Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 66)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 66)
Junoniyat By Areej Shah
گاؤں میں کہرام مچ چکا تھا ابھی تک کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کاظمی حویلی والوں کا بیٹا اتنی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ۔
اس قتل کا الزام سیدھا سیدھا شاہ حویلی والوں پر لگایا گیا تھا ۔جب کے شاہ حویلی والوں کا بھی یہی دعوی تھا کہ ان کی بیٹی کے قتل میں کاظمی حویلی والوں کا ہاتھ ہے ۔
یہاں تک کہ اسی لئے ان کی لاش کو گمنام راستے پر چھوڑ دیا گیا تاکہ گاؤں والے ان تک نہیں پہنچ سکےاور وہ بےنام موت مارے جائیں ۔
دونوں حویلیوں کے لوگ آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ۔لیکن جانے والے تو جا چکے تھے کبھی نہ لوٹ کر آنے کے لیے ۔ان کے لڑائی جھگڑے سے وہ واپس لوٹ کر نہیں آنے والے تھے
نہ شاہ حویلی کے لوگ یہ ثابت کر سکے کہ ان کی بیٹی کے قتل میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے اور نہ ہی کاظمی حویلی کے لوگ یہ بات ثابت کر سکیں کہ ان کے بیٹے کے قتل میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے ۔
دونوں طرف سے کوئی ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ کیس ختم ہوگیا ۔
لیکن ایک دشمنی چھوڑ گیا ۔جو شاید کبھی ختم نہیں ہو سکتی تھی ۔لیکن اسی دشمنی کو رشتہ داری میں بدلنے کے لیے شاہ حویلی والوں نے پہلا قدم اٹھایا تھا
وہ یہاں ان کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ان سے کسی طرح کا کوئی برا سلوک نہ کیا گیا بلکہ بہت ہی عزت اور احترام سے مہمانوں کی طرح حویلی میں لا کر بٹھایا گیا
اندر سینے میں نہ جانے کتنی نفرتیں دبی ہوئی تھی لیکن بظاہر وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے بہت نارملی بات کر رہے تھے ۔۔
ریدم کو بلا لاو ۔ شاہ صاحب کو ملاقات کرنی ہے ۔دادا جان نے ملازم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
اس کی ضرورت نہیں ہے دراصل ہم کسی اور مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں ۔اس سے پہلے کہ ملازم واپس آتا وہ بول اٹھے
جی فرمائیں ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں ۔۔؟ان کا کسی اور مقصد کیلئے ان کے گھر آنا کوئی معمولی بات نہیں تھی آخر کیا وجہ ہوسکتی تھی ان کے یہاں آنے کے پیچھے ۔۔۔۔؟وہ سوچتے ہوئے ان سے پوچھنے لگے ۔
ہمارا پوتا شائزم اور ریدم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں وہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ہم اسی سلسلے میں یہاں آئے ہیں اس سے پہلے کہ آپ لوگ ریدم کے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچیں ہم آپ کو یہ بات بتا دینا چاہتے تھے ۔انہوں نے بے حد نرمی سے بات کی تھی جب کہ دادا جان پریشان ہو گئے تھے
ان کی بات کا مطلب تھا کہ ان کے خاندان کی پوتی کا شاہ خاندان میں جانا ۔جس کے لئے وہ ہرگز تیار نہیں تھے لیکن ان پوتی کی کی خوشی اس لڑکے میں تھی جس طرح شاہ صاحب نے کہا تھا کہ ریدم اور شائزم ایک دوسرے کو چاہتے ہیں ۔اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ یہاں ان کے رشتے کی بات کرنے آئے ہیں
دیکھیے شاہ صاحب آپ جانتے ہیں کہ ہمارے خاندانوں میں اتنے دوستانہ تعلقات کبھی نہیں رہے کہ ہم بات شادی تک لے کر جائے انہوں نے بات شروع کی تو شاہ صاحب کے چہرے پر پریشانی کے سائے لہرانے لگے ۔
