65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 12)

Junoniyat By Areej Shah

ماشاءاللہ کتنی خوبصورت جگہ ہے یہ جیسے دنیا میں جنت ہو

وہ گاڑی سے نکلتی ہوئی اس خوبصورت وادی کو دیکھنے لگی تھی

جہاں پہنچتے پہنچتے آج ان کو تین دن لگ گئے تھے ڈرائیور چاچا تو ہر وقت اس کے ساتھ تھے

اس کی خوشی دیکھتے ہوئے وہ بھی بہت خوش تھے اور اس کے کہنے پر اس کی ہر طرح کی تصویر بنا رہے تھے

اور پھر ساتھ ساتھ نانا جان کو بھی سینڈ ہو رہی تھی تصویریں اسے لگا نہیں تھا کہ وہ یہاں آکر اتنا زیادہ انجوائے کرے گی

نانا جان بالکل ٹھیک کہتے تھے یہ جگہ اتنی خوبصورت تھی یقینا اس خوبصورت وادی میں آکر انسان بڑے سے بڑا غم باآسانی بھلا سکتا تھا

ڈرائیور چاچا وہ نیچے کی طرف دیکھیں یہاں کوئی چھوٹا سا ہوٹل ہے چلیں آئیں وہاں چلتے ہیں کچھ کھاتے پیتے ہیں مجھے تو بہت بھوک لگی ہوئی ہے

وہ پہاڑی کے چوٹی پر کھڑے تھے وہیں سے کچھ فاصلے پر انہیں نیچے کی طرف ایک چھوٹا سا ہوٹل نظر آرہا تھا

جو یقیناً یہاں سیر و تفریح کے لیے ہی آئے گئے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا ڈرائیورچاچا تو اس کے حکم کے غلام تھے وہ جہاں کہہ رہی تھی وہ اپنے بندوق لئے اس کے پیچھے ہولیے تھے

°°°°°°

بی بی جی آپ یہاں آرام سے بیٹھیں میں کھانے کے لیے کچھ آرڈر کر کے آتا ہوں اس ہوٹل میں کیا کچھ ملے گا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے بہت چھوٹا سا ہے مشکل سے دو یا تین ورائٹی کا کھانا ہوگا

لیکن بقول آپ کے اس وادی میں آ کر انسان اپنا بڑا سا بڑا غم بھول جائے تو یقینا بڑے سے بڑے ہوٹل کا کھانا بھی بھول جائے گا

میں ابھی آپ کے لئے کچھ اچھا سا لے کر آتا ہوں وہ اسے وہیں پر بٹھاتے ہوئے خود آرڈر دینے چلے گئے تھے جبکہ وہ اپنے پاس ہی کچھ لڑکوں کا شور سن رہی تھی

کچھ البیلے سے لڑکے وہیں ٹیبل بجاتے ہوئے اونچی آواز میں گانے گا رہے تھے شاید وہ بھی اپنا ٹرپ انجوائے ہی کر رہے تھے

دیکھنے میں تو وہ بھی ملتان یا کراچی کے نظر آ رہے تھے کیونکہ وہ جب سے یہاں آئی تھی تقریبا سب لوگوں کو پشتو یا بلوچی بولتے ہوئے سن رہی تھی ان کے اردو گانے اور لب و لہجہ اس بات کا گواہ تھا کہ وہ یہاں کے رہائشی نہیں ہے

اور جس طرح کے ماڈرن کپڑے ان لوگوں نے پہن رکھے تھے وہ اس علاقے کےنہیں تھے وہاں کے لوگ تو سادگی پسند لوگ تھے

آپ اکیلی ہیں تو ہمارے ساتھ آ کر انجوائے کرے ان میں سے ایک لڑکے نے خوش اخلاقی سے مسکراتے ہوئے کہا

نہیں میں اپنے چاچا کے ساتھ ہوں تھینک یو وہ فوراً چہرہ پھیر گئی تھی بے شک وہ کنفیڈنٹ لڑکی تھی لیکن پھر بھی اتنے سارے لڑکوں کے بیچ میں بیٹھ کر یوں اونچی آواز میں گانے گانا اسے ہرگز پسند نہیں تھا

