Junoniyat By Areej Shah Readelle50354

Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 99) 2nd Last Episode

65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 99) 2nd Last Episode

Junoniyat By Areej Shah

گھر میں مکمل خاموشی تھی کہنے کو دو ہفتوں میں یہاں پر شادی شروع ہونے والی تھی لیکن آج کل گھر کا ماحول کچھ عجیب سا تھا

وہ سو رہا تھا ۔جبکہ ریدم عمایہ تانیہ اور ماما کےساتھ شوپنگ پر گئی تھی۔داداجان اپنے روم میں اور زریام اپنے کام پر گیا تھا۔

گھر میں صرف چاچی جان ہی تھیں جو کافی دنوں سے بیمار تھیں۔ڈاکٹر ریگولیٹ کرنے آ رہے تھے ۔لیکن ان کی طبیعت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔

لیکن اپنی بیٹی کی شادی کو لے کر بھی وہ بہت زیادہ پریشان تھیں وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی وجہ سے تیاریاں رک جائیں۔

اسی لیے انہوں نے سب کو زبردستی شوپنگ پر بھیجا تھا۔

جانے سے پہلے بھی عمایہ انہیں میڈیسن وغیرہ دے کر گئی تھی وہ اتنا خیال رکھتی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ کسی طرح کی کوئی سختی نہیں کر پا رہی تھیں۔

انہیں اندر ہی اندر عجیب سا محسوس ہونے لگا تھا وہ لڑکی دن رات ان کی خدمت میں لگی اپنے شوہر کو ناراض کر رہی تھی ۔اس وقت تانیہ کی شادی کو لے کر سب سے زیادہ فکر مند بھی وہی تھی اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی تیاری اس کے سر پر تھی

ریدم کو تو کسی چیز کی سمجھ ہی نہیں تھی لیکن عمایہ نے ابھی ابھی ریدم اورشائزم کی شادی میں جس طرح سب کچھ سنبھالا تھا دادا جان نے تانیہ کی شادی کی ساری ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر ڈال دی تھی ۔

جس دن سے وہ اس گھر میں آئی تھی اس نے اس گھراور گھر والوں کو اپنا گھر ہی سمجھا تھا لیکن افسوس کہ وہ اسے اپنی بیٹی نہ سمجھ سکے

°°°°°°°

دیشم کچن میں کھڑی خداش کے لیے کھانا بنا رہی تھی خداش تھوڑی دیر میں ریدم کو لینے کے لئے اس کے گھر جانے والا تھا ۔اس نے تھوڑی دیر پہلے ہی اسے بتایا تھا کہ دادا جان اس سے ملنا چاہتے ہیں

تو وہ اسے فون کرکے کہہ چکا تھا کہ وہ اسے لینے کے لیے آئے گا ویسے بھی ہنی مون سے آنے کے بعد وہ واپس گھر نہیں آئی تھی ۔

جبکہ یشام سب کچھ جاننے کے بعد بالکل خاموش ہو گیا تھا وہ کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا وہ بھی ریدم سے ملنے کا خواہش مند تھا ۔اور خداش بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ مسئلہ جلد سے جلد حل ہو۔

راحت صاحب نے اسے ساری بات بتاتے ہوئے اس سے معافی مانگی تھی لیکن وہ بنا کچھ بھی کہے ان کے کمرے سے نکل کر اوپر چلا گیا تھا ۔

اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے حرم بھی بار بار اس سے وجہ جاننے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ چاہ کر بھی اسے کچھ بھی بتا نہیں پایا تھا اس وقت وہ عجیب طرح کی ذہنی کشمکش کا شکار تھا ۔

اسے افسوس تھا راحت صاحب پر اتنی بڑی بات جاننے کے بعد بھی وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ان لوگوں میں سے کسی نے بھی سردار کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی تھی اور اگر کی بھی تھی تو اس میں کامیاب نہیں ہوئے تھے ۔

سردار کون تھا اور اس نے یہ سب کچھ کیوں کیا تھا یہ تو وہ نہیں جانتا تھا لیکن وہ اس شخص سے بے انتہا نفرت کرنےلگا تھا اسے یقین تھا اگر وہ شخص اس کے سامنے آیا تو وہ اسے جان سے مار ڈالے گا

اور اب اس کے بارے میں اسے صرف اور صرف ریدم ہی بتا سکتی تھی نہ جانے کیوں اسے یقین تھا کہ ریدم جو کہہ رہی ہے وہ سچ ہے آخر اپنے ماں باپ کے قاتل کے بارے میں کوئی جھوٹ کیوں بولے گا

°°°°°°°°

اس کے کمرے میں کوئی داخل ہوا تو اس نے محسوس کر لیا تھا اسےیہی لگا کے ریدم شاپنگ سے واپس آ گئی ہوگی۔رات دیر میں سونے کی وجہ سے وہ فیکٹری کا ایک چکر لگا کر واپس آ کر سو گیا تھا ۔

ویسے تو وہ واپس ریدم کو اس کے گھر لے جانے کے لیے آیا تھا لیکن ریدم نے اسے بتایا کہ خداش خود ہی اسے لینے کے لئے آنے والا ہے اسی لیے وہ اس کے ساتھ ہی جائے گی اور پھر وہ شاپنگ کے لئے نکل چکی تھی ۔

اس کے لئے نیند پوری کرنے والا آپشن بور ہونے سے بہتر تھا۔اسی لیے وہ آتے ہیں سو گیا تھا اور اب اسے جاگے تقریبا پانچ چھ منٹ ہوگئے تھے لیکن وہ بیڈ پر بےوجہ ہی پڑا تھا ۔

اسے یقین تھا ریدم اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی شرارت ضرور کرے گی لیکن کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی جب اسے کچھ بھی محسوس نہ ہوا ۔تو اسے سمجھنے میں زیادہ وقت نہ لگا کہ اس کے پیچھے ریدم نہیں بلکہ کوئی اور ہے ۔

