65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 9)

Junoniyat By Areej Shah

وہ ناشتہ لے کر کمرے کے اندر آئی تو وہ آرام سے بیڈ پر لیٹا اپنے موبائل فون میں مصروف تھا ۔اس کے شرٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔جسے دیکھتے ہی عمایہ نظریں چرا گئی۔

اس نے ناشتہ لا کر ٹیبل پر لگایا جب اسے اس کی آواز سنائی دی۔

دروازہ بند کر دو اور آؤ ناشتہ کریں وہ اٹھ کر ٹیبل کی طرف آتے ہوئے بولا تھا

میں نے ناشتہ کر لیا ہے اور باہر بہت سارے کام ہیں ابھی زاہدہ باجی کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔۔

شادی تمہاری میرے ساتھ ہوئی ہے زاہدہ باجی سے نہیں اس کی نہیں میری بات مان لیا کرو لڑکی۔۔۔

میں نے کہا دروازہ بند کرو اور آکر میرے ساتھ ناشتہ کرو وہ بے حد سخت لہجے میں بولا تھا عمایہ بنا کچھ بولے دروازہ بند کرتی اس کی طرف آئی تھی جب کہ وہ ابھی تک اسی کو گھور رہا تھا

میں نے دروازہ ساتھ لگانے کے لئے نہیں لاک کرنے کے لیے کہا ہے وہ ایک بار پھر سے سخت لہجے میں گویا ہوا۔

نجانے کیوں اس کی نیلی آنکھوں سے اسے خوف سے آیا تھا وہ فورا پلٹی اور دروازہ بند کرنے لگی جب اسے باہر کسی کے ہونے کا احساس ہوا اور پھر اگلے ہی لمحے وہ زاہدہ باجی کا نیلا دوپٹہ وہاں دیکھ چکی تھی۔

اس نے فوراً دروازہ لاک کیا اور اس کی طرف آ گئی جو صوفے پر بیٹھا اپنا ناشتہ دیکھ رہا تھا۔

وہ تانیہ جی کہہ رہی تھی کہ آپ صبح چائے نہیں پیتے تو پھر انہوں نے مجھے جوس بنانے کے لیے کہا ۔اس نے جیسے اپنی صفائی پیش کی تھی ذریام نے ایک نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا

اور جوس کا گلاس اٹھا کر اپنے لبوں سے لگا لیا ۔

اگر یہ جان ہی لیا تھا کہ میں صبح چائے نہیں پیتا تو یہ بھی جان لیتی کہ جو شخص اورنج جوس پیتا ہے وہ پراٹھا بھی نہیں کھاتا

اس نے ایک نظر گھی سے لدے پراٹھے کی طرف دیکھا تھا۔تمہیں لگتا ہے کہ میرے جیسا بندہ اس طرح کا آئلی کھانا کھاتا ہوگا ۔۔۔۔؟اس نے شاید نہیں یقیناً اپنی جسمانی صحت کی طرف اشارہ کیا تھا ۔

سکس پیک ایپس کے ساتھ کسرتی وجود اور شرٹ سے جھلکتے مضبوط توانا شانے اس بات کے گواہ تھے کہ وہ اپنی جسمانی صحت کا خاص خیال رکھتا ہے ۔

سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ میں آئندہ احتیاط کروں گی اب اس کے انداز سے اسے خوف آنے لگا تھا۔

ذریام نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے جوس کا ایک اور سیپ لیا اور اسے انگلی سے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

ویسے تمہیں پتا ہونا چاہیے کیونکہ تمہیں پتہ نہیں ہوگا تو پھر کسے پتہ ہوگا ۔کافی قریب سے دیکھا ہے ہم دونوں نے ایک دوسرے کو میں تو تمہارے بارے میں سب کچھ جان چکا ہوں ۔