لیکن ہم پرانے دور کو واپس نہیں لانا چاہتے اگر ہماری پوتی سچ میں آپ کے پوتے سے محبت کرتی ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے تو ہم اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھائیں گے کیونکہ ہم اپنے ساگر کی بیٹی کو کھونا نہیں جاتے
ہم اپنی پوتی کی خوشیوں کے لیے اپنے دل پر پتھر رکھ کر بھی اس کی خوشی کا فیصلہ سنائیں گے ۔
ہم اس گاؤں میں ایک اور افشین اور ساگر کی کہانی نہیں دوہرانا چاہتے ۔ہم مزید اپنے بچوں سے دور نہیں رہنا چاہتے ۔اگر اسی میں ہمارے بچوں کی خوشیاں ہیں تو میرے خیال میں اس جان لیوا ماضی سے نکل آنا ہی دونوں خاندانوں کی بھلائی ہے ۔وہ بولتے چلے جا رہے تھے جب کہ شاہ صاحب حیرانگی سے انہیں سن رہے تھے شاید انہیں اس چیز کی امید نہ تھی ۔
ناناجان۔۔۔۔۔وہ تقریبا بھاگتے ہوئے نیچے آئی تھی اور کمرے کے باہر سے ہی انہیں دیکھتے ہوئے ان کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے لگی وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے جبکہ اسے اپنے سینے سے لگاتے وہ بے حد خوشی محسوس کر رہے تھے ۔اس کے بے تابانہ انداز پر دادا جان مسکرا دیے تھے وہ بس اس کی مسکراہٹ کو دیکھ رہے تھے جیسے اسی مسکراہٹ میں ان کی ہر خوشی چھپی ہو ۔
شکر ہے آپ کو بھی میری یاد آگئی میں نے آپ کو بہت مس کیا وہ ان کے سینے سے لگی بول رہی تھی
میری جان میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا اور اب میں بہت جلد رہا آپ کو یہاں سے لے جانے والا ہوں ۔ دلہن بنا کر وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے ۔
دلہن بنا کر وہ ان کی بات پر پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی تھی کیا اب بھی زریام سے اس کی شادی کروانا چاہتے تھے ۔
ہاں میری جان دلہن بنا کر ہم تمہیں اپنے پوتے شائزم کے لیے مانگ چکے ہیں ۔وہ مسکراتے ہوئے اسے بتا رہے تھے ۔
۔شائزم۔۔۔۔اس نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں شائزم شاہ ہمارا پوتا ۔۔۔۔۔دادا جان کے انداز میں فخر تھا
معاف کیجیے گا نانا جان لیکن آپ کو اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے مجھ سے اجازت لینی چاہیے آپ میری شادی زریام شاہ سے کروا دیں راہ چلتے کسی مسافر سے کروا دیں۔ بے شک اس حویلی کے کسی ملازم سے کروا دیں لیکن آپ نے سوچا کہ جیسے کہ شائزم شاہ جیسے بدکردار انسان کی دلہن بن کر فخر محسوس کروں گی ۔
آپ کو معلوم ہے نا مجھے اس دنیا میں صرف بدکرداری سے نفرت ہے تو کیوں آئےآپ یہاں اس بد کردار کا نام میرے نام کے ساتھ جوڑنے کے لیے۔وہ میرا اچھا دوست ہے۔اس نے میری بہت مدد کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنا آپ اس کے نام کر دوں گی ۔
بدکردار ہے وہ ۔۔۔۔۔
خاموش ۔۔۔ تم ہمارے پوتے کو بدکردار کہہ رہی ہو کون سی بدکاری دیکھ لی ہے تم نے اس میں جو تم اس پر اتنا گھٹیا غلیظ الزام لگا رہی ہو ۔۔۔۔۔؟
کب دیکھا ہے تم نے اسے بدکاری کرتے ہوئے ۔۔۔۔؟
یہ سوال آپ جا کر اس سے پوچھیں وہ آپ کو زیادہ بہتر طریقے سے جواب دے گا ۔میرا جواب انکار ہے ۔وہ اپنا فیصلہ سنا کر اگلے ہی لمحے وہ اسے پلٹ گئی تھی ۔
جب کہ وہ بے یقینی سے اسے جاتے دیکھتے رہے ۔
شاہ صاحب نے اپنی پوتی کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔کاظمی صاحب کو ایک لمحے کے لئے حیرت ہوئی تھی کہ وہ شاہ صاحب کے پوتےسے شادی کرنے سے انکار کیسے کر سکتی ہے جبکہ شاہ صاحب کا دعوی تھا کہ وہ ان کے پوتےسے محبت کرتی ہے ۔
