65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 53)

Junoniyat By Areej Shah

آپ آج نہیں جاؤ گے باہر۔ ۔۔۔۔؟

تم کہتی ہو تو چلا جاؤں گا ۔وہ اس کے ساتھ باہر بیٹھا تھا جب حرم کو کہتے سنا۔

نہیں میں کیوں کہوں گی ۔آپ کا گھر ہے ۔آپ جب چاہے آ سکتے ہیں جا سکتے ہیں میں کون ہوتی ہوں پوچھنے والی ۔وہ جلدی سے بولی

یہ تمہارا گھر ہے حرم جان۔ تمہارا حق ہے اس پر اور مجھ پر بھی تم مجھ سے کچھ بھی پوچھنے کا کچھ بھی کہنے کا حق رکھتی ہو۔

وہ تو اپنے تمام تر جذبات کا اسے مالک بنا دینا چاہتا تھا لیکن شاید وہ اس کے جذبات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی یا یہ اس کی سمجھ سے باہر تھے۔

اچھا!مطلب کہ یہ میرا گھر ہے تو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یہاں تک کہ یہ صوفہ اٹھوا کر وہاں رکھوا سکتی ہوں اور یہ ایل ای ڈی بھی اس طرف لگا سکتی ہوں ۔۔۔؟وہ خوش ہوتے ہوئے پوچھنے لگی ۔

ہاں بالکل جان تم جو چاہے کر سکتی ہو کوئی تم سے کچھ بھی سوال پوچھنے کا حق نہیں رکھتا تم جو چاہے کرو یہاں اس نے کھلے دل سے اسے اجازت دی تھی وہ چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ اس کے گھر کو اپنا سمجھے ۔

تو پھر اٹھیں یہ صوفہ آپ رکھیں گے اور یہ ایل ای ڈی اتار کر اس دیوار پر لگائیں گے ۔وہ فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی ۔

مطلب یہ سب کچھ میں کروں گا ۔۔۔۔؟وہ اسے حکم دےکر کر خود چھوٹے سے لکڑی کے میز پر بیٹھ گئی تھی ۔

کیوں آپ نہیں کر سکتے کیا ۔۔۔۔؟ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ آپ پر اور آپ کے گھر پر میرا حق ہے تو پھر تو میں آپ سے اپنی ہر بات منوا سکتی ہوں ناں ۔۔۔؟وہ اسے دیکھ کر سوال کرنے لگی

بالکل جان تم جو کہو گی میں کروں گا لیکن یہ سب کچھ میں اکیلے کیسے کروں گا تمہیں میری ہیلپ کرنی چاہیے یہ صرف ہم دونوں مل کر سکتے ہیں ۔وہ اسے فارغ نہیں بیٹھنے دینا چاہتا تھا ۔

میرے ویرو کہتے ہیں کہ میں بڑے بڑے کام نہیں کر سکتی میں چھوٹی ہوں ۔اور یہ تو بہت بڑا ہے میں کیسے کروں گی۔ وہ معصومیت سے بولی جب دروازے پر دستک ہوئی۔

اب کون آگیا۔ ۔۔۔؟ عظمیٰ تو رات کو آئے گی ناں ۔وہ بھاگ کر اس کے پیچھے چھپی تھی۔

جب کہ وہ مسکرا کر دروازہ کھول چکا تھا ۔

سامنے ہی صیام ہاتھوں میں کچھ کاغذات پکڑے کھڑا تھا ۔

تمہارا کام کر دیا میں نے اب تم مجھے اپنے ہاتھ کی مزیدار سے چائے پلا دو وہ حرم کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے یشام بول پڑا ۔

ہاں کیوں نہیں چائے تو تمہیں ضرور دوں گا لیکن پہلے حرم گھر کی تھوڑی سیٹنگ چینج کروانا چاہتی ہے تو اس میں میری ہیلپ کرو ۔وہ اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی کہنے لگا

جی جی صیام سر آپ بالکل صحیح وقت پر آئے ہیں ورنہ یشام سر کو یہ سب کچھ اکیلے کرنا پڑتا ۔حرم نے بھی بیچ میں بولنا اپنا فرض سمجھتا تھا ۔

تم اس بیچارے سے اکیلے یہ سب کچھ کروانے والی تھی یہ نہیں کہ تم خود اپنے شوہر کی تھوڑی سی ہیلپ کروادو۔صیام نے یشام کی مدد کرتے ہوئے اس سے کہا تھا