اور روشنی کی وجہ سے بیڈ پر ہونے والے سائے نے اسے سچ میں جھٹکا دیا تھا اس سے پہلے کہ اس کے قریب آتا یا اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا شائزم نے پھرتی سے ایک زوردار لات اس کے پیٹ پر ماری تھی اور پھر اگلے ہی لمحے وہ اسے دبوچنے کے لئے اس کی طرف آیا تھا ۔

اس کے چہرے پر ماسک تھا ۔اور خود کو اس نے پوری طرح سے کور کر رکھا تھا ۔لیکن اس کا حلیہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ریدم نے بتایا ۔وہ اس کے پاس آ کر اس کا محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے بازو پر وار کرتا تو اسے دھکا دیتا کمرے سے باہر بھاگ گیا

وہ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے رہداری کی طرف آیا تھا لیکن افسوس وہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔

کیا ہوا ہے تمہیں یہ خون ۔۔۔۔۔داداجان دوڑتے یوئے اس کے پاس پہنچے تھے۔

اس کے بازو سے نکلتے خون کو دیکھو پریشان ہوگئے تھے ۔

دادا جان کسی نے مجھ پر حملہ کیا ہے ۔ہمارے گھر میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو مجھے مارنا چاہتا ہے

صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ریدم کو بھی کلام میں ریدم اور پھر مجھ پر بھی جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ریدم بہت زیادہ ڈر گئی تھی خود پر ہوئے حملے کا ذکر میں نے ریدم کے سامنے بھی نہیں کیا تھا ۔

وہ پہلے ہی بہت زیادہ خوفزدا تھی میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مزید پریشان ہو ۔اسی لیے ہم اتنا جلدی واپس گھر آئے تھے ۔

وہ خون کو روکتے ہوئے ان سے کہہ رہا تھا جب کہ دادا جان بس اسے سن رہے تھے ۔

تم پریشان مت ہو میں پولیس کو فون کرتا ہوں اور تم چلو ڈاکٹر کے پاس ۔وہ بہت پریشانی سے اس کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ رہے تھے ۔

نہیں دادا جان میں بالکل ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہوں اور میں خود صبح پولیس سٹیشن جاؤنگا میں نے ویسے بھی رپورٹ لکھوائی ہوئی ہے ۔یہ جو کوئی بھی ہے ہمارے گھر تک آ چکا ہے ۔

ہمیں بہت خیال رکھنا پڑے گا ۔بہتر ہے کہ ریدم یہاں سے چلی جائےکچھ دن کے لیے ۔اس کی غیر موجودگی میں ہی ہم سمجھ پائیں گے کہ یہ شخص کون ہے ۔

میں نہیں چاہتا کہ وہ ان سب مسئلوں میں پڑے۔تو پہلے ہی منٹلی طور پر کافی زیادہ ڈسٹرب ہے ۔وہ انہیں سمجھاتے ہوئے بول رہا تھا جب کہ وہ اسے اپنے ساتھ باہر لاتے ڈاکٹر کو فون کر چکے تھے ۔اگلے دس منٹ میں زریام بھی گھر آ چکا تھا ۔

اس نے آکر شائزم کو دیکھا تو پریشان رہ گیا گھر کے اندر آکر کوئی ان پر حملہ کر رہا تھا اور وہ اس کی شکل تک نہیں دیکھے پائے تھے ۔

اسے اپنی سکیورٹی پر غصہ آ رہا تھا اس طرح کوئی گھر کے اندر آیا گئے تھا اور آیا کیا دن دہاڑے اس نے شائزم پر حملہ بھی کر دیا تھا ۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا رات کے اندھیرے میں اس پر حملے ہورہے تھے اور دن کے اجالے میں شائزم پر جب کہ ایسا ہی حملہ دم پر بھی ہو چکا تھا ۔

اور اس بات کو وہ ایزی ہرگز نہیں لے سکتے تھے یہ ضرور ان کے کسی بہت بڑے دشمن کا کام تھا لیکن کوئی بھی اس طرح گھر کے اندر نہیں آ سکتا تھا ۔اس طرح کسی مشکوک انسان کا آنا اور پھر یو حملہ کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی ۔وہ پوری طرح ان سب چیزوں میں الجھ رہا تھا

°°°°°°°°

وہ چاہتا تھا کہ ریدم کے آنے سے پہلے پہلے ہی ڈاکٹر واپس چلا جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔وہ باہر لاؤنج میں بیٹھے اسی چیز کے بارے میں بات کر رہے تھے جب ان لوگوں کی واپسی ہوئی ۔

شائزم کیا ہوا تمہارے ہاتھ پر وہ تقریبا بھاگتے ہوئے اس کے پاس آ گئی تھی ۔جب کہ امی بھی پریشانی سے اس کے ہاتھ پر بندھی پٹی دیکھنے لگیں ۔

شائزم پر جان لیوا حملہ ہوا ہے ۔کسی نے اسے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے وہ بھی دن دہاڑے اتنی سکیورٹی کے باوجود کوئی ہمارے گھر کے اندر آکر ہمارے پوتے کو جان سے مارنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

آخر کون ہے یہ شحض جو ہم پر یوں حملہ کر رہا ہے۔دادا جان بےحد پریشانی سے انہیں بتا رہے تھے۔

جبکہ شائزم جواب تک انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ بات گھر میں کسی کو نہیں پتا چلنا چاہیے ان کی جلد بازی پر سر پکڑ کررہ گیا۔

ریدم کے علاوہ شائزم پر بھی حملے ہو رہے تھے اور ایک ہفتہ پہلے کسی نے اسے بھی مارنے کی کوشش کی تھی ۔آخر کون تھا یہ اور کیوں تو یہ سب کچھ کر رہا تھا ذریام خود بھی بہت پریشان تھا

نانا جان میں بتا رہی ہوں یہ وہی شخص ہے یہ سردار ہی ہے وہی ہمیں مارنے کی کوشش کر رہا ہے ۔مجھے لگتا ہے اسے پتہ چل گیا ہے کہ میں زندہ ہوں

