Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 73

سکندر کے آدمیوں نے داؤد کو زخمی حالت میں ہاسپٹل کے باہر پھینک دیا تھا۔۔۔۔۔۔ہاسپٹل اسٹاف نے اُسے فوراً سنبھالا اور اُس کا جلد سے جلد ٹریٹمنٹ شروع کیا گیا۔۔۔۔
گھر والوں کو جب آدھی رات کو یہ خبر ملی کے داؤد کو گولی لگی ہے تو سب کے سب گھبرائے بوکھلائے سے ہاسپٹل پہنچے۔۔۔جہاں اُس کا آپریشن کیا جا رہا تھا۔۔۔سب ہی ٹینشن میں آگیے تھے لیکِن سب سے زیادہ رابعہ بیگم صدمے میں تھیں۔۔۔۔۔
اُن کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔۔۔۔
وہی سب سے زیادہ داؤد سے محبت کرتی تھیں۔۔۔۔
وہ اُن کے لیے سب کچھ تھا۔۔۔
اور اُس کی یہ حالت دیکھ اُن کا دل بری طرح تڑپ رہا تھا عبّاس صاحب اُنہیں سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔
اُنہیں فلک کی بھی فکر ہورہی تھی۔۔۔
اُنہوں نے اپنے جان پہچان کے سارے آفیسرز سے بات کرکے مدد مانگی تھی
ساحل کو کال کرنے کی کوششں کررہے تھے لیکن اُس کا فون نہیں لگ رہا تھا اور نین فون اٹھا نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔
بہت تکلیف دہ اورمشکل وقت تھا جسے وہ ہمت سے ہینڈل کر رہے تھے ۔۔
♦♦♦♦♦
گولی لگتے ہی رینا بے جان ہو کر اُس کے اوپر گرپڑی۔۔۔۔وہ اُس اچانک حملے پر ہی سنبھلنے کو تھا کے کھڑکی سے دوسری گولی چلائی گئی جس کا نشانہ ساحل تھا لیکن وہ کرسی پر بیٹھا تھا اس لیے گولی کرسی کو چھو کر نکل گئی۔۔۔۔۔
وہ رینا کے بے جان وجود کو دھکیل کر وہاں سے اٹھا اور جھک کر بھاگتے ہوئے لگاتار چلتی گولیوں سے بچ کر اسی کھڑکی والی دیوار سے جا لگا جہاں سے گولیاں چل رہی تھی۔۔۔۔کھڑکی سے تھوڑے سے فاصلے پر۔۔۔
وہ کھڑکی کے سامنے سے ہٹ گیا تو گولیاں بھی بند ہو گئی۔۔۔۔
وہاں کھڑ ا شوٹر اب اُسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔۔۔
اس لیے گولی نہیں چلا رہا تھا۔۔۔
اُس نے اپنی گن نکالی اور پورا پیچھے ہو کر اگلی حرکت کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
کھڑکی میں گرل لگی تھی اس لیے باہر نکلنا یا اندر آنا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
چند سیکنڈ بعد اُسے بیڈروم کے دروازے کے قریب قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔وہ کھڑکی کے قریب سے ہٹ کر دروازے کے پاس دیوار سے لگ کر کھڑا ہوا گن پر گرفت مضبوط کرکے بلکل الرٹ۔۔۔۔
دروازے کا ایک پٹ کھول کر وہ شوٹر گن کو آگے کیے بہُت دھیان سے اندر بڑھنے لگا اور پورے کمرے میں نظر گھمائی تو اُسے کمرہ خالی نظر آیا۔۔۔۔تھوڑا سا آگے بڑھ کر مڑنے پر دیوار کی طرف اُسے ساحل نظر آیا لیکن اُس کے ٹریگر دبانے سے پہلے وہ ایک ساتھ تین فائر کر چکا تھا۔۔۔
اور چند لمحے مچلنے کے بعد وہ آدمی کھلی آنکھوں سے مردہ پڑا تھا۔۔۔۔
اُس نے گن نیچے کی اُس کی طرف بڑھا نیچے بیٹھ کر اُس کی نبض چیک کی جو بند ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
رینا کی لاش کو دیکھا اور
آنکھیں زور سے بند کرتے ہوئے اُنگلیاں بالوں میں پھنسائی۔۔۔۔۔۔