میں کیسے کروا سکتی ہوں مدد میں تو چھوٹی ہوں ناں اور یہ صوفہ کتنا بڑا ہے اس نے ایک بار پھر سے معصومیت سے شکل بنائی تھی ۔

ہاں یار یہ تو واقعی بہت چھوٹی سی بچی ہے تو کیا اس معصوم سی بچی کو چائے بنانی آتی ہے یا یہ کام بھی ہم بڑوں کو یہ سب کرنے کے بعد خود ہی کرنا پڑے گا؟صیام نے پوچھنا ضروری سمجھا۔

مجھے پینی آتی ہے ۔اس نے گویا بات ختم کی تھی صیام تو اسے دیکھ کر رہ گیا جبکہ یشام کو اپنی معصوم سی بیوی پر بہت پیار آ رہا تھا۔

تو یہ کام کروا دے چائے میں تجھے خود اپنے ہاتھوں سے بنا دوں گا ۔

اور حرم کے پیپرز لے آیا تو ۔۔۔؟وہ کام کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا

ہاں بالکل میں لے آیا ہوں اور کل سے حرم کلاس بھی جوائن کرسکتی ہے ۔

کون سی کلاس ۔۔۔؟ان دونوں کو اپنے بارے میں بات کرتے سن اس نے سوال پوچھا تھا ۔

حرم کل سے تم اپنی پڑھائی دوبارہ سٹارٹ کر رہی ہو یہاں کے کالج میں تمہارا ایڈمیشن ہو گیا ہے

اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب میں سارا دن تمہارے پاس ہی رہوں گا کیونکہ میں بھی اسی کالج میں لیکچرار ہوں اور صیام بھی وہیں پر رہتا ہے ۔

اس نے تفصیل سے جواب دیا تھا

کیا مطلب ہم واپس کب جائیں گے پھر۔۔۔۔۔”وہ انہیں دیکھ کر پوچھنےلگی۔

اب ہم یہاں ہی رہیں گے حرم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ۔وہ بہت پیار سے جواب دے رہا تھا۔

میشا ۔۔۔میری بیسٹ فرینڈ ہے اس کے بنا میں یہاں کے کالج میں پڑھوں گی ۔یہاں تو میری کوئی دوست بھی نہیں ہوگی ۔وہ پریشان سی ہو گئی تھی اس کے چہرے کی اداسی پرصیام بھی پریشان ہوا تھا ۔

میں ہوں ناں تمہارے ساتھ تمہارا دوست تمہارا بیسٹ فرینڈ ۔۔۔”یشام نے اس کی توجہ اپنی طرف دلانے کی کوشش کی تھی

آپ میرے دوست تھوڑی نہ ہوں گے آپ تو کھڑوس ٹیچر ہوں گے پہلے جیسےوہ منہ بسور کر بولی تو صیام کو ہنسی آگئی وہ اکثر اس سے کہتا تھا کہ تم بہت کھڑوس ہو اسٹوڈنٹس تمہیں زیادہ پسند نہیں کرتے لیکن یشام اس کی اس بات کو کبھی قبول نہیں کرتا ۔

نہیں میں تمہارا اچھا ٹیچر بننے کی کوشش کروں گا اور یقینا تمہارا بیسٹ فرینڈ بھی بن جاؤں گا وہ اس سے زیادہ خود کو یقین دلارہا تھا ۔

لیکن وہ کچھ نہیں بولی شاید ابھی وہ اس بات کو قبول کررہی تھی کہ اپنی فیملی کےساتھ وہ اپنے دوستوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے

°°°°°°°

آدھی رات کا وقت تھا آخر آج وہ حویلی سے باہر نکل آئی تھی

حویلی سے باہر قدم نکالتے ہوئے اس کے دماغ میں بہت ساری چیزین تھی اس کے باپ کی پگڑی اس کے بھائیوں کی عزت بہت کچھ روند کر جا رہی تھی وہ

اپنی زندگی کی خوشیوں کی خاطر وہ اپنے باپ بھائی کو رسوا کرکے جارہی تھی اس کا انجام بھی وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی

اگر زندگی میں وہ کسی بھی مقام پر اپنے باپ بھائیوں کو ملی تو وہ اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے

یا شاید ان لوگوں کو اس پر ترس آجائے آخر وہ اپنے باپ کی لاڈلی تھی لیکن اس کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور بھی تو وہی لوگ کر رہے تھے

وہ اس کی شادی ایک ایسے شخص کروا رہے تھے جس کی نظر میں عورت ذات کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی

اس کے لیے عورت کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ایسے شخص کے ساتھ اپنی زندگی کیسے برباد کر سکتی تھی

اسے ایک عزت کرنے والا ہم سفر چاہیے تھا ۔تھوڑے سے وقت میں ہی ساگر کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکی تھی وہ جان چکی تھی وہ کس طرح کا انسان ہے

اور ساگر کاظمی اتنا اچھا انسان تو تھا ہی کہ اس کے لیے وہ اپنے باپ بھائیوں کی دولت جائیداد کو ٹھوکر مار کر آ جاتی ۔لیکن وہ صرف دولت جائیداد کو ٹھوکر مار کر نہیں آئی تھی وہ اپنے باپ بھائیوں کی عزت پر بٹا لگا گئی تھی

°°°°°°

میرے کپڑے نکال دو دیشم مجھے جانا ہے باہر کام ہے ضروری ۔وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔

میں آپ کے حکم کی غلام نہیں خداش صاحب خود لے لیں اور آئندہ بھی مجھے اس طرح کا کوئی بھی حکم دینے سے پہلے یہ بات یاد رکھیں۔

وہ بےحد بدتمیزی سے بولی ۔خداش کو اس کا یہ انداز بہت بُرا لگا۔

وہ اس کی ہر ادا ہر ناز اٹھانے کو تیار تھا ۔لیکن اس بار حملہ اس کے شوہرانہ حقوق پر ہوا تھا ۔اور یہ چیز خداش کو گورا نہ تھی۔

دیشم میں نے کہا میرے کپڑے نکال کر دو ابھی اور اسی وقت اور اس بار کوئی بکواس مت کرنا ۔وہ جیسے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا تھا

اور میں نے کہا کہ آپ خود لے لیں میں آپ کے حکم کی غلام نہیں۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ اچانک خداش نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنے قریب کر لیا ۔

بولو کیا بول رہی تھی تم دور سے مجھے ٹھیک سے آواز نہیں آ رہی تھی ۔وہ اس کا چہرہ اپنے بے حد قریب کیے بول رہا تھا اس کی گرم سانسوں کا لمس وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی

۔می۔ ۔میں۔ ۔م۔ ۔۔۔۔وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ وہ کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی

بیوی ہو میری دیشم خداش کاظمی مجھ سے جڑا ہر کام تم کرو گی اور بہت اچھے سےکرو گی ۔تم پر ہر طرح کا حق رکھتا ہوں میں ۔اگر میں تمہیں تھوڑا وقت دے رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی من مانی کرتی پھرو ۔

عورت کی عقل ٹھکانے لگانا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے مجھے من چاہی لے کر آیا ہوں اسی لیے برداشت کر رہا ہوں ۔ورنہ یہ آواز منہ سے نکالنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ۔

میں جیسا ہوں مجھے ویسا رہنے دو روایتی شوہر بننے پر مجبور مت کرو تمہارے ساتھ سختی کرتے ہوئے مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔وہ جیسے وارن کر رہا تھا ۔

آپ کے سارے روپ دیکھ چکی ہوں میں آپ کل بھی بُرے تھے اور آج بھی بُرے ہیں ۔اور پھر جو شخص اپنی ہی معصوم بہن کا قتل کر دے اس سے کوئی کسی اچھے کی امید کر بھی کیسے سکتا ہے

یہ مت سوچیے گا کہ میں آپ سے ڈر جاؤں گی یا خاموش ہو کر بیٹھ جاؤں گی میں آپ کا کوئی ستم نہیں سہوں گی خداش کاظمی میں بہت جلد آپ پر خلاء کا کیس ۔۔۔۔۔۔۔۔

چٹاخ۔ ۔۔۔اس کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ خداش کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے کا نقشہ بگاڑ گیا

آج یہ ناپاک لفظ اپنے منہ سے نکالا ہے اگر آج کے بعد نکالا تو جان سے مار ڈالوں گا تمہیں ۔وہ غصے سے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا جبکہ وہ بے یقینی سے اپنے گال پر ہاتھ رکھے اس کے دیے درد کو محسوس کر رہی تھی ۔

اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس شخص نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔اس نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔

آخرتھا تو مرد ہی ناں عورت کی آواز کو کیسے برداشت کرتا ۔کیسے خود کو غلط اور اس کو صحیح کہتا ۔

آخر خداش کاظمی تم نے بھی ثابت کر دیا تم بھی اس خاندان کے باقی مردوں جیسے ہی ہو لیکن تم جیسے مرد کے ساتھ میں نہیں رہ سکتی جو عورت کی آواز کو دبا کر خود کو معتبر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اور فیصلہ کرتے ہوئے اٹھی تھی اور اب وہ سیدھی دادا جان کے کمرے کی طرف جا رہی تھی

وہ کوئی ان پڑھ گنوار عورت نہ تھی جو چپ چاپ شوہر کی مار کھاتی اور منہ بند کر کے سب کچھ برداشت کرتی اسے اپنے لیے لڑنا تھا ۔

وہ بند کمرے میں آنسو بہا کر خود کو مظلوم ثابت نہیں کر سکتی تھی۔وہ دادا جان کو ان کے پوتے کا یہ کارنامہ دکھانے جا رہی تھی

°°°°°°

ساگر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پتا نہیں کیا ہو گا اب تک تو گھرمیں یہ خبر بھی پھیل چکی ہوگی کہ گھر کی لڑکی غائب ہے

پتا نہیں سب لوگ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے حویلی میں کیا ہو رہا ہوگا کہیں بابا جان اماں کو نہ کچھ کہے

مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ہماری تلاش میں نکل چکے ہوں گے وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی جبکہ ساگر اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا

تھوڑی دیر میں ان دونوں نے مسجد پہنچ جانا تھا جہاں ان دونوں کا نکاح ہونے والا تھا وہ یہ سفر نکاح کے بعد ہی شروع کرنا چاہتا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا یہاں سے بہت دور

مجھ پر یقین رکھو افشین کچھ نہیں ہوگا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا ان شاء اللہ یہاں سے نکل کر ہم ایک نئے سفر کی شروعات کریں گے میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا

تم نے مجھ پر یقین کیا ہے میں تمہارا یقین کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا دیکھ لینا تمہیں میرے ساتھ پر فخر ہوگا وہ اسے اپنا یقین دلاتے ہوئے نہ جانے کہاں لے کر جا رہا تھا ۔

اور وہ آنکھیں بند کر کے اس کے ساتھ اس سفر کی شروعات کرچکی تھی جس کا کوئی اختتام نہ تھا

وہ جانتی تھی یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوگا شاید وہ ساری زندگی ان لوگوں سے بھاگتے رہیں گے اور پھر ایک دن پکڑے جائیں گے مارے جائیں گے۔

لیکن پھر بھی اس سفر میں اس کا ہمسفر اس کی محبت تھا اس کی چاہت تھا وہ شخص تھا جس کیلئے وہ یہاں تک آئی تھی اور اسے یقین تھا وہ اس سفر کو پوری ایمانداری سے نبھائے گا

°°°°°°

سوچ رہا ہوں کچھ دن کےلیے شمالی علاقوں کی طرف چلیں ۔لیکن تمہاری کنڈیشن کو دیکھ کر ارادہ کینسل کر رہا ہوں ۔زریام بیڈ پر لیٹا تھا

جبکہ وہ آئینے کے سامنے کھڑی بال بناتےہوئےاسے سن رہی تھی۔

آپ چلیں جائیں نا میری وجہ سے آپ اپنے ارادے نہ بدلیں۔میں تو اب کافی ٹائم تک آپ کے ساتھ کہیں نہیں جا سکتی ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

تمہارےبنا اب میں کہیں نہیں جا سکتا۔ لڑکی بہت خاص ہو گئی ہو تم میرے لئے لیکن یہ باتیں تمہاری سمجھ سے باہر ہیں ۔

وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا ۔

آپ سے ایک بات پوچھوں برا تو نہیں منائیں گے؟ وہ کچھ ہچکیچاتے ہوئے اس کے پاس آگئی تھی جب کہ اس کے اتنے پاس آنے پر وہ اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے خود پر گرا چکا تھا ۔

اگر اتنی پاس آکر کچھ کہو گی تو وعدہ کرتا ہوں برا نہیں مناؤں گا لیکن دور سے کہو گی تو برا بھی مناؤں گا اور تمہاری بات کا جواب بھی نہیں دوں گا وہ اس کے گرد بانہوں کے حصار تنگ کرتے ہوئے بولا ۔اس کے انداز پر وہ نگاہیں جھکا گئی

اب بولو بھی ایسی کونسی بات ہے جس کے لیے تم نے اتنا فاصلہ طے کیا ہے وہ اسے شیشے سے لے کر بیڈ تک کا سفر دکھاتے ہوئے بولا ۔

