Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

Episode 39
وہ پھر سے اذان کی آواز سن کر کانوں پرہاتھ رکھ کے بیٹھی تھی۔۔۔۔
داؤد کی آنکھ کھلی اور اُسے خوفزدہ پریشان دیکھا تو جلدی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
کیا ہوا فلک تم ٹھیک ہو۔۔۔,۔۔
اُس کے کان سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا اُس نے بھیگی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔۔
اُس کے تاثرات دیکھ کر داؤد کو اندازا ہوا کے وہ اذان کی آواز سن کر مضطرب ہو رہی ہے
اذان سن کر اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو تم۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگا
دل نماز کے لیے آواز دے رہا ہے لیکِن میں کیا کروں میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہوں اب۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے بھیگے لہجے میں بولی
تم نے کیسے جانا کے تم قابل نہیں ہو ۔۔۔۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے پوچھا
خدا ایک ناپاک وجود کی عبادت کبھی قبول نہیں کریگا
اُس نے داؤد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا
وہ ہم میں سے کس کو قبول کرتا ہے کس کو نہیں یہ صرف وہ جانتا ہے۔۔۔اس کا فیصلہ میں یا تم نہیں کر سکتے فلک
وہ اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولا
یہ لوگ جو پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہے۔۔۔
دِن رات دین و اسلام۔ کی باتیں کرتے ہیں کیا ہمیں معلوم ہے اُن میں سے کون نیک کون گناہ گار ہے۔۔کون پاک ہے کون نا پاک ہے۔۔۔۔
وہ سب اُس کے آگے اپنے گناہوں کو جانتے ہوئے بھی جھکتے ہے کیوں کے اُنہیں معلوم ہے خدا سب کو یہ حق دیتا ہے
وہ اُسے سمجھاتے ہوئے بولا فلک کی نظریں ہنوز جهکی ہوئی تھی
جو لاکھوں گناہ کرکے خدا کے سامنے سر جھکاتے ہیں
وہ اُنہیں بھی نہیں دھتکار تا
اگر کافر بھی توبہ کے لیے اُس کے در پر آئے
تو وہ اُسے بھی نہیں دھتکار تا
تو تم نے کیوں سوچ لیا کے وہ تمہاری عبادت قبول نہیں کریگا۔۔۔
اور تم نے کیوں سوچ لیا کے تم ناپاک ہو۔۔۔۔
گناہ کسی اور کا اور سزا تمہیں ملے۔۔۔
یہ دنیا کا انصاف ہو سکتا ہے خدا کا نہیں۔۔۔
اُس کے لیے میں تم سب برابر ہے۔۔۔۔
وہ بے حد نرمی سے اُسے سمجھانے لگا فلک اُسے دیکھتی اُس کی باتوں کو ذہن نشین کرکے اپنی سوچ کو نفی کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔آخر اُس کی بات میں حقیقت تھی ۔۔۔
آئندہ تم کبھی یہ خیال اپنے دل میں مت آنے دینا۔کے وہ تمہیں قبول نہیں کریگا
اس طرح تو تم اللہ کو ناراض کر رہی ہو۔۔
ایک بار نماز پڑ کر دیکھو تمہارے دل کے سارے خدشے مٹ جائے گے۔۔۔۔۔ساری بے سکونی ختم ہوجائے گی
وہ مسکرا کر اُس کی آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے بولا اور اُسے قریب کرکے اپنے سینے سے لگایا
∆∆∆∆∆∆∆∆
