Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 42)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 42)
Junoniyat By Areej Shah
وہ نہا کر باہر نکلا توعمایہ کمرے میں ہی تھی۔ ۔۔۔۔،،
اسے دیکھتے ہی اس کے پاس آکر کھڑی ہو گئی۔۔۔”
وہ اسے مخاطب کیے بنا آئینے کے سامنے جار رکا تھا۔
جب اس نے کہا
زریام کھانا لگ گیا ہے نیچے آکر کھانا کھا لیجیے۔۔۔” وہ کہہ کر پلٹی نہیں بلکہ وہی رک کر اسے دیکھتی رہی زریام جو اسے مکمل نظرانداز کر رہا تھا
آئینے میں اس کے چہرے پر تھپڑ کے نشان کو دیکھ کر پلٹ کر اس کے قریب آگیا ۔
اس کے اچانک یوں پاس آنے پر عمایہ کے دل میں خوشی ہوئی تھی
ذریام نے بے حد نرمی سے اس کے گال پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا تھا
جبکہ اس کے ہاتھوں کی حدت سےعمایہ آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کا دایاں گال سہلا رہا تھا جب اگلے ہی لمحے وہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی
اور ہر بار کی طرح اس نے اس کی عزت رکھی تھی ناراضگی کے باوجود بھی اس نے اسے دھتکارا نہیں تھا وہ کتنی ہی دیر اس کے سینے پر سر رکھ کر اس کے گرد بازو کا حصار بنائے کھڑی رہی
تمہیں مجھ سے کوئی بات کرنی تھی ۔۔۔۔!اس نے نرمی سے پوچھا تھا
پہلے کھانا کھا لیں پھر بتاؤں گی وہ حیا سے نگاہیں جھکا کر بولی توزریام سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا
°°°°°°
وہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ اس کے پیچھے پیچھے ہی قدم اٹھانے لگی۔ ۔۔”
جب اچانک ہی اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھام کر اسے اپنے ساتھ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔۔”
عمایہ خوشی خوشی اس کے ساتھ اپنے پیر اٹھانے لگی تھی اس کے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلنا اس کے لئے بہت خوشگوار احساس تھا ۔۔۔۔”
وہ اب تک اس سے سخت خفا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا تھا ۔عمایہ کے لئے اتنا ہی کافی تھا ۔
وہ کسی سے کچھ نہیں مانگتی تھی اس کے شوہر نے ہی اسے وہ مقام دے دیا تھا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی ۔
اپنے ہاتھ کو اس کے مضبوط ہاتھ میں قید دیکھ کر وہ مسکرا دی تھی سب نے انہیں سیڑھیوں سے اترتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔”
تانیہ کی نگاہیں تو ان کے ہاتھوں پر ہی جمی ہوئی تھیں جبکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ چاچی جان غصے سے کھانا چھوڑ کر کمرے میں چلی گئیں۔۔”
جبکہ تانیہ بھی خاموشی سے اپنی ماں کے پیچھے ہی کمرے میں جا بند ہوئی تھی لیکن زریام نے جیسے اس بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی
آہستہ سے کرسی گھسیٹ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا تو فوراً ہی زریام کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی
اسے داداجان کا فیصلہ بہت پسند آیا تھا جسے عمایہ پسند نہیں تھی وہ
اسے مخاطب نہ کرے یہی بہترین انصاف تھا
لیکن اپنی ناپسندیدگی اور نفرت کی وجہ سے عمایہ کو تکلیف پہنچانا اس پر تشدد کرنا اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا
وہ بے حد نرمی سے اس سے کھانے کا پوچھتے ہوئے اس کی پسند کی چیزیں ڈش میں ڈال رہا تھا
جب کہ دادا جان کے ساتھ باقی مرد حضرات بھی غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے تھے لیکن اسے پروا نہ تھی
°°°°°
دادا جان آج کل زریام سے کچھ خفا تھے ۔لیکن زریام کو تو جیسے اس بات کی پروا ہی نہیں تھی۔ ۔۔۔۔”