اور اسے یہ بھی پتاہے کہ اسے پہچانتی ہوں اسی لیے وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے ریدم یقین سے کہہ رہی تھی ۔کہ یہ سب کچھ کرنے والا کوئی سردار نامی آدمی ہے ۔جو صرف ان کی جان کا دشمن نہیں ہے بلکہ اس نے اس کے والدین کا بھی قتل کیا ہے ۔

لیکن اس سردار نامی شخص کی شائزم اور زریام کے ساتھ بھلا کیا دشمنی تھی اور اسے کیوں مارنے کی کوشش کر رہا تھا

°°°°°°°

شام کو تایا ابو اور خداش دونوں اسے لینے کے لئے آ گئے تھے ۔ان دونوں کو دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی۔وہ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن شائزم اسے بھیجنے پر باضد تھا

ناناجان نے اسے تیار ہونے کے لئے کمرے میں بھیج دیا تو وہ بھی اپنا ضروری سامان پیک کرنے کمرے میں آئی تھی ۔شائزم سے تو اس کی ناراضگی پکی تھی اس کے ہاتھ پر اچھا خاصہ زخم آیا ہوا تھا ۔

وہ اسے کتنی دفعہ منع کر چکی تھی کہ وہ نہیں جائے گی لیکن وہ اس کی کسی بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا

وہ پیکنگ کر رہی تھی۔جب اسے اچانک کمرے کا دروازہ بند ہوتا محسوس ہوا۔ وہ مسکرا کر اپنا کام کرتی رہی کیونکہ اسے یقین تھا کہ پیچھے شائزم ہی ہوگا ۔یقینا وہ اسے منانے کے لیے ہی آیا تھا

آہستہ آہستہ چلتا وہ اس کے پیچھے رکاتھا ۔وہ کافی دیرکچھ نہ بولا تو اس نے مڑکر دیکھا ۔جب اچانک دوسرے فرد نے فضا میں ہاتھ بلند کیا اور تیز رفتاری سے وہ اپنا ہاتھ اس کی طرف لایا تھا ۔بھرپور کوشش کے باوجود بھی اس بار سے بچ نہ سکی تھی۔

چاقو اس کے بازو اچھا خاصہ نشان چھوڑ گیا تھا ۔وہ اسےدھکا مار کر چیخی تھی اس کی چیخ پورے گھر میں گونج گئی تھی ۔وہ کمرے سے باہر جانا چاہتی تھی جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوسری دفعہ اس پر وار کیا ۔

لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہوتا وہیں پڑا وائس اٹھا کر اسے مار چکی تھی ۔اس کی چیخ سن کر سب لوگ اس کے کمرے کی طرف بھاگے تھے ۔لیکن اس سے پہلے ہی وہ بھاگتے ہوئے تایاجان کے سینے سے جا لگی تھی ۔

اس کے ہاتھ میں ‏ایک ماسک وہ اس کا چہرہ دیکھنے میں کامیاب رہی تھی ۔

تایا ابو وہی تھا میں نے دیکھا وہ وہی تھا اس نے مارا ہے ۔میں سچ کہہ رہی تھی ۔تایاابو وہ یہ وہی شخص ہے ۔وہ روتے ہوئے ان کے ساتھ لگی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ۔جبکہ وہ لوگ اس شخص کو ڈھونڈ رہے تھے یقیناً وہ ابھی گھر سے باہر تو نہ نکلا ہوگا

وہ گھر کا کونا کونا چیک کر چکے تھے یہاں کوئی شخص نہ تھا جس پر شک کیا جا سکتا ۔وہ گھر کا چپہ چپہ دیکھ چکے تھے لیکن کوئی انجان شخص یا کوئی ایسا انسان جو اعتبار کے قابل نہ ہو وہاں موجود نہیں تھا ۔

ایک بات تو سمجھ آ چکی تھی وہ جو بھی تھا صرف ریدم کا دشمن نہیں تھا بلکہ اس گھر کے بیٹوں کا بھی دشمن تھا ۔اور شاید وہ سردار نہیں تھا کوئی اور تھا ۔

لیکن ریدم نے اس کا چہرہ دیکھا تھا اس کا ماسک اس کے ہاتھ میں تھا مطلب صاف تھا کہ ریدم سچ بول رہی تھی لیکن ریدم۔کا دشمن مارنے کی کوشش کیوں کرتا ۔

کیا ریدم کے ماں باپ کو مارنے والا انسان ساگر کا نہیں بلکہ افشین کا دشمن تھا

یہ پہیلی الجھتی ہی جا رہی تھی کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اچانک ان لوگوں کے ساتھ ہی سب کچھ کیوں ہورہا ہے اچانک کوئی زریام اور شائزم کا دشمن کیسے بن سکتا ہے کوئی تو وجہ ہوگی ۔

کہ وہ شخص ریدم کے ساتھ ساتھ اسے ان دونوں کو بھی جان سے مار دینا چاہتا ہے ۔ان کی نظر میں ایسا کوئی دشمن نہ تھا ۔

ریدم ان حالات میں تمہارا یہاں رہنا بالکل بھی سیو نہیں ہے میں اورشائزم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ تم اپنے تایا جان کے ساتھ چلی جاؤ۔جب تک ان سارے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلتا تم اپنے تایاجان کے گھر پر ہی رہو ذریام نے اس مفید مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا

نہیں میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔میں اپنے شوہر کو ایسے حالات میں چھوڑ کر تو ہرگز نہیں جاؤں گی جب تک وہ آدمی پکڑا نہیں جاتا تب تک تو ہرگز نہیں ۔

وہ فیصلہ کرتے ہوئے بولی تھی ۔آپ لوگ میری فکر کرنا چھوڑ دے آپ لوگ اس آدمی کے بارے میں پتہ کروائے مجھے یقین ہے کہ یہ وہی آدمی ہے اس کی دشمنی آج کل سے نہیں بلکہ سالوں پرانی ہے

