65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 73)

Junoniyat By Areej Shah

وہ رات کو گھر واپس آیا ۔۔۔ تو حرم کو باہر ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے پایا

وہ دور سے ہی اس کا سسکتا ہوا وجود محسوس کر چکا تھا وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔اور یشام سے اس کے آنسو برداشت نہیں ہوتے تھے ۔

وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا اسے اپنے قریب محسوس کرتے ہوئے وہ چہرہ پھیر گئی

ناراض ہو مجھ سے ہونا بھی چاہیے تمہیں مجھ سے ناراض میں بہت برا انسان ہوں ۔تبھی تو میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوتا ۔۔

ساری زندگی اسی سوچ میں گزر گئی کہ کبھی تو میری زندگی میں کچھ اچھا ہوگا ۔

لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ۔مجھے نہیں پتہ کہ ان لوگوں کے دل میں میرے لئے ہمدردی اور محبت کہاں سے جاگ رہی ہے

لیکن بیس سال پہلے ان کے دل میں میرے لیے کوئی محبت نہیں تھی کوئی ہمدردی نہیں تھی بیس سال پہلے میں ان لوگوں کے لئے ایک ناجائز گند تھا تو آج میں کیسے ان کا پوتا ہوگیا آج میں کیسے ان کا خون ہو گیا مجھے سمجھ میں نہیں آتا ۔

بیس سال پہلے میں ان کے لئے گندگی کا ڈھیر تھا تو آج یہ محبت کہاں سے جاگ اٹھی ۔۔۔؟

تم غلط فہمی کا شکار ہو حرم وہاں اس حویلی میں مجھ سے کوئی محبت نہیں کر سکتا کوئی بھی نہیں ۔اور میں ان لوگوں کے بیچ جا بھی نہیں جا سکتا میں نے تمہارے سر کی قسم کھائی ہے تم جو کہو گی جیسے کہو گی میں وہ کروں گا لیکن مجھ سے وہ محبت کوئی نہیں کرتا یہ صرف ایک جھوٹ ہے

یہ جھوٹ نہیں ہے دادا جان آپ سے محبت کرتے ہیں سچ کہہ رہی ہوں میں آپ ایک بار تو چلیں میرے ساتھ کسی اور پر نہیں آپ مجھ پر بھروسہ کریں ۔

پلیز مجھ پر بھروسہ کریں میرے کہنے پر ایک بار چلیں دو مہینے ہو گئے ہیں مجھے یہاں آپ کے ساتھ میں نے کبھی بھی اپنے گھر والوں کا ذکر نہیں کیا آپ جانتے ہیں کیوں۔۔۔۔؟

کیونکہ دادا جان نے کہا تھا کہ تم کوئی ضد مت کرنا انہوں نے کہا تھا کہ آپ کے سامنے میں بار بار گھر والوں کا ذکر نہ کروں بس آپ کو ایک بار گھر واپس لے آؤں دادا جان آپ سے بہت پیار کرتے ہیں تبھی تو وہ آپ کو واپس بلا رہے ہیں اپنے گھر پلیز چلیں نہ میرا بھی بہت دل کر رہا ہے سب سے ملنے کا ۔

حرم اچانک اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی تو یشام نےتڑپ تھا اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے سینے سے لگا لئے

حرم پلیز ایسا مت کرو تم ان لوگوں سے نہیں مل سکتی کیونکہ اگر تم ان لوگوں کے پاس گئی نہ تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ گی وہ لوگ تمہیں مجھ سے دور کر دیں گے ان لوگوں نے میرے باپ کو مار ڈالا میری ماں کو مجھ سے دور کر دیا سب کچھ چھین لیں گے مجھ سے

نہیں ایسا نہیں ہے میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آپ کے پاس واپس آؤں گی ہم دونوں جائیں گے اور میں وعدہ کرتی ہوں میں آپ کے ساتھ واپس آ جاؤں گی پلیز پلیز اب انکار مت کیجئے گا آپ نے میرے سر کی قسم کھائی ہے کہ آپ میری ہر بات مانیں گے

اگر آپ نے انکار کیا تو میں مر جا۔۔۔۔۔

حرم۔ ۔۔۔وہ تڑپ کر چلایا تھا اور پھر ایک لمحے کی بھی تاخیر کرے بنا اس نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا ۔

خبردار جو آج کے بعد ایسی بکواس دوبارہ کی تو جان سے مار ڈالوں گا وہ اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے بول رہا تھا ۔

