65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 88)

Junoniyat By Areej Shah

کیا ہوگیا میری جنگلی بلی اس طرح منہ کیوں بنا کر بیٹھی ہوئی ہو صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نے حرم کو آئینے کے سامنے کھڑے دیکھا لیکن اس کا منہ بنا ہوا تھا

رات کو اسے اپنے پاس موجود دیکھ کر وہ کافی حیران ہوا تھا کیونکہ وہ رات کو ریدم کے کمرے میں رکنے کے لئے گئی تھی

تو اس کا واپس کمرے میں آ جانا اس کے لیے حیران کن تھا

پہلے تو وہ اسے جانے کی اجازت ہی نہیں دے رہا تھا لیکن اس کی ضد کرنے کی وجہ سے وہ مان گیا تھا ۔

آپ نہ بالکل ٹھیک کہتے تھے شوہر سر مجھے نہ رات کو اسی کمرے میں رکنا چاہیے تھا میرا دماغ خراب تھا جو میں کزن چارہ نبھانے چلی گئی تھی ۔

وہ لڑکی اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کو اپنا قیمتی وقت دیا جاسکے اس سے تو بہتر تھا کہ میں یہیں رہتی بیکار میں میرے چار پانچ گھنٹے برباد ہوگئے اس کے کمرے میں میں تو آئندہ کبھی اسے منہ ہی نہیں لگایا کروں گی وہ ایک بار اپنے سسرال چلی جائے کبھی اسے لینے کے لیے بھی نہیں جاؤں گی ۔

وہ کافی غصہ ہو رہی تھی جبکہ اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے آخریشام نے وجہ پوچھنے کے بارے میں سوچا تھا کیونکہ کل تک تو وہ اس کی فیورٹ کزن بنی ہوئی تھی ۔

وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے حرم لیکن مجھے بتاؤ تو سہی کہ ہوا کیا جو تمہاری فیورٹ کزن اچانک تمہاری دشمن بن گئی ہے وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے اسے بیڈ پر بٹھا کر پوچھنے لگا یقینا بات کوئی چھوٹی سی ہو گئی لیکن حرم کے لئے ہر بات مسئلہ کشمیر تھی ۔

اور اس کا ماننا تھا کہ اگر وہ اسے نہیں سنے گا تو پھر وہ کس کے ساتھ اپنے دل کی باتیں شیئر کرے گی اور اس کا بس چلتا تو وہ حرم کی ہر پرابلم کو حل کر دیتا اور اس کا یہ پرابلم وہی سولو کرنے والا تھا ۔

وہ بوجنی ایک نمبر کی کمینی ہے وہ مجھے کہتی ہے کہ میرے شوہر کو یعنی کے آپ کو وہ میری نظر سے دیکھے گی

اور آپ کو پتہ ہے کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔حرم یار تم مجھ پر غصہ کیوں ہو رہی ہو تمہیں کیا ہو گیا ہے میں نے ایسی کونسی بات کردی وہ بتاتےہوئے باقاعدہ اس کی نقل اتارتے ہوئے بولی ۔

یشام بالکل سنجیدہ انداز میں اسے سن رہا تھا جس پر وہ مزید بولی

اتنی معصوم بننے کے ڈرامے کر رہی تھی کہ کیا بتاؤں آپ کو ۔ آئی بڑی وہ آپ کو میری والی نظروں سے دیکھنے والی کوجی جئی نہ ہو تو بالکل بھی خوبصورت نہیں ہے مجھے غلط فہمی ہوئی تھی میری آنکھیں دھوکا کھا گئی تھی ۔

وہ اب خود کو کوس رہی تھی جو اتنے دنوں سے اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتی تھی ۔

چلو اب ختم کرو اس موضوع کو دفع کرو ویسے بھی وہ چلی جائے گی نہ اپنے سسرال تو فضول کی باتوں پر اپنا دماغ خراب مت کرو تم یہ بتاؤ کہ تم نے ناشتہ کیا یا نہیں ویسے تو میرے آنے سے پہلے ہی کمرے سے نکل جاتی ہو

۔

وہ بوجنی چلی جائے گی نہ گھرتب جاؤں گی میں ناشتہ کرنے کے لیے نیچے مجھے اس کی شکل ہی نہیں دیکھنی