میرے بابا اس کی بہت عزت کرتے تھے وہ جب بھی ہمارے گھر آتا تھا بہت خوش ہوتے تھے ۔بابا کے ساتھ بیٹھ کر انہیں عجیب طرح کے مشورے دیتا تھا کبھی کہتا کہ تمہیں اپنی جائیداد کا حصہ مانگنا چاہیے کبھی کہتا کہ تم اپنے بچوں سے ان کا حق چھین رہے ہوں ان کا فیوچر برباد کر رہے ہو تمہیں واپس چلنا چاہیے وہ بابا جان کو زبردستی واپس گاؤں لے کر جانا چاہتا تھا ۔

ماما بہت لڑتی تھی وہ اس شخص پر یقین نہیں کرتی تھیں۔لیکن بابا نے ان کی بھی کوئی بات نہ سنی

اس دن ہم لوگ اس شخص کے ساتھ گاؤں جا رہے تھے اس نے گاڑی راستے میں روک کر میرے بابا اور ماما کو مار ڈالا ۔وہ دوسرا شخص راحیل تھا جو اس کے ساتھ تھا وہ اس کے حکم کا غلام تھا وہ جو کہتا تھا راحیل وہی کرتا تھا ۔

وہ مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی جو جو اسے یاد تھا وہ انہیں بتانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ان لوگوں کے لئے فی الحال ریدم جان بچانا ضروری تھی خداش اور تایا جان نے سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی جس کی وجہ سے ان دونوں کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑا لیکن دادا جان کل انہیں اپنے گھر کھانے پر انوائٹ کرلیا تھا ۔

بس آپ سب لوگ مل کر اس چیز کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہتے تھے جس کے لیے وہ لوگ حامی بھر چکے تھے ۔ان کے جانے کے فورا بعد ہی پولیس یہاں آ چکی تھی ۔

پولیس نے گھر کا چپہ چپہ چھان مارا تھا ان لوگوں نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی تھی ۔اس کے چہرے سے اترے ماسک کو وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ان کے مطابق ان کی مدد کر سکتا تھا ۔

گھر کے عجیب ماحول نے سب کو ذہنی ڈسٹربنس کا شکار کر رکھا تھا ۔گھر کے باہر سکیورٹی ٹائٹ کر دی گئی تھی ۔یہاں تک کہ گھر کے اندر بھی سیکیورٹی گارڈز کا انتظام کروایا گیا تھا ۔

دادا جان اس سچویشن میں بہت زیادہ پریشان تھے اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی گھر واپس آنے کے لیے کہہ دیا تھا اگر زریام اور شائزم پر جان لیوا حملہ ہو رہے تھے تو یقینا ان کی جان بھی خطرے میں تھی اور وہ اپنے گھر کے کسی فرد کو کھونا نہیں چاہتے تھے ۔

°°°°°°

ذریام مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔زریام پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ میں اس سردار نامی آدمی کے بارے میں کچھ جانتی ہوں۔

اس کے کپڑے نکال کر اسے دیتے ہوئے کہنی لگی تو ذریام کھٹک گیا ۔

مجھے نہیں لگتا کہ تم اس کے بارے میں کچھ بھی جانتی ہوعمایہ ان سب چیزوں کے بارے میں تمہیں سمجھ نہیں ہے ۔وہ پیار سے اس کا گال چھوتے ہوئے سمجھانے لگا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی بھی طرح کی ٹیشن لے

نہیں ذریام میں کچھ جانتی ہوں میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں میں دو تین دنوں سے یہ بات آپ سے شیئر کرنا چاہتی تھی لیکن پھر مجھے لگا کہ شاید میں کسی غلط فہمی کا شکار ہو لیکن اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں ۔

عمایہ اس کے ساتھ بیٹھی اسے کچھ بتاتی جا رہی تھی جبکہ زریام کے چہرے کے نقوش میں سختی آتی جا رہی تھی یقیناً وہ بے یقینی کی کیفیت میں اسے سن رہا تھا

°°°°°°°

کھانا تقریبا تیار ہو چکا تھا عمایہ نے بہت محنت سے سب کچھ بنایا تھا ۔آج وہ سب لوگ شادی کے بعد پہلی بار ان کے گھر آرہے تھے ۔تو سارا انتظام بہت اعلی طریقے سے کیا گیا تھا ۔

کل تایا ابو اور خداش نے ریدم کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے بہت کہا لیکن وہ ان کے ساتھ آنے کو نہیں مان رہی تھی ۔لیکن اس وقت وہ ان سب کے یہاں آنے پر بہت زیادہ خوش تھی

وہ خود بھی یشام سے مل کر بہت ساری باتیں کرنا چاہتی تھی اسے اچھا لگا تھا کہ یشام بھی پہلی دفعہ اس کے گھر آنے والا تھا ۔ورنہ وہ تو کسی سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا تھا ۔

عمایہ سب کچھ تیار ہے نہ میں تمہاری کوئی ہیلپ کروں کیا وہ کچن میں آئیں تو اسے لگے ہوئے دیکھا تھا وہ ساری تیاری کر چکی تھی ۔اس نے آپ جناب کا تکلف عمایا اور اپنے درمیان نہیں آنے دیا تھا اور نہ ہی اسے یہ سب کچھ پسند تھا وہ عمایہ کی دوست بننا چاہتی تھی اور سچ میں وہ دونوں دوست بن چکیں تھیں

نہیں میں نے سب کچھ کر لیا ہے تم جاؤ بس تیار ہو جاؤ ۔میں بھی جا رہی ہوں اپنی حالت سدھارنے کے لئے وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ ہی کچن سے باہر نکلی تھی ۔

