Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 64)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 64)
Junoniyat By Areej Shah
کیا ہوا ہے تمہیں اس طرح سے بستر میں کیوں گھسی ہوئی ہو وہ صبح سے اسے نوٹ کر رہا تھا وہ روز کی بانسبت کافی سست تھی آج سو اس نے پوچھ لیا
آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں جیوں یا مروں۔۔۔۔؟
آپ کو تو بس اپنی کرنی ہوتی ہے تو کریں اپنی دیں دھمکی مجھے اور لے جائے کہیں بھی باہر اپنے ساتھ
وہ بے حد غصے سے بولتی واپس بستر میں گھس گئی تھی
جبکہ خداش کو اس کی طبیعت میں کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی تو وہ آگے بڑھا اور اس کے چہرے سے کمبل ہٹا کر اس کا ماتھا دیکھنے لگا۔
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے دیشم وہ اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتا ہوا اس سے کہنے لگا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جب کہ پورا بدن تپ رہا تھا ۔
اٹھو میں تمہیں ہوسپیٹل لے کر چلتا ہوں بلکہ نہیں برف باری ہو رہی ہے راستہ بند ہوگا اور تم بھی جانے کی کنڈیشن میں تو ہو نہیں ۔۔۔”
میں ایسا کرتا ہوں کسی ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں تاکہ وہ تمہیں چیک کرے اتنی زیادہ طبیعت خراب ہے تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں فکرمند ہو گیا تھا۔
ہر چیز بتانی نہیں پڑتی خداش کاظمی کبھی کبھی انسان کو خود بھی پتہ چل جاتا ہے لیکن آپ کو دھمکیاں دینے سے فرصت ملے تو آپ کو احساس ہونا کہ دوسرے انسان پر کیا گزر رہی ہے
اسے اپنی اتنی فکر کرتے دیکھ تھوڑی سی ادا ِ نزاکت تو دیشم میں آ ہی گئی تھی جس کا اس نے بھرپور اظہار کیا تھا
آئی ایم ریلی سوری دیشم مجھے خیال رکھنا چاہیے تھا پتا نہیں میرا دھیان کہاں ہوتا ہے
میں ابھی ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں وہ تمہیں چیک کرے گا وہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا اٹھ کر باہر نکل گیا تھا جبکہ اس نے اپنے آپ کو مزید بستر میں گھسا لیا تھا
°°°°°°
دیشم اٹھو یہ سوپ پی لو تمہاری طبیعت بہتر ہوجائے گی وہ اس کے لئے خود سوپ بنوا کر لے کر آیا تھا
مجھے کچھ نہیں چاہئے خدا کے لئے مجھے اکیلا چھوڑ دیں وہ نیند میں بولی تھی
تمہیں کچھ چاہیے یا نہیں اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن مجھے میری بیوی صحیح سلامت چاہیے اٹھو اور پیو اسے وہ جھٹکے میں اسے بٹھا چکا تھا
جبکہ اپنی بیماری میں نخرے اٹھوانے کے بجائے اس کے غصہ کرنے پر اسے رونا آنے لگا تھا ۔
میں نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہئے میں سونا چاہتی ہوں کیوں بار بار مجھے اٹھا دیتے ہیں۔
کم ازکم بیماری میں تو انسان کو آرام کرنے دینا چاہیے ۔وہ بےزار سے انداز میں بول رہی تھی
تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر اسے چیک کر کے گیا تھا اور انجکشن بھی لگا کر گیا تھا جس کے بعد اس کا بخار کچھ حد تک کم ہوا تھا لیکن ابھی تک اترا نہیں تھا ۔
سو جانا جتنا چاہے آرام کر لینا میں تمہیں منع تھوڑی نہ کر رہا ہوں میری جان لیکن ابھی فی الحال کے لیے تمہیں یہ سوپ پینا ہوگا ۔
اس سے تم بہتر محسوس کرو گی وہ اسے زبردستی اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھ سے سوپ پلانے لگا تھا
جو اسے بالکل بھی پسند نہیں آرہا تھا لیکن مجبوری یہ تھی کہ خداش نے کہا تھا کہ اس کو پینے سے پہلے وہ لیٹ نہیں سکتی۔