ان کے جواب میں شاہ صاحب کچھ بھی کہے بنا فوراً وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے اتنی بےعزتی اتنی توہین تو شاید وہ کاظمی صاحب کے انکار پر بھی محسوس نہ کرتے جو ریدم کے انکار پر محسوس ہو رہی تھی
°°°°°
وہ بے یقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا اس بات پر یقین کرنا بے حد مشکل تھا کہ ریدم اس سے شادی سے انکار کرچکی ہے ۔
انکار تو انکار۔۔۔ وہ اس پر گھٹیا اور غلیظ ترین الزام لگا چکی تھی وہ اسے بدکردار کہہ چکی تھی
اس کے انکار کی وجہ جان کر اسے بے حد غصہ آیا تھا وہ اسے پسند نہیں کرتی تھی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی کوئی بات نہیں لیکن اسے کوئی حق نہیں بنتا تھا اس کی ذات پر اتنا بڑا الزام لگا ۔
ہمیں خود یقین نہیں آرہا کہ اس نے ہمارے منہ پر انکار کر دیا وہ بچی ہماری ہر بات مانتی ہے تو انکار ۔۔۔۔
اس نے انکار نہیں کیا دادا جان اس نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے اور اب ایسا ہی ایک طمانچہ اس کے منہ پر بھی لگے گا میں بدکردار ہوں گرا ہوا ہوں گھٹیا اور غلیظ ترین انسان ہوں
تو اب اسے اسی گھٹیا بدکردار انسان کے ساتھ اسے ساری زندگی گزارنی پڑے گی
وہ بے حد غصہ سے بول رہا تھا جب کہ دادا جان اس کے ارادے جان کر پریشان ہو گئے تھے
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا کیا کرنے والے ہو تم میری بات سنو شائزم تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔
میں ایسا کچھ نہیں کروں گا دادا جان میں وہ کروں گا جو وہ ساری زندگی یاد رکھے گی آخر ریدم کاظمی نے ثابت کر ہی دیا نہ کہ اس کی رگوں میں کاظمی خاندان والوں کا خون ہے تو اب اسے پتہ چلے گا کہ یہ شاہ خاندان والا کیسا ہے
ہم نے ایک کوشش کی تھی اس دشمنی کو ختم کرنے کی اب اس دشمنی کو پروان بھی اسی نے چڑھایا ہے مجھے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے یہ دشمنی بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے لیکن اب اس ریدم کاظمی کو ساری زندگی کی اس بدکردار، گھٹیا اور گرے ہوئے شخص کے ساتھ ساری زندگی گزارنی پڑے گی
غصے کی زیادتی سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا جب کہ دادا جان کو اس کے ارادے کے خطرناک لگ رہے تھے ۔
تم کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کرو گے شائزم ہم مزید کوئی دشمنی مول نہیں لے سکتے ہم تمہاری جان پر رسک نہیں لے سکتے ایک پوتے کو کھو چکے ہیں ہم
اور میں اپنی عزت اپنا کردار کھو چکا ہوں دادا جان اور میں اس چیز پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا
اسے لگتا ہے میں بدکردار ہوں تو اب اسے پتہ چلے گا کہ ایک بدکرار کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزرتی ہے
مجھ پر لگائے اس الزام کا حساب تو اسے دینا ہوگا ہر قیمت پر دینا ہوگا وہ غصے سے کہتا وہاں سے نکل چکا تھا جب کہ دادا جان اسے پکارتے رہ گئے
°°°°°
دیشم ۔دیشم ۔دیشم ۔وہ صبح اٹھا تو وہ اس کے ساتھ کہیں پر بھی نہیں تھی ۔اور یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی۔
اس نے ہر جگہ اسے ڈھونڈا تھا لیکن وہ کہیں نہیں مل رہی تھی۔
وہ پریشانی سے کمرے سے باہر نکل آیا تھا آج ان لوگوں کو واپس جانا تھا اور دیشم کہیں بھی نہیں تھی ۔
وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہا تھا اس نے ہوٹل میں کوئی جگہ نہ چھوڑی اور آخر تھک ہار کر وہ مینیجر کے پاس آ پہنچا ۔