زریام کا اس طرح سے عمایہ کے لیے اسٹیپ اٹھانا اسے سپورٹ کرنا اسے اہمیت دینا انہیں ہرگز پسند نہیں آیا تھا وہ کیا سوچ کر عمایہ کو اس حویلی میں لے لائے تھے اور یہاں کیا ھو رھا تھا ۔۔۔؟
وہ جانتے تھے کہ زریام کی سوچ ان کی سوچ سے بہت الگ ہے۔۔۔”
لیکن وہ اپنے بھائی کے لیے اتنا نرم دل تو نہیں رکھتا تھا کہ اس کے قاتل کی بہن کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کر رہا تھا ۔۔۔۔”
اور اب وہ بار بار ولیمے کی تقریب پر زور دے رہا تھا
وہ اس لڑکی کو اپنا نام دینا چاہتا تھا اسے معاشرے میں عزت دینا چاہتا تھا اس لڑکی کو جسے وہ ونی کر کے لائے تھے اپنے پوتے کے قاتل کی بہن کی صورت میں ۔۔۔۔’
اسے سزا دینے کے لیے۔۔ لیکن ان کا لاڈلا پوتا اسے سزا دینے کے بجائے اسے عزت و احترام سے نواز رہا تھا
اسے اپنا نام دے رہا تھا اسے اپنے خاندان برادری کا حصہ بنا رہا تھا
اور انہیں یہ بات کسی قیمت پر گوارا نہیں تھی وہ ان سے وعدہ کر رہا تھا کہ ولیمے کے فورا بعد ہی وہ اس لڑکے کو کہیں سے بھی تلاش کرکے نکالے گا
لیکن وہ عمایہ کو معاشرے میں ایک مقام دینا چاہتا ہے وہ جو پورے گاؤں میں اسے ایک نیچ زات کی لڑکی بنانے پر تلے ہوئے تھے اور وہ اسے عزت دینے پر مجبور کر رہا تھا جب وہ کسی بھی قیمت پر ایساکرنے کو تیار نہ تھے
اور اس بات کے لیے بھی وہ انہیں دھمکی لگا گیا تھا کہ اگر انہوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ گھر چھوڑ کر چلا جائے گا ۔
اس وقت وہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ کیا کریں وہ اس لڑکی کے لیے ضرورت سے زیادہ ہی باغی ہوتا جا رہا تھا
°°°°°
شائزم داداجان سے بات کرنے کے لئے ان کے کمرے میں آیا۔۔۔”
تو انہیں مصروف پایا تھوڑی دیر پہلے اسے گھر میں ہونے والے ہنگامے کے بارے میں پتہ چلا تھا۔۔۔”
اسے پتہ تھا کہ دادا جان یقینا بہت غصے میں ہوں گے لیکن اس وقت تو وہ اپنا غصہ بھلائے ویڈیو کال پر اپنی لاڈلی سے باتیں کرنے میں مصروف تھے
اس کا دل بے چین ہونے لگا وہ اس کو دیکھنا چاہتا تھا ۔
نانا جان آپ پیار سے کہیں نا اس کو یہ آپ کی بات مان لے گی میں وعدہ کرتی ہوں جیسے میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں اسی طرح یہ بھی آپ کی باتیں مانے گی۔
لیکن میرا بچہ وہ میری بات کو سمجھے گی کیسے تم ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہو نا۔۔۔۔” اسی لئے تمہاری باتیں سمجھ جاتی ہے تمہاری کیٹی میرے کہنے پر دودھ نہیں پئے گی ۔
نہیں نہیں پی لے گی آپ کہیں تو سہی وہ بضد تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے تم بار بار کہہ رہی ہو تو لو میں بھی کہہ دیتا ہوں چلو کیٹی بیٹا فٹافٹ اس دودھ کو ختم کرو یہ آپ کی ہیلتھ کے لیے بہت اچھا ہے۔۔۔’
وہ بالکل بہلانے والے انداز میں بولے تو ان کے انداز پر شائزم کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔۔۔۔”
اس نے اپنے دادا جان کو اتنی نرمی اور بچگانہ انداز میں کسی سے بات کرتے ہوئے پہلی بار سنا تھا لیکن اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی اس کے دادا جان ایسے بھی ہو سکتے ہیں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔
دیکھ لیں ناناجان میں نے کہا تھا نہ کیٹی آپ کی بات مان لے گی جیسے میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں یہ بھی آپ کی ساری باتیں مانتی ہے۔۔۔’
ریدم کیٹی کو دودھ پیتے دیکھتے ہوئے بولی تھی جب کہ دادا جان تو خود بھی حیرانگی سے دیکھنے لگے تھے یہ تو سچ میں دودھ پینے لگی تھی ۔
