65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 70)

Junoniyat By Areej Shah

وہ بے چینی سے اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی اس نے کہا تھا وہ اسے منائے گا تو کیسے منانے والا تھا وہ اس کو…..؟

آج سنڈے تھا جس کی وجہ سے وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی وہ دونوں شاپنگ پر گئے تھے جہاں اس نے حرم کی کچھ چیزیں خریدی تھی ۔

اور پھر واپسی پر اس نے اسے گھر چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ رات کا ڈنر وہ باہر سے لے کر آئے گا ۔

لیکن اس کی واپسی ابھی تک نہیں ہوئی تھی دو تین دن سے صیام بھی یشام کی غیر موجودگی میں گھر نہیں آیا تھا

ورنہ اس کا بہت دل کر رہا تھا دادا جان سے بات کرنے کا کیوں کہ خداش کی سالگرہ بھی آ کر گزر گئی تھی اور وہ اسے وش نہیں کر پائی تھی ۔

وہ اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی وہ سمجھ گئی تھی کہ کون ہو سکتا ہے اسی لئے اس نے بنا پوچھےہی دروازہ کھول دیا تھا

لیکن یہ کیا سامنے یشام کے بجائے ایک بہت ہی بڑا ٹیڈی بیئر اس کا انتظار کر رہا تھا اس کی تو چیخ ہی نکل گئی ۔

یا اللہ اتنا بڑا ٹیڈی۔۔۔۔۔اسے یہاں پر کون لے کر آیا اور یہ بنا سہارے کھڑا کیسے ہے وہ حیران ہوتے ہوئے اسے آگے پیچھےسے دیکھنے لگی

واؤ کہیں شوہر سر نے مجھے گفٹ کرنے کے لئے تو نہیں لایا ایسا ہی ہوگا شوہر سے کتنے اچھے ہیں

وہ میرے لیے کتنا اچھا گفٹ لے کر آئے ہیں ۔یہ تو بہت پیارا ہے آئی لو یوٹیڈی

آؤ میں تمہیں اندر لے کر چلتی ہوں وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچنے لگی لیکن وہ بہت بھاری تھا ۔

یا اللہ یہ تو بہت بھاری ہے میں اسے اندر کیسے لے کر جاؤں ۔

چلو اندر تو میں تمہیں کھینچ کر یادھکا مار کر لے جاؤں گی لیکن شوہر سر کوتھینک یو بولنا تو بنتا ہے

بلکہ نہیں بنتا انہوں نے تو میرے ٹیڈی بیئر کی گردن توڑی تھی اسی لیے انہوں نے مجھے تمہیں لا کر دیا ہے

تو میں ان کو تھینک یو نہیں بولوں گی تو چلے گا کیا ۔۔۔؟وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی

تمہیں اسے تھینک یو بولنا چاہیے بیچارے نے اتنی محنت کی ہے تمہارے لیے ٹیڈی بیئر بھی بن گیا ہے اسے ٹیڈی کے اندر سے آواز آئی تھی ۔

تم کیسے بولے اور تم شوہرسر کی آواز سے کیسے بولے وہ منہ کھولے اسے آگے پیچھے سے دیکھنے لگی تھی جب اگلے ہی پل وہ اپنے سر سے ٹیڈی کی منڈی اتار کر اپنے ہاتھ میں پکڑ چکا تھا ۔

ہائے اللہ ٹیڈی کے اندر سے شوہر سرکیسے نکلے ۔۔وہ منہ کھولے حیرت سے پوچھ رہی تھی ۔

جیسے گھسا تھا ویسے ہی اس نے پرسکون جواب دیا ۔

مطلب یہ اصلی والا ٹیڈی نہیں ہے وہ کچھ پریشان ہوئی ۔

ہے تو اصلی والا ہی لیکن تھوڑا الگ ہے تھوڑا چینج پہلے سپیشلی تمہارے لیے شوہر سر والا ٹیڈی ۔

کیا تمہیں یہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی وہ اداس سی شکل بنا کر بولا ۔

نہیں خوشی تو مجھے بہت ہوئی لیکن آپ اصلی والا ٹیڈی بھی تو لا سکتے تھے نا وہ اس کے ساتھ ہی اندر آتے ہوئے بولی ۔

اصلی والا ٹیڈی جس کو تم ہر وقت اپنے بازوؤں میں اٹھا کر رکھتی اپنے ساتھ سلاتی اور پیار بھی کرتی ۔

توڈارلنگ ایسا کرو کہ مجھے زہر دے کر مار دو کیونکہ میں تو ویسے بھی جلن سے مرہی جاوں گا نا