اُسے کوئی سراغ تو ملا نہیں تھا بلکہ جس سے مل سکتا تھا وہ مر چکی تھی اور اُسے مارنے والا بھی زندہ نہیں بچا تھا کے وہ اُس سےکچھ معلوم کرسکے لیکِن اتنا اُسے پتہ تھا کے رینا کا کانٹیکٹ اُس گروپ سے تھا جس تک اُسے پہنچنا تھا
بس وہ کنکٹ کیسے تھی یہ اُسے پتہ کرنا تھا۔۔۔
اُس نے شدت سے ذہن پر زور دیا۔۔۔
تو بند آنکھوں کے سامنے گھر کا وہ ایک ایک حصہ گھومنے لگا جس کی اُس نے تلاشی لی تھی۔۔۔۔۔ہر وہ کونہ جہاں سے وہ گزرا تھا ہر وہ چیز جسے اُس نے چھوا تھا۔۔۔
تبھی اُس کے سامنے ایک تصویر آئی جو ہر منظر سے کچھ زیادہ آنکھوں کے سامنے رکی رہی شاید اُس میں کوئی کمی بيشی تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا
وہ تصویر اسی بیڈروم۔کے باتھروم کی تھی جس میں وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایکدم سے آنکھیں کھولیں۔۔
اور اٹھ کر دوبارہ سے اس باتھروم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس تین فٹ کے آئینے کے سامنے آکر رکا اور بہُت غور سے اپنے عکس کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
اُس آئینے میں عکس کچھ صحیح نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
جیسے نارمل آئینے میں نظر آتا ہے اُس سے۔تھوڑا الگ تھا ۔۔۔۔درمیان سے تھوڑا زوم تھا۔۔
اُس نے ہاتھ سے پورے آئینے کو چھو کر دیکھا ۔۔۔۔۔اُس کے کارنر چیک کیے
اُس بڑے سے آئینے کو اُس جگہ سے ہٹا کر سائیڈ میں سلیپ پر رکھا اور چاروں اور سے اُس کی تفتیش کی۔۔۔۔
بہت غور سے دیکھنے پر اُسے آئینے کے نیچے کی کالی پٹی میں ایک چھوٹا سا کالا ہی چوکور بٹن دکھائی دیا۔۔۔
اُس بٹن کو پریس کیا تو وہ تھوڑا سا اندر ہوا۔۔۔۔
دوبارہ پریس کیا تو آئینہ درمیان میں سے کھل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس آئینے کے اندر بلکل الماری جیسی چھوٹی چھوٹی درازیں بنی ہوئی تھیں
اور اُن درازوں میں ایک لیپٹاپ موبائل اور کچھ کارڈز رکھے ہوئے۔۔۔۔
اُس نے ایک ایک کرکے ساری چیزیں باہر نکالی۔۔۔۔اور اُس آئینے کو بلکل خالی کرکے واپس پہلے جیسا کرکے اُسی جگہ لگا دیا اور جو چیزیں نکالی تھی اُنہیں اپنے ساتھ لے کر اُس گھر سے باہر نکلنے لگا
♦♦♦♦♦♦♦
وہ صبح اٹھی تو ذہن بہت اُلجھا ہوا تھا سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے وہ کب سو گئی تھی۔۔۔۔ساحل کو روکنے کےبعد اچانک اُسے نیند کیوں آگئی تھی۔۔۔۔
لیکن اتنا سوئی کے اب دھوپ چھت سے زمین پر برس رہی تھی نماز کا وقت بھی کب کا نکل چکا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن ساحل وہاں نہیں تھا۔۔۔۔
اُس کے دماغ میں خیال آیا کہ وہ اُس کے اتنے روکنے کے بعد چلا گیا۔تو آنکھیں اُداس ہو گئی۔۔۔۔
وہ پھر بھی کسی اُمید کے تحت اُسے دیکھنے باہر نکلی تو وہ آنگن میں موجود تھا۔۔۔۔بنا شرٹ کے زمین پر پش اپس کر رہا تھا۔۔
وہ اُسے دیکھ کر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔۔۔۔
ماما کےبیٹے تم رات کو یہیں تھے۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر خوش شاداب سی پوچھنے لگی۔۔۔۔تو ساحل رک کر اٹھ بیٹھا اور اُسے دیکھتے ہوئے اپنے ذہن کو پانچ منٹ پیچھے لے گیا۔۔۔۔
