65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 58)

Junoniyat By Areej Shah

اچانک دروازے پر ہونے والی دستک نے ان تینوں کو پریشان کر دیا تھا

ریدم اپنے ماما بابا کے بیچ لیٹی نیند کا انتظار کر رہی تھی ساگر بار بار اس کے چہرے کو چومتا وہ جتنا اپنی بیٹی کو دیکھتا اسے اتنا ہی اس پر پیار آتا تھا ۔

اس وقت کون آ سکتا ہے ۔وہ پریشانی سے سوچنے لگا تھا کیونکہ وہ۔لوگوں سے کم ہی ملتا تھا صرف اپنا کام کرتا اور گھر واپس آ جاتا

افیشن بھی کسی کے ساتھ زیادہ رابطہ رکھے ہوئے نہیں تھی تو اتنی رات گئے ان کے گھر میں کسی کا آنا حیرت کی بات تھی ۔

میں دیکھتا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ وہ اس کو دیکھتے ہوئے اٹھ کر دروازے کے پاس آ گیا گھر میں صرف دو ہی کمرے تھے اور اوپن کچن تھا ۔سب کچھ سامنے ہی تھا اس لیے اندر کمرے سے بھی دیکھ سکتی تھی کہ باہر کون آیا ہے لیکن ساگر نے دروازہ بند کر کے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا

اس نے دروازہ کھولا تو سامنے دروازے پر دو آدمی کھڑے تھے دونوں چہرے اس کے لیے انجان ہرگز نہیں تھے ۔ایک پل کے لیے وہ ڈر سا گیا تھا لیکن ان کے چہرے پر شفیق مسکراہٹ دیکھ کر اس کو کچھ اطمینان ہوا ۔

اگر اجازت ہو تو کیا ہم اندر آ سکتے ہیں بے حد نرمی سے مسکراتے ہوئے سوال کیا گیا ۔

جی بھائی اس میں پوچھنے والی کون سی بات ہے آپ کا اپنا گھر ہے اس نے پرجوش انداز میں کہا

جبکہ وہ دونوں بھی مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوگئے تھے ۔ریدم دروازے سے جھانک کر کےان لوگوں کو دیکھ رہی تھی ۔

ارے یہ پیاری سی گڑیا کون ہے وہ بچی کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر پوچھنے لگے جو ان کے بلانے پر باہر آ گئی تھی ۔

ہماری بیٹی ہے ۔اور بہت جلد ہماری فیملی مکمل ہونے والی ہے ۔وہ انہیں بٹھاتے ہوئے خوشی سے بتا رہا تھا جب کہ وہ بھی ریدم کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے مسکرا دیے تھے ۔

باہر آواز سننے کے بعد بھی افشین نے باہر کی طرف نہیں دیکھا تھا اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف سر اٹھا رہا تھا اس کی ڈلیوری کو ایک مہینہ بھی باقی نہیں بچا تھا اور یہ دن اسے بری طرح سے ڈرا رہے تھے جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔

°°°°°°°

ٹھنڈ کافی زیادہ ہے یہاں جیکٹ پہن لو یا کوئی شال لے لو ۔وہ ابھی ابھی ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو ڈرائیور ان کا منتظر تھا .

نہیں اتنی بھی ٹھنڈ نہیں لگ رہی وہ جواب دیتے ہوئے گاڑی کا پچھلا دور کھولنے لگی ۔

چابی مجھے دو گاڑی میں خود ڈرائیو کروں گا دیشم آگے آو

وہ ڈرائیور سے مخاطب ہوا تھا جب کہ ڈرائیور اس کی بات پر ہاں میں سر ہلاتا جیسے اس کے حکم کا غلام تھا ۔

وہ جو پیچھے بیٹھنے ہی والی تھی اس کے حکم پر اگلی سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر بیٹھ گئی باہر واقع بہت زیادہ ٹھنڈ تھی لیکن اس کی بات کو اہمیت نہ دینے کے لیے اس نے سویٹر یا شال لینے سے انکار کر دیا تھا ۔