نہیں برداشت کرسکتا تمہارا پیار کسی اور کے ساتھ اتنا بھی اچھا نہیں ہے تمہارا شوہرسر جان ۔وہ اس کی ننھی سی ناک کھینچتے ہوئے بولا

میرا نام حرم ہے وہ منہ بنا کر بولی پھر خود ہی مسکراتی دی کیونکہ اب اگلا جواب وہ جانتی تھی

°°°°°

تمہیں کیا لگتا ہے خداش کیا ریدم کا فیصلہ ٹھیک ہے کیا اسے اس گھر میں شادی کرنی چاہیے۔۔۔۔؟

میں اس دشمنی کو اب مزید نہیں نبھانا چاہتا میں ان سب چیزوں کو ختم کر دینا چاہتا ہوں میں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے خداش اپنے بیٹے کی لاش کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے وہ سب یاد کرتےہوئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے

میں ختم کر دینا چاہتا ہوں یہ بےوجہ کی دشمنی ان لوگوں نے خود ہاتھ بڑھایا ہے میرے خیال میں ہمیں ان کے فیصلے کی عزت کرنی چاہئے

دادا جان آپ کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے مجھے آپ کے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں آپ کا حکم سر آنکھوں پر جو آپ بہتر سمجھیں وہ کریں۔میں آپ کے ساتھ ہوں

لیکن یہ لوگ اتنی آسانی سے یہ سب کچھ ختم کیسے ہونے دے سکتے ہیں آپ کو نہیں لگتا کہ اس سب میں کوئی پلاننگ چھپی ہوئی ہے کوئی راز ہے جو ہم نہیں جانتے ۔

ورنہ اتنی آسانی سے وہ لوگ ہمارے گھر کیسے آسکتے ہیں مانا کہ یہ معاملہ ریدم کا ہے ریدم ان کے لئے بھی بے حد اہم ہے۔

یقینا وہ لوگ بھی ریدم کی خوشیاں ہی چاہتے ہوں گے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ریدم یہاں آنے سے پہلے کسی میں انوالو تھی وہ کسی سے محبت کرتی تھی یا شائزم کے ساتھ اس کا اس طرح کا کوئی تعلق تھا

مجھے یہ محبت والا قصہ سچ نہیں لگتا پہلے ریدم نے انکار کردیا اب ریدم ہاں کر رہی ہے یہ سب مجھے عجیب لگ رہا ہے ۔

ہاں یہ عجیب تو ہے لیکن ریدم کسی کے ڈر میں آنے والی یا دبنے والی لڑکی ہرگز نہیں ہے یہ فیصلہ اس کی پسند کے مطابق ہی ہوا ہے ۔

اور اس فیصلے میں کسی طرح کی اونچ نیچ کرکے ہم ریدم کی نظروں میں برے نہیں بن سکتے ۔

ٹھیک ہے دادا جان جیسا وہ چاہتی ہے آپ ویسا ہی کر لیں آج وہ لوگ آئیں گے تو آپ لوگ رشتے کی بات کرلیں شادی بھی ہم جلد ہی رکھ لیں گے ۔

وہ بھی ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے بولا جب ثقلین چاچا اندر داخل ہوئے ۔

بابا جان مجھے یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں لگتا مجھے لگ رہا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں ریدم کی مرضی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے وہ لوگ دشمن ہیں اور دشمن کبھی بدل نہیں سکتے میرے خیال میں آپ کو اس رشتے سے انکار کر دینا چاہیے ۔

ہمارے گھر کی بیٹی ہے وہ کل کو اسے ہمارے خلاف بھی استعمال کرسکتے ہیں دشمن ہمیشہ دشمن ہی رہتا ہے ۔

اور ان کا یوں اچانک بدل جانا میری سمجھ سے تو باہر ہے میں آپ کو ان لوگوں پر اعتبار کرنے کےلیے کبھی نہیں کہوں گا یہ پیٹھ میں چھرا ماریں گے ۔

اور ہم بے بس ہو جائیں گے کچھ نہیں کر پائیں گے ۔

چاچا جان پہلے پہل ان لوگوں نے ہی کی ہے وہ لوگ خود آئے ہیں یہاں دوستی کا ہاتھ تو ان لوگوں نے بڑھایا ہے ۔

اور ریدم صرف ہمارے ہی گھر کی بیٹی نہیں بلکہ ان کی بھی بیٹی ہے اور وہ ہمیشہ سے انہیں لوگوں کے ساتھ ہی رہی ہے انہیں کے بیچ پلی ہے ۔