تمہیں بھی اتنا انجان نہیں رہنا چاہیے خیر ناشتہ کرو یہ باتیں رات میں کر لیں گے وہ بات کو کس طرف لے کر گیا تھا یہ سوچتے ہی عمایہ کے کان لال ہونے لگے وہ جتنا خوبصورت تھا اس سے کہیں زیادہ بے باک تھا۔

میں نے ناشتہ کر لیا ہے اس نے دوسری بار اسے یاد دلایا تھا ۔

ناشتہ کرنے کے بعد بھی تمہاری اتنی ہی آواز نکلتی ہے ناشتہ کرو جو تم نے کیا ہے مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں لیکن میرے ساتھ صبح تم روز ناشتہ کروگی اپنے لیے جو پسند ہو بنا لینا میرے لیے کیا بنانا ہے وہ میں بتا چکا ہوں ۔مجھے اکیلے ناشتہ کرنے کی عادت نہیں ہے اور ہمارے خاندان کا ایک رواج ہے کہ میاں بیوی اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں

اسی لیے آئندہ اس بات کا خاص خیال رکھنا اب جلدی سے یہ ختم کرو اور میرے کپڑے استری کرو اور میرے سارے کام تم اپنے ہاتھوں سے کیا کرو یاد رکھنا مجھے ملازمہ کا کام پسند نہیں ہے

وہ دوسرا حکم دیتا گلاس ختم کرتے ہوئے وہیں صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا

عمایہ نے بڑی مشکل سے دوسری بار ناشتہ کیا تھا کیونکہ اس شخص کا روعب ایسا تھا کہ وہ اس کے سامنے دوبارہ انکار نہ کر پائی تھی ۔

°°′°°°°

اس کے کپڑے استری کرنے کے بعد وہ باہر جانے لگی تو زریام نے اسے پھر سے روک لیا۔

کہاں جا رہی ہو تم ۔۔۔؟وہ ابھی دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ اسے پیچھے سے اس کی آواز سنائی دی ۔

وہ نیچے بہت کام ہے ۔مجھے جانا ہے وہ اسے اجازت طلب نظروں سے دیکھنے لگی ۔

دیکھو لڑکی تم یہاں سے تب تک نہیں جا سکتی جب تک میں کمرے سے نہ نکلوں ایک ساتھ نکلیں گے اور میں صرف آج کی بات نہیں کر رہا بلکہ ہم روز ایک ساتھ باہر جایا کریں گے ۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں مجھے تمہیں بار بار سمجھانے کی ضرورت نہیں پیش آئے میں اپنی بات دہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔

میں شاور لے کےآتا ہوں تب تک یہ تم اسے دیکھ لو میں نے تمہارے لئے کچھ اور لائن آرڈر کیا ہے ۔اور میرے خیال میں تین چار گھنٹے میں یہ چیزیں تمہیں یہاں ریسیو ہو جائیں گیں۔

اس کے بعد میں دوبارہ تمہیں اس حلیے میں نہ دیکھوں ۔

کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے یہ بات ہزار بار سوچنا کہ تمہارے نام کے ساتھ کس کا نام جڑا ہے ۔

یہ اجاڑ حالت بدلنی پڑے گی ۔مجھے ہرگز پسند نہیں کہ میری بیوی اس طرح بے رنگ رہے ۔ایک شادی شدہ لڑکی ہو تم تمہیں میرے ساتھ کس طرح چلنا ہے ابھی سمجھ لو آگے آسانی رہے گی

وہ اپنا موبائل اس کے ہاتھ میں پکڑاتا اپنےکپڑے لے کر اندر چلا گیا تھا اس کی پہلی ہی ملاقات بہت عجیب ثابت ہو رہی تھی وہ سب کی طرح ایک بار بار اس کے بھائی کو قاتل نہیں کہہ رہا تھا

