65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 67)

Junoniyat By Areej Shah

آدھی رات کو نہ جانے کیوں اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی اس نے آگے پیچھے تو ہر طرف صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا بس نائٹ بلب کی روشنی میں اس نے یشام کو دوسری طرف کروٹ لئے دیکھا ۔

اسے یہاں اب بیس پچیس دن ہونے کو آئے تھے اب تک رات کے اندھیرے میں پہلی بار اس کی آنکھ کھلی تھی ۔اس نے یشام کو ہمیشہ اپنے قریب دیکھا تھا ایسے میں کا اتنا دور فاصلہ بنا کر کروٹ لے کر سونا اسے بالکل بھی اچھا نہ لگا ۔

وہ اگلے ہی لمحے اٹھ کر بیٹھ گئی اور پھر اس کے پاس آئی وہ گہری نیند میں تھا ۔آہستہ سے اس کے اوپر سے نکل کر وہ اس کی دوسری طرف آ گئی تھی ۔

اور اس کا کمبل خود پر ڈالتے ہوئے اس کے سینے میں چھپ کر آنکھیں بند کر گئی ۔اور وہ تھوڑی دیر پہلے ہی لیپ ٹاپ آف کرکے سونے کے لئے لیٹا تھا اس کی اس حرکت پر بے ساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔

اس کی گرم سانسوں کا لمس اپنے سینے پر محسوس کر کے اس نے اگلے ہی لمحے بڑی محبت سے اسے خود میں قید کر لیا تھا ۔

°°°°°

واہ کیا بات ہے پہلے اسے کمرے میں بلاکر آدھی رات کو ملاقات کرنا اور بعد میں جب اس کا رشتہ آیا تو بڑے ہی مزے سے انکار کر دیاارے میں پوچھتی ہوں اور کتنے لائن میں لگا کر رکھے ہیں اس لڑکی نے اس اس کے لیے انکار کردیا تو کوئی اور آ جائے گا ۔

ویسے میں تو مان گئی سومی اس لڑکی کو شکل سے تو بڑی معصوم لگتی تھی اندر سے کیا نکلی یہ دیدم کو بس ابھی ابھی ہی پتہ چلا تھا کہ شاہ خاندان کے لوگ یہاں رشتے کے لئے آئے ہوئے تھے وہ بھی ریدم کے

تمہیں اتنا یقین کیسے ہے کہ جو لڑکا رات کو اس سے ملنے کے لیے یہاں آتا تھا وہ وہی تھا جس کا رشتہ آیا ہے ممکن تھا کہ وہ کوئی اور ہوتا

اور تمہیں اس کے رشتے میں اتنا زیادہ انٹرسٹ کیوں ہے یار ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے ان سب چیزوں سے ان میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے دادا جان خود دیکھ لیں گے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں

ارے سومی دادا جان کیا دیکھیں گے وہ تو اس لڑکی کی خاطر برسوں کی دشمنی تک ختم کرنے کو تیار ہوگئے تھے

ان لوگوں کو یہاں مہمانوں کی طرح عزت دی گئی ہے اتنے پیار سے انہیں بٹھایا گیا یہاں تک کہ سالوں پہلے جو ہماری حویلی میں ہوا ہے سب کچھ بھلا کر دادا جان نے اس لڑکی کی خاطر انہیں اس گھر کے اندر آنے دیا

صرف اس کی خوشی کی خاطر وہ ان لوگوں کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور اس لڑکی نے دادا جان کی اتنی بڑی قربانی کو بھی مد نظر نہیں رکھا اور ان لوگوں کوانکار کرکے گھر سے باہر کر دیا ویسے ماننا پڑے گا

جو ہمارے خاندانوں میں اتنے سالوں سے کبھی نہیں ہوا اس لڑکی کی خاطر وہ بھی ہو گیا اس خاندان کے لوگ ہمارے دروازے تک آ گئے

آہستہ بولو دیدم یہ نہ ہو کے باہر سے کوئی سن لے اور پھر ہمارے گلے پڑ جائے یہ ساری باتیں۔۔

پہلے بھی بہت بےعزتی ہو چکی ہے سومیہ نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا کیونکہ جس طرح وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی یقیناً کسی نہ کسی نے سن کر ان لوگوں کی کلاس لگا دینی تھی

تم بہت ڈرپوک ہو سومی یار ۔ خیر تم ٹھیک کہہ رہی ہو ہماری تو اس گھر میں کوئی سنتا نہیں ہے چلتی تو اسی کی ہے تو بہتر ہے کہ اس ٹاپک کو ختم کریں اس نے بھی تھوڑی عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا

°°°°°°

ہم گاڑی سے کیوں جا رہے ہیں آپ نے تو کہا تھا کہ آج ہماری فلائیٹ ہے ۔وہ ایرپورٹ کی طرف جانے کے بجائے کہیں اور جانے لگا تو وہ پریشانی سے پوچھنے لگی

اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس سے بات کرنے کا یا پھر اسے منہ لگانے کا لیکن اسے ایرپورٹ کی صرف نہ جاتے دیکھ وہ مجبور ہوگئی تھی پوچھنے پر

ہماری فلائیٹ میس ہوچکی ہے اگر آپ کو یاد ہو تو ہماری فلائیٹ تقریبا ساڑھے بارہ بجے کے قریب تھی تین بجے نہیں ۔اس نے بڑے ہی رکھائی سے جواب دیا ۔

جب کہ اس کے سڑےہوئے جواب پر دیشم نے مزید کوئی سوال نہ کیا ۔

جبکہ خداش اس کی طرف سے سوری کا منتظر تھا اسے لگا تھا کہ اسے احساس ہو جائے گا کہ اس نے اسے کتنی بڑی پریشانی میں مبتلا کیا ہے اور وہ خود ہی معذرت کرے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا ۔

مجھے بھوک لگی ہے سفر بالکل خاموشی سے گزر رہا تھا جب اچانک سے اس نے کہا ۔اندھیرا بہت تیزی سے پھیلا تھا رات کے ساڈھے آٹھ بج رہے تھے ۔وہ مسلسل خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا ایک دفعہ بھی اس نے اس سے نہیں پوچھا تھا کہ اس نے دن میں کھانا کھایا ہے یا نہیں اور ایسی ہی کوئی غلطی دیشم نے بھی نہیں کی تھی ۔

دیکھتا ہوں آگے کوئی ہوٹل وغیرہ آتا ہے تو گاڑی روکتا ہوں ۔بس اتنا جواب دے کر وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔

ابھی کتنا اور سفر رہتا ہے ۔ایک تو بھوک اور پھر اتنے لمبے سفر میں نے اسے اچھا خاصہ بے زار کر دیا تھا

بہت دور ہے ابھی کوئی ہوٹل ڈھونڈتا ہوں تم کھانا کھالو لے پھر سو جانا صبح تک ہم ان شاءاللہ پہنچ جائیں گے ۔

کیا صبح تک آپ کیاساری رات ڈرائیو کریں گے۔۔؟اس بار اسے سچ میں جھٹکا لگا تھا ۔

ہاں شاید ساری رات ہی کرنی پڑے گی ابھی تقریبا چھ سے سات گھنٹے کا فاصلہ ہے ۔اور راستہ خطرناک ہے کہیں رکنے کی غلطی نہیں کر سکتے ۔وہ سامنے دیکھتے ہوئے جواب دے رہا تھا ۔

آپ ساری رات ڈرائیونگ کیسے کریں گے یہ تو بہت مشکل ہو جائے گا آپ کے لیے؟؟ اسے ایک چھوٹے سے ڈھابے کے سامنے گاڑی روکتے دیکھ وہ پوچھنے لگی ۔

نہیں میرے لیے ہرگز مشکل نہیں ہوگا میرے لئے مشکل وہ وقت تھا جو میں نے تمہیں ڈھونڈتے ہوئے گزارا

جو میں نے یہ سوچ کر گزارہ کے نہ جانے تم کہاں چلی گئی نہ جانے تم کہاں کھو گئی یا کہیں پھنس گئی؟؟ ان تین چار گھنٹوں میں نہ جانے میرے دماغ میں کتنے برے خیال آئے

اپنے چند لمحوں کے سکون کے لیے تم نے مجھے کتنی اذیت دی ہے اگر اندازہ لگا لو نا دیشم خداش کاظمی تو میری نظروں کے سامنے سے ہٹتے ہوئے بھی ہزار بار سوچو

کھانا گاڑی میں کھاؤ گی یا باہر چل کر؟؟ وہ اپنی بات ختم کرتا اس سے سوال کرنے لگا ۔

یہیں لے آئیں ۔۔۔۔” اس نے بہت کم آواز میں جواب دیا لیکن خداش گاڑی سے نکل چکا تھا

اسے عجیب سا محسوس ہونے لگا اسے واقع ہی اسے بتائے بنا کمرے سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا وہ انجان جگہ تھی اور وہ جانتی تک نہیں تھی کہ وہ کدھر جا رہی ہے ۔وہ کبھی اپنی غلطی قبول نہیں کرتی تھی لیکن یہاں آ کر اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ غلط ہے ۔