ایک بار شائزم بھائی آجائیں انہیں بتاؤں گی اس کے کرتوت ۔چڑیل ڈائن۔ اس کا غصہ اب ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا جب کہ یشام اس کی بات سننے کے بعد خاموشی سے اٹھ کر نہانے چلا گیا تھا اندر جاکر اسے ہنسنا بھی تھا جو کہ حرم کے سامنے وہ نہیں کر سکتا تھا ۔

°°°°°°

ہائے یشام کیسے ہو تم میں نے سنا ہے کہ تم بالکل انگریزوں کی فلموں کے ہیرو جیسے لگتے ہو ویسے میں نے تمہیں اب تک ان نظروں سے دیکھا نہیں

لیکن میں دیکھنا چاہتی ہوں اگر تمہاری اجازت ہو تو۔۔۔” وہ ناشتے کی ٹیبل پر آ کر بیٹھا جب اچانک ریدم کہیں سے برآمد ہوتے ہوئے اس سے کہنے لگی تھی حرم تو اس کی ڈھٹائی پر اسے گھور کر رہ گئی ۔

حد ہے عجیب بے شرم لڑکی ہو رات کو کیا تمہیں میں نے بتا نہیں دیا تھا کہ تمہیں ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں ہے پھر منہ اٹھا کر چلی آئی ہویہاں

خبردار جو تم نے میرے شوہر کو ایک نظر بھی دیکھا وہ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

جبکہ یشام اس کی شرارت کو سمجھتے ہی نظریں نیچے ٹیبل پر مرکوز کی اپنا ناشتہ کرنے لگا تھا

حرم یار کیا مسئلہ ہے ایک تواس کی تعریف کرکرکے میرا دماغ خراب کر رہی تھی میرا شوہر ایسا میرا شوہر ویسا اب اسے دیکھ رہی ہوں تو بھی تمہیں مسئلہ ہے مجھے سکون سے دیکھنے کیوں نہیں دے رہی چاہتی کیا آخر تم۔۔۔۔یار میں تمہارے شوہر کی بہت تعریف کروں گی مجھے دیکھنے دو ۔

وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے یشام کی طرف دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن حرم پوری طرح اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی ۔

کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے شوہر کی تعریف کرنے کی ان کی تعریف کرنے کے لئے میں ہی کافی ہوں اور انہیں دیکھنے کے لئے بھی بس میں ہی کافی ہوں اگر تم نے ان پر نگاہ اٹھائی تو اچھا نہیں ہو گا

جاو جا کر اپنے شوہر کو دیکھو وہ بھی کم نہیں ہے ۔

اچھا ایسا کیا لیکن یار میرا تو اسے دیکھنے کا دل ہی نہیں کرتا تم مجھے اپنے والا دیکھنے دو قسم سے بہت تعریف کروں گی وہ اپنی آنکھوں سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بھرپور شرارت سے بول رہی تھی کہ اندر داخل ہوتا شائزم بھی اس بات کو سن کر صدمے میں تھا ۔

کیا تمہارا مجھے دیکھنے کو دل ہی نہیں کرتا یہ سننے سے پہلے میرے کان کیوں نہ پک گئے بلکہ یہ کہنے سے پہلے تمہاری زبان جل کر کیوں نہ زمین پر گر گئی ۔

اب وہ دہائیاں دیتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ اس کے پیچھے اندر داخل ہوتا خدا ش مسکراتے ہوئے یشام کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا ۔

شائزم بھائی اچھا ہوا جو آپ آگئے آپ کو پتا ہے آپ کی یہ چڑیل بیوی میرے شوہر پر ڈورے ڈال رہی ہے میرے شوہر کو میری نظروں سے دیکھنا چاہتی ہے لیکن مِیں اب اس کی آنکھیں پھوڑ دوں گی میں بول رہی ہوں بھینگی بیوی لے کر جائیں گے آپ اپنے گھر ۔

حرم نے اسے کافی خطرناک دھمکی دی تھی جبکہ ریدم اس کے آجانے کی وجہ سےکرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی اتنی دیر سے حرم کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی تھی اور وہ جانتی تھی وہ اس کی وجہ سے باہر نہیں آرہی اور پھر اس کے آتے ہی وہ بھی شرارتوں سے بھرا دماغ لئے حاضر ہو گئی تھی ۔

اور اب وہ حرم کو تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی تھی

خداش یشام سے باتیں کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا اس کی کوشش اسے سمجھنے کی تھی اس کے بارے میں جاننے کی تھی وہ اس کا دوست بننا چاہتا تھا جبکہ حرم تو بس اپنے شوہر کو ریدم کی نگاہوں سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی شائزم کے آ جانے کی وجہ سے اس کی شرارتوں میں کمی ہوگئی تھی کیونکہ شائزم کی شرارتی نگاہیں بھی اسی کی طرف تھی

°°°°°°°

تمہیں کیا تمہارے گھر میں کوئی پوچھتا نہیں ہے جو صبح ہوتے ہی یہاں ٹپک پڑے ہو ۔۔۔۔۔۔؟

وہ کمرے میں آئی تو شائزم اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آ گیا تھا صبح ہی صبح اسے یہاں دیکھ کر سب خوش ہو گئے تھے

لیکن ریدم کو کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی اس کا ارادہ رات کویہاں سے جانے کا تھا لیکن وہ صبح صبح ہی اسے لینے کے لئے آ پہنچا تھا ۔

جب بیوی آ جائے نہ تب باقی لوگ پوچھنا کم کر دیتے ہیں میرا تو جینے مرنے کا سہارا تمہی ہو ڈارلنگ اب تو تمہارے پاس ہی آنا تھا وہ اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتے ہوئے دلکش انداز میں بولا تھا جبکہ اس نے اپنی کمر کے پیچھے جاتے ہوئے ہاتھ کو گھورا تھا ۔

۔

چھچھورے انسان مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ کیوں مجھے سکون سے نہیں رہنے دے رہے تم نے مجھے شادی کے لئے کہا تھا کہ تمہاری مرضی کے مطابق۔۔ سب کے سامنے معافی مانگ کر میں نے وہ کیا جو تم چاہتے تھے۔

اور تم اگر مجھ سے مزید کسی طرح کی امید رکھتے ہو تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا میں تمہارے ساتھ اس دکھاوے کے رشتے کا حصہ صرف اس لئے بنی ہوں کیونکہ میں اپنے نانا جان کے پاس واپس آنا چاہتی تھی ۔

لیکن یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تم جیسے شخص سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتی ہوں جو اپنا رشتہ دھوکے اور فریب کے ساتھ جوڑے وہ ریدم ساگر کاظمی کی چوائس نہیں ہو سکتا۔

میں تمہیں اپنے دل میں کبھی بھی وہ مقام نہیں دے سکتی جو میرے دل میں میرے شوہر کے لیے تھا تم اس قابل ہی نہیں ہو میں نے اپنے لئے ہمیشہ سے ایک ایسے شخص کو چنا تھا

جس کا کردار شفاف ہو ۔میں ہمیشہ اپنے لئے ایسے شخص کی امید رکھتی تھی جو اپنے پاک کردار کے ساتھ میری زندگی میں شامل ہو لیکن تمہارا کردار بھی تمہاری طرح انتہائی گھٹیا ہے ۔

تم جیسا شخص کبھی بھی مجھ جیسی لڑکی کی پسند نہیں ہوسکتا اتنے گندے اور گھٹیا ماحول میں پرورش پانے کے باوجود بھی میں نے اپنے دل اور اس کی تمام تر وفائیں اپنے شوہر کے نام محفوظ کی تھیں میں نے کبھی اپنے دل میں غلط سوچ آنے تک نہیں دی ۔

میں اپنے ہوسٹل کی لڑکیوں کو ان کے بوائے فرینڈزکے ساتھ باہر نکلتے دیکھتی تھی نہ تو مجھے ان سے گھن محسوس ہوتی تھی یہ سوچ کر کہ وہ لڑکی اپنے شوہر کی امانت اس کے جذبات کسی غیر پر لٹا رہی ہے میں اکثر دیکھتی تھی کے چند دن افیئر چلانے کے بعد اس سب لوگ موو آن کرجاتے تھے ۔

ایک گھٹیا انسان نے تو میری ایک سہیلی کے ساتھ افئیر چلایا لیکن وہ اسے ڈیٹ کے بعد پسند نہیں آئی تو اس نے میری دوسری دوست کو اپنا بنانے کا فیصلہ کیا اور جانتے ہو اس نے شادی کس سے کی ہماری کلاس کی بہت ہی پیاری سی اور شریف لڑکی سے مجھے ایسے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے جو خود انتہائی گھٹیا ہوتے ہیں لیکن انہیں لڑکی پاکباز اور پاکیزہ چاہیے ہوتی ہے ۔

