65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 6)

Junoniyat By Areej Shah

وہ سب کو آج کا لیکچر سمجھانے کے بعد بورڈ پر سے ان سب سے کچھ پوائنٹس نوٹ کروا رہا تھا ۔جو اس کے آج کے لیکچر کے ریلیٹڈ تھے اور کافی اہم بھی تھے

سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے تو خود بھی کرسی کھینچ کر آرام سے بیٹھ گیا ۔

اگر کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا ہو تو پوچھ سکتا ہے بعد میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے.

اس نے سب کو موقع دیا تھا لیکن اس کے سمجھانے کا انداز تھا ہی اتنا اچھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کے کسی اسٹوڈنٹ کو اس کی بات سمجھ نہ آئی ہو۔

لیکچر مکمل ہو چکا تھا بس تھوڑی ہی دیر میں ان کا پریڈ ختم ہونے والا تھا ۔اور پھر اسے چلے جانا تھا ان کی کلاس سے

اس کی ایک عادت تھی اپنا پیریڈ ختم ہونے سے ایک سیکنڈ پہلے بھی کمرے سے باہر نہیں نکلتا تھا۔

وہ خود وقت کی قدر کرتا تھا اسی لئے تو اسے وقت کی قدر نہ کرنے والے لوگ پسند نہیں تھے ۔

سب اسٹوڈنٹس کی طرف سے ریلیکس ہو کر وہ اپنا من پسند کام کرنے لگا تھا وہ سب لوگ مصروف تھے کسی کا بھی دھیان اس پر نہیں تھا۔

اور اگر کسی کا دھیان اس پر ہوتا بھی تو کوئی بھی اسے دیکھتا نہیں تھا۔

اس کی پرسنیلٹی میں ایک ایسا دباؤ تھا جو سامنے والے کو اس سے نظریں چرانے پر مجبور کر دیتا تھا ۔

حرم زور اور شور سے اپنا کام کرنے میں مصروف تھی جب اسے اپنا آپ کسی کی گہری نگاہوں کے حصار میں محسوس ہوا ۔

اس نے اگلے ہی لمحے نگاہیں اٹھا کر سامنےکرسی پر بیٹھے یشام احمر کو دیکھا تھا جو بنا کسی ڈر و خوف کے اسے اپنی نگاہوں میں لے گئے آرام سے بیٹھا تھا۔

اس نے نگاہیں جھکانے یا شرمندہ ہو کر آگے پیچھے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی جیسے وہ اس پر یہ بات ظاہر کر رہا ہو کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔

وہ اس بات سے بالکل بھی پریشان نہیں تھا کہ وہ اس کو اس طرح اپنے آپ کو دیکھتے نوٹ کرچکی تھی بلکہ وہ تو اب تک نگاہیں اسی پر جمائے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔

اس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا جسے سمجھ کر حرم نے نگاہیں رجسٹر پر جھکا لیں اور اپنا کام کرنے لگی

اسے اس شخص سے عجیب سا خوف آنے لگا تھا اس کا اس طرح عجیب انداز سے دیکھنا اور پھر دیکھتے ہی رہنا اسے خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔

اور اس کے پرسرار انداز سے خوفزدہ ہوتی وہ ایک بار پھر سے اپنے کام میں مصروف ہونےکی کوشش کرنے لگی

اسے یہی لگا کہ شاید وہ اب اپنی نگاہیں ہٹا چکا ہوگا لیکن نہیں وہ اب بھی محسوس کر پا رہی تھی کہ وہ اسی طرح اسے دیکھ رہا تھا

اس نے نگاہیں اٹھا کر ایک بار پھر سے اس کی جانب دیکھا تو وہ اب تک اسے دیکھ رہا تھا۔

لیکن اس بار نگاہ ملنے پر یشام احمر کے لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ آئی تھی اور پھر اس دلکش مسکراہٹ کے ساتھ جیسے ہی اس کا ٹائم ختم ہوا وہ اٹھ کر کلاس سے باہر نکلنے لگا۔

اس کے باہر نکلتے ہی وہ جو کب سے اپنی سانس روکے ہوئے تھی گہری سانس لے کر سیدھی ہو کر بیٹھی۔

یہ اس نے آج پہلی دفعہ نوٹ نہیں کیا تھا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ یشام کو دو تین بار خود کو عجیب نظروں سے دیکھتا محسوس کر چکی تھی۔