غلط ہو تم وہ ان لوگوں کے پاس نہیں پلی بڑھی وہ ایک ہوسٹل میں پلی بڑھی ہے پہلی بار یہاں آ رہی تھی

میں آپ کے معاملات میں بالکل دخل اندازی نہیں کروں گا بابا جان لیکن یہ فیصلہ صرف ریدم کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا ہوگا یہ نہ ہو کہ کل کو ہمیں نقصان اٹھانا پڑے ثقلین صاحب نے انہیں ایک اور مشکل میں ڈالنا چاہا تھا ۔

بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی فی الحال ہم صرف اور صرف ریدم کی خوشی چاہتے ہیں ۔

اور آپ کی پوتی کی خوشی دشمنوں کے بیٹے کے ساتھ ہے ان کا انداز طنزیہ تھا ۔

اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی ریدم کو اس کی خوشی ضرور ملے گی وہ بات ختم کرنے والے انداز میں بولے تو ثقلین صاحب آگے سے کچھ بھی نہ کہہ سکے

°°°°°

حویلی میں بہت اچھے طریقے سے انہیں ویلکم کیا گیا تھا تقریبا سبھی لوگ دروازے تک کہ انہیں رسیو کرنے کے لیے آئے تھے ۔

شائزم ان لوگوں کے ساتھ ہی تھا خدا ش شائزم اور زریام کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

کیسے ہو دوست تم نے میرے میسج کا رپلائی نہیں دیا ذریام اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

میں نہ کل تمہارا دوست تھا اور نہ ہی آنے والے کل میں کبھی تمہارا دوست بنوں گا جو باتیں گھر کے بڑوں کے بیچ ہو رہی ہیں ضروری نہیں کہ ہم بھی اس کا حصہ بنیں

اگلے سال ان شاء اللہ ریس میں تم کھڑے ہو جانا پھر میں دیکھوں گا کہ تمہیں دوست بنانا ہے یا دشمن خداش نے بنا مروت کہا تھا ۔

تم مجھ سے خفا کیوں رہتے ہو جب کہ میں تو ہمیشہ ہی تم سے بہت محبت سے پیش آتا ہوں زریام کا انداز معصومانہ تھا ۔

جب کہ شائزم انکی طرف کم بڑوں کی باتوں پر زیادہ دھیان دے رہا تھا ۔

تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں تمہارے بھائی کا قاتل اس وقت تمہارے بے حد قریب ہے اگر یہ کہوں کے تمہارے ہی گھر پر ہے تو شاید تم پریشان ہو جاؤ گے

وہ میرا دشمن نہیں ہے زریام اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

کیا بات ہے ذریام شاہ ماننا پڑے گا تمہیں ہم تمہارے خاندانی دشمن ہیں لیکن تم ہمہیں دشمن نہیں مانتے اور وہ تمہارے بھائی کا قاتل ہے اور تمہارا کہنا ہے کہ وہ بھی تمہارا دشمن نہیں تو کون ہے تمہارا دشمن وہ دلچسپی سے پوچھنے لگا ۔

انسان کا دشمن وہ خود ہوتا ہے اپنی بھلائی برائی ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے خداش یہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں یہ دشمنی میرے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے ۔

اور ارحم میری بیوی کا بھائی ہے وہ اس سے بے انتہا محبت کرتی ہے میں اپنی بیوی کو بلکل تکلیف نہیں دینا چاہتا اور جہاں تک اس کے بھائی کی بات ہے تو اسے اس کے کیے کی سزا ملے گی

لیکن اس سے پہلے میں اپنی بیوی کو تکلیف سے بچاؤں گا ۔

اس کے لیے میرے پاس تمہارے لئے بہترین مشورہ ہے اگر عمل کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے خداش نے کہا ۔

کیا بات ہے آپ جناب دشمنوں کو مشورہ بھی دیتے ہیں ۔ان کی مدد بھی کرتے ہیں ایسی دشمنی پر صدقےجاؤں ۔جہاں دشمن دوست سے بڑھ کر دوست ہو۔وہ شوخ انداز میں طنز کر گیا

آپ مشورہ دیں ہم عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔

وہ بڑے ہی دلفریب انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا جبکہ اس کے انداز پر خداش مسکرا دیا ۔

اور اسے اس مسئلے کا حل بتانے لگا وہ اپنی بیوی کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس کے بھائی کے قاتل کو اس کی سزا بھی ملنی چاہیے تھی

