Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 19)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 19)
Junoniyat By Areej Shah
وہ اس لڑکی ماریہ کو ڈھونڈ کر آخر اس تک آ گیا تھا کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنا اسے پسند نہ تھا۔اور نہ وہ یہ گھٹیا کام کرتا تھا
وہ لڑکیوں سے دوری بنا کر رکھنا ہی اپنے لئے بہتر سمجھتا تھا لیکن وہ جاننا چاہتا تھا۔کہ یہ لڑکی آخر اس سے شرط کیوں لگا رہی تھی
۔یہ لڑکی دکھنے میں اتنی چالاک نہیں تھی ۔یہ بات تو وہ پہلی ملاقات میں ہی سمجھ گیا تھا جب اس کے دوستوں نے اسے فضول میں تنگ کرنے کے لیے اس لڑکی کو اسے وش کرنے کے لیے کہا تھا
یہ لڑکی کسی سے شرط لگا کر اسے اس فضول شرط میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی تھی
لیکن وہ اس کے لیے کسی لڑکی کو کیوں بےوقوف بنا رہی تھی اسے دور سے وہ ماریہ نامی لڑکی دیکھائی دی
وہ اسے کافی بولڈ لڑکی لگ رہی تھی ۔اس کے جذبات کے ساتھ کوئی کیا کھیلتا یہ تو دیکھنے میں ہی بہت شاطر لگ رہی تھی
یقیناً یہ بہت سارے لڑکوں کے جذبات کے ساتھ کھیل چکی ہوگی اس نے اندازہ لگایا تھا
تو کیا اس لڑکی کے لئے وہ اس سے شرط لگانا چاہتی تھی ماریہ اسے دیکھنے میں بالکل بھی پسند نہیں
یقینا وہ لڑکی خوبصورت بننے کے لیے بہت محنت کررہی تھی اس کی خوبصورتی کو وہ بالکل سراہنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کی مجبوری تھی اس شرط کو جیتنا تھا کیونکہ وہ اپنے ٹائیگر کو کتا کہنے کا حوصلہ خود میں بالکل نہیں پاتا تھا۔
اس نے دور سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ لڑکی کس قسم کی ہوسکتی تھی وہ پرسکون سا اس کی طرف قدم بڑھاتا اس کے پاس آ گیا ۔
°°°°°
وہ وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا سامنے بیٹھی لڑکی جو اپنے فون میں مصروف تھی اسے حیرانگی دسے دیکھنے لگی۔
یار اتنا وقت لگا دیا آرڈر لانے میں حد ہوتی ہے کسی چیز کی ویٹر لڑکی کے سامنے جوس رکھنے لگا تو لڑکی نے ایک بار پھر سے دیکھا لیکن اس کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
سر بہت معذرت یہ رہا آپ کا آرڈر وہ جوس لڑکی کے سامنے رکھا جانے لگا جبکہ وہ حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔
آپ کون ہیں اور آپ میرا جوس کیوں لے رہی ہیں۔وہ اس سے سوال کرنے لگا جبکہ اب تک وہ لڑکی اسے دیکھ رہی تھی پھر ایک ادا سے اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئےمسکرائی
آپ میری جگہ پر آئے ہیں۔مسٹر ہینڈسم یہ میری ٹیبل ہے اور یہ آرڈر بھی میرا ہے ۔آپ کا نہیں۔
کیا میں غلط جگہ آگیا ہوں۔ سوری میں دوسری ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میری کال آگئی تو مجھے یہاں سے جانا پڑ گیا اور جب میں واپس آیا تو مجھے لگا کہ میرا ٹیبل ہے کوئی بات نہیں آپ انجوائے کریں میں جا رہا ہوں وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ وہ لڑکی بولنے لگی
انجوائے تو آپ کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے مجھے ہینڈسم لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر جوس پینا کافی پسند ہے وہ مسکرا کر بولی تھی جبکہ اس کے انداز پر وہ بھی وہیں بیٹھ کر دلکشی سے مسکرا دیا
جب کہ اس کا سارا دھیان اس کی گھڑی اور ہاتھ میں پکڑے آئی فون پر تھا جس سے وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ یہ آدمی کتنا امیر ہو سکتا ہے اس کے انداز سے اسے اندازہ ہوا۔ اس نے وہیں بیٹھے ہوئے اپنی گاڑی کی چابی نکال کر سامنے رکھ دی