اس کا دل چاہا کہ وہ میشہ کو اس بارے میں بتائے لیکن یہ سوچ کے کہ وہ نہ جانے اس کے بارے میں کیا سوچے گی اس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی تھی ۔

°°°°°

وہ پیپر دے کر اپنے کالج سے باہر نکلی تھی اس کا ارادہ ہوسٹل جانے کا تھا کل نانا جان نے چیک بھجوا دیا تھا۔

اور کافی بڑی رقم اسے انجوائے کرنے کے لیے دی تھی سات دن کی چھٹیاں اور وہ بالکل اکیلی نانا جان کی طبیعت خراب تھی وہ اس بار اس سے ملنے نہیں آ سکتے تھے۔

بی بی بتائیں کہاں جانا ہے اگر کہیں تو آپ کو ابھی آئس کریم کھلانے لے چکتا ہوں آج آپ کا آخری پیپر تھا یقینا آپ کا پیپر بہت اچھا رہا ہوگا۔

ڈرائیور چاچا اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگے یہ اس کے ڈرائیور بھی تھے اور باڈی گارڈ بھی نانا جان نے انہیں ہر وقت اس کے ساتھ رہنے کے لیے کہا تھا

لیکن وہ بھی ہر مہینے کے اینڈ پر اپنی فیملی سے ملنے جاتے تھے اور وہ کہیں بھی نہیں جاتی تھی۔

جی چاچا پپیر تو اچھا ہوالیکن میرا کہیں جانے کا دل نہیں کر رہا

آپ اس دفعہ گھر نہیں جا پائیں گے کیونکہ نانا جان نہیں آئیں گے نہ مجھ سے ملنے کے لیے

تو آپ کو بھی میری وجہ سے یہاں رکنا پڑے گا وہ افسوس کا اظہار کر رہی تھی جس پر مسکرا دیئے۔

کوئی بات نہیں بی بی اس دفعہ گھر والوں سے نہیں مل سکوں گا تو کیا ہوا میں اگلے مہینے چلا جاؤں گا یہاں پر تو میں انہیں کے لئے ہی رہتا ہوں۔

وہ اپنے ہی دھن میں بولے تھے لیکن اس بات سے بے خبر کہ وہ اتنے سے جملے میں اسے اپنے رشتوں کا احساس دلایا گئے تھے

وہ اسے بتا دیتے تھے کہ ان کے پیچھے کوئی ہے جو انہیں چاہتا ہے جو ان کا انتظار کرتا ہے جن کے لیے وہ اتنی محنت کر رہے ہیں اور اس کا کوئی بھی نہ تھا۔

ہاں یہ حقیقت تھی وہ اکیلی تھی تنہا تھی کوئی بھی نہیں تھا اس کا اور اب یہ احساس اسے اور بھی زیادہ شدت سے ہونے لگا تھا۔

کسی اچھی سی جگہ پر لے مجھے جہاں اتنا شور شرابا ہو کہ مجھے اپنے اندر کی آواز بھی سنائی نہ دے وہ اچانک رک کر ان سے کہنے لگی۔

کیوں نہیں بی بی جی آئیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے فیورٹ سنگر کا کونسرٹ ہے اس شہر میں آپ کو وہیں لے چلتا ہوں آپ تھوڑی دیر انجوائے کر لیجئے گا لیکن میرے خیال میں آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔

ابھی تو آپ کے پیپر ختم ہوئے ہیں ایسے میں شور شرابے والی جگہ پر جا کر آپ اپنی طبیعت خراب کر لیں گیں وہ فکرمندی سے بولے تو اس نے فورا نفی میں سر ہلایا۔

نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں چاچا آپ مجھے لے چلیں وہ اپنا بیگ اور ہاتھ میں پکڑی چیزیں گاڑی کے اندر پھینکتے ہوئے ان سے کہنے لگی۔

تو وہ بھی اس کے لئے دروازہ کھول چکے تھے ان کی مالکن کی مرضی تھی اور وہ منع نہیں کر سکتے تھے ان کے مالک کا کہنا تھا کہ ان کی نواسی کو کسی چیز کے لیے انکار نہ کیا جائے

وہ چاہتے تھے کہ ان کی نواسی اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ اس وقت اسے ان سب عیش و آرام کی ضرورت نہیں تھی،

اسے اپنوں کی ضرورت تھی اور اس کے پاس کوئی اپنا نہ تھا۔

یا شاید انہیں اس بات کا احساس تھا لیکن وہ بھی مجبور تھے اس کے حق میں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

