Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 78)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 78)
Junoniyat By Areej Shah
کہاں جا رہے ہیں زریام پلیز کچھ بتائیں بھی تو سہی وہ کافی زیادہ ایکسائٹڈ لگ رہی تھی جب کے وہ اسے کچھ بھی بتائے بنا اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا
مہندی کی رسم ادا کرنے کے بعد وہ سب لوگ گھر کی جانب جا رہے تھے جب اچانک ہی اس نے دادا جان سے کہا کہ وہ عمایہ کو کہیں لے کر جانا چاہتا ہے اور پھر وہ اسے کہیں لے آیا تھا
اور تجسس کے مارے اب تک صرف اس سے پوچھے جا رہی تھی اور وہ اسے کچھ بھی بتانے کو تیار نہ تھا اس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ بس تھوڑی دیر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا ۔
بہت برے ہیں آپ اس طرح سے کوئی سرپرائز نہیں دیتا وہ اسے دیکھ کر روٹھے ہوئے لہجے میں بولی
تو زریام نے مسکراتے ہوئے گاڑی روک کر سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں لائٹ چل رہی تھی یقیناً کوئی اندر تھا لیکن کون۔ ۔۔۔۔۔!
شاید وہ اسے کسی خاص سے ملوانے کی خاطر یہاں لےکر آیا تھا ۔
یہ کون سی جگہ ہے اور ہم یہاں کیوں آئے ہیں کیا وہاں اندر کوئی ہے کیا آپ مجھے یہاں کسی سے ملوانے کے لیے لائے ہیں ۔۔۔۔؟
بہت زیادہ سوال کرتی ہو تم بیوی میں ایسے ہی تو نہیں کہتا کہ تم صرف شکل سے معصوم لگتی ہو باہر آؤ تو تمہیں پتہ چلا کہ وہاں کون ہے وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے نکلا اور اس کی طرف کا دروازہ کھول دیا ۔
اگر آپ سے بھی سوال نہ کروں تو کس سے کروں ۔۔۔؟ وہ اس کی بات کا برا مت منائیے بنا بولی تھی
کسی سے مت کرو مجھ سے ہی کرو آؤ جلدی وہ کب سے انتظار کر رہا ہے تمہارا وہ اس کا ہاتھ تھامے سے اندر کی طرف لے جانے لگا ۔
جب کہ وہ اس کے ساتھ کھنچتی اندر تک آئی تھی لیکن سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ کر حیرانگی سے کبھی ذریام کو اور کبھی اسے دیکھنے لگی ۔
°°°°°°°
ان کا جگر خون بنانا بند کر رہا ہے انہیں علاج کی ضرورت ہے فی الحال تو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی کنڈیشن میں ہرگز نہیں ہیں ۔
لیکن ڈاکٹر آپ نے تو کہا تھا کہ ان میڈیسن سے کسی طرح کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوگا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ جگر۔ ۔۔۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ یہ کوئی سائیڈ ایفیکٹ ہو یا ان میڈیسن کی وجہ سے ہوا ہو ہو سکتا ہے کہ کوئی شدید قسم کی بیماری ہو ۔
اتنا فکر نہ کریں اس بیماری کا علاج ہے ان شاءاللہ یہ بہتر ہو جائے گی۔بس انہیں احتیاط کرنی ہوگی ڈاکٹر اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی جب کہ وہ یہ پچھلے چار سال سے اپنے دل میں دوسرے بچے کی خواہش لئے ڈاکٹرز کے چکر کاٹ رہے تھے آج انہیں دوسرا جھٹکا ملا تھا ۔
فکر نہ کرے احمر ڈاکٹر کہہ تو رہی ہیں کہ اس بیماری کا علاج ہے جگر کا مسئلہ ایک عام سی بیماری سب ٹھیک ہو جائے گا کنیز نے اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیا تھا ۔
یہ سب کچھ تمہاری ان فضول سوچوں کی وجہ سے ہے میں نے کہا تھا نہ کہ جب اللہ بہتر سمجھے گا تب بچہ ہو جائے گا لیکن نہیں تم نے تو یہ عجیب قسم کی میڈیسن کھانی تھی نا
اور یہ کوئی عام سی بیماری نہیں ہے کنیز خبردار جو آج کے بعد تم نے کسی بھی طرح کی فضول میڈیسن لی وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا
°°°°°°