ڈرائیور کیسے جائے گا اسے گاڑی سٹارٹ کرتے دیکھ کر پوچھنے لگی ۔

وہ کوئی بچہ نہیں ہے جانتا ہے کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے ہماری ایک دوسرے کے ساتھ ہمیں ٹائم سپینڈ کرنا ہے وہ اپنا کوئی نہ کوئی انتظام کر لےگا اور ویسے بھی میں نے اسے کرائے کے بھی پیسے دے دیے ہیں ۔

تو آپ آگے پیچھے بیان دینے کے بجائے ذرا اپنے شوہر پر نظر کرم کردے تو آپ کا احسان ہوگا ۔

اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی جب کہ وہ بنا کچھ بولے سامنے دیکھنے لگی

ایک تو اس لڑکی کا نظر انداز کرنا واللہ یوں ہی تو نہیں قربان اس پر ۔وہ آہ بھر کر میوزک آن کر چکا تھا

یوں ہی نہیں تجھ پہ دل یہ فدا ہے

سب سے تو علیحدہ سب سے جدا ہے

اس نے جیسے ہی میوزک اون کیا جیسے گانا بھی اس کے دل کی ترجمانی کر رہا تھا ۔

دیشم کو پہلے ہی کوفت ہو رہی تھی اس کے ساتھ سے لیکن اب اس رومنٹک گانے نے اسے مزید بیزار کر دیا تھا ۔

ناممکن تجھ بن اک پل بھی رہ پانا ۔

دل میرا چاہے جب بھی تو آئے

تجھ سے کہوں میں واپس نہ جانا ۔

وہ مسکراتے ہوئے اس گانے کو انجوائے کر رہا تھا جب کہ دیشم تو کھڑکی سے ہی باہر دیکھنے لگی ۔

مجھے وہ ہر گانا پسند ہے جو اندر کے دل کا حال بیان کر دے ۔اس نے جیسے اپنی پسند اسے بتانا ضروری سمجھا تھا ۔

اور مجھے اس طرح کے چھچھورے گانوں سے الجھن ہوتی ہے پتہ نہیں اس طرح کے الفاظ کہہ کر یہ سنگرز کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔

محبت کے بڑے بڑے ڈائیلاگ بڑے بڑے دعوے درحقیقت ‘حقیقت نہیں ہوتے دیشم نے بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

تمہارے ناولوں کے ہیرو کیا ڈائیلاگ نہیں بولتے ۔سچی محبت کے دعوے نہیں کرتے۔یقیناً کرتے ہیں لیکن تم تو پھر بھی ان پر فدا ہوئی جا رہی ہواور یہاں اصل زندگی میں تم پرچھ فٹ کا آدمی مر مٹا ہے اس کی کوئی قدر نہیں

مسٹر خداش کاظمی یہاں بات نہ تو میرے ناول کی ہو رہی ہے اور نہ ہی میری اپنی ذات کی ہم اس گانے کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔

میں تو پہلے بھی اپنے بارے میں بات کر رہا تھا مسز خداش کاظمی اور اب بھی اپنے ہی بارے میں بات کر رہا ہوں ۔

ہمارا یہ رشتہ تمہارے لیے نہ سہی لیکن میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔تمہارا یہاں آنا مجھے اچھا لگا بے شک تم اپنے مطلب کے لئے ہی آئی ہو لیکن مجھے سچ میں اچھا لگا ۔

وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو دیشم نے اسے گھور کر دیکھا ۔

بہت پرانی نہیں بلکہ آج صبح کی بات تھی پہلے وہ کمرے سے نکل گیا لیکن باہر جاتے ہی اس نے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر آگے پڑھنے کا ارادہ رکھتی ہو تو یہ ڈرامے بازی بند کرو اور خاموشی سے میرے ساتھ ہنی مون پر چلو ۔

میں تمہاری ذات سے یا اپنی وجہ سے اپنے گھر والوں کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا اس وقت سب لوگوں کی نظریں ہم پر ہیں

سب کا دھیان ہماری طرف ہے اسی لئے تمہارے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ اپنی فضول ضد چھوڑو اور میرے ساتھ چلو ۔

ورنہ میں تمہیں زبردستی بھی لے جاؤں گا اور یہ مت بھولو کے تمہارا وکالت کرنےکا خواب بھی میری ملکیت میں ہے اسے خداش کی دھمکی پر غصہ تو بہت زیادہ آیا تھا لیکن وہ مجبور ہوگئی تھی۔

اور پھر اماں کی باتوں پر اسے افسوس ہوا تھا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے جو بھی کہا تھا صحیح کہا تھا لیکن وہ سب کے سامنے جھوٹا دکھاوا کیسے کر سکتی تھی وہ خوش نہیں تھی تو سب کے سامنے اپنے آپ کو خوش ظاہر کیسے کرسکتی تھی

یہ اس کے لئے مشکل تھا لیکن اپنے خواب پورے کرنے کے لیے اسے یہ ڈرامہ بھی کرنا تھا اب نا چاہتے ہوئے بھی اسے ایک ایسے شخص کے ساتھ رہنا تھا جس سے وہ نفرت کر بیٹھی تھی

°°°°°°

تم لوگ اس طرح سے کالج سے یہاں گھر آگئے اور حرم میں نے تم سے کہا تھا ہم دونوں ساتھ واپس آئیں گے

وہ گھر میں داخل ہوتا تھا اس کے سر پر سوار ہوا تھا جو نوڈلز بنا کر اب مزے سے کھا رہی تھی

صیام سر ان سے کہیں کہ میں ان سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور آپ کو کیا کسی نے مینرز نہیں سکھائے اندر آتے ہوئے سلام کیا جاتا ہے پھر بات کی جاتی ہے

اس نے پہلے اپنی بات کرنے کے لئے صیام کو کبوتر بنانا چاہا تھا لیکن پھر احساس ہوا کہ خود بولنا زیادہ بہتر رہے گا آخر وہ کوئی چھوٹی بچی نہیں تھی وہ اپنی جنگ خود لڑسکتی تھی ۔

اسے کلاس سے نکالنے کے بعد اس نے مڑ کر اسے دیکھا بھی نہیں تھا بلکہ مکمل نظر انداز کرتا ہوا چلا گیا اور اس کے بعد باقی کی کلاسیز لی تھیں ۔

جب اسے فون آیا کہ وہ دونوں لنچ کے لیے جا رہے ہیں ۔وہ بھی اسے چھوڑ کر ۔

اس کی ناراضگی سمجھ کر اسے بھیجتے ہوئے وہ واپس اپنے کام میں مصروف ہوگیا لیکن وہ واپس کالج جانے کے بجائے سیدھے گھر آگئے تھے ۔

مجھے مینرزسیکھانے والی میری ماں میرے بچپن میں ہی مجھے چھوڑ کر چلی گئی تو اس بات کا کبھی گلہ مت کرنا اور تم مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرو گی ۔

ذرا اس بات پر روشنی ڈالنا پسند کرو گی تم وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا ۔

کیونکہ آپ بالکل بھی اچھے ٹیچر نہیں ہیں میں آپ سے ناراض ہوں ۔آپ کو ذرا بھی احساس ہے کہ ساری کلاس کے سامنے مجھے بےعزت کیا آپ نے مجھے باہر نکال دیا

کیونکہ میں وہ لیپ ٹاپ لے جانا بھول گئی تھی ۔

تم کتابیں لے جانا نہیں بھولی؟ اپنی نوٹ بکس لے کر جانا نہیں بھولی؟ تو لیپ ٹاپ لے جانا کیسے بھول گئی؟ میں نے تو تمہیں ہر چیز لا کر دی تھی ۔

اور یہ سب کچھ میں اسی لئے لایا تھا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ تمہیں اس چیز کی ضرورت ہے میں نے تمہیں کل رات کو بھی بتایا تھا کی نوٹس لیپ ٹاپ پر بنائے جائیں گے لیکن پھر بھی تم اسے چھوڑ کر چلی گئی غلطی تمہاری ہے میری نہیں ۔

اس بات پر تمہارا ناراض ہونا بالکل نہیں بنتاخیر تم لوگ لنچ کرنے گئے تھے تو یہاں یہ نوڈلز کیوں کھا رہے ہو ۔

صیام کے آفر کرنے پر اس نے پوچھا تھا ۔

تمہاری عقلمند بیوی کی وجہ سے میرا والٹ چوری ہوگیا محترمہ کو ایک غریب بچے پر بہت ترس آ رہا تھا اس نے مجھے زبردستی وہاں رکوایا اور کہا کہ میں اسے پیسے دوں بچہ اتنا تیز نکلا اور میرا والٹ لے کر ہی بھاگ گیا ۔

چور کہیں کا آج کل کے بچوں پر بھی نا انسان یقین نہیں کر سکتا ۔

ایسا مت کہیں صیام سر نہ جانے اس کی کیا مجبوری رہی ہوگی ورنہ کوئی جان بوجھ کر چوری نہیں کرتا حرم کو اس کے انداز پر افسوس ہوا ۔

ہاں بالکل تم تواس کےگھر سے ہو کر آئی ہو ناں تمہیں سب کچھ پتہ ہے یہ نوڈلز کھانے کے ہی پیسے بچے تھے ورنہ آج دوپہر کو بھوکا رہنا پڑتا صیام نے تفصیل سے قصہ سنایا ۔

یہی تو مسئلہ ہے کہ جب تک ہم کسی کے گھر سے نہ ہو کر آئیں گے تب تک ہمیں اس کی مجبوری کا احساس نہیں ہوتا اور آپ نےخبردار جو اب اسے چور بولا بیچارہ کتنا معصوم بچہ تھا انسان کی ہزار طرح کی مجبوریاں ہوتی ہیں یقیناً اس معصوم بچے کی بھی کوئی مجبوری ہی

ہوگی اچھا ہی ہے کہ آپ کے پیسے اس کے کام آجائے گیں ۔

حرم یہ بات تو ماننے والی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی مجبوری ہو جس کی وجہ سے اس نے یہ کام کیا لیکن اس نے غلط کام کیا بے شک مجبوری میں ہی سہی یشام۔نے اسے سمجھانا ضروری سمجھا تھا ۔

یعنی کہ جو غلط ہے وہ ہر حال میں غلط ہے بے شک مجبوری میں ہی کیوں نہ کیا جائے وہ اسے دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولی تو دونوں نے ہاں میں سر ہلایا ۔

آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی کیونکہ آپ کا ماننا ہے کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

( جو نہیں کرتے وہ تو مجھے کلاس میں ہی پتہ چل گیا کہ آپ کو مجھ سے کتنی محبت ہے )لیکن آپ کا ماننا ہے کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں

آپ نے مجھے کڈنیپ کیا اور زبردستی نکاح کیا اور پھر مجھے اتنی دور یہاں لے آئے کیا یہ غلط نہیں تھا؟

اس کے پیچھے میری مجبوری تھی میں تم سے محبت کرتا ہوں سیدھے طریقے سے تم کیا میری بات مانتی اسے حرم کی مثال ہرگز پسند نہیں آئی تھی وہ ایک چور سے اس کا مقابلہ کر رہی تھی

بالکل اور یہ پیسے بچے کی مجبوری تھے شاید وہ بھوکا تھا شاید اسے پیسوں کی ضرورت تھی اگر وہ صیام سر سے سارے پیسے مانگتا تو کیا صیام سر خوشی خوشی اسے دے دیتے نہیں نہ ۔۔۔۔۔۔

جس طرح سے آپ نے اپنی تسلی کے لئے مجھ سے نکاح کیا مجھے یہاں لے کر آئے سب سے دور اسی طرح اس بچے نے صیام سر سے پرس چھین کر اپنی تسلی کر لی ۔

اس دنیا میں ہر انسان کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہے اور ہر انسان اپنے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتا ہے ۔اور سر آپ فکر نہ کریں آپ کے پیسے میں آپ کو واپس کر دوں گی میرے شوہر سرکو تنخواہ ملنے دیں آپ یہ پیسے میرے کھاتے میں ڈال دیجئے ۔اس نے بڑی بے نیازی سے نوڈلز کا چمچ بھرتے ہوئے یشام کے منہ میں ڈال دیا کہیں وہ انکار نہ کردے ۔

شکریہ بہنا سچ میں تم بہت اچھی ہو صیام یشام کی شکل دیکھ کر کھل کر ہنسا تھا ۔جس نے آج سے پہلے نوڈلز چکھے تک نہیں تھے

اس کی معصوم سے بیوی بڑی ہی چالاکی سے اسے نوڈلز کھانے پر مجبور کر گئی تھی ۔

°°°°°°°

اپنا سامان پیک کرو عمایہ ہم ابھی اور اسی وقت یہ گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں

ذریام کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس سے بولا تھا ۔

جو اس وقت اس کے موبائل پر نیو بورن بے بیز کے نام چیک کر رہی تھی

کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگی تھی ۔

اگر کچھ ٹھیک ہوتا تو کیا میں تمہیں ایسا کرنے کے لئے کہتا اپنا سامان پیک کرو تم اور میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں ابھی شہر میں میرا فلیٹ ہے ہم اب سے وہاں رہیں گے ۔

چلو جلدی کرو وہ پیار سے اس کا چہرہ چومتے ہوئے بولا اور خود ہی اس کے کپڑے الماری سے نکالنے لگا

عمایہ بھی اس سے کوئی بھی سوال کئے بنا اس کی مدد کرنے لگی تھی ۔اسے بھی زریام کے علاوہ کیا چاہیے تھا اگر وہ اس کےساتھ تھا تو کیسی پریشانی وہ ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی

°°°°°°

تم آج اس طرف کروٹ لے کر کیوں سو رہی ہو ۔۔۔۔وہ نائٹ سوٹ چینج کرتے روم میں آیا تو اس سے پوچھنے لگا تھا جو دوسری طرف منہ کیے لیٹی ہوئی تھی ۔

کیونکہ میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی “میں ناراض ہوں آپ سے “حرم ایک نظر اسے دیکھتی پھر سے پلٹ گئی تھی ۔

اور اپنی ناراضگی کی وجہ بھی مجھے بتا دو ۔۔۔” یشام اسی کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا اس کا اب تک ناراض رہنا اسے اچھا نہیں لگا تھا وہ یہ تو جانتا تھا کہ وہ ناراض کیوں ہے۔

لیکن اس معاملے پر وہ اسے کسی طرح کی کوئی رعایت نہیں دینا چاہتا تھا

باربار یاد کروا کے کیوں میری نظر میں بُرے بن رہے ہیں آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اچھا ٹیچر بننے کی کوشش کریں گے لیکن آپ نہیں ہیں، اکڑو سڑے ہوئے کھڑوس ڈیش ڈیش ڈیش ۔۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بول رہی تھی ۔اس نے انداز پر وہ مسکرایا

میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو لیکن جس بات پر تم مجھ سے ناراض ہو اس بات پر ناراض ہونا بالکل نہیں بنتا اسی لئے اپنی ناراضگی ختم کرو اور آئندہ ایسی غلطی مت کرنا ۔

مطلب آپ مجھے سوری نہیں بولیں گے۔۔۔۔؟ اس کے اتنے پیار سے بات کرنے پر اس کی گردن تھوڑی اکڑ گئی تھی جیسے وہ سوری بولنےوالا ہو۔۔

تبھی اس کے یوں اچانک اٹھنے پر اس کا ہاتھ تھام کر بولی ۔

جان جہاں مجھے محسوس ہو گا کہ میں غلط ہوں وہاں میں تمہیں سوری بولوں گا وہ بڑی ہی نرمی سے اس کی تھوڑی کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اس کا ماتھا چوم کر پیچھے ہٹ گیا تھا ۔

میرا نام حرم ہے وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ کر بولی ۔یقینا غصہ اس کے قریب آنے پر نہیں بلکہ اس کے سوری نہ بولنے پر تھا ۔

جی حرم جان میں جانتا ہوں ۔وہ مسکرا کر بولا تھا ۔

اس بار تو میں آپ کو معاف کر رہی ہوں لیکن اگر آپ نے مجھے دوبارہ ڈانٹا نہ تو میں آپ سے پکی والی لڑائی ہو جاؤں گی ۔وہ خود ہی اپنا دل بڑا کر کے بولی تو یشام اپنی سائیڈ پر لیٹتے ہوئے کھل کر مسکرا دیا ۔

اور ہاں مجھے یاد آیا مجھے لیپ ٹاپ یوز کرنا نہیں آتا میں نے کبھی بھی نہیں کیا مجھے کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ہمارے کالجوں میں لیپ ٹاپ پر نوٹس بنانے کا رواج نہیں تھا ۔

وہ اسے چڑانے والے انداز میں بولی تو اس کا جواب بڑے ہی محبت بھرے لہجے میں آیا ۔

میں سکھاوں گا اپنی جان کو ۔اس کے انداز پر مزید چڑ کر لیٹ گئی ۔

جبکہ اس نے مسکراتے ہوئے اس پر ٹھیک سے کمبل ڈالا تو وہ کروٹ لے کر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔

یہ والا کالج بہت اچھا ہے لیکن مجھے نہ میرا اپنے والا کالج زیادہ یاد آتا ہے ۔یہاں کی لڑکیاں بہت بری ہیں کتنا میک اپ کرتی ہیں ہمارے ٹیچرز تو ہمیں میک اپ ہی نہیں کرنے دیتے تھے ۔

وہ ساری مجھ سے زیادہ پیاری لگتی ہیں وہ ناخن کھاتے ہوئے اسے عجیب و غریب وجہ بتانے لگی اس کالج کو ناپسند کرنے کی ۔۔

اس کے مسئلے کو سمجھتے ہوئے یشام نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا اسے بے ساختہ اس کے ناخنوں پر ترس آیا تو اس نے اس کے ہاتھ کو چوم لیا ۔

ان سب چیزوں کی طرف دھیان مت دو تم بس اپنی پڑھائی کرو وہ نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اسے اپنے قریب کر گیا ۔

لڑکیوں پر نہ دھیان دوں۔ان کے فیشن پرنہ دھیان دوں اور نہ ہی آپ کی ڈانٹ پردھیان دوں اور گھر آ کر آپ کی ڈانٹ کو بھول بھی جایا کروں

کیونکہ آپ مجھے سوری بھی نہیں بولا کریں گے اس کو اب تک اس کے سوری نہ بولنے کا افسوس تھا ۔

اچھا بابا آئی ایم سوری اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ کھل اٹھی ۔

ہیں سچی آپ نے مجھے سوری بولا اب آئندہ مجھے کبھی نہیں ڈانٹیں گے ناں اسے اگلے دنوں کی ضمانت چاہیے تھی ۔

میں نے کہا ناں کالج کی لائف ہمارے پرسنل لائف سے بالکل الگ ہے اور سوری میں نے تمہیں اس لیے نہیں بولا کہ میں نے تمہیں ڈانٹا ہے! بلکہ سوری میں ابھی کے لیے بول رہا ہوں کیونکہ تمہارے لب مجھے بہکا رہے ہیں ۔وہ کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔

حرم اچانک ہونے والے اس حملے پرساکت رہ گئی تھی اپنے لبوں پر اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے کتنی دیر وہ کچھ بول ہی نہ سکی

جب کہ اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں قید کرکے وہ اس کا نازک سا وجود اپنے سینے میں چھپا چکا تھا ۔

حرم نے بے ساختہ ہیں اس کے گرد اپنی نازک سے بانہوں کا حصار بنایا تو وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے آہستہ سے لائٹ بند کر گیا ۔

°°°°°°°°°