Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 24)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 24)
Junoniyat By Areej Shah
وہ حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی جو پرسکون سا دروازہ بند کرتے ہوئے اسے دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا۔
منکوحہ صاحبہ اس طرح سے کیوں دیکھ رہی ہیں جیسے کسی جن کو دیکھ لیا ہو خیر مانا کے آپ اب ہر طرح سے دیکھنے کا اختیار رکھتی ہیں۔
لیکن بندہ ذرا کمزور دل کا ہے یہ نہ ہو کہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وہ اس کے قریب آتے ہوئے اپنا دایاں بھاری ہاتھ اس کے چہرے پر رکھتا اسے حیرت کے سمندر سے باہر نکال لایا تھا
دیشم ایک پل میں اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتی دو تین قدم دور جا چکی تھی۔
اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شخص یہاں اس کے کمرے تک آ جائے گا۔
کیوں آیا تھا وہ یہاں کیا وہ اسے اس کی اوقات یاد دلانے آیا تھا ۔۔۔!
کیا وہ اسے یہ بتانے آیا تھا کہ دیکھ لو تمہاری نفرت کو میں نے کس طرح سے بے مول کر دیا ہے۔۔۔۔
دیکھ لو جس انسان کو تم اس دنیا میں سب سے زیادہ ناپسند کرتی تھی وہی تمہارا نصیب بن گیا ہے۔۔
کیا وہ اسے یہ بتانے آیا تھا کہ اس کی ہزار نفرت کے باوجود وہی شخص اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے
کیوں آئے ہیں آپ میرے کمرے میں آپ کو اس طرح یہاں نہیں آنا چاہیے پلیز جائے یہاں سے وہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسے بہت نارمل انداز میں بولی تھی۔
جبکہ اس کے ڈر کو شرم و حیا سمجھ کر وہ مسکرا دیا
اس کمرے میں تو کیا اب میں اس ہر جگہ پر حق رکھتا ہوں جہاں پر تم نظر آؤ کیونکہ اب تمہاری ذات مجھ سے جڑ چکی ہے اب تو تم میری ہو تو تمہارا کمرہ کیا تمہارا بیڈ تمہارے دل ہر چیز پر میرا حق ہے۔
جب چاہوں گا جہاں چاہوں گا آؤنگا وہ اب بھی بہت پر شوخ نداز لیے ہوئے تھا
آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے پلیز جائے یہاں سے اس نے ذرا سختی سے کہا جبکہ اس کے انداز پر وہ پھر سے مسکرا دیا تھا۔
کیوں نہیں آنا چاہیے تھا کوئی ایک وجہ بتاؤ ابھی چلا جاؤں گا یہاں سے خیر میں تو تمہیں یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ ۔۔۔۔۔
کہ آپ نے اپنی من مانی کر لی جو چاہتے تھے کر لیا آپ نے ہرا دیا آپ نے مجھے یہی تھی نا آپ کی ضد کہ کسی بھی طرح مجھے زیر کر سکے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے آپ اتنے گر جائیں گے کہ مجھ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کریں گے
یا آپ مجھ پر صرف یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ دادا جان آپ کی کوئی بات نہیں ٹالیں گے
اور میری ملکیت آپ کے ہاتھوں میں آ جائے گی تو سن لیجئے خداش کاظمی بے شک میرا آپ سے نکاح ہوا ہے لیکن میں آپ سے آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے نفرت کرتی آئی ہوں اور آگے بھی آپ صرف اور صرف میری نفرت کے ہی قابل رہیں گے ۔
وہ چلانے لگی تھی جبکہ اس کی بات سن کر خداش کی ساری شوخی جاتی رہی
نفرت ۔۔۔۔۔ہم میں کی نفرت کا رشتہ کب بنا دیشم
تم مجھ سے چڑتی ہو مجھ سے دور رہتی ہو مجھے پسند نہیں کرتی ہر چیز برداشت کر رہا ہوں میں لیکن نفرت تم مجھ سے نفرت کرتی ہو وہ بے یقین تھا۔
“تو کیا آپ اپنے آپ کو میری محبت کے قابل سمجھتے ہیں۔” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں بولی۔
نہیں ۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا میں نے کبھی تمھارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا جس کی بنا پر تم مجھ سے نفرت کر سکو
یہ مذاق ہے نہ تم میرے ساتھ مذاق کر رہی ہو بے وقوف بنا رہی ہو مجھے دیکھو۔۔۔۔
میرا اور آپ کا مذاق کا کوئی رشتہ نہیں ہے سمجھے آپ اور آپ سے نفرت نہیں کروں گی تو اور کیا کروں گی ۔۔۔!