عمایہ بھاگتے ہوئے سامنے کھڑے آدمی کے سینے سے جا لگی تھی جو کب سے بانہیں پھیلائے اسے اپنے پاس بلا رہا تھا اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ذریام اسےیہاں لے کر آئے گا اسے اس کے بھائی سے ملوائے گا وہ تو امید ہی چھوڑ چکی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے اپنے بھائی سے کبھی ملاقات کر پائے گی
وہ کتنی ہی دیر اسے یونہی اپنے سینے سے لگائے کھڑا رہا جبکہ ذریام وہیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا ۔
تمہارے لئے وکیل میں نے ہائر کر لیا ہے اور ان شاء اللہ تمہیں کم سے کم سزا ہوگی تم نے بس اتنا کرنا ہے کہ کل صبح ہی اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دینا ہے
اور باقی سب کچھ میں سنبھال لوں گا تمہیں اور کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جب کہ عمایہ شاکڈ کی کیفیت میں اسے سن رہی تھی وہ کہہ رہا تھا کہ اس کا بھائی خود کو پولیس کے حوالے کر کے ساری زندگی جیل میں سڑتا رہے نہیں وہ ایسا نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں زریام آپ چاہتے ہیں کہ بھائی ساری زندگی جیل میں رہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ان کا کوئی قصور نہیں ہے آپ کو پتہ ہے ان کے ہاتھ سے گولی غلطی سے چلی تھی وہ کسی کو مارنا نہیں چاہتے تھے ۔
آپ پلیز ان کو پولیس کے حوالے مت کرے پلیز میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں انہیں پھانسی ہو جائے گی
کچھ نہیں ہوگا اسے عمایہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ۔میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا کچھ بھی نہیں ۔
تمہیں گھبرانے کی یاپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ سارے کام میرے ہیں میں خود ہینڈل کر لوں گا تم بس اپنے بھائی سے ملو۔۔۔
اور بالکل ٹینشن مت لینا تم جانتی ہو تمہارا ٹینشن لینا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے میں تم پر یا اپنے بچے پر کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا اسی لئے میں سوچ رہا تھا کہ یہ سارا معاملہ حل ہونے کے بعد تمہیں اس سے ملوانے لے کر آؤں گا۔
لیکن ارحم بہت پریشان تھا اسی لئے میں نے سوچا کہ پہلے تم دونوں بہن بھائی کی ایک ملاقات کروا کر اس کی پریشانی کو دور کر دیتا ہوں تم دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرو میں اپنے دوست سے ذرا بات کر کے آتا ہوں وہ فون پر آنے والی کال کی طرف متوجہ ہوا تو ارحم عمایہ کو بٹھا کر اسے سارا معاملہ سمجھانے لگا تھا
°°°°°°
کیا ہوا دادا جان آپ اتنے زیادہ پریشان کیوں ہیں سب خیریت تو ہے نا وہ دادا جان کو دوائی دینے کے لئے ان کے کمرے میں آیا تو دادا جان کو کافی پریشان پایا
پتہ نہیں بیٹا حرم گھر میں کہیں پر بھی نہیں ہے اور یشام بھی کہیں پر نہیں ہے میں نے ملازم کو بھیجا تھا وہ پورا گھر دیکھ کر آئے وہ دونوں کہیں پر بھی نہیں ہے ۔
کہیں وہ لوگ واپس تو نہیں چلے گئے کہیں یشام واپس تو نہیں چلا گیا اگر ایسا کچھ ہوا تو میرا کیا ہو گا ۔میرا احمر پھر سے مجھ سے روٹھ کر چلا جائے گا میں اسے دوسری بار کھو نہیں سکتا
خداش میں اس گھر کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا چاہے کچھ بھی ہو جائے یشام کو واپس نہیں جانے دوں گا ۔
دادا جان پلیز آپ پریشان مت ہوں وہ جانے سے پہلے ہمیں بتا کر جائیں گے اس طرح سے تو نہیں جا سکتے نا ۔یشام نہ سہی لیکن حرم تو بتائے گی نا
آپ پلیز پریشان مت ہوں میں ابھی دیکھ کر آتا ہوں وہ ۔پریشانی سے کہتے ہوئے کمرے سے نکلنے لگا تھا جب وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوتے نظر آئے ۔
یہ کونسا وقت ہے باہر جانے کا تم لوگ کہاں گئے تھے اور کہیں گئے ہوئے تھے تو کم از کم بتا کر بھی تو جا سکتے تھے دادا جان کب سے پریشان ان لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں
خداش نےان کو روکتے ہوئے کہنے لگا تھا ۔
میں کسی کا پابند نہیں ہوں جو کسی کو بتا کر جانا ضروری سمجھتا اپنی مرضی کا مالک ہوں اور ہمیشہ سے اپنی مرضی ہی کرتا آیا ہوں میرے لیے کسی کو بتا کر جانا ضروری نہیں تھا
اور اگر ہمارے لئے کوئی پریشان ہوتا ہے تو یہ ان کا اپنا سر درد ہے ہمارا نہیں میں اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے کر جا سکتا ہوں مجھے اس کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اس نے بہت بد لحاظی سے کہا تھا ۔
جب کے اس کا انداز خداش کو بھی غصہ دلا گیا تھا ۔
لیکن دادا جان نے اسے کچھ بھی نہ کہنے کا اشارہ کیا تھا
بیٹا تم جہاں چاہے وہاں جا سکتے ہو اور جب چاہے تب گھر واپس آ سکتے ہو لیکن جانے سے پہلے اگر تم ایک بار ہمیں بتا دیتے تو اچھا تھا نہ ہم لوگ تم لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے بات اجازت لینے کی نہیں ہے اور نہ ہی ہم تمہیں اجازت لینے کے لیے فورس کر رہے ہیں بس اگر تم بتا دیتے تو پریشانی نہ ہوتی۔
اچھا تو آپ لوگ میرے لیے پریشان ہو رہے تھے ویسے اگر یہی پریشانی بیس سال پہلے دکھاتے تو واقعی میرے لیے بھی یہ قابل غور ہوتی جب میں آدھی آدھی رات کو بھوکابرف سے بھری سڑکوں پر بنا کسی گرم شے کے تنہا سو رہا تھا ۔
ارے یاد آیا تب آپ لوگوں کو پریشانی کیوں ہوتی میں تو آپ کے بیٹے کی ناجائز اولاد تھا ناں۔۔۔ جائز تو میں بیس سال کے بعد اب ہوا ہوں ۔
اس کا تمسخرانہ انداز دادا جان کو سر جھکانے پر مجبور کر گیا ۔
کیا چاہتے ہو تم ہم کس طرح سے منائیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔! بس ایک بار بتا دو کہ ہم اپنی غلطیوں کا کفارہ کس طرح سے ادا کریں یشام ہم وہ کریں گے جو تم کہو کس طرح سے ہم تم سے معافی مانگیں۔ اگر تم کہو گے تو ہم تمہارے پیر پکڑنے کو تیار ہیں وہ آگے بڑھے تھے جب وہ فورا پیچھے ہٹ گیا
آپ کے معافی مانگنے سے نہ تو میرا باپ زندہ ہو گا اور نہ ہی میری ماں مجھے کبھی دوبارہ ملے گی اسی لئے آپ کو اپنے سامنے جھکانے کی کوئی خواہش اب میرے دل میں باقی نہیں ۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ یہ بے کار کوشش بھی مت کریں۔میں یہاں صرف اور صرف حرم کی خوشی کیلئے آیا ہوں اور ہم جلد ہی واپس چلے جائیں گے وہ حرم کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے وہاں سے جا چکا تھا ۔جب کے دادا جان بس جاتے ہوئے دیکھتے رہے
°°°°°°
کیا ہوا حرم تم ناراض کیوں ہو مجھ سے اس کے منہ بنا کر بیٹھنے پر اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس کا ہاتھ تھامنے لگا جب اگلے ہی لمحے وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی بیڈ پر لیٹ گئی تھی ۔
اپنے دادا جان سے اتنی روڈلی بات کی آپ کو پتہ ہے ان سے کوئی بھی اس طرح سے بات نہیں کرتا وہ بڑے ہیں ہمارے گھر کے آپ کو اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی
یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ۔اس نے سختی سے کہتے ہوئے اسے اپنے قریب کرنا چاہا تھا
جی بالکل یہ آپ کا اور ان کا معاملہ ہے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں لیکن کوئی میرے دادا جان سے اس طرح سے بات کرے مجھے ہرگز منظور نہیں اور جو میرے دادا جان سے ایسے بات کرتا ہے میں اس سے بات نہیں کرتی
حرم اس نے غصے سے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔
کیا ہے ۔۔۔۔۔۔! وہ بھی اتنے ہی غصے سے بولی
تم بدتمیزی کر رہی ہو اس کا انداز اسے پسند نہیں آیا تھا
نیچے آپ بھی دادا جان کو کوئی پھولوں کا ہار پہنا کر نہیں آئے ۔وہ اسی انداز میں بولی
میں نے کہا یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔وہ پھر سے غصے سے بولا