ارے واہ یہ تو سچ میں کمال ہو گیا میں نے تو نہیں سوچا تھا ایسا وہ سچ مجھ پہ حیران تھے۔
شائزم کافی دیر بیٹھا انہیں سنتا رہا جب کہ دادا جان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ ان کی یہ ساری باتیں جلدی ختم نہیں ہونے والی
وہ جو ریدم کے حوالے سے ہی ان کے کمرے میں آیا تھا ایسے ہی خاموشی سے واپس باہر نکل گیا تھا
وہ نانا نواسی کو ڈسٹرب کرنے کا گناہ نہیں کر سکتا تھا فلحال وہ اپنی بات کو بعد پر ادھار رکھ چکا تھا
°°°°°°
حرم سارے راستے روتی رہی تھی ۔۔۔۔”اس کے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے یشام نے دو تین بار اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے خاموش کرنا چاہا۔ ۔۔
لیکن حرم کے آنسووں میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی تھی یشام نے فلحال اسے اس کے حالات پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔”
بے شک اس سب میں حرم کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔” اس کے لیے یہ مشکل لمحات تھے وہ تو جانتی تک نہیں تھی کہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔”
تو ایسے میں اس کا یہ ردعمل غلط تو ہرگز نہیں تھا ۔
محبت بہت انمول چیز ہے یہ کسی سے مانگنے سے تو ملتی نہیں یہ جذبات دل میں جگانے پڑتے اور یشام اس کے دل میں اپنے لیے محبت جگانا چاہتا تھا یہ مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں وہ جانتا حرم کا دل بہت شفاف ہے
اس کے صاف ستھرے دل پر اپنا نقش بنانا اس کے لئے مشکل تو ہرگز نہیں تھا لیکن فی الحال حالات بہت مشکل ہو چکے تھے
جن حالات میں وہ حرم سے نکاح کرکےاسے اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا اس کے لیے آگے کافی مشکلات ہونے والی تھی
لیکن اپنی محبت کے لئے وہ سب کچھ برداشت کرنے کو تیار تھا اسے بس حرم کی محبت چاہیے تھی جس کے لئے وہ سب کچھ چھوڑ کر جارہا تھا ۔
ہاں وہ اس کی خاطر سب کچھ چھوڑ آیا تھا اپنا بدلہ اپنی نفرت اپنا انتقام ہر چیز پیچھے چھوڑ آیا تھا اس نے مانگ لیا تھا اس کو ۔
اس نے اس رات دادا جان کو فون کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ ان کی پوتی سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔”
اس کی باتیں یقینا ان کے لئے کافی عجیب تھی اس نے بھی انہیں سمجھانے کی زیادہ کوشش نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
بس اپنے بارے میں بتایا تھا کہ وہ ان کی پوتی کو لے کر جا چکا ہے
اور حرم کے صدقےوہ ان سب لوگوں کو معاف کرنے کو بھی تیار ہے وہ واپس پلٹ کر یہاں کبھی بھی نہیں آنا چاہتا لیکن وہ اکیلا نہیں جائے گا ۔۔۔۔’
وہ اپنی حرم کو اپنے ساتھ لے کر جائے گا اور وہ اس بات کو بھی جانتا تھا کہ وہ لوگ آسانی سے حرم کو اس کے حوالے نہیں کریں گے اسی لئے اس نے بیچ کا راستہ اختیار کیا ہے
دادا جان نے کہا تھا کہ ہماری غلطیوں کی سزا ہماری پوتی کو مت دو تمہیں جو کرنا ہے جو کہنا ہے ہم سے کہو۔ ۔۔۔”
ہماری پوتی کو ان سب چیزوں میں سے نکال دو اس نے انہِیں مزید صفائیاں نہیں دی تھی۔اور نہ ہی اپنی محبت کا رونا رویا تھا اس نے کہا تھا کہ حرم اب اس کے ساتھ رہے گی
اب اس کا تعلق صرف اور صرف حرم سے ہوگا اسے باقی کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔۔
وہ بس اپنی حرم کو لے کر چلا جائے گا اس کی راستے کی رکاوٹ بننے کی کوشش کوئی نہ کرے ورنہ جس ایک پوتے کا مان ہے وہ اسے ختم کر دے گا
وہ دھمکیوں پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کے جو منہ میں آیا وہ بولتا چلا گیا اسے نہیں پتہ تھا اس کی کونسی بات ان کے لیۓ کے ہارٹ اٹیک کا سبب بنی تھی