اگر مجھے پتا ہوتا کہ میری شادی آپ کے ساتھ ہونے والی ہے تو یقین کرے میں حویلی کو آگ لگا دیتی لیکن یہ کبھی نکاح ہونے دیتی۔
نکاح کے وقت مجھے پتہ چلا کہ آپ ہیں وہ انسان جس کو میری زندگی کا مالک بنایا جا رہا ہے
میں نے اپنی زندگی کا سب سے برا لمحہ وہی گزارا ہے جب آپ کو میری زندگی میں شامل کیا گیا
مجھے اب تک یقین نہیں آتا کہ میرے ماں باپ نے یہ فیصلہ کیا کیسے۔ اور اب آپ مجھ سے یہ مت پوچھئے گا کہ میں آپ سے نفرت کیوں کرتی ہوں۔۔۔؟
آپ کو تو شاید پتا بھی نہیں ہوگا کہ آپ نے کب مجھے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کیا ہے
آئی ہیٹ یو
نفرت ہے مجھے آپ سے سنا آپ نے نفرت کرتی ہوں میں آپ سے آئی ۔۔۔۔۔۔دیشم ابھی بول ہی رہی تھی کہ اچانک خداش نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا۔
دیشم اسے خود سے پیچھے ہٹانے کی جدوجہد کرنے لگی لیکن اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
وہ ایک ہی لمحے میں اسے آپ نے اتنے قریب کر چکا تھا کہ اسے سانس لینے میں بہت دشواری ہونے لگی۔
اسے پیچھے کرنے کے چکر میں وہ اس کے ساتھ ہی بیڈ پر جا گری تھی
خداش تو کسی اور ہی جہان میں تھا اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے وہ اس کی نازک سی کمر کو جکڑ کر اپنے اوپر کر چکا تھا۔
مدہوشی میں اس کی سانسوں کو پیتے ہوئے وہ جان چکا تھا کہ وہ رو رہی ہے اس کی سانسوں کی رفتار مدھم سے مدھم ہوتی جا رہی تھی ۔لیکن شاید وہ اس کو کسی طرح کی رعایت دینے کا کوئی ارادہ رکھتا ہی نہیں تھا۔
شاید وہ مزید گستاخیوں پر اتر آتا کے اچانک اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اس کے لبوں کو آزاد کرتا وہ بہت بد مزہ ہو کر دروازے کی جانب دیکھنے لگا جبکہ دیشم اس کے اوپر سے اٹھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی
کون ہے جو اس وقت ہسبنڈ وائف کو ڈسٹرب کر رہا ہے وہ بول ہی رہا تھا کہ اچانک دیشم نے اس کے لبوں پر سختی سے اپنا ہاتھ جما لیا
منہ بند رکھیں دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا اگر کسی کو پتا چل گیا کہ آپ میرے روم میں تو۔۔۔!
تو کیا۔۔۔وہ بےفکر سا پوچھنےلگا
۔اگر آپ بے شرمی کا چولا پہن کر سب کو دکھانا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی میرے کمرے سے جا کر دکھائیے گا
یا اللہ اگر کسی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو۔۔! میرا منہ کیا دیکھ رہے ہیں نکلیں یہاں سے وہ اس کے اوپر سے اٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے لگی تھی۔
شرم سے اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا جب کہ خداش اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا کہ باہر سے آواز آئی۔۔
آپو دروازہ کھولیں پلیز میرا کل ٹیسٹ ہے میشہ کا فون آیا تھا اس ہٹلر نے ٹیسٹ دیا ہوا ہے آپ مجھے تیار کروائیں پلیز کھولے دروازہ حرم نے باہر اچھا خاصا شور مچا دیا تھا ۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے حرم ہے میں خود بات کرتا ہوں وہ اس کے چہرے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگا
نہیں نہیں آپ کچھ نہیں کریں گے آپ پلیز اس کمرے سے جائیں پلیز میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں وہ جس کے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی اور خداش کو اس پر ترس کے ساتھ پیار بھی آنے لگا
اب اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح سے کمرے سے نکلے جب باہر سے اسے تائی امی کی بھی آواز سنائی دینے لگی۔