میرا تعلق کیسے نہیں وہ میرے دادا جان ہیں ۔اور آپ ان سے اس طرح سے بات نہیں کر سکتے ۔
ٹھیک ہے میں آئندہ ان سے اس طرح سے بات نہیں کروں گا بلکہ میں ان سے بات ہی نہیں کروں گا اب موڈ ٹھیک کرو اس طرح سے روٹھ کر سوئی تو اچھا نہیں ہو گا تمہارے لئے وہ دھمکی پر اتر آیا تھا
میں تو ایسی ہی روٹھ کر سوؤں گی اگر مناسکتے ہیں تو منا لیں اس نے جیسے کھلی آفر کی تھی
منانا کیسے ہے یہ بھی بتا دو وہ اس کے انداز پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔
پیارسے۔۔۔۔۔۔۔اس کا انداز فرمائشی تھی
جبکہ اس کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ اچانک اس کے لبوں پر جھکا اور بےحد محبت سے اس کی نازک پھڑپھراتی پنکھڑیوں کو اپنے لبوں میں قید کرتے وہ اس کی سانسوں میں اشتعال برپا کر چکا تھا
اتنا پیار کافی ہے یا مزید پیار دکھاؤں۔ اسے اپنے سینے میں چھپاتے ہوئے اس نے بے حد محبت سے پوچھا تھا جب کہ اسے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو وہ اسے مزید اپنی دھڑکنوں کے قریب کرتا مسکراتے ہوئے اسے خود میں قید کر چکا تھا
°°°°°°
اس کی آنکھ کھلی تو دیشم کا ہاتھ اس کے گرد لپٹا ہوا تھا جبکہ اسے اپنے سینے پر بھی بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا اور وہ جانتا بھی تھا کہ یہ بوجھ کس چیز کا ہے ۔
لیکن وہ زیادہ دیر تک اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکا تھا اس کا بازوجو اس کے گرد لپٹا ہوا تھا اسے سختی سے پکڑتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے پیچھے کی طرف پھینکا تھا جب کہ وہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی
اس کی نیند تو کہیں بہت دور تک بھاگ چکی تھی جس کو وہ پکڑکر واپس بھی نہیں رکھ سکتی تھی ۔
اپنی حد میں رہو لڑکی اگر میں نے تمہیں اپنے بیڈ پر سونے کی اجازت دے دی ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ تم مجھ پر چڑھ کر سو ۔
اور یہ انٹینشن حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرنا بند کرو ان سب چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔اس طرح کی چیپ حرکت دوبارہ مت کرنا ۔ورنہ تمھارے حق میں بالکل بہتر نہیں ہوگا یہ نہ ہو کہ میں شادی ختم ہونے کا بھی انتظار نہ کروں۔ وہ بنا کسی بھی طرح کا لحاظ رکھے بولا ۔
میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا خداش میں نیند میں تھی مجھے پتا نہیں چلا ۔اس نے ایکسپلین کرنے کی کوشش کی تھی
اب تم ساری زندگی نیند میں ہی رہوتو تمہارے لئے بہتر ہوگا اور ویسے اس طرح کی چیپ حرکت تم نے اس وقت تو نہیں کی جب میں تمہاری نظروں میں ایک قاتل تھا بلکہ قاتل والی بات تو رہنے ہی دو
جب میں تمہاری نظروں میں ہوس پرست انسان تھا تب کی بات کرتے ہیں نا وہ اگر اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو وہ سچ میں ہو گئی تھی ۔
میں آپ سے سوری بول تو رہی ہو نا میں غلط فہمی کا شکار تھی اور ۔۔۔۔۔۔
اور اگر اب تم ساری زندگی بھی اس غلط فہمی کا شکار ہو تو مجھے کوئی افسوس نہیں کیونکہ اب میں تمہیں اپنے دل میں وہ پہلے والا مقام کبھی نہیں دے سکتا جو بچپن سے تمہارا تھا ۔
اسی لئے تم یہ بے کار کوشش کرنا چھوڑ دو کیونکہ ایک بار اگر کوئی دل سے اتر جائے نہ تو وہ کبھی دوبارہ اس جگہ واپس نہیں پہنچ سکتا اور تم بھی دل سے اتر چکی ہو۔
اب تمہاری یہ کوشش یہ معافی نامہ سب میری نظروں میں بیکار ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تمہاری ذات میرے لئے تمہارے آنسو تمہارا پچھتاوا اب میرے دل میں تمہیں وہ پہلے والا مقام واپس نہیں دے سکتا ۔اسی لیے یہ فضول کوشش بھی اب چھوڑ دو کیونکہ اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ غصے سے کہتا کپڑے لیے واش روم میں بند ہوگیا تھا