لیکن اس نے صرف اور صرف حرم کی گھر سے غیر موجودگی کا ہی بتایا تھا اس نے بتایا تھا کہ اس نے حرم کو اغواء کر لیا ہے
اور اس سے نکاح کرنےکے بعد اسے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ لے کر جانےکا ارادہ رکھتاہے ۔ ان سب لوگوں سے بہت دور وہ اپنی ایک نئی دنیا بسانے جارہا ہے جس میں ان لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہے
یشام گاڑی ایئرپورٹ کے باہر روکتا اس کی طرف کا دروازہ کھول چکا تھا جب کہ وہ خاموشی سے بیٹھی رہی ۔
اس کی مصومیت پوہ یشام کے لبوں کی تراش میں مسکراہٹ ابھری لیکن اس وقت نخرے اٹھانے کا وقت نہیں تھا اسے زبردستی اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر کی جانب کھینچنا پڑا تھا ۔
°°°°°°
وہ ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تو صیام پہلے ہی اس کے انتظار میں تھا وہ تیزی سے اس کی طرف قدم بڑھاتا چندپیپرزاس کے حوالے کر چکا تھا جب کہ وہ اس کے ساتھ ہی اندر کی طرف چلا گیا تھا
وہ اسے اپنے ساتھ جہاز میں لے کر آیا تھا اس کا پاسپورٹ اور پیپزر کب تیار ہوئے یہ سب کچھ اس کے پاس تھا ہی نہیں ۔۔۔۔”
یہاں تک کہ اس کی توسالگرہ بھی دو دن کے بعد تھی اس کا آئی ڈی کارڈ بھی بعد میں بننا تھا
تو کیا وہ اسے جھوٹی شناخت پر اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا ۔۔۔۔!اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ایک تو دادا جان کی حالت نے اسے گھبراہٹ میں مبتلا کردیا۔۔۔۔”
اور جس طرح دادا جان نے اس کے ساتھ رخصت کردیا
یہ ساری چیزیں اس کے لئے بہت عجیب تھی
اسے دادا جان سے ایسی امید ہرگز نہیں تھی اسے لگا تھا وہ اس کے لیے لڑیں گے اس شخص سے اس کی جان چھڑوا لیں گے ۔۔۔۔”
اسے کہیں نہیں جانے دیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا انہوں نے خاموشی سے اسےرخصت کر دیا تھا
کیا سچ میں وہ رخصت ہوکر آئی تھی۔۔۔۔۔؟ اس کے داداجان کی دعااس کے ساتھ تھی اس کے سرپرست نے خود اسے رخصت کیا تھا
تووہ رخصت ہی ہوکر آئی تھی لیکن ایسا کیوں ہوا تھا یہ وہ جاننا چاہتی تھی ۔
یشام اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا جبکہ وہ نظریں جھکائے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔”
اس کے نازک ہاتھ یشام کی مضبوط گرفت میں تھا اس نے دو تین مرتبہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی تھی
جیسے بنا اس کی طرف دیکھے وہ ناکام بنا چکا تھا اس کا سارا دھیان باہر کی طرف تھا جب اچانک ہی جہاز کو جھٹکا لگا حرم کی تو جیسے سانس ٹکنے لگی
بے اختیار ہی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام چکی تھی جبکہ دوسرا ہاتھ اس کے بازو کے گرد حائل ہوا اور وہ اس کے بازو پکڑ کر بیٹھ گئی بالکل کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح ۔
کیا ہوا میری جان کیا تمہیں ڈر لگتا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ساتھ ہوں نا وہ اپنا بازو اس کےگردحائل کرتا اسے اپنے قریب کر چکا تھا
نہ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔تو مجھے ۔۔۔۔۔کسی چیز۔۔۔ سے ڈر نہیں لگتا ۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ جڑ کر بولی تو یشام کے عنابی لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی
کیا بات ہے مجھے تو پتا ہی نہیں تھا میری بیوی اتنی بہادر ہے ۔وہ مسکرا کر بولا
