Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 13)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 13)
Junoniyat By Areej Shah
چاچا گاڑی روکیں پلیز جلدی گاڑی روکیں آگے بلی ہے گاڑی روکیں نہ پلیز وہ اتنی زیادہ ایکسائٹیڈ ہوگئی تھی کہ ایک ہی لائن میں کتنی دفعہ ان کو گاڑی روکنے کا بول چکی تھی
وہ خود بھی حیران سے گاڑی روک چکے تھے آخر ریدم کو ہوا کیا تھا۔وہ سمجھ نا پائے
کیا ہوگیا بچے تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔۔!وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے تھے وہ انہیں کبھی بھی اپنا ڈرائیور یا نوکر نہیں سمجھتی تھی
وہ ہمیشہ ان کے ساتھ ان کی فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھتی تھی اور اس وقت بھی وہ باہر دیکھتے ہوئے اتنی بے چینی سے ان سے کہنے لگی کہ وہ گاڑی روکنے پر مجبور ہو گئے
چاچا وہ دیکھیں سڑک کی سائیڈ پر وہ بلی کتنی پیاری ہے مجھے وہ بلی چاہیے وہ بھی ابھی چاہیے پلیز پلیز پلیز وہ سڑک کے کنارے پر ایک بہت ہی چھوٹی سی معصوم روئی جیسے بالوں والی سفید بلی کو دیکھتے ہوئے ان سے کہنے لگی
وہ خود بھی حیرانگی سے اس نیلی آنکھوں والی بلی کو دیکھ رہے تھے جو بالکل چھوٹی سی تھی اور وہ بھی بےحد خوبصورت
اس کا مالک کہاں ہو گا میں دیکھتا ہوں
وہ تیزی سے گاڑی سے نکلتے ہوئے بلی کے پاس آئے تھے
بلی چلنے کے قابل نہ تھی یقینا وہ صرف کچھ دنوں کی تھی لیکن اس کی خوبصورتی دیکھتے ہوئے وہ خود بھی اس کی طرف خود کو بڑھنے سے روک نہیں پائے تھے
معاف کیجئے گا جناب یہ بلی میری ہے وہ دراصل میں اپنے جانور کو گھر چھوڑنے گیا تھا تو راستے میں یہ بچہ گر گیا
ایک درمیانی عمر کا آدمی تیزی سے بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا تھا وہ خود بھی مسکراتے ہوئے بلی کا وہ معصوم سا بچہ ان کے حوالے کرنے لگے جب ریدم گاڑی سے نکل آئی
انکل کیا آپ یہ بلی کا بچہ مجھے دیں گے آئی پرامس میں اس کا بہت خیال رکھوں گی ۔ اس نے اتنی معصومیت اور چاہت سے پوچھا تھا کہ وہ انکل اسے دیکھنے لگے
کیا آپ یہ بلی کا بچہ ہمہیں بیچیں گے ہماری بی بی کو یہ بچہ بہت پسند آیا ہے وہ جانوروں کو اپنے پاس بالکل بھی نہیں رکھتی لیکن اس بلی کے بچے کو دیکھ کر کر وہ خود کو روک نہیں پا رہی
اصل میں جس چیز کو وہ لے نہیں پاتی نہ اس چیز کو لے کر بہت دنوں تک بے چین رہتی ہیں
اور آسانی سے اس کو بھولتی نہیں اگر آپ یہ بلی کا بچہ ہمہیں دیتے تو ہم آپ کو منہ مانگی رقم دیں گے
وہ ریدم کی چاہت کو سمجھتے ہوئے اس آدمی سے کہنے لگے۔جو بہے حسرت سے اس بلی کے بچے کو دیکھ رہی تھی
آپ کو یہ بلی کا بچہ چاہئیے۔۔۔۔؟ آپ ایسے ہی رکھ لو پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے ان معصوم جانوروں کو سوائے محبت کے اور کیا چاہیے ہوتا
میں ویسے بھی بہت پریشان تھا اس کی ماں مر چکی ہے نہ جانے میں اس کا خیال کیسے رکھوں گا۔میرے پاس بہت جانور ہیں