پچھلے کچھ دنوں سے گھر کا ماحول بہت عجیب ہو رہا تھا ان پر ہونےوالے حملوں کی پریشانیوں وہ سب لوگ ایک پرسکون ماحول چاہتے تھے۔جس میں کاظمی خاندان والوں کا ان کی دعوت قبول کرنا ان کے لیے کافی خوشی کی بات تھی۔

اسی لیے ان کی دعوت کا اہتمام بھی بہت اچھے طریقے سے کیا گیا تھا اب بس ان لوگوں کے آنے کا انتظار تھا

••••••

مجھے یقین نہیں آرہا شوہر سر آپ سچ میں ہمارے ساتھ جا رہے ہیں ۔شکر ہے آپ بھی کسی طرف تو چلنے کو تیار ہوئے ۔

وہ اس کے لئے کپڑے نکالتے ہوئے بہت خوشی سے بولے جا رہی تھی جب کہ وہ اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔

آج تم نے مجھے آئی لو یو نہیں بولا ۔وہ اچانک ہی اس سے فرمائشی انداز میں بولا تو حرم کے ہاتھ رک گئے ۔

میں نہیں بولوں گی پرسوں سے میں جب بھی آپ کو آئی لو یو بولتی ہوں تو آپ میں جن آجاتا ہے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے ناراضگی بڑے انداز میں بولے تو یشام کا دلکش قہقہ پورے کمرے میں گھونج اٹھا ۔

تو حرم جان اس جن کو آئی لو یو آئی لو یو کر کے جگایا بھی تو تم نے ہی ہے ۔اور اب یہ جن ہمیشہ کے لئے تم پر عاشق ہوگیا ہے ۔اب تو تمہارے آئی لو یو بولنے کا بھی انتظار نہیں کرے گا اس کی نازک سی کمر میں اپنا بازو ڈالتے ہوئے وہ اسے کھینچ کر اپنے اوپر گرا چکا تھا

کیا ہوا کیا اب اپنا شوہر اچھا لگنا بند ہوگیا۔اس کی گردن پر چبتے ہوتے ہوئے وہ شرارت سے بولا تھا ۔

نہیں اچھے تو بہت لگتے ہیں لیکن اب نہ آپ بہت شرارتی ہو گئے ہیں ہائے اللہ میں تو بھول ہی گئی ۔ماما نے کہا تھا جلدی نیچے آنا ۔ارے ہٹیں

مجھے وہ اپنا آپ اس کی گرفت سے چھڑواتے باہر بھاگنے کی پوری تیاری کر چکی تھی ۔جبکہ اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ خود ہی اسے چھوڑنے پر مجبور ہوگیا ۔

جلدی سے تیار ہوں کہیں لیٹ مت ہوجائیے گا وہ باہر بھاگتے ہوئے واپس آکر پھر سے بولی تو وہ بھی مسکراتے ہوئے اپنے کپڑے اٹھانے لگاجب اپنی شرٹ کی جیب پر اسے ایک کاغذ نظر آیا

یقینا یہ کاغذ اس کی حرم جان نے ہی رکھا تھا وہ جلدی سے اس کاغذ کو نکال کر اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا

آئی لو یو شوہر سر۔۔۔۔۔۔۔اس کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آ گئی تھی وہ کاغذ واپس اپنی جیب میں رکھتے وہ کپڑے چینج کرنے چلا گیا تھا اور شاید یہ کاغذ کا ٹکڑا ہمیشہ ہی اس کے دل کے پاس رہنے والا تھا حرم جان کا یہ اظہار محبت اور یہ انداز بھی اس کے لئے جان سے عزیز تھا ۔

°°°°°°°°

آئیے آئیے بہت خوشی ہوئی آپ سب ہمارے بلانے پر یہاں آئے آج سچ میں لگ رہا ہے کہ پرانی تلخیاں ختم ہو چکی ہیں اور نئے رشتوں کی شروعات ہوچکی ہے وہ انہیں اپنے گھر کے اندر لاتے ہوئے بہت خوشی سے کہہ رہے تھے ۔

تھوڑی دیر میں ان کے بیٹے بھی انہیں جوائن کرنے والے تھے ۔وہ جانتے تھے کہ اب تک وہ لوگ اس رشتے دل سے قبول نہیں کر پا رہے ہیں لیکن دادا جان یہی چاہتے تھے کہ اب یہ نام نہاد دشمنی ختم کر دی جائے ۔

آپ نے اتنے پیار سے بلایا تھا ہم کیسے نہیں آتے ۔اور اب تو ہماری بیٹی کا معاملہ ہے اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ہمیں بلایا ۔وہ صوفے پر بیٹھے ہوئے ان سے بولتے تھے کہ داداجان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ شاہ صاحب کے بلاوے پر آگئے تھے ۔

جی بالکل اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا اب تو رشتے داری ہوگئی ہے ۔ریدم عمایہ بچے کھانے کی تیاریاں کرو ۔جب تک ہم گپ شب کرتے ہیں ۔دادا جان نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ان بزرگوں کی محفل سے اٹھ کر اندر چلی گئی

جب کے یشام صیام اور خداش کو زریام شائزم اوپر چھت پر لے گئے تھے ۔گھر کا ماحول بہت خوشگوار ہو گیا تھا ان سب کے یہاں آنے کی وجہ سے ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی

چاچی جان تو کمرے سے باہر نہ نکلیں تھیں جبکہ تانیہ بھی ان لوگوں کے آنے پر زیادہ خوش نہ تھی اسی لیے وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ کمرے میں بند ہو گئی تھی ۔دادا جان کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی تھی لیکن فی الحال چاچی جان کی طبعیت کو دیکھتے ہوئے وہ کچھ بھی نہیں بولے تھے ۔

°°°°°°°

کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی زریام ان سب کو واپس اوپر آنے کا اشارہ کرتا چلا گیا تھا ۔

اس نے اپنا یہ سارا مسئلہ خداش سے ڈسکس کیا تھا اور اس کے بعد اس نے جو مشورہ دیا وہ اسی پر کام کر رہا تھا یقیناً وہ جلد ہی اس مسئلہ کے حل تک پہنچنے والے تھے