کھانا آرڈر کر آیا ہوں میں تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔

وہ گاڑی کے دوسری طرف ہاتھ میں پانی کا جگ لیے کھڑا تھا

وہ خاموشی سے گاڑی سے نکلتی ہاتھ دھونے لگی جب کہ وہ اس کی مدد کر رہا تھا ۔

ہاتھ دھونے کے بعد وہ خاموشی سے واپس گاڑی کے اندر بیٹھی تو تھوڑی ہی دیر میں کھانا آ گیا

جو کہ نہ صرف دیکھنے میں بلکہ کھانے میں بھی بہت زیادہ مزیدار تھا ۔

یا شاید ان لوگوں نے صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا اسی لیے وہ انہیں زیادہ اچھا لگ رہا تھا ۔

لڑکا برتن لینے آیا خداش نے اسے چائے کا آرڈر دے دیا ۔سردی کافی زیادی تھی اور ویسے بھی اسے کھانا کھانے کے بعد چائے پینے کی عادت تھی ۔

آپ نے مجھ سے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا کہ میں کہاں اور کیوں گئی تھی ۔۔۔ “لڑکے کے جانے کے بعد وہاں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی

کیا میرے پوچھنے پر تم مجھے بتاتی ۔۔۔۔؟ یا تمہاری انا گوارا کرتی کہ تم اپنی کوئی بھی بات مجھے بتا کر جاؤ۔؟وہ الٹا اسی سے سوال کرنے لگا

جبکہ اس نے پچھلی سیٹ سے اپنا بیگ آگے کی طرف کھینچا تھا جو بھاری ہونے کی وجہ سے اس سے آسانی سے اٹھایا نہ گیا

خداش نے خود ہی اسے اٹھا کر اس کی گود میں رکھ دیا ۔

وہ اسے کھولے اس میں سے کچھ نکال رہی تھی جب لڑکا چائے لے کر واپس آ گیا۔

وہ چائے کا کپ اسے پکڑانے لگا تو اس نے ایک گفٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا ۔

ہیپی برتھ ڈے ۔۔۔۔” میں آپ کے لیے یہ گفٹ لانے گئی تھی ۔جانتی ہوں مجھے بتا کر جانا چاہیے تھا لیکن اگر میں بتا کر جاتی تو میرا سرپرائز خراب ہو جاتا ۔

اسی لئے سوچا کہ آپ کے جاگنے سے پہلے میں آپ کے لئے گفٹ لے آؤں گی ۔مگر واپسی پر تو آپ نے مجھے ہی گفٹ دے دیا ۔میرا دل ہی نہیں کیا آپ کو یہ گفٹ دینے کا ۔خیر میں آپ کے لیے لائی تھی تو آپ کو تو دینا ہی تھا اگر کل یا پرسوں دیتی تو پھر تو گفٹ کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہتا ۔سو یہ رہا آپ کا برتھ ڈے گفٹ ہیپی برتھ ڈے

وہ گفٹ دیتے ہوئے اسے جتانا نہیں بھولی تھی ۔

شکریہ لیکن اس کے پیچھے تم اپنی غلطی چھپا نہیں سکتی تمہیں وہاں کہیں بھی باہر جانے سے پہلے مجھے بتانا چاہیے تھا اگر تم مجھے سرپرائزدینا چاہتی تھی تو بھی مجھے اپنے ساتھ لے کر جا سکتی تھی۔میں تمہارے پرسنل میں کبھی بھی انٹر فیر نہیں کرتا دیشم اور یہ بات تم بہت اچھے طریقے سے جانتی ہو۔

وہ اب بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹا تھا جبکہ دیشم دوسری طرف دیکھتی چائے پینے لگی

اوکے فائن ایم سوری مجھے تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا اور نہ ہی اتنی سختی سے بات کرنی چاہیے تھی ۔آخر اس نے وہ الفاظ کہہ ہی دیے تھے جو دیشم سننا چاہتی تھی ۔

آپ کے سوری بول دینے سے آپ کا یہ تھپڑ مجھے بھول تو نہیں جائے گا ۔وہ ابھی تک گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی جب خداش نے کچھ بولنا چاہا ۔

بیوی ناراضگی بعد میں دکھانا پہلے اس بچے کا کپ اس معصوم کے حوالے کرو وہ آنکھوں میں گہری شرارت لیے مسکراتے ہوئے اس سے بولا تھا ۔

جبکہ اس کی بات پر اس نے فورا مڑ کر اس بچے کی جانب دیکھا تھا اورکپ اس کے حوالے کر دیا تھا ۔

