے کی کلاس لگنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اندازہ لگاتے ہوئے مزے سےکہا۔۔۔آہستہ آواز میں
تم بڑا انجوئے کر رہی ہو۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے گھورا
کل اُس نے جو اٹیٹود دکھایا نا اُس کے بعد تو اُس کی ایک لمبی بے عزتی بنتی ہے۔۔۔۔۔۔کتنا شرمندہ کیا ماما کو۔۔۔۔۔ایل ایل کہیں کا۔۔۔۔
وہ ناک چڑھا کر بولی
ایل ایل۔۔۔۔۔۔
داؤد نے نا سمجھی سے دہرایا
لچا لفنگا۔۔۔۔۔۔۔اب سسرال میں۔ایسے الفاظ سیدھے سیدھے بولنا اچھا تھوڑی لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ رازدارانہ انداز میں بولی اور داؤد نے قہقہہ بڑی مشکل سے ضبط کیا۔۔۔۔۔۔اُسے دیکھ کر سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں تھا کے نین بہت اچھی ہمسفر ثابت ہو سکتی تھی لیکن اتنے سالوں سے اس رشتے کی حقیقت کو لے کر آگے بڑھنے کے باوجود اُس نے کبھی نین کے لیے وہ محسوس نہیں کیا تھا جو وہ ایک اجنبی لڑکی کو لے کر کرنے لگا تھا۔۔۔جس کا نا وہ نام جانتا تھا نہ کبھی دو پل اُس سے بات کی تھی۔۔۔۔۔بس اُس کا درد دیکھ کر عجیب سا احساس تڑپاتا تھا۔۔۔۔جیسے سمجھنے میں وہ فیلحال نا کام رہا تھا
کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا اس اُلجھن کو سوچ رہا تھا تب نین نے اُس کے آگے ہاتھ ہلاتے ہوئے پوچھا
مام صحیح کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔تم دنیا کی سب سے پرفیکٹ لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو نین نے مصنوعی کالر جھٹکا
تو پھر۔۔۔۔۔۔گھمنڈ کیا کبھی میں نے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی اور ہنس دی۔۔۔۔
عباس صاحب اُن سے کچھ دوری پر تھے۔۔۔۔۔۔۔
دروازے سے ساحل کو اندر آتے دیکھ وہ اپنی جگہ رک گئے۔۔۔۔ساحل اُنہیں ایکدم سامنے دیکھ کر خود بھی رک کر مسکرانے لگا
اب آئیگا مزا۔۔۔۔۔۔
نین نے ہتھیلیاں رگڑتے ہوئے کہا داؤد نے جس تنبہی نظروں سے دیکھا
کہاں سے آرہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ۔
عبّاس صاحب نے ہاتھ پیچھے باندھے سرد لہجے میں سوال کیا۔۔
دروازے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نہایت ہی معصومانہ جواب دیا جس اور داؤد اور نین تو ہنستے ہنستے رک ہوئے لیکِن عبّاس صاحب کا خون کھول اٹھا
کہاں تھے اب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ذرا غصے سے بولے
باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ذبردستی مسکرا کر بولا
باہر یا لاک اپ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب دانت پیس کر چینخ اٹھے وہ سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا گیا
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی اٹھ کر اُن کے پاس آیا۔حیرت سے اُنہیں پکارا
عثمان کا فون آیا تھا۔۔۔۔۔جناب دوپہر سے جیل میں تھے۔۔۔۔وہ بھی لڑکیوں کو چھیڑنے کے الزام میں۔۔۔
عبّاس صاحب نے ضبط سے مُٹھی بھینچ لی نین نے پوری آنکھیں کھول کر ساحل کو۔دیکھا اور اپنا فون آگے کرکے کیمرے آن کر دیا
اس عثمان کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے زیرِ لب عثمان نام کے پولیس والے کو دھمکی سے نوازا
کیا یہ سچ ہے ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے حیرت اور سنجیدگی سے اُسے دیکھا
داؤد میری شکل دیکھ۔۔۔۔۔لڑکیاں چھیڑ سکتا میں۔۔۔۔۔۔
وہ سارے زمانے کی شرافت چہرے پر لاتے ہوئے بولا داؤد نے بڑی مشکل سے ہنسی روکی۔۔۔عبّاس صاحب نے اُسے گھورنے پر اکتفا کیا۔۔۔۔۔