ساحل کے بڑبڑانے کی آواز پر اُس نے بیزاری سے آنکھیں کھولیں۔۔۔زہن بلکل تازہ تھا گزری کوئی کڑوی بات یاد نہیں تھی
گہری نیند کے زیرِ اثر خود کو انجان کمرے میں پا کر ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔۔اور اپنے ساتھ بیڈ پر ساحل کو سوتے دیکھ حیرت سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
ایک پل کو اُس کے کمرے میں ہونے کا صدمہ لگا تھا لیکِن پھر یاد آگیا کے اب یہ نا مراد راؤڈی ہی تو اُس کا شوہر ہے تو سکون کی سانس لی
نئیں۔۔۔ نئیں کروں گا شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خواب میں اُس شادی سے احتجاج کر رہا تھا جو حقیقت میں ہو چکی تھی
ساحل کی دھیمی بڑبڑا ہٹ پر وہ پیشانی پر لکیریں ڈالے اُس کی طرف کھسکتی غور سے اُسے سننے لگی وہ کروٹ اُس کی مخالف سمت لیے سویا تھا
ماما کی بهانجی۔۔۔۔۔۔ تیرے کو تو ایک دن بنا ویزا کے لندن پارسل کروں گا۔۔۔۔۔۔
نیند سے بوجھل آواز میں اُس کی بڑبڑا ہٹ جاری تھی۔۔
اچھا۔۔تو خوابوں میں۔میرے خلاف سازشیں ہو رہیں ہے۔۔
ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتی واپس اپنی جگہ لیٹی اور ساحل کو پیچھے سے ایک زور دار لات ماری۔۔۔۔
وہ دھڑام سے بیڈ کے نیچے گرا اور بری طرح ہڑبڑا گیا کے یہ اچانک سے کیسی آندھی آگئی۔۔۔جِس نے اُس کے پورے وجود کو ہلا ڈالا
نین نے جھٹ سے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔اور سوتی بن گئی
جب نیند کا خمار اُترا تو ساحل کو حالات کا اندازہ ہوا اُس نے غصے سے نین کی جانب دیکھا اور ہاتھوں کے سہارے زمین سے اٹھا۔۔۔
وہ بظاھر سکون سے سوتی اندر ہی اندر چوکنا تھی
میرا سکون حرام۔کرکے خود کیسے سکون سے پڑی ہے۔۔۔۔اے زبردستی کی مصیبت ۔۔۔۔,۔اب کونسی روح گھس کر ناچ رہی ہے تیرے اندر۔۔۔
وہ غصّے سے بڑبڑاتا اُس کے سر پر پہنچا لیکِن وہ ویسے ہی پڑی رہی۔۔۔ایک پل کو اُس کا معصوم اور پر سکون چہرہ دیکھ کر غصے سے دھیان بھٹکنے لگا لیکن اُس نے ایسا ہونے نہیں دیا
اے ہیروئن۔۔۔آنکھیں کھول۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تو جاگ رہی ہے۔۔۔۔۔ناٹک مت کر سمجھی نا۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا نین نے انگڑائی لیتے ہوئے ہلکی سے آنکھیں کھولیں۔
کیا ہے کیوں صبح صبح چلّا رہے ہو۔۔۔۔۔سکون سے سو جاؤ نہ۔۔۔۔۔۔
وہ بوجھل آواز میں بیزاری سے بولی ساحل نے اُس کی معصومیت پر دانت پیسے
تیرے منہ سے نہ سکون لفظ بھی گالی جیسا لگتا ہے۔۔۔۔
لات کیوں ماری تونے مجھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا نین نے حیرت سے اُسے دیکھا
لات اور میں نے۔۔۔۔۔۔ وہ بھی تمہیں۔۔۔۔۔
کیا بول رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔میں ایسا کر سکتی ہوں بھلا
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے پلکیں جھپک کر نہایت معصومیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے آگ لگا گئی
کتنی معصوم ہے نہ تو۔۔۔۔رک
