Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 54
No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
ہم آپ کے ساتھ نہیں کھیلیں گے آپ چیٹر ہو۔۔۔۔۔
معصوم سی خوشی دونوں ہاتھ باندھے منہ پھلا کر بولی۔۔۔نین نے جلدی سے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھا
دھیرے یار۔۔۔۔۔۔کچرا کرواؤگے کیا تم لوگ میرا۔۔۔
کیا چیٹنگ کی میں نے۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے دونوں کو گھور کر بولی
آپ اپنی باری آنے پر بھاگ جاتی ہو۔۔۔۔۔۔
شانو نے بھی بدلے میں اُسے گھورتے ہوئے جتایا تو اُس نے زبان دانتوں میں دبائی
نہیں یار مجھے چکر آ گیا تھا اُس دن۔۔۔۔
وہ جلدی سے بہانا بناتی مسکرائی
ہر بار آپ ایک ہی بہانا بناتی ہو۔۔۔
خوشی منہ بنا کر بولی
اچھا اس بار نہیں بھاگوں گی نہ پلیز ایک چانس دو۔۔۔پرومس نہیں بھاگوں گی۔۔
وہ معصوم شکل بنا کر دونوں کان پکڑتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے لیکن پہلے آپکو ساحل چاچو سے دوستی کرنی پڑے گی۔۔۔۔
شانو نے اُس کے سامنے شرط رکھی جس پر اُس نے حیرت زدہ سے شکل بنائی
ہیں۔۔۔۔۔یہ کیا فالتو کی بات ہے۔۔۔۔ہم تینوں کی ٹیم میں تمہارا چاچو کدھر آگیا
تنک کر پوچھا
ممی نے بولا ہے کے آپ چاچو سے ہمیشہ کٹی رہتی ہے اس لیے آپ دونوں کو بٹی کرنا ہے اور ہمارے ساتھ کھیلنا ہے۔۔مل مل کے رہنا ہے جیسے ممی پاپا رہتے ہیں
خوشی نے اُس کے سوال کرنے پر رک رک کر کہتے ہوئے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ شانو کے چُپ رہنے کے اشارے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے۔۔۔دروازے سے باہر کھڑی عشرت اور شیرین دونوں نے اپنا سر پیٹ لیا۔۔
اُس نے آنکھیں سکیڑ کر دونوں کو باری باری دیکھا
وہ سمجھ گئی کے ضرور کوئی کھچڑی پکا رہی ہی دونوں بھابیاں
آپ بھی تو کہتی ہو نہ کے کٹی کرنا غلط بات ہے۔۔۔۔۔۔
شانو نے اُس کے دیکھنے پر کہا
اچھا دادا جی سمجھ گئی۔۔۔۔اب ہم کھیلیں۔۔۔۔۔
اُس نے دونوں کو ٹالنے کے انداز میں کہا اندر ہی اندر عشرت اور شیرین پر پیچ و تاب کھاتے ہوئے
خوشی پہلے چاچو کو لے کے آئے گی۔۔۔۔۔۔
خوشی اپنی مما کے دیے انسٹرکشن پر فرمابرداری سے عمل کرتی وہاں سے باہر بھاگی وہ روک بھی نہیں پائی
کیا کہا آپ کی مما اور چاچی نے۔۔۔۔۔
اب اُس کا رخ شانو کی طرف تھا۔۔۔
یہی کے آپ کی اور ساحل چاچو کی فرینڈ شپ کروانی ہے
اُس نے فوراً دروازے کی جانب دیکھا اور نین پلٹ کر اُس کی نظروں کا زاویہ سمجھتی اُس کے پہلے ہے عشرت شیرین چھپ چکی تھی۔۔۔
حالانکہ بچے اُن کی پول کھول چکے تھے لیکن پھر بھی دونوں کو اُمید تھی کے آج کامیابی مل ہی جائے گی۔۔
انہوں نے دادی کو بھی بلاوا بھیج دیا تھا کے وہ آئے اور دیکھیں نین ساحل کیسے ساتھ مل کے بچوں کے ساتھ انجوئے کر رہے ہیں بنا جھگڑا کیے
بھابھی لوگ نے ضرور کوئی الٹی پٹی پڑھائی ہے بچوں کو ابھی بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر سوچتی خطرناک انداز میں باہر کی جانب بڑھنے لگی کہ دروازے پر ہی اُس کی اور ساحل کی خطرناک ٹکر ہوئی۔۔۔جس کے باعث وہ گرتے گرتے سنبھلی۔۔
چہرے سے ہی نظر آرہا تھا کے وہ خوشی کی وجہ سے سخت گہری نیند سے جاگ کر آیا ہے۔۔۔۔آنکھیں زبردستی کھلی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
