Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 76)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 76)
Junoniyat By Areej Shah
واو تم کتنی پیاری ہو۔ ۔۔۔۔”
اللہ تم تو بالکل دیشم آپوجیسی ہو ۔۔۔۔
میں تمہیں نام سے بلاؤں یا تمہیں بھی آپوکہہ بلاؤں ویسے تو تم مجھ سے بڑی ہو ۔۔لیکن میرا تمہیں آپو کہنے کا بالکل دل نہیں کر رہا
کیا مطلب تمہارا مجھے عزت دینے کا دل نہیں کر رہا ۔۔ اس کے کہنے پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی جس پر ریدم بھی ہنس دی
ریدم بھی پہلی بار کسی سے اتنی فری ہوئی تھی اس گھر میں ۔اصل میں اسے حرم پہلی ہی نظر میں بہت اچھی لگی اور جب اسے یہ پتہ چلا کہ وہ لندن سے آئی ہے تب وہ اسے اور بھی زیادہ اچھی لگی کیونکہ وہ اپنی کسی بھی حرکت سے لندن کی گوری نہیں لگ رہی تھی ۔
نہیں میرا تو دل نہیں کر رہا اگر میں نہیں دوں گی تو چلے گا کیا وہ کیٹی کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے اس سے بولی تھی
چلو یار تم بھی کیا یاد کرو گی نہیں دو عزت میں بھی نہیں لیتی ۔وہ اس سے بولتی اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رہی تھی گرین کلر کے خوبصورت شرارے میں وہ آسمان سے اتری کوئی آپسرا لگ رہی تھی ۔
یار تمہیں ایک بات بتاؤں آج سے پہلے میں اتنی پیاری کبھی بھی نہیں لگی اس نے بے ساختہ ہی اپنے شیشے میں نظر آتے عکس کو فلائنگ کس دی تھی ۔
اور میں خداش ویرو کی شادی سے پہلے پیاری کبھی نہیں لگی تھی ۔لیکن شادی پرنا میں بہت زیادہ تیار ہوئی تھی کیونکہ مجھے اپنے بھائی کی شادی پر بیسٹ دکھنا تھا ۔
اور تمہاری اپنی شادی پر ۔۔۔۔؟ تھوڑی دیر پہلے تائی امی نے اسے بتایا تھا کہ حرم اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہے تو مطلب صاف تھا کہ وہ شادی شدہ ہے پہلے تو اتنی چھوٹی سی لڑکی کی شادی کا سن کر اسے عجیب لگا تھا لیکن پھر جس طرح کی جولی اور ہنس مکھ طبیعت کی وہ لڑکی تھی ۔
وہ اس کی شادی کو اگنور کیے اسی سے باتیں کرنے میں مگن ہو گئی۔ ویسے تو اس نے دیشم کی بہت تعریف سنی تھی لیکن وہ اسے تھوڑی نکچڑھی اور مغرور لگی۔باقی سامیہ اسے اچھی نہیں لگی اور دیدم کی عقل وہ ٹھکانے لگا چکی تھی ۔
میری شادی میں نہ بڑی مزے کی ٹریجڈی ہوئی ہے ۔میرے جو ٹیچر ہیں نہ مجھ پر مرمٹے اور پھر انہوں نے مجھے کڈنیپ کیا اور ہمارا نکاح ہوا اور اس کے بعد اب نہ وہ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ میرے بنا رہ نہیں سکتے ۔اور ہاں سب سے مزے کی بات بعد میں نہ وہ میرے کزن نکلے تم زرا یہیں پر رکو میں جھانکی مار کر آتی ہوں ۔وہ کیا ہے نہ وہ گھبرا جاتے ہیں میرے بغیر اس نے شرمانے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ۔
اور پھر اگلے ہی لمحے کمرے سے باہر دوڑ لگا دی ۔
وہ پتا نہیں اس سے کون کون سے سوال پوچھنے والی تھی اس کے منہ میں ہی رہ گئے مطلب اتنی عجیب و غریب مخلوق اس نے پہلی بار دیکھی تھی کیا وہ کوئی کہانی بنا رہی تھی یا سچ مچ میں اسے اغواء کر کے نکاح کیا گیا تھا اور یہ کزن والا کیا معاملہ تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
وہ سوچتے ہوئے ایک بار پھر سے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے لگی کہ اچانک اس کے فون پر میسج ٹون بجی
اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو اسی کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔
اس نے اگلے ہی لمحے میسج کھول کر دیکھا تھا جس پر لکھا تھا “دل بے قرار کو سکون چاہیے یار کے دیدار کا اگر تصویر مل جاتی تو گزارا ہو جاتا”
اور اس کے ساتھ ہی بہت سارے ریڈ ہارٹس
شائزم شاہ تمہارے دل کو ایسا سکون پہنچاؤں گی نہ کہ ساری زندگی سکون کے لئے ترسو گے تم وہ فون واپس بیڈ پر پھینکتے ہوئے آئینے کے سامنے آرکی ۔
جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا ہے نہ شائزم شاہ اس کا اگر گن گن کر حساب نہ لیا تو میں بھی تمہاری پھوپھو کی بیٹی نہیں
°°°°°°
شائزم نے بڑی محبت سے میسیج لکھ کر سینڈ کر دیا تھا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا سین تو اسی وقت ہی ہو گیا تھا اس کا میسج لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر وہ بدمزہ ہوا تھا سب لوگ آج مہندی کی رسم ادا کرنے کے لیے جانے والے تھے
لیکن اسے کوئی بھی اپنے ساتھ لے کر نہیں جا رہا تھا کل نکاح ہونا تھا ویسے تو نکاح ہوچکا تھا لیکن یہ بات ان کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا یا زریام جانتا تھا جو کسی کو نہیں بتانے والا تھا ۔
تین دن سے وہ اسے مسلسل میسجز کر رہا تھا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا
اس نے دو تین بار دھمکیوں بھرے میسج کیے تھے کہ وہ اس کی کال کو ریسو کرے لیکن اس نے اس کی دھمکیوں پر بھی کوئی رسپونس نہیں دیا تھا
اسے غصہ تو بہت آ رہا تھا اس حد تک نظر انداز ہونے پر لیکن اس وقت وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا وہ شادی کے لئے مان چکی تھی اتنا ہی کافی تھا پہلے ہی وہ اس کے ساتھ بہت غلط کر چکا تھا اب تو وہ اسے منانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
اسے یقین تھا کہ وہ اسے منالے گا یہ تھوڑا مشکل تو تھا وہ اس کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادہ غلط کر چکا تھا اپنے غصے اور انا کی تسکین کے لیے اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی
اسے زبردستی نکاح کرنے پر مجبور کیا تھا اگر وہ اس کے دل کی بات کو جان جاتا تو بہتر تھا پہلے تو اسے اس کی غلط فہمی دور کرنی تھی اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے اسے بھی بہت کوشش کرنی تھی ۔
لیکن وہ سب کچھ کرنے کو تیار تھا وہ اس سے معافی مانگ کر اپنی زندگی کو بہت خوبصورت بنا دینے والا تھا یہ جانے بنا کے دوسری طرف وہ اس کے بارے میں کیا سوچے ہوئے ہے
°°°°°°
آپ یہاں کیوں آئے ہیں یشام وہاں جا چکا ہے وہ آپ کا انتظار کر رہا ہو گا آپ کو وہاں پارک میں ہونا چاہیے تھا وہ اچانک اسے اپنے سامنے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تھی
اچھا آپ نے اسے بھیج دیا میں تو یہاں آگیا تھا اس سے ملنے کے لیے موسم خراب تھا سوچا وہ نہیں آیا ہوگا خیر کوئی بات نہیں اب میں آہی گیا ہوں تو یہاں اندر تھوڑی دیر بیٹھ جاتا ہوں
وہ خود ہی مجھے وہاں نہ پا کر یہاں آ جائے گا وہ اندر داخل ہونے لگا جب اچانک ہی کینز نے دروازے کے آگے رک کر اس کا راستہ بند کر دیا ۔
معاف کیجیے گا میرا شوہر اور میرا بیٹا اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے اور ان کی غیر موجودگی میں کوئی مرد میرے گھر آئے مجھے یہ بات منظور نہیں ہے