اور تم بھی انہی میں سے ایک ہو تمہارا کردار گھٹیا تمہاری سوچ گھٹیا اور جس انا کی تسکین کے لئے تم نے مجھ سے نکاح کیا ہے تمہاری وہ انا بھی گھٹیا ۔نہ تو میری سوچ کل تمہارے لیے بدلی تھی اور نہ ہی آج بدلی ہے آنے والے ہر دن کے ساتھ مجھے تم سے نفرت ہو رہی ہے شاید تم کبھی بھی میری محبت کے قابل نہیں بن سکے ۔

اور یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تمہارے دب دبے میں آکر تمہارے ساتھ اس رشتے کو قبول کروں گی میں بہت جلد تمہارا اصل چہرہ نانا جان کے سامنے لا کر تمہیں ایکسپوز کر دوں گی تم یہ مت سوچنا کہ میں تم جیسے انسان سے ڈرتی ہوں تم سے تو میری جوتی بھی نہیں ڈرتی ۔

وہ بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی جب کہ وہ سینے پہ ہاتھ باندھے اطمینان سے اسے سن رہا تھا شاید وہ چاہتا تھا کہ وہ اپنی ساری بھڑاس نکال لے ۔

بس یا اور کچھ کہنا چاہتی ہو تم ویسے میں نے آج دن کے لیے ہمارے لنچ کا انتظام کیا ہے ایک بہت ہی اچھے سے ریسٹورنٹ یہاں سے نکل کر ہم وہیں جانے والے ہیں۔

تمہارے نانا جان کو میں نے بتا دیا ہے تو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی تمہارے لئے ایک بہت ہی اچھی خبر ہے ہم ہنی مون کے لئے کالام جا رہے ہیں وہیں جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا ۔

میں کیا سوچ رہا تھا جس جنگل میں ہم نے رات گزاری تھی کیا خیال ہے وہیں پر کیمپ لگا لیں ۔۔

کتنی خوبصورت رات تھی نا لیکن اس رات ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے

اب میں پاس آنا چاہتا ہوں کتنا اچھا ہو گا نہ ہم اپنی ویڈنگ لائف وہاں سے شروع کریں گے بہرحال میں کن باتوں میں لگ گیا آنٹی جی مجھے کہہ رہی تھیں کہ چائے ساتھ پیئں گے۔

سوری یار میں بھی نہ۔۔۔۔اب تو مجھے انہیں امی جان بولنا چاہیے نا اب تو رشتے داری ہو گئی ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کے گال کھینچتا باہر نکل گیا تھا جب کہ وہ حیرانگی سے منہ کھولے اس کی عجیب و غریب الٹی سیدھی باتیں سنتی رہی تھی

°°°°°°°

کنیز کو تا حیات قید سنائی گئی تھی اس کی بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے جب تک اس بیماری سے اس کی موت ہوتی ہے وہ اسی قید میں رہنے والی تھی اور اسے اس چیز کا کوئی افسوس نہیں تھا

کیونکہ جاتے جاتے وہ اپنے بیٹے کی زندگی آسان کررہی تھی اس کے بیٹے کو ہر روز اس سے ملنے کا موقع دیا جاتا تھا وہ اپنے بیٹے کی دماغ سے اس نفرت کو نکالنے کی کوشش کرتی تھی جو وقت نے اس کے دماغ میں ڈال دی تھی ۔

لیکن کچھ چیزیں وقت کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہے یہ نفرت بھی وقت کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور اب اسے وقت نے ہی ختم کرنا تھا ۔

کنیز کا اچھا علاج ہورہا تھا لیکن اب اس کی بیماری حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی اس کی زندگی کے چند ہی دن باقی تھے ۔

اور وہ اپنے بیٹے کے لئے جتنا ہو سکے اس کی بھلائی کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

°°°°°°

اس کی ماں چاہتی تھی کہ وہ بہت پڑھے لکھے کامیاب بنے وہ جتنا ہو سکے اپنی ماں کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے تایا وغیرہ صرف ایک دو دفعہ ہی اسے نظر آئے تھے

وہ کنیز سے ملنے آئے تھے یا کوئی اور وجہ تھی وہ نہیں جانتا تھا لیکن اسے یہ پتہ چل چکا تھا کہ راحیل کی لاش کو وہ لوگ اپنے ساتھ لے گئے تھے یعنی کہ اس کو پاکستان میں جا کر دفنا دیا گیا تھا

اپنے بھائی کے لیے ان کے دل میں کوئی محبت نہیں تھی اور نہ ہی وہ اس کی اولاد کو اپنے بھائی کی اولاد مانتے تھے وہ خود ہی پیچھے ہٹ گیا تھا اس کے دل میں ان کے لئے نفرت پیدا ہونے لگی تھی اور پھر یہ نفرت اور بھی بڑھ گئی جب اسے ایک دن اچانک پتہ چلا کہ کنیز جیل میں دم توڑ چکی ہے ۔

یتیم تو وہ پہلے ہی تھا لیکن اس کی ماں بھی اس چھین چکی تھی ۔

وہ اپنی ماں سے آخری ملاقات کے لیے پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے برتھ سرٹیفکیٹ پر وہ ایک عیسائی ہے اور اسے ایک مسلمانوں کی رسومات کے مطابق دفنایا نہیں جائے گا

اس چیز نے قیامت برپا کر دی تھی اس نے بہت شور مچایا بہت واویلا کیا لیکن کوئی بھی اس کی بات کو ماننے کو تیار نہیں تھا ۔

وہ روتا رہا لیکن کوئی نہیں تھا اس کو سننے والا آخر تھک ہار کر اس نے اپنے تایا جان کو فون کیا تھا ۔

ان کا نمبر اس نے کہاں سے ڈھونڈا تھا یہ تو بس وہی جانتا تھا لیکن دوسری طرف سے اسے کسی طرح کا جواب ہی موصول نہ ہوا اس نے ایک دو بار نہیں بلکہ چار گھنٹے مسلسل انہیں فون کیا تھا ۔

کل اس کی ماں کی عیسائیوں کے مطابق آخری رسومات ادا کی جانے والی تھی اور وہ یہ چیز برداشت نہیں کر سکتا تھا اس کی ماں نے خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے کیا نہیں کیا تھا اور یہاں آکر وہ ہار رہی تھی وہ اسے ہارتے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

وہ اس دن واپس شیلٹر ہوم میں بھی نہیں گیا تھا وہ بس اپنی ماں کی خاطر وہی تھانے کے باہر بیٹھا رہا جب ایک آدمی اس کے پاس آیا وہ ایک ڈرائیور تھا جو یہاں سے ساری لاشوں کو قبرستان تک پہنچاتا تھا ۔

اس بچے کی حالت دیکھ کر وہ اس سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ وہ اتنی سردی میں یہاں باہر کیوں بیٹھا ہے ۔۔۔؟

اور پھر اس نے وہ ہر بات اسے بتا دی تھی جو وہ سمجھ پا رہا تھا اسے اپنی ماں کی موت سے زیادہ اس بات کا افسوس کھائے جا رہا تھا کہ جس چیز کے لئے اس کے ماں ساری زندگی لڑتی رہی وہی حق اس سے چھینا جا رہا ہے ۔

وہ آدمی خود بھی ایک عیسائی تھا لیکن شاید وہ اس کی بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا اس نے بس اتنا کہا کہ کل صبح وہ اس کی ماں کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان تک پہنچا دے گا۔

بس اس نے وہاں اس کی ماں کی آخری رسومات کی ساری تیاریاں کرنی ہے اس آدمی کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے لیکن پھر بھی اس نے انسانیت کی خاطر اس پر وہ احسان کردیا تھا جو اس کے سگے رشتے اس کے لیے نہ کر سکے اس کے دل میں اپنے رشتوں کے لیے نفرت مزید بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔

اس آدمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ قبرستان پہنچا تھا اور پھر وہاں پر اس نے موجود لوگوں سے اس چیز کا ذکر کیا لیکن ان لوگوں نے بھی اس سے اس کی ماں کے مسلمان ہونے کے سرٹیفکیٹس مانگے تھے جو اس کے پاس موجود نہیں تھے ۔

وہ ان لوگوں کو کوئی ثبوت تو نہ دے سکا لیکن اس کے آنسو اور اس کے دلائل نے اس بات کو ثابت کردیا تھا کہ اس کی ماں کوئی عیسائی نہیں تھی وہ ایک مسلمان تھی جو خود کو مسلمان ثابت نہیں کر سکی تھی ۔

وہ جانتا تھا اس سب کے بعد وہ کبھی شیلٹرہوم میں نہیں جا سکے گا اور نہ ہی کبھی اپنی تعلیم مکمل کر پائے گا لیکن وہ اپنی ماں کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال کر اپنی زندگی محفوظ نہیں کر سکتا تھا ۔

°°°°°°°°°°