اندھے کہیں کے دیکھ کر نہیں چل سکتے۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں کیا شو کے لیے رکھی ہُوئی ہے۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس پر برس پڑی
دیکھنے کو ہی ہے۔۔۔۔۔ لیکِن سامنے شکل بھی تو دیکھنے لائق ہو۔۔۔۔۔
وہ جمائی روک کر بیزاری سے بولا
کیا کہا تم نے میری شکل دیکھنے لائق نہیں ہے۔۔۔۔
خود کو دیکھا ہے غور سے لنگور کہیں کے
وہ بھڑک کر بولی ۔۔۔۔۔۔
اے شانی ۔۔۔۔زبان سنبھال ورنہ کھینچ کر پھینک دوں گا۔۔۔۔۔بول رہا ہوں ہاں۔۔۔
وہ اُس کے لنگور کہنے پر غصے سے بولا۔۔۔عشرت اور شیرین نے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔
چندا ایک ہاتھ سے جھاڑو سنبھال کر دادی کو سہارا دیے اوپر لے کر آرہی تھی۔۔
ہاتھ تو لگا کے دکھاؤ تمہارا قیمہ نا بنا دیا تو میرا نام نین تارا نہیں۔۔۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے قیمہ بنانے کی حرکت کرتی بولی
دونوں بچے ساکت سے روبوٹ کی طرح نین کے بولنے پر نین کو ساحل کر بولنے پر ساحل کو دیکھ رہے تھے
تو مجھے شکل سے ہی کسی قصائی کے خاندان کی لگتی ہے
ساحل۔نے گرن ہلا کر اُسے سر سے پیر تک دیکھا۔۔۔۔
اپنی شکل دیکھی ہے کبھی آئینے میں۔۔۔۔۔۔
وہ منہ کھول کر حیران ہوتی ناگواری سے بولی
روز دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔نوابوں جیسی ہے۔۔۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر شان سے بولا
ہاں۔۔۔ نوابوں کے خانساماں جیسی۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اُن کی بھی تھوڑی اچھی ہی ہوگی تم سے۔۔۔
وہ اُس کی ہنسی اڑاتے ہوئے بولی
نین عشرت اور دادی کے ساتھ چندا بھی دروازے پر کھڑی تھی سب بت بنے دونوں کو دیکھ رہے تھے
تو اُن میں سے کسی کو پکڑتی نا میری زندگی کائکو اُجاڑی۔۔۔
وہ غصے میں بولا
کرم پھوٹ گئے تھے میرے۔۔۔۔۔۔جو تم سے شادی کرکے اپنا اتنا بڑا نقصان کر لیا
اُس نے سر پر ہاتھ مار کر افسوس جتاتے ہوئے کہا
لیکِن تُجھ سے شادی کرکے اپن کا ایک بہت بڑا فائدہ ہوا ہے ۔۔۔۔
ساحل پرسوچ انداز میں بولا
کونسا۔۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتے ہوئے پوچھا
سارے گناہوں کی سزا جیتے جی ہی مل گی
وہ اُس کی طرف دیکھ کر شکر منانے والے انداز میں بولا
نین کا منہ پورا کھل گيا
بندر کیا جانے ادرک کر سواد۔۔۔۔تمہیں اندازہ بھی نہیں کے میرے لیے کتنی دور دور کے رشتے آتے تھے۔۔۔۔۔
وہ اُسےناگواری سے گھور کر بولی
پاس والے تیرے کو جانتے ہوں گے نا۔۔۔۔اسلئے دور سے آتے تھے۔۔
وہ ہنسا۔۔۔۔۔
تُم بھی اچھے سے جانتے ہو ماما کے بیٹے کے پوری دنیا میں بھی تمہیں دوسری مجھ جیسی کوئی نہیں مل سکتی۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر جتاتے ہوئے بولی
تجھے کیا لگتا ہے میں دوسری بھی تیرے جیسی ہی ڈھونڈوں گا۔۔۔ابے ہٹ
اُس نے بیزاری سے کہتے سر جھٹکا۔۔۔نین کو تو آگ ہی لگ گئی
بس بہُت ہوگیا اب منہ بند کرلو ورنہ۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورتی اُنگلی اٹھا کر بولی
ورنہ کیا کریگی۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ابرو اٹھا کر اُسے گھورتے ہوئے ٹی شرٹ کی آدھی آستین مزید اوپر چڑھائی قدم اُس کی طرف بڑھایا