وہ سب کی طرح اسے ونی نہیں کہہ رہا تھا بلکہ وہ اسے اپنی بیوی کہہ رہا تھا ۔

اسے حق دے رہا تھا وہ اس کے لئے قاتل کی بہن نہیں تھی وہ اس کے لئے اس کی بیوی تھی اور بس اس کی اتنی سی بات اسے آسمانوں تک پہنچا گئی تھی

وہ اس کا رویہ اس کی باتیں بھول چکی تھی اگر پتہ تھا تو صرف اتنا کہ کوئی اسے کچھ بھی کہے اس شخص کے لئے وہ اس کی بیوی ہے ۔

°°°°°°

حرم میڈم کلاس لینے نہیں چلنا کیا جلدی چلو سر کلاس میں جا بھی چکے ہیں

بس دو منٹ میں کلاس شروع ہونے والی ہے وہ اس کا ہاتھ ہلاکر اسے اوپر چلنے کا کہہ رہی تھی سر احمر کی کلاس شروع ہونے والی تھی۔

اور اس کی مجبوری تھی کہ جانا تو اسے تھا اوپر لیکن اس کا خواب ۔۔۔خیراپنے خواب کی وجہ سے اتنی اہم کلاس مس نہیں کر سکتی تھی ایک تو کل بھی اس نے چھٹی کی تھی جس میں ٹیسٹ ہوا تھا ۔

اور لڑکیوں کے مطابق کسی کا بھی ٹیسٹ اس لائق نہیں تھا کہ اس کے بارے میں تفصیل سے بات کی جا سکے

یقیناً آج اس کی بےعزتی ہونی تھی کل نہ آنے کی وجہ سے اور پھر اگر وہ آج کی کلاس نہ لیتی تو پھر نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوتا۔

وہ کمرے کے دروازے پر رک کر اجازت مانگنے لگی اس نے صرف سر کے اشارے سے اندر آنے کی اجازت دی تھی ورنہ ان کی طرف دیکھنا تک اس نے گوارہ نہ کیا تھا

وہ مسلسل اپنے سامنے رکھی کتاب کی طرف متوجہ تھا وہ آکر اپنی چیئر پر بیٹھ گئی۔

اور اسے دیکھنے لگی یہ پہلی بار ہو رہا تھا جب وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا شاید کلاس میں سب لوگ سر کی طرف متوجہ تھے اس وجہ سے

۔وہ اپنی سوچ کو پیچھے دھکیلتی اپنے کام میں مصروف ہو گئی

تھوڑی ہی دیر میں لیکچر شروع ہو چکا تھا وہ سارے لوگ بورڈ کی طرف دیکھتے لیکچر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

سب کو لیکچر سمجھا کر وہ اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تو وہ سب اہم پوائنٹس نوٹ کرنے لگے حرم بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی

لیکن وہ بالکل بھی اس کی طرف متوجہ نہ تھا بلکہ وہ اپنے ہی کام میں لگا ہوا تھا اس میں اتنا بڑا چینج دیکھ کر وہ حیران ہو رہی تھی ۔

حرم کیا کر رہی ہے تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا کب سے میں دیکھ رہی ہوں تو سر کو گھورے جا رہی ہے بے وقوف لڑکی اپنے کام پر دھیان دے۔

مجھے پتہ ہے سر بہت ہینڈسم ہیں ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تو انہیں گھورتی رہے میشہ نے اس انداز میں کہا تھا کہ حرم شرمندہ ہو کر رہ گئی۔

میشا نے اس کے اس طرح سے سر کو دیکھنے کا کیا مطلب نکالا تھا اسے سمجھنے میں زیادہ وقت نہ لگا تھا خود پر لعنت ملامت کرتی وہ اپنے کام میں لگ گئی ۔

کل کہاں تھی آپ حرم کاظمی ۔۔۔اپنے بالکل پاس سے آواز سنائی دینے پر وہ ایک لمحے کیلئے اچھل کر رہ گئی