اپنی نیند کو لے کر وہ فی الحال کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو رہی تھی
کاش آپ سچ میں اتنے اچھے ہوتے جتنے بنتے ہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تو خداش کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
کاش تم جان جاتی کہ میں کتنا اچھا ہوں تو تمہیں یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی وہ سوپ کا پیالہ اٹھا کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولا جب کہ وہ دوبارہ لیٹ چکی تھی ۔
جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ اس سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی ۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد اسے خداش کے ہاتھ اپنے ماتھے پر محسوس ہوئے تھے وہ بے حد نرمی سے آہستہ آہستہ اس کے قریب بیٹھا اس کا سر دبا رہا تھا۔
جبکہ اس کی انگلیوں کا لمس محسوس کرتی وہ آہستہ آہستہ نیند میں اترتی چلی گئی
°°°°°°
اب کیسا محسوس کر رہی ہو تم وہ سو کرجاگی تو خداش کو اپنے بے حد قریب بیٹھے پایا تھا
اس نے بنا بحث کیے ہاں میں سر ہلایا تھا وہ اب سچ میں بہت بہتر محسوس کر رہی تھی
یوں اس کے نیند میں اس کا سر دبانے اور پھر خود سوپ بنا کر اس کے لیے لانے پر وہ کچھ حد تک تو اس کی شکر گزار تھی ہی
اس کی بیماری میں اس نے اسکا کافی خیال رکھا تھا ۔اور وہ اس سے لڑ جھگڑ کر نا اپنا موڈ خراب کرنا چاہتی تھی نہ ہی اس کا۔
تھینک یو ۔۔۔۔۔؟
وہ اس کے اٹھنے پر سیدھا ہوا جب اسے اس کی آواز سنائی دی خداش کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی
تھینک یو کس لئے ۔۔۔؟وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا
آپ نے میرا اتنا زیادہ خیال رکھا اس کے لیے۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی دل میں کہیں خیال آیا تھا کہ وہ اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا کہ اسےاب تک لگتا تھا
اووو اچھا لیکن میاں بیوی ایک دوسرے کو اس طرح سے شکریہ نہیں بولتے وہ مسکراتے ہوئے بولا
اسے اس کے ارادے خطرناک لگ رہے تھے وہ اس کے پاس آیا ۔۔۔پھر بہت پاس اور پھر بے حد پاس آتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوتا پیچھے ہٹ گیا ۔
میاں بیوی ایک دوسرے کو اس طرح سے تھینک یو بولتے ہیں ۔جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ ابھی بہت ساری جگہوں پر گھومنے جانا ہے وہ اس کا گال تھپتھپاتا اٹھ گیا ۔
جبکہ دیشم تھوڑی دیر پہلے جو اس کے بارے میں اچھا سوچ رہی تھی اس کی ساری سوچ بدل چکی تھی وہ برا تھا اس نے برا ہی رہنا تھا وہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا تھا ۔
اور اس بار اس نے یہ بات اپنے دماغ میں محفوظ کرکے اپنے دماغ کو تالا لگا کر چابی گم کر دی تھی
°°°°°°°
کیا تم اب تک اپنی بات پر قائم ہو دادا جان نے آج پھر سے وہی سوال پوچھا تھا جس کا جواب وہ پہلے ہی جانتے تھے
آپ کو پتہ ہے دادا جان میں جب کسی چیز کی ضد کرتا ہو تو اسی چیز پر قائم رہتا ہوں ۔
میں آج بھی وہی کہوں گا جو آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں ۔میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں
اس کے لیے مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے لیکن آپ میرے ساتھ نہیں ہیں میری ہر خواہش پوری کرنے والے میری ہر بات ماننے والے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پر مجھے انکار کر رہے ہیں۔