اُس نے ٹی شرٹ کی ہاف سلیوز کو اوپر تک چڑھاتے ہوئے اُسے خونخوار نظروں سے گھورا وہ بجلی کی تیزی سے اٹھی اور بیڈ کے دوسری سائیڈ ہو گئی۔۔۔
ساحل خطرناک انداز میں اُس کی طرف بڑھا
دیکھو ماما کے بیٹے۔۔۔ وہی رک جاؤ۔۔۔۔آگے مت بڑھنا۔۔۔۔
وہ ہاتھ آگے کرکے اُسے روکتی اُس کے مضبوط پھولے ہوئے بازؤں کو دیکھ کر گلا تر کرنے لگی
لات ماریگی میرے کو۔۔۔۔۔۔۔تیری تو۔۔۔۔
وہ سر ہلا کر اُسے گھورتا اُس کی طرف بڑھا نین پھرتی سے اچھل کر بیڈ پر چڑھ گئی
اتنی ہڑبڑا ہٹ میں کے اگلے ہی پل پیر مڑنے سے پیچھے گری ۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی چینخ سن کر جلدی سے اُسے بازؤں میں تھاما اور وہ اُس کی باہوں میں جھولتی آنکھیں سختی سے میچ گئی۔۔
اُس کے دل کی تیز دھڑکنیں ساحل بھی با آسانی سن سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
غور سے اُس کی بند سہمی آنکھیں دیکھ کر مدھم سا مسکرایا لیکِن جلد ہی مسکراہٹ چھپا لی۔۔۔۔
دروازے پر دستک ہوئی تب نین نے آنکھیں کھولیں اور حیرت سے ادھر اُدھر دیکھا کے وہ ہوا کے بیچ میں کیسے لٹکی ہے۔
ساحل نیچے اتارو مجھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر سنجیدہ ہوکر بولی اور ہاتھ پیر مارے
پہلے بتا ۔۔لات کیوں ماری۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پوچھا
تم نیند میں میری برائیاں کیوں کر رہے تھے۔۔۔
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی
نیند میں کیا میں پورے ہوش میں بھی تیری برائی کر سکتا۔۔۔۔تیرے باپ کا ڈر تھوڑی پڑا ہے میرے کو۔۔۔
وہ اُس پر طنز کرتا مسکرایا
کرکے تو دیکھو۔۔۔۔پھر پتہ چلے گا کون کتنا بہادر ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی ساحل نے ائبرو اٹھا کر اُسے دیکھا لائیک ریئلی اور ایکدم سے اُسے بیڈ پر پٹخ دیا
آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چیختی اپنا شولڈر سہلانے لگی اور وہ لا پرواہ بنا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔
نین نے کشن اٹھا کر اُس پر مارا۔۔ اور دروازہ کھولنے کے لیئے اٹھی
دروازہ کھولا تو سامنے اپنے پاپا کو دیکھ کر کل کی ایک ایک بات پھر سے ذہن پر سوار ہونے لگی۔۔۔۔سکون بے سکونی میں بدلنے لگا
اُس نے رخ پھیر لیا
نین۔۔۔میرا بیٹا مجھ سے اب تک ناراض ہے۔۔۔
وقار صاحب نے اُس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اُس کا چہره تھاما اور بہُت محبت سے بولے۔۔۔
نین نے اُن کی جانب دیکھنے سے گریز کیا
اپنے پاپا کو سمجھو بیٹا ۔میں نے جو کیا وہ تمہاری اور ہم سب کی بھلائی کے لیے کیا ہے۔۔۔۔
عین موقع پر شادی کینسل کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔جانتا ہوں تم ناراض ہو لیکِن اپنے پاپا کی مجبوری بھی تو سمجھو نا۔۔
وہ نرمی سے اُسے سمجھاتے اپنی صفائی دینے لگے نین نے خفگی سے اُنہیں دیکھا اور اُن کے ہاتھ ہٹائے
وقار صاحب نے گہری سانس لی
تمہاری ممی چاہتی ہے کے تم اُس سے طلاق لے لو۔۔۔۔
