Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 50)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 50)
Junoniyat By Areej Shah
اسے یہاں قید ہوئے تقریبا 2 سے 3 گھنٹے ہو چکے تھے جب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے باہر کوئی ہے ایک پل کے لئے خوف اس کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑا گیا
لیکن وہ ہمت ہار کر بیٹھ جانے والوں میں سے نہیں بلکہ مقابلہ کرنے والوں میں سے تھی وہ فورا ہی اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا واس اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھام چکی تھی اور پھر دروازے کے پاس گئی
دروازہ کھول کر اندر آنے والا کوئی بھی شخص اس کے ہاتھ میں موجود واس کا شکار ہونے والا تھا ۔
اور اسے اس بات کا ہرگز کوئی افسوس نہیں تھا وہ جو کوئی بھی ہو گا اسی چیز کو ڈیزرو کرتا تھا
اس نے دروازے کے ہینڈل کو گھومتے ہوئے دیکھا اور پھر اچانک دروازہ کھلا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ زوردار طریقے سے گھماتے ہوئے اس کے منہ پر مارنا چاہا ہی تھا کہ سامنے والے نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے قید کرلیا
لیکن پھر بھی اس نے ہمت نہ ہاری بلکہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے دھکا دینے لگی ۔
سامنے کھڑا مضبوط شخص بھی اس کے دھکے دینے کی وجہ سے ذرا سا لڑکھڑانے لگا تھا ۔یا شاید اس نے اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ ہی ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا
ریلیکس گڑیا ریلیکس میری بات تو سنو یار تم تو جان ہی نکال دو گی وہ اس کے دونوں بازو پکڑے اسے لڑنےسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اس کی سن کہاں رہی تھی ۔وہ تو بس اس کا کچومر نکالنے کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی
کون ہو تم میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اغواء کرنے کی مجھے جانتے نہیں ہو تم اگر میں نے تمہیں تمہاری نانی نہ یاد کروا دیں تو میرا نام بھی ریدم ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھرپور لڑتے ہوئے بولی جب اچانک ہی سامنے والے نے اپنے ہاتھ اس کے بازو پر تنگ کر دیئے اس سے ہلنا تک مشکل ہوگیا ایسا لگا جیسے ہاتھوں کی نسیس اس کے مضبوط ہاتھوں میں قید ہو کر رہ گئی ہوں وہ ہل تک نہیں پا رہی تھی
ریدم ساگر کاظمی نہیں ۔۔۔۔۔اس نے دلکشی سے مسکراتے ہوئے اس کا فقرہ مکمل کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ اس کے چہرے کی حیرانگی دیکھ کر اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کی دلکشی میں اضافہ ہوا تھا
جب کہ وہ ہونقوں کی طرح اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی یہ کس کا نام جڑا تھا۔ یہ سامنے کھڑا پرکشش آدمی
اس کے نام کے ساتھ کیا بول رہا تھا
اگر ہم آرام سے بیٹھ کر بات کریں تو میرا خیال ہے تمہاری آنکھوں میں موجود ہر سوال کا جواب میں آسانی سے دے سکوں گا وہ اس کے ہاتھوں کو چھوڑتے ہوئے بولا تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹ گئی کہ وہ پرسکون سا بیڈ کی طرف قدم بڑھاتا آرام سے اس پر بیٹھ گیا تھا ۔
پہلے اپنا نام بتاو۔۔۔۔وہ۔بضد تھی۔
نام تو میرا سید خداش کاظمی ہے لیکن تم مجھے بھیا بھائی یا حرم کی طرح ویرو کہہ سکتی ہو۔وہ اب بھی مسکرا رہا تھا
°°°°°
