65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 84)

Junoniyat By Areej Shah

میری بچی میری جان نانا جان اس کا ماتھا چومتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا چکے تھے جب کہ وہ کتنی دیر ان کے سینے پر سر رکھے خود بھی پرسکون رہی تھی جب اچانک کمرے میں تانیہ داخل ہوئی

دادا جان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی آپ ان سے کوئی بات نہیں کر سکتی آپ بعد میں آئیے گاپلیز یہ میرا وقت ہے اور میں اپنا وقت کسی کے ساتھ شیئر نہیں کروں گی وہ تانیہ کا انداز دیکھتے نانا جان کے مزید ساتھ لگتے ہوئے بڑے مان سے بولی تھی

یہ صرف آپ کے تو نانا ہیں نہیں کہ صرف آپ ہی ان سے بات کر سکتی ہیں ۔تانیہ نے کھا جانے والے انداز میں کہا تھا جبکہ اس کی جلن کو محسوس کرتی وہ بڑی خوش ہوئی تھی

نانا جان تو یہ صرف میرے ہی ہیں البتہ آپ اپنے رشتے سے ان سے کبھی بھی کہیں بھی مل سکتی ہیں لیکن یہ وقت میرا ہے ۔

نانا جان کہییے ان سے کے مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ابھی تو میں آپ کو خود کے علاوہ اور کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرنے والی اس کا اندازہ لاڈ سے بھرپور تھا

وہ برسوں اپنے اپنوں سے رشتوں سے دور رہی تھی وہ ہوسٹل میں پلی بڑھی تھی لیکن خود سے محبت کرنے والوں سے ناز اٹھانا اچھے طریقے سے جانتی تھی جب کہ نانا جان تو اس کے ہر انداز پر قربان ہونے کو تیار بیٹھے تھے

تانیہ میری جان بچے تم بعد میں آ جانا انہوں نے مسکراتے ہوئے تانیہ سے کہا تھا

لیکن دادا جان مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے اب گھر میں یہ آگئی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا آپ کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا وہ کافی بدتمیزانہ انداز میں بولی تھی

ہائے اللہ یہ میں نے کب کہا کہ آپ کا ان سے تعلق ختم ہوگیا میرے آنے سے کیا ہوجائے گا بھلا میں تو اتنے دنوں سے نانا جان کے سینے سے نہیں لگی تھی اسی لیے کہہ رہی تھی لیکن اگر آپ کی بات زیادہ ضروری ہے تو آپ کر لے اس نے چہرے پر معصومیت سجاتے ہوئے ان کے سینے سے سر ہٹایا تھا

اتنے سالوں سے آپ ان کے ساتھ ہی تھی نا کیا ہو جاتا اگر تھوڑی دیر میں ان کے ساتھ وقت گزار لیتی لیکن آپ اپنی باتیں کرے میرا کیا ہے میرے تو نصیب میں ہی انتظار لکھا ہے کرلوں گی میں بعد میں آ جاؤں گی ۔آنکھوں سے آنسو صاف کرتی وہ ان کے پاس سے اٹھنے لگی تھی جب نانا جان نے اس کا ہاتھ تھام لیا

نہیں میری جان تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔تم جب چاہے جیسے چاہے اپنے نانا جان کے کمرے میں آسکتی ہو ان سے باتیں کر سکتی ہو کوئی تمہیں کچھ بھی کہنے کا حق نہیں رکھتا اور تانیہ بیٹا آپ بعد میں آئیے گا چلی جائیں اس کمرے سے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے جو اس کی بد تمیزی کو جانے کیسے برداشت کرگئے تھے لیکن ان کے انداز میں وارننگ ضرور تھی

کہ وہ آج کے بعد ریدم کا دل دکھانے کی وجہ ہرگز نہیں بنے گی

وہ کتنی ہی دیر ان کو دیکھتی رہی جب کہ دادا جان اسے نظر انداز کرنے کے بعدریدم کی طرف متوجہ ہوگئے تھے جو پتا نہیں کون کون سی باتیں کرنے لگی تھی اس نے اتنی صفائی سے تانیہ کو اپنے اور دادا جان کے بیج سے نظر انداز کیا تھا کہ وہ خود بھی سوچ کر رہ گئی تھی کہ وہ وہاں موجود ہے بھی یا نہیں یقیناً یہ اس نے کل رات والی بات کا بدلہ لینے کے لئے کیا تھا