جب وہ گھر پہنچا تھا ۔۔۔
رات تو ساری باہر ہی گزری تھی۔۔
صبح تک رینا سے ملے ثبوتوں کو ٹٹولنے میں لگا ہوا تھا
گھر آیا تو بائیک دور ہی روک کر بھاگتا ہوا اندر پہنچا۔۔۔
لیکن دروازے سے ہی نین کو نیند سے اٹھ کر بیٹھے دیکھا تو قدم پیچھے لے لیے۔۔۔۔۔
باہر آکر فل سپیڈ میں شرٹ نکال کر پیڑ پر لٹکائی پانی کے چند چھینٹے چہرے پر مارے تاکے پسینہ نظر آئے اور
اُس کے باہر نکلنے سے پہلے زمین پر پش اپس کرنے لگا جیسے کب سے اسی کام میں لگا ہو۔۔۔
دیکھ کیا رہے ہو۔۔۔بولو نا۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموشی سے دیکھنے پر گھٹنو ں کے بل اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔
نہیں میں تو سویزر لینڈ میں تھا۔۔۔تیرے کو ہیپی انڈیپینڈینس ڈے بولنے آیا ہوں ادھر۔۔۔۔۔
اُس نے ہمیشہ کی طرح ٹیڑھا جواب دیا۔۔۔
نین نے اُسے گھورا اور اُس کی سرخ آنکھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
تمہاری آنکھیں اتنی لال کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ غور سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
رات بھر سویا نہیں تو۔۔۔۔۔
وہ بیچارگی سے کہتا کہتا رکا۔۔۔۔اور اُسے دیکھ کر سنبھلا۔۔۔۔۔
کیوں نہیں سوئے۔۔۔۔۔
نین نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
مچھر۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً سوچ کر جلدی سے کہا۔۔۔۔
لیکن مچھر تو مجھے نہیں دکھے۔۔۔۔۔
اُس نے ذہن پر زور دے کر کہا۔۔
تو۔۔۔۔۔تو۔۔تو۔۔اندھی ہے۔۔۔۔۔
اُسے کچھ نہیں سوجھا تو بگڑ کر بولا۔۔۔
ٹھیک ہے میں مورٹن آرڈر کردیتی ہوں۔۔۔۔
تاکے آج رات مچھر پریشان نا کرے تمہیں
اُس نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔
میری پریشانی کی اتنی فکر وہ بھی تے کو۔۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولتا دونوں ہتھیلیاں زمین پر ٹیکے پیچھے کوجھکا
مجھے کوئی فکر وکر نہیں ہے۔۔۔۔ بس میرے ہوتے ہوئے کوئی اور تمہارا خون چوسے مجھے پسند نہیں۔۔
نین نے آنکھیں گھما کر بے نیازی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے بھی فالتو جوک پسند نہیں ۔۔۔۔۔
ساحل اُسے گھور کے بولتا وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔
مجھے تو تمہاری شکل بھی پسند نہیں۔۔۔۔
اُسے اندر جاتے دیکھ وہ زور کی آواز میں اُسے سناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
اور ہنس کے وہاں سے اٹھی۔۔۔۔
ان اُسے یہ صبح خوبصورت لگنے لگی تھی
کچھ دیر بعد وہ نہا کے تھوڑی دیر سونے کے ارادے سے اندر آیا تو نین کو فون کان سے لگا کر کسی سے بات کرتے ہوئے سخت پریشان محسوس کیا۔۔
کیا ہوا اچانک اتنی گھبرائی کیوں ہے۔۔۔
فوراً اُس کے قریب آیا اور فون کان سے ہٹا کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
ساحل ۔۔۔۔۔۔بھابھی کا فون تھا۔۔۔داؤد کو گولی لگی ہے۔۔۔وہ ہاسپٹل میں ہے اور فلک۔۔۔۔۔فلک کو کِسی نے کڑنیپ کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے شدید گھبرائے ہوئے انداز میں اُسے جلدی جلدی بتایا تو وہ بھی سخت حیران ہوا۔۔۔۔
جلدی سے اپنا فون اٹھا کر آن کیا تو اُس پر سب کی ملا کر سینکڑوں مسكالس تھی۔۔۔
اُس نے افسوس سے مٹھیاں بھینچیں۔۔۔۔اُس کا فون کل شام سے بند تھا۔۔۔ورنہ اُسے یہ بات پہلے ہی معلوم ہوجاتی
ساحل فلک کو ہماری ضرورت ہوگی۔۔۔۔
اُسے کچھ ہو نا جائے۔۔۔۔
نین نے پریشانی سے کہا تو وہ جلدی سے شرٹ پہننے لگا
ایک کام کر تو ہاسپٹل جا۔۔۔۔میں بھابھی کو لے آؤں گا۔۔۔۔
اُسے بولتے ہوۓ شرٹ کے بٹن بند کیے نین نے سر ہلایا لیکِن جب اُسے کچھ نہ ہوجائے خیال آیا تو دل دھڑکتے دھڑکتے رکا۔۔۔
مجھے بھی اپنے ساتھ ہی لے چلو نا۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولی تو ساحل نے ایک لمحے کو پلٹ کر دیکھا اور پھر فوراً نظریں پھیر لیں
ابھی بحث نہیں تو ہاسپٹل جا۔۔۔۔۔
انکار کرتے ہوئے بائیک کی چابی اور موبائل اٹھا کے باہر نکلنے لگا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
چھوٹے سے گاؤں کی اس بڑی حویلی میں رونقوں کا سماں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔رنگوں کا میلا تھا۔۔۔ جیت کا جشن تھا۔۔۔سکندر کی جیت کا جشن
ایسا شاندار جشن جو دور دور تک نہ کبھی کسی نے سنا ہوگا نہ دیکھا ہوگا ۔۔آخر جیت بھی تو اتنی ہی بڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی شہروں اور ملکوں کی معروف ہستیاں اس جشن میں شامل تھی۔۔۔۔۔ہر نیوز چینل کے رپورٹر وہاں موجود تھے۔۔۔۔شاید اس وقت اس شادی سے بڑھ کر حیرت انگیز خبر کوئی نہیں ہونی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر وہ ساری دنیا کو اپنی کامیابی دکھانا چاہتا تھا
تمام کیمروں کا رخ حویلی کے دروازے پر تھا جہاں آف وہائٹ شیروانی میں سر پر نیلا سافہ باندھے باہر کی طرف بڑھتا اس شاہ خاندان کا وارث اس حویلی کی شان کسی ریاست کے راجا کی طرح معلوم ہوتا تھا
وہ راجا جو کوئی جنگ فتح کرکے لوٹا ہو اور فتح کی مسکراہٹ اس کے لبوں کو آزاد نہیں کر رہی۔۔۔
اس کی مغرور چال میں سرشاری تھی
اور گہری نیلی آنکھوں میں چمک ساری دنیا پا لینے کی۔۔۔۔۔۔۔
اس کے قدم منڈپ میں پڑے اور بجائے اپنی جگہ بیٹھنے کے وہ مقابل کے صوفے پر سرخ جوڑے میں سجی گھونگھٹ میں آنکھیں ڈھکے ۔۔فلک کے قریب بیٹھ گیا۔۔۔۔دوپٹے میں چھپے اس کے ہاتھ کی انگلیوں پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھتے ہوئے لبوں کی مسکراہٹ گہری کی اور مولوی کو نکاح پڑھانے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باپ بہادر شاہ نے اپنی موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سینے کو مزید وسیع کیا۔۔۔۔۔۔اور ماں نے اپنے بیٹے کی بلائیں لیتے ہوئے اپنی قیمتی آنچل کو سنوارا۔۔۔۔۔
فلک کے گھر والوں کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو وہ لوگ بھی حیران پریشان سے وہاں پہنچے۔۔۔۔
اُنہیں تو لگا تھا داؤد کے آنے سے اُن کی بیٹی کی بدنصیبی چھٹ گئی ہے لیکن آج وہ پھر وہیں کھڑی تھی جہاں سے بچنے کے لیے موت کو اپنانے تیار ہو گئی تھی۔۔۔۔