تو بتائیں میں کیا کروں ۔۔۔؟شائزم اپنا تقریبا سارا سامان پیک کر رکھا تھا یہاں تک کہ کل رات وہ اس سے بھی مل کر آیا تھا
تم ہمیں مجبور نہیں کر سکتے شائزم
یہ غلط کر رہے ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم ۔۔تم جانتے ہو ہم تمہارے بنا نہیں رہ سکتے وہ بے بسی کی انتہا پر تھے ۔
آپ میرے بغیر نہیں رہے سکتا دادا جان میں اس کے بناء نہیں رہ سکتا نہیں رہ سکتا میں اس کے بناء اسی لئے جا رہا ہوں ۔
وعدہ کرتا ہوں جلدی واپس آؤں گا وہ ان کے گلے لگتے ہوئے اپنا سامان اٹھا چکا تھا
ٹھیک ہے ہم تمہاری بات مانتے ہیں تمہاری خاطر ہم اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہیں تم جو کہو گے ہم وہ کریں گے لیکن ہمیں چھوڑ کر مت جاؤ
دادا جان اس کی ضد کے سامنے ہار رہے تھے وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا نہ ہی ان کے پاس آ کر بیٹھتا تھا
اگر گھر آتا تو سارا سارا دن اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا اور اگر کہیں باہر چلا جاتا تو دو دو دن تک واپسی نہ ہوتی
وہ کوئی ناسمجھ بچہ نہ تھا جسے وہ کان پکڑ کر اپنی بات ماننے پر مجبور کردیتے وہ ہمیشہ سے اپنی مرضی کا مالک رہا تھا اور آگے بھی اس نے اپنی مرضی ہی کرنی تھی ۔
تو بہتر یہی تھا کہ وہ خود ہی اس کے سامنے ہار جائیں اس کی بات کو مان لیں ورنہ ممکن تھا کہ یہ بھی وہی قدم اٹھاتا جو آج سے کئی سال پہلے افشین نے اٹھایا تھا ۔
اور اس کی خون میں لت پت لاش تو وہ آج تک نہیں بھولے تھے ۔تو اپنے پوتے کو اس حال میں کیسے دیکھتے ۔
وہ اسے ان راستوں کا مسافر نہیں بنا سکتے تھے جن راستوں سے افشین کبھی لوٹ کر نہیں آئی تھی انہیں آفشین بے حد پیاری تھی وہ اس سے انتہا محبت کرتے تھے ۔
اور اتنی ہی محبت انہیں اپنے اس پوتے سے بھی تھی وہ ضدی تھا اپنی منوانے والا تھا۔
لیکن ان کے لئے بے حد عزیز تھا اس کی سوچ الگ تھی اس کی شخصیت الگ تھی لیکن انہیں شائزم سے زیادہ عزیز اور کچھ بھی نہیں تھا
تبھی تو وہ اس کی بات ماننے کو راضی ہوگئے تھے ۔
جس پر وہ بے یقینی سے کتنی دیر انہیں دیکھتا رہا اور پھر چہرے کی مسکراہٹ لائے وہ ان کے سینے سے لگ گیا تھا
°°°°°
آپ حویلی گئے تھے تو مجھے اپنے ساتھ لے کر کیوں نہیں گئے زریام میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ اپنے گھر والوں سے دور ہو جائے
اس گھر واپس چلتے ہیں پہلے ہی وہ لوگ مجھے پسند نہیں کرتے اب وہ لوگ ہی سوچیں گے کہ میں نے آپ کو گھر سے دور کردیا
میں کسی کی بد دعاؤں میں شامل نہیں ہونا چاہتی زریام ہمہیں واپس کر چلنا چاہیے وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
میں تمہارے ساتھ واپس اس لئے نہیں گیا کیونکہ میں فی الحال تمہیں وہاں لے کر نہیں جانا چاہتا جب تک ہمارا بچہ اس دنیا میں نہ آجائے میں کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا
تم نے مجھے کسی سے دور نہیں کیا میں خود ان سب سے دور ہوا ہوں کیونکہ وہ لوگ میرے بچے کو اس دنیا میں لانے پر خوش نہیں ہیں
اور دوسری بات میں تمہیں وہ ٹینشن زدہ ماحول نہیں دینا چاہتا جس میں تم اور میرا بچہ ٹھیک نہ رہ سکے
اور ہمارے گھر چھوڑنے کی وجہ تم ہرگز نہیں ہو عمایہ خود کو ہر اس چیز کا ذمہ دار مت سمجھا کرو
تم ان سب چیزوں کے بارے میں نہیں بلکہ ہمارے ہونے والے بچے کے بارے میں سوچو اور اب میں تمہارے منہ سے کچھ نہ سنوں
اس نےکچھ بولنے کی کوشش کی تھی جب ذریام نے اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے خاموش کروا دیا ۔
جبکہ وہ کچھ بھی بولے بنا مسکرا دی تھی