لیکن نجانے کیوں وہ چاہتا تھا کہ جس شخص کا چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا ہے ان کا دشمن وہ نہ ہو ۔وہ اس سارے مسئلے کا حل بھی چاہتا تھا لیکن اندر سے بہت گھبرایا ہوا بھی تھا ۔

زریام خدا سے ایک ہی دعا مانگ رہا تھا کہ اس کا دشمن وہ نہ ہو جو وہ سوچ رہا ہے اگر عمایہ کا شک سے ہی ثابت ہوا تو شاید اس کا ہستا کھیلتا گھر برباد ہو سکتا تھا ۔

وہ گرل کے ساتھ کھڑا نیچے لان نیچے دیکھ رہا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی آیا ہے ۔

آئیے میں آپ کے ہی آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔اس نے بہت دکھ سے کہا تھا ۔۔۔لیکن دوسری طرف سے اسے کوئی جواب موصول نہ ہوا ۔

آپ ابھی تک کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں وار کیجئے اور مار دیجئے مجھے شاید اس طرح سے آپ کو کچھ سکون مل جائے گا ۔شاید اس طرح سے آپ کے بیٹے کا بدلہ پورا ہو جائے گا ۔یا پھر یہ ساری جائیداد آپ کے نام کردی جائے گی اسی لیے کیا نا آپ نے یہ سب کچھ ۔۔۔۔؟ بنامڑے بولتا چلا جا رہا تھا ۔

میں آپ سے کوئی سوال نہیں کروں گا نہ آپ سے کوئی جواب مانگوں گا مجھے میرے سارے جواب مل چکے ہیں ہمارے ساتھ جو کچھ بھی آپ نے کیا یہ آج کے بات ہے

لیکن وہ لوگ جب آپ مانگیں گے جو آپ کی وجہ سے یتیم ہوگئے ۔آپ کی وجہ سے جن کے سر سے ماں باپ کا سایہ چھن گیا وہ لوگ جواب مانگیں گے آپ سے چاچا جان ریدم اور یشام نے آپ کا کیا بگاڑا تھا ۔

ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا آپ نے یہ جواب مجھے نہیں ان کو چاہیے اس نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا تھا ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب کہ ذریام کا اشارہ دروازے پر کھڑے ریدم۔اور یشام کی طرف تھا۔

یہ ایسے جواب نہیں دے گا ذریام اس سے جواب میں مانگوں گا وہ غصے سے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ سے چاقو کھینچ کر نیچے پھینک چکا تھا اور اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر موجود ماسک اتار کر اسے بھی نیچے کی طرف اچھال دیا تھا ۔

یہ ہر سوال کا جواب دے گا لیکن یہاں نہیں وہاں ۔وہ اسے گھسٹتے ہوئے بولا تھا۔زریام نے آگے بڑھ کر ان کا گریبان اس کے ہاتھ سے چھڑوانا چاہا تھا ۔

پیچھے ذریام شاہ یہ تمہارا معاملہ نہیں ہے ۔تم نے کوئی نقصان نہیں اٹھایا یہ میرا اور ریدم کا مجرم ہے اس سے سوال جواب کرنے کا حق ہم رکھتے ہیں اور سزا دینے کا بھی ۔وہ اسے وارن کرتے ہوئے بولا ۔

اور اگلے ہی لمحے اسے گھسیٹتے ہوئے نیچے کی طرف لے گیا ۔

ریدم پلیز روکو سے یہ معاملہ اس طرح سے اچھالنے سے کچھ نہیں ہوگا ہم آرام سکون سے بھی بات کر سکتے ہیں ۔اس نے ریدم کو سمجھانا چاہا تھا ۔

آرام سکون سے ان معاملوں میں بات کی جاتی ہے جن میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا ہو ۔زریام بھائی ہم نے صرف اپنے والدین نہیں اپنا بچپن اپنی زندگی اپنی پہچان کھوئی ہے ۔

اور یہ معاملہ آرام سکون سے حل نہیں ہو گا ۔اپنے آنسو چھپاتی وہ تیزی سے سیڑھیوں سے اتر گئی تھی جب کہ زریام بھی ان کے پیچھے ہی آیا تھا اسے ہرگز امید نہ تھی کہ خداش کا آئیڈیا اس طرح سے کام کرے گا ۔

اس نے کہا تھا کہ وہ کھانے سے انکار کر کے اوپر جائے گا اگر وہ اس کا دشمن ہوا تو اسے مارنے کے لیے تنہائی کا منتظر رہے گا اور خداش کو یقین تھا کہ وہ شخص اس کے گھر میں موجود ہے اور اس کا شک صحیح ثابت ہوا تھا

اس نے آج صبح ہی دبئی فون کیا تھا جہاں سے پتہ چلا کہ چاچا جان وہاں آئے ہی نہیں۔جبکہ چاچاجان کے دبئی والے نمبر پر فون کرنے پر چاچا جان نے کہا تھا کہ وہی پر موجود ہیں۔

نمبر بند جا رہا تھا جب کہ واٹس ایپ اون تھا مطلب تھا کہ وہ پاکستان میں ہی موجود تھے صرف جھوٹ بول کر کوئی کھیل کھیل رہے تھے ۔اور اب یہ کھیل بھی ان کے سامنے کھل کر آ جاتا تھا ۔

°°°°°°°

یشام ۔۔۔۔یہ تو۔۔۔۔۔۔۔خداش اپنی پلاننگ کے حساب سے ہی سوچے ہوئے تھا کہ تھوڑی دیر بعد میں وہ قاتل ان کے ہاتھ لگ چکا ہو گا لیکن سامنے پرویز صاحب کو دیکھ کر اس کی خوش اڑ گئے تھے ۔