شاید اب وہ اسے یہی بتانے والی تھی کہ خاندانی کزنز ہی اگنور نہیں ہوتی بلکہ پوتیاں بھی ہوتی ہیں

°°°°°°°

ارے کچھ نہیں کچھ نہیں بس معمولی سا نشان ہے کچھ نہیں ہوتا ڈاکٹر اس کے ہاتھ پر بڑی ہی محبت سے مرہم لگاتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کی سوں سوں اب بھی جاری تھی

لگتا ہے پہلی دفعہ کچھ بنانے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تو اس نے زور شور سے ہاں میں گردن ہلائی تھی

میری جان اگر آپ کو بنانا نہیں آتا کچھ تو آپ کو یہ کوشش کرنے کی ضرورت کیا تھی اس کے ہاتھ پر مساج کرتے ہوئے ڈاکٹر نے تفصیل جاننا چاہی کیونکہ اس کا انداز ڈاکٹر کو بہت کیوٹ لگ رہا تھا

مجھے اپنے شوہر کے معدے میں اترنا ہے اسی لیے میں ان کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی ۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کھانا بنایا تھا تب صیام سر ساتھ تھے سب کچھ انہوں نے بنایا تھا میں نے صرف چمچ ہلایا تھا

اور آج توے پر پراٹھا میں نے خود ڈالا لیکن توےپر گھی تھا جس سے میرا ہاتھ جل گیا وہ تفصیل سے بتا رہی تھی ۔

تو مسٹر شوہر آپ کی بیوی کیا اپنے جلے ہوئے ہاتھ کے ساتھ آپ کے معدے پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے یشام کو دیکھا تھا جو کافی زیادہ پریشان لگ رہا تھا ۔وہ ہلکے ہلکے اس کے ہاتھ پر پھونک مارتے ہوئے اس کا درد کم کرنے کی بھی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا

حرم میری جان میرے معدے میں میرے دل میں میرے گردے میرے پھیپھڑے میں ہر جگہ صرف تم ہی تم ہو خدا کے لئے آج کے بعد کبھی بھی پراٹھا بنانے کی کوشش مت کرنا بلکہ تم کچھ بھی مت بنانا ۔وہ بہت پیار سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا

جبکہ ڈاکٹر اپنا کام سے فارغ ہو کر اسے ایک ٹیوب لکھ کر دے چکی تھی ۔

مجھے ایسے شوہر بہت اچھے لگتے ہیں جو اپنے بیوی کی فکر کرتے ہیں اور ایسی بیوی بھی جو اپنے شوہر سے محبت کرتی ہیں ۔میں اکثر ایسے کپلز کو الگ الگ کر کے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے لیے کہتی ہوں لیکن آج میں آپ دونوں کو ایک ساتھ کہوں گی کہ میں نے آپ دونوں جیسا پیارا کپل کبھی نہیں دیکھا ۔

آپ دونوں کو ایک دوسرے سے اظہار محبت کرنے کی ضرورت ہی نہیں آپ دونوں کا انداز اس بات کا گواہ ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اللہ پاک آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے

یہ میڈیسن میں نے لکھ کر دے دی ہے یہ ٹیوب آپ دو تین دفعہ لگائیں گے تو ان کے ہاتھ سے درد کے ساتھ ساتھ یہ نشان بھی غائب ہوتا جائے گا اور حرم اپنے شوہر کی بات پر کبھی مت آنا دل میں اترنے کی کوشش جاری رکھو

ہاں لیکن ہمیشہ کسی بڑے کو ساتھ رکھ کر ہی یہ کوشش کرنا ان شاءاللہ تم جلد ہی کھانا بنانے میں ماہر ہو جاؤ گی بس یہ سوچنا کہ یہ چیز کھا کر تمہارا شوہرخوش ہوگا توتم اپنے آپ سے سیکھ جاو گی کسی بھی چیز کو سیکھنے کے لئے لگن ہونا ضروری ہے ۔

اور تم میں کھانا بنانے کا شوق ہو یا نہ ہو لیکن تمہیں اپنے شوہر کے دل میں اترنے کے لئے کوشش کرنی ہے یہ لگن اپنے آپ تمہارے اندر پیدا ہو جائے گی ۔