سر آپ کی مسز کچھ دیر پہلے پول کی طرف گئی تھی اب پتا نہیں وہ ہوٹل سے باہر نکل گئی تھی ۔یا وہی رہیں ہم نے زیادہ دھیان نہیں دیا
مینیجر نے اسے تفصیل بتایا تو وہ ارے کی چابی لے کر باہر نکلا تھا ہر وہ کہاں جا سکتی ہے کس طرف جا سکتی ہے
وہ پاگلوں کی طرح برف باری کی پرواہ کیے بنا اسے ڈھونڈنے جا رہا تھا اس کی گاڑی فل سپیڈ میں چل رہی تھی آخر وہ لڑکی کہاں چلی گئی تھی اس جگہ کے بارے میں وہ کچھ جانتی تک نہیں تھی
اگر اسے کہیں جانا تھا تو اس کے ساتھ بھی جاسکتی تھی یوں اکیلے باہر نکلنے کا کیا مطلب تھا؟ یا کیا اسے تنگ کرنے کے لیے کیا گیا تھا؟اگر ہاں تو یہ بہت بری حرکت کی تھی دیشم نے۔
°°°°°°
تقریبا دو گھنٹے ہوچکے تھے اسے پاگلوں کی طرح سڑک پر گاڑی گھماتے ہوئے برفباری تیز ہوتی جا رہی تھی اور گاڑی کا آگے بڑھنا مشکل ہو رہا تھا لیکن پھر بھی وہ پریشانی میں گاڑی کی سپیڈ بڑھائے جا رہا تھا آخر کہاں جا سکتی تھی دیشم اگر وہ کہیں کھو گئی ہوئی تو ۔۔۔۔؟
اس نے اب تک جہاں کہا تھا خداش اسے وہاں لے کر گیا تھا اس کی کونسی ایسی فرمائش تھی جو اس نے پوری نہیں کی تھی کہ وہ وہاں جاکر اسے تلاش کرے لیکن ایسا کچھ بھی اس کے ذہن میں نہیں آ رہا تھا
وہ اسے ہر اس جگہ پر لے کر گیا تھا جہاں اب تک وہ جانا چاہتی تھی
یا خدایا دیشم تم کہاں چلی گئی یہ کیا بےوقوفی ہے تم نے ایک بار مل جاؤ تم مجھے تمہاری یہ لاپروایاں دور نہ کر دی تو میرا نام بھی خداش کاظمی نہیں وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
جب اچانک اس کا فون بچنے لگا اس نے فون نکال کر دیکھا تو اس میں ہوٹل کے مینیجر کا نمبر سامنے آ رہا تھا ۔
ہیلو السلام علیکم سر آپ کی مسز واپس ہوٹل آ چکی ہیں اور آپ کو یہاں موجود نہ پاکر وہ کافی زیادہ پریشان ہو رہی ہیں آپ پلیز جلدی ہوٹل واپس آ جائیں
مینیجر شاید اس کی پریشانی نوٹ کر چکا تھا اسی لئے دیشم کے آتے ہی اس نے اسے خبر کر دی تھی ۔
آ رہا ہوں میں ۔اس نے بس اتنا کہہ کر فون بند کیا اور گاڑی تیزی سےہوٹل کے رستے میں ڈال دی۔
°°°°°°
یہ تو بہت ہی برا ہوا امی جان لیکن اب شائزم کو کوئی بھی الٹا سیدھا قدم مت اٹھانے دیجئے گا
وہ غصے میں پاگل ہو کر ضرور کچھ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا جو ہمارے لئے آگے جاکر بہت غلط ثابت ہوگا
اس دشمنی کو ختم کرنے میں دادا جان نے پہل کی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔
اب مزید اسے ایسا کچھ مت کرنے دیجئے گا جس سے یہ دشمنی بھر جائے زریام پریشانی سے بول رہا تھا
امی جان نے اسے فون کر کے گھر کے سارے حالات کے بارے میں بتایا تھا دادا جان کا خود جا کر رشتہ مانگنا اور دشمنی ختم کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو زریام لیکن شائزم کا میں کیا کروں وہ تو شام سے گھر سے ہی لاپتا ہے کچھ بتا کر جانا تو وہ ضروری نہیں سمجھتا اور اب تو اتنے غصے سے گھر سے نکلا ہے کہ اللہ نہ کرے کچھ الٹا سیدھا قدم اٹھا لے کہیں اس لڑکی کی زندگی برباد نہ ہو جائے زریام مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے تم اسے فون کرو ہوسکتا ہے تمہارا فون اٹھالے ۔
جی جی امی میں فون کرنے کی کوشش کرتا ہوں آپ پلیز پریشان مت ہوں ان شاءاللہ کچھ نہیں ہوگا وہ اتنا بھی نہ سمجھ نہیں ہے ۔وہ انہیں سمجھاتے ہوئے بولا تھا ۔
اور فون بند کرتے ہوئے شائزم کا نمبر ملانے لگا
°°°°°°
اسلام علیکم بگ بی کیسے ہیں آپ کیسی چل رہی ہے آپ کی نئی زندگی سب کچھ ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔؟وہ خوش باش لہجے میں فون اٹھاتے ہوئے بولا