اوکے جیسے آپ کی مرضی انجوائے کریں آج ہمارے بیسٹ فرینڈ برتھ ڈے ہے اور اس کا برتھ ڈے اسپیشل بنانے کے لیے ہم کالام آئے ہوئے ہیں ۔لیکن ہمارے سارے دوست نہیں آئے۔خاص کر کچھ فیمیلز فرینڈز

ہم کراچی کے رہنے والے ہیں آپ کہاں سے ہیں وہ لڑکا بھی اس کی جان آسانی سے نہیں چھوڑنے والا تھا اسی لیے مزید تفصیلات میں جانے لگا

آپ کے دوست کو ان کا برتھ ڈے بہت بہت مبارک ہو میں ملتان کی رہنے والی ہوں اور یہاں اپنے چچا کے ساتھ آئی ہوں اس نے ایک بار پھر سے انہیں احساس دلایا تھا کہ وہ اکیلی ہرگز نہیں ہے۔

یہ رہا ہمارا دوست آپ خود بھی وش کر دیجئے وہ لڑکا اچانک سے سامنے سے آتے نوجوان کو دیکھتے ہوئے بولا جو خود بھی ان کی طرف متوجہ ہو چکا تھا

شائز یہ لڑکی تجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے تیرا برتھ ڈے ہے نا وہ لڑکا اچانک ہی کہنے لگا تو ریدم کو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اٹھ کر اسے وش کرنا پڑ گیا

ہیپی برتھ ڈے آپ کا دن اچھا گزرے خوش رہے اس نے مسکراتے ہوئے مروتاً کہا تھا ۔لیکن سامنے والا تو غصے سے بےحال ہو رہا تھا۔

شکریہ اس نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے دوست کو گھور کر دیکھا تھا جو شاید مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کر رہا تھا۔

ہاہاہاہا ایم ریلی سوری مس وہ دراصل بات کچھ ایسی ہے کہ میرا یہ دوست ہے نہ اس کو لڑکیوں سے الرجی ہے اس کے پیچھے اکثر لڑکیاں پڑی رہتی ہے

اور اس کا کوئی بھی دن سکون سے نہیں گزرتا ہم دوستوں نے اس سے شرط لگائی تھی کہ اس کے اس برتھ ڈے پر کسی نہ کسی لڑکی کو اس سے وش ضرور کروائیں گے لیکن

اپنی شرط جیتنے کے لیے یہ ہم سب کو یہاں وادی کالام لے آیا اور کوئی بھی لڑکی اس کو یہاں نہیں جانتی اپنا فون تک اس میں بند کر رکھا ہے ہم نے شرط جیتنے کے لیے آپ کو اسے وش کرنے پر مجبور کیا ایم ریلی سوری ہم صرف شرط جیتنا چاہتے تھے۔

وہ اس آدمی کو دیکھ رہی تھی وہ یہ سب سن کر پہلے تو وہ حیران ہوئی تھی پھر ان لوگوں کی شرارت کو سمجھتے ہوئے غصے سے انہیں گھورنے لگی عجیب بے ہودہ لوگ تھے

اٹس اوکے وہ غصے سے کہتے واپس کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تھی اسے ضرورت ہی کیا تھی اٹھ کر اسے واپس کرنے کی

یہ مروت بھی نا انسان کو کبھی کبھی بہت بڑی مشکل میں ڈال دیتی ہے وہ اہنا غصہ کنٹرول کررہی تھی کہ ڈرائیور چچا وہاں آئے

لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی کہتے ان کا دھیان ساتھ کھڑے لڑکے کی طرف چلا گیا تھا جو انہیں دیکھے جا رہا تھا یا شاید وہ پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا

ڈرائیور چچا کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا وہ نہ جانے مسکراتے ہوئے لہجے میں اس سے کیا کہنے والے تھے کہ شائزکی طرف دھیان جاتے ہی وہ اپنی بات ہی بھول گئے

چلو چلو بیٹا یہاں سے چلو یہاں پر کچھ بھی نہیں ہے کھانے لائق چلو یہاں سے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے زبردستی اٹھانے لگے

وہ ان سے پوچھتی ہی رہ گئی کہ اچانک سے کیا ہو گیا ہے لیکن ڈرائیور چاچا ان کے کسی بھی سوال کا جواب دینے کے بجائے بار بار پیچھے دیکھ رہے تھے

اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ اس لڑکے کو بہت اچھے طریقے سے پہچانتے ہیں لیکن وہ اس سے بھاگ کیوں رہے تھے یہ بات اسے کچھ سمجھ نہ آئی تھی۔

°°°°°°

چاچا آپ اس طرح وہاں سے کیوں آگئے کیا آپ اس لڑکے کو جانتے تھے بڑا ہی عجیب قسم کا بندہ ہے

ان لڑکوں کو نہ سوائے اپنی بڑائی کرنے کے اور کچھ بھی نہیں آتا جاتا ہے وہ کیسے کہہ رہا تھا کہ آج اس کا برتھ ڈے ہے اور اپنے برتھ ڈے پر اسے کسی لڑکی کو نہ دیکھنا پڑے اسی لیے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آ گیا ہے

چھوڑو بیٹا ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگنا چاہیے بڑا ہی کوئی آوارہ قسم کا انسان ہے تم چلو گاڑی میں بیٹھو

وہ اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے کہنے لگے تو وہ فضول سوچوں کو چھٹکتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی

اسے اس وقت بہت بھوک لگی ہوئی تھی لیکن چچا کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں کچھ بھی اچھا کھانے لائق نہیں ہے ویسے ہوٹل کی صاف صفائی اور خوبصورتی دیکھ کر اس کا دل تو نہیں چاہا تھا کہ اس ہوٹل سے اس طرح سے آ جائے

لیکن چچا زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے تھے اور ویسے بھی وہ ان سے فضول بحث نہیں کرتی تھی وہ پہلے ہی اس کی وجہ سے کافی ساری مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔

°°°°°°°

گاڑی میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھی جو وہ ہر سگریٹ ختم کرنے کےبعد نئی لگا لیتا ٹھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس نے گاڑی کے اسٹیرنگ پر رکھا ہوا تھا

یقیناوہ اپنا یہ سفر کافی انجوائے کر رہا تھا اچانک ہی اس نے اپنی گاڑی کا آئسکریم پارلر کے سامنے رکھی تھی

کونسا فلیور کھاؤ گی۔۔۔؟ وہ اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا تو عمایہ نے حیرانگی سے دیکھا کہ وہ سچ میں اس سے بات کر رہا تھا

میں ۔۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے خود کی طرف اشارہ کیا

نہیں تمہارے فرشتوں سے پوچھ رہا ہوں لڑکی اتنی غائب دماغی کیوں ہے تمہاری بتاؤ کون سا آئسکریم فلیور کھاؤ گی میں لے کے آتا ہوں

وہ باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا وہ جو کب سے اپنے ناخنوں کو گھور رہی تھی آئسکریم پالر کو دیکھتی اسے پھر سےنظر جھکا گئی

اس کے دماغ میں چاچی کی باتیں گھوم رہی تھی جب کہ تانیہ کا بار بار یہ کہنا کہ وہ اس کی منگیتر ہے اس کی ہونے والی بیوی ہے اسے بری طرح پریشان کر رہا تھا

کچھ بھی لے آئیں میری کوئی پسند نہیں ہے اس نے بڑے ہی مدھم انداز میں جواب دیا

کوئی پسند نہیں ہے اچھی بات ہے تم میری پسند سے کھالو میں لے کے آتا ہوں وہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکل گیا

جبکہ وہی رک کر اس کا انتظار کرنے لگی تھوڑی ہی دیر میں اس کے ہاتھ میں دو آئسکریم کپ تھے۔

اس نے ایک کپ اسے دیتے ہوئے دوسرے کپ سے خود کھانا شروع کیا تھا

کیسی ہے میری پسند۔۔۔۔؟ اس نے ابھی صرف ایک بائٹ ہی دیا تھا کہ وہ اسے پوچھنے لگا

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا یا پھر اجنبیت کی دیوار گرانا چاہتا تھا وہ بالکل سمجھ نہیں پائی تھی

اس کی منگیتر تھی جو اتنے سالوں سے اس کے نام پر بیٹھی تھی اسے شادی بھی اسی لڑکی سے کرنی تھی تو پھر ویسے اتنی اہمیت دے ہی کہ رہا تھا

آپ کی پسند اچھی ہے اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو پہلی دفعہ اس کے نصیب میں ذریام کی مسکراہٹ ہوئی