آپ ان کی موجودگی میں آئیے گا تو زیادہ بہتر رہے گا وہ اسے دیکھتے ہوئے بنا لحاظ کیے بولی تھی پہلے ہی اسے اس کی حرکتیں پسند نہیں تھی آج یشام گھر پر نہیں تھا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس آدمی کو اندر گھسنے دیتی
بھابھی جی میں بس تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا جاؤں گا جب تک یشام آتا ہے وہ مجھے وہاں پارک میں نہ پا کر خود ہی یہاں آ جائے گا موسم خراب ہورہا ہےاس نے چہرے پر بشاشت طاری کرتے ہوئے اس سے کہا تھا
لیکن اس کا میٹھا لہجہ بھی اسے پگھلانے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
نہیں بھائی صاحب آپ تبھی آئے گا جب احمر خود گھر پر موجود ہوں اور ویسے بھی آپ کا تعلق ان سے ہے مجھ سے نہیں اور مجھے ویسے بھی پسند نہیں کہ کوئی بے وجہ میں آکر میرے گھر بیٹھے میں آپ کی کوئی خدمت نہیں کر سکتی
اس نے اپنے انداز میں کسی طرح کی لچک نہ آنے دی تھی بے شک وہ احمر کا کزن تھا لیکن اس کے لیے ایک انجان مرد تھا شاید اتنی رعایت تو وہ احمر کے سگے بھائیوں کو بھی نہ دیتی تو یہ تو پھر اس کا کزن تھا
میں اتنا بے اعتباری انسان نہیں ہوں کہ آپ مجھے گھر کے اندر تک نہ آنے دیں اس نے ذرا سختی سے کہا تھا جیسے اس کی بات اسے بری لگی ہو اور وہ یہ بات اس پر ظاہر کرنا چاہتا ہو
لیکن وہ جانتی تھی کے اس کا یوں اسے دروازے پر کھڑے رکھنا اور اندر آنے کی اجازت نہ دینا اسے برا لگ رہا ہے لیکن کنیز یہ اپنے لیے بہت بہترین سمجھ رہی تھی
بے شک آپ بے اعتبار نہیں ہیں میرے شوہر کے لیے۔۔ لیکن میرے لیے میرے شوہر کے علاوہ ہرغیر مرد بے اعتبار ہے اس نے کہہ کر دروازہ منہ پر بند کر دیا تھا جب کہ راحیل کے لیے یہ زندگی کا سب سے توہین آمیز لمحہ تھا وہ مٹھیاں بھینچتا وہیں سے پیچھے ہٹ گیا تھا
°°°°°
تم دونوں میں کیا کوئی ناراضگی چل رہی ہے وہ دادا جان کے کمرے میں آئی تو دادا جان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
وہ ان کے سامنے ان کی دوائی رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا گئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان دونوں کی آپسی لڑائی گھر کے بڑوں تک پہنچے
نہیں دادا جان سب کچھ ٹھیک ہے کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی بس تھوڑی سی ناراضگی ہے وہ بھی ان شاءاللہ ختم ہو جائے گی اس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا
خداش کے لیے اس کے دل میں اب تک جو بھی غلط فہمی تھی تقریبا دور ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی خداش اسے منہ ہرگز نہیں لگا رہا تھا جب سے حرم واپس آئی تھی اس نے خداش کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی
وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے منہ ہی نہیں لگا رہا تھا وہ جس طرف جا رہی تھی خداش وہ جگہ ہی چھوڑ دیتا
میں نوٹ کر رہا ہوں خداش تمہاری طرف دیکھتا نہیں ہے وہ تم سے ناراض لگ رہا ہے تم دونوں میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہے تو مجھے بتا دو ہو سکتا ہے کہ میں تم لوگوں کی مدد کر سکوں وہ اس کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے بولے تھے
اگر آپ چاہتے تو پہلے میری مدد کر دیتے پہلے مجھے بتا دیتے کہ یہ جو سب کچھ آپ لوگ کر رہے ہیں۔جھوٹ ہے وہ تو مجھے تائی امی نے بتایا حرم کے بارے میں وہ شروع سے جانتی تھیں
سب لوگ اتنے پرسکون تھے اور میں یہاں حرم کا سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی دادا جان آپ لوگوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا
اگر آپ کے لئے تائی اور تایا ابو قابل اعتبار تھے تو میں کیوں نہیں گھر والوں سے آپ لوگوں نے یہ بات چھپائی احمربھائی آپ کے لیے اتنی اہمیت رکھتے تھے کہ آپ کو یہ سارا کچھ کرنا پڑا تو یہ کرنے سے پہلے آپ ہمیں بھی بتا سکتے تھے آپ لوگوں نے یہ سب کچھ ہم سے چھپایا کیوں ۔
کیونکہ یہ گھر کے بڑوں کی بات تھی ضروری نہیں کہ ہر چیز میں بچوں کو شامل کیا جائے اور تمہاری عقل سے ہم اندازہ لگا چکے تھے کہ تم اتنے اعتبار کے لائق ہرگز نہیں ہووہ بنا لحاظ رکھے بولے تھے ۔وہ کچھ بولنا چاہتی تھی کہ دادا جان پھر سے بولے
تم اتنی عقل سے پیدل لڑکی ہو کہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکی کہ اگر حرم کی موت کا اس کا ماں باپ کو کوئی افسوس نہیں ہوا ۔تو تم کیوں پاگل ہو رہی ہو ۔تمہیں کیا لگتا ہے حرم کے ماں باپ اس سے محبت نہیں کرتے تھے ۔تم شروع سے ہی بچکانہ ذہانت کی مالک ہو ہم تمہیں کچھ بھی بتانے کا رسک نہیں لے سکتے
اور خداش آپ کے اعتبار کے قابل تھے یقینا ہونگے وہ تو ہر لحاظ سے بالکل پرفیکٹ ہیں نہ آپ کے لئے وہ جو بھی کرتے ہیں سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے اور میں جو بھی کرتی ہوں سب غلط ۔کیونکہ آپ کو پیار ہی بس انہی سے ہے
یہ ہے تمہاری ذہانت اس لئے ہم تمہیں کوئی بات نہیں بتاتے تم اس قابل ہی نہیں ہو تمہیں کسی راز میں شامل کیا جاسکے تمہاری ساری سوئیاں تو اس بات پر آکر اٹک جاتی ہیں کہ ہم خداش سے تم سب لوگوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ہم خود اس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہی ہمارے لئے ہمارا سب کچھ ہے
جس دن تمہارے ذہن سے یہ بات نکل گئی نہ کہ خداش کے علاوہ باقی بھی ہمارے لئے اہمیت کے حامل ہیں تم خود بخود عقلمند ہو جاؤ گی اور جس دن تمہارے عقل میں یہ بات سمآگئی نہ اس دن اس قابل بھی بن جاؤ گی کہ تمہیں اس گھر کے راز میں شامل کیا جاسکے
اور اب ہمارا دماغ مت کھاؤ جاکر اپنے شوہر کو مناو اگر مانتا ہے تو اور اگر تم اسی سوچ کے ساتھ اس کے پاس گئی نہ کہ اس کے علاوہ اس گھر میں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تو تم اسے کبھی بھی منانے میں کامیاب نہیں ہو سکو گی
تم جانتی ہو ہم نے خداش کو کبھی یہ بات نہیں بتائی کہ وہ ہمارے لیے کتنا اہم ہے ۔وہ خود جانتا ہے کہ ہم اس سے کتنی محبت کرتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ تم نہیں جانتی کہ ہم تم سے کتنا پیار کرتے ہیں ۔اپنی فضول سوچ پر قائم رہ کر خداش کے پاس کبھی مت جانا ۔
وہ اسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے تھے جبکہ آج پہلی بار دادا جان کے منہ سے اپنے لیے یہ ادھورا اظہار محبت سن کر اسے جہاں تھوڑا سکون ملا تھا وہ خداش کی ناراضگی اسے پریشان بھی کر گئی تھی
اس نے کہا تھا تم پچھتاو گی اور آج وہ سچ میں پچھتا رہی تھی
°°°°°°
حرم نے آہستہ سے روازہ کھول کر چوتھی دفعہ کمرے میں قدم رکھا تو ابھی تک سے سوتے ہوئے پایا وہ گہری نیند سو رہا تھا شاید سفر کی ساری تھکاوٹ مٹا رہا تھا توہ مسکراتے ہوئے اس کے بالکل پاس آ کر لیٹ گئی
اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے اوپر رکھتے ہوئے اس کے موبائل اٹھا کر خوبصورت سی مسکان کے ساتھ تصویر بنائی