بھیا بھابھی ناراض ہے کیا آپ سے بچے نے سوالیہ انداز میں پوچھا

تو خداش نے ہاں میں سر ہلایا تھا

تو رومانٹک گانا لگا کر منا لو نا بچے نے آئیڈیا دیا تھا ۔

اچھا رومانٹک گانا لگانے سے کیا مان جائے گی تمہاری بھابھی وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا شاید وہ اس سے متاثر ہوا تھا ۔جواس عمر میں بھی اسے آئیڈیا دے رہا تھا ۔

ہاں رومانٹک گانا لگانے سے مان جاتی ہے فلموں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے آپ بھی ٹرائی کر لو ہو سکتا ہے آپ کا کام بن جائے وہ کپ لے کر واپس جا چکا تھا جب کہ خداش اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا جو اب تک اور ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی ۔

تمہیں دیکھ کر ہی یہ سانسیں چلیں گیں

تمہارے بنا اب نا یہ آنکھیں کھلیں گیں۔ ۔”

میری بے قراری کیوں تم نہیں مانتے ۔۔۔۔۔؟

گاڑی سٹارٹ ہوتے ہوۓ سلو میوزک بھی شروع ہو چکا تھا۔ دیشم کو ہرگز امید نہ تھی کہ وہ اس کا سب سے فیورٹ سونگ لگائے گا ۔

ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے

مگر جی نہیں سکتے” تمہارے بنا ۔۔۔۔

الفاظ تھے یا کوئی جادو تھا خداش کو لگا جیسےگلوکار اس کے دل کا حال بیان کر رہا ہو۔اس کے گہری مسکراہٹ آ چکی تھی

تمہیں کوئی اور دیکھے تو جلتا ہے

دل بڑی مشکلوں سے پھر سنبھلتا ہے دل

کیا کیا جتن کرتے ہیں تمہیں کیا پتا

یہ دل بے قرار کتنا یہ ہم نہیں جانتے

مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا ۔۔۔”

گاڑی کی سیٹ سے سر لگائےوہ اس خوبصورت گانے کو محسوس کر رہی تھی ایک وقت تھا کہ جب جب یہ گانا سنتی تھی اس کے دماغ میں اپنے ہونے والے ہمسفر کا خیال آتا تھا اس وقت اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ خداش کاظمی اس کی زندگی کا حصہ بنے گا ۔

سنو غم جدائی کا اٹھاتے ہیں لوگ

جانے زندگی کیسے بیتاتے ہیں لوگ

دن بھی یہاں تو لگے برس کے سما

ہمیں انتظار کتنا یہ ہم نہیں جانتے

مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا ۔۔۔”

گانا ختم ہوتے ہی خاموشی چھا گئی تھی ۔خداش کو لگا جیسے وہ کسی اور دنیا سے واپس لوٹ آیا ہو۔

دیشم نے بھی اچانک آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا تھا ۔

لگتا ہے تمہاری آنکھ کھل گئی ۔وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا اس کی آنکھوں میں سرخی تھی شاید اسے لگا کے وہ سو رہی ہے لیکن وہ سوئی تو نہیں تھی۔

ہاں وہ سوئی نہیں تھی وہ تو کب سے یہ سوچ رہی تھی کی زندگی کتنی عجیب ہے کبھی کبھی وہ دے دیتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہوتی اور کبھی کبھی ہزار چاہنے کے باوجود وہ نہیں ملتا جس کی کے لیے ہم ترستے ہیں ۔

جاگ رہی ہوں۔ فکر مت کریں آپ کےبرتھ ڈے پر آپ کو اکیلے نہیں چھوڑ کر جاؤں گی ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ اس کی مسکراہٹ پر خداش نے سکون کا سانس لیا تھا اس کا مطلب تھا کہ وہ اب اس سے ناراض نہیں ہے

°°°°°

نہیں بابا جان میں واپس نہیں آ رہا میں بہت خوش ہوں اور الحمدللہ میرا بچہ بھی ہے اور میں اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑ کر واپس آنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔

تم ہمارے ساتھ اس طرح سے بات نہیں کر سکتے احمر ہم کہتے ہیں کہ چھوڑو اس انگریزن کو وہیں پر اور واپس گھر آؤ ہم نے سوچا تھا کہ ہم اس لڑکی کو قبول کر لیں گے لیکن ہم جانتے ہی نہیں تھے کہ وہ ہمارے مذہب میں ہی نہیں ہے ۔

بابا جان آپ کو کیوں سمجھ میں نہیں آرہا وہ اسلام قبول کر چکی ہے ۔وہ میرے دین میں شامل ہے ۔خدا کے لئے بار بار ایسے الٹے سیدھے ناموں سے بلانا بند کریں ۔