میرے لیے اس کی دیکھ بھال کافی مشکل ہو جائے گی اسے آپ رکھ لیں میری طرف سے ایک تحفہ وہ بلی کا بچہ بہت ہی احتیاط سے اس کی گود میں دیتے ہوئے بولے اور ساتھ ہی اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
وہ خوشی سے چہک اٹھی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ چھوٹا سا بلی کا بچہ اب اس کا تھا
اور انکل نے اس کی چاہت کو دیکھتے ہوئے اسے فری میں یہ دے دیا تھا کتنا پیارا تھا وہ
وہ بہت خوش تھی جبکہ ڈرائیور چاچا اس کی خوشی کو دیکھتے ہوئے خوش تھے
°°°°°°
یہ دودھ پیو میرا بچہ ماما آپ کا بہت سارا خیال رکھے گی
آپ کو دودھ دے گی آپ سے پیار کرے گی
وہ دودھ کے ڈبے سے دودھ فیڈر میں منتقل کرتی بڑے ہی میٹھے انداز میں سے باتیں کر رہی تھی
ڈرائیور چاچا جیسے ہی کھانا دینے کے لئے اس کے کمرے میں آئے اس کے انداز پر بے ساختہ مسکرا دیئے
اس نے کچھ نہیں کھایا تھا لیکن اس وقت اسے اپنے سے زیادہ اپنے نئے بچے کے کھانے کی فکر لگ گئی تھی
وہ بہت پیار سے اسے گود میں بٹھائےدودھ پلا رہی تھی یہ پیارا سا منظر دیکھتے ہوئے چاچا بھی مسکراتے ہوئے کھانا ٹیبل پر لگانے لگے
اس کا انداز بے حد کیئرنگ تھا وہ پہلی بار اسے کسی سےاس حد تک پیار کرتے دیکھ رہے تھے اور انہیں بہت اچھا بھی لگ رہا تھا
بس وہ خوش رہے اس سے زیادہ وہ کچھ بھی نہیں چاہتے تھے
اس کی خوشی ان کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی وہ چاہتے تھے کہ اس بچی کی زندگی میں کبھی کوئی دکھ نہ آئے
بلی آہستہ آہستہ دودھ پئے جا رہی تھی وہ بھی اس سے مانوس ہو رہی تھی جو کافی اچھی بات تھی وہ اسے اپنے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس پر کمبل ڈالے رہی تھی تاکہ اس کو سردی نہ لگے
اس کے اپنے اصول تھے جن کو وہ فالو کرنا چاہتی تھی اور اس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اس کی کیٹی اس کے ساتھ ہی سوئے گی فی الحال وہ اس کا نام ڈیسائیڈ نہیں کر پا رہی تھی
اسی لیے وہ اسے فی الحال کیٹی کہہ کر بلارہی تھی اور ان سب باتوں سے ڈرائیور چاچا کو کوئی مطلب نہ تھا
ان کو اس کے کھانے کی فکر کھائے جا رہی تھی
آو بیٹا پہلے کھانا کھا لو تم اپنی کیٹی کو بعد میں دیکھ لینا بلی دودھ پینے کے بعد اسی طرح بے حال سی پڑی اسے پریشان کر رہی تھی
جبکہ ڈرائیور چاچا اسے بار بار کھانا کھانے کے لیے بلا رہے تھے
اپنی کیٹی کو تھوڑی دیر ایسے ہی پڑے دیکھ پہلے تو وہ پریشان ہوئی پھر اچانک اس کی کیٹی نے لیٹے لیٹے بھرپور انگڑائی لی
تمہاری کیٹی کا پیٹ فل ہوچکا ہے اور تم بھی کچھ کھا لو میرا بچہ
تمہارے نانا جان مجھے تیسری دفعہ فون کر رہے ہیں ان کے پھر سے کہنے پر آخر کار وہ ان پر احسان عظیم کرتی ہوئی اٹھ کر ٹیبل کے پاس آئی تھی
ایسے نہیں پہلے ٹھیک سے ہاتھ دھو کر آؤ تم نے اپنی کیٹی کو نہلایا ہے اس کو صاف ستھری پرفیوم لگا دی ہے لیکن ہے تو جانور ہی نہ بیٹا
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولے تو وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتی واشروم کی طرف بھاگی تھی