اس کا مطلب آپ چلیں گے میرے ساتھ ۔۔۔۔؟اس کے گرد اپنی نازک مرمریں بانہوں کا حصار تنگ کرتے ہوئے بولی ۔

ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ چلوں گا لیکن تمہیں میرے ساتھ واپس آنا ہوگا ۔جب میں کہوں گا تب آنا ہو گا بنا کسی طرح کے بہانے کے میں جانتا ہوں تم لوگوں سے محبت کرتی ہو لیکن تم مجھے بھول نہیں سکتی کہ تم میری ہو ۔

ہاں مجھے منظور ہے تو کب چلیں ہم ویسے بھی سردیوں کی چھٹیاں ہو جائیں گی کل تو چلتے ہیں ۔وہ ضرورت سے زیادہ جلد بازی دکھا رہی تھی

صبر کرو ابھی ٹکٹ کا انتظام کرنا پڑے گا پھر وہاں رہنے کا بھی بندوبست کرنا ہے ۔۔۔۔۔

رہنے کا بندوبست کیوں کریں گے ہم اپنے گھر میں رہیں گے حویلی میں اتنی بڑی حویلی ہے بہت کمرے ہیں اس میں آپ کا بھی بن جائے گا میں ابھی دادا جان کو فون کرکے یہ گڈ نیوز سناتی ہوں وہ اس کا موبائل تھامتے ہوئے بولی

اس کے لئے تمہارے پاس ان کا نمبر ہونا چاہیے ۔

مجھے زبانی آتا ہے وہ جلدی جلدی نمبر ملا رہی تھی

کیا اس سے پہلے بھی تمہارا ان کے ساتھ رابطہ رہا ہے وہ شک کی بنا پر پوچھنے لگا ۔

ہاں میں صیام بھائی کے فون پر ہر چوتھے پانچویں دن ان سے فون پر باتیں کرتی رہتی ہوں۔ ان کو میری فکر ہو جاتی ہے پھر مجھے بتانا پڑتا ہے کہ آپ میرا بہت خیال رکھتے ہیں آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔

اب منہ نہ بنائے اس میں ناراض ہونے والی کوئی بات نہیں ہے مسکرا کر دکھائیں مسکرائیں نا آپ پیارے لگتے ہیں ۔اچھا مت مسکرائیں ۔بنائے رکھے ایسے ہی سڑو سی کی شکل وہ اسے ہنسانے میں نا کامیاب ہوتے ہوئے بولی ۔

اس بارے میں مجھے صیام نے کیوں کچھ نہیں بتایا ۔۔۔؟

کیوں کہ میں نے ان کو قسم دی ہوئی تھی نا ۔۔۔۔۔۔اس نے بھرپور دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا ۔

فون لگ گیا وہ ایکسائٹڈ سی کہنے لگی ۔وہ اتنی خوش لگ رہی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اسے کچھ نہیں کہہ پا رہا تھا اسے صیام کی حرکت پر بہت غصہ آ رہا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس لڑکی کی خوشی کے سامنے ہر چیز فضول تھی

°°°°°°°

اسلام علیکم دادا جان کیسے ہیں ۔۔۔

وعلیکم السلام الحمد للہ میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں میرا بچہ تم کیسی ہو اور یہ کون سے نمبر پر فون کر رہی ہو تم مجھے اس سے پہلے جس نمبر پر فون کرتی تھی یہ وہ تو نہیں ہے دادا جان نے ایک بار پھر سے نمبر پر نظردوڑائی تھی

ہاں یہ وہ والا نمبر نہیں ہے دادا جان یہ میرے شوہرسر کا نمبر ہے اور مجھے آپ کو یہ بتانا تھا کہ میں اور شوہرسرآپ کے پاس آ رہے ہیں پاکستان ہمارے ویلکم کی گرینڈ تیاری کر لیجئے

اور اماں سے کہیے گا کہ مزے مزے کے کھانے بنا کر رکھیں ۔میں ان کے ہاتھ کا پراٹھا بہت مس کر رہی ہوں اور خداش ویرو سے کہئے گا کہ میرا برتھ ڈے والا گفٹ تیار رکھیں میں آ کر لوں گی ۔اور۔ ۔۔

حرم تم سچ کہہ رہی ہو نا تم میرے ساتھ کوئی مذاق تو نہیں کر رہی نہ بیٹا یہ جھوٹ تو نہیں ہے نا وہ بے یقینی سے بول رہے تھے جب کہ حرم کو خود کو جھوٹا کہلوانا بہت برا لگا تھا ۔