طبیعت خراب تھی ۔۔۔۔۔وہ نظر چراتے ہوئے جواب دینے لگی۔

کلاس میں ٹیسٹ ہوا ہے آپ کو یقیناً اس بارے میں پتا تو چلا ہی ہوگا وہ پوری کلاس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اس نے فورا ہاں میں سر ہلایا تھا

مجھے کل کلاس سے سخت ناامیدی ہوئی ہے یہ ٹیسٹ جمرات کے دن دوبارہ سے ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ اس دفعہ مجھے نہ امیدی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی غیر حاضر رہے گا ۔

وہ بولتے ہوئے دوبارہ اپنی کرسی کی طرف چلا گیا تھا ۔

جی جی سر ایسا ہی ہوگا اس کی جگہ میشا نے جواب دیا تھا ۔

یشام اپنا لیکچر ختم کرتا کلاس سے باہر چلا گیا تھا بالکل کسی نارمل ٹیچر کی طرح آج نہ تو اس نے اسے عجیب پرسرار نگاہوں سے گھورا تھا اور نہ ہی آج اس کے انداز میں اسے کچھ عجیب محسوس ہوا تھا بلکہ وہ بہت نارمل سا تھا ۔

اور اس کا اتنا نارمل ہونا ہی تو حرم سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔

°°°°°

کیا ہوگیا ہے تجھے حرم آج تو اتنا عجیب ری ایکٹ کیوں کر رہی ہے میں نوٹ کر رہی ہوں کہ سر احمر جہاں جہاں جا رہے ہیں تو ادھر ہی دیکھے جا رہی ہے یہ کیا حرکتیں شروع کر دی ہیں تو نے باقی لڑکیوں کی طرح

اس کے پاس آ کر بیٹھتی وہ اس سے کہنے لگی وہ صبح سے اسے نوٹ کر رہی تھی ۔

میں نہیں تو میں کیوں انہیں دیکھوں گی وہ تو بس ایسے ہی میرا دھیان چلا گیا ان کی طرف آج وہ کچھ چینج رہے ہیں شاید اس لیے وہ اپنی صفائی دینے لگی

چینج ۔ ۔۔۔کیا چیز چینچ رہی ہے آج تجھے ان میں مجھے تو روز کے جیسے ہی لگ رہے ہیں بلکہ روز کی بانسبت آج ہائٹ زیادہ لمبی لگ رہی ہے ان کی وہ اچانک سے بولی تو حرم اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔

میں ہائٹ کی بات نہیں کر رہی ڈفر بلکہ میں بات ہی کیوں کر رہی ہوں مجھے بھوک لگی ہے چلو آؤ کچھ کھانے چلتے ہیں ۔وہ فورا ہی بات بدل کر اٹھنے لگیں جب اچانک سر احمر ان کے پاس آرکے

مس حرم آپ کیا مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں میرے خیال میں آپ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی ہیں میں کب سے نوٹ کر رہا ہوں آپ مجھے دیکھ رہی ہیں شاید آپ کچھ ڈسکس کرنا چاہتی ہیں مجھ سے۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ کر بالکل سیریس انداز میں بولا تھا جب کہ وہ پہلے تو اس کے اردو لب و لہجے پر حیران ہوئی اور پھر فورا نفی میں سر ہلانے لگی ہو بھلا اس سے کیا بات کرتی ۔

نہیں سر بالکل بھی نہیں آئی ایم رئیلی سوری میں تو نہیں دیکھ رہی تھی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے وہ فوراً اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے تیز تیز قدم اٹھاتی نکلی تھی۔

جبکہ میشا بھی جلدی سے اس کے پیچھے بھاگ گئی تھی اور ان کے جاتے ہی اچانک جو مسکراہٹ یشام احمر نے چھپائی تھی وہ دیکھنے لائق تھی۔