اور جناب یہ رہی میری آپ سے ملاقات کی چوتھی سیلفی یہ میری چوتھی جھانکی تھی تاکہ آپ کو یقین آجائے کہ میں بار بار آپ سے ملنے آتی رہی اس نے بڑی محبت سے اس کی بند پلکوں کو چھوکر اسے احساس دلایا تھا کہ وہ اس کے پاس ہے
اور اس کا موبائل واپس اس جگہ پر رکھتے ہوئے آہستہ سے اس کا ہاتھ پیچھے کر کے اس کے قریب سے اٹھ گئی تھی
اپنے وعدے کے مطابق وہ بار بار کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی اس وقت حرم کو سخت بھوک لگ رہی تھی لیکن وہ اس کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ وہ دونوں ایک ساتھ کھانا کھا سکے
وہ اس کے لئے اتنا خاص ہو جائے گا اس بات کا اندازہ حرم کو پہلی دفعہ ہوا تھا وہ اسے اتنا چاہنے لگی تھی اسے ہرگز پتا نہ تھا لیکن آج اس کی بے پناہ چاہت اور اسے کھو دینے کے ڈرنے اسے اس بات کو قبول کرنےپر مجبور کر دیا تھا کہ وہ بھی اس کےلیے بے حد اہم ہے
اس کے دل نےسرگوشیانہ انداز میں اپنے ہی دل کا حال سنا دیا تھا
وہ اس شخص سے محبت کر بیٹھی تھی اور اس بات کو اپنے دل سے قبول بھی کر چکی تھی ۔کمرے کو باہر سے دوبارہ بند کرتے ہوئےوہ شادی کی رسموں میں شامل ہو چکی تھی ریدم کے سسرال والے آ چکے تھے جن کا ان سب نے مل کر ویلکم کرنا تھا
°°°°°
رسم شروع ہو چکی تھی ۔سب لوگ باری باری آ کر اسے مہندی لگا رہے تھے عمایہ اور زریام کے مہندی لگا لینے کے بعد خداش اور دیشم کو رسم کرنے کے لیے کہا گیا ۔
داداجان کب سے دیشم کو خداش سے بات کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے دیکھ کر خود ہی ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے تھے ان کا کوئی ارادہ نہ تھا اپنی بیوقوف پوتی کی مدد کرنے کا لیکن جو بھی تھا اب اپنی پوتی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا
بےشک ان کی پوتی ہی عقل سے پیدل تھی تو انہیں خود ہی کوئی نہ کوئی حل نکالنا تھا ۔
دادا جان میں ان سب رسموں کو نہیں کر سکتا آپ کو تو پتا ہے مجھے یہ سب کچھ نہیں آتا خداش نے معذرت کرنے کی کوشش کی تھی
مجھے آتا ہے میں بتاتی ہوں کیسے کرنا ہے وہ فورا ہی اپنی خدمت لئے اس کے سامنے حاضر ہوئی تھی خداش نے سر سے پیر تک اسے خوبصورتی سے سجے سنورے دیکھا تھا
ایم ناٹ انٹرسٹڈ۔۔۔۔! شاید اس نے سب کا لحاظ کرتے ہوئے کہا تھا
انٹرسٹ لینا پڑتا ہے اپنے آپ تو آئے گا نہیں اور ویسے بھی اتنی محنت سے آپ نے سب کچھ کیا ہے تو رسم تو کرنی چاہیے نہ اس نے اس کا ہاتھ تھاما تھا جب خداش نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے نازک ہاتھوں کی گرفت سے کھینچ لیا تھا
اس نے کچھ کہا تو نہیں تھا لیکن آنکھوں سے وارن ضرور کیا تھا کہ اپنی اوقات میں رہو ۔۔۔
اور پھر اسے دیکھے بنا ہی سٹیج کی طرف چلا گیا ۔جبکہ وہ خود شرمندہ ہوتے ہوئے اس کے ساتھ ہی اوپر قدم بڑھا چکی تھی۔اب وہ اسے شرمندہ کرے ذلیل کرے کچھ بھی کرے جتنا کچھ وہ کر سکی تھی اس کے بعد خداش کا اسے الٹا سولی پر لٹکا دینا بھی جائز تھا
اوپر آ کر ان دونوں نے رسم ادا کی تھی بلکہ اس نے کیا کیا تھا جو بھی کیا تھا دیشم نے کیا تھا جبکہ دیشم کا ہر رسم میں حصہ لینا مسکراتا انداز دیکھ ریدم حیران ہوئی تھی کہاں یہ مغرور لڑکی اس کو منہ ہی نہیں لگاتی تھی اور کہاں اب اس کی سگی بہنوں سے بڑھ کر اسے مہندی لگوا رہی تھی
اور اسے عجیب تو خداش کا انداز لگا تھا جو اب سے پہلے اس کا مجنوں بن کر اس کے آگے پیچھے گھومتا تھا اور آج اسے منہ ہی نہیں لگا رہا تھا
°°°°°