میں نے تو صرف اُس لڑکی کو بولا کے اُس کے گھٹنے بہُت خوبصورت ہے۔۔۔۔۔اُس کو پتہ نہیں کیوں برا لگ گیا۔۔۔۔۔
اب چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر دکھانا ہی کائے کو پھر جب تعریف برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے بولا نین اپنی جگہ اُس کی درگت کو انجوائے کرکے ہنس رہی تھی۔۔۔۔اور داؤد اُس کی باتوں پر ہنسی روکنے کی کوشش میں تھا
دیکھ لیا۔۔۔۔۔کیا کارنامے انجام دے رہا ہے تمہارا معصوم بھائی۔۔۔۔
اس شہر می جتنی عزت ہے ساری مٹی کردے گا یہ لڑکا کِسی دن۔۔۔۔۔
پڑھائی کے نام سے اس کے منہ بن جاتے ہیں اور ایسے کام کرنے کے لیے اس کے پاس ٹائم ہی ٹائم ہے۔۔۔۔۔۔
یہی باقی رہ گیا تھا کے اب لوگ مجھے فون کرکے اس کی تعریفیں سنائے۔۔۔۔۔۔
اور دیکھو کیسے شان سے اکڑ کر کھڑا ہے۔۔۔۔۔۔نالائق۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے جی بھر کر سنا دیا اُس کا سر تھوڑا اور جھک گیا نین نے نچلا لب دبائے عبّاس صاحب کو شاباشی دی
اوکے ڈیڈ سوری۔۔۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔میں سمجھاتا ہوں اسے
داؤد نے نرمی سے انہیں پرسکون کرنا چاہا
سمجھا دو اس سے پہلے کے راستے پر چلنے کے قابل نہ چھوڑے مجھے اس عمر میں۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا اور آپنے کمرے میں چلے گئے
اسٹوپڈ ایسی باتوں کا اعتراف کوئی ڈیڈ کے سامنے کرتا ہے کیا۔۔۔۔۔ویسے کون تھی وہ۔۔۔۔۔
داؤد نے عبّاس صاحب کے جاتے ہی آہستہ لہجے میں شرارت سے پوچھا
تیری والی پیچھے کھڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اُس نے سن لیا نا تو بہت دھوئے گی تجھے۔۔۔۔۔تو اُس پر فوکس کر۔۔۔۔
ساحل نے ابرو اٹھائے اُسے وارن کیا۔۔۔نین کا دھیان اب اپنے موبائل کی طرف تھا
مجھ سے زیادہ تو تمہیں شادی کی جلدی ہے ۔۔۔۔۔بولو تو ڈیڈ سے بات کروں کے دو شادیوں کا انتظام کر دے۔۔۔۔۔۔
اے بھائی۔۔۔۔یہ مصیبت تیرے کو ہی مبارک۔۔۔۔۔اپن اکیلا ہی اچھا ہے۔۔۔کائے کو اپنی چکا چک لائف کی واٹ لگانے کے پیچھے پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی میرے کو بیڈ شیئر کرنا پسند نہیں۔۔۔۔
وہ فوراً کہتا ہوا آخر میں مسکرایا داؤد نے اُس کی بات پر قہقہہ لگایا
دیکھتے ہے بچو۔۔۔۔۔ آگے اس بات پر کتنا قائم رہتے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے ونک دیتے ہوئے پیچھے ہو کے نین کی طرف پلٹ گیا اور ساحل نے عبّاس صاحب کا غصّہ یاد کرکے جھرجھری لی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆\
نین تم میرا ایک کام کردو گی۔۔۔۔۔۔
نین نے دروازہ کھولا تو سامنے داؤد کھڑا تھا صبح صبح وہ بھی تیار۔۔۔اُسے اپنے کمرے میں دیکھ ںحیران ہوئی ۔۔۔
کیا ہوا داؤد ۔۔۔۔۔۔
اُس نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں اب بھی نین تھی
ایک ضروری کام سے نکلنا ہے مجھے اور پتہ نہیں کب فری ہو پاؤں گا ۔۔۔ساحل کے لیے ایک کالج میں بات کی ہے۔۔
تم اُسے اسپیچ کے لیے تھوڑا پرپیر کر دو گی۔۔۔۔۔۔پلیز
داؤد نے اُس سے ریکویسٹ کی
ٹھیک ہے داؤد۔۔۔۔۔۔لیکِن کالج اور وہ۔۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے اُسے ایڈمشن ملے گا۔۔۔۔۔
انشاء اللہ اس بار مل جائے گا۔۔۔۔۔تم بس اتنا کام کر دو۔۔۔آج دوپہر میں بلایا ہے پرنسپل سر نے۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر کہا اُس کے انداز میں ساحل کے لیے چاہت بول رہی تھی