وہ شاید ضرورت سے زیادہ خوش تھی اسی لیے آج اسے اپنا کوئی ہوش نہیں تھا وہ تو بس اپنے پیارے سے فیملی ممبر کو پا کر بے حد خوش ہو رہی تھی اور اس کی خوشیاں اور ایکسائٹمنٹ ڈرائیور چاچا بھی بہت آسانی سے سمجھ رہے تھے
°°°°°°
وہ نیچے آیا توحرم کو اپنےٹیڈی کی گردن اور اس کی ڈیڈ باڈی الگ الگ اپنے پاس رکھے پریشان صورت بنائے دیکھا وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا
کوئی بات نہیں میرا بچہ اس دفعہ جب میں ملک سے باہر جاؤں گا میں تمہارے لیے اس سے بڑا ٹیڈی لے کر آؤں گا
بلکہ میں آن لائن آرڈر کر دیتا ہوں تمہیں کچھ دنوں میں مل جائے گا وہ پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے بولا
ضرورت نہیں ہے خداش اسے سر پر چڑھانے کی تمہاری ہی شہ کی وجہ سے یہ دن با دن بچی بنتی جا رہی ہے
لیکن ایک بچی نہیں ہے دو مہینوں میں 18 سال کی ہوجائے گی اسے مزید بگاڑنے کی ضرورت نہیں ہے اب میں اسے کچن کا کام سکھاؤں گی اب یہ کوئی چھوٹی بچی نہیں رہی
اماں جان وہیں بیٹھیں اسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگیں تو خداش نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا پھر اشارے سے سمجھانے والے انداز میں ان سے التجا کی تھی کہ فی الحال وہ حرم کو کچھ بھی نہ کہیں کیونکہ وہ کافی زیادہ سیڈ ہے
اور وہ آج سے اداس نہیں تھی بلکہ کل صبح کالج جاتے ہوئے بھی وہ بہت بہت اداس صورت بنائے ہوئے تھی
پھر واپس آکر نہ جانے رات کو اس کو نیند کیسے آئی ہوگی کیونکہ وہ تو اپنی ٹیڈی کے ساتھ سوتی تھی
خداش مجھے اشارہ کرنا بند کرو میں نے کہہ دیا نا اب کوئی بھالو اس گھر میں نہیں آئے گا تم لوگوں نے اسے بالکل سر پر چڑھا رکھا ہے
ادھر اس کے دادا جان اس کی فرمائشیں پوری کیے جارہے ہیں اور تم کھلونے لے کردےرہے ہو
اب یہ بڑی ہو چکی ہے سمجھو تم لوگ اس بات کو بس بہت ہوا اس کی اٹھارہویں سالگرہ گزر جائے تو اسے گھر کے کام کاج میں لگاؤں گی
اسے بھی اگلے گھر جانا ہے اس سے بڑی ساری ہر کام میں ماہر ہیں
ماشااللہ سے دیشم دیدم اور سامیہ ہر کام میں مہارت حاصل کر چکی ہیں اور یہ ابھی تک کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف ہے
اماں کو آج نجانے اس پر غصہ کیوں آ گیا تھا شاید اس کا ایک کھلونے کے لئے اس طرح سے اداس ہو کر بیٹھ جانا انہیں پسند نہیں آیا تھا
اماں جان آپ میری بہن پر باقیوں کو فوقیت کیوں دے رہی ہیں میری بہن شہزادی ہے اور کوئی ماہر نہیں ہے یہاں
آپ کی ایک ماہر کے ہاتھ کا کھانا کھا کر آرہا ہوں میں کتنا تیز نمک تھا کھانے میں اور آپ میری بہن کا مقابلہ کیے جا رہی ہیں
میری بہن ابھی بچی ہے آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی سب کچھ آپ بے کار میں اس کے سر پر کیوں لاد رہی ہیں اتنا کچھ ابھی اس کا وقت نہیں آیا وہ دیشم کو سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر بولا تھا۔ارادہ اسے تنگ کرنے کا تھا
اپنے کھانے کی اس توہین پر وہ سلگ کر رہ گئی