ہمارے گاؤں میں گھر سے بھاگنے والی لڑکی کی ایک ہی سزا ہے۔ کہ اسے اور اسے گمراہ کرنےوالے کو سزائے موت دے دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی غلطی کرنے کے بارے میں نہ سوچے ۔ماجد حسین حکمیہ اندازمیں بول رہے تھے۔
شاہ صاحب مجھ پر ظلم نہ کریں یہ ظلم نہ کریں شاہ صاحب میں مر جاؤں گی۔ہم نے نکاح کیا ہے شاہ جی ہم نے نکاح کیا ہے ہم پاکیزہ بندھن میں باندھے ہوئے ہیں ۔
ہم اس نکاح کو نہیں مانتے جو تم نے گھرسے بھاگ کر اپنے والد کی موجودگی کے بغیر کیا ہے وہ غرائے تھے
یہ ظلم ہےشاہ جی ہمیں بخش دیں ہم سے غلطی ہوگئی وہ لڑکی چلا رہی تھی جب کہ وہاں موجود کوئی بھی شخص اس پر رحم نہیں کر رہا تھا
یہ پیار محبت چاہت یہاں کے لوگوں کے اصول نہیں تھے یہاں پر تو صرف دہشت تھی۔
افشین جالی دار پردے کے پیچھے کھڑی اس لڑکی کی آہ و پکار سن رہی تھی ۔جبکہ اس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا کیا اتنا بےرحم تھا یہ معاشرہ کہ نکاح کے بندھن میں بندھے دو محبت کرنے والوں کو جدا کر رہا تھا
اُس لڑکی کے والدین اسے معاف کرکے اپنے شوہر کے ساتھ واپس آنے کا پیغام دے چکے تھے ان لوگوں کو اپنی بیٹی واپس چاہیے تھی۔لیکن لڑکی کے چاچا تایا نے اس بات کو جرگے میں پہنچا دیا۔
اور اب اس بات کا فیصلہ ماجد شاہ کے ہاتھ میں تھا اور قربان کاظمی اس چیز کے خلاف کھڑے تھے۔کیونکہ جس لڑکےکےساتھ یہ لڑکی گھر سے بھاگی تھی وہ ان کا ڈرائیور تھا ۔
اور ویسے بھی ماجد حسین کے خلاف جانے کو وہ ہمیشہ تیار رہتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ جرگے کے فصیلے ماننا ان کی مجبوری تھی
یہ لڑکی ہمارے اصولوں کے خلاف گئی ہے اور ہمارے اصولوں کے خلاف جانے والے کا وہی انجام ہوگا جو اب تک ہوتا آیا ہے۔
گھر سے بھاگنے والی لڑکی کا بس ایک ہی انجام ہے کہ اسے کاری کر دیا جائے
اور ہم اسے کاری کرتے ہیں فیصلہ ہو چکا تھا اور فیصلہ ہوتے ہی وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں پکڑے پتھر اس پر برسانے شروع کر دیے۔افیشن کو اس لڑکی کی چخیوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی اور اپنی محبت کا انجام بھی اس کے سامنے ہی تھا
یہاں پر کوئی نہیں تھا جو اس پر رحم کھاتا اس کے آنسو دیکھتا اس کی تکلیف دیکھتا اس کا بہتا ہوا خون دیکھتا اگر کسی کو نظر آرہا تھا تو صرف اور صرف شاہ صاحب کا حکم جو کہ سنا دیا گیا تھا۔
یہ لڑکی محبت کی سزا کاٹ رہی تھی اس سے پہلے اس کے محبوب شوہر کو بھی آگ لگا کر قتل کر دیا گیا تھا یہ وہ لوگ تھے جن کی لاش کو دفنانا تک یہ لوگ اپنی توہین سمجھتے تھے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے اصولوں کے خلاف جانے والوں کو مسلمان نہیں کہتے تھے ان پر قبر حرام کر دیتے تھے
اور اس معصوم سی لڑکی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی زندگی جینے کی خواہش کی تھی اس نے اپنی محبت کے لیے ایک قدم اٹھایا تھا اور یہ اس کا آخری قدم ثابت ہوا تھا۔
کیا ایسا ہی انجام افیشن اور ساگر کی محبت کا ہونےوالا تھا اس کا دل لرز رہا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی
وہاں موجود عورتوں نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا تھا لیکن اس کے آنسو سوائے اس کی ماں کے اور کوئی نہ دیکھ پایا۔اور ان آنسووں کی وجہ بھی اس کی ماں کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا
°°°°°
بابا جان اب تک ریدم کا کوئی اتا پتا نہیں ہے پتا نہیں یہ لڑکی کس طرح نکل گئی ہے میرا مطلب ہے ڈرائیور اسے کس طرف لے گیا ہے ۔