۔°°°°°

دیکھا تو نے کیسے ہر طرف مجھے ڈھونڈ رہی ہے ہر طرف اس کی نگاہیں میری تلاش میں ہیں۔

صبح سے جس طرف میں جا رہا ہوں اس کی نگاہیں میرا پیچھاکر رہی ہیں۔ابھی ان آنکھوں میں بے چینی ہے لیکن میں ان آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتا ہوں۔

جس میں تھوڑا سا وقت لگے گا لیکن بہت جلد وہ میرے علاوہ اور کسی کو نہیں سوچے گی اس کے دماغ پر اس کے ذہن پر صرف اور صرف یشام احمر کا قبضہ ہوگا ۔

روز کی بانسبت آج بہت پر سکون تھا رات کو کافی دیر سے واپس آیا تھا اور اسے دیکھ کر صیام نے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ تم حرم کے پاس گئے تھے نہ جس پر اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

وہ اتنا خوش تھا کہ کوئی حد نہیں اور اب اس نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حرم کو کل پورا دن تنگ نہیں کرے گا بلکہ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں اور آج اس نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا

لیکن آج اسے مزید پریشانی ہونے لگی تھی پہلے وہ اسے دیکھتا تھا آج وہ اسے دیکھتی رہی تھی سارا دن وہ عجیب قسم کی الجھن کا شکار رہی تھی ۔

اور اس کے انداز کو دیکھ کر صیام خود بھی تو الجھن کا شکار ہونے لگا تھا ۔کیا چل رہا تھا اس آدمی کے دماغ میں سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا وہ اس لڑکی سے چاہتا کیا تھا سوچ کیا تھی اس کی

وہ اس سے کئی دفعہ پوچھ چکا تھا کہ وہ آگے کیا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس نے کہہ دیا کہ جب کوئی قدم اٹھائے گا اسے بتا دے گا ۔اور اس کا یہ پرسرار انداز ہی تو اسے اس سے خوفزدہ کرتا تھا ۔

صیام سمجھ چکا تھا کہ وہ اس لڑکی کو لے کر اپنے دل میں بہت خاص جذبات رکھنے لگا ہے وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے لیکن ایسا بھلا کیسے ممکن تھا

ایک تو وہ لڑکی اس سے عمر میں بہت چھوٹی تھی اور پھر وہ اسے جانتی ہی کہاں تھی اور سب سے خاص بات اس کے یہاں آنے کے پیچھے ایک خاص مقصد تھا۔

وہ صرف ایک گرلز کالج کا ٹیچر بن کر یہاں نہیں آیا تھا بلکہ وہ یہاں کسی بہت خاص وجہ سے آیا تھا ۔

°°°°°°

وہ اسے اپنے ساتھ نیچے لے کر آیا تھا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔

اس کے پیچھے آتے ہوئے بھی اسے ڈر لگ رہا تھا نیچے سب لوگوں کا دھیان ان دونوں کی طرف تھا وہ موبائل پر مصروف تھا جبکہ اپنے پیچھے آتے وجود کو شاید وہ۔بھول چکا تھا

وہ آتے ہوئے دادا جان کے ساتھ صوفےپر بیٹھ گیا جب کہ وہ سیدھی کچن کی طرف چلی گئی تھی اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہونے والا تھا تو اسے کھانا تیار کرنا تھا ۔

یہ کیا سارا سارا دن اب تمہارے کمرے میں ہی گھسی رہا کرے گی کیا چاچی اسے دیکھتے ہوئے بڑے ہی تکھےانداز میں بولی تھیں۔

اس نے آئی ابرو اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ساتھ بیٹھی تانیہ بھی اسی کی طرف متوجہ تھی۔

میرا نہیں خیال کہ میری بیوی کےمیرے ساتھ رہنے پر آپ لوگوں کو کسی بھی طرح کا کوئی مسئلہ ہونا چاہیے اس نے کافی سرد انداز میں جواب دیا تھا