ٹھیک ہے ڈونٹ وری میں کر دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی تو داؤد اُسے شکریہ کہتا اسمائیل پاس کیے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
اُس نے دروازہ بند کرتے ہوئی جاندار انگڑائی لی
وہ تیار ہو کر ساحل کے روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔دروازے پر دستک دی تو کوئی جواب نہیں ملا نا دو بار میں نا تین بار میں حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی۔۔۔۔مجبوراً ایسے ہی دروازہ کھول کر اندر آگئی۔۔۔۔۔لیکِن روم خالی تھا۔۔۔۔۔۔
وہ روم ٹریس کی طرف بڑھی اور سلائیڈ دروازہ کھولتے ہی اُس کی آنکھیں اور منہ حیرت اور صدمے سے کھلے رہ گئے
ساحل بنا شرٹ کے صرف بلیک بنیان میں ٹیرس کی بارڈر لائن پر بنی چھوٹی سی دیوار پر سیدھا لیٹا ہوا تھا اور ایک پیر نیچے لٹکائے جھلا رہا تھا
حلانکہ وہ ایکسرسائز کرنے کے بعد تھک کر ایسے ہی وہاں لیتا تھا جو اُس کی عادت تھی لیکن نین نے تو اُسے کچھ اور ہی سمجھ لیا
ممّی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے چینخ اٹھی۔۔۔۔۔ساحل جو پرسکون لیٹا ہوا تھا اُس کے چینخ کے اثر سے بوکھلا کر نیچے گرتے گرتے بچا اور اٹھ کے بیٹھتے ہوئے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
نین جلدی سے آگے بڑھی اور اُس کا بازو پکڑ لیا وہ تو صدمے سے اُسے دیکھتا رہ گیا
۔۔۔۔۔میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔
میں تمہیں خود کشی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوفزدہ انداز نے بولی اور اُس کے بازو پر پکڑ مضبوط کر دی
ابے کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ناخن کی چبھن پر تڑپ کے چلایا۔۔۔۔
حیران بھی ہوا کے وہ خود کشی کر رہا ہے اور اُسے ہی پتہ نہیں
میں جانتی ہوں تمھارے کام منہ دکھانے والے نہیں ہے لیکِن یوں سوسائیڈ کسی مسئلے کہ حل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔یہ گناہِ عظیم ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چلانے گھورنے سے بے نیاز اپنی گردانے گئی
اے ایڑی۔۔۔۔۔دماغ خراب ہے کیا تیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی سوچ پر زچ ہو کر غصے سے بولا
تمہیں مجھے جو بولنا ہے بول لو۔۔۔میں سب سہ لوں گی ۔۔۔لیکِن تمہیں یوں اپنی جان نہیں دینے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے بولنے کا موقع دیے بغیر جذباتی انداز میں بولی۔۔۔
چھوڑ مجھے پاگل کہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے دانت بھنچے اُس کا ہاتھ زور سے جھٹک کر اپنا بازو چھڑایا و گھبرا گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن اپنی بے وجہ کی فکر سے باز نہیں آئی
دیکھو میری بات سنو۔۔۔۔۔,۔
ایسے غصے میں اُلٹے سیدھے قدم نہیں اٹھاتے
ذرا سوچو اگر تم نہیں مرے اور ٹانگ ٹوٹ گئی تو زندگی بھر ایک ٹانگ سے گزرا کرنا پڑیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مر گئے تو ہمیشہ بھوت بن کر بھٹکتے رہو گے
وہ فکرمندی کے ساتھ خوف سے بھی بولی ساحل نے صدمے سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔یقین کرنا مشکل تھا کے یہ لڑکی اتنی بیوقوف بھی ہو سکتی ہے
تمہیں جو بھی غم ہے مجھے بتاؤ ۔۔۔میں ہوں نہ ۔۔۔۔۔
میں تمہاری بات سنوں گی۔۔۔۔۔تمہاری ہیلپ کروں گی
ہم دونو مل کر ساری پرابلمز سالو کر لیں گے۔۔۔۔۔
لیکن یہ خود کشی کا خیال اپنے دل سے نکال دو
وہ بے حد اپنائیت سے بولی جیسے اُس سے بڑا ساحل کا کوئی غم ساز نہیں۔۔۔۔۔۔ساحل ایکدم غصے سے اُس کی اُس کے پاس ہوا
اے ہاوڑہ ایکسپریس۔۔۔۔۔۔۔۔بریک مار اپنی زبان کو
