65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 45)

Junoniyat By Areej Shah

وہ کتنی ہی دیر یوں ہی ڈرے سہمے بیٹھے رہی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کمرے میں اس کے علاوہ بھی کوئی موجود ہے ۔

پہلے تو کتنی ہی دیر اپنے ڈر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ اس شخص کے سامنے خود کو اتنا کمزور اور ڈرپوک ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

لیکن وہ تھی تو ڈرپوک اور اس بات کو وہ خود بھی قبول کرتی تھی۔

تو اپنے آپ کو مزید ڈرپوک ظاہر کرنے کے لیے وہ تیار ہوگئی۔

حرم جلدی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی اور دروازہ بھی بند کر دیا

جیسے چڑیل اس کے پیچھے پیچھے ہی باہر آ رہی ہو اور اس کے دروازہ بند کرنے دینے سے وہ باہر نہ آ سکے ۔اس نے چڑیل کو کمرے میں بند کر کے سکون کا سانس لیا

اور تیز تیز قدم اٹھاتی کچن کی طرف جھانک کر دیکھنے لگی وہ کسی ماہر شیف کی طرح تیز تیز کھانا بنانے میں مصروف تھا وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی کیا اسے اس کے پاس جانا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔؟

نہیں۔۔وہ خود ہی فیصلہ کر کے کتنی دیر یوں ہی کھڑی رہی اس نے بلو جینز کے اوپر وائٹ کلر کی سادہ سی سلیولیس بنیان پہن رکھی تھی کہ جس کے اوپر اس نے ایپرن باندھا ہوا تھا

اور اس کے ہاتھوں کی حرکت سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کھانا بنانے میں کافی زیادہ ماہر ہے

کچن سے آتی کھانے کی مزیدار خوشبو اس کے پیٹ میں چوہے دوڑانے کا کام کر رہی تھی چڑیل کے ڈر سے نکل کر اب اسے اپنے پیٹ کی فکر ہونے لگی

لیکن جب تک وہ خود کھانا بنا کر اسے کھانے کے لئے نہ بلائے وہ کیسے جا سکتی تھی آخر مینرز بھی تو کوئی چیز ہوتے ہیں نا وہ سوچ کر صوفے پر ہی ٹک کر بیٹھ گئی

کمرے کے اندر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

°°°°°

نہ جانے رات کب اس نے نیند میں کروٹ لی اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا

وہ جو پتا نہیں کون سی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اس کا نازک وجود اپنے قریب آتے ہی اس کی طرف متوجہ ہو گیا

وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تھا ہلکی لائٹ بلب کی روشنی میں اس کا نازک سا سراپا اس کی ملکیت تھا لیکن اس وقت اس کی سوچ بہت الگ تھی

وہ دادا جان کی شرط کے بارے میں سوچ رہا تھا اگر وہ ان کی اس شرط کو مان لیتا ہے تو اس کے لیے یہ کافی زیادہ فائدے مند بات ہو سکتی تھی

وہ دادا جان کی بات مان کر اپنی بیوی اور اپنے بچے کو اپنا نام دے سکتا تھا

وہ پوری دنیا کے سامنے اس کے اوپر سے ونی لفظ کو ہٹا سکتا تھا وہ اسے عزت دے سکتا تھا اپنا ساتھ دے سکتا تھا لیکن اگر وہ دادا جان کی شرط مان لیتا ہے تو کیا یہ ساتھ، ساتھ رہتا

نجانے کیوں اس کے دماغ میں ایک عجیب سا ڈر بیٹھ گیا تھا وہ اس لڑکی کے ساتھ کسی طرح کی ناانصافی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔جس کے ساتھ اس کا پاکیزہ رشتہ تھا

وہ شروع سے ہی اس سے جڑے رشتوں سے بے پناہ محبت کرتا آیا تھا اس کو اپنے ساتھ جڑے ہر تعلق کا احساس تھا

اس نے دادا جان کی کبھی کوئی بات نہیں ٹالی تھی لیکن اس رشتے کی خاطر دادا جان کے بھی خلاف ہو گیا تھا اپنی سوچوں سے تنگ آ کر وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس آیا اور سگریٹ سلگا کر لمبے لمبے کش بھرنے لگا

دماغ میں سوچوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا طوفان چل رہا تھا

°°°°°°

وہ کچن سے باہر کچھ لینے کے لئے آیا تو اسے باہر صوفے پر بیٹھے دیکھا اس کا سارا دھیان سامنے سکرین کی جانب تھا جہاں کوئی ساس اپنی بہو کو بڑی طرح سے پیٹ رہی تھی ۔

اور وہ پوری طرح سے ٹی وی کی طرف مگن تھی۔ اور شاید انتظار میں تھی کہ آگے کیا ہونےوالا ہے ۔اس کا متجسس انداز یشام کو بہت پیارا لگ رہا تھا۔

تم تو غالباً سو رہی تھی نا ۔۔؟وہ اس کے قریب سے بولا ۔

وہ اس کے اتنے قریب آنے پر چونک کر اسے دیکھنے لگ گئی تھی ۔

بھوک لگی ہوئی ہے مجھے اور مجھے خالی پیٹ نیند نہیں آتی اس نے اپنے ڈر والے قصے کو مکمل چھپا کر اس سے کہا تھا ۔

ایم رئیلی سوری جان کھانا بنانے میں تو تھورا سا ٹائم لگے گا اگر تم کہو تو کیا میں تمہیں باہر سے کچھ لا دوں۔ وہ بہت محبت سے پوچھ رہا تھا ۔

نہیں میں انتظار کر لوں گی ۔وہ ایک نظر اسے دیکھ کر پھر سے ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی ۔

تمہیں کھانے میں کیا پسند ہے وہ اس کے پاس ہی بیٹھ کر پوچھنے لگا شاید وہ اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا

آئس کریم اور چاکلیٹ، ویسے مجھے چکن برگر بھی پسند ہے اس نے ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھتے ایک نظر اسے دیکھ کر کہا تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا ۔

میں نے گھر کے کھانے کے بارے میں پوچھا ہے کہ کچن میں تمہیں کیا پسند ہے۔جیسے سبزی دال یا کوئی اور ڈش اس نے ٹھیک سے بات سمجھائی

مٹر۔۔۔ اور جس چیز میں مٹر ہوں وہ سب اس نے جواب دیا تھا وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ یقیناً مٹر اس کی فیورٹ سبزی ہوگی

واؤ مٹر تو میرے بھی فیورٹ ہیں اور قیمے میں تو سب سے زیادہ مزے کے لگتے ہیں ۔وہ مزید بات کرنے لگا

مجھے قیمہ نہیں پسند وہ اسے گھور کر بولی ۔یشام کو اپنی جلد بازی پر افسوس ہوا

لیکن ابھی تو تم نے کہا کہ جس چیز میں مٹر ہو وہ سب کچھ پسند ہے

ہاں جس چیز میں مٹر ہوں میں اس میں سے نکال کر کھا لیتی ہوں دوسری چیز چھوڑ دیتی ہوں اس نے اسے بہت معلوماتی بات بتائی تھی ۔اور اب یشام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مزید کیا کہے

میں کھانا چیک کر کے آتا ہوں جل ہی نا گیا ہو وہ اٹھ کھڑا ہوا جب کہ وہ پھر سے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گئی جہاں اب تک ساس اور بہو کا جھگڑا چل رہا تھا

°°°°°

وہ کافی دیر کے بعد واپس بیڈ پر آیا تو ایک بارپھر سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا

اور ایک ہی جھٹکے سے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنے روبرو کر دیا تھا اچانک ہونے والے افتاد پر عمایہ گھبرا کر اس کے سامنے بیٹھ گئی اسے ہوا کیا تھا وہ سمجھ نہ سکی

لیکن وہ اسے عجیب بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا

کیا ہوا زریام آپ ٹھیک تو ہیں نا آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں۔۔۔۔؟

آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا میں آپ کا سر دبا دوں۔۔۔۔؟

وہ اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کے ماتھے کی طرف لے جانے لگی

لیکن وہ اس کا ہاتھ سختی سے اپنے ہاتھ میں تھام چکا تھا

کیا ہوں میں تمہارے لیے وہ اسے گھور کر پوچھنے لگا جبکہ اس کے سوال پر وہ اسے دیکھ کر رہ گئی یہ کیسا سوال تھا

کیا مطلب ہے ذریام آپ کیا کہنا چاہتے ہیں میں سمجھ نہیں پائی وہ پریشان سی اس سے پوچھنے لگی تھی

ایک سیدھا سادہ سا سوال ہے لڑکی کہ کیا ہوں میں تمہارے لیے کیا اہمیت رکھتا ہوں میں تمہاری زندگی میں کیا ویلیو ہے میری تمہاری نظروں میں اس سوال کا جواب چاہیے مجھے میں کیا ہوں تمہارے لیے بتاؤ

وہ ایک بار پھر سے اپنا سوال تفصیل سے دہراتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا

زندگی ۔۔”۔اس نے ایک لفظی جواب دیا تھا ۔

زندگی۔۔؟ ذریام نے اس کے جواب کو دہرایا

ہاں آپ میری زندگی ہیں۔ آپ میرے لیے میرا سب کچھ ہیں زریام آپ میری آتی جاتی سانسوں کی وجہ ہیں میرے شوہر ہیں میرے محافظ ہیں میرے ہونے والے بچےکے باپ ہیں

وہ انسان ہیں جس نے مجھے محبت کا مطلب سمجھایا ہے صرف کچھ ہی دنوں میں میں اپنی ذات کو بھول کر اپنے آپ کو بھول کر آپ کی محبت میں گرفتار ہو گئی

میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ذریام پلیز مجھے معاف کر دیجیے میں نےغلطی کی لیکن میں نہیں جانتی تھی اسے ایک غلطی کی وجہ سے میری زندگی مجھ سے روٹھ جائے گی

مجھے لگ رہا ہے جیسے میں گھپ اندھیرے میں ہوں جہاں کوئی نہیں ہے میرے پاس مجھے آپ کا ساتھ چاہیے میں اس اندھیرے میں نہیں رہ سکتی زریام مجھے آپ کی محبت چاہیے

میں جانتی ہوں میں آپ کی زندگی میں زبردستی داخل کی گئی لڑکی ہوں شاید آپ مجھ سے کبھی بھی محبت نہ کرسکیں لیکن آپ میرے لئے میری پہلی اور آخری محبت ہیں میں آپ کے بنا سانس نہیں لے سکتی جینا تو بہت دور کی بات ہے

وہ آنسو بہاتے ھوئے اس سے بول رہی تھی جب زریام نے اگلے ہی لمحے اس کے نازک سے وجود کو کھینچ کر خود میں بھینچ لیا ۔

اور پھر کتنی ہی دیر اسے یوں ہی اپنے سینے سے لگائے بیٹھا رہا

°°°°°°°

وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے اس کے ہاتھ سے بنا کھانا کافی زیادہ مزے دار تھا حرم تو پہلے ہی دفعہ اس کے کھانے کی فین ہو گئی تھی۔

کھانے میں مٹر نام کی کوئی چیز نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی کھانا اسے پسند آ رہا تھا یشام کے لیے یہ بات بہت اہمیت رکھتی تھی

وہ خود اس کی پلیٹ میں کھانا ڈال کر اسے دے رہا تھا کہ وہ کسی طرح کے تکلف میں نہ پڑے

آرام سکون سے کھانا کھا کر تم ریسٹ کرو اور اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتانا میں اس کمرے میں رہوں گا

تم کھانے کے بعد چائے پیتی ہو وہ آخری نوالہ لیتے ہوئے اسے ہدایت دے کر پوچھنے لگا

اماں تو نہیں دیتیں لیکن میں پی لوں گی ۔وہ سوچ بچار کے بعد بولی

اس کے باتیں اسے بہت مزیدار لگ رہی تھی وہ بظاہر ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کے ساتھ کافی نارمل تھی

اور اس کا یہ نارمل انداز کبھی یشام کو پریشان کر رہا تھا تو کبھی ہزار طرح کی خوش فہمیوں میں مبتلا کر رہا تھا

یہاں تمہاری اماں تو نہیں ہیں نا تو پی لو یار میں بھی پیتا ہوں مجھے رات کی چائے کے لیے پارٹنر چاہیے وہ مسکرا کر برتن اٹھاتے ہوئے کچن کی طرف آیا تو وہ بھی اس کے پیچھے ہی آگئی

کیونکہ اندھیرے کے ساتھ ساتھ اس کا ڈر بھی بڑھ رہا تھا

میں اس والے کمرے میں نہیں سوؤں گی دوسرے والے کمرے میں سوؤں گی۔ اس نے فیصلہ کرتے ہوئے بتایا تھا جس پر اس نے اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا

تمہارا گھر ہے جان تم جہاں بھی سونا چاہتی ہو سو جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں تمہیں چائے بنانی آتی ہے ۔۔۔؟

وہ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے سوال کرنے لگا

نہیں مجھے نہیں آتی میں نے کبھی نہیں بنائی وہ اس کے پاس ہی رک گئی تھی

نہ جانے وہ کیوں چاہتی تھی کہ وہ سونے کے لئے نہ جائے کیونکہ اگر وہ چلا جاتا تو اسے اکیلے رہنا پڑتا اور جب تک اسے نیند نہیں آ جاتی تب تک ڈر سے تو یقینا اس کی جان نکلنے والی تھی

وہ میں پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ عظمیٰ کیا دن میں بھی یہی پر ہوتی ہے وہ چائے کا کپ تھامتے ہوئے پوچھنے لگی

تو یشام نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو ضبط کیا تھا وہ ابھی تک عظمیٰ پر اٹکی ہوئی تھی

اور بیچاری عظمیٰ ہےکون یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔نہ جانے کیسے اس کے دماغ میں یہ نام آگیا اور اس نے کہہ دیا وہ کہاں جانتا تھا کہ وہ اس عظمیٰ کو اصلی والی چڑیل ہی بنا لے گی

نہیں وہ دن میں یہاں نہیں ہوتی اسے بھی تو اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنا ہوتا ہے نا وہ صرف رات کو سونے کے لئے یہاں آتی ہے وہ اسے باہر آنے کا اشارہ کرتے کہنے لگا

او اچھا ۔۔۔حرم سمجھنے والے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی جبکہ یشام اب ٹی وی کے چینل چینج کرتے ہوئے کچھ سرچ کر رہا تھا وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی

°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو ذریام کمرے سے جا چکا تھا صبح کے تقریبا نو بج رہے تھے وقت دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

رات بھر وہ اس کے ساتھ رہا تھا اسے اپنے قریب کیے وہ اسے اپنے ساتھ کا احساس دلا گیا تھا

عمایہ اس کے سینے میں سر چھپائے اس کی شدتوں میں خود کو دنیا کی سب سے حسین لڑکی تصور کر رہی تھی ۔

اپنے بچے کے حوالے سے اس نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی لیکن اس نے اس سے اپنی اہمیت پوچھی تھی اورجو جذبات اس کے دل میں تھے وہ عمایہ بیان کر گئی تھی

بچے کو لے کروہ کیا سوچتا تھا کیا نہیں یہ تو وہ نہیں جانتی تھی لیکن شاید وہ خود اس کے لیے اہمیت رکھتی تھی

ساری رات اس کی باہوں میں اس نے اپنے آپ کو بہت قیمتی محسوس کیا ۔

وہ جلدی سے اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی وہ جلدی جلدی نیچے جانا چاہتی تھی اس سے پہلے کے ذریام گھر سے نکل جائے

اس کے چہرے پر رات کے حسین لمحات کے عکس کو دیکھنا چاہتی تھی

اس نے زریام کا فیورٹ کلر پہنا۔اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی آج اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی کہ اسے ناشتہ بنانا ہے یا سب کی خدمت کرنی ہے کوئی اسے برا بھلا کہے گا یا کوئی اسے تھپڑ مارے گا وہ ہرسوچ سے بالکل آزاد تھی اسے صرف اپنے شوہر کو دیکھنا تھا

°°°°°

کہاں جا رہے ہیں آپ وہ چائے ختم کر کے برتن دھو کر واپس کمرے کی طرف جانے لگا ٹی وی بھی آف ہوچکا تھا

جب کہ وہ اس کے سامنے کھڑی سوال جواب کر رہی تھی یشام نے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا یقیناً وہ سونے جا رہا تھا

آپ سونے کے لئے جا رہے ہیں گڈ نائٹ وہ اس کے راستے سے ہٹتے ہوئے بولی تو یشام مسکرا کر گڈنائٹ کہتا اپنے کمرے میں بند ہوگیا

دروازہ کیوں بند کر رہے ہیں آپ وہ دروازہ بند کرنے ہی والا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے اس کے سامنے آگئی ۔

کیونکہ میں سونے جا رہا ہوں وہ اس کے ڈر کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا

اگر مجھے۔۔مجھےکسی چیز کی ضرورت ہوئی تو۔۔ وہ منہ پھلا کر بولی ۔

تو تمہارا اپنا گھر ہے جان تم لے لینا جس بھی چیز کی ضرورت ہو کچن یہاں ہے اگر رات کو بھوک لگے تو کچھ کھا بھی سکتی ہوں اگر ٹی وی دیکھنا چاہو تو یہاں بیٹھ کر جتنی مرضی دیر ٹی وی دیکھو اگر کچھ پڑھنے کا دل کرے تو سٹور روم میں کافی ساری کتابیں ہیں ۔

آپ اپنے گھر آئے مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں مطلب انہیں چھوڑ کر سونے کے لئے چلے جاتے ہیں وہ اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی ۔

نہیں مہمانوں کے ساتھ میں بہت اچھے طریقے سے پیش آتا ہوں ان کی خدمت کرتا ہوں لیکن میرے گھر میں مہمان بہت کم ہی آتے ہیں

اور میری جان جہاں تک تمہاری بات ہے تم کوئی مہمان نہیں ہو اس گھر کا اہم ترین حصہ ہو اس گھر کی مالکن ہو

تم یہاں جو چاہے کر سکتی ہو وہ مسکرا کر کہتا دروازہ بند کر چکا تھا لیکن اس کا جانا اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگا اور ٹی وی کی آواز تھوڑی اونچی کر کے بیٹھ گئی ۔

لیکن کافی دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد بھی اس کا نازک سا دل اپنی نارمل سپیڈ پر نہیں آیا تھا اس نے ٹی وی بند کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانا چاہا اور آ کر بیڈ کر لیٹ گئی ۔

لیکن اگلے دو ہی منٹ میں اس کا ضبط جواب دے چکا تھا وہ جلدی سے کمرے سے نکلتے ہوئے سامنے والے کمرے میں گھس گئی اور نہ صرف کمرے میں گھس گئی بلکہ اس کے کمبل میں بھی گھس چکی تھی ۔

وہ میری اماں کہتی ہیں کہ شادی شدہ جوڑے ایک ساتھ سوتے ہیں تو ہماری بھی تو شادی ہوگئی ہے ناں اس کا لب و لہجہ بہت معصوم تھا اور وہ جو نیند میں ڈوبنے کی مکمل تیاری میں تھا اس کی بات سن کر بے ساختہ مسکرا دیا

ہاں بالکل،وہ اس پر کمبل درست کرتے ہوئے دوسری طرف کروٹ لے چکا تھا۔وہاں اسے انکفرٹیبل نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس کے اندر تک ایک سکون پھیل چکا تھا وہ خود کو اس کی بیوی مانتی تھی اور یہ چیز اسے سکون دی گئی تھی

°°°°°

عمایہ تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی جب زریام اسے باہر صوفے پر بیٹھا ہوا نظر آیا وہ اپنے موبائل پر مصروف تھا

عمایہ تیز تیز قدم اٹھاتی نیچے کی طرف جانے لگی جب اپنے کمرے کے دروازے سے دادا جان نکل کر باہر آ گئے اس نے اپنے قدم پیچھے ہی روک لیے تھے

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دادا جان اسے پسند نہیں کرتے ہوئے وہ ان کے سامنے بہت کم آیا کرتی تھی ۔

تو کیا سوچا تم نے ہمارا دیا ہوا وقت ختم ہو چکا ہے ہمیں جواب چاہیے وہ اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگے تھے جبکہ وہ بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔

میں نے بہت سوچا تھا دادا جان اور پھر میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ مجھے آپ کی بات مان لینی چاہیئے مجھے آپ کی نواسی ریدم سے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ہمارے خاندان کی بیٹی ہے آپ کے لئے عزیز ہے تو مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے

آپ کی خوشی میں خوش ہوں میں نکاح کے لئے راضی ہوں آپ جب چاہے میرا اس کے ساتھ نکاح کر دیں اور عمایہ کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا

اسے بھی عزت کی زندگی چاہیے اور مجھے عزت کے ساتھ ساتھ آپ کی خوشی بھی آپ جو کہیں گے وہی ہوگا

اس نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا تھا

دادا جان تو جیسے حیرانگی اسے دیکھنے لگے اور پھر اگلے ہی لمحے بانہیں پھیلا کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا

جب کہ سیڑھیوں پر کھڑی عمایہ کو لگا جیسے اس سے اس کی سانسیں تک چھین لی گئی ہوں

°°°°°°