نہیں نہیں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے بیٹا تم بتاؤ کچھ پتہ چلا اس قاتل کا دادا جان نے فورا بات بدلی تھی ۔

ابھی تک تو نہیں لیکن ایک جگہ سے خبر ملی ہے کہ وہ آدمی کچھ دن کے لیے اس جگہ پر چھپا رہا ہے میں اپنے آدمیوں کو وہاں بھیج رہا ہوں دیکھتے ہیں کیا خبر ملتی ہے ۔

وہ سرسری سا جواب دیتا اپنی ماں سے باتوں میں مصروف ہو گیا ۔

جلد سے جلد قاتل کا پتہ لگاؤ اور اس لڑکی کو اس گھر سے چلتا کرو یہ میرے بیٹے کے قاتل کی بہن ہے اور اس وقت یہ میری بیٹی کی جگہ پر ہے میں اس لڑکی کو ایک دن بھی اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی ۔چاچی اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں

کوئی کسی کی جگہ نہیں لیتا چاچی جان ہر انسان اپنی جگہ خود بناتا ہے اور جہاں تک بات ہے آپ کی بیٹی کی جگہ کا یہ جگہ آپ لوگ زبردستی بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

میں نے کوئی جگہ نہیں دی تھی اور جس لڑکی کو اب آپ نے زبردستی ونی کے نام پر میرے ساتھ مسلط کیا ہے وہ میری بیوی ہے۔

تو یقیناًوہ اپنی جگہ پر آئی ہے ۔اور میں اب مزید اس فضول بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ۔

میں جلد ہی آپ کے بیٹے کے قاتل کا پتہ لگا لوں گا ان شاءاللہ کوئی اچھی خبر ملتے ہی آپ سب کو انفارم کر دوں گا ۔میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا ہوا ہے اور باقی سب کچھ دن میں گھر پر ہی ہوں تو میں سکون چاہتا ہوں ۔

وہ اٹھ کر وہاں سے جا چکا تھا جبکہ دادا جان نے غصے سے ان کی طرف دیکھا تھا وہ بہت بار منع کر چکے تھے کہ بار بار اس کے سامنے اس زبردستی کے رشتے کا ذکر نہ کیا جائے۔

ان کا پوتا ونی جیسی بے بنیاد اور فضول رسموں کو نہیں مانتا تھا اور نہ ہی وہ گاؤں میں ہونے والی کسی بھی الٹی سیدھی ایکٹویٹی میں حصہ لیتا تھا اسے یہ گوارانہ انداز بالکل پسند نہ تھا ۔

یہ تو دادا جان ہی جانتے تھے کہ انہوں نے اسے اس شادی کے لیے کس طرح سے مجبور کیا تھا اور اب بار بار اسے اس بات کی یاد دلانا

کہ اس کے سر پر ایک رشتہ زبردستی مسلط کیا گیا ہے سراسر ایک بےوقوفی ہے انہیں یقین تھا کہ جلد ہی وہ باقر کے قاتل کا پتہ لگا لے گا

اور پھر تو اس لڑکی کو اس کی زندگی سے نکالنے میں انہیں زیادہ وقت نہ لگنا تھا ۔

اس نے دادا جان کے سامنے شرط رکھی تھی کہ وہ کسی ان پڑھ گنوار لڑکی سے شادی ہرگز نہیں کرے گا ۔اور اگر وہ اس کے لیے اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اسے پورا حق دیا جائے کہ بعد میں وہ اس تعلق کو ختم کر سکے ۔

اور دادا جان نے کہا تھا کہ جیسے ہی وہ اپنے پوتے کے قاتل کو سرعام پھانسی چڑھائیں گے وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے گا اور انہیں یقین تھا کہ عمایہ جس طرح کی لڑکی ہے ایسی لڑکی ان کے پوتے کے ساتھ کبھی بھی نہیں چل سکے گی ۔

خیر یہ تو اب وقت ہی بتا سکتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا تھا

°°°°°