ہاں یہی ہے یہی ہے وہ آدمی یہی ہے سردار ۔۔۔۔۔۔۔” جس کا یہ سارا کیا کرایا ہے پوچھو اس سے خداش کیوں کیا اس نے کیا بگاڑا تھا میرے ماں باپ نے اس کا کیا بگاڑا تھا ریدم کے ماں باپ نے اس کا کیوں ہم سے ہمارے بڑوں کا سایہ چھینا کیوں ہمیں یتیم کرکے دنیا کی ٹھوکروں میں پھینک دیا ۔

پوچھو اس سے خداش ورنہ میں اسے جان سے مار ڈالوں گا ۔صیام نے بڑی مشکل سے اسے قابو کر رکھا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس آدمی کو ختم کر دے ۔

دادا جان بے یقینی کی کیفیت میں سامنے سر جھکائے پرویز صاحب کو دیکھ رہے تھے جب کہ دروازے سے اندر داخل ہوتے فیصل صاحب خود شوک کی کیفیت میں تھے ۔

وہ دن رات بس یہ سوچنے میں ہلکان ہو رہے تھے کہ آخر کون ہے جو یہ سب کچھ کر رہا ہے اپنے ہی بھائی کا ایسا بھیانک روپ دیکھ وہ بھی حیران رہ گئے تھے ۔

کیوں کیا تم نے یہ سب کچھ پرویز کس چیز کی کمی تھی ۔تمہیں کیوں کیا تم نے یہ سب کچھ کون سی مجبوری تھی تمہاری کے اپنوں کو ہی جان سے مارنا پڑا افشین کوئی غیر نہیں تمہاری سگی بہن تھی ۔دادا جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ انہیں کچھ کر بیٹھیں۔

خاموش کیوں ہو تم جواب کیوں نہیں دے رہے آخر کیا بگاڑا تھا ان لوگوں نے تمہارا کیوں ان کی جان لے لی تم نے راحت صاحب ان کا گریبان پکڑتےانہیں جھنجھوڑ چکے تھے ۔

رک جاؤ راحت اس سوال کا جواب پولیس اس سے پوچھے گی ۔اب تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی ۔دادا جان بےحد حصے سے بولے تھے جبکہ شاہ صاحب خود ہی پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئے تھے اتنے سالوں سے جس انسان کو ڈھونڈ رہے تھے آج ان کا اپنا خون ان کے سامنے آ روکا تھا ۔شور شرابہ سن کر تانیہ اور چاچی جان بھی باہر آ گئی تھیں

وہ اب تک بے یقینی کی کیفیت میں تھے جبکہ فیصل صاحب اندر آ گئے تھے ۔

ایک منٹ رک جائیں پلیز ہو سکتا ہے آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو پرویز تم کچھ بول کیوں نہیں رہے بتاؤ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ہے تو کیوں ۔۔۔۔۔۔”

کیوں یہ سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں بھائی جان آپ جب یہ ساری جائیداد آپ کے بیٹوں کے نام کرنے کی باری آئی تو کتنے سکون سے کہہ دیا آپ نے کہ بابا جان آپ کا حکم سر آنکھوں پر تب تو آپ نے نہیں پوچھا کیوں بابا جان آپ یہ ناانصافی کیوں کر رہے ہیں سب کچھ میرے بیٹوں کے نام کیوں لکھ رہے ہیں پرویز کی اولاد کے نام کیوں کچھ نہیں ۔

جب آپ کی بہن گھر سے بھاگ نکلی تب آپ کو کسی نے کچھ نہیں کہا کیونکہ آپ تو بڑے تھے لیکن میرا اس گھر سے نکلنا محال ہو گیا تھا ارے میرا سالہ جس کے ساتھ افشین کی شادی ہونے والی تھی وہ سر اٹھا کر مجھے ایک بگوڑی کا بھائی کہتا تھا ۔

ارے وہ مجھے کہتا تھا کہ مجھے ڈوب کر مر جانا چاہیے جس کے ہوتے ہوئے اس کی بہن گھر سے بھاگ گئ میرا سالہ مجھے بے غیرت کہتا تھا تب تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے نہیں پوچھا پرویز اداس کیوں ہو پرویز کیا پریشانی ہے ۔

میرا جوان جہان بیٹا مارا گیا اس کے قاتل کو موت کے منہ میں بچانے کے لیے آپ کا یہ بیٹا میرے بیٹے کو چھوڑ کر اس قاتل کا ساتھ دینے نکلا تھا ۔تو کیا میں سے زندہ چھوڑ دیتا ۔

میرے بچے کا تو کسی کو دکھ ہی نہیں تھا کسی کو اس کی موت کا افسوس ہی نہیں تھا اس کے مرنے کے دوسرے دن آپ کا یہ بیٹا اسی کےقاتل کی بہن سے شادی کر کے آ گیا اور اس پورے خاندان میں عزت کے ساتھ سب سے متعارف کروایا ۔

اور اب یہ اس خاندان کا وارث پیدا کرنے جا رہی ہے ۔اس خاندان کو پوتا دینے جا رہی ہیں ۔لیکن میں ایسا کیسے ہونے دیتا

میں نے سوچا تھا کہ اس جائیداد پر یا تو میرے بچے حکومت کریں گے یا پھر کوئی بھی نہیں اسی لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں آپ کے دونوں بیٹوں کو مار کر آپ کو بتاؤں کہ جوان بیٹے کے مرنے کا دکھ کیا ہوتا ہے

بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا میں نے یہ سب کچھ میں تواسےبھی مار دینا چاہتا تھا لیکن یہ اس دن زندہ بچ گئی اس نے ریدم کو دیکھتے ہوئے نفرت آمیز لہجے میں کہا ۔

بہت ڈرامے بازیاں کرنی پڑیں۔۔۔صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر وہ بے حد پرسکون انداز میں بولا۔

میں نے سوچا تھا کہ افشین کو اس انداز میں ماروں گا کہ اس کی لاش بھی کسی کو نہ ملے میں نے ڈھونڈتے ڈھونڈتے آٹھ سال لگا دیے اور جب وہ ملی تب میرے بابا جان فرماتے ہیں کہ اسے معاف کر کے گھر واپس لے آئیں گے