ہاں میں بہت بہادر ہوں لیکن میں آپ کی بیوی نہیں ہوں۔ اور نہ ہی میں آپ سے ہوئی اس شادی کو مانتی ہوں شادی ایسے نہیں ہوتی آپ مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں آپ بہت برے انسان ہیں وہ اس کے ساتھ چمٹی ہوئی بول رہی تھی۔
کیا شادی ایسے نہیں ہوتی تو تم مجھے بتا دینا شادی کیسے ہوتی ہے ہم بالکل ویسے ہی شادی کر لیں گے
جیسےتم چاہو گی بالکل ویسی ہی شادی ہو گی ہماری وہ اسے بہلا رہا تھا ۔
اچھا اب تم بتاؤ کس طرح سے شادی کرنا پسند کروگی۔۔!جہاز کو لگنے والے ایک اور جھٹکے نے انہیں ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا تھا
جب کہ اس وقت حرم کی سچویشن ایسی تھی کہ وہ اس سے دور نہیں ہو سکتی تھی ۔لیکن اس کی قربت اسے ناگوار گزر رہی تھی۔
اس وقت وہ سچ میں بہت گھبرائی ہوئی تھی یہ اس کا جہاز کا پہلا سفر تھا
جو اسے ڈر میں مبتلا کر گیا تھا لیکن یشام یونہی باتوں ہی باتوں میں اسے اس چیز سے باہر نکال لایا تھا
اور تھوڑی ہی دیر میں جب جہاز نارملی پرواز کرنے لگا تو وہ بھی اس سے پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئی
وہ اسے باتوں ہی باتوں میں خود سے بات کرنے پر مجبور کر رہا تھا لیکن اس نے اپنے لبوں پر ایسی چپ لگائی تھی کہ مزید کچھ بھی نہ بولی
°°°°°°
خداش تھکا ہارا کر واپس لوٹ کر آیا تھا۔جب دادا جان کی طرف سے پیغام آیا کہ حرم کو ڈھونڈنا چھوڑ دو
وہ جہاں بھی ہے بالکل محفوظ ہے اسے دادا جان کی بات بہت عجیب لگی تھی تو کیا کہنا چاہتے تھے ان کی اس بات کا کیا مطلب تھا
اس کی بہن گھر سے غائب تھی تیس گھنٹوں سے اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا اور دادا جان کہہ رہے تھے کہ وہ جہاں بھی ہے محفوظ ہے ۔
دادا جان کا یہ پیغام ملتے ہی وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہسپتال پہنچ گیا تھا۔۔۔”
دادا جان کا کہنا تھا کہ وہ ہسپتال نہیں رہنا چاہتے لہٰذا انہیں ڈسچارج کروانے کی کوشش کی جائے
یہ انہیں دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا تھا ایسے میں انہیں ڈسچارچ ملنا تو تقریبا ناممکن تھا۔۔۔”
لیکن اس وقت دادا جان سے حرم کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وہ سیدھا ہسپتال ہی جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔”
دادا جان نے ایسا کیوں کہا تھا حرم کہاں تھی۔۔۔۔۔؟ اور وہ محفوظ کیسے تھی۔۔۔۔؟ اسے سب کچھ جاننا تھا
اسے لگ رہا تھا جیسے دادا جان نے خود ہی حرم کو کہیں بھیج دیا ہے اسی لئے تو اتنے یقین سے کہہ رہے تھے کہ ہم جہاں بھی ہے محفوظ ہے
ہوسکتا ہے دادا جان نے اٹیک ہونے سے پہلے اسے کہیں بھیجا ہو یا وہ انہیں بتا کر کہیں گئی ہو۔وہ سوچ رہا تھا لیکن ان دلائل پر اسے خود بھی یقین نہیں تھا
حالانکہ وہ رات گھر پر ہی تھی اور اس کے سامنے ہی اپنے کمرے میں گئی تھی اسے کمرے میں جانے دینےسے پہلے اس نے کوئی رسم کی تھی ۔۔۔۔۔”
جس میں وہ اس سے پیسے مانگ رہی تھی اس کے بعد سے اس نے اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔”
اور اس کے بعد ہی دادا جان کو اٹیک بھی ہوا تھا ممکن تھا کہ دادا جان جانتے ہو کہ حرم کہاں ہیں
حویلی سے ہسپتال پہنچتے پہنچتے اس کی ٹینشن میں کافی کمی ہوئی تھی اگر دادا جان جانتے تھے کہ حرم کہاں ہے تو اس کا مسئلہ تقریبا حل ہو چکا تھا وہ صرف اور صرف اپنی بہن کو ہی سوچے جا رہا تھا
اور ہسپتال پہنچتے ہی وہ سیدھے دادا جان کے کمرے میں حاضری دینے کے لیے پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔”
دادا جان بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے جبکہ چھوٹے چاچا جان ان کے پاس ہی بیٹھے ان سے باتوں میں مصروف تھے
°°°°°°
