Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 36)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 36)
Junoniyat By Areej Shah
ہار کتنی دردناک ہوتی ہے آج یہ بات ساگرکاظمی کو پتہ چلی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھوڑے کی ریس سے ہار کر وہ بری طرح سے بھرا ہوا تھا ۔
اپنےدل پر پتھر رکھ کر اپنا غصہ دبا کر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ مظہر شاہ کے سر پر جیت کی پگڑی رکھ کر آیا تھا ۔
غصےسے اس کا برا حال ہو رہا تھا بابا جان سخت خفا تھے ۔وہ کیسے ہار آیا تھا آج سے پہلے تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا ۔
کون سی غلطی کی تھی اس نے کہاں کچھ غلط ہوا تھا ۔آج سے پہلے تو اس سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی تو آج ایسا کیسے ھوگیا ۔
وہ اپنی ہار کو قبول نہیں کر پا رہا تھا خود پر ہنستے ہزاروں چہرے بار بار اسے اپنی نظروں کے سامنے محسوس ہو رہے تھے ۔
نہیں یہ نہیں ہوسکتا وہ میں نہیں ہار سکتا ۔۔
کیا اس ہار کو مجھے اگلے مقابلے تک قبول کرنا پڑے گا ۔نہیں مجھ سے نہیں ہوگا میں کس طرح سے لوگوں کی ہنستی نظروں کا سامنا کروں گا کیسے ہار گیا میں مجھے ہار نہیں چاہیے تھا ۔
بابا کی عزت خاندان کا وقار سب مٹی میں ملا دیا میں نے ۔یہ مجھ سے کیا ہو گیا وہ اپنا سر پکڑے اس ہار کو قبول کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا سامنا وہ تھوڑی دیر پہلے کرکے آیا تھا
°°°°°
ایک ہفتہ گزر چکا تھا اس بات کو آج ایک ہفتے کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا
بابا سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی دل کر رہا تھا کہیں بھاگ جائے ۔ناشتے کی میز پر سب لوگ موجود تھے وہ نظریں جھکائے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
بابا جان مجھے معاف کر دیجیے ۔میں ہار گیا پتا نہیں کیسے میں نے کوئی غلطی نہیں کی تھی پھر بھی میں کیسے ہار گیا
اس کا گھوڑا میرے گھوڑے سے آگے نکلا کیسے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا
آٹھ سال سے میں نے کبھی کسی کو خود سے آگے نہیں جانے دیا اوراس بار ۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے غرور نے تمہیں ہرایا ہے ساگر کاظمی تمہارا یہ غرور کے تم آٹھ سال سے نہیں ہارے تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا اس غرور نے تمہیں ہرا دیا ۔
تمہارا دشمن مظہر شاہ نہیں تم خود ہو ۔تمہارا غرور تمہیں لےڈوبا اور تم نے ہمارے خاندان کی عزت کو مٹی میں ملا دیا ۔ہمیں شرم آتی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے ۔
وہ غصے سے اٹھ کر اندر چلے گئے تھے جبکہ ساگر شاہ اپنے آپ کو ایک بار پھر سے شرمندگیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں محسوس کر رہا تھا ۔
اس کی آٹھ سال کی جیت پر یہ ایک ہار غالب آ چکی تھی اس کی ذات پر بابا جان کا فخر ختم ہو چکا تھا اس کی طرح شاید وہ بھی اس ہار کو قبول نہیں کر پا رہے تھے
°°°°°
آج داداجان کو ڈسچارج ہو جانا تھا ۔وہ رات سے انہی کے پاس تھا
اور ساری فارمیلٹی پوری کر چکا تھا تھوڑی دیر میں وہ انہیں لے کر گھر کے لئے نکلنے والے تھے ۔
اس وقت دن کے تقریبا گیارہ بج رہے تھے یہی وجہ تھی کہ بابا جان کو پریشانی لاحق ہو رہی تھی ۔سارا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا اور دیشم کو بھی دلہن بنا دیا گیا تھا ۔