بس بولے جا رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔ ۔بولے جا رہی ہے۔
اپن کوئی مرنے ورنے نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس پر برس پڑا میں کو گھبرا کے سیدھی ہوئی ساتھ حیران بھی ہوئی
اگر مرنے نہیں جا رہے تھے تو وہاں کیا کر رہے تھے
وہ حیرت سے بولی
کچھ نہیں کر رہا تھا ایسے ہی بیٹھا تھا بس۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کے غصّے سے بولا اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا اُسے یہ بیٹھنا بھی اتنا مہنگا پڑے گا
نینو پہلے تو حیران ہوئی اور پھر ایک دم سے غصے میں اُسے دیکھا
بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کوئی جگہ ہے بیٹھنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ صوفے پر بیٹھتے ہیں۔۔۔زمین پر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔۔سر پر بیٹھتے ہے اور تم یہاں بیٹھتے ہو مطلب حد ہو ھو گئی
۔کل تو پھر تم سڑک پر بستر ڈال کر سونے لگ جاؤ گے۔۔۔
پرسوں پیڑوں پر بیٹھ کر کھانے لگ جاؤ گے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے بولی اوراپنے تیزی سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا
کیا حالت ہو گئی تھی میری۔۔۔۔۔۔۔
خود پر ترس کھاتے ہوئے ایک نظر اُسے گھورا
کیوں کے تو پاگل ہے۔۔۔۔۔۔تیرے کو کسی کی بات نہ سننے کے بیماری ہے۔۔۔۔۔۔۔جو چالو ہوتی ہے رکنے کا نام نہیں لیتی۔۔۔۔۔
تو نکل ادھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی نکل
وہ بیزاری سے بولا اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے اور زور سے دروازہ بند کر دیا
ہمدردی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بند دروازے کو دیکھ کر سر جھٹکتی ہوئی بولی
یہ لڑکی تو انسان کو سچ میں مرنے پر مجبور کر دے۔۔۔
۔وہ دروازہ بند کرکے اُس پر سر رکھے تھکے تھکے انداز میں بولا۔۔۔
∆∆∆∆∆\∆
آج داؤد کا برتھ ڈے تھا۔۔۔۔۔گھر میں ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی گئی تھی اور اس کی ہی تیاریاں شروع تھی۔۔۔
عشرت اور شیرین کو حکم پرر حکم دیے جا رہے تھے اور وہ منہ بسور کر کام۔کیے جا رہیں تھی۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی دونوں کام سے بچنے کے لیے ترکیبیں بھی سوچے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
۔تم دونوں یہاں کیوں بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔کتنا کام پڑا ہے۔۔۔باہر جاؤ ۔۔۔دیکھو لان میں سجاوٹ شروع ہُوئی یا نہیں۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم اُن کے سر پر پہنچی تو دونوں ہڑبڑا کر کھڑی ہو گئی
جی۔۔۔۔جی بڑی ماں میں جا ہی رہی تھی۔۔۔۔۔۔
عشرت بوکھلائے انداز میں بولی رابعہ بیگم دونوں کو گھورتی آگے بڑھی
بڑی ماں ۔۔۔۔۔۔
عشرت نے ہمت کرکے پکارا دونوں جلدی سے اُن کے پاس چلی آئی
بڑی ماں میں اور شیرین کیا سوچ رہے تھے کے آج نین پہلی بار سب سے ملے گی۔ ہم اُسے فیملی اور دوستوں سے ملائے گے تو کیوں نہ ہم اُسے پارلر لے جا کر اچھا سا تیار کرائیں ۔۔تاکہ وہ اور زیادہ سندر لگے۔۔۔۔۔۔
عشرت لفظوں کو چاشنی میں ڈبوتے ہوئے بولی فلحال کام سے بچنے کا سب سے اچھا حل یہی نظر آیا۔۔۔
نین کے بہانے خود پارلر جانا چاہتی ہے ہماری دونوں ہیروئنیں۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے ہاتھ باندھتے ہوئے سکون سے کہا تو دونوں بوکھلا گئی
نہیں نہیں بڑی ماں ۔۔۔۔۔سچی ۔۔۔۔۔۔۔ہم تو بس نین کے لیے کہہ رہے ہے