وہ بہت محبت سے اسے سمجھا رہی تھی جبکہ یشام جو اسے کچن میں دوبارہ نہ جانے کا کہہ رہا تھا ڈاکٹر کی بات سن کر صرف اسے گھور کر رہ گیا

°°°°°°°

ولیمہ رات کے وقت کے رکھا گیا تھا جس کے لئے سب لوگ آرام سکون سے تیاری کرنے والے تھے ۔ولیمے میں بہت لوگ شامل ہونے والے تھے بڑے سے بڑے نامور لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا

وہ جتنا ایکسائیٹڈ کل تھا آج اس کی ایکسائٹمنٹ ماند پڑ چکی تھی کیونکہ اسے تھوڑی دیر پہلے ہی پتہ چلا تھا کہ آج ریدم رات کو اپنے گھر واپس جا رہی ہے اور اسے یہ بات بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی ۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں کسی کو اس کی پسند کی پرواہ نہیں تھی یہاں اگر کسی چیز کی پرواہ تھی تو یہ کہ یہ رسم ادا کرنی ہے اور ہر حال میں کرنی ہے ۔

اس نے تو دادا جان سے یہ تک کہہ دیا تھا کہ رسم آپ لوگ کل ادا کر لیجئے گا لیکن دادا جان نے پھر اسے ایسی نگاہوں سے گھورا تھا کہ وہ کچھ کہہ ہی نہ پایا ۔

اور وہ حسینہ کیسے مزے سےسب سے پیار لے رہی تھی ۔عمایہ اس سے ایسےباتوں میں مصروف ہوئی تھی جیسے صدیوں سے بچھڑی دو بہنیں ہوں ۔

اور ماما تو بس اس کی بلائیں لے رہی تھی اور وہ شرماتے ہوئے کبھی ادھر تو کبھی ادھر جا رہی تھی ۔

اچانک اس کی نظر اس کی طرف اٹھی تو اس نے شرما کر نگاہیں جھکا لی تھی اس کے انداز پر اسے جھٹکا لگا تھا وہ اس سے کیوں شرمارہی تھی ۔سمجھ نا آیا کل رات تو بڑے مزے سے اس کے آنے سے پہلے ہی سو گئی تھی تو اب اسے دیکھ کر شرمانے کی بھلا کیا تک بنتی تھی ۔

وہ سوچ کر رہ گیا تھا اور پھر اس کی نظر جنت اور عمایہ کی طرف اٹھ گئی تھی جو شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ خامخواہ میں شرمندہ ہو گیا ۔

اور اگلے ہی لمحے وہاں سے باہر نکل گیا یہ لڑکی صرف چڑیل ہی نہیں بلکہ ڈرامہ باز بھی تھی ۔ سب پر اپنا اور اس کا رشتہ بڑی ہی خوبصورتی سے ظاہر کر رہی تھی اور سب کو یہ بتا رہی تھی کہ ان کے رشتے میں سب کچھ ہے وہ ایک پرفیکٹ کپل ہے ۔

اس کا دل تو چاہا کہ سب کو چلا چلا کر بتائے کہ کل رات اس لڑکی نے اس پر کتنا ظلم کیا ہے اس کے معصوم جذباتوں کا جنازہ نکالا ہے ۔

لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔شاید اس کے جذبات سوائے ٹائیگر کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا وہ اس کے ساتھ اس کے کافی سارے رنگوں کو دیکھ چکا تھا ۔

وہ آ کر سیڑھیوں پر بیٹھاتو ٹائیگر بھی اس کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گیا تھا وہ بھی کافی پریشان لگ رہا تھا کیونکہ کل اس کے کمرے میں بھی ایک اور جان آ گئی تھی اس کے کمرے کو اس کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک کونے میں اس کی خوبصورت سی باسکٹ لا کر رکھی گئی تھی ۔

پہلے تو ریدم نے صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو شائزم کے بیٹے کے ساتھ کمرہ شیئر کرنے نہیں دے گی اس کتے کا کیا بھروسہ کہیں اس کی اس معصوم سی کیٹی کو ایک نوالے میں نگل جائے

لیکن پھر دادا جان نے کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور ان کے بھروسہ اس نے احسان کرتے ہوئے کیٹی کی باسکٹ ٹائیگر کے کمرے میں رکھنے کی اجازت دے دی تھی ۔