ہائے دادا جان میں کیا آپ کو جھوٹی لگتی ہوں اگر ایسی بات ہے تو بات کریں شوہر سرسے۔ ۔۔۔

شوہر سر ۔۔ اس نے افسوس سے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ اسے فون دے کر خود نہ جانے کہاں چلا گیا تھا ارے یہ کہاں چلے گئے وہ دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی پھردادا جان کی آواز پر ان کی طرف متوجہ ہوگئی

دادا جان مجھے لگتا ہے وہ کسی کام کے لئے باہر چلے گئے ہیں لیکن قسم سے میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں ہم دونوں آ رہے ہیں پاکستان میں نے ان سے وعدہ لیا ہے انہوں نے میرے سر کی قسم کھائی ہے وہ کبھی قسم نہیں توڑیں گے ۔

آپ تیاری کرلیں ہم آرہے ہیں ان شاء اللہ جلد پاکستان پہنچیں گے وہ انہیں یقین دلاتے ہوئے بولی اور اور پھر کتنی دیر ان سے باتیں کرتی رہی تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے بعد اس نے فون بند کر دیا تھا اور پھر اس کے آنے کا انتظار کرتی رہی جو ایسا گیا کہ اب تک لوٹ کر نہیں آیا تھا ۔

شوہر سر کہاں رہ گئے اب تک تو انہیں واپس آ جانا چاہیے تھا کہیں یہ ٹکٹ بک کروانے تو نہیں گئے ایسا کیسے ہو سکتا ہے اتنی جلدی تو وہ میری بات نہیں مان سکتے

میری بات تو وہ مان گئے ہیں اب تو صرف ٹکٹ بک کروانا ہی رہتا ہے فائنلی میں جا رہی ہوں اپنے گھر ۔میں سب سے ملوں گی ویرو کتنے خوش ہوں گے مجھے دیکھ کر اور اماں اور بابا۔ ۔۔۔

ہائے میں کتنی خوش ہوں وہ خود ہی خوش ہوئے جا رہی تھی یہ جانے بنا کے جس کو اپنے سر کی قسم دے کر اس نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل ترین کام کرنے کے لیے کہہ دیا تھا اس وقت کس حال میں ہے ۔وہ اس وقت کہاں ہے

°°°°°°

تو اسے منع کردے تو انکار کردے تو کہہ دے کہ تو نہیں جا سکتا اس گھر

بتا تجھے وہاں جانے سے اعتراض ہے تو ان لوگوں سے بے تحاشا نفرت کرتا ہے ان لوگوں نے تجھ سے تیرا بچپن چھینا ہے تجھ سے تیری پہچان چھینی ہے ۔تیری ذات کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے

بتا دے تو ان لوگوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تو ان سے نفرت کرتا ہے وہ سمجھ جائے گی اتنی بھی اچھی نہیں ہے جو تیرے جذبات کو نہ سمجھ سکے وہ بیوی ہے تیری اس کا فرض بنتا ہے تیرے جذبات کو سمجھنا ۔

میں نے اس کے سر کی قسم کھائی ہے اور میں یہ قسم نہیں توڑ سکتا صیام مجھے ہرگز امید نہیں تھی کہ وہ مجھ سے یہ مانگے گی ۔

اس نے مجھ سے خود سے بڑی چیز مانگ لی ہے اس نے مجھے بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے صیام ۔میں ہمت نہیں کر پا رہا مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اپنے باپ کے قاتلوں کو اپنے سامنے دیکھوں

مجھ میں نہیں ہے اتنی ہمت کے ان لوگوں کا سامنا کروں جو کل تک مجھے میرے باپ کی اولاد ماننے کو تیار نہ تھے ۔

مجھے راحت کاظمی سے نفرت ہے وہ آتا تھا میرے باپ سے ملنے کے لئے اسی کی وجہ سے میرا باپ مرا اسی نے میرے بابا کی کار کا ایکسیڈنٹ کیا تھا اسی نے مارا تھا انہیں اسی نے بلایا تھا ان کو ملنے کے لیے وہ کبھی واپس نہیں آئے کبھی بھی نہیں

پھر وہ راحیل کمینہ آیا تھا۔ وہ ہاتھوں میں سر گرائے اس وقت ازیت کی کونسی انتہا پر تھا صرف صیام ہی سمجھ سکتا تھا اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے صیام نے اسے خود سے لگایا تھا ۔