اگر اتنا ہی برا کھانا بناتی ہوں میں تو اب خود کیوں نہیں بنا لیتے کچن تک آئے گئے تھے تو چولہے تک چلے جاتے خود بنا لیتے وہ غصے سے تن فن کرتی اس کے سر پر سوار ہوئی تھی
دیشم کیا بدتمیزی ہے تم کتنی بدلحاظ ہوتی جارہی ہو خداش صرف حرم کو بہلانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا
مذاق اور سنجیدہ الفاظ میں فرق تک نہیں پہنچا سکتی تم اماں کچن سے نکلتے ہوئے اسے سنانے لگی تھیں
۔انہیں اس کا یہ بے باک اور بدتمیزانہ انداز ہرگز پسند نہیں تھا لیکن شاید وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی
بس کر دیں اماں آپ ہر وقت ان کی سائیڈ کیوں لیتی رہتی ہیں یہ کیا وزیراعظم لگے ہیں کہ ہم ان کی ہر بات کو مانیں گے
حد ہوتی ہے کسی چیز کی ان کا جو دل چاہتا ہے وہ کہہ دیتے ہیں یہ سوچے بنا کی صبح سے کچن میں کھانا بنا رہی تھی اگر نہیں پسند تو میرا بنایا ہوا کھانا کھایا کیوں۔۔۔۔؟
انکار کر دیتے ہیں یا کہتے کہ میں کسی اور سے بنوا کر کھاؤں گا وہ ابھی تک اپنا غصہ ٹھنڈا نہیں کر پائی تھی جبکہ خداش بہت مزے سے اس کی باتیں سن رہا تھا
جب دادا جان یہ شور سن کر باہر آ گئے تھے
دیشم تو آج مقابلے پر ہی اتر آئی تھی جبکہ خداش فالحال بالکل نارمل انداز میں اپنے سامنے رکھی چائے کے کپ کے ساتھ انصاف کر رہا تھا جیسے اسے ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا
بے شک اس سے اس کی بدتمیزی سے یا پھر گستاخ لہجے سے فرق نہیں پڑتا تھا لیکن دادا جان کو فرق پڑتا تھا جن کا پوتا اس بدتمیز لڑکی کا نام اپنی شادی کے لئے ان کے سامنے لے چکا تھا
اور وہ اپنی آنے والی نسل کو ایک ایسی بدلحاظ بدتمیز لڑکی کے نام پر نہیں چھوڑ سکتے تھے جو اپنی ضد میں اتنی بدتمیز ہو جائے کہ کسی کا لحاظ تک نہ کریں
سوائے داداجان یا پھر بابا جان کے وہ اپنی بات کرتے کسی کے سامنے ہچکچاتی نہِیں
تھی
لیکن دادا جان کو یہ باتیں ہرگز پسند نہ تھی یہ لڑکی ان کے اکلوتے پوتے کی ہونے والی بیوی تھی اس کے ساتھ اس نے ساری زندگی گزارنی تھی اور اس کا یہ گستاخانہ لہجہ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے
خبردار جو ایک لفظ بھی اور کہاتم نے لڑکی اگر تمہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ تمہارا رشتے میں کزن ہے تو کم از کم اس کی عمر کا ہر لحاظ کر لو بڑا ہے تم سے یہ کون سے لہجے میں تم اس سے بات کر رہی ہو
دادا جان ۔۔۔۔وہ تو میں صرف؟۔۔۔۔۔۔ بس دادا جان کے غصے کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی غلطی اچھے طریقے سے سمجھ گئی تھی
وہ کچھ زیادہ ہی بد تمیزی کا مظاہرہ کر رہی تھی اس بات کا احساس اسے بھی ہو چکا تھا
خاموش۔۔۔۔ اب ایک لفظ اور نہیں معافی مانگو خداش سے ۔اچانک دادا جان نے اس سے کہا تو وہ حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگی
کیا وہ سچ میں اسے اس شخص سے معافی مانگنے کے لئے کہہ رہے تھے جس کو منہ لگانا تک وہ پسند نہیں کرتی تھی