اور ٹائیگر صاحب اپنا کمرہ ایک بلی کے ساتھ شئیر کرتے ہوئے بالکل بھی خوش نہیں تھے ۔اس بات کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا

°°°°°

یہ کیا ہے اور میرے کمرے میں کیوں ہے میں ناشتہ نیچے کرتا ہوں سب کے ساتھ وہ نہا کر نکلا تو ٹیبل پر ناشتہ پر دیکھا ۔ساتھ ہی بیڈ پر اس کے کپڑے بھی بالکل تیار تھے

ایک دن کمرے میں کرلیں گے تو کیا ہو جائے گا میں نے اتنے پیار سے آپ کے لئے ناشتہ بنایا ہے اور خبردار جو آپ سے اگنور کر کے کہیں بھی گئے چلیں بیٹھیں اور آرام سے کھائیں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے کی طرف کھینچنے لگی تھی

اس نے حیرت سے پہلے اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس کے انداز پر دیشم کے ہاتھ کی گرفت ہلکی پڑگئی تھی ۔

دیکھو لڑکی میرے ساتھ یہ ڈرامے بازی کرنا بند کرو مجھے ان سب چیزوں سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا

اور آج تم میرے کمرے سے چلی جاؤ گی میں امید کرتا ہوں کہ آج کے بعد تم اس طرح کی حرکتیں نہیں کرو گی وہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولا

میں تو کروں گی اور روز کروں گی اور میں اپنا کمرہ چھوڑ کر کیوں جاؤں گی وجہ میں شادی کر کے کمرے میں آئی ہوں ۔جناب پروپر رخصتی ہوئی ہے میری اور میں یہ کمرہ چھوڑنے والی ہرگز نہیں ہوں

بے شک آپ مجھے دھکے مار کر نکالیں تب میں رات کو واپس اس کمرے میں آ جاؤں گی

اور یہ کپڑےمیں نے بہت محبت سے تیار کیے ہیں پلیز یہی پہن کر باہر آئیے گا اور ناشتہ بھی بہت محنت سے بنایا ہے امید کرتی ہوں کہ آپ یہ ضرور کھائیں گے وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ خداش اس کی حرکت پر اچھا خاصہ حیران ہوا تھا ۔

وہ ایک نظر کپڑوں پر ڈال کر صوفے پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا

°°°°°°°

آپ یہاں وہ حیران سی اس کے دروازے پر کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی

باہر کیوں کھڑے ہیں آئیں اندر آِئیں پلیز اس نے پورا دروازہ کھولتے ہوئے انہیں اندر آنے کے لئے کہا تھا وہ انگلش میں بات کر رہی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ آنے والا جو بھی تھا وہ اردو نہیں بولتا تھا کیونکہ اس کی ماں ہمیشہ اس سے اردو میں بات کرتی تھی

نہیں میں یہاں بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تمہیں اور تمہارے بیٹے کو لینے کے لئے آیا ہوں میری بچی چلو اپنے گھر واپس چلو تمہارا باپ ابھی زندہ ہے وہ بہت محبت سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ یشام بھی سمجھ گیا تھا کہ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ اس کا ناناہے

ایم سوری ڈیڈ اگر آپ اس شرط کے ساتھ مجھے یہاں سے لینے کے لیے آئے ہیں کہ میں اپنا مذہب چھوڑ دوں گی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔میں اپنا مذہب کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑوں گی میں اور میرا بچہ الحمدللہ مسلمان ہیں ۔

اس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا جب کہ وہ تھوڑی دیر پہلےجو اس سے محبت جتا رہے تھے اب ان کی آنکھوں میں آہستہ آہستہ آہستہ غصہ گردش کرنے لگا تھا

بس کر دو جس شخص کے لیے تم نے اپنا مذہب چھوڑا وہ تمہیں دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے ایک بچے کے ساتھ کیسے رہو گی اس شخص کے سہارے ساری زندگی وہ چلا گیا لیکن تمہاری زندگی عذاب کر گیا ہے ۔وہ کافی غصے سے بول رہے تھے جبکہ وہ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی لیکن ان کی آخری بات پر وہ مسکرا دی