°°°°°
ارے ریدم بیٹا شکر ہے تم بھی کمرے سے باہر نکلی
وہ اسے دیکھتے ہی خوش ہوگئے تھے جبکہ وہ مسکراتے ہوئے آکر ان سب کے ساتھ بیٹھ گئی تھی
میرا کہیں گھومنے پھرنے کو جانے کا دل کر رہا ہے گھر میں رہتے میں بور ہو چکی ہوں۔
اس نے کہا تو تایا ابو مسکرا دیے تھے
تو بیٹاجان میں آپ کو کہیں باہر گھمانے لے جاتا ہوں
ویسے بھی آج کوئی ضروری میٹنگ تو ہے نہیں اسی بہانے آپ کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار لوں گا سب سے پہلے تایا ابو ہی بولتے تھے
جبکہ سامیہ اوردیدم تو انہیں دیکھ کر رہ گئیں آج تک کبھی انہیں گھمانے یا باہر لے جانے کے بات بھی نہ ہوئی تھی
اور اس نےایک دفعہ کہا تھا اور تایا جان تیار ہوگئے تھے اس کو لے جانے کو۔
نہیں مجھے کسی کے ساتھ نہیں اکیلے جانا ہے ۔اس نے عجیب سی نظروں سے تایا ابو کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
بیٹا اس طرح سے اکیلے تو ہم آپ کو کہیں نہیں بھیج سکتے کسی نہ کسی بڑے کو تو آپ کے ساتھ جانا پڑے گا نہ اور پھر راحت آپ کو پورا شہر دکھا دے گا
آپ کو یقیناً راحت کی کمپنی بالکل بور نہیں کرے گی ۔
مجھے تو آپ ان سے زیادہ انٹرسٹنگ لگتے ہیں آپ مجھے لے چلیں نا ۔ مجھے آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو مل جائے گا اور آپ بھی شاید میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں ۔
اس نے دادا جان کو دیکھتے ہوئے کہا تو دادا جان نے اگلے ہی لمحے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
ارے کیوں نہیں بیٹا ہمارے ساتھ چلو تم جہاں چاہو گی ہم تمہیں لے کر جائیں گے بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ سب لوگ چلتے ہیں
سب کی آوٹنگ ہو جائے گی دادا جان خوشی سے بولے تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔
سب کے بارے میں تو مجھے نہیں پتہ لیکن میں آپ کے ساتھ جانا چاہتی ہوں آپ لوگ سب آؤٹنگ کریں میں تو دادا جان کے ساتھ کہیں گھومنے جاؤں گی آپ لےجائیں گےمجھے صرف اپنے ساتھ ۔۔۔؟
وہ ان کو دیکھتے ہوئے بولی جب کے دادا جان تو اس کے دادا جان کہنے پر ہی خوش ہو گئے تھے ۔
میری جان ضرور کیوں نہیں وہ اس کا ماتھا چومتے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولے جب کہ سامیہ اور دیدم ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے وہ جگہ ہی چھوڑ چکی تھی
°°°°°°
بیٹا جان کیا میں اندر کمرے میں آ سکتا ہوں تایا جان دروازے پر کھڑے اس سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے وہ بنا کچھ بولے سر ہلا کر انہیں اندر کے آنے کی اجازت دے چکی تھی
اندر داخل ہوئے تو وہ اپنے کام میں مصروف الماری سے کچھ نکال رہی تھی
بیٹاجان میری بات کا برا مت منانا لیکن میں نوٹ کر رہا ہوں جب سے تم اس گھر میں آئی ہو مجھ سے بات نہیں کرتی۔
کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہے ۔دیکھو بیٹا اپنے دل میں کچھ رکھنا جو ہے مجھے بتا دو وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولے جب کہ وہ پرسرار نظروں سے ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
شاید کچھ ہو اور مجھ سے زیادہ آپ بہتر طریقے سے جانتے ہوں۔ آپ کو ایک بات بتاؤں۔۔۔؟وہ عجیب پراسرار انداز میں کہتی ان کے کان کے قریب جھکی تھی
میں کچھ بھولی نہیں ہوں
جب میرے ماں باپ مرے میں صرف چھ سال کی تھی لیکن کوئی چہرہ ایسا نہیں جو میری یاداشت میں محفوظ نہ ہو ۔