جبکہ دیشم اپنے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی وہیں ہارے ہوئے انداز میں بیٹھ گئی تھی وہ کیسے اسے منائے کیسے سب کچھ ٹھیک کرے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
ٹھیک کہتے تھے دادا جان اس نے کبھی اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی وہ بچپن سے محبت کرتا تھا اور وہ صرف مقابلہ کرتی آئی تھی اس سے۔
وہ یہ تو دیکھتی رہی کہ دادا جان اس سے کتنی محبت کرتے ہیں لیکن اس نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ کس سے محبت کرتا ہے ۔اپنی جلن اور حسد کی وجہ سے اس نے کبھی خود اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی ۔
کہ اس کے دل میں وہ برسوں سے اپنا مقام بنائے ہوئے ہے نا جانے کب سے وہ اس سے محبت کرتا آیا تھا ۔
وہ واش روم سے نکلا تو وہ ابھی تک ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔
اٹھو اور شکل درست کرو گھر میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے بیچ کیا چل رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے
کیا ہونے والا ہے ۔۔۔؟وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگی
شاید تم بار بار طلاق کا ذکر سن کر اپنا قلبی سکون چاہتی ہو اگر ایسا ہے تو
۔میں کوئی سکون نہیں چاہتی خداش میں معافی چاہتی ہوں میں سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں میری غلطی بڑی ہے میں نے بہت غلط الفاظ کا استعمال کیا ہے لیکن ۔۔۔؟
لیکن تمہاری اس غلطی کی کوئی معافی نہیں ۔فرض کرو کہ آج میں سب کچھ بھول کر تمہارے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرتا ہوں کیا گارنٹی ہے کہ سب کچھ ٹھیک رہے گا تم دوبارہ ایسا نہیں کرو گی آج تم میری ذات پر کیچڑ اچھال رہی ہو کیا گارنٹی ہے کیا ایسا دوبارہ نہیں ہوگا ۔
بلکہ کیا گارنٹی ہے کہ تم کردار کے معاملے میں مجھ پر دوبارہ شک نہیں کرو گی ۔دوبارہ ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کروں گی میاں بیوی کا رشتہ یقین پر قائم ہوتا ہے ۔اور جس میں یقین ہی نہ ہو رشتہ کیسا
تم حرم کے معاملے میں سوال اٹھاتی مجھے قاتل کہتی مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جاتی مجھے کوئی افسوس نہیں تھا لیکن تم نے مجھے کریکٹر لیس کہا ۔تم نے کہا کہ میں تمہارے جسم کو اپنے مطلب کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہوں ۔
تم نے کہا کہ میں ایک ہوس کا پجاری ہوں ۔تم نے میری محبت کو گالی دی ۔تم نے اپنے اور میرے اس پاکیزہ رشتے کی توہین کی ۔جس کی کوئی معافی نہیں ہے دیشم کم از کم اس معاملے میں میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا
ہمسفر وہ ہونا چاہیے جو آپ کے جذبات کی قدر کرے جو آپ کے جذبات کو سمجھے ۔اور بے شک میں نے تمہارے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تم میرے جذبات کو سمجھنے میں تو کامیاب ہوئی لیکن تم ان کی قدر نہ کر سکی۔ دادا جان نے صحیح فیصلہ کیا تھا وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے کہ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر غلط فیصلہ کر رہا ہوں مجھے پہلے ہی ان کے فیصلے پر سر جھکا لینا چاہیے تھا ۔
لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئی تم سے اس تعلق کو ختم کرکے میں دادا جان کو اپنی زندگی کے فیصلے کا اختیار دوں گا اور بے شک ان کا فیصلہ میرے حق میں درست ثابت ہوگا ۔
وہ اس کی سماعتوں پر دھماکا کرتا وہاں سے باہر نکل چکا تھا جب کہ وہ اب تک یقین نہیں کر پائی تھی کہ اس سے طلاق لینے کے بعدوہ دوسری شادی اس بارے میں بھی اتنی جلدی سوچ چکا تھا
°°°°°°