میری پسند لاجواب ہے لڑکی اس کا اندازہ تمہیں آگے آہستہ آہستہ ہوتا رہے گا اور پھر جب تم میری پسند میں ڈھل جاؤ گی تب تمہیں میری پسند اور بھی زیادہ اچھی لگنے لگے گی اور بتاؤ تمہیں کیا پسند ہے

وہ ہلکا پھلکا ہو کر اس سے بات کرنے لگا اسے یہی لگ رہا تھا کہ شاید وہ اپنا ٹائم پاس کرنے کے لئے اس سے اس طرح نرم لہجے میں بات کر رہا ہے

مجھے نہیں پتا اس نے نظریں چرا کر کہا تو زریام نے اسے گھور کر دیکھا

میں تمہاری پسند کی بات کر رہا ہوں لڑکی تمہیں اپنی پسند نہیں پتا کہ تمہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں وہ حیرانگی کو چھپاتے ہوئے کہنے لگا تھا

نہیں مجھے نہیں پتا سب کچھ بھول گئی ہوں کچھ بھی یاد نہیں رہا وہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پرے دھکیلتی چہرہ پھیر گئی تھی

تو تم سب کچھ بھول گئی ہو ویسے یہ عمر ہے تو نہیں یاداشت بھولنے والی لیکن اچھا ہے صرف مجھے یاد رکھو اچھی لڑکیاں شوہر کے علاوہ کچھ یاد رکھتی بھی نہیں ہیں وہ مسکرایا تو عمایہ نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا اس کے آنکھوں کی نمی دیکھ وہ اس کی آنکھوں میں اپنی گہری نیلی آنکھیں گاڑ گیا تھا۔

یہ تمہاری آنکھوں ہر وقت بھری کیوں ہوتی ہے دیکھو عورتوں کے آنسو سے پگھلنے والا مرد نہیں ہوں میں مجھے یہ آنسوؤں سے سخت چڑ ہے

صاف کرو ان آنسوؤں کو اور میرے سامنے رونا دھونا مت کرنا میں نہیں جانتا کہ تمہاری پرانی زندگی کیسی تھی شادی سے پہلے تم کس طرح اس رہتی تھی

لیکن اب تمہیں میری پسند میں ڈھلنا ہوگا جو چیز مجھے پسند نہیں ہے اسے بدلنا ہوگا اور سب سے زیادہ ناپسند مجھے یہ تمہارے آنسو ہیں

ابھی ہماری شادی کے دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ تم اس طرح ہر وقت منہ لٹکائے گھومتی رہتی ہو عجیب حالت بنا رکھی ہے تم نے کہیں سے بھی نئی نویلی دلہن نہیں لگتی ہو

میرے گھر والے فی الحال اس کنڈیشن میں نہِیں ہیں جس کنڈیشن میں وہ تمہیں ان باتوں کی گہرائیوں کے بارے میں نہیں بتا سکتے لیکن تم خود تھوڑا عقل کا استعمال کرو

ہماری حویلی نوکروں سے بھری ہوئی ہے آئے دن کوئی نہ کوئی مہمان آتا جاتا رہتا ہے اس کے سامنے اس طرح کی حالت بنا کر گھومتی ہو

جیسے سہاگن نہیں کوئی بیوہ ہو وہ سرد مہری سے بولا تو عمایہ کے آنسو اور شدت سے بہنے لگے وہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی

اللہ نہ کرے آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ۔وہ نہ جانے کون سے دھن میں بولی تھی

جب کہ بے اختیاری میں وہ اسے یہ بتا چکی تھی کہ اس کا ہونا نہ ہونا اس کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے اس کے آ جانے سے ایک امید سی بن گئی تھی

ایک آس تھی کہ اس کا شہزادہ اسے ان ظالموں سے نکال کر دور لے جائے گا وہ اسے ان کے ظلم وستم کا شکار نہیں ہونے دے گا

اچھا تو میرا ہونا نہ ہونا اس لئے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ میرے نہ ہونے یا نہ ہونے سے تمہارا ہونا نہ ہونا جڑا ہے رائٹ بڑی مطلبی قسم کی لڑکی ہو تم

میرا دماغ خراب ہے جو میں ابھی تک تمہیں معصوم سمجھ رہا تھا وہ اسے تنگ کرتے ہوئے اسے کہہ رہا تھا وہ اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی تھی لیکن زریام اس کی کچھ سننا ہی نہیں چاہتا تھا

وہ جو سوچ چکا تھا اس کے لیے وہیں سہی تھا اب حقیقت بس یہ تھی کہ وہ اپنے مطلب کے لئے اس کے ساتھ تھی

وہ پریشان تھی نہ جانے وہ اس کے بارے میں کیا سوچے گا جبکہ اس کی صفائیاں دینا اسے بڑا مزہ دے رہا تھا لیکن اس کے سامنے مسکرا کر یا پھر اسے یہ بتا کر کے وہ صرف اسے تنگ کر رہا ہے وہ اس کی زبان دوبارہ بند نہیں کروا سکتا تھا

پہلے ہی حویلی سے لے کر شہر تک کا راستہ ان دونوں نے بالکل خاموشی سے کاٹا تھا اور وہ خاموشی میں سفر کرنے کا زریام مو بھی ہرگز پسند نہ تھا

°°°°°°

حد ہے یہ لڑکی کسی کام کی نہیں ہے مجال ہے جو اس کو کوئی کام کہ دےدو اور وہ اسے کردے

وہ کچن میں کام کرتے دیشم کو کوس رہی تھیں جب کہ وہ مسلسل نا چاہتے ہوئے بھی کھانا بنا رہی ہےجو تھوڑی دیر میں بن جانے والا تھا

لیکن نہیں اس کی اماں جب تک اس کی کھل کر بےعزت نہ کرلیں تب تک انہیں سکون کہاں ملتا تھا

ان کی سب سے بڑی وجہ تو اس کا یونیورسٹی جانا تھا ان کا کہنا تھا کہ جب سے وہ یونیورسٹی جانے لگی ہے تب سے وہ گھر کے کام کاج بھول گئی ہے جبکہ ایسا ہرگز نہ تھا

بس کر دے نا اماں جان میں بنا تو رہی ہوں نہ بس اینڈ لگا ہے ابھی بنا کر باہر لے آؤں گی آپ تھوڑی دیر بعد آئیں اس نے اکتاتے ہوئے ان سے کہا تھا لیکن وہ کہاں اتنی آسانی سے چھوڑنے والی تھیں

میرے سامنے باتیں مت بناؤ لڑکی کھانا بناؤ کل کو اگلے گھر جانا ہے آگے جاکر تمہیں ہزار طرح کے کام کرنے ہیں یہ کتابیں یہ ڈگریاں کام نہیں آئے گی وہاں جا کر

ساس کھانے بنوائے گی طرح طرح کے پھر وہاں جاکر ہمارے ناک نہ کٹوانا

وہ غصے سے اسے ڈانٹ رہی تھیں جب کہ وہ اب منہ کو بند کر کے صرف ہاتھ چلانے والا کام کر رہی تھی

اماں اسے باتیں سنا سنا کر امی خود ہی تنگ آکر کچن سے نکل گئیں جس پر اس نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے سارا دھیان کھانابنانے پر لگا دیا تھا

اور اب وہ حرم کے اس طرف آنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ شاید کھانے میں نمک تیز ہو چکا ہے

لیکن نہ جانے کیا یہ لڑکی کہاں تھی کہ اب تک نیچے نہ آئی تھی اور دیدم بھی اس طرف نہیں آئی تھی سامیہ بھی نانی کے گھر ایسی گئی تھی کہ اب تک اس کی واپسی نہ ہوئی تھی

لڑکیوں کے ہوتے ہوئے اسے گھر کے اتنے کام تو ہرگز نہیں کرنے پڑتے تھے لیکن یہ سنڈے آتا ہی کیوں تھا جس دن اس کی یونیورسٹی بند ہوتی تھی اس کی اماں کی یونیورسٹی شروع ہو جاتی تھی

پتہ نہیں کون کون سے کھانے بنانے میں اسے ماہر کرنا چاہتی تھیں وہ اپنی ہی سوچ میں گم تیز تیز ہاتھ چلائے رہی تھی جب اچانک کوئی اندر داخل ہوا

حرم تم آ گئی ہے چکھ کر بتاو کیسا بنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بول ہی رہی تھی کہ سامنے حرم کے بجائے خداش کو کھڑے دیکھ کر چپ ہو گئی

