Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 69)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 69)
Junoniyat By Areej Shah
حرم وہ بہت برا لڑکا ہے ہر لڑکی کے ساتھ ایسی ہی الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے
تم نہیں جانتی اس کو اسی لیے ایسا کہہ رہی ہو وہ بیچارہ تو ہرگز نہیں تھا صیام اسے سمجھاتے ہوئے بولا ۔
وہ برا نہیں تھا میں کہہ رہی ہوں ناں وہ تو مجھ سے نوٹس مانگ رہا تھا اسے ضرورت تھی نوٹس کی
اور سر شوہر نے اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی ہائے بچارا اب تو ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہا ہوگا ۔
اسے ابھی تک اس معصوم کی ہڈیوں کا افسوس کھائے جا رہا تھا ۔
ہاں وہ نوٹس کے بہانے تمہیں باتوں میں لگانے کی کوشش کر رہا تھا وہ بہت کمینہ انسان ہے لڑکیوں کو اسی طرح سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے تو اسے معصوم ہرگز مت سمجھو ۔
وہ معصوم تھا یا نہیں مجھے نہیں پتا لیکن سر شوہر بالکل بھی معصوم نہیں ہیں ان کا تو فیورٹ کام ہے کسی کی منڈی توڑنا کسی کے ہاتھ پیر توڑنا ۔وہ غصے سے بول رہی تھی ۔
تمہیں کیا بتا اور اس نے کس کی منڈی توڑی ہے وہ دلچسپی سے اس کی باتیں سننے لگا تھا ۔
میری ٹیڈی کی اور جب میں نے صبح ان سے پوچھا ناں تو انہوں نےایک دفعہ بھی نہیں کہا کہ میں نے نہیں کیا الٹا آگےسے کہتے ہیں کہ میں نے ہی تمہارے معصوم ٹیڈی قتل کیا تھا ۔
اس نے تفصیل سے اسے سارا قصہ بتایا تھا اور اس کے غصے کی وجہ بھی اسے اب سمجھ میں آئی تھی لیکن یہ بالکل ان دونوں کا پرسنل میٹر تھا ۔
جس میں وہ بالکل بھی ٹانگ نہیں اڑانے والا تھا اس معاملے میں حرم کا ناراض ہونا بھی بنتا تھا اور یشام کا اسے منانا بھی فرض تھا
°°°°°
اس کی آنکھ کسی کی گرم سانسوں کے لمس سے کھلی تھی اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو بڑے ہی مزے سے اس کے سینے کو اپنا بستر بنائے گہری نیند سو رہی تھی ۔
اس کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی تھی جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئے تو کوئی بھی جاگتا ہوا نہ ملا تھا ۔
اسی لئے صرف دادا جان سے مل کر وہ لوگ کمرے میں آگئے تھے اور آتے ہی دیشم گہری نیند میں اتر گئی ۔آخر وہ ساری رات اس کے لیے جاگی تھی ۔
اس وقت خداش کو اس پر کتنا زیادہ پیار آرہا تھا وہ بیان نہیں کر پا رہا تھا کل اس کے برتھ ڈے کو اسپیشل بنانے کے لیے اس نے اس کے لئے گفٹ بھی لیا تھا جو کہ بہت خوبصورت پرفیوم تھا۔
اس کی پسند کا برینڈ وہ جانتی تھی یہ بھی اس کے لیے بہت ہی حیرت انگیز بات تھی اس نے کبھی اس کی پسند جاننے یا سمجھنے کی کوشش تو کی نہیں تھی ۔
ممکن تھا کہ اس نے کبھی حرم سے پوچھا ہو یا حرم نےخود ہی بتایا ہو حرم کو اکثر اسے کوئی نہ کوئی گفٹ دینے کا شوق چڑھا ہی رہتا تھا اور اس کے زیادہ تر گفٹ اس کی فیورٹ پرفیوم ہوا کرتے تھے ۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا جب اسے اپنے سینے پر حرکت محسوس ہوئی شاید وہ جاگنے والی تھی اس نے فوراً اپنی آنکھیں بند کر لی تھی تاکہ وہ انکمفر ٹیبل محسوس نہ کرے ۔
وہ آنکھیں کھولتی تھوڑی نروس ہوکر اس کا چہرہ دیکھنے لگی شاید اسے شک تھا کہ وہ جاگ رہا ہے ۔
لیکن فوراً سے پیچھے ہٹتے ہوئے وہ واش روم میں جا بند ہوئی تھی اور اس کی حرکت دیکھتے ہوئے خداش کے لبوں پر گہری مسکراہٹ تھی ۔
°°°°°°°°
اس کا نکاح ہوچکا تھا اور یہ سب کچھ اتنا خاموشی سے ہوا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی۔
وہ زیادہ کمرے سے نہیں نکلتی تھی اسی لیے کسی نے بھی اس کی غیر حاضری کو محسوس نہیں کیا تھا وہ کل کو گھر میں داخل ہوئے تو دادا جان نے اس سے سوال کیا تھا کہ وہ اس وقت کہاں گئی ہوئی تھی ۔
اس نے بس اتنا ہی کہا کہ وہ باہر ٹہلنے کے لئے گئی تھی مزید اس سے کوئی سوال نہ کیا گیا ۔
لیکن اس کا کمرالاک تھا وہ اپنا کمرہ اندر سے لاک کر کے سوتی تھی ۔
سنیں آنٹی میرا کمرہ لاک ہوگیا ہے پتہ نہیں کیسے اس کی چابی دیں مجھے وہ وہیں سے گزرتی تائی امی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔
کیوں نہیں بیٹا میں دیتی ہوں تمہیں لیکن تم مجھے آنٹی نہیں تائی امی کہا کرو جیسے گھر کے سارے بچے کہتے ہیں مجھے بہت خوشی ہوگی وہ محبت ہے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں
ایک تو یہ ان کا محبت بھرا انداز اسے کبھی نروس کرتا تھا تو کبھی پریشان ۔
وہ مجھے عادت نہیں ہے نہ کسی کو اس طرح کہنے کی بٹ میں کوشش کروں گی ۔
نجانے کیوں وہ ان کے ساتھ کسی طرح کا سخت لہجہ رکھ پائی تھی
وہ یہاں کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تھی کیونکہ یہ سب لوگ اس کےماں باپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان خون کے رشتوں کی کشش کوئی اگنور نہیں کر پائی تھی ۔
تائی امی نے مسکراتے ہوئے چابی اس کے حوالے کی تو وہ بھی چابی لے کر اپنے کمرے کی طرف آ گئی تھی
°°°°°
بھائی آپ یہاں ۔ ۔ ؟
مجھے امید نہیں تھی کہ آپ اتنی جلدی پہنچ آئیں گے آپ کی بھابھی کو تو میں گھر چھوڑ آیا ہوں ۔
شائزم یہ کیا بیوقوفی کی ہے تم نے کیوں کیا ہے تم نے ایسا تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ سب ہمارے لیے کتنا برا ثابت ہوسکتا ہے زریام بہت پریشان تھا ۔
میں ہر چیز کا اندازہ لگا چکا ہوں یہ ہمارے لئے ہرگز کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ لوگ رشتہ دینے کے لیے تیار تھے بس ریدم ہی تیار نہیں تھی اور اب وہ بھی تیار ہے ۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ کچھ نہیں ہوگا سب کچھ بہتر رہے گا اور نہ ہی اب ریدم کسی طرح کا کوئی ہنگامہ نہیں کرے گی کیونکہ اسےمیں اس کی اوقات یاد دلا کر آیا ہوں ۔
مجھے بدکردار کہہ کر اس نے میری تربیت کوللکارا تھا جس کا جواب اسے مل چکا ہے اب وہ مزید کوئی غلطی نہیں کرے گی ۔
اس کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا یہ چیز اس نے اس کے لب و لہجے سے محسوس کی تھی ۔
تم نے بہت غلط کیا شائزم بہت غلط اگر کسی کو تمہیں لے کر کسی طرح کی غلط فہمی ہے نہ تو اس غلط فہمی کو دور کیا جاتا ہے اس چیز پر مہر نہیں لگائی جاتی ثابت نہیں کیا جاتا کہ وہ انسان جو سوچتا ہے ہم ویسے ہی ہیں
یہ جو تم نے کیا ہے نا اس کے بعد میں ریدم تمہاری بیوی تو بن جائے گی لیکن کبھی بھی تم اس کی محبت میں شامل نہیں ہو سکو گے کیسی محبت کی ہے تم نے ۔۔ ؟
تم نے ایک پل نہ سوچا اس کے دماغ میں یہ بات آئی کیسے ۔۔؟ بس اپنی انا کی تسکین کی خاطر تم نے اس معصوم کے جذباتوں کا قتل کر دیا ۔
اگر تم اسے جیت کہتے ہو نہ شائزم شاہ تو مبارک ہو جیت گئے تم وہ غصے سے کہتا اندر جا چکا تھا جب کہ شائزم کچھ بھی نہ بول سکا
°°°°°
وہ کمرے میں آئی تو کافی پریشان تھی اس کے دماغ میں بہت ساری چیزیں چل رہی تھی وہ خود کو ریلیکس کرنے کی خاطر اب کیٹی کے ساتھ مصروف ہونے لگی۔
جب اچانک اس کا فون بچنے لگا اس نے سکرین پر جگمگاتے شائزم کے نام کو دیکھ کر اسے کال کاٹ دی تھی ۔
مجھے کیوں مجبور کر رہی ہو کہ میں تمہارے ساتھ وہ کروں جو میں نہیں کرنا چاہتا دوبارہ فون کر رہا ہوں اگر تم نے نہیں اٹھایا تو میں وہاں آ جاؤں گا۔دھمکی پر میسج اسے رسیو ہوا تھا ۔
کیا مسئلہ ہے تمہیں اب کیوں مجھے فون کر رہے ہو جو چاہتے تھے وہ کرتوچکے ہو اب تک کیا تمہیں سکون نہیں ملا ۔
اس نے بے حد غصے سے اس کا فون اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔
تمہیں چاہتا ہوں اور اب تک تم میرے پاس آئی نہیں ہو تو جب تک تم میرے پاس نہیں آ جاتی تب تک تو سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ ہوں۔
اپنے دادا جان سے جا کر کہوکہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہوان سب چیزوں کو غلط فہمیاں ناراضگی کا نام دے دو ۔
اس نے بڑے ہی سکون سے اسے مشورہ دیا تھا جبکہ دوسری طرف سے فون بند ہو چکا تھا شائزم نے گھور کے اپنے فون کو دیکھا اور پھر دھیرے سے مسکرا دیا
زریام کی باتوں نے اس پر کافی گہرا اثر دکھایا تھا جو غلطی وہ کر چکا تھا اب سدھار تو نہیں سکتا تھا لیکن اپنی اس غلطی کو زندگی بھر کے لئے نبھا تو سکتا تھا
°°°°°
دادا جان مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔وہ ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ان سے کہہ رہی تھی دادا جان نے خوشی سے اسے کمرے میں آنے کی اجازت دی خداش بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا ۔
دادا جان میں نے بہت سوچا ہے شائزم کے بارے میں مجھے اتنی بدتمیزی اور بد لحاظی سے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا اس میں کچھ غلط نہیں ہے شائزم اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا میں سمجھتی ہوں
اس کی اور میری ناراضگی چل رہی تھی اور میں نے اس ناراضگی کو بہت غلط نام دیا میں ان لوگوں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ رشتہ قبول ہے ۔
بیٹا تم نے خود وہاں انکار کر دیا اور اب تم خود ہی اس رشتے کے لیے ہاں کر رہی ہو ۔وہ کچھ پریشان سے ہو گئے تھے اب وہ خود ان لوگوں کو فون کرکے یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ میری پوتی شادی کے لئے مان گئی ہے آپ لوگ دوبارہ رشتہ لے کر آئیں ۔
دادا جان میں خود بات کر لوں گی نانا جان سے میں ایک ناراضگی کی بنا پر بہت غلط کرنے جارہی تھی
لیکن اللہ کے فضل و کرم سے میں نے خود اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ میں غلط کر رہی ہوں۔
میں جانتی ہوں آپ کے لیے یہ کافی مشکل ہوگا آپ کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ مجھے بس نانا جان کا فون ملا دیں میں خود ان سے بات کر لوں گی ۔
ان کی پریشان صورت کو دیکھتے ہوئے اس نے خود ہی حل نکالا تھا دادا جان نے صرف ہاں میں سر ہلایا ۔
ٹھیک ہے بیٹا جیسا تم بہتر سمجھو میں تو بس تمہاری خوشی میں خوش ہوں ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
°°°°°°
اس نے اس کے سامنے کھانا لا کر رکھا تو وہ کھانا اگنور کرتی تھی ٹی وی کی طرف دیکھتی رہی
حرم تم مجھ سے کیوں ناراض ہو وجہ بتانا پسند کرو گی مجھے آخر تنگ آ کر اس نے سوال کیا تھا ۔
جو ناراض ہوتے ہیں وہ وجہ نہیں بتاتے وجہ تو خود جاننی پڑتی ہے وہ منہ بنا کر بولی ۔
ڈونٹ ٹیل می۔۔۔! کہ تم اس گھٹیا انسان کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہو ۔وہ بے حد غصے سے بولا تھا ایک غیر انسان کے لئے وہ اس سے خفا نہیں ہو سکتی تھی
میں کیوں کسی کی وجہ سے آپ سے ناراض ہوں گی اور وہ کون سا میرے مامے کا پتر ہے جو اس کے لئے میں آپ سے ناراض ہوں گی میں اور کسی وجہ سے ناراض ہوں سوچیں ذرا ۔
وہ اس سے بات کرتے ہوئے احسان کر رہی تھی جب یشام ساتھ ہی بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے نوالے بناتے ہوئے اس کے منہ میں ڈالنے لگا
شروع میں تو اس نے نخرے کیے تھے لیکن اب وہ اس کے ہاتھ سے مٹر قیمہ کھانے لگی تھی ۔
کہیں تم مجھ سے صبح اپنے ٹیڈی کے قتل والی بات پر تو ناراض نہیں ہو۔وہ بہت سوچنے کے بعد بولا
شوہر سرآپ۔بہت سمجھ دار ہیں۔ اس نے منہ میں نوالہ لیتے ہوئے کہا تھا ۔
تو اب مجھے تمہیں اس بات پر منانا پڑے گا وہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر حرم نے زور و شور سے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
ٹھیک ہے اب میں تمہاری ناراضگی کی وجہ سمجھ چکا ہوں اب یہ بھی بتا دو کہ میں تمہیں کیسے مناؤں وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
جس پر اس نے کندھے اچکا دیے
مجھے کیا پتا آپ کا کام ہے آپ دیکھیں کھانا کھانے کے بعد منہ پھیر کر ٹی وی کی طرف دیکھنے لگی مزید ناراضگی کی اظہار کے طور پر ۔
حرم بےبی تیار ہو جاؤ میں تمہیں منانے والا ہوں وہ بھی اپنے سٹائل میں وہ اس کے ناراض وجود پر نگاہیں دوڑاتا مسکراتے ہوئے اٹھ گیا تھا ۔
°°°°°
تم اتنے ریلیکس کیسے ہو شائزم مجھے یقین ہے تم نے کوئی نہ کوئی الٹا سیدھا کام سے ضرور کیا ہے
ورنہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کل تک تم سب سے ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر گئے تھے اور اب تم واپس آ کر اتنے خوش ہو ماما اسے کھانا دیتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی تھیں
کیا بات ہے ماما آپ تو بڑی چالاک ہیں کتنی آسانی سے اندازہ لگا لیا کہ میں نے کچھ نہ کچھ کیا ہے ۔
کیا کیا ہے تم نے مجھے بتاؤ شائزم ماما اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔
میں نے جو بھی کیا ہے نہ کل پرسوں آپ لوگوں کو پتہ چل جائے گا تو پلیز آپ لوگ ریلیکس ہو جائیں وہ اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
وہ پیار سے ان کا ماتھا چومتے ہوئے اندر چلا گیا جب کہ ماما پریشان تھیں
°°°°°
السلام علیکم شاہ صاحب کیسے ہیں آپ دوسری طرف سے کاظمی صاحب کی آواز نے انہیں پریشان کر دیا تھا ۔
وعلیکم السلام الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں کیسے فون کیا آپ نے ۔۔۔۔۔؟ سب خیریت تو ہے نہ انہوں نے پریشانی سے پوچھا تھا
جی اللہ پاک کا کرم ہے سب خیریت ہے دراصل ریدم بات کرنا چاہتی تھی آپ لوگوں سے ۔کاظمی صاحب نے وجہ بتاتے ہوئے ساتھ ہی فون ریدم کے حوالے کر دیا تھا ۔
السلام علیکم نانا جان کیسے ہیں آپ تھوڑی دیر کے بعد اسپیکر سے انہیں ریدم کی آواز سنائی دی تھی ۔
الحمدللہ میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ سب ٹھیک تو ہے نا تم سے ٹھیک سے بات نہیں ہو سکی میرا تو دل کر رہا تھا کہ گھنٹوں تم سے باتیں کروں
لیکن پھر واپس آنا بھی ضروری تھاخیرتم بتاؤ کیسی ہو اور کب تک آؤ گی ہم سے ملنے کے لیے وہ فی الحال شادی کے بارے میں اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے
اور نہ ہی شائزم اور اس کے رشتے کے حوالے سے وہ اس سے کسی طرح کی کوئی ناراضگی جتارہے تھے ۔
میں بھی بالکل ٹھیک ہوں ناناجان میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی میں نے آپ سے بہت زیادہ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اس دن پتہ نہیں مجھے کیوں میں نے اوور ریکٹ کیا تھا آپ کی بات غلط نہیں تھی
میں نے اس دن آپ کے سامنے بہت زیادہ اوور ریکٹ کیا مجھے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا پلیز آپ مجھے معاف کر دیں اور وہ جو بکواس میں نے کی تھی وہ صرف وقتی ناراضگی کی وجہ سے میں نے اتنا کچھ بول دیا ۔
آپ لوگ ایسا کریں کہ کل آپ سب ڈنر ہمارے ساتھ یہاں کرے ۔تاکہ یہ جو مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے ہم اسے ٹھیک کر سکیں ۔
آپ آئیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی شائزم کو بھی ساتھ لے آئیے گا ۔اس نے بے حد پیار سے انہیں انوائٹ کیا تھا
ٹھیک ہے بیٹا ان شاءاللہ ہم ضرور آئیں گے ۔تمہاری غلط فہمی دور ہو گئی ہمارے لئے بس اتنا ہی کافی ہے ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے ۔
اس طرح کی غلط فہمیاں ہی اکثر بڑی بڑی مصیبتیں کھڑی کرتی ہیں ۔لیکن تم نے وقت رہتے ہی اس کو سمجھ لیا یہ بہت اچھی بات ہے ان شاء اللہ کل ملاقات ہوگی تم سے
انہوں نے بے حد خوشی سے الوداع کہتے ہوئے فون بند کیا تھا ۔جبکہ دوسری طرف فون بند کرنے کے بعد خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی تھی
°°°°°°
وہ سب لوگ رات کا ڈنر ایک ساتھ کرنے کے بعد باہر بیٹھے چائے پی رہے تھے جب دادا جان نے بات شروع کی ۔
کل ہم سب کو ریدم نے کاظمی حویلی بلایا ہے وہ کوئی ضروری بات کرنا چاہتی ہے اس نے کہا ہے شائزم ضرور آئے ۔
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے جو صوفے پر بڑے مزے سے براجمان ان کی بات سن رہا تھا ۔
جی کیوں نہیں دادا جان ہم سب ضرور چلیں گے اور مجھے تو اسپیشلی انوائٹ کیا گیا ہے تو میرا جانا تو بنتا ہے ۔
آپ لوگ اپنی تیاری کر لیجئے گا میں تو خیرتیار ہی ہوں وہ بڑے مزے سے ان سے کہتا اپنے کمرے کی طرف چل گیا تھا
اس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اخر وہ۔فتح یاب ٹھہرا تھا۔
لیکن اس جیت کے ساتھ ساتھ اسے اپنی غلطی کا بھی بڑی شدت سے احساس ہوگیا تھا اس نے ایک دفعہ بھی یہ بات جاننے کی کوشش نہ کی کہ ریدم کے دل میں یہ بات آئی کیسے ۔
یقینا کالام میں ماریہ کے ساتھ جو اس کی نزدیکیاں تھی وہی اس کے نزدیک اس طرح کی غلط فہمیوں کی وجہ بنی ہوں گی ۔
اور پھر آخری ملاقات میں تو ماریہ اس کے بے حد قریب تھی جب وہ کمرا کھول کر اندر داخل ہوئی تھی اس نے اپنی صفائی دینے کی بھی کوشش کی تھی لیکن تب اس نے اس بات کو مذاق میں ٹال دیا تھا ۔
اور وہ مذاق ہی اب اس کے گلے پڑ رہا تھا اب اسے کسی بھی طریقے سے ریدم کو یقین دلانا تھا وہ ویسا نہیں ہے جیسا وہ اسے سمجھتی ہے
لیکن جو کچھ وہ اس کے ساتھ کر چکا تھا اس کے بعد وہ اس کی بات پر یقین کرے گی
°°°°°°°°