نین تو شاید آج اُس کے ڈولوں سے بھی ڈرنے والی نہیں تھی
آس پاس نظر دوڑائی اور چندا کو جھاڑو پکڑے کھڑی دیکھ آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ سے جھاڑو جھپٹ لی۔۔۔
چندا کے صدمے میں تب بھی فرق نہیں پڑا۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور دادی نے سر تھام لیا
دونوں بچے بھاگ کر اپنی اپنی ماں سے لپٹ گئے
وہ خوںخوار نظروں سے اُسے دیکھ کر جھاڑو کا ڈنڈا ہتھیلی پر بجاتی اُس کی طرف بڑھی تو وہ حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
ساحل نے سر ہلا کر نفی کا اشارہ کیا لیکن نین کے بعض نہ آنے والے تیور دیکھ اُس کے جھاڑو پکڑ کے ہوا میں مارتے ہی اچھل کر پیچھے ہوا۔۔۔۔
دیکھ منہ سے بات کر سمجھی نا۔۔۔
وہ اُسے وارن کرنے والے۔انداز میں بولتا پیچھے ہوتا گیا
تمہارے دِماغ کا کچرا یہ جھاڑو ہی صاف کریگی آج۔۔۔
وہ سر ہلا کر کہتی اُس کی طرف بڑھی تو وہ بھاگ کر دور ہوا
اور اگلے دو منٹ تک آگے آگے ساحل اور پیچھے پیچھے نین دونوں بھاگ بھاگ کر پورے کمرے کے چکّر کاٹ کر بچوں کے روم۔کا ستیاناس کر چکے تھے۔۔
ساتھ ہی اُن کی زبانی جنگ بھی جاری تھی۔۔۔
دادی کی روکنے کے لیے نکلی آواز بلکل دب چکی تھی اُن کے شور میں
آخر میں وہ بھاگتا ہوا دادی کی طرف بڑھا اور اُنہیں اپنی ڈھال بنا کر۔قدم۔روکتے ہوئے سانس لی۔۔۔۔
نین بھی پھولتی سانسوں کو کنٹرول کرتی اُس کی طرف بڑھی۔۔۔ دادی۔کے سائیڈ سے ہو کر اُسے مرنے دوڑتی لیکِن اُنہوں نے روک دیا
بس کرو دونوں۔۔۔۔۔
دادی نے غصے سے دونوں کو گھرکا ۔۔۔۔اور نین کے ہاتھ سے جھاڑو چھین کر چندا کو تھمائی
وہ دونوں ایک دوسرے کو گھورنے میں مصروف تھے
تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔
دادی نے نین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور اُسے اپنے ساتھ لے گئی تاکہ پھر جنگ نا شروع ہو جائے
لیکِن وہ جاتے جاتے بھی اُسے زبان دکھانا نہیں بھولی
∆∆∆∆∆
لگتا ہے کڑے ہمیں کبھی نہیں ملنے ۔۔۔۔ہم کچھ بھی کر لیں ان دونوں کا لڑنا بند نہیں ہوگا
شیرین ہاتھ پر چہرہ ٹکائے سیڑھیوں پر بیٹھی تھی عشرت کو۔ آتے دیکھ گرل سے سر لگائے رونی صورت بنا کر بولی
عشرت مسکرا کر اُس کے پاس بیٹھ گئی
میں تو کہتی ہوں جا کر دونوں کے پیر پکڑ لیتے ہیں کے اللہ کے واسطے لڑنا چھوڑ دو۔۔۔۔
وہ بے بسی سے کہتی مصنوعی آنسو پونچھنے لگی
تم بہت جلدی نا اُمید ہوجاتی ہو۔۔۔۔ابھی میں جو کرکے آئی ہوں نہ اُس کے بعد تو لڑنے کا کوئی چانس نہیں۔۔۔۔
عشرت دونوں ہاتھوں سے دھول جھاڑتے ہوئے فخر سے بولی
کیا کرکے آئی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے حیرت سے اُسے دیکھا
میں نے اور فلک نے دونوں کو ایک ساتھ باتھروم میں بند کر دیا ہے۔۔۔۔
عشرت پوری اُس کی طرف رخ کرکے ایکسائٹڈ سی بولی
کیسے۔۔۔۔۔۔
شیرین کی منہ اور آنکھیں دونوں کھل گیے
ساحل نے حبیب سے کہا کہ اُن کے باتھروم کا اندر کا لاک خراب ہو گیا ہے اس لیے پلمبر کو بلائے
اُس وقت میں نے سن لیا تھا۔۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔
شیرین نے درمیان نے بیتابی سے پوچھا
پھر میں نے فلک سے کہا نین کے اوپر جوس گرا دے اب وہ باتھرُوم میں گئی ہے اور ساحل اندر ہے۔۔۔۔۔
