65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 8)

Junoniyat By Areej Shah

حرم چیخے جا رہی تھی جب اچانک دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔

لیکن وہ ہر چیز کو بھلائے بس اپنا ڈر ختم کرنا چاہتی تھی۔

اپنی آنکھوں کو زور سے بند کئے وہ دروازے پر ہونے والی دستک کو سنتے ہوئے چلائے جا رہی تھی۔

لیکن اس کے سامنے بیٹھا شخص جس انداز میں اسے دیکھ رہا تھا اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ اسےآنکھیں کھول کر دیکھ پاتی۔یقیناً وہ اس کا ڈر انجوائے کررہا تھا۔

اچانک دروازہ کھلا اور خداش بھاگتے ہوئے اس کے پاس آتا اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا۔

کیا ہوا حرم میرا بچہ تم اس طرح سے کیوں چیخ رہی ہو ۔۔۔؟

کیا تم نے کوئی برا خواب دیکھ لیا ہے۔۔۔۔؟

دروازہ اندر سے بند کیوں کیا ہوا تھا تم نے۔۔۔۔؟

کتنی بار کہا ہے دروازہ لاک کر کے مت سویا کرو وہ اسے اپنے ساتھ لگاتا اس کے ڈر کی وجہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وہ اکثر رات کو سوتے ہوئے ڈر جاتی تھی ایسے میں اس کے بابا ایسے بہادر بنانے کے چکر میں اس کا کمرہ الگ کروا چکے تھے ۔

وہ الگ کمرے میں سونے کو کبھی بھی تیار نہیں تھی لیکن دادا جان نے کہا تھا کہ سب لوگ الگ الگ سوئیں گے۔

کوئی بھی کسی کے ساتھ کمرہ شیئر نہیں کرے گا یہ ان کی شان کے خلاف ہے

کہ حویلی میں اتنے کمرے ہونے کے باوجود بھی وہ سب لوگ ایک ہی کمرے میں جمع ہو کر سوئیں۔

اور پھر پرائیوسی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے وہ اپنے سارے بچوں کو پرائیوسی دینا چاہتے تھے۔

پھر جب سے مشال کی شادی ہوئی تھی حرم کو الگ کمرہ مل گیا تھا جس پر سونے کے بجائے وہ دیشم کے ساتھ سوتی تھی لیکن دادا جان کو یہ بات بھی منظور نہ تھی۔

وہ کہتے تھے کہ کمرے کا دروازہ بھی کھلا رکھے لیکن وہ سوئے گی اکیلی جس کی وجہ سے بہت سے ڈر جاتی تھی لیکن اسے کسی بھی کمرے میں سونے کی اجازت نہیں تھی۔دادا جان اس کی بزدلی ختم کرنا چاہتے تھے۔

وہ خداش کے سینے سے لگی مسلسل روئے جا رہی تھی جب کہ دادا جان دروازے پر کھڑے اسے دیکھ رہے تھے دیشم اور دیدم کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی بھاگ کر اس کے کمرے میں آ گئے تھے۔

جب کہ دیدم کو ماں کی طرف سے اشارہ ملتے ہی وہ حرم کے پاس آکر اسے سنبھالنے لگی۔

بس کرو حرم کتنا رؤو گی ایسا ہو جاتا ہے چلو آؤ آج رات کو میرے کمرے میں سو جانا دیدم نے بڑی مشکل سے اسے آفر کی تھی وہ بھی اپنی ماں کے آنکھیں دکھانے کے بعد ورنہ اپنا کمرہ شیئر کرنا وہ پسند نہیں کرتی تھی

کوئی ضرورت نہیں ہے اب ذرا سی بات پر کیا کمرہ بدل دیں گے نہ اتنی بھی ڈرپوک نہیں ہے ہماری پوتی وہ سو جائے گی اکیلے ہی۔

برے خواب تو آتے ہی رہتے ہیں ہماری پوتی بزدل نہیں ہے دادا جان نے بے فکری سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

جب کہ وہ سب کو اپنے اپنے کمرے میں جانے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی کمرے سے جا چکے تھے اب وہاں صرف دیدم خداش اور دیشم ہی تھے۔

چلو یار ہم اب ذرا سی بات تو پھر رونے کا کوئی فائدہ نہیں تم سو جاؤ ان شاءاللہ اب کوئی برا خواب نہیں آئے گا میں بھی جاتی ہوں کافی زیادہ نیند آرہی ہے مجھے ماں کے وہاں سے نکلتے ہی دیدم نے فوراً باہر کی راہ لی تھی

ویرو یہاں کمرے میں کوئی تھا تھوڑی دیر پہلے یہاں میرے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا وہ مجھے دیکھ رہا تھا ہنس رہا تھا

وہ اس کا کالر پکڑ کے اسے بتانے لگی تھی جب کہ وہ اب تک اسے ڈر کے زیر اثر دیکھ کر سمجھانے لگا۔

بس حرم اتنا نہیں ڈرتے کوئی نہیں تھا بس تم برا خواب دیکھ رہی تھی وہ اس کے پاس ہی رک کر اس سے کہنے لگی تھی خداش کی موجودگی کو پوری طرح نظر انداز کر رہی تھی۔

نہیں ویرو میں سچی کہہ رہی ہوں ابھی یہاں تھے میرے انگلش کی ٹیچر تھے میں نے دیکھا وہ یہاں بالکل میرے پاس بیٹھے تھے۔

وہ اسے یقین دلانا رہی تھی جبکہ انگلش کے ٹیچر والی بات پر دیشم کو ہنسی آگئی۔

وہ اکثر اسے آ کر بتاتی تھی کہ اس کے انگلش کے ٹیچر بہت زیادہ کھڑوس اور ہٹلر ٹائپ ہیں اور گاڑی میں بھی وہ اس کا بہت ذکر کرتی تھی۔

یہ ایک حقیقت تھی کہ جو شخص حرم کو اچھا نہیں لگتا تھا وہ اسے اپنے خوابوں میں ولن کے روپ میں دیکھتی رہتی تھی۔

اور یہاں بھی یقیناً ایسا ہی ہوا تھا

آپ ہنس کیوں رہے ہیں وہ اسے ہنستے دیکھ کر ناراضگی سے پوچھنے لگی

ارے نہیں میں کہاں ہنس رہی ہوں میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ تمہارے انگلش کے ٹیچرکہیں بھوت کی طرح دو دانت نکال کر تو نہیں آئے تھے۔

تمہارے خواب میں اور ہنستے ہوئے کیا ان کے منہ سے خون نکل رہا تھا جیسے ویمپائر کا نکلتا ہے۔

وہ بالکل سیریس انداز میں پوچھنے لگی

جبکہ حرم کے گھورنے پر اب خداش بھی اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

تم میری بہن کا مذاق اڑا رہی ہو اس نے لہجے کو سخت بناتے ہوئے پوچھا

توبہ توبہ میری یہ مجال کہ میں خداش کاظمی صاحب کی بہن کا مذاق اڑاوں کبھی بھی نہیں میں تو صرف پوچھ رہی ہوں کہ وہ جو بھوت اس کو خواب میں نظر آیا تھا وہ کیسا دکھتا تھا

وہ بھوت نہیں میرے انگلش کے ٹیچر سر احمر یشام تھے اور وہ خواب نہیں سچ تھا سچ میں یہاں آپ والی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اس نے ایک اور کوشش کی تھی اسے دلیل دینے کی لیکن اس کی بات کو سچ مان کون رہا تھا؟؟

ویرو میں سچ کہہ رہی ہوں آپ کو مجھ پر یقین ہے نہ اس نے اسے یوں ہی ہنستے دیکھ کر اس نے خداش سے پوچھا تھا۔

میری جان تم کبھی جھوٹ نہیں بول سکتی مجھے تم پر پورا یقین ہے اب سونے کی کوشش کرو صبح تمہیں کالج جانا ہے وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا۔

ہاں بالکل حرم سو جاؤ یہ نہ ہو کہ کل بھی کالج نہ جانے پر تمہارے انگلش کے ٹیچر تمہاری کلاس لینے کل پھر تمہارے خواب میں نہ آ جائیں اس نے ہنستے ہوئے باہر کی راہ لی اور اس کے باہر جانے تک وہ اسے گھورتی رہی

میں ان کو اپنی بھابھی نہیں بناوں گی ۔وہ منہ بنا کر بولی تو خداش کھل کر مسکرایا۔

نہیں میری جان یہ ظلم مت کرنا وہ بہت پیار سے اسے خود سے لگائے بولا تھا کچھ دن پہلے وہ مشال اور اس کی فون پر ہونے والی گفتگو سن چکی تھی جس پر اس نے اسے یہ بات خود تک رکھنے کی قسم دی تھی

آپ مت جانا مجھے چھوڑ کر اس نے بہت پیار سے اس سے کہا تھا

نہیں میرا بچہ میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا تم یہاں سو جاؤ وہ اس پر کمبل برابر کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور پھر جب تک وہ مکمل نیند میں نہ چلی گی تب تک وہ اس کے کمرے سے گیا نہیں تھا۔

لیکن ایک سوال اس کے دماغ میں ضرور آ رہا تھا کہ حرم کبھی بھی اپنا کمرہ لاک کر کے نہیں سوتی تھی تو اس نے کمرہ لاک کیا ہی کیوں تھا۔

°°°°°

اوو بی بی یہاں کیا آرام کرنے بیٹھی ہے جلدی سے چائے بنا اور مردان خانے میں پہنچا بہت سارے مہمان آئے ہوئے ہیں

اور زریام صاحب بھی وہیں پر ہیں تو کوئی غلطی مت کرنا اگر کوئی غلطی ہو گئی نہ تو لحاظ نہیں کریں گے کہ سامنے کون بیٹھا ہے۔

ملازمہ اسے حکم دیتی وہیں سے پلٹ گئی تھی اس نے فورا چائے بنانا شروع کی تھی اس نے ایک بات بہت شدت سے نوٹ بھی تھی کہ صبح سے کسی نے بھی اسے کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کہا تھا۔

بلکہ تانیہ اور چاچی (باقر کی ماں اور بہن) بھی اسے دیکھتے ہی چہرا پھیر گئی تھیں جبکہ اس کی ساس راحت بیگم نے بھی آج اس کے کمرے میں جانے پر کسی قسم کا کوئی وبال نہ کیا تھا بلکہ اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے لیا تھا۔

سب کا آج کا رویہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آج تو دادا جان نے بھی اسے غضب بھری نگاہوں سے نہیں دیکھا تھا بس اخبار پڑھتے رہے اور وہاں وہ اپنا کام نمٹا کر کچن میں آگئی۔

تقریباً پندرہ دن سے وہ اس گھر میں ہی رہ رہی تھی جہاں کے طور طریقے سمجھنا اس کے لئے زیادہ مشکل نہیں تھا

اتوار کے دن ان سب کی طرف سے اسےخاموشی ملتی تھی ورنہ باقی کے دنوں میں تو اکثر کسی نہ کسی بات پر وہ لوگ اسے کوس رہے ہوتے تھے اور جب غصہ حد سے سوار ہوجاتا تو ہاتھ اٹھانے میں دیر لگاتے۔

اور اتوار کے دن کوئی اسے کچھ نہ کہتا تھا اور پھر اسے پتہ چلا تھا کہ اس کا شوہر اتوار کو گھر پہ ہوتا ہے لیکن ہوتا کہاں ہے یہ بات وہ نہیں جانتی تھی ۔

صرف دو راتوں میں اس نے اسے اپنے قریب محسوس کیا تھا ورنہ وہ کہاں ہوتا تھا کیسا دیکھتا تھا کچھ بھی تو پتہ نہیں تھا اسے۔۔۔۔

وہ چائے بنا کر فورا مردان خانے کی طرف چلی آئی تھی نہ جانے کون سے مہمان آئے ہوئے تھے۔

جن کی خاطر تواضع اتنی ضروری تھی حویلی میں کوئی بھی مہمان آتا ہے تو اس کے لیے چائے وغیرہ بنا کر پہنچانے کا کام اسی کا ہی ہوتا تھا۔

لیکن آج تک اس نے مردان خانے کی طرف جانے کی غلطی نہیں کی تھی

اور نہ ہی کسی نے اس طرح بھیجنے کے لئے کہا تھا آج اسے وہاں چائے لانے کے لئے کیوں کہا گیا تھا اسے سمجھ نہ آیا

لیکن جو اس کا کام تھا وہ تو اسے کرنا ہی تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ پھر سے وہ کسی کے غضب کا نشانہ بن جائے۔

°°°°°°

وہ جیسے ہی مردان خانے کے کمرے کے باہر پہنچی کوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا وائٹ کلر کے قمیض شلوار پہنے آستین کہنیوں تک فولڈ کیے وہ انگلیوں میں سگریٹ دبائے اسی کو دیکھ رہا تھا وہ صرف ایک نظر اسے دیکھ پائی۔وہ نیلی آنکھوں والا جو بھی تھا کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔

یہاں کیا کر رہی ہو تم۔۔۔۔؟ وہ اچانک اس کا بازو تھامے اسے دوسری طرف تقریبا

گھسیٹتے ہوئے لے کر گیا تھا اس کی آواز شعلے برسا رہی تھی۔وہ بےحد غصے میں تھا۔لیکن کیوں۔۔۔۔؟

اچانک کوئی آ کر اس پر اس طرح سے غصہ کرے گا یا نہیں تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا وہ کون تھا وہ جانتی تک نہیں تھی۔لیکن اس کی آنکھوں سے وہ خوفزدہ ہوگئی تھی اتنا حق جتاتا انداز

چائے دینے۔ ۔۔جا رہی۔۔۔۔

کیا دماغ خراب ہے تمہارا اس طرح سے مردوں میں جاؤ گی ۔کس بے وقوف نے تم سے کہا یہاں چائے لانے کے لیے وہ اسی پر چڑھ دوڑا تھا ۔

زاہدہ باجی نے آکر مجھے بولا کے مردان خانے میں چائے دے کر آنی ہے تبھی تو میں ۔۔وہ نہ جانے اس انجان شخص کو صفائیاں کیوں دے رہی تھی

جبکہ وہ تو اسے سن ہی نہیں رہا تھا اس کے منہ سے زاہدہ کا نام سنتے ہی وہ اونچی اونچی آواز میں اسے پکارنے لگا تھا۔

جی صاحب جی وہ دوڑ تی ہوئی اس کے سامنے حاضر ہوئی تھی۔

کس کے کہنے پر تم نے اسے یہاں بھیجا وہ غصے اس سے بات کرنے لگا

او صاحب جی میں کام کر رہی تھی یہ وہاں کچن میں تھی تو میں نے اس کو چائے بنانے کے لیے کہہ دیا وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنی صفائی دینے لگیں

میں نے یہ نہیں پوچھا کہ چائے کس نے بنائی ہے میں نے یہ پوچھا کہ اسے یہاں کس نے بھیجا ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئی زریام شاہ کی بیوی کو یوں مردوں میں جانے کے لیے کہنے کی۔

وہ غصے سے اسے گھورتے ہوئے پوچھ رہا تھا جب کہ وہ حیرانگی سےاسے دیکھ رہی تھی تو کیا اس گھر کے لوگ اسے زریام شاہ بیوی کے حوالے سے پہچانتے تھے ۔

معاف کر دیجئے صاحب آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی وہ معافی مانگنے لگی جب کہ سامنے کھڑا انسان تو کسی اور سوال کا جواب چاہتا تھا۔

میں نے تم سے یہ پوچھا ہے کہ اسے یہاں مردان خانے میں بھیجنے کے لیے تمہیں کس نے کہا؟؟؟ ۔وہ اب تک اپنے سوال پر اٹکا ہوا تھا۔

کسی نے نہیں کہا صاحب میں نے خود بھیجا تھا ملازمہ ہاتھ جوڑے اس کے سامنے کھڑی تھی۔

تم جھوٹ بول رہی ہو بتاؤ مجھے تمہیں ایسا کرنے کے لئے کس نے کہا ہے وہ بےحد غصے سے غرایا تھا۔

زریام شاہ۔۔۔ کیوں ملازمہ پر اس طرح سے چلا رہے ہو ۔۔؟وہیں داخل ہوتے دادا جان غصے سے بولے تھے جب کے اگلے ہی لمحے وہ اپنے ساتھ کھڑی عمایہ کو اپنے پیچھے کر چکا تھا ۔

کیونکہ یہ عورت مجھے غصہ دلا رہی ہے دادا جان یہ میرے منہ پر جھوٹ بول رہی ہے جیسے میں جانتا ہی نہیں کہ اسے یہ حرکت کرنے کے لئے کس نے کہا ہے وہ ملازمہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے بول رہا تھا۔

ایسی بھی کوئی قیامت نہیں آ گئی تھی اگر اس لڑکی کو کوئی کام کہہ دیا گیا ہے یہ لڑکی اس گھر میں کیوں آئی ہے مت بھولو تم ۔

اس گھر میں اس کی حیثیت ایک ملازمہ سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں ہے یہ بات یاد رکھو وہ اسے دیکھتے ہوئے اسے عمایہ اوقات بتانے لگے تھے

جب کہ وہ خاموشی سے کھڑا انہیں سنتا رہا پھر بولا تو عمایہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔

یہ لڑکی ونی ہے میں جانتا ہوں لیکن اس وقت یہ میرے نکاح میں ہے اور میرے گھر کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میری بیوی کسی غیر مرد کے سامنے جائے ۔

اور آئندہ مجھے یہ بات کسی کو یاد دلانے کی ضرورت نہ پڑے وہ غصے سے ملازمہ کو گھورتا اچانک عمایہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

°°°°°

چلو حرم تم تیار ہو؟؟ اس نے کمرے میں قدم رکھا تو بیڈ پہ بیٹھی حرم کو روتے ہوئے پایا اس کے ہاتھ میں اس کا ٹیڈی تھا جس کی گردن الگ تھی وہ پریشانی سے اس کے پاس آئی تھی۔

میں نے بتایا تھا نا آپ کو وہ سچی میں یہاں آئے تھے میں بول رہی ہوں انہوں نے میرے ٹیڈی کی گردن توڑ دی دیکھیں میرے ٹیڈی کی گردن ٹوٹ گئی ہے

یہ احمر سرنے کیا ہے سچی میرا یقین کرے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی

ارے کیا ہو گیا ہے تمہیں میرا بچہ ایسے نہیں کہتے یہ اس نے نہیں توڑا بلکہ یہ کہیں اٹکنے کی وجہ سے یہاں سے پھٹ گیا ہے دیکھو یہ پھنسا ہوا ہے اس کی گردن دکھاتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جو یقیناً کسی جگہ پر پھنس کر پھٹی تھی

لیکن حرم اس کی بات کوکیسے مانتی کیونکہ وہ تو اپنی آنکھوں سے احمر کو دیکھ چکی تھی اور اسے یقین تھا کہ یہ کام احمر نے ہی کیا ہے۔

لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھاوہ اس کے گھر کیسے آ سکتا تھا اب اسے بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے ورنہ وہ اس کے سامنے بیٹھ کر مسکراتا رہتا وہ یہ سچ بھی تو تھا کہ جس انسان کو وہ پسند نہیں کرتی تھی وہ خواب میں نظر آتا تھا

تو کیا وہ احمر کو ولن سمجھتی تھی پچھلے کچھ دنوں سے جس طرح وہ اسے دیکھتا تھا اسے گھورتا تھا وہ آج کل اسے بھی ولن ہی سمجھنے لگی تھی اسے اس شخص سے عجیب سا خوف آتا تھا کہیں نہ کہیں اس کا دل اس بات کو مانتا تھا کہ یہ شخص اس کے لئے اچھا نہیں ہے۔

اچھا اب رونا بند کرو جاکر اپنے ویرو کو اپنے ٹیڈی صاحب دکھاؤ ان شاءاللہ وہ تمہارے لیے کوئی نئے ٹیڈی کا انتظام کر دیں گے۔

اور اٹھو چلو کالج آج بھی تم نہیں گئی تو میری بہت اہم کلاس مس ہوگی آج میرا کوئی ارادہ نہیں ہے تمہارے بہانے بازیاں سننے کا جلدی سے باہر آو وہ اسے سمجھا کر اٹھ کر باہر چلی گئی تھی جب کہ حرم کو اب تک رونا آ رہا تھا اپنے ٹیڈی کو دیکھ کر

°°°°°°

وہ اسے لے کر سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا۔

اب تک غصے سےاس کا برا حال ہو رہا تھا جب کہ تفصیلی ملاقات کے بعد وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کا شوہر ہے

وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگا کر اس کی طرف دیکھنے لگا جو اب تک دروازے پر کھڑی تھی۔

آئندہ جب تک میں نہ کہوں تب تک تم اس طرف نہیں جاؤ گی یہ بات یاد رکھنا لڑکی میں بار بار سمجھاؤں گا نہیں

اور تمہارے پاس کوئی ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہے کیا اس نے سر سے پیر تک اس کو دیکھا تھا عمایہ نے بھی اسی کے انداز میں اپنے کپڑوں کو دیکھا

خود کو بعد میں دیکھنا تم بلکہ یہ کام میں کروں گا تم جاؤ میرے لئے ناشتہ لے کر لو اور اپنی حالت کچھ سدھارو ایک شادی شدہ لڑکی ہو تم مجھے ہرگز پسند نہیں ہے کہ میری بیوی خود کو اجاڑ کر رکھے۔

اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ یہاں سے وہ اپنی بات مکمل کر کے اپنے موبائل کی طرف نگاہیں مرکوز کرتا مصروف ہوا تھا جب اسے یوں ہی کھڑے دیکھ کر بولا۔

اور پھر اس کی سپیڈ دیکھنے لائق تھی۔

°°°°°°

وہ جلدی سے کچن میں آ کر اس کے لیے ناشتہ بنانے لگی یہ سوچے بنا کہ اسے کیا پسند ہے کیا نہیں ۔پتا تھا تو صرف اتنا کہ یہ اس کے شوہر کا حکم ہے جو اس کو پورا کرنا ہے۔

وہ تیز تیز ہاتھ چلائے اپنا کام کر رہی تھی جب تانیہ وہاں آ کر اسے دیکھنے لگی یہ لڑکی اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی ۔

کیونکہ تانیہ کو تو شاید اس خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی ہونے کا خطاب حاصل تھا پھر وہ اپنے آگے کسی کو کیا سمجھتی۔

لیکن جو وہ اس سے چھین چکی تھی اسے بھی تو وہ بھلا نہیں سکتی تھی اس کے بچپن کا منگیتر اس کی پہلی محبت۔۔۔۔

پہلے اس لڑکی کے بھائی نے اس کے بھائی کا قتل کیا اور اب یہ لڑکی اس کے منگیتر کی بیوی بن کر اس کے گھر میں آ گئی تھی۔

اسے جلدی جلدی ہاتھ چلاتے دیکھ وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ زریام کا ناشتہ بنا رہی تھی۔

کیونکہ اس نے جب صبح زریام سے کہا تھا کہ آج آپ گھر پہ ہیں تو ناشتہ ساتھ کریں گے تو اس نے کہا تھا کہ وہ مردان خانے میں موجود مہمانوں کے جانے کے بعد ناشتہ کرے گا۔

جس پر اس نے ناشتہ کر لیا تھا اور اب یقیناً اس کی بیوی اس کے لئے ہی ناشتہ بنا رہی تھی۔

اورنج جوس وہ چائے نہیں پئے گا اسے چائے کی پتیلی چولہے پر چڑھا تے دیکھ وہ بولی تھی

اس کی بات سن کر عمایہ بنا کچھ بھی بولے اورنج جوس بنانے لگی۔

تم اس گھر میں آ سکتی ہو زریام ان کی بیوی بھی بن سکتی ہو لیکن اس کے دل میں جگہ کبھی بھی نہیں بنا سکتی

ایک بات یاد رکھو تمہاری اس گھر میں اوقات ایک ملازمہ سے زیادہ نہیں ہے تو اپنی حد میں رہو میرے زریام کو امپریس کرنے کی کوشش مت کرو

پچھتاؤ گی تم کیوں کہ تم ونی ہو جیسے ہی تمہارا بھائی ملے گا تمہیں طلاق دے کر اس گھر سے روانہ کر دیا جائے گا۔

تو بہتر ہے کہ تم۔۔ حد میں رہو اس کا کچھ بھی نہیں جائے گا برباد تمہیں ہونا ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ زریام کے پیچھے خود کو ہلکان مت کرو

اس کے لیے اپنے دل میں کسی طرح کا کوئی احساس پیدا نہ کرنا وہ دل توڑنے میں ماہر ہے۔

وہ اپنی بات مکمل کرتی کچن سے نکل گئی تھی جبکہ عمایہ بنا ہاتھ روکے مسلسل اپنا کام کرتی رہی۔

اس کے جاتے ہی اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا لیکن یہ کونسا پہلی بار ہوا تھا اور وہ کونسا نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص کیسا ہے اسے بس یہ پتا تھا کہ وہ اس کا شوہر ہے۔

اور یہ سب وہ جو کر رہی ہے یہ اس کا فرض ہے یہاں ہر رشتہ اسے اوقات یاد دلاتا تھا لیکن زریام کے انداز نے اسے احساس دلایا تھا کہ وہ اس گھر میں صرف ونی نہیں بلکہ اس کی بیوی ہے اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا۔۔۔

°°°°°°°°