ابھی کے لیے تو جا رہا ہوں لیکن آئندہ اگر ایسی کوئی بکواس کی نہ تو اس دفعہ بہت پیار سے سمجھایا ہے میں نے اگلی دفعہ منہ توڑ دوں گا وہ بڑی نرمی سے اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے اس کے لبوں کے نمی صاف کرتا کھڑکی سے باہر نکل گیا تھا ۔
جب کہ اس کے جاتے ہی دیشم سکون کا سانس لیتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
°°°°°°
کیا دیشو آپو اتنا وقت لگا دیا دروازہ کھولتے ہوئے حرم کتابوں کا ڈھیر اٹھائے اسے بول کے اندر داخل ہوئی جب کہ تائی امی کا تو سارا دھیان اس کے چہرے پر تھا۔
دیشو تمہارا چہرا اتنا سرخ کیوں ہو رہا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری لڑکی ہر وقت پڑھتی رہتی ہو ایک ہفتے میں تمہاری شادی ہے یہ پڑھائیاں شڑھائیاں کام نہیں آئیں گی تمہارے
رنگ روپ بگاڑ کے رکھ لیا ہے تم نے کل میں نے پارلر سے ایک لڑکی کو بلایا ہے وہ آ کر تمہیں تھوڑا سیٹ کرے گی
تائی امی پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی وہ انہیں کیا بتاتی کہ یہ ساری کرم نوازی تو ان کے بیٹے خداش کاظمی کی ہے۔۔
تائی امی کل تو میرا پیپر ہے اس نے بتانا ضروری سمجھا تھا
ہاں تو وہ کونسا کر صبح صبح تیرے سر پر سوار ہو جائے گی جب تو واپس آئے گی تبھی آئے گی ۔
میری جان تم اپنا خیال رکھا تمہیں ساری زندگی اسی حویلی میں گزارنی ہے کل کو تم نے اس نسل کو بڑھانا ہے اور تم اپنا خیال ہی نہیں رکھتی۔
تمہاری ماں کو تو کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے لیکن مجھے تو ہے نا ہائے میرے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے۔
آخر تائی امی اپنے مطلب کی بات بتا دی جس پر وہ صرف ہاں میں سر ہلا کر رہ گئی
مطلب کے اب اسے وہ سارے جتن بھی کرنے تھے جس سے وہ خداش کاظمی کی نظروں میں اہمیت حاصل کر سکے اب یہی کام رہ گیا تھا اس کے لیے
اسےتو اب تک اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ دادا جان نے اپنے ہونہار فرمانبردار سب سے زیادہ لاڈلے پوتے کے لئے اپنی باغی سب سے بدتمیز بدلحاظ پوتی کا انتخاب کیسے کیا تھا ۔
°°°°°°
وہ کمرے میں واپس آیا تو اس کے ذہن میں ایک بار پھر سے دیشم کی باتیں گونجنے لگی تھی وہ اس سے نفرت کرتی تھی لیکن کیوں
ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس کے پاس بھلا کیا وجہ ہوگی اس سے نفرت کرنے کے لئے ہاں شاید یہ سب کچھ اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لئے اس نے کہا ہو گا
لیکن اس کے یہ الفاظ اس کی زندگی پر کس طرح کا اثر کرسکتے تھے یہ وہ جانتی ہی نہیں تھی
خداش کاظمی کی محبت اتنی کمزور تو ہرگز نہ تھی کہ وہ صرف اس کے الفاظ پر بدل جاتی اس کی محبت اس کی چاہت ہر پل اس کے لئے بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی
لیکن پھر بھی اس کے الفاظ نے اسے تکلیف پہنچائی تھی اور وہ عمل جو وہ وہاں اس کے کمرے میں سر انجام دے کر آیا تھا
وہ پہلے وقتی غصہ تھا لیکن پھر کب وہ غصہ محبت کے روپ میں ڈھل کر شدت اختیار کر گیا
یہ اسے خود بھی پتہ نہ چلا تھا وہ اس کے ساتھ ایسا تو کچھ بھی کرنے کے لئے اس کے کمرے میں نہیں گیا تھا
لیکن نکاح کے بعد جو روپ خداش اس کا دیکھنا چاہتا تھا وہ دیکھنے کو اسے نا ملا تھا
اسے لگا تھا کہ نکاح کے بعد وہ اس سے شرمائی گھبرائی ہوگی لیکن نہیں وہ تو ہر بار کی طرح دبنگ لڑنے کو تیار بیٹھی تھی
بس اس کے اس انداز پر اس بات کی مہر لگانا کے اب وہ خداش کاظمی کی ہے ضروری ہو گیا تھا۔