سکندر کے آدمیوں نے شمع اور اُس کے ماں باپ کو فلک تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔۔۔۔
مولوی نے پڑھنا شروع کیا اور شور سکوت میں بدلنے لگا
ہر نظر اس وقت اُن دونوں پر ٹہر گئی ۔۔۔
کوئی افسوس لیے۔ کوئی حسد لیے۔ کوئی ہمدردی لیے ۔۔کوئی حیرت لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کے اس نے اپنے لیے ایک معمولی لڑکی کو چنا۔۔۔ افسوس کے اس لڑکی کی قسمت اسے جیتے جی جہنم میں لیے آئی
حسد کے اس نے بہتر سے بہتر رئیس سے رئیس خوبصورت سے خوبصورت لڑکی پر اس عام لڑکی کو ترجیح دی
ہمدردی کے اس کا ساتھ اس لڑکی کے لئے کسی دیو کی قید جیسا تھا۔۔۔۔۔جہاں سے اب وہ کبھی آزاد نا ہو پاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
کیسا لگ رہا ہے ۔۔۔۔آج پھر اسی مقام پر ۔۔۔۔۔اپنے آپ کو میرے نام کرتے ہوئے۔۔۔۔۔”
اس نے اپنے مخصوص لہجے میں اس کے قریب سرگوشی کی۔۔لہجہ مسکراتا ہوا غرور کی حدوں کو چھو رہا تھا
۔۔اس کے بے جان بے حرکت وجود میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔۔۔۔۔محض دوپٹے کے پیچھے نم پلکیں جھپکیں۔۔۔۔۔۔
آنسُو بھی اب ختم ہو گئے تھی
کہیں پھر سے وہی تو نہیں سوچ رہی ہو ۔۔۔۔ جو پچھلی دفعہ کیا تھا
اس کا رخ سامنے تھا سر ہلکا سا اس کی جانب جھکا ہوا اور لہجے میں طنز تھا لبوں پر مسکراہٹ۔۔۔۔
اپنی بات پر فلک کی انگلیوں میں لرزش محسوس کرکے ہلکا سا ہنسا۔۔۔۔۔
ڈرو مت ڈارلنگ اب میں تمہارا دشمن نہیں محافظ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنسی اڑاتا دھیما لہجہ ۔۔۔۔۔۔فلک نے دھیرے سے اپنا ہاتھ سکندر کے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر گود میں رکھا
مولوی کے نکاح کی اجازت مانگنے پر سب اس کی جانب متوجہ ہوئے جو ہنوز چپ تھی ساکن تھی اس کی دوسری جانب کسی لڑکی نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے جواب دینے کا اشارہ کیا تو اس نے اپنے خشک گلے کو تر کیا
کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے تمہیں اپنی ہار قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے اس کے کان کے قریب پھر سے سرگوشی کی لیکن اس دفعہ لہجے میں زہر سی کڑواہٹ گھلی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ضبط سے آنکھیں بند کرلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ ہاسپٹل پہنچی تو کوریڈور میں سب سے آگے رابعہ بیگم کو دیکھا۔ جلدی سے اُن کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
بڑی مامی داؤد ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔
اُن کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا کوئی ناراضگی کوئی غصّہ یاد نہیں تھا صرف فکر تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں نین۔۔۔یہ لوگ کچھ نہیں بتا رہے۔۔۔۔نا مجھے میرے بیٹے سے ملنے دے رہے ہیں۔۔۔۔
رابعہ بیگم اُس کے پوچھتے ہی رونے لگ گئی۔۔۔نین کے دل کو کچھ ہوا۔۔
کچھ نہیں ہوگا بڑی مامی داؤد کو۔۔۔۔آپ ریلیکس ہوجائیں۔۔۔۔
اُس نے اُنہیں سمجھاتے ہوئے صوفےپر بیٹھایا اور تسلی دینے لگی
♦♦♦♦♦♦♦