Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 47
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
پروفیسر شاد ابراہیم۔۔۔آپ پر مولسٹیشن کا الزام لگا ہے۔۔اس لیے آپکو ڈس مس کیا جاتا ہے۔۔۔۔
شاد کے سن ہوتے دِماغ میں پرنسپل کی آواز گونجی۔۔
سر مُجھے صفائی کا ایک موقع ملنا چاہیے۔۔۔۔۔۔
وہ بنا نظریں اٹھائے نہایت ضبط سے بولا
۔
میں نے آپ کو پہلے ہی انفورم کیا تھا مسٹر شاد کے میرے لیے اس کالج کی ریپو ٹیشن سے بڑھ کر کچھ نہیں جو کے آپ کی وجہ سے اچھی خاصی خراب ہو چکی ہے۔۔۔اب میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے اُسے صاف جواب دے کر اس کی ریکویسٹ کو رد کر دیا ۔وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا اور شیشے کے دروازے کو زور سے دھکیل کر باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر نکلتے ہی اس کے تیز قدموں کو بریک لگ گئے اس لڑکی کو سامنے دیکھ کر جس کی وجہ سے وہ آج بے گناہ ہو کر بھی رُسوا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے کیے عمل کا ری ایکشن جاننے کے لیے پرنسپل کے آفس کی طرف آئی تھی لیکِن اب پروفیسر شاد کو سرخ آنکھوں میں نفرت لیے گھورتے دیکھ وہ خوف سے کانپ گئی
شاد قدم بڑھاتا اس کے نزدیک آکر رکا۔۔۔۔۔
بہت غلط کیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے میرا نام میرا کریئر سب خراب ہو گیا۔۔۔۔
وہ نفرت بھرے لہجے میں کہہ کر دانت بھینچے مزید قریب ہوا جیا تھوک نگلتے ہوئے پیچھے ہوئی
جو جھوٹا الزام لگا کر تم نے میری عزت مٹی میں ملائی ہے اب میں اس الزام کو حقیقت بناؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سرد لہجے میں اُسے وارن کرتا اُس کے کندھے سے ٹکرا کر آگے نکل گیا اور وہ اپنی جگہ سن رہ گئی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے سوائے داؤد کے وہ صبح صبح ہی کہیں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔نین اس لیے بے فکری سے بیٹھی ناشتے کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی
فلک بھی وہیں روز کی طرح ناشتہ سرو کر رہی تھی لیکن نین نے اُسے بلکل ہی نظر انداز کیا ہوا تھا
ویسے بھی ساحل کی فضول گوئی کچھ کار آمد ثابت ہُوئی رہی جس کے بعد وہ خود کو یقین دلا رہی تھی کے داؤد اُس کیلئے اتنا بھی کو خاص نہیں تھا
ساحل نیچے آیا تو وہ خوشی کو اپنی گود میں بیٹھائے ہنستی ہوئی اُسے تنگ کر رہی تھی۔۔۔
دِل نے اعتراف کیا کے وہ ہنستے ہوئے اور زیادہ خوبصورت لگتی ہے
ساحل کو سیڑھیوں پر دیکھ کر اُس نے ٹیڑھا منہ بنایا جس پر ساحل نے ایبرو اٹھا کر اُسے گھورا۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے پکارا تو بس چند سیکنڈ رک کر ناشتے سے انکار کرتے ہوئے باہر جانے لگا۔۔۔کیوں کے اُسے جلدی تھی۔۔۔۔
منہ چھپا رہا ہے سب سے۔۔۔۔۔۔
عشرت نے دھیرے سے شیرین کے قریب ہو کر ہنسی روکتے ہوئے کہا وہ دونوں بلکل نین کے پاس کھڑی تھیں اس لیئے اُسے ایک پل لگا سمجھنے میں کے وہ ساحل کا مذاق اڑا رہیں ہے اُس تھپڑ کی وجہ سے جو اُس نے بنا غلطی کے اُسے مارا تھا۔۔
ساحل شیرازی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہُت زور سے ساحل کو پورے نام کے ساتھ پکارا۔۔۔۔۔عشرت اور شیرین بری طرح ہڑبڑا گئی۔۔۔۔
سب کے سب چونک کر اُسے دیکھنے لگے۔۔۔۔
وہ دروازے سے ابھی تھوڑا ہی دور تھا۔۔۔ وہیں رک گیا ۔۔۔لیکِن پلٹا نہیں بلکہ اُس کے یوں نام لینے پر دانت پیسے۔۔۔کیوں کے اکیلے میں تو وہ آدھے نام سے بھی نہیں بلاتی تھی
اباؤٹ ٹرن۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے رکنے پر حکم صادر کیا
ساحل نے آنکھیں گھمائی اور بنا پلٹے ہی آگے بڑھنے لگا
بڑے ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے رونی صورت بنا کر عباس صاحب کو دیکھتے ہوئے اپنی معصومیت کا احساس دلایا
ساحل۔۔۔۔۔ناشتا کرکے جاؤ۔۔
عباس صاحب پر اُس کی بے چارگی اثر کر گئی اُنہوں نے فوراً آواز لگائی۔۔۔۔اُس نے آنکھیں اور لب سختی سے بھینچے۔۔۔۔
غصّے سے پلٹ کر اُسے گھورا جو اُس کے پلٹنے پر فاتحانہ انداز میں مسکرا رہی تھی
وہ پیر پٹخ کر ٹیبل تک پہنچا کرسی کو زور سے کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
منہ پھلا کر دادی کو دیکھا جو مسکرا رہیں تھیں
خوشی نین کی گود سے اُتر کر اُس کے پاس آگئی
نین نے اُس کے آگے کی پلیٹ میں پوہا اور اسپراؤٹس ڈالتے ہوئے لب دبا کر مسکراہٹ روکی۔۔۔
وہ یونہی سیدھا بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔۔غصّہ ناک پر چڑھائے۔۔
چلو آج میں تمہیں اپنے بیوٹیفل ہاتھوں سے کھلاؤں گی۔۔۔
نین نے خود ہی پلیٹ سے بائٹ لے کر اسپون اُس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین کے منہ کھل گئے۔۔۔۔۔رابعہ بیگم نے نا گواری سے منہ پھیرا۔۔۔۔۔۔اور عباس صاحب بہانا ڈھونڈھتے ہوئے وہاں سے آٹھ گئے۔۔۔نانو مسکرا کر دونوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
اور ساحل۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔
منہ کھولو نا کیا غبارہ بن کر بیٹھے ہو۔۔۔۔۔
وہ منہ بناتی ہوئی اسپون مزید لبوں کے قریب کرکے بولی
دادی میرے کو بتانا اس کو کونسی ڈاکٹر کو دکھاؤں کے اس کے دورے بند ہو جائیں۔۔
اُس نے دادی کو دیکھتے ہوئے عاجزی سےپوچھا اُس کے منہ کھولنے کا فائدہ اٹھا کر نین نے فوراً چمچ گھسا دیا۔۔۔۔۔وہ گڑبڑا کر رہ گیا,۔۔۔۔۔
پو ہا اُس کے لبوں سے کچھ نیچے شرٹ اور خوشی کے بالوں میں گرا
مجھے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں نا یہ کوئی پاگل پن ہے
کل غصّہ تھا بس اس لیے ہاتھ اٹھ گیا بھول جاؤ نا سوری بھی کہہ چکی ہوں۔۔۔۔انسان اپنوں پر ہی تو غصّہ کرنا ہے نہ۔۔۔۔
وہ معصوم شکل بنا کے بولتی سب کو حیران کر گئی۔۔۔۔
اپنی طرف سے اُس نے پچھلے دن کی غلطی کا ازالہ کر لیا تھا۔۔کل سب کے سامنے اُسے تھپڑ مار کر جو مذاق بنایا تھا آج سب کے سامنے اپنا پن جتا کر اُس کی عزت رکھ لی تھی۔۔۔
بلکل صحیح کہہ رہی ہے لاڈو۔۔۔۔۔۔ضروری نہیں غصے میں کہی بات کو دل سے لگا لیا جائے تم دونو کو اب ایک دوسرے کو سمجھنا اور ساتھ دینا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے مسکرا کر کہتے ہوۓ نین کی بات کی تائید کی جس پر دونوں نے ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔۔۔
دادی صرف تیرے لیے برداشت کر رہا ہوں اس بھوتنی کو۔۔۔۔۔ورنہ جتنا اس نے میرا سکون حرام کیا ہوا ہے نا میرا بس چلے تو اسے راتوں رات غائب کر دوں۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بڑھائے چمچ سے بائٹ لیتے ہوئے بولا ساتھ ہی خوشی کے بالوں کو صاف کرنے لگا
دیکھا نانو ایسی باتیں کرتا ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔تو مجھے غصّہ آتا ہے اس پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے غصے سے اُسے گھور کر ساتھ اُسے کھلانا جاری رکھا
اور تو جو کرتی ہے وہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بائٹ لیتا ہوا بولا دونوں جتنی جلد بازی میں لڑ رہے تھے ناشتہ بھی جاری تھا سب بس دیکھے جا رہے تھے
کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈال کر پوچھنے لگی
بس بس۔۔۔۔۔۔بچوں کی طرح لڑتے ہو تم دونوں ۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کے کچھ کہنے سے پہلے دادی نے درمیان میں آکر اُنھیں روک کر چُپ کرایا۔۔۔
نین نے اُسے گھورتے ہوئے چمچ بڑھایا اور ساحل نے بھی گھورتے ہوئے ہی بائٹ لیا۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔داؤد کی بہن نہیں آئی ناشتے پے۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر سر جھکائے ہی پوچھنے لگا جس پر رابعہ بیگم نے چونک کر اُسے دیکھا
جیا کالج گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے سوال کا جواب دیا
تمہیں اس بات سے کیا مطلب۔۔۔۔۔بہتر ہے تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔۔اس فیمیلی میں کِسی پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں
رابعہ بیگم نے ناگواری سے اُسے دیکھتے ہوئے جتایا۔۔۔
جیا کا ذکر اُس کے منہ سے اُنہیں ذرا برداشت نہیں ہوا
اٹس اوکے بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے تو بس ایک نارمل سا سوال پوچھا ہے۔۔۔آپ اتنا ناراض کیوں ہو رہیں ہے۔۔۔۔
نین نے مسکراتے ہوئے حیرت ظاہر کی۔۔
مجھے کسی باہر والے کا اپنے بچوں کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے خشک لہجے میں جواب دیا ۔۔۔نین ہاتھ روک کر حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی کلائی تھام کے اوپر کرتے ہوئے چمچ سے بائٹ منہ میں لیا نین نے گھبرا کر اُس کی جانب دیکھا۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھ کر کلائی چھوڑتا خوشی کو نیچے اتارتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔
اچھا دادی۔۔۔ چلتا ہوں۔۔۔
وہ دادی کو دیکھ کر کہتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔نین اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔۔۔اُسے رابعہ بیگم کی بات بہت بری لگی تھی۔۔۔۔اُن کے لہجے۔میں ساحل کے لئے نفرت غصّہ حقارت جانے کیا کیا تھا۔۔۔جس کا ساحل تو عادی تھا لیکن نین کو بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا
نانو ممی کا فون آرہا ہے میں آتی ہوں ابھی
وہ اپنا فون بجنے پر اُس کی طرف متوجہ ہوکر کہتی وہاں سے اٹھ کر روم میں آگئی
سمجھ نہیں آتا ان دونوں کا کبھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں کبھی جیسے ان سے بیسٹ کپل تو کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
عشرت نے اُسے جاتے دیکھ بیزاری سے کہا شیرین نے بھی اُس کی بات کی تائید کی
تم دونوں کو اِس گپے بازی سے فرصت ملے تو کام بھی کر لینا
رابعہ بیگم نے دونوں کو جھڑکا تو دونوں منہ بنا کے رہ گئیں
∆∆∆∆∆∆∆
میں بلکل ٹھیک ہوں ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انگوٹھے سے تکیے پر لائن بناتی زینب کو یقین دلانے لگی
میں تمہارے بتانے کی محتاج نہیں ہوں نین۔۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے تم کیسی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے خفگی سے کہا
پھر سےکہہ رہی ہوں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔مان جا۔۔۔۔۔۔۔ایسے ہرٹ مت کر خود کو۔۔۔۔
زینب نے بے بسی سے کہا اُس نے بہت مشکل سے آنکھوں تک آتے آنسو روکے
ممی اتنے ڈیلی سوپ دیکھ کر بھی آپ نے کچھ نہیں سیکھا۔۔۔۔
آپ کو مجھے بولنا چاہئے کے نین اب تمہارا سسرال ہی تمہاری دُنیا ہے۔۔۔۔تمہارا شوہر ہی اب تمہارے لیے سب کچھ ہونا چاہئے۔۔۔۔
تمہیں حالات کا جم کر سامنا کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ
اور آپ کہہ رہی ہے بھاگ کر آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا لیکن آواز میں گھلتی نمی کو روک نہیں پائی
کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا تم سے۔۔۔۔۔۔۔ ایسی باتیں کر کے تم یہ بتا رہی ہو کے تم بہت نارمل ہو وہاں پر۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن یہ جو تمہاری آواز میں نمی ہے نا یہ چھپائی نہیں جا رہی تم سے
زینب نے مصنوعی غصے سے اُسے جتایا
بہت یاد آرہی ہے ممّی آپ کی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرتے ہوئی بولی۔۔۔
تو آجاؤ نا بیٹا۔۔۔۔۔کیوں سہلہ رہی ہو بلا وجہ۔۔۔۔
زینب نے پھر اُس کی منت کی
کیا ممی۔۔۔۔۔۔اموشنل ظلم نہ کرو ایسے۔۔۔۔۔مجھے بھلے کیا ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بہُت مست ہوں۔۔۔۔۔
میں سہنے والوں میں نہیں لوگوں کا جینا حرام کرنے والوں میں سے ہوں۔۔۔۔۔اس لیے آپ بے فکر رہو۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً سنبھل کے اپنے اوتار میں آتی بولی تاکہ۔ اسکی ماں مزید پریشان نہ ہو۔۔۔۔۔
اُنہیں اپنی باتوں سے بہلانے کی کوشش کرنے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆
شادی کر رہا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔
بریک ٹائم تھا وہ اور اُس کا کلیگ یاسر۔۔۔۔۔ اکیڈمی کے کیفیٹریہ میں بیٹھے تھے آس پاس بڑی چہل پہل تھی۔۔۔۔ جب یاسر نے اُسے اپنی شادی کی دعوت دی تو وہ حیرت سے بولا
یاسر نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا
مت کر یار بول رہا ہوں مت کر ۔۔۔۔۔۔۔بہُت پچھتائے گا۔۔۔وقت ہے سنبھل جا مت کر
وہ اُسے خوف دلانے والے انداز میں بولا
تُو شادی کے نام سے اتنا ڈرتا کیوں ہے۔۔۔۔۔
یاسر اس کی بات پر ہنسا
۔۔۔شادی سے ڈر نہیں لگتا بھائی۔۔۔۔۔ولن جیسی بیوی سے لگتا ہے
وہ نین کو تصور کرتا بھولی معصوم شکل بنا کر بولا
تو پہلا بندہ ہے جو نئی نئی شادی میں۔دُکھڑے رو رہا ہے۔۔۔۔
یاسر کی ہنسی نہیں رک رہی تھی
کیوں کے میری بیوی دنیا کا اکلوتا پیس ہے۔۔
اس نے آنکھیں گھمائی۔۔۔گلاس لبوں سے لگا کر جوس کا ایک گھونٹ لیا
یہ تو بتا ۔۔خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔
یاسر نے اسے مشکوک انداز میں گھورا۔۔۔۔۔ایکدم سے کئی تصویریں ذہن کے پردے پر۔لہرائی۔
پتہ نہیں غور سے دیکھا نہیں کبھی۔۔۔۔۔
وہ گلاس کے کنارے پر۔انگلی گھماتے ہوئے بے نیازی سے بولا
بے نیازی بتا رہی ہے دل جواب سے گھبراتا ہے۔۔
یاسر نے اسے دیکھ کر شرارت سے کہا۔۔۔اس نے جواب میں اسے گھورنا ضروری سمجھا
پھر بھی کتنی خوبصورت ہے۔۔۔
یاسر نے اسے دیکھتے اشتیاق سے پوچھا۔۔۔۔اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے
اتنی کے۔۔۔۔۔
شریف سے اس کی شرافت لوٹ لے۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتا آنکھ ونک کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا
یاسر نے زرو دار قہقہہ لگایا
تب تو تیرے مزے ہے ۔۔۔۔تُو تو پھر خاصا شریف ہے۔۔۔۔۔
وہ بھی اٹھتا ہوا اُس کے ساتھ ہو لیا دونوں کا رخ ٹریننگ روم کی طرف تھا
نو وے۔۔۔۔۔۔۔میرا اور اُس کا ایسا کوئی سین نہیں ہے
وہ لاپرواہی سے کہتا آہستہ قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا
تو کیا ہوا سین بن جائے گا۔۔۔۔جانا کہاں ہے۔۔۔۔۔۔اب تو زندگی بھر کی بات ہے ۔۔۔دل مہرباں ہو ہی جائے گے۔۔۔۔۔۔
یاسر نے شاعرانہ انداز میں کہا
کوئی چانس نہیں۔۔۔۔۔۔نارملی لڑکیوں کو دیکھ کر دل میں لڈو پھوٹتے ہے۔۔۔یہ صرف ایک ہے جسے دیکھ کر دماغ میں گھنٹے بجتے ہے کے پتہ نہیں اب کیا کریگی۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر تاسف زدہ لہجے میں کہتا اُسے قہقہہ لگا نے پر مجبور کر گیا
دونوں اندر جانے لگے کیوں کے بریک کا وقت ختم ہو گیا تھا۔۔
لیکن ساحل۔کا موبائل بجا تو وہ دروازے پر ہی رک گیا نمبر دیکھ کے پیشانی پر ڈھیروں بل پڑے
ہاں بول۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کا سے لگاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا دوسری جانیں کی بات سنی
ہاں پتہ ہے مجھے۔۔۔۔۔۔کرتا ہوں میں کچھ۔۔۔۔۔
اُس نے سننے کے بعد سنجیدگی سے کہا لیکِن سامنے والا شاید جلدبازی میں تھا
یار تو شانت رہ نا پلیز میں دیکھ رہا ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عاجزی سے بولا دوسری جانب سے اُس کی بات کاٹی گئی
تھوڑا ٹائم دیگا مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا فون بند کر گیا