خداش کو اس کا ہر روپ قبول تھا وہ ہر انداز میں اس کے دل میں اترتی تھی لیکن وہ لفظ نفرت جو اس نے اس کے لیے استعمال کیا تھا اس کے دل کی عجیب سی حالت کرگیا تھا۔
وہ کیسے اس لفظ کو نکال کر اپنی زندگی سے باہر کرے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
تم مجھ سے محبت کرو گی دیشم مجھے بے پناہ چاہو گی تمہیں مجھ سے محبت کرنی ہوگی۔
تمہاری نفرت کا یہ لفظ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تمہاری نفرت کیسے برداشت کروں گا تمہیں مجھ سے محبت کرنی ہوگی
تمہیں خود اپنی زبان سے اقرار کرنا ہوگا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو تبھی مجھے قرار آئے گا ۔
تم نے مجھے کانٹوں پر گھسیٹا ہے تو اب مجھے راحت بھی تمہیں دو گی ۔
°°°°°°
یہ تو بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ
لے جاؤ چار دن کے لیے اسے گھما پھرا کر لاؤ یہاں تو ہر وقت تم کسی نہ کسی ٹینشن میں لگے رہتے ہو یہ چار پانچ دن اس کے ساتھ گزارو۔
وہ بھی تمہارے ساتھ کچھ لمحے سکون کے گزارے گی ماما کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ ذریام عمایہ کو اپنے ساتھ چار پانچ دن کی چھٹی پر کہیں لے کر جانے والا ہے۔
عمایہ تو گھر کی ہی ہو کر رہ گئی تھی سارا دن کچھ نہ کچھ کرتی رہتی کبھی کچن میں کبھی باہر وہ بہت سگھڑ قسم کی لڑکی تھی گھر بار سنبھالنا اسے بہت اچھے طریقے سے آتا تھا۔
جی ماما میں بھی یہی سوچ رہا ہوں سارا دن گھر پر ہی رہتی ہے میں بھی کچھ دن کی چھٹی پہ ہوں تو گھوم آتے ہیں۔
ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا اور ویسے بھی آپ کی بہو اب تک ٹھیک سے مجھے سمجھتی نہیں ہے۔
وہ ان سے شکایت کرتے ہوئے ان کے قریب سے اٹھ کر اوپر کی طرف جانے لگا تو ماما ہنس دیں۔
یقینا وہ اس کے شرم و حیا کے بارے میں بات کر رہا تھا کیونکہ وہ شرماتی بہت تھی جس کی شکایت وہ کئی بار ان سے لگا بھی چکا تھا۔
°°°°°
وہ کمرے میں آیا تو اسے بیڈ پر اس کے کپڑے فولڈ کرتے ہوئے پایا اس نے پیچھے سے اسے اپنی بانہوں میں قید کرتے ہوئے اس کےکندھے پر اپنے لبوں کے مہر لگائی تھی۔
ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہو یہ نہیں کہ شوہر کے بارے میں بھی سوچا جائے۔
اس کی تنہائی دور کی جائے تم بہت بُری بیوی ہو وہ اسے پوری طرح سے قید کرتے ہوئے اس کے بالوں کو سائیڈ کرتا اس کی گردن پر جابجا اپنے تشنہ لبوں کو سیراب کرنے لگا وہ تو اس کی بانہوں میں ہی سمٹ گئی تھی۔
آپ بیٹھیے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں وہ اس کی شدت سے گھبراتے ہوئے بولی۔
کبھی کبھی چائے کے علاوہ کسی اور چیز کی طلب بھی ہو سکتی ہے لڑکی اور چیزوں پر بھی غور کرو وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
آپ کو کیا چاہیے اب بتائیں مجھےمیں لے آتی ہوں ۔کون سی چیز کی طلب ہے آپ کو وہ نروس ہے بولی ۔
تمہارے ہونٹوں کی مٹھاس کی وہ اس کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا تو عمایہ شرما کر سر جھکا گئی۔
تمہاری شرم و حیا کا علاج بھی نکال لیا ہے میں نے لے کر جا رہا ہوں ایک ہفتے تک تمہیں اتنا قریب رکھوں گا کہ ساری شرم و حیا بھلا دو گی صرف اور صرف ذریام شاہ یاد رہے گا ۔
ہم کہیں جانے والے ہیں وہ حیرت سے پوچھنے لگی
کیوں کیا تم میرے ساتھ نہیں چلنا چاہتی وہ اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کرتا اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھنے لگا
نہیں آپ جہاں لے جائیں ۔وہ سر جھکا کے بولی تو وہ لمحے میں ہی اسے اپنے سینے سے لگا گیا