ایسے میں خداش اس کی کافی ساری مدد کر گیا تھا خاص کروہ اسے بتا چکا تھا کہ اس وقت کہاں ہے ۔

جو اس کے لیے کافی حیران کن ثابت ہوا تھا کیا عمایہ جانتی تھی اس بارے میں اس کے ذہن میں بس یہی اک خیال آیا

°°°°°

وہ کمرے سے نکلتے ہوئے سیدھی نانا جان کے پاس آئی تھی ان سے مل کر نانا جان نے اسے سب سے متعارف کروایا تھا

یہ سارے چہرے اس کے اپنے تھے لیکن وہ کسی کو بھی نہیں جانتی تھی ۔

بیٹا تمہارے ماموں نہیں آ سکے انہیں بے حد ضروری کام تھا ۔آنا تو سب لوگ چاہتے تھے لیکن مجبوری تھی ۔نانا جان بے حد محبت سے اسے سمجھا رہے تھے

کوئی بات نہیں نانا جان ان سے میں پھر مل لوں گی ۔

لیکن فی الحال مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔صرف آپ سے نہیں بلکہ آپ سب سے میں جانتی ہوں اس دن میرے رویے نے آپ سب کو تکلیف پہنچائی ہوگی میں نے بہت بد لحاظی سے بات کی تھی اور مجھے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا

لیکن اس وقت اصل میں میرا اور شائزم کا جھگڑا چل رہا تھا اور مجھے کوئی بہتر وجہ نظر آئی انکار کرنے کی اسی لیے میں نے بہت بد لحاظی سے کام لیا ۔

اور میں جانتی ہوں میری اس بدلحاظی نے آپ سب کو بہت تکلیف پہنچائی ہے جس کی وجہ سے میں آپ سے بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں ۔

میں شادی کے لیے تیار ہوں ۔مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے بس آپ لوگ مجھے معاف کر دیجیے گا ۔

وہ کہہ تو سب سے رہی تھی لیکن دیکھ صرف اسی کو رہی تھی ۔

جبکہ اس کی بے بسی کو سمجھتے ہوئے وہ پریشان ہو گیا تھا ۔

اسے معافی مانگنے کے لیے نہیں کہنا چاہیے تھا وہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی اس طرح سب کے سامنے شرمندہ ہو رہی تھی لیکن وہ بے قصور تو نہیں تھی اس نے سچ میں اس پر بہت سنگین الزام لگایا تھا

لیکن شاید ان کو پہلے اس الزام کی وجہ جاننی چاہیے تھی پھر کوئی ایکشن لینا چاہیے تھا اس نے غلط کیا تھا جس کی سزا کا وہ حقدار تھا ۔

کوئی بات نہیں بیٹا تمہیں تمہاری غلطی کا احساس ہو گیا ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے اور تم شادی کے لئے تیار ہو تو بس پھر مزید فضول باتوں میں ٹائم برباد نہیں کرتے

امی جان نے اٹھتے ہوئے اس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ سے کنگن اتار کر پہنایا

کاظمی صاحب ہم بہت جلد اپنی بیٹی کو لینے آنا چاہتے ہیں ۔آپ ہمیں کوئی مناسب تاریخ دے دیں ۔

ہم شادی بہت دھوم دھام سے کریں گے ۔کسی طرح کی کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے ۔

ہم لوگوں نے ذریام کی شادی کو بھی ٹھیک سے انجوائے نہیں کیا لیکن شائزم اور ریدم کی شادی میں ہم کسی طرح کی کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے

ماما بہت خوشی سے بول رہی تھیں جبکہ باقی سب لوگ بھی ان کی باتوں میں ان کا ساتھ دینے لگے راحت صاحب اورثقلین صاحب خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ثاقب صاحب بیچ میں اپنے مشورے دے رہے تھے ۔

ان کی شکل سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ اس رشتے پر بالکل بھی خوش نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ریدم کی شادی اس گھر میں کرنا چاہتے ہیں ان کی نظر میں وہ آج بھی ان کے دشمن تھے ۔

ان کی نظر میں بابا جان غلطی کر رہے تھے وہ اپنے ہی دشمنوں کو خود اپنے ہی گھر میں لے آئے تھے ۔

اور ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ ان لوگوں پر اعتبار کر رہے تھے ۔جو کم از کم ان لوگوں کے لئے اعتبار کے لائق تو ہرگز نہیں تھے ۔