کیا بات ہے آج تو بڑے بڑے لوگ کچن میں ہیں وہ آگے بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے چکا تھا

جبکہ وہ بنا کچھ بولے وہی سے پلٹ کر اپنے کھانے کی طرف مصروف ہوگئی تھی ایسا کیوں ہوتا تھا وہ جس وقت اس کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی وہی اس کے سامنے آ جاتا تھا

نمک تیز ہے وہ اس کے پیچھے کھڑے بولا تو اگلے ہی لمحے دیشم نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ چھین کر سامنے کاؤنٹر پر پھینک دی

مجھے بہت اچھے طریقے سے پتہ ہے آپ کو ضرورت نہیں ہے میری غلطی نکالنے کی ویسے بھی آپ کے لئے نہیں حرم کے لئے تھا ۔

اس نے جتانا ضروری سمجھا وہ ایسے شخص کو شاید اپنا کھانا بھی ٹیسٹ کروانا پسند نہیں کرتی تھی

ہاں میں جانتا ہوں یہ میرے لئے نہیں تھا لیکن چاچی اماں تمہاری اتنی پریکٹس تو میرے لئے ہی کروا رہی ہیں

اگر کل کو مجھے یہ تمہارے ہاتھ کے کھانے پسند نہ آئے تو تمہارے لئے مسئلہ بن جائے گا

اسی لیے بہتر ہے کہ تم یہ سارے سوال مجھ سے ہی پوچھ لیا کرو وہ اس کی بدتمیزی کا برا منائے بغیر بولا تھا یہ الگ بات تھی کہ حویلی کے اندر آتے ہوئے وہ چچا جان کو نظرانداز کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا

کیونکہ فیکٹری میں ہونے والے کچھ اونچ نیچ کو وہ اس کے ساتھ ڈسکس کرنا بھول گئے تھے

جس کی وجہ اسے وہ کافی غصے میں تھا پہلے فیکٹری میں وہاں ورکرز کو اچھا خاضا سنایا تھا

وہاں اس کو جب ساری تفصیل پتہ چلی تو اسے چچا پر بھی اچھا خاصا غصہ آیا

اس نے انہیں کہا تھا کہ وہ ساری اونچ نیچ کی رپورٹ چاہتا ہے جس پر چچا جان نے اسے بعد میں دینے کے لیے کہہ دیا اور اب تک اس کے پاس کوئی رپورٹ نہیں پہنچی تھی

اور یہ ساری چیزیں اسے بہت غصہ دلا رہی تھی لیکن یہاں کچن میں قدم رکھتے ہی وہ اپنا سارا غصہ بھول چکا تھا وہ اس کے ساتھ بہت محبت سے پیش آ رہا تھا

کیا مطلب ہے آپ کا وہ اس کی بات کو مکمل سننے کے بعد بولی شاید وہ سمجھی نہیں تھی یہ شاید سمجھنا چاہتی نہیں تھی

بہت صاف ستھرا مطلب ہے کہ یہ جو تم کھانا بنا رہی ہو نا وہ میرے لیے بنا رہی ہو اور اسے مجھے ہی کھانا ہے تو اس میں نمک ٹھیک کرو اور باہر لے آؤ بہت بھوک لگی ہے مجھے

اور باقی ماشاء اللہ سے تم بہت سمجھدار ہو ساری باتیں تمہیں بہت اچھے طریقے سے سمجھ آتی ہیں اور جن باتوں کا مفہوم ابھی تمہیں سمجھ نہیں ہے وہ تمہیں جلد سمجھا دوں گا ۔

جلدی سے کھانا لے کر آؤ وہ کچن سے نکل گیا تھا جب اماں اس کے پیچھے کچن میں داخل ہوئیں

بچے کھانا تیار ہے جلدی سے کھانا لگا دو خداش کو بہت بھوک لگی ہوئی ہے اس نےٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا جلدی کرو میرا بچہ باقی سب لوگ بعد میں کھا لیں گے

اسے کہتے ہوئےوہ خود بھی جلدی جلدی کھانا نکالنے لگی تھیں جب کے اپنے ہاتھ کے بنائے گئے کھانا سب سے پہلے خداش کے حصے میں جاتے دیکھ اسے بہت غصہ آیا تھا۔

تبھی تو وہ چولہا بند کرتی کچن سے نکلتی سیدھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔

••••