میں نے اس شخص کی خاطر کچھ بھی نہیں کیا ڈیڈ میں نے اپنا مذہب اپنی مرضی سے چھوڑا ہے کیونکہ مجھے اس میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے بعد میں نے اپنے خدا کو پا لیا ہے اور میں واپس کبھی اس گمراہی کے راستے پر نہیں جاؤں گی چاہے مجھے آخری سانس ہی کیوں نہ آ جائے

اور نہ ہی میں اپنے بیٹے اس کو کبھی غلط راستے کی طرف جانے دوں گی میرا بیٹا مسلمان ہے اور ہم مسلمان ہی مریں گے ۔وہ فخر سے سر اٹھا کے بول رہی تھی جب کہ اس سے لڑنے جھگڑنے کے بعد اس کے ڈیڈ واپس چلے گئے تھے وہ اسے سمجھانے میں ناکام ہوگئے تھے

°°°°°°

امی وہ میں کیا کہہ رہی تھی کہ میں خداش کے آج کی رات کے کپڑے تیار کر دوں دیشم نے حال میں قدم رکھا تو اسے دیدم کی آواز سنائی دی تھی عجیب سی چہک تھی اس کی آواز میں جو اسے بری طرح سے جلا گئی تھی

کیوں دیدم کیا ان کی بیوی وفات پا چکی ہے جو ان کے کام تم کرو گی اس کا انداز طنزیہ تھا وہ اسے بخشنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی بس بہت نظر رکھ لی تھی اس نے اس کے شوہر پر

استغفراللہ میں نے ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا دیدم نے پیچھے سے اچانک اسے آتے دیکھ کر کہا تھا یقیناً اب وہ اس کی بےعزتی کرنے والی تھی

میں تو صرف پوچھ رہی تھی کہ میں تیار کر دیتی ہوں ان کے کپڑے تم بیزی ہو گی نہ جانے کیوں آج کل دیدم کو کچھ بولنے سے پہلے سوچنا پڑتا تھا دیشم کی آنکھیں اسے ہر وقت خوف میں مبتلا کرتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ ابھی کچھ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے گی

یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے زرا دور دور بچ کر ہی رہتی تھی ۔

میں اتنی بھی مصروف نہیں ہوں کہ اپنے شوہر کا خیال نہ رکھ سکوں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ان کے کپڑے ریڈی کر آئی ہوں۔ فی الحال وہ ناشتہ کر رہے ہیں تیار ہو کر تھوڑی دیر میں باہر آجائیں گے اور رات کے لئے ان کا سوٹ بھی میں نے تیار کرکے رکھ دیا ہے

وہ تو تم سے خفا ہیں نا اب میرا نہیں خیال کہ جب وہ کسی سے ناراض ہوتے ہیں تو اس کے ہاتھ سے کچھ بھی لیتے ہیں ۔تمہیں یاد ہے ایک دفعہ وہ مشال آپی سے ناراض ہوگئے تھے تو ان کے ہاتھ کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا

مجھے تو لگتا ہے کہ انہوں نے تمہارے ہاتھ سے بنائے ہوئے ناشتے کو بھی کرنے سے انکار کر دیا ہوگا اور ویسے بھی وہ روم میں ناشتہ نہیں کرتے عجیب بیوی ہو تم تم سے زیادہ تو ان کے بارے میں جانتی ہوں دیدم کے انداز میں طنز تھا

جب اچانک ہی وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتے نظر آیا دیشم کے لبوں پر گہری خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی تھی آخر اس نے نہ صرف اس کے ہاتھ سے ناشتہ کر لیا تھا بلکہ اس کے رکھے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے تھے

دیدم ڈارلنگ بہن اور بیوی میں بہت فرق ہوتا ہے بہن سے ناراض ہونا اس کو نخرے دکھانا بھائیوں کا حق ہے ۔اور میاں بیوی میں ناراض ہونے کا حق بیوی رکھتی ہے شوہر کا فرض اسے منانا ہوتا ہے نخرے دکھانا نہیں وہ بڑے مزے سے کہتی خداش کی طرف قدم بڑھا چکی تھی ان کے درمیان جو بھی چل رہا تھا وہ کم از کم دیدم کے سامنے لانے والی نہیں تھی

اس کا شوہر اس سے ناراض تھا اسے نخرے بھی دکھا رہا تھا لیکن یہ بات سب کو کیوں بتائےیہ سب کچھ تو ان کا پرائیویٹ تھا

°°°°°°°°