°°°°°°

میں آپ کو کتنی بار کہہ چکا ہوں بھائی جان میں اس بات کےلیے راضی نہیں ہوں آپ لوگ کیوں روز چلے آتے ہیں یہاں کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سےکیا یہ گھر بھی چھوڑ کر چلا جاؤں ۔۔۔۔؟

اگر آپ کی خوشی اس میں تو میں چلا جاتا ہوں یہاں سے اپنی بیوی اور بچے کو لے کر

اور خدا کے لئے بار بار میری بیوی بچے کو ہر چیز میں گھسیٹنا بند کریں ۔

یہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے آج احمر کافی سختی سے پیش آیا تھا۔

راحت کبھی اس کے آفس میں آکر اسےکنیز فاطمہ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں بتاتا۔ تو کبھی اس کے گھر آکر کنیز فاطمہ کے سامنے طرح طرح کی باتیں کرتا ان لوگوں کا بس ایک ہی مطالبہ تھا کہ ان کے ساتھ چلے

اور ساتھ ہی ساتھ اس کے بیٹے کو چھوڑنے کے لیے بھی کہہ چکے تھے کیونکہ ان کے لحاظ سے کنیز فاطمہ ان کی اولاد کو جنم نہیں دے سکتی تھی

کیوں ایک غیر مسلم لڑکی کی خاطر اپنا اصل بھول رہے ہو کیوں اس لڑکی کی خاطر اپنے خاندان سے بغاوت پر اتر آئے ہو ۔

ثقلین صاحب انہیں سمجھاتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔جب کہ وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھے ۔

میں اپنا اصل جانتا ہوں آپ چلے جائیں خدا کے لیے۔وہ غصے سے بولے

یہاں تک کہ آج تو انہوں نے ان دونوں کو یہاں سے جانے کے لیے بھی کہ دیا تھا اور دھمکی بھی دی تھی کہ اگر مزید ان لوگوں نے تنگ کیا تو وہ یہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے

۔نا چاہتے ہوئے بھی انہیں خاموشی سے واپس آنا پڑا تھا لیکن وہ ہمت نہیں ہارے تھے وہ اپنے بھائی کو اس عورت کے جال سے نکالنے کا پکا ارادہ کر چکے تھے

°°°°°

تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا یہ کیا بکواس کر رہی ہو اگر میرے لیے میرے خاندان والے اہم ہیں تو میرے لیے میری بیوی میرا بچہ بھی اہم ہیں میں کسی کے کہنے پر تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں ۔

اور وہ لوگ میرے ماں باپ ہیں انہیں سمجھا لوں گا میں ایک دن وہ میرے سامنے ہار جائیں گے تم مجھے نہیں جانتی میں بابا سے اپنی ہر بات منوالیتا ہوں

تم اتنی زیادہ ٹینشن مت لو تم صرف یشام کی طرف توجہ دو وہ بہت حساس ہو گیا ہے اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی چاہیے ہوتا ہے

تم نے دیکھا شام سے ہی وہ کتنا زیادہ پریشان ہے

اس کے سامنے میں نے اس کے تایا کی کتنی اچھی امیج بنا کر رکھی تھی اور ان لوگوں نے میرے بیٹے کو ناجائز کی گالی دے دی ۔کیوں ہے یہ دنیا ایسی مجھے سمجھ نہیں آتا ۔

وہ بہت پریشان لگ رہے تھے ایک تو انہیں اپنے گھر والوں کی طرف سے کافی زیادہ پریشر کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور دوسری طرف کنیز کہہ رہی تھی کہ وہ اسے چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں

اگر ان کی فیملی مانتی ہے تو ٹھیک ہے اور اگر ان کی فیملی نہیں مانتی تو وہ ان کی یاد میں ساری زندگی کاٹ لے گی لیکن انہیں ان کے خاندان سے جدا نہیں کرے گی ۔

لیکن احمر ان کی بات سے اتفاق نہیں کرتے تھے انہیں اپنی بیوی بچے کے ساتھ ساتھ اپنا خاندان بھی چاہیے تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ سب کو منا لیں گے

ان کا خاندان ایک نہ ایک دن ان کی ضد کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا لیکن وقت کب بدلتا ہے کہاں پتہ چلتا ہے

ان کا یہ یقین ہی ان پر بھاری پڑنے والا تھا ۔

ان کا خون ہی انہیں تکلیف سے دوچار کرنے والا تھا وہ کنیز کو سوچوں میں چھوڑ کر یشام کے کمرے کی طرف چلے آئے تھے کیوں کہ وہ شام سے ہی کافی زیادہ خوفزدہ ہو۔گیا تھا ۔

°°°°°°