میں نے فلک کو بول دیا ہے جیسے ہی نین اندر جائے باہر والی کنڈی لگا دینا۔۔۔
وہ ہنسی روکتے ہوئے بتانے لگی شیرین بھی اچانک سے کھل گئی
نین کو ویسے بھی اُن دونوں پر شک ہو گیا تھا اس لیے عشرت نے فلک کا سہارا لیا۔۔۔
فلک کے یہ کام کرتے ہوئے چھکے چھوٹ گئے تھے
یہ آئیڈیا ملا کہاں سے تمہیں۔۔۔
شیرین نے داد دینے والے انداز میں پوچھا
فلموں میں دیکھا ہے یار۔۔۔ہیرو ہیروئن زیادہ رومینٹک باتھروم میں ہی ہوتے ہے۔۔۔۔۔
عشرت شرماتے ہوئے بولی
ہاں یہ تو ہے۔۔۔۔۔۔لیکِن ہم یہاں کیا کر رہے ہیں دادی کو لے چلتے ہے نہ۔۔۔۔
شیرین نے جلدی سے کہا
وہی تو دادی نہیں آرہی ہے سخت غصے میں ہے وہ۔۔۔۔
عشرت نے منہ بنا کر بتایا
ہم نا اُن کی باتیں ریکارڈ کرکے سنا دینگے دادی کو۔۔۔۔۔
شیرین نے دوسرا آئیڈیا بتایا
ہاں۔یہ صحیح ہے چلو جلدی۔۔۔۔۔
عشرت اُس کے آئیڈیا پر سر ہلاتے ہوئے کہا اور دونوں اٹھ کر اوپر کی طرف بڑھیں
∆∆∆∆∆∆
چھی کتنا گندا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی پنک شرٹ کے گلے سے نیچے تک بنے یلو نشان کو دیکھتی ہوئی منہ بنا کر بڑبڑاتی واشروم کی طرف بڑھی
اُس کی بیزار سی آواز اور دروازہ کھلنے پر ساحل بری طرح ہڑبڑا گیا اور جلدی سے ٹاول کھینچ کر صابن لگے بدن پر ہی باندھنے لگا۔۔۔
نین شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے آگے بڑھتی گئی اور وہ منہ کھولے اُسے دیکھتا رہ گیا ۔۔صدمے سے آواز تک نہیں نکلی۔۔۔
اُس نے تیسرا بٹن کھولتے ہوئے کسی احساس کے تحت سر اٹھایا تو آنکھیں حیرت سے پھٹی اور منہ سے خوفناک چینخ نکلی
آ آ آ آ آ آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کو دیکھتی حلق کے بل اتنی تیز چلائی کے ساحل کا دماغ تک ہل گیا۔۔۔اور یقیناً باتھروم کی چھت بھی
چینخ اتنی لمبی تھی کے رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی وہ بھاگ کر آگے بڑھا چار قدم کی دوری مٹائی اور ایک ہاتھ اُس کی گردن پر رکھے دوسرے سے منہ سختی سے بند کیا۔۔۔۔۔۔۔
ایڑی چلا کائے کو رہی ہے۔۔سب کیا سمجھے گے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دانت پیس کر بولا۔۔
نین نے زور سے جھٹک کر اُس کا ہاتھ منہ سے ہٹایا اور پیچھے ہُوئی
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صدمے سے بولی پلکیں حیرت سے جھپکتے ہوئے۔
کھسكيلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ آدمی صابن لگا کر شاور کے نیچے کھڑا کیا کر سکتا ہے۔۔تیری عقل کے حساب سے بتا
۔۔۔۔
وہ اُس کی عقل پر ماتم کرتا تاسف سے بولا نین نے اُسے سر سے پیر تک بس اميجن کرکے ہی منہ پھیر لیا۔۔۔دیکھنے کی نوبت بھی نہیں آئی
دروازہ لاک نہیں کر سکتے تھے تم۔۔۔
وہ منہ پھیر کر غصے سے بولی
لاک خراب ہے اُس کا ۔۔۔۔۔تو نکل نا باہر۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا
ہاں جا ہی رہی ہوں مجھے بھی کوئی شوق نہیں تمہیں نہاتے دیکھنے کا۔۔۔۔۔۔
وہ ناگواری سے کہتی شرٹ کے بٹن بند کرتی آگے بڑھ کر دروازہ کھولنے لگی لیکِن دروازہ اُسکی کوشش کے بعد بھی نہیں کھلا
یہ دروازہ كھل کیوں نہیں رہا۔۔۔
وہ ہینڈل کو بار بار پریس کرتی حیرت سے بولی
پیچھے ہو۔۔۔۔۔۔