°°°°°°

یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ بڑھتا جاتا تھا وہ یشام کی حرکتوں کو بہت شدت سے نوٹ کرنے لگی تھی

گھر میں اس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اگر گھر میں اس بات کی کسی کو بھنک بھی لگ گئی۔

تو یقینا اس کی پڑھائی بند ہوجائے گی لیکن اب اسے یشام سر سے ڈر لگنے لگا تھا۔

ان کے عجیب انداز سے اسے دیکھنا ہر وقت اسے اپنی نگاہوں کے حصار میں رکھنا اسے خوف میں مبتلا کر گیا تھا

وہ کیوں اس کے ساتھ ایسا کر رہے تھے وہ یہ بات سمجھ نہیں پا رہی تھی

لیکن کچھ تو تھا جو اس کی مشکل کو بڑھا سکتا تھا۔

اسے شروع شروع میں لگا کہ یہ اس کی غلط فہمی ہے اور کچھ بھی نہیں لیکن اب اسے یقین ہو چکا تھا کہ یہ اس کی غلط فہمی نہیں ہے۔

بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے وہ ہت وقت اسے دیکھتا تھااور اسے دیکھ کر مسکراتا تھا

شاید اس کی کلاس کی کسی لڑکی نے سر احمر کو مسکراتے ہوئے نہ دیکھا ہوگا لیکن وہ دیکھ چکی تھی نہ جانے کتنی بار وہ اسے خود کو دیکھ کے پا کر مسکرایا تھا ہاں وہ اسے دیکھ کر مسکراتا تھا۔

لیکن وہ اسے دیکھتا کیوں تھا اس طرح عجیب سے پرسرار انداز میں اس کی نگاہیں ہر اُس طرف جاتی تھی جہاں حرم جاتی تھی۔

وہ سب کیوں کرتا تھا اسے سمجھ نہیں آتا تھا لیکن دن با دن وہ اس کی آنکھوں کے خوف میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی اس کی بولتی نظریں اسے اسی سے خوفزدہ کر چکی تھی۔

اب عالم یہ تھا کہ جہاں بھی اسے سر احمر نظر آتے وہ وہاں سے اگلے ہی لمحے غائب ہو جاتی

لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو اس کی نگاہوں کے حصار میں ہی پاتی تھی۔ کلاس میں لیکچر وہ جلدی ختم کر دیتا تھا اور پھر سب کواہم پوائنٹ نوٹ کرنے کے لئے کہہ کر خود اسے دیکھنے شروع کر دیتا لیکن کیوں ۔۔۔۔!

وہ اسے کیوں دیکھتا تھا

وہ کیوں ہر وقت اس کی طرف متوجہ رہتا تھا وہ ڈرپوک سی لڑکی تھی اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ اس سے اس چیز کی وجہ پوچھ پاتی

وہ تو آج کل اس سے اتنی خوفزدہ رہنے لگی تھی کہ اس کا دل چاہتا کہ جگہ سے غائب ہو جائے جہاں سر احمر ہوں۔

میشا کافی دیر پہلے ہی جا چکی تھی وہ کب سے باہر ڈیسک پر بیٹھی ہوئی تھی اگر چاہتی تو وہ اپنی کلاس میں یا پھر وہی کلاس کے باہر بیٹھ سکتی تھی

لیکن وہاں پر آتے جاتے اسٹوڈنٹ اور پھر اپنے دل میں سر احمر کے خوف کی وجہ سے وہ وہاں نہ بیٹھی وہ روز کی طرح آج بھی کالج گیٹ کے اندر رکھی ٹیکس پر بیٹھی خداش کے آنے کا انتظار کر رہی تھی آج کل وہ بہت لیٹ ہونے لگا تھا۔

میشا کو گئے ہوئے تقریبا آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا اور خداش کے آنے کی کوئی امید نہ تھی

جب اسے سامنے سے سر احمر آتے ہوئے نظر آئے ان کے ساتھ سر صیام بھی تھے اس کا دل نہ جانے کون سے خوف کے تحت دھڑکنے لگا۔

وہ فورا اٹھ کر کھڑی ہوگئی سر اس کی طرف آ رہے تھے اس کے ہاتھ پیر کاپنے لگےوہ تیزی سےاٹھ کر گیٹ سے باہر کی طرف دیکھنے لگی

اس کی سانس میں سانس آئی تھی اس کی کانپتی ٹانگوں نے حرکت کی اور وہ گیٹ سے باہر نکل گئی

یہ اس کا پہلا موقع تھا کہ اس نے گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے نقاب تک نہ لیا اور فورا بھاگتی ہوئی خداش کی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی

کہاں رہ گئے تھے آپ میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی روز لیٹ آتے ہیں میں دادا جان سے آپ کی شکایت کروں گی وہ گاڑی میں بیٹھتے روہانسی ہونے لگی تو خداش نے پریشانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔

ایم سو سوری میرا بچہ مجھے نہیں پتا تھا تم پریشان ہو رہی ہو گی میں ضروری کام میں پھنس گیا تھا اور اگلے ہی لمحے اپنی سینے سے لگاتا اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔

جب کہ کالج گیٹ پر کھڑے یشام احمر سے یہ منظر چھپ نہ سکا تھا اس کے ماتھے کی لکیریں باہر واضح ہو رہی تھی اس کی مٹھی بہت شدت سے بند تھی

کون ہے یہ۔۔۔۔۔۔؟ اس نے اپنے پاس کھڑے دوست سے بے حد غصے میں پوچھا تھا ایک پل کے لئے اس کے انداز پر وہ بھی ہڑبڑا گیا۔

میں نہیں جانتا کون ہو سکتا ہے وہ بھی کندھے اچکا گیا لیکن اس کے لہجے میں واضح کپکپاہٹ تھی تھوڑی دیر میں گاڑی وہاں سے نکل چکی تھی

جبکہ یشام احمر کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا اس نے اگلے ہی لمحے قدم واچ مین کی طرف بڑھائیں اور اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کر لیا تھا

جناب ۔۔۔۔کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔مجھ سے۔۔۔ کوئی غلطی۔۔۔۔ ہوگئی کیا ۔۔۔۔وہ پریشانی سے اس کو دیکھنے لگا

وہ بلیک گاڑی کس کی تھی اور فرسٹ ایئر کی حرم کاظمی اس کے ساتھ کیوں گئی

وہ غصے سے آگ بگولا ہو رہا تھا جبکہ واچ مین سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا اس کے کسی بھی بات کا مطلب

جناب وہ تو کاظمی صاحب کی گاڑی تھی خداش کاظمی صاحب وہ پہاڑی علاقے کی طرف رہتے ہیں بڑی حویلی میں یہ ان کی بہن ہے حرم کاظمی نام ہے اس کا ۔

ویسے بتا رہا تھا جب کے اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہو گئی تھی اس کے چہرے پر ایک بار پھر سے سکون چھا گیا تھا اس نے اس کا گریبان چھوڑ کر اس کا کالر درست کیا

تم ٹھیک ہو نا یشام۔۔۔۔۔! اس کے دوست نے پیچھےسے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو وہ کھل کر مسکرا دیا

الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے اپنی شرٹ کو ٹھیک کیا اور پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اندر کی طرف بڑھ گیا

وہ بالکل پر سکون ہو چکا تھا تھوڑی دیر پہلے والا غصہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا جبکہ اس کا دوست بھی اس کے اس طرح سے پرسکون ہونے پر گہرا سانس لیتا ہے اس کے پیچھے ہی اندر آیا تھا لیکن واچ مین سے معذرت کرنے کے بعد

°°°°°°°

تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اس کی کلاس ختم ہوئے ہوئے ور یہاں بیٹھ کر خداش کا ویٹ کرتے ہوئے تین گھنٹے ہونےوالے تھے

لیکن اسے لینے کے لئے کوئی نہیں آیا تھا اب اسے غصہ آنے لگا تھا روز روز اس کا یہی تماشا تھا

اب بھی اتنی دیر انتظار کرنا پڑتا تھا پہلے ڈرائیور آتا تھا تو وہ ایک منٹ بھی اوپر نہیں ہونے دیتا تھا

لیکن اب پچھلے کچھ دنوں سے وہ مسلسل انتظار میں بیٹھی رہتی تھی اسے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں تھا اور آج تو طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ تین گھنٹے سے یہاں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی

وہ ڈیسک پر بیٹھی ہی سب کچھ سوچ رہی تھی جب وہ پیون نے اسے آ کر بتایا کہ باہر اس کی گاڑی آ چکی ہے

وہ جلدی سے اپنا نقاب درست کرتی تیزی سے باہر کی طرف قدم بڑھا رہی تھی اس وقت غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا

گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے بیگ پھینکنے والے انداز میں اندر رکھا اور گاڑی کا دروازہ بھی کافی زور سے بند کر کیا اس کے اس قدر آتشانہ انداز پر خداش نے اپنی گاڑی پر فاتحہ پڑھ لی تھی۔

میں آج دادا جان سے بات کروں گی حرم میں اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتی یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اگر یہ اتنا ہی مصروف ہیں تو نہ آیا کریں ہمیں لینے کے لئے

اس نے اسے مخاطب نہیں کیا تھا لیکن اپنا غصہ ظاہر کرنا ضروری سمجھا تھا حرم جو پہلے ہی پریشان تھی ایک نظر اسے غصے میں دیکھ کر اسی کی طرف متوجہ ہوگئی

ویرو بیزی تھے اسی لیے لیٹ ہوگئے لیکن انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی لیٹ نہیں ہوں گے

اس کی آواز بھیگی ہوئی تھی لیکن فی الحال شاید دیشم اس پر دھیان نہیں دے رہی تھی

اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ گاڑی کی سیٹ سے سر لگاتی آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنے سر کو دبانے لگی

کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں اس نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا اس لڑکی کی تکلیف تو ویسے بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا

بالکل ٹھیک ہوں میں خداش کاظمی آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے گھر پہنچا دیجئے آپ کا بہت احسان ہوگا اس نے انتہائی بدتمیزی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا تھا۔

اگر میں تمہاری ہر بدتمیزی برداشت کر جاتا ہوں تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی حد کراس کر جاؤ

میں بتا چکا ہوں کہ میں مصروف تھا اسی لیے نہیں آ سکا لینے کے لیے پچھلے کچھ دنوں سے مصروفیات چل رہی ہیں میری لیکن میں پھر بھی اپنا فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غصے سے بولا تھا

میں آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہوتی خداش کاظمی تو خدا کے لئے میرے لیے ڈرائیور کو بھیج دیا کیجئے میں اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتی آج بھی آپ ایک گھنٹہ لیٹ آئیں

اگر آپ اتنے ہی مصروف رہتے ہیں تو کیا ضرورت ہے اپنے سر پر میری ذمہ داری لینے کی میں پہلے بھی تو ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی تھی اب بھی آ جایا کروں گی آپ اپنی بہن کو جب چاہیں لے کر آ سکتے ہیں

لیکن خدا کے لئے مجھے اپنے انتظار کی سولی پر مت لگایا کریں ۔وہ اتنی بدتمیز ہرگز نہیں تھی لیکن نہ جانے کیوں آج اسے رہ رہ کر اس پر غصہ آرہا تھا

اس کی طبیعت صبح سے ہی خراب تھی لیکن آج اس کا یونیورسٹی میں آنا بہت ضروری تھا وہ آ تو گئی تھی لیکن یہاں آکر اس کی طبیعت مزید بگڑ گئی

جس پر اس کے ٹیچر نے کہا کہ وہ اپنے گھر پر فون کر سکتی ہے لیکن گھر فون کرنے کے بجائے اس نے ٹیچر کو یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ اس کے کزن تھوڑی ہی دیر میں سے لینے کے لیے آتے ہوں

اور وہاں بیٹھ کر اس کا انتظار کرتی رہی تھی

یہ بات ٹھیک ہے وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہے اگراسے پتا ہوتا تو یقینا وہ سر کے بل اسے لینے کے لیے پہنچ جاتا

لیکن پھر بھی تین گھنٹے اس کا انتظار کرتے کرتے وہ اکتا چکی تھی ایک تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی اور دوسرا اسے اس بات کا دکھ تھا کہ وہ اپنی سب سے ناپسندیدہ ہستی کا انتظار کرتی رہی

جو یقینا اس کی شان کے خلاف تھا ۔

اس کے بدتمیز انداز پر وہ مزید بحث کیا بنا گاڑی مین روڈ پر ڈال چکا تھا لیکن وہ اتنی تیزی سے ڈرائیو کر رہا تھا کہ حرم کو خوف آنے لگا

جبکہ دیشم پر اسے افسوس ہو رہا تھا ۔نجانے کیوں یہ لڑکی اس کے بھائی کے ساتھ اتنی بدتمیزی کرتی تھی

یہاں تک کہ ان کے پورے خاندان میں کوئی لڑکی ایسی نہ تھی جو خداش کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتی ہو لیکن وہ نوٹ کر رہی تھی کہ کچھ وقت سے دیشم اس کے ساتھ بدتمیز اور بد لحاظ ہوتی جا رہی ہے

°°°°°°°