تمہاری یہی ادائیں تو مجھے اچھی لگتی ہیں لڑکی تم سچ میں کسی کو بھی پاگل کر دینے کا ہنر رکھتی ہو
اور میں پاگل ہونا چاہتا ہوں وہ اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے بولا تو عمایہ نے آنکھیں بند کر لیں اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا تھا
آنکھیں بند کر لینے سے مصیبت ٹل نہیں جائے گی خرگوشنی وہ مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا۔
جبکہ اس کا پرشدت لمس محسوس کرتے ہوئےعمایہ اس کے سینے میں سر چھپا گئی جب کہ وہ پرسکون سا اسے اپنی بانہوں میں لیے اس کے ماتھے پر لب رکھ چکا تھا۔
°°°°°°
صبح ہوتے ہی وہ اپنے پیپر کے لئے بالکل تیار ہو کر نیچے آئی تو سب کو ٹیبل پر ناشتہ کرتے ہوئے پایا
السلام علیکم وہ سلام کرتے ہوئے اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے ہی لگی کہ دادا جان کی آواز سنائی دی
آج کے بعد تم یہاں پر نہیں یہاں پر خداش کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کرو گی دادا جان نے اپنے پاس رکھی تیسری کی طرف بھی اشارہ کیا۔
جو خداش کے ساتھ تھی خداش کی تو جیسے من کی مراد پوری ہوئی وہ دلکشی سے مسکرایا
دادا جان میری کرسی تو یہ ہے اور میں یہی پر بیٹھ کر ناشتہ کرتی ہوں اس نے کمزور سا احتجاج کیا تھا
اب وہ نہیں ہے اب یہاں ہے تمہارے شوہر کے ساتھ یہ جگہ تمہاری ہے یہاں آؤ اس کرسی پر بیٹھا کرو دادا جان نے کرسی کی جانب اشارہ کیا تھا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خداش کے ساتھ اپنی جگہ بنا چکی تھی۔
امی مجھے جلدی سے ناشتہ دیں مجھے ایک دفعہ ریوئین بھی کرنی ہے ۔وہ اپنی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے بولی جب دادا جان ایک بار پھر سے کہنے لگے
پہلے اپنے شوہر کے کھانے کی فکر کرو لڑکی پہلے اس کے لیے ناشتہ نکالو بعد میں اپنی پڑھائی کے پیچھے لگی رہنا۔کب سے تمہارے آنے کا انتظار کر رہا ہے دادا جان کا لہجہ سخت تھا اس نے گھور کر اپنے ساتھ بیٹھے خداش کو دیکھا
تو کیا اب اسے یہ سارے کام بھی کرنے پر پڑیں گے۔
اس سے تو بہتر تھا کہ یہ لوگ مجھے ان کے لیے ملازمہ رکھ لیتے نکاح کروانے کی کیا ضرورت ہے وہ بہت کم آواز میں بڑبڑائی تھی لیکن ساتھ بیٹھے خداش نے بہت غور سے اس کی ہر بات سنی تھی
اپنا مقام پہچانو لڑکی ۔ایک لڑکی اپنے شوہر کے دل میں اپنا مقام خود بناتی ہے اور یہ اس پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ وہ شوہر کی محبوب بیوی بنتی ہے یا پھر ملازمہ اور پھر بعد میں جب شوہر سے اس کی پسند کی جگہ پہ رکھتا ہے تو تب شوہر ظالم ہو جاتا ہے ۔
میں نے تمہیں تمہارے انداز میں سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے اب مجھے مجبور مت کرو اپنے اور تمہارے رشتے کی گہرائی بھی ٹھیک سے سمجھاؤں وہ بھی اس کی طرح بہت کم آواز میں اس کے کان کے قریب بولا تھا
لگتا ہے آپ ایک ہی دن میں اپنے آپ کو میرا شوہر ہی سمجھنے لگے ہیں لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ ابھی صرف نکاح ہوا ہے شادی نہیں وہ چبا چبا کر بولی
اور اگر میں چاہوں تو ابھی تمہارے پیپرز کے بجائے رخصتی بھی ہوسکتی ہے اس کی دھمکی جیسے بالکل نشانے پر جا کر لگی تھی اس کے چہرے پر ایک دم سے پریشانی آ گئی تھی وہ جانتی تھی وہ جو کہتا ہے وہ کر سکتا ہے۔
وہ اسے اگنور کرتے ہوئے اپنا ناشتہ کرنے لگی جب کہ خداش اس کی بولتی بند کرکے پر سکون ہو گیا تھا
اور یہ بات وہ بھی بہت اچھے سے سمجھ گیا تھا کہ اس لڑکی کو سیدھا کرنے کا اس کے پاس یہ اچھا طریقہ ہے۔۔۔