آپ کے لیے نہ سہی لیکن میرے لیے وہ قابل احترام ہے وہ میرے بچے کی ماں ہے ۔میں اس کے خلاف کچھ نہیں سن سکتا

گستاخ اس لڑکی کی خاطر تم اپنے باپ سے زبان لڑا رہے ہو اگر تم نے اب واپس آنے سے انکار کیا تو ہم تمہیں جائیداد سے عاق کر دیں گے ۔

شوق سے کر دیجئے بابا جان اتنا کم ظرف نہیں کہ جائیداد کی خاطر میں اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑ دوں گا ۔وہ نہ جانے کتنے لوگوں سے لڑ کر یہاں تک آئی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کا ساتھ چھوڑ دوں ہرگز نہیں ۔

میں تا قیامت اس کے ساتھ رہوں گا ۔جب تک زندگی نے ساتھ دیا احمر کاظمی کا نام کینز فاطمہ کے نام کے ساتھ جڑا رہے گا ۔آپ اپنی انا اور ضد کی وجہ سے ساگر کو تو کھو چکے ہیں خدا کے لیے اب یہ ضد چھوڑ دیں کچھ حاصل نہیں ہو گا آپ کو ان سب چیزوں سے سوائے نقصان کے وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا جب کہ بابا جان کتنی دیر اس کے لفظوں پر غور کرتے رہے ۔

انکا بیٹا ان کی ضد اور انا کی وجہ سے ان سے دور ہوا تھا ۔۔۔۔؟کیا ساگر کی موت کی اصل وجہ وہ خود ہیں ۔۔۔؟

°°°°°°

ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو اندھیرے میں پایا

اسے یاد تھا جب وہ سونے لگی تھی اس نے اپنے کمرے کی لائٹ آف کی تھی ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کرنے کی کوشش کی لیکن اسے احساس ہوا کہ کسی انجان جگہ پر ہے ۔

سامنے کوئی کھڑکی نہیں تھی جہاں سے روشنی اس کے کمرے میں میں آیا کرتی تھی ۔پیاس کی شدت سے اس کا گلا خشک ہو رہا تھا ۔اس نے بیڈ پر اپنا موبائل تلاش کرنے کی کوشش کی جو اسے نہ ملا ۔

اسے سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے ۔اس نے آگے پیچھے ہاتھ لگاتے اپنا دوپٹہ تلاش کرنے کی کوشش کی جب اچانک کمرے کی لائٹ آن ہوگئی

چمچماتی روشنی سے آنکھیں بچانے کی خاطر اس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا تھا ۔جب اسے محسوس ہوا کوئی چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور کرسی سامنے رکھتے بڑی شان بے نیازی سے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔

تم ۔۔۔۔۔؟وہ حیرانگی سے سامنے بیٹھے انسان کو دیکھ رہی تھی

ہاں ڈارلنگ میں تمہارا ہونے والا شوہر ۔۔۔ بدکردار گرا ہوا گھٹیا انسان ہوں ناں میں تو سوچا کیوں نہ میں تمہیں بتا دوں کہ میں کتنا گھٹیا اور گرا ہوا انسان ہوں ۔

ابھی تک تم نے مجھے جانا ہی کتنا ہے جو میرے بارے میں یہ سب سوچ لیا ابھی تو میں خود میں بتاؤں گا کہ میں کیا ہوں ۔

کیابکواس ہے یہ سب شائزم ۔۔۔۔۔؟کیا تم میرے ساتھ کوئی مذاق کر رہے ہو ۔۔۔۔؟دیکھو اگر یہ مذاق ہے نہ تو بہت گھٹیا اور بے ہودا مذاق ہے

اب گھٹیا اور بے ہودا انسان تو گھٹیا اور بےہودا مذاق ہی کرے گا نا ڈارلنگ لیکن یہ مذاق نہیں سچ ہے تیار ہو جاؤ تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آنے والے ہیں اور ہاں یہاں سے بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو کوشش بھی مت کرنا

میں کیسا انسان ہوں تم بہت اچھے طریقے سے جانتی ہو اگر یہاں سے سر اٹھا کر جانا چاہتی ہو نا تو تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم مجھ سے نکاح کرو ورنہ بدکرداراور عیاش انسان تو کچھ بھی کر سکتا ہے وہ بے حد نرمی سے اس کے چہرے پر انگلی سے اپنا لمس چھوڑنے لگا تھا جب اگلے ہی لمحے وہ اس کے ہاتھ کو بڑی ہی نفرت سے پیچھے ہٹا چکی تھی

لیکن وہ برا منائے بنا مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ ریدم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا