Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 63)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 63)
Junoniyat By Areej Shah
یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو دیدم کیا اتنی بےعزتی کروا کر تمہیں سکون نہیں ملا کہ اب تم نے ایک نیا فضول کا چھوشا چھوڑ دیا ہے
کیا لگتا ہے تمہیں اس حویلی کی سکیورٹی اتنی خراب ہے کہ کوئی بھی اس کے کمرے میں اس سے ملنے آتا جاتا ہوگا
خدا کے لئے یہ بکواس جو تم نے میرے سامنے کی ہے نہ وہ کسی اور کے سامنے مت کرنا ویسے بھی ہماری بہت بےعزتی ہوچکی ہے سامیہ نے بہت غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
سامیہ پلیز میری بات کا یقین کرو میں سچ بول رہی ہوں میں نے خود دروازہ کھلنے سے پہلے کسی مرد کی آواز سنی تھی اس کے کمرے میں کوئی تو آدمی تھا میں نے پوچھا
کہ دروازہ کھولنے میں اس نے اتنا ٹائم کیوں لگایا ہے تو اس نے مجھے سیدھےمنہ جواب تک نہیں دیا ۔
اور تو اور مجھے کمرے کے اندر بھی نہیں جانے دیا میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس کے کمرے کے اندر کوئی نہ کوئی آدمی موجود تھا ۔
دیکھو دیدم اگر تمہیں اپنی بےعزتی کروانے کی عادت ہوگئی ہے نہ تو خدا کے لئے اکیلے کرواؤ مجھے ان سب چیزوں میں شامل کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے میں تمہارا اس میں کوئی ساتھ نہیں دینے والی
بہتر ہو گا کہ تمہیں جو بھی کرنا ہے اکیلے کرو ۔تم اس پر نظر رکھو یا اس کے کمرے میں کیمرے لگا دو لیکن میرا نام کہیں نہیں آنا چاہیے اگر اب میری بےعزتی ہوئی ہو تو میں بہت برے طریقے سے پیش آؤں گی تمہارے ساتھ
وہ اسے وارن کرتی اپنے بیڈ پر لیٹ چکی تھی جب کہ دیدم اتنی جلدی اس چیز سے پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی اسے یقین تھا تو اس نے اس یقین پر مہر لگانی تھی ۔
اور اس لڑکی کو سب کے سامنے ایکسپوز کرنا تھا
°°°°°°°
ایک ہفتہ گزر چکا تھا ان لوگوں کو یہاں آئے ہوئے دیشم نا چاہتے ہوئے بھی خداش کی ہر بات ماننے پر مجبور ہو چکی تھی
اس کے سامنے انکار کرنے کا مطلب تھا کہ اپنے خواب کو ادھورا چھوڑنا جو وہ کسی قیمت پر نہیں کر سکتی تھی
اسی لیے مجبوری کی انتہا یہ تھی کہ وہ اس کی ہر بات خاموشی سے مان رہی تھی جس پر خداش بہت زیادہ خوش تھا
اور وہ اس کی خوشی میں صرف اور صرف اداس ہی ہو سکتی تھی لیکن وہ منہوس اسے اداس بھی نہیں ہونے دیتا تھا
دیشم مسکراؤ یار میں تصویر بنا رہا ہوں تمہاری وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
مسکرا تو رہی ہو اور کیا چاہتے ہیں آپ وہ غصے سے بولی تھی
یہ والی مسکراہٹ مجھے پسند نہیں آئی ذرا چینج کرکے مسکراؤ ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا
اس کا انداز ایسا تھا جیسے چینل چینج کر رہا ہو۔
مجھے ایسے ہی مسکرانا آتا ہے اگر آپ کو پکچر بنانی ہے تو بنائیں ورنہ میں جارہی ہوں مجھے یہاں ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔
تو میری جان میرا جیکٹ پہن لو نا اگر سردی لگ رہی ہے میں تو کہہ رہا تھا کہ کوئی شال لے لو لیکن نہیں تم نے کبھی جو میری بات مانی ہو
وہ اگلے ہی لمحے اپنا جیکٹ اتارتا اسے زبردستی پہنانے لگا تھا یہاں تک کہ اسے پہناتے ہوئے اس نے زپ تک بند کردی
پر وہ جو اس کی جیکٹ کو واپس اتارنے کے بارے میں سوچ رہی تھی اس کے گرما گرم جیکٹ کو محسوس کرتے ہوئے ایسا نہ کرسکی
بلکہ خود ہی اس کے جیکٹ کو ٹھیک کرتے ہوئے جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر تصویریں بنواتے ہوئے اب کی بار ذرا سی مسکرا بھی دی تھی ۔
°°°°°°
کتنی پیاری دھوپ نکلی ہوئی ہے اور آپ یہاں بستر میں گھسی ہوئی ہیں چلیں باہر دھوپ میں چلتے ہیں ہانی کب سے کہہ رہی ہے
ناشتہ کرنے کے بعد جنت واپس سے بستر میں گھس گئی اور اس کی یہ بات عمایہ کو تو ہرگز پسند نہیں آئی تھی
ویسے تو اتنی سردی میں وہ خود بھی بستر میں رہنا ہی پسند کرتی تھی لیکن زریام کو اس کی یہ عادت ہرگز پسند نہیں تھی۔
وہ اس موسم کو بھی اللہ پاک کی نعمت کہتا تھا اور وہ اسے بھی انجوائے کرنے کے لئے کہتا تھا مشکل تو تھا اس سردی کو انجوائے کرنا لیکن اس کے ساتھ وہ خوش رہتی تھی
کچھ ہی دنوں میں اس نے عمایہ کو بہت ایکٹیو کردیا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ جنت بھی ایکیٹو رہے۔
اووووو لڑکی یہ اپنے شوہر والی ٹرکس مجھ پر مت چلاو میں اتنی جلدی بستر سے نہیں نکل سکتی جب تک دھوپ سر پر نہ آجائے میں بستر سے نہیں نکل سکتی اور ناہی میرے اندر ذریام شاہ کی روح ہے
فکر مت کرو ذریام جلدی واپس نہیں آنے والا تم بھی آؤ میرے ساتھ گھس جاو بستر میں
اس کے حکم کو یہاں فالو کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہاں انجوائے کرو میری جان وہ اسے آفر دے رہی تھی جب کہ وہ اس کے آفرپر فوراً نفی میں سر ہلا گئی
جی نہیں ہرگز نہیں میں اپنے شوہر کے حکم کو گھر پر بھی فالو کروں گی اور یہاں پر بھی فالو کروں گی
آپ کو نہیں آنا تو نا آئیں میں اور ہانی جا کر انجوائے کریں گے آو ہانی چلتے ہیں وہ اس کے ساتھ اٹھنے پر راضی نہ ہوئی تو اس نے ہانی کا چھوٹا سا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ باہر آگئی جب کہ جنت واپس سونے کی تیاری کر چکی تھی
°°°°°
آؤ مامی میں آپ کو اپنے بیسٹ فرینڈ سے ملواتی ہوں جلدی آؤ جلدی وہ اسے گھسیٹ کر باہر لے آئی تھی جہاں مین گیٹ تھا ۔
ہانی جانو ہم باہر نہیں نکلیں گے ہم یہی پر رہیں گے ہم آپ کے بیسٹ فرینڈ سے پھر کبھی ملیں گے فی الحال آپ کے ماموں کو فون کرتے ہیں
نہیں مامی ماموں کو فون نہیں کریں گے ماموں کو فون کریں گے تو وہ آکر آپ کو لے جائیں گے اور ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے
ہانی نے بڑی معصومیت سے اس کی فرمائش کو رد کیا تھا۔
لیکن مجھے جانا تو ہے ہی نہ میری جان آؤ آپ کے ماموں کے بارے میں پتا تو کریں کہ وہ کہاں ہیں اور رات کیسے گزری ان
چلو اندر چل کر انہیں فون کرتے ہیں ۔پھر ان کے ساتھ ہم آئس کریم کھانے بھی چلیں گے وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہنے لگی تھی
کیونکہ اس کا کوئی ارادہ نہ تھا ایک انجان آدمی کے سامنے جاکر ہانی کے کہنے پر اسے سے ہائے ہیلو کرنے کا ۔
ہانیہ بیٹا یہاں کولر میں پانی ختم ہو گیا ہے اندر سے ایک بوتل پانی لادو ۔وہ شاید ہانی کی آواز سن کر اندر داخل ہوا تھا لیکن اندر آتے شخص کو دیکھ کر عمایہ کہ جیسے سکتا ہو گیا ۔
ابھی دیتی ہوں بیسٹ فرینڈ مامی یہ ہیں میرے بیسٹ فرینڈ آپ ان کو ہیلو کرو میں پانی لے کر آتی ہوں ۔ہانی بس اتنا کہہ کر وہاں سے بھاگ نکلی تھی جب کہ سامنے سے آنے والے شخص نے تیزی سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
عمایہ کے نا رکنے والے آنسوؤں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ۔
عمایہ تو ٹھیک تو ہے میرا بچہ۔ ۔۔؟وہ آنکھوں میں آنسو لیے اس سے پوچھ رہا تھا جب اچانک ہی دروازہ کھلا
°°°°°°
السلام علیکم اندر آنے والی ہستی کو دیکھ کر وہ بری طرح سے گھبرا گئی تھی جبکہ ذریام چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کی طرف آ رہا تھا جب اچانک ہی ہانی نے بھاگتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھائے تھے
ماموں آ گئے ایک ماموں آ گئے وہ چہکتی ہوئی اس کی گود میں چڑ چکی تھی جب کہ وہ بڑے مزے سے اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھا
جب کہ عمایہ آگے پیچھے ارحم کی تلاش میں نظر دوڑانے لگی ارحم کہاں چلا گیا تھا اچانک اسے سمجھ نہ آیا لیکن اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا تھا
بیسٹ فرینڈ کہاں چلا گیا ہانی نے بھی اس کے غائب ہونے کو نوٹ لیا تھا۔
ماموں میں یہ پانی بیسٹ فرینڈ کے لئے لائی تھی لیکن وہ پتہ نہیں کہاں چلا گیا آپ اندر چلو میں اس کو پانی دے کر آتی ہوں ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تو وہ ہاں میں سر ہلاتا اس کی طرف آ گیا تھا ۔
کیا بات ہے جان من آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو کیا مجھے دیکھ کر آ رہے ہیں ۔
کیا مجھے اتنا زیادہ مس کر رہی تھی تم میری ایک رات کی جدائی بھی تم سے سہی نہیں گئی وہ نرمی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے قریب کرتے پوچھنے لگا ۔
اب آئندہ مجھے چھوڑ کے مت جائیے گا ۔میں نہیں رہ سکتی آپ کی بناء وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی جب ہانی بھاگ کر واپس اندر آ گئی وہ اگلے ہی لمحے اس سے دور ہٹی تھی ۔
ماموں ریس ۔۔۔۔پہلے اندر کون پہنچے گا وہ دور سے ہی کہتی اندر کی جانب بھاگ گئی تھی جبکہ اگلے ہی لمحے ذریام بھی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا
لیکن ہانی جیت چکی تھی۔
°°°°°°
دیکھو جنت تمہاری بات مان کر میں نے اپنی بیوی کو ایک رات کے لیے تمہارے پاس چھوڑا ہے جو میرے لئے بہت مشکل ثابت ہوا ہے تو آج میں اپنی بیوی کو واپس لے کر جا رہا ہوں
وہ کسی طور اس بات کو ماننے کو تیار نہ تھا کہ عمایہ مزید وہاں رکے ۔
تو کیا ہوگیا ایک رات کے لیے چھوڑا تھا کوئی احسان تھوڑی نہ کیا تھا میری ذات پر اور میرا نہیں دل کر رہا ہے اس کو بھیجنے کا
ویسے بھی تمہیں تو سزا ملنی چاہیے جھوٹ بولنے کی ہمیں تم کچھ اور بتا کر گئے وہاں تم سیدھے حویلی پہنچ گئے۔
جانے سے پہلے ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ تم حویلی جا رہے ہو وہ اس کی چوری پکڑ چکی تھی ۔
اس لیے کیونکہ مجھے کل حویلی جانا پڑتا اور ایک بار پھر سے عمایہ کو تمہارے پاس چھوڑنا پڑتا تو میں نے ایک تیر سے دو نشانے مارے
ایک دن میں ،میں نے دونوں کام کر لیے اپنا بزنس بھی دیکھ لیا اور حویلی بھی ہو کر آگیا
وہ کالر کھڑے کرتے ہوئے فخریہ انداز میں بتا رہا تھا جنت متاثر ہوئی تھی
حویلی میں سب کچھ ٹھیک ہے نہ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی۔
ہمارے وہاں نہ رہنے پر کچھ خراب نہیں ہوگا بس سب ہمیں کافی مس کر رہے ہیں
ہمیں واپس حویلی بلا رہے ہیں لیکن میرا فلحال جلدی جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
جب دادا جان اور باقی گھروالوں کو اس بات کا احساس نہیں ہو جاتا کہ یہ ساری پرانی رسمیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتی تب تک ہم واپس نہیں جانے والے ۔وہ فیصلہ سنا رہا تھا
بہت اچھی بات ہے اپنے فیصلے پر قائم رہنا میں تم لوگوں کے ساتھ ہوں جنت نےاپنی طرف سے فری ہٹ دی تھی ۔وہ مسکرا دیا
°°°°°
یہ کالا کالا کیا ڈالا اس نے۔۔۔۔؟وہ دونوں فون پر نظر گاڑے ہوئےتھے جبکہ حرم حیران سی اس عورت کو کوئی کالی سی چیز چکن میں ڈالتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
یہ کالی مرچ ہے جو کہ ہمارے پاس یہاں پر ہرگز نہیں ہے اور ویسے بھی یہ کوئی اچھی نہیں ہوتی بہت تیکھی ہوتی ہے تو اسے ہم سکپ کر دیتے ہیں صیام نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں ہرگز نہیں یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ہو سکتا ہے اس کالی مرچ کی وجہ سے ہی یہ اتنا خوبصورت دکھتا ہو میں تو ضرور ڈالوں گی
آپ ڈھونڈ کر لائیں کہیں سے بھی کالی مرچ حرم نے فیصلہ کیا۔
حرم یار یہ ممکن نہیں ہے پتہ نہیں یہ ساری چیزیں کہاں سے ملتی ہیں میں تو کبھی لے کر بھی نہیں آیا ۔اس نے فورا کانوں کوہاتھ لگائے تھے ۔
کیا مطلب آپ کبھی لے کر نہیں آئے تو آپ کھاتے کیا ہے میرا مطلب ہے آپ گھر پر کھانا نہیں بناتے وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
نہیں ہماری بلڈنگ کے لاسٹ فلور پر ایک آنٹی رہتی ہیں ہم ہرمہینےان کو پیسے دیتے ہیں اور وہ ہم سب کا کھانا بنا کر بھیج دیتی ہیں کبھی یہ سب کچھ خرید کر لانے کی ضرورت نہیں پڑی ۔
کتنے افسوس کی بات ہے آپ اتنے سالوں سے کسی آنٹی کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا کھاتے ہیں
خدایا کل کو جب آپ کی بیوی آپ کے گھر میں آئے گی تو کیاوہ بھی ان آنٹیوں کے ہاتھ کا کھانا کھائے گی ہرگز نہیں جائیں اور لے کر آئیں کالی مرچ کہیں سے بھی ۔
اور خبردار جو آپ نے اس سےآگے ایک لفظ بھی نکالا میں کہتی ہوں ابھی کے ابھی مجھے کالی مرچ چاہیے جانے کا دروازہ اس طرف ہے اس نے اسے دروازے تک چھوڑا تھا
°°°°°
یشام شام کو گھر میں داخل ہوا تو ٹیبل پر بھاپ اڑتا باول دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ کھانا تیار ہے
اپنی بیوی سے ایک پل کے لئے وہ اچھا خاصہ امپریس بھی ہوا تھا
واہ بیوی تم نے تو سچ میں کھانا بنا لیا وہ مسکراتے ہوئے اس ڈش کا ڈھکن اٹھا کر اس میں موجود اس ڈش کو دیکھنے لگا تھا
یہ کیا بنایا ہے ۔وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھتا ڈھکن واپس رکھ چکا تھا جب کہ اب اس کے قدم کچن کی جانب بڑھ رہے تھے۔
جہاں وہ دونوں مل کر روٹی بنانے میں مصروف تھے حرم کےہاتھ پوری طرح آٹے میں لت پت تھے
جبکہ چہرے پر بھی جگہ جگہ آٹا لگا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کے بال بھی آٹے سے بھرے ہوئے تھے
یہ کھانا بن رہا ہے یا کچن کا قتل عام ہورہا ہے ۔کیا حالت کر دی ہے تم لوگوں نے کچن کی ۔
کتنے افسوس کی بات ہے یشام ہم سارا دن لگا کر تمہارے لیے کھانا بنا رہے ہیں اور تمہیں اپنے کچن کی فکر لگی ہوئی ہے
اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی ایک لمحے کے لیے تو صیام کی حالت دیکھ کر اس نے اپنا دل تھام لیا تھا ۔
تم کون ہو ۔۔۔۔؟وہ آواز پہچان چکا تھا لیکن چہرہ پہچاننا مشکل تھا ۔