وہ جتنی جلدی کرنے کی کوشش کر رہی تھی اتنا ہی لیٹ ہو رہا تھا
وہ سارے پیپر تیار کروا کے لایا تو دادا جان بھی اس کا سہارا لیتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے تھے دماغ میں ہزاروں طرح کی سوچیں تھی ۔
اگر وہ اپنے پوتے کی شادی کو لے کر خوش تھے تو بھی بار بار ان کی سوچ احمر کاظمی کی طرف جا رہی تھی ۔
ایسا کیسے ممکن تھا کیسے ہو سکتا تھا ایسا کیا احمر ہی تھا وہی چال وہی ڈال وہی بات کرنے کا انداز وہی چہرہ وہی مسکراہٹ تو کیا سچ میں سترہ سال پہلے ان سے غلطی ہوئی تھی کیا خداش کے علاوہ ان کا ایک اور پوتا بھی تھا ۔کیا ان کے خاندان کا ایک اور وارث بھی تھا ۔
وہ ان کے سامنے کھڑا تھا لیکن اس کی آنکھوں کی وہ نفرت ۔۔وہ آہ بھر کر رہ گئے
°°°°°°°
دادا جان کی گھر پر واپسی کیا ہوئی جیسے خوشیاں لوٹ آئی تھی سب مسکرا رہے تھے سب نے انہیں ویلکم کیا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے گھرسے کسی بڑے کا سایہ اٹھنے والا ہے لیکن اب سب کے چہروں پر اطمینان تھا ۔
جہاں تھوڑی دیر پہلے ویرانی ہی ویرانی تھی اب پھر سے رونق لگ گئی تھی ہر طرف مستی مذاق کا سماں تھا۔
اب تو خداش کو تنگ کرنے میں بھی دیدم اور سامیہ کو بڑا مزا آ رہا تھا۔وہ دونوں دروازے پر اسے خوب لوٹ کر گئی تھی۔ جبکہ حرم اپنے بھائِی کو لٹتے دیکھ کر منہ بسورتی رہی
ابھی تک خداش اپنی تیاری کر رہا تھا جب حرم اس کے کمرے میں آ گئی
بھاری فراک میں وہ خود کو تھکا تھکا سا محسوس کر رہی تھی اور اوپر سے بیوٹیشن نے تیارہی ایسا کردیا تھا جیسے دلہن وہی ہو
حد ہے یہ کیا بنا دیا اس ظالم عورت نے میری معصوم بہن کو وہ پریشانی سے اس کا چہرہ تھام کر دیکھنے لگا تھا۔
ویرو آپ بھی نا کمال کرتے ہیں۔۔بھئی تیار کیا ہے مجھے۔۔ کتنی پیاری لگ رہی ہوں میں۔۔ اس نے پوری طرح گھوم کر اسے اپنی تیاری دکھائی تھی
اتنی بھی پیاری نہیں لگ رہی ہو وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا تو اس کا منہ کھل گیا ۔
میں نہیں بولتی آپ سے ۔وہ روٹھ کر بیٹھنے لگی تو خداش نے مسکراتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا ۔
اچھا اچھا بابا ایم سوری تم تو بلکل شہزادی لگ رہی ہو اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اب وہ دل سے بول رہا تھا ۔
جس پر وہ خوش ہو گئی ۔
ہاں یاد آیا آپ نے مجھے پانی کے پیسے دینے ہیں یہ رسم ہوتی ہے وہ ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی خداش نےکنفیوز ہو کر اسے دیکھا پہلے سالی کے نام پر سامیہ اور دیدم اسے اچھا خاصہ لوٹ چکی تھیں اور اب شاید بہنوں کی باری آ گئی تھی ۔
ایسی تو کوئی رسم نہیں ہوتی اس نے جیب سے پیسے نکالتے ہوئے اسے گھورا تھا ۔
ہوتی ہے ہوتی ہے آپ پہلی پہلی بار دلہا بنے ہو ناں اسی لئے آپ کو پتا نہیں ہے وہ پیسےلیتے ہوئے چہک کر بولی تھی ۔
تمہارے ٹیچر آئے ہیں ۔۔؟اسےاچانک خیال آگیا تو وہ پوچھنے لگا ۔
آج تو نہیں دیکھے مہندی والے دن آئے تھے ۔اس نے فورا بتایا تھا
مجھے تو نہیں ملے خیر اس دن ٹینشن ہی اتنی زیادہ تھی چلو آج اگر آئے تو ملاقات ضرور ہو جائے گی ۔وہ بات ختم کر چکا تھا جبکہ حرم بھی مزید تھوڑی دیر اس کے پاس رک کر باہر چلی گئی تھی
°°°°°°°
نہیں آپ دلہن کے پاس اس طرح نہیں بیٹھ سکتے آپ کو پہلے نیگ دینا پڑے گا ۔سامیہ اور دیدم اس کے دائیں بائیں بیٹھی تھی۔
جبکہ وہ خاموشی سے بیچ میں گھونگھٹ لیے بیٹھی تھی۔
بارات تھوڑی دیر پہلے ہی گاؤں کا ایک چکر کاٹ کر حویلی آئی تھی اور انہیں دروازے پر ہی روک کر دودھ اور پتہ نہیں کیا کیا کھلا پلا کر پیسے لوٹے گئے تھے
اور اب یہ اپنی دلہن کے پاس بیٹھنے کے لئے بھی اس سے پیسوں کی مانگ کی جا رہی تھی
یہ تو کھلے عام لوٹ مار ہے میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا پہلے ہی تم لوگ مجھے بہت لوٹ چکی ہو۔اب جو دیا ہے وہ آدھا آدھا کر لو ۔
وہ ان کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا لیکن یہ خوبصورت موقع وہ اپنے ہاتھ سے جانے کیسے دے سکتی تھیں۔
ایسے کیسے ہم نہیں مانتے طرح سے کیسے چیٹنگ ہوتی ہے ہم نہیں کرنے دیتے اور ویسے بھی یہ تو رسم ہے نا یہ تو آپ کو ادا کرنی پڑے گی اور آپ نے کونسا روز روز شادی کرنی ہے ۔
ایک ہی موقع ملا ہے ۔سامیہ نے مسکین سی شکل بنا لی تھی
اور نہیں تو کیا یہ تو ہمارے خاندان کی واحد شادی ہے آپ ہمارے خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں ۔دیدم نے دانتوں کی نمائش کی ۔اس کے ناٹک دیکھ خداش عش عش کر اٹھا۔
اس
میں کوئی چشم و چراغ نہِیں سمجھی اور آئندہ مجھے ان فضول ناموں سے بھی مت بلانا۔خداش کو خطاب پسند نہ آیا۔
ہاں نہ اور رسمیں بند کرو اس کی ضرورت نہیں ہے ہمیں بھی تو پیسے لینے ہیں آگے بھی تو رسمیں ادا ہونی ہیں
سب کچھ سالیوں کا نہیں ہوتا بہنوں کا بھی کچھ ہوتا ہے خداش جو اپنی بہن کو خود کے لیے لڑتے دیکھ رہا تھا اصل مقصد جان کر اسے گھور کر رہ گیا
یہ پکڑو اور بنا چوں چراں کے رکھو اب کم یا زیادہ والا ڈرامہ مت کرنا۔وہ کچھ نوٹ نکل کر دیتے ہوئے بولا تو دونوں نے ایک پل لگایا تھا تھامنے میں ویسے بھی وہ اسے کافی لوٹ چکی تھی اب مزید لوٹنےکا ارادا نہِیں تھا
°°°°°°
وہ اس کے بالکل ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا دیشم نے تھوڑا سا پیچھے ہونا چاہا لیکن نہیں ہو سکی کیونکہ اس کے بالکل ساتھ ہی حرم بیٹھ گئی تھی
آپو میں دیکھوں کیسے کہ آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں حرم اس کے کان میں گنگنائی تھی ۔
دیدم اور سومیہ نے مل کر اسے کمرے سے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ وہ دلہے کی بہن ہے اور وہ دونوں دلہن کی بہنیں ہیں
اور دلہے کی بہن اس کے کمرے میں نہیں رہ سکتی کتنا چھوٹا سا منہ نکل آیا تھا حرم کا ان کی فضول سی بات سن کر لیکن وہ بنا کچھ بھی کہے کمرے سے نکل گئی تھی ۔
اس کے بعد حرم ابھی ہی اس سے ملی تھی ۔
تھوڑی دیر کے بعد جب گھونگھٹ اٹھ جائے گا تب تم دیکھ لینا وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی جب کہ بالکل ساتھ بیٹھا شخص بھی غور سے ان کی بات سن رہا تھا
نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں کسی کے بھی سامنے گھونگھٹ اٹھانے کی کمرے میں جاکر سکون سے اٹھائیں گے ۔حرم جان تم سامیہ اور دیدم کے فون سے دیکھ لو اس نے تصویریں تو لی ہی ہوں گی نہ۔
خداش نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا شاید اسے خود دیکھنے کی جلدی نہیں تھی ۔
وہ دونوں مجھے نہیں دکھائیں گی انہوں نے مجھے دلہن کے کمرے میں بھی نہیں رہنے دیا وہ کیا مجھے تصویریں دکھائیں گی۔
کل جب آپو دلہن بنیں گی ناں میں کسی کو دیکھنے کے لئے کمرے میں بھی نہیں آنے دوں گی کیوں کہ آج یہ ان کی بہن ہیں کل تو میری بھابھی ہوں گی ناں وہ منہ بسور کر بول رہی تھی
وہ بدلے کی پوری پوری تیاری کر کے بیٹھی تھی اس کے انداز پر خداش مسکرا دیا
ہاں بالکل اب یہ صرف تمہاری بھابھی ہوگی تم بھی میرے علاوہ کسی کو دیکھنے مت دینا خداش نے پوری چھوٹ دی تھی۔
آپ کو کیسے منع کر سکتی ہوں آپ تو ان کے ہزبنڈ ہے ناں وہ معصومیت سے بولی تو خداش دلکشی سے مسکرایا جیسے خداش تو یہی سننا چاہتا تھا ۔
ہاں یار مجھے بھلا کس کی اجازت کی ضرورت ہے میری تو ملکیت ہے اس کے کندھے سے کندھا مس کرتا اسے کچھ باور کرواتے ہوئے بولا تو دیشم کا سر مزید جھک گیا ۔
سب لوگ باری باری آ کر انہیں سلامی دے رہے تھے دو تین عورتوں نے چہرہ دیکھنے کی ضد کی لیکن خداش نے خود ہی انہیں منع کردیا
خداش کے سامنے کہاں کسی کی چلتی تھی ۔وہ عورتیں خود ہی بار بار کہہ کر نیچے اترتی چلی گئیں۔
وہ اپنی ضد پر اڑا رہا تھا جبکہ دیشم تو بےوجہ ہی شرمندہ ہوتی جارہی تھی عجیب قسم کا آدمی تھا مجال تھا جو کسی کی بھی سن لیتا
جبکہ اس طرح سے گھونگھٹ لٹکائے دیشم بھی بری طرح سے تھک چکی تھی ۔پتہ نہیں یہ سب کچھ کب ختم ہونا تھا ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے اس کی کمر اکڑ گئی تھی ۔
°°°°°
بابا میں بھی واپس نہیں آنا چاہتا اور ویسے بھی وہاں واپس آ کر کیا کروں میں آپ کی گھوڑوں کے ریسوں میں حصہ لوں یا پھر کسی خاندانی دشمنی کا حصہ بن جاؤں
مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوتا اور یہ ساری باتیں آپ کو بہت بار کہہ چکا ہوں میں یہاں بہت خوش ہوں اور ویسے بھی میرا اب پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔
احمر میری جان تم ایسا کیوں کہتے ہو ۔دو سال ہو چکے ہیں تمہارا چہرہ تک نہیں دیکھا ۔بابا بے بسی سے بولے تھے وہ اس معاملے میں بے بس تھے
احمر سے انہیں بے حد محبت تھی ۔ان کا سب سے چھوٹا لاڈلا بیٹا جو ان کو بہت عزیز تھا ان سے بہت دور ہو چکا تھا ان کے بے معنی اصولوں کی وجہ سے ۔
وہ ان کے اصولوں کے خلاف تھا جو حویلی کے اندر ان کے پانچوں بیٹوں کے لئے بنے ہوئے تھے سات سال پہلے وہ پڑھائی کے سلسلے میں لندن آیا تھا پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا
پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس میں شعور بھی آیا اور وہ صحیح اور غلط کی پہچان بھی سمجھ گیا ۔اسے اپنے باپ کے بنائے گئے اصول غلط لگنے لگے
بیچ میں دو یا تین بارجب وہ پاکستان گیا اور وہاں کے حالات سمجھے تو اسے یہی لگا کہ یہ سب کچھ اس کے لیے نہیں بنا بہتر ہے کہ وہ ان سب چیزوں سے کنارہ کشی کر لے ۔
وہاں رہ کر وہ اپنی ذات کے خلاف نہیں جاسکتا ان سب چیزوں کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھا اسی لیے تو ہمیشہ کے لیے لندن میں منتقل ہو گیا
اسے واپس جانا پسند نہیں تھا شروع شروع میں تو باباجان نے اس کی ضد پر کچھ بھی نہیں کہا تھا
بلکہ لندن میں اس کا ایک بہترین بزنس تیار کروا دیا یہاں پر کام پر دھیان دیتا رہا ۔لیکن اب بابا کو اس کی یاد ستانے لگی تھی
احمر سے دور رہنا ان کے لیے آسان ہرگز نہیں تھا اب جب ان کی دو دو ہفتے اس سے بات نہ ہوتی تو وہ بے چین ہو کر اسے فون کرتے تھے ۔
اور اب تو ان کی بس ایک ہی ضد تھی کہ احمر واپس آ جائے وہ اپنے کسی بچے کو خود سے دور نہیں کر سکتے تھے
لیکن اب تو جیسے یہ ممکن ہی نہ تھا وہ واپس آنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔
بار بار ایک ہی بات کر کے بابا کع غصہ آنے لگا تو خدا حافظ کر کے وہ فون بند کر چکا تھا
اور اب تقریبا دو ہفتے تووہ انہیں فون کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔جب تک بابا کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا تب تک وہ اس معاملے سے دور ہی رہنا چاہتا تھا
وہ جانتا تھا کہ بابا اتنے غصے میں کیوں ہیں۔دو ہفتے پہلے ہونے والے گھوڑے کے ریس میں ان کا سب سےقابل ترین بیٹا ساگرکاظمی ہار گیا تھا
اور یہ ہار اسے آٹھ سال بعد دیکھنے کو ملی تھی آٹھ سال پہلے باباجان خود اس گھوڑے کے ریس میں حصہ لیتے تھے اور بہت کم ہی ہار ان کا مقدر بنتی تھی لیکن ساگر پہلی بار ہارا تھا ۔
اور یقیناً بابا جان اس سے سخت خفا تھے۔ دو دن پہلے اس کی ساگر سے بھی بات ہوئی تھی وہ بھی کافی بے یقینی کی حالت میں تھا
وہ اب تک اس ہارکو سوچ رہا تھا اس کا سوال بس یہی تھا کہ یہ ہار کیسے اس کا مقدر بنی
کہیں نہ کہیں کوئی بے ایمانی ضرور ہوئی ہے ورنہ وہ کبھی ہار نہیں سکتا۔یہ اس کا یقین تھا اور اس یقین پر وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا
ّوہ اسے کہنا چاہتا تھا ان فضول چیزوں کو چھوڑ کر وہ اپنے کرئیر پر دھیان دے اپنے فیوچر کو بہتر بنانے کی کوشش کرے لیکن اس کی تو بس ایک ہی رٹ تھی کہ وہ ہارا کیسے اس کے ساتھ بے ایمانی ہوئی ہے ۔
وہ اسے کچھ بھی کہے بنا ہی فون بند کر چکا تھا اور آج بابا سے بات کر کے بھی اسے مایوسی ہوئی تھی ۔
وہ فون بند کر کے انہی سوچوں میں مگن تھا جب اس کےچہرے پردو ننھے مگر ٹھنڈے ہاتھ آئے
یشی ۔۔۔۔۔ میری جان تمہارےہاتھ ٹھنڈے کیوں ہیں وہ اگلے ہی لمحے اپنے تین سالہ بیٹے کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ سہلانے لگا یقینا وہ برف سے کھیل کر آیا تھا ۔
اور اس وقت اس کی گود میں لیٹا وہ الٹے سیدھے لاجک دے رہا تھا
°°°°°
ساری رسمیں ادا ہو چکی تھی اسے لا کر کمرے میں بٹھایا گیا وہ اس کمرے میں پہلی بار تو نہیں آئی تھی
لیکن شادی سے پہلے اس کے کمرے کو ایک بار پھر سے تیار کروایا گیا تھا اور بےشک اب یہ کمرہ اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا
اس کمرے کی ایک ایک چیز خداش کے اعلی ذوق کا پتا دیتی تھی ۔
سامیہ اور دیدم کافی دیر اسے تنگ کرنے کے بعد اب اٹھ کر باہر چلی گئی تھیں اس وقت وہ کمرے میں بالکل تنہا بیٹھی ہوئی تھی ۔
فی الحال اس نے خداش کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچا تھا خداش کو لے کر اس کے دماغ میں اگر کوئی اچھی سوچ نہیں تھی تو برا بھی کچھ نہیں تھا
وہ اپنا دل پوری طرح صاف کرکے یہاں آئی تھی ایک عام سی لڑکی کی طرح وہ بھی ہزاروں خواب سجائے بیٹھی تھی ۔
اس وقت اس کے ذہن و دل میں خداش کے لئے کچھ بھی برا نہیں تھا وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کر رہی تھی پوری ایمانداری کے ساتھ
خداش اس کے لیے کیسا ہمسفر ثابت ہونے والا تھا یہ وہ نہیں جانتی تھی لیکن اپنی زندگی کو لے کر وہ آنے والے ہر بدلاو کو قبول کر چکی تھی ۔
اسے نہیں پتہ تھا کہ اس کی زندگی میں کیا ہوگا لیکن ایک چیز اس نے سوچ رکھی تھی کہ خداش اسے اجازت دے یا نہ دے لیکن اپنی پڑھائی پر کسی طرح کا کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی
°°°°°°