پھر میرے خیال میں ہمیں یہاں بیٹھ کر اپنا ٹائم برباد کرنے کے بجائے ایک خوبصورت سی ڈرائیو انجوائے کرنی چاہیے تاکہ آپ بھی انجوائے کرسکیں اور میں بھی شائزم مسکراتے ہوئے بولا تو ماریہ نے بےباک قہقہ لگایا
کافی انٹرسٹنگ ہیں آپ کا وہ جوس وہی چھوڑ کر کھڑی ہو گئی تو اس سے بھی اٹھنا پڑا۔
°°°°°
سو گئی کیا ۔وہ کمرے میں آیا تو اسے بیڈ پر لیٹے دیکھ کر بولا
نہیں تو میں تو جاگ رہی ہوں۔وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا تھا۔
کیوں جاگ رہی ہو اتنی رات ہو رہی ہے چلو سو جاو۔وہ زرا سخت لہجے میں بولا تو عمایہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی
میں آپ کا انتظار کر رہی تھی آپ نے بولا تھا آپ کی اجازت کے بنا نہیں سو سکتی وہ بہت کم آواز میں منمنائی تو اس کا یہ انداز زریام کو اور بھی بہت اچھا لگا۔
میری ہر بات ماننا فرض ہے کیا تم پر وہ اس کے قریب آتا ہوا اس کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام چکا تھا
شوہر کا حکم ماننے والی بیوی جنت میں شوہر کے ساتھ ہوتی ہے ۔وہ بہت معصومیت سے بولی ۔
اس کا انداز زریام کو بہکنے پر مجبور کر رہا تھا ۔وہ لمحے میں اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔
تم بہت پیاری ہو عمایہ ہمیشہ ایسی ہی رہنا میری ہر بات ماننا تم پر فرض نہیں ہے میرے لیے خود کو مت تھکایا کرو وہ اسے اپنی بانہوں میں قید کرتا اس کی شہہ رگ پر اہنے لب رکھتا اسے خود میں قید کرتا جا رہا تھا ۔
جب کہ اس کی محبت سے بھرپور سرگوشیاں سنتے ہوئے عمایہ اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔
وہ اس خوبصورت لمحات کی قید میں آ چکی تھی جس میں اس کا شوہر اس کے ساتھ تھا
°°°°°°
سو گئی ۔۔۔؟ اس کا سر اپنے سینے پر رکھے وہ کب سے اپنے گرد اس کا معصوم سا حصار محسوس کر رہا تھا ۔اس کی گرم سانسوں کا لمس اسے اپنے سینے پر محسوس ہو رہا تھا جن اس نے سوال کیا ۔
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
ہاں سو گئی۔وہ بول کر دوبارہ سر اس کے سینے پر رکھ چکی تھی اس کے جواب پر وہ دل کشی سے مسکرایا
میری اجازت کے بنا ۔۔وہ اسے خود میں قید کرتا پوچھنے لگا
ہاں ۔میں اب آپ کی اجازت کے بنا سویا کروں گی ۔بڑا ہی کوئی لاڈ بھرا ضدی انداز تھا ۔یقیناً اس کی بخشی قربت کا ہی اثر تھا ورنہ وہ تو اس سے کھل کر بات بھی نہیں کرتی تھی
کیوں نہیں ۔۔! وہ پوچھنے لگا
کیوں کہ آپ کی ہر بات ماننا مجھ پر فرض نہیں ہے اسی لئے میں آپ کی خاطر خود کو تھکاوں گی نہیں وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے اس کی باتیں دہرانے لگی تو کمرے میں اس کا دلکش قہقہ گونجا
میں نے کہا تھا تمہیں معصوم سمجھنا بےوقوفی ہےتم بالکل بھی معصوم نہیں ہو بہت چالاک ہو تم لڑکی بہت چالاک اس کے گردن میں منہ چھپاتا وہ بے باکی سے اسے اس کے بارے میں وہ بتا رہا تھا جو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
اس کا انداز چاہت سے بھرپور تھا وہ اس کی بانہوں میں پگھلتی چلی جا رہی تھی جب کہ ہر لمحے کے ساتھ وہ اسے اپنے قریب تر کر رہا تھا اس کی گردن چہرے اور لبوں پر جا بجا اپنے لبوں کی مہر ثبت کر رہا تھا ۔
وہ پوری طرح اس کی پناہوں میں قید تھی۔
ہمیشہ ایسی ہی رہنا چالاک سی اور ایک بات یاد رکھنا ہمیشہ اپنے دل کی سننا کسی کی باتوں میں مت آنا۔
مجھے لے کر کبھی بھی کوئی الٹا سیدھاخیال آئے تو سیدھا آکر مجھ سے پوچھنا کسی اور سے نہیں تم حق رکھتی ہو مجھ سے ہر طرح کا سوال کرنے کا
اسے اپنے قریب کرتا وہ اسےحق دے رہا تھا جب کہ اسے سنتے سنتے وہ کب نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی اسے خود بھی پتا نہ چلا
°°°°°°
تم سے ضروری بات کرنی تھی بیٹا اگر تم فارغ ہو تو کیا میں تم سے بات کر سکتی ہوں اماں اس کے کمرے میں آتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگیں
جو اپنی اسائنمنٹ بنا رہی تھی ایک طرف رکھ کر ان کے پاس آ گئی
ایسی کونسی ضروری بات ہے جس کی وجہ سے آپ مجھ سے اس طرح اجازت مانگ رہی ہیں
بات ہی کچھ ایسی ہے بیٹا جس میں تمہارا دھیان میری طرف ہونا ضروری ہے۔اماں مسکرا کر بولیں
ہاں ضرور بتائیں مجھے آپ کیا کہنا چاہتیں ہیں وہ ان کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے پوچھنے لگی تھی
بیٹا تمہیں یاد ہے تم نے کہا تھا کہ ہم تمہارے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حکم پورا حق رکھتے ہیں
یہاں تک کہ اپنی شادی کے حوالے سے تم وہیں فیصلہ کرو گی جو ہم کریں گے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں تو اس نے مسکرا کر ہاں میں سرہلایا تھا
بیٹا ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے اور میں جانتی ہوں کہ تمہیں اس فیصلے سے کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا تمہارے بابا اور تمہارے دادا پیپر سے پہلے تمہارا نکاح کرنا چاہتے ہیں
شادی پیپرز کے بعد ہوگی وہ چاہتے تھے کہ ایک بار تمہیں اس بارے میں بتا دیا جائے ۔اس کے ہاں کہنے پر وہ پرسکون تھی اسے بتانے لگی تھی جبکہ دیشم کچھ بھی نہیں بول پائی
وہ کیا کہتی اس نے ہر فیصلہ اپنے ماں باپ کو سونپ رکھا تھا وہ اسے پڑھنے دے رہے تھے اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا
۔وہ ان کی خوشیاں چھین لینے کا کوئی حق نہیں رکھتی تھی صرف ہاں میں سر ہلا گئی جب کہ اماں مسکرا کر اس کی پیشانی چومتی کے کمرے سے باہر نکل گئی تھیں اپنی ماں کے چہرے پر سکون دیکھ کر اسے بھی سکون ملا تھا
°°°°°°
شادی وہ بھی اتنی جلدی اس نے تو سوچا تک نہیں تھا کہ اتنی جلدی اس کی شادی کے بارے میں سوچا جائے گا
وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ابھی اس کی پڑھائی مکمل نہیں ہوئی تھی ابھی تو اسے اپنے خواب پورے کرنے تھے اسے بہت کچھ کرنا تھا اسے وکیل بننا تھا اور وکیل بننے کے لیے ابھی اسے بہت محنت کرنی تھی شادی تو اس کے وہم و گمان میں بھی کہیں نہیں تھی۔
اچانک اس کی شادی کر دی جائے گا یہ خیال اسے کبھی بھی نہیں آیا تھا وہ تو بس اپنی پڑھائی کو لے کر آگے بڑھ رہی تھی
اس کی بھی شادی ہونی ہے اس کی باری آئے گی یہ تو اسے سوچا بھی نہیں تھا لیکن اتنا جلدی کیوں پہلے تو سامیہ اور دیدم کی شادی ہونی تھی تو اس کا ذکر پہلے کیوں کیا جا رہا تھا
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اپنے ماں باپ کے فیصلے کے خلاف بھی نہیں جا سکتی تھی
لیکن ان سے بات تو کر سکتی تھی نہ انہیں یہ بتا سکتی تھی کہ اپنا خواب پورا کرنا چاہتی ہےاور ویسے بھی اب تو اس کا خواب بہت زیادہ دور بھی نہیں تھا
اس کے خواب اس کے بہت قریب تھے وہ اتنا وقت اپنے ماں باپ سے مانگ بھی سکتی تھی وہ لامتناہی سوچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کو اس بارے میں بتانے کا سوچ رہی تھی
اور اس میں اس کی مدد سے ایک شخص تھا خو
خداش کاظمی لیکن کیا وہ اس کی مدد کرے گا
°°°°°°
وہ باہر بیٹھی سوال سولو کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب خداش تیزی سے اندر آتے ہوئے آگے بڑھنے لگا
وہ جو سوال آپ نے مجھے دو دن پہلے سمجھایا تھا وہ مجھے ٹھیک سے سمجھا گیا تھا اب مجھے اس سوال میں پھر سے مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
کیا آپ میری مدد کریں گے وہ اوپر کی طرف جا رہا تھا جب اس کی آواز پر اس کے قدم رک گئے
اپنی اسائمنٹ میرے کمرے میں رکھ دو میں رات کو کر دوں گا صبح اپنے ساتھ لے جانا ابھی میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا مجھے واپس جانا ہے وہ کہہ کر تو تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا جب کہ دیشم دور تک اسے گھورتی رہی کہ وہ سچ مجھ میں اسے اگنور کر رہا تھا اسے لگ رہا تھا
ہاں وہ جب بھی اس سے بات کرتا تھا تو وہ آگے سے بہت بدتمیزی سے جواب دیتی اور کبھی کبھی تو سن کر بھی نہیں بولتی تھی ۔شکر ہے وہ جواب تو دے رہا تھااسے
وہ اپنا ضروری سامان لے کر واپس چلا گیا تھا جبکہ وہ اسے کہہ ہی نہ سکی کہ وہ اس سے بات کرتا چاہتی ہے
اس مسئلہ کا بس یہی ایک حل تھااس کے علاوہ گھر میں کسی کی نہیں چلتی تھی اسے ہر قیمت پر اس سے بات کرنی تھی ۔اسے نکاح سے مسئلہ نہ تھا بے شک پیپرز سے پہلے اس کا نکاح ہو جائے بس رخصتی والا معاملہ کچھ وقت کےلیے ٹل جائے وہ اس سے بس اتنی ہی بات کرنا چاہتی تھی
اب پتا نہیں وہ اس کی مدد کرے گا بھی یا نہیں لیکن ایک بار بات کرنے میں حرج تھا وہ اپنے اسائنمنٹ اس کے کمرے میں چھوڑ آئی تھی یہ بھی بہت ضروری تھی کیونکہ اس دن کلاس میں صرف اس کے ہی سوال سہی ہوئے تھے وہ اب کچھ غلط کر کے اپنی بےعزتی نہیں کروا سکتی تھی
°°°°°°
صبح صبح وہ اپنے کمرے سے نیچے آیا تو وہ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی حرم ہر روز کی طرح بےعزتی کروا رہی تھی جب کہ وہ خاموشی سے اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہیں رات کو بھول کر وہ سو نا گیا ہو اگر ایسا کچھ ہوا تو آج کے کلاس میں بہت بےعزتی ہونے والی تھی۔
وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو اس کے ہاتھ میں اس کی اسائنمنٹ بھی موجود تھی اس نے سکون کا سانس لیا تھا اگر وہ اس کا یہ کام نہ کرتا تو یقینا وہ اسے اپنےدوسرے کام کے بارے میں نہیں کہتی
اس نے خاموشی سے لاکر اسائنمنٹ اس کے سامنے رکھ دی تھی جب کہ اماں اسے مجبور کر رہی تھیں ناشتہ کرنے پر وہ جوس کا گلاس لیتا ان سے وعدہ کر رہا تھا کہ وہ ناشتہ کر لے گا لیکن اماں کو سمجھانا آسان تھوڑی تھا
اسے کھانے کا بار بار کہتی وہ ساتھ ساتھ زبردستی حرم کے منہ میں بھی کھانا ٹھونس رہی تھیں۔ وہ مسکرا کر حرم کو ترس بھری نگاہ سے دیکھتا
وہ ان دونوں کو جلدی سے ناشتہ ختم کر کے باہر آنے کا کہہ کر باہر نکل گیا اسے بہت ضروری کام پر جانا تھا دیشم فی الحال تو اپنی اسائنمنٹ کو لے کر پریشان تھی لیکن اب وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس سے بات کیسے کرے گی اور کیابات کرے گی وہ تو اس سے بالکل بات ہی نہیں کر رہا تھا
اور اپنی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے بہت عجیب بھی لگ رہا تھا وہ کہے گی کیا بات شروع کیسے کریں گی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
°°°°°°
وہ گاڑی میں اپنی اسائنمنٹ چیک کر رہی تھی جو بالکل ٹھیک تھی شکر تھا کہ اس نےاس کا کام کر دیا کہیں پرانی دشمنی کی وجہ سے وہ اس کا کام نہ کرتا تو۔ ۔؟ کیا وہ سچ میں ایک دوسرے کے دشمن تھے
آج سے پہلے اس نے یہ بات کبھی محسوس نہیں کی تھی لیکن شاید ہی اس نے کبھی اسے اگنور کیا تھا یا کبھی سے اسے مخاطب کیے بنا آگے بڑھ رہا تھا لیکن آج کل ایسا کچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا شاید اسی لیے وہ محسوس کر رہی تھی ۔
آج کل وہ اس سے بات نہیں کرتا تھا نہ ہی کچھ کہتا تھا شاید اس کی بد تمیزی کی وجہ سے وہ بے وجہ اس سے کچھ نہ کچھ کہتی تھی اگر اسے زیادہ اہمیت ملتی تھی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا یہ تو قصور گھر والوں کا تھا جو بیٹیوں سے زیادہ بیٹوں کی اہمیت دیتے تھے
وہ تو اسے بہت نرمی سے بات کرتا تھا اس کی بد تمیزی کو بھی نظر انداز کر دیتا تھا آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے کبھی اس شخص کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا
اور وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ آج اسے اپنا مطلب تھا اگر اسے اپنا مطلب نہ ہوتا تو یقینا اس بارے میں سوچ بھی نہیں لیکن آج اسے سوچنا پڑ رہا تھا
اس کی یونیورسٹی آ گئی تھی وہ اس کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا جب وہ کافی دیر اپنی ہی سوچوں میں گم رہی تو ہر حرم کو اسے مخاطب کرنا
کیا ہوا آپو آج کیا یونیورسٹی نہیں جا رہی میرے ساتھ کالج چلیں گی بہت مزا آئے گا میں آپ کو سموسہ چاٹ کھلاؤں گی وہ خوشی سے کہنے لگی تھی جب کہ وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتے ان دونوں کو خدا حافظ کہتی جلدی سے گاڑی سے نکل گئی تھی
ارے ان کو کیا ہو گیا حرم سوچنے لگی
اس کا تو میں نہیں جانتا لیکن سموسہ چاٹ والی بات اماں کو پتہ چلے گی آج اس کی چوری پکڑی تھی اور اب وہ اس کی منتیں کر رہی تھی جب کہ خداش اس کی شکلوں پر مسکرائے جا رہا تھا
°°°°°°
وہ کلاس روم میں جا رہی تھی ۔جب سامنے ہی سر کو سٹاف روم میں جاتے ہی دیکھا ہو
السلام علیکم سر ۔وہ بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آتے ہوئے سلام کرتی اسے چکی تھی ۔یشام کی تو صبح حسین ہو گئی تھی اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
سر ّوہ جھے آپ کو بتانا تھا میں امرود نہیں کھاتی اور نہ ہی میں وہ امرود کھانے کے لئے گئی تھی تو پلیز کلاس میں ایسا کچھ بھی نہ کہیے گا میں وہاں امرود کھانے نہیں گئی تھی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی
اچھا تو آپ امرود نہیں کھاتی تو پھر آپ وہاں کیوں گئی تھی کیا کرنے آئی تھی آپ وہاں وہ سینے پر ہاتھ باندھنا دلچسپی سے اس سے پوچھنے لگا تھا
وہ میں وہاں ۔۔۔۔ وہ سوچنے لگی تھی اگر وہ اس سے یہ کہتی کہ وہ اس سے رنگے ہاتھوں پکڑنے وہاں آئی تھی تو وہ کیا سوچتے۔
بولے مس حرم میں انتظار کر رہا ہوں آپ وہاں کیوں آئی تھی اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک رنگ جا رہا تھا اس کے یہ رنگوں سے بہت حسین لگ رہے تھے
امرود کھانے وہ کافی دیر کے بعد بولی ۔جس پر وہ مسکرا دیا تھا
میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گا آپ بے فکر ہو کر اپنی کلاس میں جا سکتی ہیں اس نے مسکرا کر کہا تھا جس پر ہر حرم سر ہلاتے اپنی کلاس میں چلی گئی
حد ہوتی ہے کسی چیز کی میرا ہی دماغ خراب ہے اگر سر خود سوچ ہی رہے ہیں تو پھر بات کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت ہے ہاں میں امرود چوری کرکے کھانے گئی تھی وہاں وہ خود کو کوستی کلاس میں چلی گئی تھی
°°°°°°