وہ مجھے پوچھنا تھا آپ کی جو کزن غائب ہوئی ہے وہ کہاں چلی گئی ہے اور اب کیا شادی نہیں ہوگی ۔۔۔؟

اس نے آخر اپنا سوال مکمل کر ہی لیا تھا جو اتنے وقت سے اس کے دل و دماغ پر قبضہ جمائے بیٹھا تھا ۔

تم کیا چاہتی ہو وہ لڑکی واپس آجائے اور میرا اس کے ساتھ نکاح ہو جائے وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگا

اللہ نہ کرے میں کیوں ایسا چاہوں گی میں تو بس پوچھ رہی ہوں آپ سے اس نے فوراً جواب دیا تھا

اللہ نہیں چاہے گا ایسا ان شاءاللہ زریام شاہ کے دل و دماغ پر ایک جادوگرنی میں نے اپنا قبضہ کرلیا ہے ۔اب ذریام شاہ اس سے دور کبھی بھی نہیں جا سکتا ۔وہ رازدارانہ انداز میں بولا

۔جادوگرنی۔ ۔؟ وہ حیران ہوئی تھی۔

ہاں جادوگرنی نام جاننا چاہو گی اس کا وہ الٹا سوال کرنے لگا

عمایہ نے فوراً اثبات میں گردن ہلائی تھی

اس کا نام عمایہ ذریام شاہ ہے بہت چالاک جادوگرنی ہے ایسا اثر دکھاتی ہے اپنے جادو کا سامنے والا چاروں شانے چت ہو جاتا ہے

وہ مزے سے اسے بتا رہا تھا

جی نہیں میں کوئی جادو گرنی نہیں ہوں، میں عام سی انسان ہوں۔ جسے یہ تک نہیں پتا کہ اس کی آنے والی زندگی میں کیا ہونے والا ہے وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی تو زریام مسکرا دیا ۔

لیکن میں جانتا ہوں تمہاری زندگی میں آگے کیا ہونے والا ہے

تمہاری زندگی میں بہت ساری خوشیاں آنے والی ہیں جس میں ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے ہمارا ایک پیارا سا بچہ ہو گا ۔

جو ہم دونوں سے بہت زیادہ پیار کرے گا اور ہماری پیاری سی جنت ہوگی جس میں ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔

وہ اس کاسر اپنے سینے پر رکھے آہستہ آہستہ بول رہا تھا جب کہ وہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی اس کی باتیں اسے اچھی لگ رہی تھی ۔

کیونکہ آنے والے وقت سے تو دونوں بے خبر تھے زندگی کب کیا روپ اختیار کر جائے کوئی بھلا کیا جانتا ہے

°°°°°

کل رات جب ذریام نےاسے پوری بات بتائی تو وہ بہت پریشان ہو گیا تھا

ذریام ریدم سے شادی کے لیے تیار نہیں تھا

اس نے اپنے ولیمے اور عمایہ کو اپنا نام دینے کے لیے یہ سارا ڈرامہ کیا تھا لیکن اس ڈرامے میں اس نے ریدم کو غلط جگہ پہنچا دیا تھا

وہ کبھی بھی ریدم کو کاظمی حویلی بھیجنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا تھا

زریام کا کہنا تھا کہ اس نے ریدم کو کاظمی ہاؤس بھیج کر اچھا کیا ہے ریدم کا اصل گھر وہی ہے اور ان لوگوں کو یہ بات جاننے کا پورا حق ہے کہ ان کی پوتی اس دنیا میں ہے

اور باقی جہاں تک بات اس کی محبت کی ہے تو وہ بہت جلد اس کا رشتہ لے کر وہاں جائیں گے

اور ان دونوں خاندانوں میں اتنے سال سے جو یہ دشمنی چل رہی ہے اسےرشتہ داری میں بدل لیں گے۔

اور زریام کو یقین تھا کہ ایسا ممکن ہے لیکن شائزم کی سوچ اس سے الگ تھی وہ جانتا تھا ضروری نہیں کہ جیسے وہ لوگ سوچیں ایسا کچھ بھی ہو جائے

جو دشمنی اتنے سالوں ختم نہ ہو سکی وہ بھلا آگے بھی کیسے ختم ہو سکتی تھی لیکن شائزم ریدم کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا ۔

زندگی میں پہلی بار وہ محبت جیسے احساس سے آشنا ہوا تھا اور وہ اس احساس کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا

°°°°°