وہ پیچھے کو ہٹتی اسی انداز میں مسکرا رہی تھی جبکہ تایاجان بنا کچھ بولے چہرے سے پسینہ صاف کرتے تیزی سےقدم اٹھاتے کمرے سے باہر نکال گئے تھے
°°°°°°
آج تین دن بعد وہ اس کے ساتھ باہر گھومنے کو آئی تھی جبکہ خداش اس کے پیچھے آتا اس کی تصویریں بنا رہا تھا
کیا فائدہ ہے اتنی ساری تصویریں بنانے کا مجھے تو کوئی تصویر دکھاتے نہیں آپ اس نے ناراضگی سے کہا تھا آج تیسرے دن جاکر اس کی طبیعت سنبھلی تھی
تو وہ اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا ۔جہاں آنے کے بعد وہ کافی فریش محسوس کر رہی تھی
ارے یار دیکھ لینا تم تمہاری ہی تو تصویریں ہیں
ویسے بھی اپنی تصویریں دیکھ کر کیا کروگی یہ سب کچھ میرے پاس ہی رہنے دو
وہ اسے اجازت دینے کے بعد بولا تو دیشم نے اسے گھور کر دیکھا ۔
منہ کیا بنا رہی ہو میں پوز بنانے کے لیے کہہ رہا ہوں ۔خداش اس کی ناراضگی پر چوٹ کرتے ہوئے بولا تو دیشم نے پھر سے اسے گھور کر دیکھا۔
لیکن وہ رکا نہیں بلکہ اس کی تصویریں بناتا رہا پھر یہ سوچ کر کہ اس کی تصویریں بری آئیں گی وہ خود ہی سیدھی ہو کر تصویریں بنوانے لگی
°°°°°°
ٹیسٹ ٹیسٹ زندگی ٹیسٹ میچ ہوکر رہ گئی ہے ۔
مجھ سے نہیں تیار ہوتا یہ اتنا زیادہ ۔عجیب ٹیچر ہیں کم از کم سٹوڈنٹس کو ٹھیک سے ٹیسٹ تیار کرنے کے لیے کم از کم دو سے چار سال کا وقت دینا چاہیے
لیکن نہیں یہاں تو عجیب ہی سسٹم ہے جب دل چاہے بول دو ٹیسٹ کا اسٹوڈنٹ بچارے کے سر پر ڈال دو مصیبت
زندگی تو بس ان ٹیچر لوگوں کے دلوں پر چلتی ہے جب دل چاہا کسی کے موڈ کا بیڑا غرق کر دیا۔
بلکہ موڈ کا نہیں زندگی کا بیڑا غرق کر دیا اب اتنی موٹی کتاب تیار ہوتی ہے کیا معصوم بچی سے۔ ۔۔
میں بول رہی ہوں اگر مجھ سے تیار نہ ہوا تو میں آگ لگا دوں گی اس کتاب کو اور کالج جانا بند کر دوں گی
میری زندگی ہے اور یہ میرے رولز پرچلے گی میں کسی کی کوئی بات نہیں ماننے والی بے شک میرا کلاس ٹیچر میرا شوہر سرہی کیوں ہو۔ ۔۔۔۔
وہ جو منہ میں آیا بولتی چلی جا رہی تھی جب کہ وہ کچن میں کھڑا مسلسل کھانا بناتے ہوئے اس کی باتیں انجوائے کر رہا تھا ۔
جب تھوڑی دیر بعد اس نے محسوس کیا کہ آوازیں آنا بند ہو گئی ہیں وہ باہر بیٹھ کے کل کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی جب کہ وہ کھانا بناتے ہوئے اس کی مدد بھی کر رہا تھا لیکن اب اس کی آواز بند ہوئی تو اس نے جھانک کر دیکھا
تو دنیا کی سب سے معصوم بچی کو نینی بھی آ گئی ۔اتنا بھی مشکل نہیں تھا یہ چیپٹر لیکن معصوم بچی کا کیا جا سکتا ہے ۔
وہ اس کے آگے پیچھے سے ساری کتابیں اٹھا کر سمیٹتا نرمی سے اس کا نازک وجود اپنی بانہوں میں لے کرروم میں آ گیا تھا
معصوم بچی نے ضرورت سے زیادہ پڑھائی کر لی ہے توآرام تو بنتا ہے ۔
لیکن ڈارلنگ تمہارا شوہر سر ضرورت سے زیادہ ہی ظالم ہے اتنی آسانی سے تو بخشے گا نہیں تمہیں جب تم جاگو گی تب پھر سے پڑھنے پر بیٹھاوں گا ۔
وہ نرمی سے اس پر کمبل ڈال کر باہر نکلنے لگا ۔
یہ معصوم بچی جلدی نہیں اٹھے گی اور نہ ہی وہ چپٹر پڑھے گی بلکہ یہ معصوم بچی کل چھٹی کرے گی ابھی دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ اسے پیچھے سے آواز آئی ۔
تو اس کا شوہر سر کھڑوس ٹیچر بن کر اسے بہت ڈانٹے گا اور ہو سکتا ہے روم سے بھی باہر نکال دے۔دھمکی دی گئی
کلاس روم سے یا بیڈ روم سے اسے بستر کے اندر سے آواز آئی تھی ۔
یہ فیصلہ ٹیسٹ کے رزلٹ کے بعد ہوگا وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا تھا جب کہ تھوڑی ہی دیر میں حرم سچ میں نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی
°°°°°