لیکن مجھے نہیں لگتا کے تم اتنی جلدبازی میں فیصلہ کروگی۔۔۔آخر یہ چھوٹی بات تو نہیں ہے بیٹا۔۔
وہ اُس کی بے رخی کے باوجود بھی اُس سے بات کر رہے تھے اور وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔۔دکھ تھا تو یہ کے اب بھی اُنہیں اپنا فیصلہ غلطی نہیں لگا تھا۔۔۔وہ تو مجبوری تھی جِس کی بھینٹ اُس کی زندگی چڑھائی تھی
صرف یہی پرابلم ہے نہ کے وہ لڑکا پڑھا لکھا نہیں ہے۔۔مڈل کلاس ہے۔۔اُس میں مینرز نہیں ہے۔۔۔۔
تم بلکل فکر مت کرو۔۔۔۔ہم اُس کی اچھے سے کاونسیلنگ کروائے گے۔۔
ہماری سوسائٹی کے طور طریقے۔۔۔اصول سب سیکھ جائیگا وہ۔۔۔۔
کوئی کہہ نہیں پائیگا کے وہ پڑھا لکھا نہیں ہے یا تمہارے لائق نہیں ہے۔۔۔۔
اُسے سر سے پیر تک بدل دیں گے ہم۔۔۔۔۔
وہ اب بھی اپنی بے حسی پر قائم تھے۔۔اب بھی اُن کی باتوں میں بیٹی کی پرواہ نہیں دکھاوے اور نام کی پرواہ جھلک رہی تھی کے ایک کم تر انسان کو اپنا داماد بنا تو لیا اب اُسے اپنی سوسائٹی کے لائق کیسے بنایا جائے۔۔
اُس نے آسودگی سے مسکرا کر اُنہیں دیکھا
آپ کو یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے پاپا۔۔۔۔وہ جیسا بھی ہے بہُت اچھا ہے۔۔۔۔۔
وہ جب بولی تو نہ بات میں بناوٹ تھی نا لہجے میں کوئی چبھن۔۔۔
ہاں شاید کُچھ چیزوں سے تکلیف ہو مجھے
لیکِن یہ اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔۔۔۔
ایڈجسٹ کر لوں گی میں۔۔۔۔
صرف زندگی بھر کی ہی تو بات ہے
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وقار صاحب کو اُس پر غصّہ آنے لگا جو اُن کی بات سمجھنے کی بجائے اب بھی اپنی فضول ضد پر قائم تھی
آپ فکر مت کیجئے۔۔ اُس کے ویک پوائنٹ کی وجہ سے یہ رشتا ٹوٹنے نہیں دوں گی میں ۔۔۔۔واقعی یہ چھوٹی بات نہیں ہے کے وقار خان کی بیٹی کو اُس کے شوہر نے شادی کے اگلے دن ہی طلاق دے دی۔۔۔۔
اگر ایسا ہوا تو آپ کے شیئر ز تو نیچے آجائے گے۔۔۔
انٹرنیشنل میڈیا آپ کو بریکنگ نیوز بنادے گا
وہ فکرمندی سے اُنہیں دیکھتے ہوئے بولی
بٹ ڈونٹ وری پاپا۔۔۔۔۔۔۔ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔۔نا میں کبھی ایسا کروں گی نہ ساحل ایسا کرےگا۔۔۔
میں اُسے اور اُس کی فیمیلی کو ایک بھی شکائت کا موقع نہیں دوں گی۔۔۔۔جو وہ مجھے چھوڑنے کا سوچے بھی۔۔۔۔
پوری دنیا کو آپ پر باتیں نہیں کرنے دوں گی ۔۔۔۔
میں ایک اچھی بیوی ایک اچھی بہو بن کر دکھاؤں گی تاکہ آپکو کبھی شرمندہ نہ ہونا پڑے۔۔۔
اِس کی باتوں میں عجیب سا جنون تھا آنکھوں میں شدید ضد اور وحشت تھی وقار صاحب تاسف سے اُسے دیکھتے وہاں سے چلے گئے۔۔۔
اُس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا اور اُس سے ٹیک لگاتی چھت کو گھورتے ہوئے لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔۔۔۔