فیصل صاحب ان کے پاس آتے ہوئے کہنے لگے جب سے انہیں پتہ چلا تھا کہ ان کی مرحومہ بہن کی بیٹی زندہ ہے وہ تو جیسے صدمے میں ہی چلے گئے تھے
انہیں اس بات کی کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی یہ تو ان کے چہرے سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا ۔
زریام اور شائزم گئے ہوئے ہیں پتا کرنے کے لیے یقیناً اچھی خبر لے کے آئیں گے ان شاءاللہ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے تھے جبکہ باقی تو کسی کو اس کی پرواہ ہی نہیں تھی چاچی اور تانیہ تو اپنے اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔
جبکہ وہ اپنی میڈیسن لینے کے بعد اب آرام کر رہی تھی ۔ولیمے پر جنت بھی آئی تھی لیکن صبح سویرے ہانی کو سکول جانا تھا کل اس کا پیپر تھا تو جانا بہت ضروری ہو گیا تھا اسی لیے وہ واپسی کا سفر بھی شروع کر چکی تھی جب کہ زریام کے دوسرے نکاح کی تو اسے بھنک بھی نہ لگی تھی
جانے سے پہلے عمایہ کے کان میں زریام سرگوشی کر کے گیا تھا کہ جب تک میں نہ آجاوں تب تک سونے کی غلطی ہرگز مت کرنا اس کے حکم کے بغیر سونے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اسی لئے کمرے میں ہی بیٹھی اس کے انتظار میں ایک ایک پل گن رہی تھی
گھر میں اتنی بری سچویشن تھی اور وہ اسے اسی طرح سراپاِ حسن بنے اپنے انتظار میں بٹھا کر گیا تھا
اور ابھی تک اس کی واپسی کے کہیں کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے دادا جان بہت پریشان تھے ان کی پریشانی میں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے بیٹے فیصل اور واجد صاحب ان کے ساتھ ہی بیٹھے تھے ۔
°°°°°°°
نہیں ساگر اس محبت کا کوئی انجام نہیں ہے مجھے اپنا کل اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آرہا ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ کل جرگے میں کیا ہوا اس لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ قتل کر دیا گیا
یہ انعام ملا ہے اسے اس کی سچی محبت کا ان دونوں نے نکاح کیا تھا ایک دوسرے سے پاکیزہ رشتہ قائم کیا تھا اس کے والدین ماں باپ نے اسے معاف کر دیا لیکن اس گاؤں کے سخت قانون نے انہیں معاف نہ کیا
ہمیں بھی معاف نہیں کیا جائے گا ہمارا بھی وہی انجام ہوگا بہتر ہے کہ ۔۔۔۔
جدائی کی بات بھی مت کرنا افشین ورنہ موت سے پہلے موت آئے گی ۔وہ اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بول اٹھا تھا
تو آپ کیا چاہتے ہیں بتائیں مجھے اس چیز کا کوئی حل نہیں ہے ہمارے ماں باپ ہماری شادی کے لیے کبھی راضی نہیں ہوں گے اور ہمارا بھی وہی انجام ہوگا جو کل اس جرگے میں اس لڑکی کا ہوا ہے
زیادہ زیادہ کیا ہوگا تمہیں کاری کر دیا جائے گا یا مجھے آگ لگا کرقتل دیا جائے گا لیکن ہم اپنی محبت تو نبھا پائیں گے نہ
کیا تم میری محبت میں مر نہیں سکتی ۔۔۔۔؟
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اس کی محبت کا امتحان لینے پر آیا تھا ۔
آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہوں اگر میرے نصیب میں آپ کے ساتھ مرنا لکھا ہے تو میں مرنے کو بھی تیار ہوں لیکن اپنے والدین کی نافرمانی کیسے کروں۔۔۔۔؟
بے شک محبت میں ہر حد سے گزر جانا ہی محبت کہلاتا ہے لیکن جو مجھے آج تک میرے والدین نے دی ہے وہ بھی تو محبت ہے ناں ۔۔۔۔؟
میں اس محبت کو ٹھکرا کر اس محبت کے ساتھ کیسے آؤں وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی
میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا افشین اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم نے کیا کرنا ہے میں تمہارے ایک اشارے کا منتظر ہوں جس دن کہوگی تمہیں یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا
ممکن ہے کہ ہم کبھی ان لوگوں کو ملے ہی نہیں اور ممکن ہے کہ دس بیس سال کے بعد ہم اپنے اپنوں کے پاس لوٹ کر آئیں تو ان کے دل نرم پر جائیں
ممکن ہے کہ آگے جاکر یہ دقیانوسی رسم و رواج ختم ہو جائیں
امید پر دنیا قائم ہے کیا تم ایک امید کے ساتھ میرے ساتھ نہیں آ سکتی ۔اس کے ہزاروں دلائل پر اس نے بس ایک سوال کیا تھا ۔جس کا جواب وہ نہیں دے پا رہی تھی
°°°°°°
وہ اس کے ساتھ اس کے گھر میں قدم رکھ چکی تھی ۔وہ اس کے کہنے پر یہاں اس کے ساتھ کیوں آ گئی تھی وہ نہیں جانتی تھی ۔لیکن وہ اس گھر میں کبھی بھی قدم نہیں رکھنا چاہتی تھی۔
لیکن اسے بہت کچھ جاننا تھا بہت کچھ سمجھنا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ تمہارا گھر یہ ہے وہ نہیں جہاں تمہیں لے جایا جا رہا تھا ۔
اس لیے بہتر ہے کہ تم وہاں رہو جہاں تمہارا حق ہے ۔وہ کہاں سے کہاں آ گئی تھی یہاں آتے ہوئے اس کے دل میں کوئی ایک پل کے لیے بھی کوئی خوشگوار احساس نہ آیا ۔
اپنے ماں باپ کے قاتلوں کے لیے اس کے دل میں بھلا کون سی گنجائش نکلتی ہاں اسے پتہ چل چکا تھا کہ نانا جان جن دشمنوں کی بات کرتے تھے یہ وہی دشمن لوگ تھے جن کے گھر میں وہ اس وقت اپنے قدم رکھ چکی تھی ۔
وہ صرف چھ برس کی تھی لیکن وہ بھولی کچھ بھی نہیں تھی ۔اپنے ماں باپ کے قاتلوں کے چہرے تو آج بھی اسے ہر رات خواب میں نظر آتے تھے ۔
اور اب وہ ہر چہرہ بے نقاب کرنے آئی تھی
آؤ ریدم یہ ہے تمہارا گھر تمہارا اصل مقام تم اس گھر کی بیٹی ہو تم کاظمی خاندان کی بیٹی ہو وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے گھر کے بیچوں بیچ لے آیا تھا ۔
جب کہ اس کی آواز سن کر دادا جان بنا اپنی حالت کی پرواہ کیے تیز تیز قدموں سے باہر نکلے تھے۔
خداش۔۔۔۔۔۔۔وہ۔بس اتنا ہی کہہ سکے۔
دادا جان دیکھیں لے آیا میں آپ کی پوتی کو ۔۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے انہیں بتانے لگا جب کہ یشام احمر کاظمی کی طرح ریدم ساگر کاظمی کی نگاہوں میں بھی اپنے لئے بےپناہ نفرت دیکھ کر ان کے قدم وہیں رک گئے ۔
°°°°°°
یہ تم کیا کہہ رہی ہو بیگم ایسا ممکن ہی نہیں ہے میری بیٹی کبھی مجھے شرمندہ نہیں کر سکتی
میری بیٹی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تم نے اس کے منہ سے یہ سب کچھ سنا ہے کہ میرے سامنے بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔۔؟
وہ اپنی بیگم کے سامنے کھڑے ان ہی کے خلاف ہوگئے تھے اپنی بیٹی کے بارے میں یہ الفاظ انہیں ہرگز پسند نہ آئے تھے
میں نے کسی کے منہ سے نہیں شاہ صاحب بلکہ آپ کی اپنی بیٹی کے منہ سے سنا ہے اس نے خود مجھے بتایا ہے کہ وہ قربان کاظمی کے بیٹے سے محبت کر بیٹھی ہے
اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اس کی یونیورسٹی میں اس کے ساتھ پڑھتا ہے اور وہ بھی اس محبت کا اتنا ہی دعویدار ہے جتنی کے ہماری بیٹی” اس نے ہماری بیٹی کو پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا ہے ۔وہ کہتی ہے کہ وہ اس کے لئے کسی بھی حد کو پار کر جائے گا اور مجھ سے ضد کر رہی ہے کہ میں یہ بات آپ کے سامنے کروں
جب کہ میں اسے صاف الفاظ میں بتا چکی ہوں کہ ایسا ممکن نہیں ہے تمہاری شادی وہیں ہوگی جہاں تمہارے بابا نے طے کر رکھا ہے
اس لیے بہتر ہے کہ اپنے دماغ سے یہ ساری الٹی سیدھی سوچیں نکال دو لیکن اس پر تو جیسے محبت کا بت سوار ہے اس لڑکے نے ہماری بیٹی کا دماغ خراب کرلیا ہے بہتر ہے کہ آپ جلد سے جلد کوئی فیصلہ کریں ۔
اماں افشین کے سامنے بھی اس بات کو صاف لفظوں میں کہہ چکی تھیں کہ جیسے وہ چاہتی ہے ویسے کبھی بھی ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ اس کے بابا سے ایک بات ضرور کریں گی جس کا نتیجہ وہ پہلے ہی جانتی ہے۔۔۔” اسی لیے کسی اچھے کی امید لگا کر نہ بیٹھے
اور ویسا ہی ہوا تھا جیسا انہوں نے کہا تھا وہ خود بھی کاظمی خاندان سے تعلق رکھنے کے حق میں ہرگز نہیں تھی اسی لیے اپنے شوہر کے کان میں یہ بات ڈالتے ہوئے انہوں نے ایک مضبوط مشورہ بھی دے دیا تھا جو ماجد صاحب کو کافی پسند آ رہا تھا
تم ٹھیک کہتی ہو بیگم مجھے جلد سے جلد اس مسئلے کا حل نکالنا پڑے گا کاظمی خاندان کے لوگوں نے اب یہ حربہ آزمایا ہے مجھے نیچا دکھانے کا لیکن ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا میری بیٹی وہی کرے گی جو میں چاہتا ہوں میں جانتا ہوں وہ بھی میرے فیصلے کے خلاف نہیں جائے گی
میں آج ہی اس کے رشتے کی بات چلاتا ہوں ۔ویسے بھی زرینہ (ماجد حسین کی بہن )کافی بار اس بارے میں بات کر چکی ہے کہ اب افشین بڑی ہو گئی ہے تو اس کی شادی کے بارے میں سوچا جائے میرے خیال میں اب ان کو کوئی معقول جواب دے دینا چاہیے ۔وہ فیصلہ کرتے ہوئے بولے تھے
°°°°°°°
کیسے ہو۔ماجد شاہ۔۔۔۔۔اپنے فون پر آنے والے قربان کاظمی کے نام کو دیکھ کر وہ چاہ کر بھی نظرانداز نہ کر سکے
کام کی بات کرو قربان کاظمی کیوں فون کیا ہے تم نے مجھے؟وہ بے حد خطرناک تیور لئے بولے
ہاں صحیح کہتے ہو تم تمہارا وقت بہت قیمتی ہے لیکن اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر یہ بات سن لو جو تمھارے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوگی ان کا لہجہ مسکراتا ہوا تھا لیکن ان کا انداز سامنے والے کو کسی انہونی کا احساس دلا گیا تھا
کہوکیا کہنا چاہتے ہو تم۔۔وہ خود کو ان کی بات کہنے کو تیار کرچکے تھے
ہماری پوتی کو بہت سالوں تم نے ہم سے چھپا کر رکھا لیکن آج وہ ہمارے پاس ہماری حویلی میں بالکل محفوظ ہے تمہیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے اپنے اس کا خیال بہت اچھے طریقے سے رکھ لیں گے ۔وہ ان کی سماعتوں پر جیسے بم پھوڑ گئے تھے
یہ ممکن نہیں ہے تم ایسا نہیں کر سکتے قربان کاظمی تمہاری ہمت کیسے ہوئی اگر میری نواسی کو اک ذرا سی تکلیف بھی ہوئی میں تمہاری حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا وہ غصے سے آپے سے باہر ہونے لگے تھے ۔
جبھی زریام اور شائزم واپس لوٹے لیکن دادا جان کو اس قدر غصے میں دیکھ کر ان کے پاس آ چکے تھے وہ ان کے غصے کی وجہ کو سمجھ چکے تھے ۔
جب کہ غصے سے فون بند کرتے ہوئے وہ پریشان سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے
کیا ہوا دادا جان آپ ٹھیک تو ہیں نا سب ٹھیک تو ہے نا کیوں فون کیا تھا قربان کاظمی نے ۔۔۔۔؟وہ ان کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگے
یہ بتانے کے لئے کہ اس نے ہماری نواسی کو ہم سے چھین لیا ہے ۔ہمیشہ کے لئے کاظمی حویلی میں لے گئے ہیں ۔وہ ہارے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے تو زریام نے زمین پر نگاہیں جھکا کر اپنی مسکراہٹ کو چھپا لیا اس کی مسکراہٹ شائزم سے چھپی نہ رہ سکی لیکن وہ وجہ پوچھے بنا فی الحال دادا جان کو دلاسہ دینے لگا۔
°°°°°′°