آٹھ سال کی بدنامی برداشت کرنے کے بعد آپ کو لگتا تھا میں اسے زندہ اس گھر میں واپس آنے دوں گا ۔

پھر مجھے پتا چلا کہ راحت صاحب بھی انہیں تلاش کر رہے ہیں اور کہیں نہ کہیں ان لوگوں تک پہنچ چکے ہیں راحت صاحب ملاقاتیں کرنے جاتے تھے ان سے انہیں یہ پیغام دینے جاتے تھے کہ ان کے بابا جان نے معاف کر دیا ہے گھر واپس بلا رہے ہیں ۔

یہ الگ بات ہے کہ ان لوگوں نے کبھی ان کی کسی بات پر یقین کیا ہی نہیں اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ راحت صاحب کے ساتھ مل کر لوگوں کو کہیں دور دفنا آؤں گا لیکن یہ تو بھائی کے پیار میں پاگل ہورہے تھے۔

انہیں دنوں میری ملاقات راحیل سے ہوئی جس نے مجھے بتایا کہ اس حویلی میں ایسا کچھ ہونے والا ہے پھر کیا میں نے اس کے ساتھ مل کر ایک پلان ترتیب دیا اور راحیل کو وہاں لے کر گیا

اور اس بات کا یقین دلایا کہ حویلی والے انہیں معاف کر چکے ہیں اور واپس گھر بلا رہے ہیں ۔بہت پاپڑ بیلنے پڑے انہیں یقین دلانے کے لیے افشین اپنے بھائی کو بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی اس نے آخری وقت تک مجھ پر یقین نہ کیا ۔

لیکن اس کی زندگی کا فیصلہ تو میں کر چکا تھا ۔ان دونوں کے مارنے کے بعد میں نے اس بچی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جو میرے لیے کوئی خطرہ ہرگز نہیں تھی ۔لیکن نہ جانے وہ لڑکی کہاں چلی گئی مجھے نہیں ملی اور پھر مجھے پندرہ سال کے بعد پتہ چلا کہ وہ لڑکی تو میرے ہی بابا جان کے پاس تھی۔

لیکن افسوس کے یہ زندہ ہے وہ بالکل بھی اپنی کسی کیےپر شرمندہ نظر نہیں آرہے تھے ۔

اور احمر۔ ۔۔۔۔” اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا ۔ساگر نے تمہاری بہن کو گھر سے بھگایا تھا لیکن احمر۔۔۔۔”اس کا کیا قصور تھا اسے کیوں مارا تم نے راحت صاحب یہ سب کچھ برداشت سے باہر ہو رہا تھا ۔

وہ تو میں نے راحیل کے کہنے پر کیا تھا راحیل کہہ رہا تھا کہ اس کی بہن کو احمر نے دھوکا دیا ہے ۔جب کہ وہ ان دونوں کی شادی کے بعد دولت کی امید لگائے بیٹھا تھا ۔تو شادی نہ ہونے کی وجہ سے اسے ملی نہیں ۔

اور پھر بعد میں وہاں لندن میں اس کا دل احمر کی بیوی پر آگیا تھا وہ کسی بھی طریقے سے اسے حاصل کرنا چاہتا تھا ۔پھر اس کا دل تو آئے دن کسی نہ کسی لڑکی پر آیا ہی رہتا تھا یہاں تک کہ ایک ڈیل کے لئے میرے ایک دوست کی بیٹی پرویز کی نیت خراب ہوگئی تھی ۔

اس نے اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی اور مجھے بھی ان سب چیزوں میں شامل کر دیا تھا جس کی وجہ سے مجھے اس کے باپ کا بھی قتل کرنا پڑا ۔

وہ ایک مرد کو بری طرح اپنی جان میں پھنسے ہوئے تھا ۔اس کی بیوی کے چکر میں وہ کسی بھی طریقے سے احمر کو پاکستان بھیجنا چاہتا تھا ۔

اس کی نیت کنیز پر اتنی خراب تھی کہ وہ صرف ایک موقع کی تلاش میں تھا وہ خود میرے لئے ایک مصیبت تھا اس دن احمر راحیل سے ملنے کے لئے اس کے فارم ہاؤس آنے والا تھا ۔

جہاں پر میرے اس دوست کی اسی بیٹی کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی ۔ہمیں اس لڑکی کے ساتھ دیکھ کر احمر بھڑک اٹھا اور اس نے کہا کہ وہ اس کے لیے آواز اٹھائے گا ۔

وہ پولیس سٹیشن جا کر ہماری رپورٹ لکھو آنے والا تھا اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا ہم نے راستے میں ہی اس کا کام تمام کروا دیا ۔ایک ٹرک سے اس کی گاڑی کچلواکر اسے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ۔

اور آج مجھے یہاں پکڑے جانے کا کوئی ڈر نہیں ہے آج نہیں تو کل سب کو پتہ چل ہی جانا تھا کیونکہ اس نے بتا دینا تھا کہ یہ سب کچھ میں کر رہا ہوں شادی والے دن ہی مجھے احساس ہوگیا تھا کہ کچھ نہ کچھ تو یہ لڑکی جانتی ہے اسی لئے میں نے اپنی ساری تصویریں حال سے نکلوا دیں ۔

لیکن پھر بھی اس لڑکی نے مجھے نہیں بھلایا اور بھولے کی تو یہاں بھی مجھے نہیں کیونکہ اسے لگتا ہے میں اسے چھوڑ دوں گا تو ایسا تو ہرگز نہیں ہوگا ۔اس نے کہتے ہوئے اگلے ہی لمحے اپنی سائیڈ سے پستول نکال کرریدم کا نشانہ لیا تھا حویلی میں گولی کی آواز گونجی تھی ۔اور پھر خاموشی چھا گئی

°°°°°°°