دادا جان مجھے اس کی بات بری نہیں لگی وہ مِیں صرف اسے تنگ کرنے کے لیے بول رہا تھا خداش کو بیچ میں بولنا
اچھا تو اس کی یہ بدتمیزی ایک مذاق کی صورت میں ہے تو پھر تو ہرگز نہ قابل معافی ہے ابھی کے ابھی معافی مانگو اس سے تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس سے اس طرح بات کرنے کی
ہم تمہاری ہر ضد پوری کرتے ہیں تمہاری ہر بات مانتے ہیں اس لئے نہیں کہ تم اس گھر کے اندر سے بدتمیزی کرو
چار جماعتیں پڑھ کر تم ہم سے بڑی نہیں ہوئی کہ تم عقل و شعور بھول جاؤ ابھی کے ابھی خداش سے معافی مانگو ورنہ کل سے یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ہے ہمہیں ایسی پڑھائی نہیں چاہیے جو ادب اور احترام بھلا دے
دادا جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کی پڑھائی پر ہی پابندی لگا دیں ان کی باتیں سنتے ہوئے دیشم کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آ گئے تھے جیسے دیکھ خداش تڑپ اٹھا تھا
کوئی بات نہیں دادا جان آپ ذرا سی بات کو لے کر پریشان ہو رہے ہیں ہم صرف ہنسی مذاق کر رہے تھے ۔
ہم نے تمہیں کہا بیچ میں بولنے کے لئے نہیں تو خاموش رہو یہ ہمارا اور ہماری پوتی کا معاملہ ہے اس میں تمہیں پڑنے کی ضرورت نہیں وہ پہلی بار خداش کو ٹوک گئے تھے
ایم سوری ۔۔۔وہ بھرے لہجے میں کہتی وہیں سے پلٹ گئی تھی جبکہ اس کا روتے ہوئے بھاگ کر جانا خداش کو بہت برا لگا تھا
اس نے شکایتی نظروں سے ان کی طرف دیکھا تھا ایک چھوٹا سا مذاق یہ روپ اختیار کرلے گا اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا
°°°°°
آج سنڈے تھا اور کالج کوئی بھی نہیں گیا تھا وہ اس وقت اپنے فلیٹ میں موجود وہی گرل کے قریب کھڑا ہاتھوں میں حرم کی کی چین لئے ہوئے تھا جبکہ صیام نے دوسرے ہاتھ میں اسے لا کر کافی کا مگ دیا تھا
تم اداس لگ رہے ہو خیریت تو ہے نا وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا یشام نےایک نظر اسے دیکھا پھر مسکرا دیا
اب اس کافی کے مگ پر میں تمہیں ناچ ناچ کر مجرا تو دیکھا نہیں سکتا کہ تم نے مجھے کافی پلائی ہے وہ بالکل سنجیدہ انداز میں بولا
تو صیام سے گھور کر رہ گیا
وہ اپنی کافی کی بات ہرگز نہیں کر رہا تھا یہ بات تو وہ بھی جانتا تھا
کسی بات کا سنجیدگی سے جواب بھی دے دیا کرو اتنے پریشان کیوں کھڑے ہو کیا ہوا خیریت تو ہے کسی بات کی پریشانی ہے تو مجھ سے شئیر کر سکتے ہو وہ اب ذرا سنبھل کر اپنی بات کلیئر کرتے ہوئے بولا
یار آجکل میری پریشانی صرف تیری ہونے والی بھابھی ہے آج اسے دیکھا نہیں نہ تو دل بے چین ہو رہا ہے مجھے اسے دیکھنا ہے اس سے ملنا ہے میں کیا کروں یار میں نہیں رہ سکتا اسکے بنا
مجھے اس سے ملنا ہے یشام اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جب کہ صیام سمجھ گیا تھا کہ اب وہ آگے کون سی بات کرنے والا ہے
تو اس سے ملنے کہیں نہیں جائے گا سمجھا میری بات کو خبردار جو تو آج فلیٹ سے باہر نکلا
بس بہت ہوگیا اس اس کو تنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر تو اسے لے کر سیریس ہے تو اس کے گھر رشتہ لے کر جا۔وہ سنجیدہ تھا