ساحل نے آگے بڑھ کر اُسے سائیڈ پر ہونے کو کہا وہ بنا اُس کی طرف دیکھے ایک سائیڈ ہو گی ساحل نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا
باہر سے بند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر بولا نین نے حیرت سے منہ کھولے اُسے دیکھا اور دروازہ بجانے لگی
کوئی ہے کھولو دروازہ۔۔۔۔۔۔
اُس کے زور زور سے دروازہ بجانے پر جہاں عشرت اور شیرین ہنس رہی تھی وہیں فلک بری طرح گھبرا رہی تھی
وہ تو دروازہ کھولنے بڑھ بھی گئی لیکن عشرت اور شیرین دونوں نے ایک ایک بازو پکڑ کے اُسے کھینچ لیا
نین کے دروازہ پیٹنے پر بھی نہیں کھلا تو اُس نے ہاتھ روک کر ساحل کی جانب دیکھا اور اُسے گھورتی گئی
ایسے دیکھ کیا رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے پر سر کو جنبش دے کر پوچھنے لگا
سچ سچ بتاؤ کیا سازش کی ہے تم نے میرے خلاف۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے کی شکل کو مشکوک نظروں سے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی
اُس کی بات پر اب ساحل نے اُسے گھورنا ضروری سمجھا
ایسے کیا گھور رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ آگے سے بھڑک اٹھی
یہاں تو بلکل بھی آواز نہیں آرہی ہے کیسا بوگز پلان بنایا تھا تم نے۔۔۔
شیرین ہاتھ میں فون پکڑے اِنتظار میں کھڑی تھی عشرت بھی کان لگا کر سننے کی کوشش میں تھی لیکن آواز باتھروم سے باہر تک آہی نہیں رہی تھی
مجھے کیا پتہ تھا لیکن پھر بھی اندر کچھ تو ہو رہا ہوگا نا۔۔ایک منٹ
عشرت نے سوچتے ہوئے آگے بڑھ کر بہت دھیرے سے دروازہ کھول دیا۔۔۔
بولو نا کیا ہے۔۔۔۔۔
نین نے دوبارہ پوچھا تھا
ا
دروازہ ایک انچ کھلا تھا اندر کا کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن آواز اب و لوگ سن سکتے تھے
کہیں میری خوبصورتی دیکھ کر تمہارے اندر کا شیطان تو نہیں جاگ گیا نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کے سنجیدگی سے گھورنے پر شرٹ کو گلے کے پاس سے پکڑتی ہو بولی۔۔
عشرت اور شیرین کی بھی آنکھیں کھل گئی ۔۔
فلک نے خشک گلے کو تر کیا
اور وہاں ساحل نے اُس کی ایکٹنگ پر اپنا سر پکڑلیا
سر پکڑ کر کیا کھڑے ہو۔۔۔دیکھو ماما کے بیٹے میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت کرنے کی سوچنا بھی مت۔۔
ورنہ کل کی بریکنگ نیوز ہوگی کے ایک آدمی نہاتے نہاتے بنا کپڑوں کے ہی قتل کر دیا گیا۔۔۔
وہ اُسے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کھڑے دیکھ دھمکی دینے والے انداز میں بولی۔۔۔
ساحل نے ایکدم سے نظریں اٹھا کر اُسے ایسے گھورا کے وہ فوراً مسکرانے پر مجبور ہوئی
مذاق کر رہی ہوں۔۔۔۔اب اتنے بھی بڑے کمینے تھوڑی ہو تم۔۔۔۔پتہ ہے مجھے۔۔۔۔۔
وہ زبردستی کا ہنستے ہوئے بولی
دیکھ تو مجھے شانتی سے جینے نہیں دیتی سونے نہیں دیتی کم سے کم سکون سے نہانے تو دے۔۔۔۔۔
وہ بیزاری و بےبسی سے بولا بدن پر لگا صابن بھی سوکھنے لگا تھا
میں۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں شانتی سے نہیں جینے دیتی ۔۔۔۔اتنا بڑا الزام مجھ پر۔۔۔۔۔۔
سکون تو تم نے میرا برباد کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
پھر بھی مجال ہی جو میں نے کبھی افف بھی کیا ہو
وہ حیرت و بے یقینی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔
معصومیت کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اُسکے تاثرات اتنے خوبصورت تھے کے ساحل کے لب مسکرائے
عشرت اور شیرین نے ایک دوسرے کو دیکھا اور رونے لگ گئی ۔۔کیوں کے اُن کی ہر کوشش کے باوجود وہاں جھگڑا ہی ہو رہا تھا
بھابھی۔۔۔۔آپ دونوں رو کیوں رہی ہے
فلک دونوں کو روتے دیکھ بری طرح بوکھلا گئی۔۔۔
لگتا ہے ہماری خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔۔۔۔۔
دونوں نے باتھ روم کے دروازے کو حسرت سے دیکھا اور تھکے تھکے قدموں سے روم سے باہر جانے لگی
فلک بھی اُن دونوں کے پیچھے باہر نکل گئی
ہنس رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے مسکراتا دیکھ گھور کر بولی۔۔۔ اُس نے سنجیدہ ہونے کی بجائے کھل کر مسکراتے ہوئے اُس کے چہرے سے نظریں پھیریں۔۔۔
نین نے اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر ہینڈ شاور اٹھایا اور اُس کے منہ کے قریب کرکے چلا دیا۔
یہ لو۔۔۔۔۔
اُس کے منہ پر پانی کی بوچھاڑ پڑی تو وہ ایک پل کو بوکھلا گیا اور حیرت زدہ سا اُسے دیکھنے لگا
لیکِن اگلے ہی پل سنبھل کر زیرِ لب مسکرایا۔۔۔۔۔۔
اُس کی طرف دیکھتے ہوئے چہرے پر پڑتی بارش کو انجوئے کرتے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر نین کو ونک دی۔۔۔
اُس کے آنکھ مارنے پر وہ صدمے سے اُسے دیکھتی رہ گئی ہینڈ شاور اُس کے ہاتھ سے چھوٹا لیکِن زمین پر گرنے سے پہلے ہی ساحل نے ہاتھ نیچے کرکے اُسے کیچ کر لیا اور اُس کا رخ نین کی طرف کر دیا
راؤڈی یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ اچھل پڑی۔۔ساحل اُس کے سر اور چہرے پر پانی برسانے لگا ۔۔وہ دائیں ہو کر بچتی تو شاور کا رخ دائیں ہوجاتا۔۔۔۔بائیں ہوتی تو بائیں ہوجاتا۔۔۔
پانی کے زور سے ہیئر کلپ میں بندھے بال بھی کھل کر بکھرنے لگے
اُس کے لیے بول پانا بھی مشکل ہو رہا تھا اور ساحل کو روکنا ناممکن
وہ اُس کی جھنجھلاہٹ سے محظوظ ہوتا شاور کو اُس کے ہاتھ کی پہنچ سے بچائے رکھے اُسے بھیگتا دیکھ رہا تھا کےلب مسکراتے مسکراتے دھیرے سے تھم گئے ۔۔۔
شرارت بھری نظریں سنجیدہ ہو کر اُس کے بھیگے مرمری وجود پر ٹہر گئیں۔۔۔۔۔۔۔
دل رفتار سے بھٹکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
لگا زمین کی گردش تھم سی گئی ہو
بےخودی سی ذہن پر چھا گئی
جس کے زیرِ اثر شاور والا ہاتھ خود بخود نیچے ہو گیا۔۔
نین نے آنکھیں سختی سے میچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔پانی بند ہونے کے بعد بھی وہ ساکت کھڑی تھی
اور ساحل سب کچھ بھول کر اُسے دیکھنے میں مصروف تھا
بھیگی پلکوں سے موتی ٹوٹ کر گر رہے تھے
بھیگے گلابی لبوں پر ٹھہری پانی کی بوندیں تازہ گلاب پر چمکتی شبنم کی مانند تھی۔۔۔
جنہیں چھونے کا تصور کیا تو لگا لب دھنس جائے گے
شفاف گردن کو چھو کر گزرتا ان دیکھی لکیر بناتا پانی گلابی شرٹ کے گلے سے اندر اُتر رہا تھا۔۔۔
بھیگے دلکش بدن کے واضح نشیب و فراز۔۔۔
بھاری آہوں سے سینے میں مچلتی سانسیں۔۔۔
اور احساسِ فراواں سے لرزتا گلزار بدن۔۔۔۔۔
کِسی طلسم سے کم نہیں تھا۔۔۔۔
ایک انوکھی خوشبو تھی جو ساحل کے گرد حصار بنا کر اُسے قید کر رہی تھی
اُس خوشبو میں نشہ تھا جو حواسوں کو مدھوش کرکے تشنگی کو بڑھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
احساسِ طلب کو جگا رہا تھا۔
جذباتِ دل کو بڑھا رہا تھا
نین نے چند لمحے سکون سے گزرنے کے بعد آنکھیں کھولیں اور اُسے ایک نظر گھور کر خود کی حالت پر غور کرنے لگی۔۔بنا اُس کی کیفیت کا اندازہ لگائیے
جو دم بخود سا اُسے دیکھ رہا تھا
قیامت خیز بھیگا بدن آگ کی طرح تھا جو اپنی لپٹوں سے اُس کے جذبات کو سلگانے کا کام کر رہا تھا
سن۔۔۔۔۔
اُس نے بے خود بے ساختہ اُسے آواز دی۔۔۔لب بہُت دھیرے سے ہلے
نین نے سر اٹھا کر اُسے غصے سے گھورا
بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ مدھوش سے لب و انداز میں بولا اُس کی گہری نظروں کے ارتکاز پر نین کو کچھ عجیب سا لگا۔۔۔دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔
اُس نے پلکیں جھکا کر آہستہ سے شرٹ کی ایک سائیڈ کو کھینچ کر کھلے گلے کو ڈھکنے کی سعی کی اور نچلے لب کو دانتوں میں دباکر چھوڑا
وہ اُس کی ایک ایک حرکت کو دل تھامے بس دیکھتا رہ گیا۔۔
یہ تمہیں کوئی تعریفیں کرنے والی سچویشن لگتی ہے ۔۔۔۔
وہ ہچکچا کر اُسے دیکھتی حیرت و لاپرواہی سے بولی
اور تھوڑی دیر پہلے تو تم کہہ رہے تھے تیری شکل دیکھنے لائق نہیں ہے
وہ کچھ سنبھل کر اُسے گھورتی ہوئی بولی لہجے میں بہادری بھی تھی اور گھبراہٹ بھی تھی
وہ گہری سانس خارج کرکے مسکرایا ۔۔۔اور شاور کو پیچھے دیوار کے ساتھ ہینگ کیا
وہ تو میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے میں پر زور دے کر بولا
اور یہ کون کہہ رہا ہے۔۔۔۔
نین نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔ایک نظر پیشانی پر بکھرے بھیگے بالوں کو دیکھا جن سے پانی کی بوندیں وقفے وقفے سے گر رہیں تھیں
میرا دل۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیرے سے کہا ۔اُسے گمبھیر نظروں سے دیکھتے ہوئے۔۔
تمہارا دل بہُت اُبل رہا ہے آجکل بات بات میں بول۔رہا ہے۔۔۔
وہ اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
تیرے کو دیکھ کر دل کا دماغ خراب ہوجاتا ہے
وہ مسکرایا ۔۔ڈمپل ہلکا سا واضح ہوا اُس کی بات پر نین کی دھڑکنیں بے چین سے ہوئی
ہوش میں تو ہو تم۔۔۔
وہ ناگواری لہجے میں سمو کر نظریں چرائے بولی
اتنی سٹرانگ چڑھنے کے بعد کون ہوش میں رہتا ہے۔۔۔
ساحل نے معنی خیز لہجے میں کہہ کر مسکرا تے نچلا لب دانتوں میں دبایا
کل رات بھی بہت الٹی سیدھی باتیں کی تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو وائلڈ مین میرے ساتھ یہ ایل ایل حرکتیں مت کیا کرو سمجھے۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھورنے لگی حلق تر کرتے ہوئے۔۔۔۔
۔رات تو اُس کی باتوں کو مزاق سمجھ کر وہ فراموش کر چکی تھی لیکن اب اُس کے تیور دیکھ دل حلق کو آرہا تھا۔۔۔
ایل ایل حرکت اُسے نہیں کہتے۔۔۔
ساحل نے برا مانتے ہوئے اُسے جتاکر کہا
پھر کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا ۔۔۔
وہ دیکھ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر اوپر اشارہ کیا چھت اور دیوار کو جوڑنے والی لکیر پر۔۔۔
نین نے بھی تیزی سے گردن موڈی جیسے واقعی وہاں اُس کے سوال کا جواب ہے۔۔۔۔۔
اُس کی نظریں اور دھیان اوپر ہوتے ہی ساحل نے آگے بڑھ کر ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھا اور جھک کر لبوں سے اُس کے گال کو چھوا کان کے بے حد قریب۔۔۔۔۔
نین سانس تک لینا بھول گئی۔۔۔۔جہاں کی وہاں ٹہر گئی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہی پیٹ کو سانس کھینچ کر اندر بھینچ لیا۔۔
نرم لبوں کا دہکتا لمس محسوس کر کے دھڑکن رک گئی۔
اور سانسیں کان پر محسوس کرکے پورے بدن میں ایک سرد لہر دوڑ گئی
اُس نے صدمے سے نکلنے کی کوشش کرتے نظریں اور پھر چہرے کا رخ اُس کی جانب کیا وہ اُس کے بے حد قریب تھا ہاتھ اب تک اُس کے پیٹ پر رکھے ہوئے تھا جس کے باعث وہ سانس لینے سے بھی گھبرا رہی تھی۔۔۔
کک کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔ تھا۔۔یہ۔۔۔۔
وہ اپنے بے حد قریب اُس کا چہرہ اُس کی مسکراتی نظریں دیکھ بمشکل بول پائی
جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے چاہت بھری نظروں سے اُس کی آنکھوں اور لرزتے لبوں کو دیکھ کر کہا۔۔
نین کی دھڑکنیں اتنی تیز تھی کے اُسے لگ رہا تھا پورے گھر میں اُن کی آواز گونج رہی ہوگی۔۔پہلی دفعہ وہ کچھ ایسا محسوس کر رہی تھی
ساحل کی بے باک نظروں نے اُس کے لبوں کو چھوا تو اُس نے گھبرا کر اپنے لب بھینچ لیے اور اُس کا ہاتھ خود سے جھٹک کر خفت اور شرم سے سرخ ہوتی بے ترتیب سانسیں لینے لگی
کیا۔۔۔۔۔۔کیا سمجھتے کیا ہو تم۔۔۔۔خ خود کو۔۔۔۔شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔۔ایسے کرتا ہے کوئی۔۔۔
وہ بری طرح گھبرائی۔۔
تو پھر کیسے کرتے ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے انجان بنتے ہوئے کہا اور اُس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی
اُس کی گردن پر ہاتھ رکھے جھک کر دوسری جانب کے گال پر کِس کیا۔۔۔
لبوں کے بلکل قریب۔۔
نین کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئی۔۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر گرنے کو ہوئی تو ساحل نے کمر میں ہاتھ ڈالے اُسے سنبھال کر خود سے لگایا
نین نے اپنی ہتھیلی اُس کے دھڑکتے دل پر رکھی تو ساحل نے لب آہستہ سے گال سے ہٹائے
ایسے۔۔۔۔۔۔
وہ معمولی سا پیچھے ہوا اُس کے چہرے سے بھیگے بال ہٹا تے ہوئے شدتِ جذبات سے دہکتی نگاہوں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔
وہ تو مانو قومہ میں جا چکی تھی۔۔۔نا ہوش تھا نہ حواس۔۔۔۔۔
اُس کے حصار میں اُس کے سہارے سے کھڑی تھی۔۔۔۔
ہتھیلی اُسنکے سینے پر رکھے
ساکت سی مورت بن کر اُسے دیکھ رہی تھی
ساحل نے گہری سنجیدہ نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے اُس کے لرزتے لبوں کو اُنگلیوں سے چھوا تو وہ پوری جان سے کانپ گئی ۔۔۔۔
پورے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔۔۔و ہوش میں آئے زور سے اُسے پیچھے دھکیل دیا اور لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کی طرف بھاگی
وہ اُسے جاتے دیکھ کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دلکشی سے مسکرایا
نین کی قسمت تھی کے دروازہ کھلا ہوا تھا وہ جلدی سے باہر نکل گئی اور بھیگے بدن سمیت ہی بستر پر گر کر دل پر ہاتھ رکھے تیز تیز سانسیں لینے لگی
اُسے اندازہ بھی نہیں تھا کے اُس کی حالت ایسی کیوں ہو رہی ہے ۔۔