وعلیکم السلام شائزم ۔۔۔” کہاں ہو تم اس وقت اور گھر میں کسی کا فون کیوں نہیں اٹھا رہے ہو۔ ۔۔؟
سب لوگ اتنے زیادہ پریشان ہیں کہ کہیں تم کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دو دیکھو میری بات سنو میں جانتا ہوں ریجکشن قابل قبول نہیں ہوتا اور وہ بھی اس بات پر جو سراسر الزام ہو
لیکن تمہیں ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگا کسی طرح کا کوئی الٹا سیدھا قدم اٹھانے سے پہلے ایک بار میری بات سن لو ۔
بھائی یہاں بات ریجکشن کی ہرگز نہیں ہے ۔یہاں بات اس گھٹیا الزام کی ہے جو میرے کردار پر لگایا گیا ہے کیا میں بدکردار ہوں؟ کیا میں گھٹیا ہوں؟ کیامیں عیاش ہوں؟ جواب دیجئے مجھے کیا میں ایسا ہوں؟ جیسا اس نے کہا ہے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
نہیں میری جان تم ایسے نہیں ہو ہمیں تم پر یقین ہے ۔تم اس کی باتوں کو اپنے دماغ میں رکھ کر ایسا کچھ نہیں کرو گے جو اس دشمنی کو بڑھانے کی وجہ بنے ۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا جو آپ کو یا میرے گھر میں کسی کو بھی تکلیف دے لیکن میں کچھ نہیں کروں گا اس بات کی گارنٹی میں نہیں دیتا
میں آپ کو دوبارہ فون کروں گا فی الحال مجھے کچھ کام ہے بس اتنا کہہ کروہ فون بند کر چکا تھا جب کہ زریام اسے بار بار فون کرتا رہا لیکن اس کے بعد اس نے فون نہیں اٹھایا ۔
°°°°°
وہ جلدی سے ہوٹل کے اندر داخل ہوا تھا مینیجر نے اسے بتایا کہ اس کی بیوی اس کے روم میں اس کا انتظار کر رہی ہے
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف آ گیا تھا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی آرام سے اس کے آنے کا نہ صرف انتظار کر رہی تھی بلکہ بیڈ پر بہت کچھ بچھائے بیٹھی تھی ۔
کہاں چلے گئے تھے آپ میں کب سے آپ کا انتظار ۔۔۔۔۔
چٹاخ۔ وہ ابھی کچھ بول رہی تھی کہ خداش کا ہاتھ اٹھا اور اس کا چہرہ لال کر گیا
اس کے تھپڑ کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اوندھے منہ بیڈ پر جا گری تھی۔
کس کی اجازت سے تم اس روم سے باہر نکلی تھی ۔۔۔؟
کیوں تم مجھے بنا بتائے یہاں سے کہیں چلی گئی ۔۔۔؟
ایسا کون ساضروری کام آگیا تھا تمہیں جو تم نے یہاں سے نکلنے سے پہلے مجھے جگانا تک مناسب نہیں سمجھا پچھلے تین گھنٹوں سے پاگلوں کی طرح سڑکوں پر خوار ہو رہا ہوں میں ۔
وہ غصےسے اسے دیکھتے ہوئے بولا جب کہ دیشم اپنے گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
میں کہیں بھی جانے سے پہلے آپ سے اجازت کیوں مانگوں گی ۔۔۔۔؟ اس کا انداز سوالیہ تھا کہ وہ اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی تھی یقیناً وہ بدتمیزی کرنا چاہتی تھی ۔
کیونکہ میں تمہارا شوہر ہوں ۔تم کہیں پر بھی جانے سے پہلے مجھے بتانے کی پابند ہو ۔اور آج کے بعد یہ بات یاد رکھنا تمہیں بار بار مجھے بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے اٹھاؤ یہ سب کچھ آدھے گھنٹے میں ہماری فلیٹ ہے ۔ گھر کے لئے نکل رہے ہیں ہم اور ایک اور بات میرا دیا ہوا وقت اب ختم ہو چکا ہے
یہاں سے گھر جانے کے بعد میں تمہارے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی شروع کروں گا ۔تمہیں ڈھیل دینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے جو میں اب مزید نہیں کروں گا ۔وہ غصےسے سرد آنکھیں لیےکہتا واش روم میں گھس گیا تھا
جبکہ دیشم اس کے تھپڑ کا ماتم منا رہی تھی
°°°°°