شیرین معصوم شکل بنا کے بولی رابعہ بیگم نے دونوں کو گھورا
ٹھیک ہے لے جاؤ اُسے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں تم دونوں بھی اچھے سے تیار ہو جانا۔۔۔۔۔۔۔۔پارٹی میں ماسيوں والا حلیہ نا دکھے مجھے۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے انہیں خوش کر دیا
جی بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں نے تابعداری سے سر ہلایا اور اُن کے جاتے ہی خوشی سے چینخ اٹھیں
لیکِن بھابھی مجھے کہاں لے جا رہیں ہے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں نین کو اُس کے کمرے سے کھینچ کر لائی وہ حیران پریشان سے دونوں کو دیکھنے لگی
چلو تو سہی۔۔۔۔۔۔
شیرین نے اُس کے گال کو کھینچتے ہوئے کہا آج نین اُن کے بے حد کام آئی تھی
ایک منٹ بھابھی وہ دیکھیے۔۔۔۔۔۔
نین اچانک ہی رک گئی تو دونوں نے حیرت سے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں ڈرائنگ روم کے صوفے پر ساحل بیٹھا تھا ساتھ میں خوشی اور شانو اُس کے اوپر چڑھے ہوئے تھے۔نین نے دوسری طرف اشارہ کیا جہاں چندا ڈسٹنگ کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
دیکھا آپ نے کیسے آنکھوں کی گستاخیاں ہو رہی ہے
نین نے دونوں کو باری باری دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔وہ لوگ ساحل کے صوفے کے پیچھے کھڑے تھے۔۔۔۔۔عشرت اور شیرین بھی آنکھیں پھاڑے گستاخیوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں
ساحل خوشی کو باہوں میں لیے اُس کے لیے گانا گا رہا تھا
یہ چاند سا روشن چہرہ۔۔۔۔
بالوں کا رنگ سنہرا۔۔۔۔
یہ جھیل سے نیلی آنکھیں۔۔۔
کوئی راز ہے ان میں گہرا۔۔۔
اُس کی آواز بلا شبہ بہُت پیاری تھی اس بات سے عشرت شیرین بھی انکار نہیں کے سکتی تھی لیکِن نین تو اُس کے گانے میں بھی معنی تلاش کر رہی تھی
چاند نہیں۔۔۔۔۔۔چندا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔۔بھابھی
وہ آہستہ آواز میں بولی
تُو کہتا کیوں نہیں۔۔۔۔۔
شیرین نے نا سمجھ انداز میں پوچھا
رہدم کے لیے بھابھی۔۔۔۔۔ريدم کے لیے
نین اُس کی طرف دیکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولی
اس کی حرکتیں دیکھو اور میرے بچوں کو دیکھو کیسے اس سے چپکے رہتے ہیں۔۔۔۔انہیں بھی کہیں اپنے جیسے نا بنا دے
عشرت نے نا گواری سے ساحل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔شانو اُس کا بازو تھامے بیٹھا تھا اور خوشی اُس کی گود میں بیٹھی اُس کے گانے پر مسکرا رہی تھی۔۔۔دونو کو اُس کے بہت لگاؤ تھا ۔۔
تعریف کروں کیا اُس کی۔۔۔۔جس نے تمہیں بنایا۔۔۔
ساحل نے مسکرا کر گاتے ہوئے خوشی کی پیشانی چومی
خوشی کے چاچو سب سے بیسٹ۔۔۔۔۔
وہ کھلکھلا کے اُس کے گلے میں بازو ڈالے اُس سے چمٹ گئی۔۔۔۔
نین کا تو وہاں اور کھڑے رہنا کا ارادہ تھا لیکِن رابعہ بیگم پھر سے بلا کر کوئی کام نا بتا دے اس لیے عشرت اور شیرین نے جلد سے جلد وہاں سے نکلنے میں عافیت جانی۔۔۔اور نین کو ساتھ باہر لے گئیں
چاچو۔۔۔۔۔۔آپ کا برتھ ڈے کب ہے۔۔۔۔۔۔۔
شانو نے اُس کا بازو ہلاتے ہوئے پوچھا
وہ تو اپن کو بھی نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کندھے اچکا دیے
کیوں آپ کی ممّی نے نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔
شانو نے اُس کے بازو سے چہرہ ٹکائے معصومیت سے پوچھا وہ خاموش اُسے دیکھنے لگا
ایسے کئیں سوال تھے جن کے جواب اُس کی ماں جانتی تھی لیکن وہ جواب اُسے آج تک نہیں ملے تھے۔۔۔۔۔۔نا ملنے کی اُمید تھی۔۔۔۔