Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 61)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 61)
Junoniyat By Areej Shah
یہ ایک ہفتہ تو پلک جھپکتے ہی گزر گیا تھا ۔وہ اس کے ساتھ یہاں بے انتہا خوش تھی ۔پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کیسے یہ ایک ہفتہ اس کی بےپناہ محبت کے ساتھ گزر بھی گیا وہ آج اسے ہسپتال لے کر جا رہا تھا ابھی تک تو وہ جنت سے ملنے اس کے گھر بھی نہیں گئے تھے ۔
لیکن آج اس نے کہا تھا کہ وہ ہسپتال سے واپسی پر اسے جنت سے ملانے ضرور لے کر جائے گا ۔
جس پر وہ بہت زیادہ خوش تھی
جنت اور ہانی گھر سے اتنی دور الگ کیوں رہتے تھے وہ نہیں جانتی تھی لیکن جنت سے ملنے کی اسے بہت خوشی تھی ۔اور وہ جنت کے بارے میں سب کچھ جاننا بھی چاہتی تھی
جنت اور ہانی ہمارے ساتھ ہمارے گھر پر کیوں نہیں رہتے یہاں اتنی دور کیوں رہتے ہیں میرا مطلب یہاں جنت آپی اکیلی کیوں رہتی ہیں
اخر آج اس نے وہ سوال پوچھ ڈالا جو اتنے دنوں سے اس کے دل میں تھا
جنت کبھی باقر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن دادا جان کی مرضی کے سامنے وہ مجبور ہو گئی اور پھر باقر اسے شہر کے اس گھر میں لے آیا تھا ۔کیونکہ باقر کا آئے دن جنت پر ہاتھ اٹھانا اس کے ساتھ بدتمیزی کرنا شائزم اور مجھے سخت نا پسند تھا ہم اکثر اس سے جھگڑتے تھے
اور باقر کو یہ بات منظور نہ تھی کہ ہم اس کے پرسنل جھگڑوں میں حصہ لیتے ہیں بس اسی لیے وہ جنت کو اس گھر میں لے آیا تھا جو بابا جان نے جنت کو جہیز کے طور پر دیا تھا حب باقر نے جنت کو طلاق دی تھی تب حویلی آنے کے بعد اس نے جنت کے کردار پر انگلی اٹھائی تھی ۔
اور اس وقت جنت کو برا بھلا کہنے والوں میں چاچی اور ان کی بیٹی تانیہ کے ساتھ چاچو بھی شامل تھے جس کی وجہ سے جنت نے اس گھر میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں باقر رہتا ہے ۔
اسے باقر سے اتنی نفرت ہوگئی تھی کہ وہ باقر کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ طلاق کے بعد بھی اپنے گھر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھی ۔
باقر نے جنت کے کردار پر الزام لگاتے ہوئے اپنی بیٹی کو اپنا نام دینے سے انکار کر دیا تھا ۔لیکن بعد میں جب اس کی بیٹی پیدا ہوئی تب اچانک ہی اس کے دل میں اپنی بیٹی کے لیے محبت جاگ آئی تھی اور جنت کو یہ بات گوارا نہ تھی
وہ اس شخص سے نہ تو خود کوئی تعلق رکھنا چاہتی تھی اور نہ ہی اپنی بیٹی کو اس کے حوالے کرنا چاہتی تھی بس یہی وجہ تھی کہ وہ بہت کم حویلی جاتی تھی ۔تاکہ وہ باقر سے دور رہ سکے
باقر بہت ہی عجیب قسم کا انسان تھا پہلی بار ملنے پر ایسا لگتا تھا جیسے وہ بہت محبت کرنے والا انسان ہے لیکن دوسری ملاقات میں اس کی شخصیت بالکل الگ ہوتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ پوری دنیا سے نفرت کرتا ہے
اور جنت اپنی بیٹی کو ایک ایسا باپ نہیں دے سکتی تھی جو خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے محبت کرتا بھی ہے یا نہیں
اور پھر قدرت نے باقر کو ہی ہمیشہ کے لئے اس قصے سے نکال دیا ۔اس کی موت کا ہم سب کو افسوس ہے ۔لیکن اس کی موت کے بعد بھی جنت واپس حویلی آنے کو تیار نہیں تھی ۔اور اب تو اس کے پاس ایک بہت بڑا بہانہ ہے کہ ہانی سکول جانا شروع کر چکی ہے ۔اور اسے تفصیل سے بتاتا ہوا اپنی گاڑی ایک عالی شان بنگلے کے پورچ میں روک چکا تھا
جہاں سے باہر بھاگتےہوئےآتی ہانی اسے نظر آئی
ماموں آگئے ماموں آگئے وہ خوشی سے چہکتی ہوئی ناچ رہی تھی جبکہ گاڑی سے باہر نکلتے ہی ذریام نے زمین پر بیٹھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
°°°°°°°
بالکل بھی نہیں میری بھابھی تو کہیں نہیں جا رہی اگر تم جانا چاہتے ہو تو شوق سے جا سکتے ہو میں تمہیں ہرگز نہیں روکوں گی
جنت کے ساتھ ایک بھرپور دن گزارنے کے بعد شام کو عمایہ کو واپس چلنے کے لیے کہا تو جنت نے اسے واپس بھیجنے سے صاف انکار کردیا
یار ایسا کیسے چلے گا میں کیسے رہوں گا اس کے بنا اور ویسے بھی اس کو اپنا خیال رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ وہ بالکل نہیں رکھتی ایسے میں اسے اپنے شوہر کی اشد ضرورت ہے
کیوں کہ یہ بہت ہی لاپرواہی قسم کی لڑکی ہے
کوئی بات نہیں میں خود ہوں نا اس کا خیال رکھنے کے لیے میں تم سے بہتر اس کا خیال رکھ سکتی ہوں تم فکر مت کرو جنت نے اس کے بہانے کو چٹکیوں میں آیا تھا
مامی آپ مت جاؤ میں آپ کو ڈرائیور انکل سے ملواؤں گی وہ بہت اچھے ہیں میرے بیسٹ فرینڈ۔۔ ہانی اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی
جبکہ زریام نے ہانی کی بات سننے کے بعد جنت کی طرف دیکھا تھا
نیا ڈرائیور رکھا ہے بہت اچھا انسان ہے ہانی سے بہت محبت سے پیش آتا ہے اور اس کا بیسٹ فرینڈ بن چکا ہے میں تو ابھی تک صرف ایک آدھ بار ہی ملی ہوں اس سے لیکن ہانی کو صبح سکول بھی وہی چھوڑتا ہے اور واپس لینے کے بھی ٹائم پر جاتا ہے
ہمارے واچ مین کا جاننے والا ہے مجھے ڈرائیور کی بے حد ضرورت تھی شکر ہے کوئی قابل اعتبار انسان مجھے مل گیا ۔جنت نے اسے تفصیل سے بتایا تھا
لیکن جنت بابا نے کہا تو تھا کہ وہ گاؤں سے کوئی اچھا ڈرائیور بھیج دیں گے تمہیں اس طرح کسی باہر والے پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے وہ اسے سمجھا رہا تھا ۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن یہ حسیب کاکا کے جاننے والا تھا اور اعتبار کے قابل تھا اور ہانی سے بہت اچھے سے پیش آتا ہے ۔جب میں مصروف ہوتی ہوں ہانی اسی کے ساتھ کھیلتی ہے ۔بظاہر مجھے اس میں کوئی بری عادت نظر نہیں آئی اپنے کام سے مطلب رکھتا ہے
جنت اسے تفصیل سے بتا رہی تھی جبکہ زریام نے بہت غور سے اس کی باتیں سنی تھیں
ٹھیک ہے لیکن دھیان رکھنا زیادہ اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔احتیاط ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے
ہاں بالکل یہی بات ہے لیکن تم یہ مت سوچنا کہ یہ ساری باتیں کر کے تم عمایہ کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو جاؤ گے
یہ تو آج میرے ساتھ میرے گھر پر ہی رکے گی اگر تم چاہو تو رک سکتے ہو تمہارے رکنے پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے جنت نےاسے کھلی آفر دی تھی
نہیں میں نہیں رک سکتا مجھے کچھ ضروری کام ہے اصل میں ایک پروڈکٹ مارکیٹ میں انٹرویوا کروا رہا ہوں تو اس کے سلسلے میں ایک آدمی سے ملنا ہے سو جانا بہت ضروری ہے میرا ۔
کیا یاد کرو گی آج رات میری بیوی کو تم رکھ لو لیکن دھیان رکھنا صبح میری بیوی مجھے صحیح سلامت چاہیے یہ نہ ہو کہ تمھاری بیٹی میری بیوی کو رات میں توڑ پھوڑ دے ۔وہ عمایہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا جس کی اجازت ملنے پر کھل اٹھی تھی
ارے میری بیٹی تو اس کا بہت خیال رکھے گی تم سکون سے جا سکتے ہو وہ اسے بائےبائے کرتے ہوئے بولی تو زریام مسکراتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا ۔جب کہ ہانی چہکتی ہوئی اپنی مامی کی گود میں بیٹھی تھی تاکہ اس سے بہت ساری باتیں کر سکے
°°°°°°
آپ نے اگر فیصلہ کر ہی لیا ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں ساگر جو دل میں آئے وہ کرے میں اپنا فیصلہ آپ کو سنا سکتی ہوں میں واپس وہاں کبھی نہیں جانا چاہتی
اور نہ ہی ان لوگوں سے کسی طرح کا کوئی تعلق رکھنا چاہتی ہوں میں سب کو چھوڑ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھی تھی آپ کے لیے میں نے اپنا گھر خاندان ہر چیز چھوڑ دی تھی
نہ تو میں واپس کبھی وہاں جانا چاہوں گی اور نہ ہی آپ اس معاملے میں مجھے فورس کر سکتے ہیں ۔
دیکھو افشین میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ یہاں بات تمہاری اور میری نہیں بلکہ ہمارے بچوں کی ہو رہی ہے ہمارے بچوں کے فیوچر کا سوال ہے میرے بارے میں نہیں تمہیں بچوں کے بارے میں سوچنا ہوگا
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہارا آپریشن ہوگا اس میں پتہ ہے اس آپریشن پر کتنا خرچہ ہے تقریبا 10لاکھ اور اتنی بڑی رقم میرے پاس نہیں ہے ۔میں نے جہاں قرضے کے لیے اپلائی کیا تھا ان لوگوں کا بھی جواب مجھے ہاں میں نہیں ملا
میرے پاس ایسی کوئی پراپرٹی نہیں ہے جسے گروی رکھ کر قرض اٹھا سکوں ۔ریدم کے وقت حالات کچھ اور تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے
اس مشکل زندگی میں میں آپ کے ساتھ ہوں ساگر ہم آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگیں گے لیکن خدا کے لئے مجھے واپس چلنے کے لئے مت کہیں ۔
نہیں افشین اس دفعہ میں تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہوں تم نے آج تک جو کہا میں نے تمہاری ہر بات سنی اور مانی بھی لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ میری یہ بات مانو ہمیں واپس چلے جانا چاہیے
آگے کچھ بھی نہیں رکھا پلٹنا ہی عقلمندی ہے ۔وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے بول رہا تھا جبکہ افشین کا دل اسے انکار کرنے پر مجبور کر رہا تھا لیکن وہ ساگر کا ساتھ چھوڑ تو نہیں سکتی تھی
میں ایک بار گاؤں جاکر وہاں کے حالات دیکھ کر آؤں گا اگر سب کچھ نارمل رہا توہی تمہیں وہاں لے کر چلوں گا وہ اسے سمجھا رہا تھا
نہیں ساگر میں آپ کو اکیلے وہاں نہیں جانے دوں گی اب ہم جہاں بھی جائیں گے ایک دوسرے کے ساتھ جائیں گے زندگی بھرکا ساتھ لکھا ہے اس طرح آپ کو اکیلے کہیں نہیں جانے دوں گی
اگر حالات بہتر نا ہوئے تب بھی میں آپ کے ساتھ ہوں اگر آپ کے ساتھ کی خوشیوں پر میرا حق ہے تو آپ پر آنے والی مصیبت کو بھی پہلے مجھ پر سے گزرنا پڑے گا آپ ان لوگوں کو بلا لیجئے ۔
نجانے کیسے اس نے یہ فیصلہ کیا تھا لیکن وہ واپس حویلی جانے کو تیار ہو گئی تھی اب یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ ٹھیک ثابت ہونے والا تھا یا غلط
°°°°°
تمہیں میری بات کیوں نہیں سمجھ میں آرہی شائزم میں تمہیں کتنی دفعہ بتاؤں کہ ایسا ممکن نہیں ہے میں ان لوگوں کے سامنے نہیں جا سکتا اس دشمنی میں میں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے
اپنے پیارے کھوئے ہیں اپنے خون کی قربانی دی ہے میں ان کے سامنے جھک کر اپنی قربانیوں کو بےمول نہیں کر سکتا ایک ہفتہ گزر چکا تھا جب کہ دادا جان اب تک اپنے انکار پر قائم تھے
دادا جان پلیز ایسا مت کریں سمجھنے کی کوشش کریں میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا وہ میری محبت ہے میری اولین چاہت ہے آپ نے آج تک میری کوئی خواہش نہیں ٹالی تو میری محبت کے معاملے میں آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں
کیا میری خاطر آپ صرف ایک دفعہ صرف ایک دفعہ ان کے گھر جاکر رشتے کی بات نہیں کر سکتے دادا جان میں ریدم کے بنا نہیں رہ سکتا میں اس سے محبت کرتا ہوں زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کے لئے میرے دل میں اس طرح کی فیلنگ جاگی ہیں
میں اپنے دل کے معاملے پر خاموش نہیں بیٹھتے سکتا وہ میری محبت ہےدادا جان میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گا لیکن خدا کے لئے مجھے انکار مت کریں
تم سمجھ میں کیوں نہیں آرہا شائزم ہم کبھی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھاسکتے یہ دشمنی ختم نہیں ہو سکتی
لیکن کیوں دادا جان کیوں نہیں ختم ہو سکتی یہ دشمنی آخرایسا بھی کیا کھویا ہے آپ نے کہ آپ اس دشمنی کو ختم ہی نہیں کرنا چاہتے
کیا کھویا ہے ہم نے یہ تم ہم سے پوچھتے ہو اپنی بیٹی کھوئی ہے ہم نے اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی لاش دیکھی ہے ہم نےان لوگوں نے میری معصوم سی بچی کا کیا حال کر دیا تھا آج بھی یاد آتا ہے تو یہ دل روتا ہے
اور تم کہتے ہو کہ کیا کھویا ہے ہم نے وہ بے حد غصے سے بولے تھے اس انکشاف پر شائزم کے منہ پر جیسے چپ لگ گئی تھی کتنی دیر تک وہ کچھ بول ہی نہ سکا
دادا جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔وہ شاکڈ کی کیفیت میں تھا جب کہ دادا جان اسے کچھ بتاتے چلے گئے
°°°°°°
ان دونوں کو پچھلی سیٹ پر بٹھاتے ہوئے وہ دونوں کار ڈرائیو کرتے اگلی سیٹ پر تھے بیچ میں ریدم بیٹھی تھی
سفر کافی لمبا تھا اور وہ لوگ راستہ شارٹ کرنے کے لئے جنگل کے بیچوں بیچ سے گاڑی لے جانے لگے
یہ کون سا راستہ ہے آپ ہمیں اس طرف لے کر کیوں آئے ہیں ۔۔۔؟وہ اگلی سیٹ کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی
دوسرا راستہ اب بہت لمبا ہے افشین ہمیں گاؤں پہنچتے پہنچتے آدھی رات ہو جائے گی لیکن یہ والا راستہ کافی چھوٹا ہے ہم جلدی گھر تک پہنچ سکتے ہیں ۔اسے اگلی سیٹ سے جواب ملا تھا جب ساگر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
پہنچ جائیں گے فکر مت کرو وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا جب کہ ریدم اس لمبے سفر میں ایک دفعہ سو کر بھی جاگ چکی تھی ۔
لیکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ افشین کا خوف بڑھتا چلا جا رہا تھا جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے کہیں اس نے ان لوگوں پر اعتبار کرکے کچھ غلط تو نہیں کیا تھا ۔
اس کا دل بار بار اسے ڈرا رہا تھا لیکن وہ بالکل خاموش تھی ۔
°°°°°°
ارے یہ کیا ہو گیا گاڑی کو گاڑی اچانک بریک لگنے کی وجہ سے سڑک کے بیچوں بیچ رک گئی تھی عجیب سنسان سا علاقہ تھا اور پھر اندھیری رات نے افشین کو مزید خوف زدہ کر رکھا تھا ریدم گاڑی میں سو رہی تھی
ساگر ان کےساتھ اگر باہر گاڑی چیک کر رہا تھا اتنے سال اپنے گھر سے دور رہ کر اس نے مکینک کا کام بہت اچھے طریقے سے سیکھ لیا تھا
تم ٹھیک کر لو گے مجھے لگتا ہے گاڑی میں کوئی بڑا مسئلہ ہو گیا ہے وہ اس کے ساتھ کھڑا بول رہا تھا جبکہ ساگر نے نفی میں سر ہلایا تھا
نہیں گاڑی میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوا۔بس تھوڑی گرم ہو گئی ہے اب جاکر سٹارٹ کریں آپ گاڑی سٹارٹ ہو جائے گی ۔
وہ گاڑی چیک کرتابتانے لگا جبکہ وہ ہاں میں سر ہلا تا اندر کی طرف جانے لگا تھا ۔
مجھے یہ جگہ کافی خطرناک لگتی ہے ساگر تمہیں کیا لگتا ہے اگر یہاں پر کسی کو مار دیا جائے تولاش کتنے دنوں کے بعد ملے گی میرا مطلب ہے اس طرف کوئی آتا جاتا نہیں مہینوں بیت جاتے ہیں ان کے پرسرار سوال پر وہ انہیں بہت غور سے دیکھنے لگا
میں کچھ سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔۔۔؟وہ انہیں دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا جبکہ وہ عجیب پراسرار انداز مسکراتا اپنے پیچھے سےچاقو نکال کر اس کے سامنے کر چکا تھا وہ اگلے ہی لمحے ان کی نیت کو سمجھ گیا تھا ۔
میں نے سنا ہے کہ لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے اگر تم لوگ غائب بھی ہو گئے تو کوئی نہیں ہوگا تم لوگوں کو پوچھنے والا نہ تو آگے کوئی تمہارا ہے اور نہ ہی کوئی پیچھے تم لوگ چھوڑ کر آئے ہو
تمہاری وجہ سے ہمیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑا اور تمہاری سزا بس یہی ہے ۔وہ اگلے ہی لمحے چاقو اس کے پیٹ کے آر پار کر چکا تھا جبکہ ساگر بے یقینی کی کیفیت میں اس شخص کو دیکھ رہا تھا جس پر وہ اعتبار کرکے آنکھیں بند کئے اس کے ساتھ چلا آیا تھا
افشین کی دلخراش چیخ بلند ہوئی جبکہ اس نے گاڑی سے نکلنے کی کوشش کی تھی اس کے ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ لاک ہو گیا ۔
کہیں نہیں جا سکتی تم آج کی رات تمہاری موت ہمارے ہاتھوں لکھی ہے لیکن پہلے اس کو تو دیکھ لیں وہ ساگر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جب کہ افشین کی چیخیوں نے ریدم کو جگا دیا تھا ۔
اپنے باپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے خون میں لت پت دیکھ کر وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
افشین گاڑی کا شیشہ توڑنے میں کامیاب ہو چکی تھی لیکن اس کا ڈر کسی کو نہیں تھا وہ بے چاری تو بھاگنے سے بھی قاصر تھی اور اپنے شوہر کو مرتے دیکھ وہ کون سا بھاگنے والی تھی ۔
ساگر کا کام تمام کرنے کے بعد ان کا ارادہ افشین اور اس کے بچوں کو بھی اس دنیا سے رخصت کرنے کا تھا ۔وہ ساگر کے خون کو مزید زندہ نہیں رکھنا چاہتے تھے وہ ساگر کی آخری نشانی تک اس گاؤں سے مٹا دینا چاہتے تھے ۔
یہاں تک کہ وہ ساگر کو بھی آسان موت دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے وہ چیخ چیخ کر افشین کو وہاں سے بھاگنے کا کہہ رہا تھا لیکن اس کی آواز بند کرنے کے لئے وہ کبھی اسے ٹھوکروں سے مارتے تو کبھی اس کا سینہ چیر دیتے ۔
ریدم بھاگ جاؤ یہاں سے بھاگ جاؤ ۔افشین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ایک زوردار دھکے نے اسے بے حال کر دیا ۔
اپنے بچوں کو بچانے کا اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا لیکن ریدم کو بھاگنے پر مجبور کر رہی تھی وہ چھ سال کی معصوم بچی کہاں تک بھاگ سکتی تھی ۔
لیکن جتنا وہ اسے سمجھا پائی تھی وہاں سے بھگانے میں کامیاب ہو گئی تھی ان لوگوں کا دھیان ریدم کی طرف نہیں تھا جبکہ اپنی ماں کے دھکوں نے اسے سامنے کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا وہ کہاں جائے گی کہاں ہوگا اس کا ٹھکانہ وہ نہیں جانتی تھی بس وہ جتنا تیز ہو سکے بھاگ رہی تھی ۔
جب اسے اپنی ماں کی چیخ کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تھا اس کے باپ کی طرح اس کی ماں بھی خون میں لت پت پڑی تھی۔کچھ چھوٹی سی بچی سمجھ چکی تھی ۔اب اس کی باری ہے وہ تیزی سے بھاگنے لگی تھی ۔جب اچانک ٹھوکر لگنے پر وہ زمین پر جا گری
اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی ۔اور پھر ریدم کی رکنے والی چیخیوں کا سلسلہ پوری حویلی کو جگا گیا تھا
°°°°°°°°