آواز سے پہچان لے ہم نے سارا دن مشقت کی ہے چہرہ ہمارا پہچاننے کے لائق نہیں ہے وہ صیام کا چہرہ اپنے رومال سے صاف کر رہا تھا جہاں پر آٹا ہی آٹا لگا تھا ۔
کھانا آلموسٹ تیار ہے تم باہر چلواور ایک بات مجھے بتاؤ یہ آٹا اتنا اوپر کون رکھتا ہے ہم دونوں اس کو نیچے اتارنے کے چکر میں آٹے سے نہا لئے ۔
۔ہائٹ میری جان ہائٹ۔۔۔وہ ہنستے ہوئے اس کا کندھا تھپتھپاتے باہر نکلا تھا
°°°°°
چلو اب کھانا شروع کرتے ہیں اور پلیز کھانے کی شکل پہ مت جانا ہم نے بہت محنت سے بنایا ہے
اب تو بنا ہی ایسا ورنہ ہماری محنت میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے صیام نے چکن کی سفید بوٹیاں دیکھتے ہوئے کہا تھا
تمہیں نہیں لگتا کہ اس میں کریم بھی ڈالنی چاہیے تھی یشام ہاتھ میں چمچ پکڑے خود کو ڈونگے کی طرف جانے سے روکے ہوئے تھا
آپ ہماری غلطیاں نہیں نکال سکتے ہماری محنت کو اپریشیٹ کریں حرم نے منہ بنا کر کہا۔
نہانے کے بعد وہ دونوں کافی نکھرے نکھرے لگ رہے تھے
کیا یہ وہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں یا اس کا نام کچھ اور ہے اس نے اب تک کھانا اپنی پلیٹ میں نہیں ڈالا تھا ۔
اب پتا نہیں آپ کیا سوچ رہے ہیں ویسے ہم نے تو اپنی طرف سے یو ٹیوب کی سب سے اچھی ڈش بنائی ہے
آپ دیکھ لیں اس نے تو عجیب سا نام بتایا تھا مجھے یاد بھی نہیں لیکن اگر اچھی بنی ہوئی تو ہم خود اس کا نام رکھ لیں گے ۔
وہ فیصلہ کرتے ہوئے بولی تھی اس کا فیصلہ صیام کو بھی کچھ زیادہ ہی پسند آ رہا تھا ۔
صاف لگ رہا تھا کہ ان دونوں نے مل کر واقعی بہت محنت کی ہے لیکن یہ کھانا کھانے کے قابل ہرگز ثابت نہ ہو سکا تھا اس نے بڑی مشکل سے ایک نوالا حلق سے نیچے اتارا تھا ۔
اییییی یہ تو بہت گندا ہے میں نے آپ کو منع کیا تھا نا وہ کالی کالی چیز بیچ میں مت ڈالیں ۔اس نے سارا الزام سامنے بیٹھے صیام پر لگایا
تو وہ کالی چیز منگوانے کے لیے مجھے پورے بازار میں کھجل کیوں کیا تم نے
سر شوہر میری کوئی غلطی نہیں ہے ساری غلطی ان کی ہے جو بھی کہنا ہے انہیں کہیں،اس محنت کو برباد کرنے میں سب سے بڑا ان کا ہاتھ تھا اس نے سارا الزام اسی کے سر پر لگا دیا تھا ۔
جبکہ اس کی معصومیت پر مسکراتے ہوئے یشام نے خود ہی ان دونوں کو باہر سے کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر خود دونوں خوش ہو گئے تھے
°°°°°
یار میں تھک گئی ہوں تین دن تو ہو گئے ہیں ہمیں اس کے کمرے کے باہر پہراداری کرتے ہوئے کوئی آتا جاتا نہیں ہے اس کے کمرے میں۔بس اب میں آگے مزید کچھ نہیں کرنے والی
روز آدھی رات کو اس کے کمرے کے باہر کھڑے ہو جاؤ وہ بھی صرف ایک شک کی بنا پر سامیہ کافی تپی ہوئی تھی ۔
میں تمہیں کیسے یقین دلاؤں سامیہ میں سچ کہہ رہی ہوں کوئی لڑکا رات کو اس سے ملنے آتا ہے جو دو تین دن سے نہیں رہا لیکن آتا ہے۔
مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے ایک بار ہم نے اس کو اگر دادا جان کے سامنے ایکسپوز کر دیا تو دادا جان کے سامنے ہماری اہمیت میں اضافہ ہوگا اور وہ جو اس کے نخرے اٹھاتے ہیں ناں سب یہیں پر ختم
لیکن اس کے لیے ہمیں تھوڑی سی محنت تو کرنی پڑے گی تم میرے لئے بس اتنا نہیں کر سکتی وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو سامیہ اپنی بہن کے چہرے کو دیکھ کر انکار نہ کر سکی تھی
اور پچھلے تین دن کی طرح آج بھی وہ آدھی رات کو اس کے کمرے کے باہر پہرا داری کر رہی تھی
°°°°°°