اب بھی ایک آنسُو ضایع نہیں ہونے دیا نا یہ شکائت کی کے مسلہ تو سارا اس بات کا ہے کے ایک ہی پل میں میری زندگی کا فیصلہ کرکے مجھ سے زیادہ اہمیت اپنے نام و رتبے کو دے کر مجھے توڑ دیا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کے کوئی لڑکی اپنی خوشیوں کو خاندان کی عزت کے آگے قربان کردے۔۔۔ہمیشہ سے یہ ہوتا ہی رہا تھا۔۔
لیکِن نین ۔۔۔۔۔
جتنا شدید اپنے سب سے اہم ہونے کا بھرم تھا
چوٹ بھی اتنی ہی شدت سے لگی تھی
∆∆∆∆∆∆∆
وہ بنا شرٹ کے اپنے پرسنل جم یعنی روم ٹیرس پر کھڑا دونوں ہاتھوں میں وزن دار ڈمبلز تھامے باری باری اُنہیں اوپر اُٹھا رہا تھا۔۔۔
بدن پسینے سے نم تھا ۔۔۔۔اور اس وزن کے زور سے بازؤں کے ساتھ پورے جسم کی رگیں اُبھر کر واضح ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
پورا دھیان صرف اور صرف ایکسرسائز پر تھا جب اچانک ہی ہواؤں کا رخ بدلا۔۔۔۔
سنیے جی۔۔۔۔۔۔
کانوں میں میٹھی شہد سی آواز گونجی تو اُس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں سلائیڈ ڈور کھول کے نین مسکراتے ہوئے اُس کے سامنے کھڑی تھی
گہری نیلی ساری میں نک سک سی تیار بھر بھر کے کلائیوں میں چوڑیاں پہنے۔۔۔کانوں میں جھمکے گلے میں نیکلس۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں گہرا کاجل ڈالے بالوں کی لمبی چوٹی آگے کمر تک جھول رہی تھی۔۔۔
لیکن وہ جس سے سب سے زیادہ حیران ہوا وہ تھا اُس کا پکارنا
اتنی عزت سے۔۔۔۔۔۔ سنیئے جی
وہ اُسے سر سے پیر تک گھورتا دوبارہ ہاتھوں میں موجود وزن کو اوپر اٹھانے لگا
آپ تیار نہیں ہوئے ۔۔۔ہمیں ساتھ میں نیچے جانا ہے نہ۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر شرمانے کی آسکر لیول ایکٹنگ کرتے ہوئے پلّو کو اُنگلیوں پر لپیٹتے ہوئے بولی
تم سے ڈائریکٹ آپ۔۔۔
اُس نے آئبرو اٹھا کر اُسے دیکھتے سوچا
پھر سے نیا دورہ پڑا ہے اس بھوتنی کو۔۔۔۔۔
دانت پیس کر بڑبڑاتے ہوئے اُسے گھور کر دیکھنے لگا
کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرما کر پلکیں جھپکتی ہلکا سا مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔اُس نے آنکھیں گھمائی
بتائیے نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات کو دہراتی آگے بڑھی اُس کا پیر اپنی ساڑی کے اوپر پڑا ساڑی کی پلیٹس اندر سے باہر نکل گئیں
وہ ایک ہی قدم آگے بڑھی اور نیچے کی ساڑی قدموں میں آچکی تھی ۔۔۔
نین کی صدمے سے ہچکی نکلی۔۔۔سانس جہاں کی تحا ں رک گیی۔۔۔۔
ساحل کا حال بھی خطرناک تھا۔۔صدمے سے پتھر بن گیا تھا
دونوں کی حیرت سے پھٹی آنکھوں نے پہلے زمین چومتی ساڑی کو اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔
اُس کے ساکت ہاتھوں سے دمبلز چھوٹ کر گرے تو پوری چھت ایک پل کو ہل گئی ۔۔۔۔۔۔
نین جلدی سے ساڑی دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کے اندر بھاگی۔۔۔
وہ اُس کے غائب ہوتے ہی ہوش میں آیا اور رکی سانس خارج کی۔۔۔
چاروں طرف نظر دوڑائی کے کسی نے دیکھا تو نہیں۔۔۔۔۔۔اور نین کو تصور کرکے جھجھري لي۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