صیام یار تو نے بالکل کہہ رہا ہے میں ایسا ہی کروں گا میں اس کو لے کر بالکل سیریس ہوں اور میں کل ہی اس کے گھر رشتہ لے کر جاؤں گا
اور وہ لوگ جب مجھ سے سوال پوچھیں گے تو میں کیا جواب دوں گا یہ بتا مجھے
ان کا سوال ہو گا کہ تم کون ہو ۔۔۔؟ تمہارا باپ کون ہے۔۔۔؟
ماں کا تعلق کہاں سے ہے۔۔۔؟
اور میں ان کو بتاؤں گا کہ میرا باپ تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں اور میری ماں ایک کرسچن ہے
جس کے اسلام قبول کر لینے کے بعد بھی کسی نے اسے قبول نہیں کیا
اور مجھے یعنی کے یشام احمر کو لے کے ناجائز بچے کی ماں بن گئی کیونکہ میرے باپ کا خاندان تو مجھے اپنا نام دینا ہی نہیں چاہتا تھا
مجھے ساری زندگی سڑکوں پر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا اور میری یہ کہانی سن کا اس کی فیملی کتنی خوش ہو جائے گی
اور فوراً ہمارا نکاح ہوگا اور پھر اسے رخصت کر دیا جائے گا اور ہپی اینڈنگ
نہ وہ اس کے سامنے اس کی بات کا اصل روپ رکھ کر بولا تو صیام نے جھکا گیا
یہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے صیام شکیل کی جتنا تم سمجھتے ہو
ساری زندگی خود کو ناجائز کہلوانا کتنا ازیت ناک ہے مجھ سے پوچھو خوش نصیب ہو تم نے تمہیں تمہارے باپ کا نام تو حاصل ہے
میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے میرے ساتھ صرف ایک ٹیگ لگا ہوا ہے کہ میری ماں ایک کرسچن تھی
وہ دنیا سے لڑی میرے باپ کے لیے وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی مسلم نہیں کہلاۓ میری آنکھوں کے سامنے مرگئی وہ
اور ابھی کچھ بھی نہیں کر سکا کچھ بھی نہیں تجھے اس حقیقت کو قبول کرنا ہے کہ تیرا دوست بے نام و نشان ہی مجھے حرم کا رشتہ نہیں دیا جائے گا کیونکہ میری کوئی پہچان نہیں ہے
اور جن لوگوں نے مجھے بے نام و پہچان کیا ہے انہیں آسانی سے چھوڑوں گا نہیں اور جہاں تک بات ہے حرم کی تو وہ میری ہے
میں اسے حاصل کر لوں گا اس کے لیے محبت میرے دل میں اللہ نے ڈالی ہے
اور میں اسے اللہ سے ہی مانگوں گا جو اسے میرے دل میں جگہ دے سکتا ہے وہ مجھے اس کی زندگی میں بھی جگہ دے گا
مجھے نہیں پتا کہ اسے حاصل کرنا آسان ہوگا یا مشکل لیکن میں اس کے لئے دنیا سے لڑ جاؤں گا وہ میری ہے
میں نے جب اسے پہلے بار دیکھا نہ صیام تمہارا دل دھڑکنا بھول گیا تھا تو جانتا ہے میری حالت کیا تھی
میں نے اسی دن فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ میری ہے اسے میری زندگی میں آنا ہے اور اسے میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا کوئی بھی نہیں
اگر اسے حاصل کرنے کے لئے مجھے غلط راستہ اختیار کرنا پڑا جو شاید مجھے کرنا پڑے گا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے
وہ کہہ کر کپ خالی کرتا ہے اس کے قریب رکھ کر فلیٹ سے نکل چکا تھا جبکہ صیام خاموشی سے اسےجاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔
