65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 65)

Junoniyat By Areej Shah

شاہ صاحب صبح سے سفر پر تھے انہیں آج ہی خبر ملی تھی کہ ان کی بیٹی کے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔

وہ خوشی سے بے حال ہو رہے تھے اور آج وہ اپنی بیٹی سے ملنے جانا چاہتے تھے۔

ان کی بیٹی کو ان سے بچھڑے آٹھ سال گزر چکے تھے اب مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں نہیں نبھانی تھی اس گاؤں کی یہ جان لیوا رسمیں انہیں اپنی بیٹی واپس چاہیے تھی وہ اس سے ملنے جا رہے تھے۔

وہ پہلی گاڑی میں تھے جبکہ ان کے گارڈز کی دو گاڑیاں پیچھے آ رہی تھی

جب اچانک ہی راستے میں انہیں ایک گاڑی نظر آئی شاید گاڑی خراب تھی ۔

صاحب جی یہ تو سڑک پر گاڑی کھڑی ہے یہ کاظمی خاندان والوں کی کوئی چال بھی ہوسکتی ہے آپ گاڑی میں بیٹھیں میں دیکھ کر آتا ہوں

ڈرائیور نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا اس وقت گاؤں میں ہونے والے سیاسی جھگڑوں کی وجہ سے کاظمی خاندان اور شاہ خاندان ایک بار پھر سے آمنے سامنے کھڑے تھے

جس کی وجہ سے کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا تھا انہوں نے سر اثبات میں ہلا کر اسے جانے کی اجازت دی تھی۔

ڈرائیور گاڑی سے نکلتے ہوئے آگے اس گاڑی کی طرف چلا گیا اور اس گاڑی کو پوری طرح سے آگے پیچھے سے چیک کرنے لگا

صاحب جی گاڑی میں دو لاشیں پڑی ہیں۔ میرے خیال میں کسی نے قتل کرکے یہاں پھینک دی ہیں۔

اس طرف کوئی آتا جاتا تو ہے نہیں تو شاید اسی لیے قتل کر کے یہاں پر چھوڑ دیا ہوگا کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کرے گا

بہت بے دردی سے قتل کیا گیا ہے عورت ماں بننے والی تھی ۔ڈرائیور نے واپس آ کر انہیں تفصیل سے بتایا

ایسا کرو کہ علاقے کے تھانیدار کوجا کرکے یہاں پر بلاکر لاو تب تک ہم یہی پر رکتے ہیں ۔

اپنے موبائل فون پر سروسز تلاش کرنے میں ناکامیاب ہوتے ہوئے اس سے کہنے لگے وہ باہرنکل کر اپنی کے پاس رک گئے

ان کا وہاں جانا ٹھیک نہیں تھا جب تک ٹھیک سے جگہ کی تفشیش نہ کرلی جائے ۔

ان کا ڈرائیور انہیں چھوڑتا خود دوسری گاڑی سے پولیس اسٹیشن روانہ ہوچکا تھا جبکہ وہ گاڑی سے باہر کھڑے آگے پیچھے دیکھ رہے تھے جب اچانک ان کا دھیان جھاڑیوں میں ایک ننھے سے ہاتھ پر گیا

گاڑی کافی زیادہ فاصلے پر کھڑی تھی تو یہاں یہ کون ہو سکتا تھا۔۔۔۔؟

پریشانی سے سوچتے ہوئےوہ آگے بڑھے اور وہاں سے نیچے اترتے ہوئے اس ہاتھ کے قریب آگئے

ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ کہ نہ صرف بچی زندہ ہے بلکہ وہ بخار سے تپ رہہ ہے شاید اپنی جان بچانے کے لئے یہ بچی یہاں چھپ کر بیٹھی تھی

انہوں نے اگلے ہی لمحے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا لیکن اس کا چہرہ دیکھ کر جیسےوہ پوری دنیا بھلابیٹھے تھے

کیونکہ یہ چہرہ کوئی انجان نہیں بلکہ ان کی اپنی بیٹی افشین کا تھا

وہ کیسے بھلا سکتے تھے یہ معصوم سا چہرہ یہ تو ان کی اپنی بیٹی کا تھا اس بچی کو اوپر اٹھا کر لاتے ہوئے ان کے دل میں خوف پیدا ہونے لگا کون تھی اس گاڑی میں ۔۔۔۔؟

کس کی لاش ہے گاڑی میں؟؟ وہ اس بچی کو اپنے گارڈز کو پکڑاتے ہوئے تیزی سے قدم اس گاڑی کی طرف بڑھانے لگے تھے ان کا دل خوف سے لرز رہا تھا ۔

مسلسل بس ایک دعا مانگ رہے تھے کہ اس گاڑی میں ان کی بیٹی نہ ہو لیکن ہر دعا پوری نہیں ہوتی

اپنی بیٹی کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے

وہاں موجود کتنے ہی لوگ انہیں دیکھ رہے تھے لیکن کوئی بھی ان کے درد کو سمجھ نہیں پا رہا تھا

جس سے ملنے کے لیے وہ اتنے خوش تھے جسے وہ واپس لینے جا رہے تھے اسی کی لاش دیکھنے کو ملے گی کہاں سوچا تھا انہوں نے ۔۔۔۔۔؟

°°°°°°

کیا ۔۔۔۔! ہم واپس جا رہے ہیں اتنی جلدی میرا ابھی واپس جانے کا بالکل دل نہیں کر رہا میں نہیں جا رہی کچھ دن ابھی۔ ۔۔۔”

اس نے کمرے میں آتے ہی اسے بری خبر سنائی تھی جبکہ دیشم کا تو موڈ ہی آف ہوگیا تھا وہ کہاں اتنی جلدی اس خوبصورت علاقے کو چھوڑ کر جانا چاہتی تھی

ابھی تو ان کو آئے پنددہ دن ہوئے تھے اس میں تین دن بیماری گزر چکے تھے

اور ان خوبصورت علاقوں میں گھومتے پھرتے مزہ تو اسے اب آنے لگا تھا جب واپس جانے کا آرڈر پاس ہوگیا

دادا جان نے کہا ہے کہ تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے اس ٹھنڈ میں اسی لئے تو تمہیں واپس بلا رہے ہیں پندرہ دن کافی ہوتے ہیں انجوائے کرنے کے لئے جو کہ ہم کر چکے ہیں ایسا دادا جان کا کہنا ہے میرا نہیں۔۔۔”

اس کی شکل بنتے دیکھ اس نے فورا سارا الزام دادا جان پر لگا دیا تھا جب کہ اس کی طبیعت جب دوسری بار خراب ہونے لگی تو وہ خود ہی واپس جانے کا ارادہ کر چکا تھا

حد ہے دادا جان تو کبھی میری خوشی دیکھی نہیں سکتے ۔۔۔۔انہیں تو بس ان کا پوتا مل گیا ہے نہ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کیا فرق پڑتا ہے کہ ان کی پوتی کیا چاہتی ہے خیر میں سامان پیک کر دوں گی۔

ہمیشہ کی طرح اپنی بد گمانی میں وہ بولتی جا رہی تھی جب کہ خداش کو اس کی سوچ پر افسوس ہوتا تھا

کب دادا جان نے ان پر کوئی پابندی لگائی تھی ۔۔۔؟

کب دادا جان نے ان کی کسی بات کو نہیں مانا تھا۔ ۔۔؟

کب دادا جان نے ان کی جائز فرمائش پورا نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔

صرف ایک خود ساختہ سوچ کی وجہ سے وہ کتنی برُی باتیں کر جاتی تھی لیکن اس معاملے میں وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا

دادا جان اسے اس کی مرضی سے جینے دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھدار تھا وہ اپنا محافظ خود تھا

لیکن اپنی پوتیوں کو وہ کیسے اکیلے کسی ٹرپ پر جانے دیتے کیسے ان کی بے جا فرمائشیوں کو پورا کرتے۔وہ کتنی دفعہ دادا جان کے کہنےپر ان سب کولے کر گیاتھا

ہاں یہ سچ تھا کہ وہ اس کی تعلیم کے خلاف تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ زیادہ پڑھائی کے چکر میں پڑے

جس طرح سے انہوں نے اپنی بڑی دونوں پوتیوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی اچھی جگہ شادی کر دی تھی ویسے ہی وہ باقیوں کے لیے بھی چاہتے تھے

دیدم کے لیے ایک بہت اچھی جگہ سے رشتہ آیا تھا جس پر وہ آج کل غور بھی کر رہے تھے ۔

جبکہ سامیہ کا رشتہ وہ پہلے ہی طے کر چکے تھے ۔وہ اپنی پوتیوں کو ایک اچھا فیوچر دینا چاہتے تھے وہ ان کا مستقبل سنوارنا چاہتے تھے ۔

یہ سچ تھا کہ وہ یونیورسٹی کے خلاف تھے لیکن جب وہ خود دیشم کی خواہش کو سمجھے تب ان کا بھی یہی فیصلہ تھا کہ وہ جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے

لیکن اس کا باغی انداز اور بدتمیزانہ لہجہ دیکھتے ہوئے ان کو مسائل ہونے لگے تھے

ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کسی کو بدلحاظی اور بدتمیزی نہیں سکھاتی جبکہ دیشم کا انداز دن بہ دن بدلتا چلا جا رہا تھا اور یہ بات انہیں پسند نہیں تھی وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھی یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کا بھی

وہ اپنی مرضی کرنا چاہتی تھی انہیں اعتراض اس کی مرضی سے نہیں اس کی بد لحاظی سے تھا

شاید یہ اعتراضات کبھی زندگی میں ختم نہیں ہونے والے تھے ۔

شاید اس کے ذہن سے یہ بات کبھی نہیں نکل سکتی تھی کہ دادا جان خداش کو ان سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔

اور اگر یہ بات سچ بھی تھی تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ ان کی پوتیاں انہیں عزیز نہیں ہیں

°°°°°°

وہ کلاس میں آیا تو سبھی سٹوڈنٹ سہمے ہوئے بیٹھے تھے ۔کل ان کا ٹیسٹ ہوا تھا جس کا آج رزلٹ تھا ۔

آج ان سب کی بہت بےعزتی ہونے والی تھی ۔ایک تو پہلے ہی وہ بہت سخت ٹیچر تھا اور پھروہ ہر ہفتے ان سے ٹیسٹ لیتا تھا

اسی وجہ سے بہت سارے اسٹوڈنٹ تو اس کی کلاس کو جوائن ہی نہیں کرتے تھے ۔

وہ آ کر اپنی چیئر پر بیٹھا اور سب کو باری باری بلا کر ان کے ٹیسٹ دینے لگا ۔

پھر دھیان حرم کے ٹیسٹ پر گیا تو وہ مسکرا دیا وہ کل سے ہی حیران تھا

جب کہ اپنے نام پر حرم مسکرا رہی تھی جیسے وہ پہلے سے ہی جانتی ہوکہ اس کا رزلٹ کیا آنے والا ہے وہ فوراً اٹھی اور اس کے پاس آ کر اپنا ٹیسٹ تھامنے لگی

اس نے ایک نظر ٹیسٹ کی جانب دیکھا تھا اتنا اچھا ٹیسٹ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔؟ وہ تو کل پریشان ہو رہی تھی کہ اس کی تیاری نہیں ہے ٹیسٹ کی لیکن پھر بھی ٹیسٹ اتنا اچھا ہو رہا ہے

اپنے ٹیسٹ میں فل ماکس لے کر وہ اسے حیران کر چکی تھی

کیا ہوا سر آپ اتنے حیران کیوں ہیں کیا آپ کو مجھ سے اچھے ٹیسٹ کی امید نہیں تھی۔۔۔؟

اس نے بے حد کم آواز میں شرارتی لہجے میں پوچھا تھا ۔

تم نے مجھے حیران کر دیا حرم ۔تمہارا ٹیسٹ اتنا اچھا کیسے ہو گیا تم نے نقل کی تھی کیا ۔

حرم بہت لائق بچی ہے یہ الگ بات ہے کہ اس وقت میرا پڑھنے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔

وہ منہ بنا کر کہتی پیپر لیے واپس اپنی سیٹ پرآکر بیٹھی تھی

واو حرم تمہارے تو پورے مارکس آئے ہیں سر کیا کہہ رہے تھے تم سے ۔۔۔؟ یقینا تمہیں اپریشیٹ ہی کر رہے ہوں گے ۔تمہیں تو لگتا ہے کہ سارے چیپٹرز کی بہت اچھے طریقے سے سمجھ آگئی ہے

آج کل وہ سب سے لائق لڑکی کے ساتھ بیٹھتی تھی ۔اور اسے یہاں یشام نے ہی بٹھایا تھا کیونکہ پہلے جن لڑکیوں کے ساتھ اس کی سیٹ تھی وہ کافی بے باک اور بولڈ تھی

اور یشام اپنی معصوم سی بیوی کے معصوم سے دماغ پر کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا تھا ۔

ہاں نا مجھے بہت اچھے طریقے سے سمجھ آگئی ہے اگر تم چاہو تو میں تمہاری مدد بھی کر دوں گی اس نے مسکراتے ہوئے اسے کہا جس پر وہ فورا اس کا شکریہ ادا کرنے لگی تھی

اس نے ایک نظریشام کی طرف دیکھا جو ابھی تک اسے دیکھ رہا تھا اسے جھٹکا دے کر اسے بہت مزہ آیا تھا

°°°°°°

ہماری نواسی پر ہمارا حق ہے ہم اسے کسی اور کے گھر نہیں رکھ سکتے ہم اسے واپس لے آئیں گے کسی بھی طریقے سے۔

اس لیے ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔شائزم اس سے محبت کرتا ہے اور اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔ہمیں کسی نہ کسی کے گھر تو جانا ہی تھا ۔تو کاظمی حویلی ہی سہی

اسی طرح ہم اپنے پوتے کی اس خواہش کو پورا کر سکتے ہیں ویسے بھی ریدم یہاں آنے سے کبھی انکار نہیں کرے گی ۔

وہ بھی اپنے ماں باپ کےقاتلوں کے ساتھ رہنا ہرگز پسند نہیں کرے گی ۔اسے یہاں آنا ہوگا ہمارے پاس ہمارا حق ہے اس پر

وہ لوگ تو اسے بھی قتل کر دیتے اسے بھی ختم کر دیتے ہمارے پاس ہماری بیٹی کی کوئی نشانی تک نہ بچتی

ہماری نواسی ان قاتلوں کے ساتھ نہیں رہے گی دادا جان شائزم اور ریدم کے رشتے کے بارے میں مسلسل سوچ چکے تھے

وہ اس سے وعدہ تو کر کے آئے تھے کہ وہ اس کی اس خواہش کو پورا کریں گے لیکن یہ ان کے لیے کتنا مشکل ہو گا یہ صرف وہی جانتے تھے

اپنے پوتے کی خاطر وہ جھکنے کو تو تیار ہوگئے تھے لیکن وہ انہیں معاف کرنے کو تیار نہ تھے

وہ جب بھی اپنی بیٹی کو یاد کرتے تو اس کے قاتلوں کے چہرے ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتے تھے جنہیں وہ کبھی بھلا نہیں سکتے تھے ۔

دادا جان نے آج یہ بات اعلانیہ سب کو بتا دی تھی کہ وہ ریدم کے رشتے کے لئے کاظمی حویلی جانے کا ارادہ رکھتےہیں۔

اور ان کا یہ فیصلہ کسی کو بھی پسند نہیں آیا تھا لیکن ان کے سامنے آواز اٹھانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی سب لوگ آپس میں باتیں کر رہے اورپھرخاموش ہو گئے تھے لیکن اعتراض سب کو تھا

ریدم کا رشتہ مانگنے کا مطلب تھا کاظمی حویلی والوں کے سامنے جھکنا جس کے لئے وہ ہرگز تیار نہ تھے لیکن داداجان کے سامنے آواز کوئی نہیں اٹھا سکتا تھا ۔

اور نہ ہی دادا جان نے کبھی اپنے فیصلوں میں کسی کو اختلافات کرنے کی اجازت دی تھی

°°°°°

یہ کیا فضول قسم کی ضد پا لی ہے تم نے شائزم تمہیں کیا لگتا ہے ان کے گھر میں ہم جاکے رشتہ مانگیں گے۔۔۔۔۔؟

وہ دشمن ہیں ہمارے ۔۔۔” بابا اس کے کمرے میں آ کر اسے سمجھا رہے تھے لیکن وہ تو بالکل پرسکون کر ہوا بیٹھا تھا

کیونکہ ہونا وہی تھا جو دادا جان چاہتے تھے اور دادا جان اس کی بات کو مان چکے تھے

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ لوگ کون ہیں اب آپ یہ سوچیں کہ وہ آپ کی بھانجی ہے

میں کسی غیر کی نہیں آپ کی بھانجی کی بات کر رہا ہوں۔ اور دادا جان کو اگر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔” تو کوئی اور مجھے کچھ بھی کہنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔

ہاں کیوں کہ تم دادا جان کے کان میں کے بات ڈال چکے ہو کہ تم یہ ملک چھوڑ دوں گے

اس لیے بابا جان راضی ہوئے ہیں لیکن حقیقت کبھی بدل نہیں سکتی اگر وہ ہماری بھانجی ہے تو مت بھولوکہ خون اس میں کاظمی خاندان والوں کا ہی ہے ۔

اور یہ بات کبھی نہیں بھولی جاسکتی کہ کاظمی خاندان نے ہر مقام پر ہمہیں نیچا دکھایا ہے ہر مقام پر ہمیں ذلیل کیا ہے ہمیں کبھی ان کی طرف سے کوئی خوشی نصیب نہیں ہوئی۔اور نہ ہی آئندہ ہو گی

قاتل ہیں وہ لوگ تمہاری پھوپوکے اور اتنا ہی نہیں نہ جانے کتنے معصوموں کا خون بہایا ہے ان لوگوں نے تم کیوں ان لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہو شائزم۔۔۔؟

کچھ حاصل نہیں ہے ہمیں وہاں پر ۔۔۔۔”بابا جان اسے اب تک سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے

ان کا ارادہ تھا کہ وہ شائزم کو ہی انکار کرنے پر مجبور کر دیں گے اور ایسا کرنے سے ان کی ناک بلند رہے گی

کیونکہ وہ یہ تو جانتے تھے کہ کاظمی خاندان والے بخشیں گے نہیں وہ انہیں ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے

اور اس دفعہ تو وہ لوگ خود ہی ذلیل ہونے جا رہے تھے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگنے جا رہے تھے

اور وہ جانتے تھے کہ نہ تو انہیں اس رشتے سے کوئی امید ہے نہ ہی وہ خود اس چیز کے لیے راضی تھے

لوگ اپنی عزت پر کوئی داغ نہیں لگنے دینا چاہتے تھے لیکن وہ یہ بات شائزم کو کس طرح سے سمجھائیں

وہ تو یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ دادا جان اس کی خاطر اس کی محبت کو لینے جا رہے ہیں

اس کی خاطر وہ جھکنے جا رہے ہیں اس کی خاطر زندگی میں پہلی بار وہ کام کرنے جا رہے ہیں جو انہوں نے اپنے بچوں کے لئے بھی نہ کیا جو انہوں نے اپنے خون کے لئے بھی نہ کیا

اس دشمنی میں وہ پہلے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی لیکن اپنے پوتے کے لئے وہ یہ بھی کرنے جا رہے تھے

صرف اس لیے کہ کیونکہ وہ اپنے خاندان کو ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتے تھے اور اب انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ریدم کا رشتہ مانگنے کے بعد وہ زریام کو بھی حویلی میں واپس لے آئیں گے۔اس کی بیوی کو قبول کر کے

°°°°°°

آو راحت تم سے بات کرنی تھی۔

شاہ حویلی کے لوگ یہاں آنا چاہتے ہیں۔۔۔۔”

کیا مطلب باباجان میں کچھ سمجھا نہیں شاہ خاندان والے ہمارے گھر میں کیوں آنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔؟کوئی تو وجہ ہو گی بے وجہ تو وہ لوگ کسی کو منہ بھی نہیں لگاتے ۔

تو یہاں آنے کے پیچھے ان کی کیا وجہ راحت صاحب ان کے کمرے میں آئے ان کے سامنے آ کر بیٹھ گئے

پتا نہیں ہم خود بھی یہی سوچ رہے ہیں راحت ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی انہیں خبر ملی ہے کہ شاہ خاندان کے لوگ جلد ہی ان کی حویلی میں ان سے ملاقات کرنے والے ہیں

ممکن ہے کہ وہ لوگ بھی ریدم سے ملنے کے لیے یہاں آنا چاہتے ہوں اور اگر ایسا کچھ ہے تو ہم اعتراض نہیں اٹھائیں گے راحت

اگر وہ لوگ ریدم سے ملنا چاہتے ہیں تو مل سکتے ہیں اتنے سال ان لوگوں نے ہی ہماری پوتی کی حفاظت کی ہے

اتنے سال وہ انہی کے پاس رہی ہے اگر اس مقام آ کر ہم ان لوگوں کے خلاف کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو ہماری پوتی پر برا اثر پڑے گا

کیونکہ ہماری پوتی کے سامنے اُن لوگوں کی ایک بہت اچھی تصویر بنی ہوئی ہے ۔

اس وقت وہ لوگ ریدم کے سامنے سچے اور اچھے ہیں یقینا ریدم ہم لوگوں کو گناہگار سمجھتی ہے ۔اسے لگتا ہے کہ ہم برے ہیں جب کہ شاہ خاندان کے لوگ اچھے ہیں۔۔۔”

اور اگر یہاں پر آکر ہم ریدم کوشاہ خاندان کے لوگوں سے ملنے سے روکتے ہیں یا اس پر کوئی پابندی لگاتے ہیں تو وہ مزید ہمارے خلاف ہو جائے گی

اور مت بھولو کہ وہ بالغ ہے ہے اپنی مرضی سے جہاں چاہے وہاں رہ سکتی ہے

اس لئے اگر وہ لوگ اس حویلی میں آئے تو ان کے ساتھ بالکل مہمانوں کی طرح پیش آنا ہے

تب تک یقینا خداش بھی واپس آجائے گا میں نے اسے کہا ہے کہ ان کے واپس آنے کا وقت آ چکا ہے

اور ویسے بھی وہ وہاں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ دیشم کی طبیعت کافی خراب رہتی ہے وہاں

اتنی سردی میں اس کی حالت اکثر بگڑ جاتی ہے بہتر ہے کہ وہ گھر پر رہے دادا جان نے انہیں تفصیل بتاتے ہوئے دیشم اور خداش کے بارے میں بھی بتایا تھا ۔

وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے بابا جان لیکن اگر حرم سے بات ہو جاتی میرا مطلب ہے کہ ہم اس سے کسی طریقے سے رابطہ نہیں کر سکتے کیا

نہ جانے وہ لڑکا اسے کس طرح سے رکھ رہا ہوگا نہ جانے ہماری بیٹی وہاں کیسی ہوگی ۔۔۔۔” ان کے لہجے میں باپ کی محبت جھلک رہی تھی

بالکل بے فکر ہو جاؤ راحت وہ اسے بہت اچھے طریقے سے رکھ رہا ہے وہ بہت خوش ہے اس کے ساتھ

ہماری اس سے بات ہوتی رہتی ہے اللہ پاک کے کرم سے وہ بہت خوش ہے اور احمر کا بیٹا بھی حرم سے بہت محبت کرتا ہے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں

کہ ہماری پوتی ہمارے پوتے کو گھر واپس لانے میں کامیاب ہوجائے گی وہ اس کی دل سے ہمارے لئے نفرتوں کو نکال کر محبت بھر دے گی

وہ پورے یقین سے بول رہے تھے جبکہ راحت صاحب کچھ نہیں کہہ سکے۔وہ اپنے دل کو مطمئن نہیں کرپارہے تھے

°°°°°°