صبر رکھ یشام میں تیرے ساتھ ہوں ۔وہ اسے حوصلہ دے رہا تھا جب کہ اپنی آنکھوں میں آنسو کو یشام نے بڑی بے دردی سے صاف کیا ۔

جب جب میں لوگوں کے بارے میں سوچتا ہوں نہ میری نفرت میں اضافہ ہونے لگتا ہے جب میں نے پہلی دفعہ راحت کاظمی کو دیکھا تھا میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے بھی اسے جان سے مار ڈالوں اپنے باپ کے قاتل کو دوسری سانس نہ لینے دوں۔

لیکن میں نے سب کچھ چھوڑ دیا حرم کیلئے میں حرم کو اپنے ساتھ لے آیا اور اپنے دل میں موجود ہر طرح کی نفرت کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں قید کر دیا۔

حرم کیلئے اور آج وہی حرم مجھے ان لوگوں کے پاس واپس جانے پر مجبور کر رہی ہےجن کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا میں ۔۔۔۔۔۔

تو حرم کو بھیج دے صیام نے کافی دیر سوچنے کے بعد کہا

تاکہ وہ لوگ میری حرم کو مجھ سے چھین لیں نہیں میں حرم کو وہاں اکیلے ہرگز نہیں بھیجوں گا ۔

اس کا مطلب ہے کہ تو اس کے ساتھ جائے گا ۔صیام نے پریشانی سے پوچھا

اسے ڈر تھا کہ اپنے دشمنوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر وہ کچھ ایسا نہ کردے جو اس کو اور اس کے فیوچر کو تباہ کر دے

جانا پڑے گا مجھے اس کے ساتھ میں اسے اکیلے ان لوگوں کے بیج ہرگز نہیں چھوڑ سکتا جو مجھ سے میری ہر خوشی کو چھین لیتے ہیں

وہ بہت سوچ سمجھ کر بول رہا تھا جبکہ صیام صرف اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا لیکن اسے سمجھا رہا تھا کہ اپنی دشمنی میں وہ کوئی بڑا قدم نہ اٹھائے کیونکہ اب وہ اکیلا نہیں ہے بلکہ حرم اس کے ساتھ ہے اب بس اس کی بات کو سمجھ جائے

°°°°°°°

آپ کا یہ کزن کچھ زیادہ ہمارے گھر نہیں آ رہا مجھے یہ ٹھیک نہیں لگتا ۔

کنیز فاطمہ آج آخراس کے سامنے بول پڑی تھی کیونکہ راحیل دو دفعہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر آیا تھا

اور جلدی گیا بھی نہیں تھا بلکہ زبردستی یشام سے باتیں کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔اس کا کہنا تھا کہ اسے یشام کے ساتھ وقت گزارنا بہت پسند ہے لیکن اس کے ساتھ کی یشام کو بالکل اچھا نہیں لگتا تھا ۔وہ اس سے دور بھاگتا رہتا تھا اور اس کی غلیظ نظریں خود پر محسوس کرتے کنیز کئی دفعہ خود کو کمرے میں بند کر چکی تھی ۔

اور اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ یہاں آتا ہے اصل میں اس نے یہیں ہمارے گھر کے قریب ہی ایک چھوٹا سا آفس بنوایا ہے وہی اپنا کام کرتا ہے لیکن یشام کو بہت پیار کرتا ہے وہ اس کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے آتا ہے ۔

اور تمہیں ایک بہت اچھی بات بتاؤں وہ بابا کو بھی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اس نے کافی دفعہ بابا سے اس بارے میں بات کی ہے اور بابا کے رویے میں چینجنگ بھی محسوس کی ہے اس نے

اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ جلد ہی بابا جان کو منا لے گا اور ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا مجھے یقین ہے اس پر وہ بہت اچھا انسان ہے اور یشام کو کہا کرو کہ اس کے ساتھ تھوڑا وقت گزارا کرے وہ یشام کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے یہاں آتا ہے لیکن یشام کے رویے میں اس نے کسی طرح کی لچک محسوس نہیں کی

وہ تو آپ کو پتا ہی ہے کہ یشام کو جو انسان پسند نہیں آتا وہ اس کے ساتھ وقت گزارنا پسند نہیں کرتا اور آج دوپہر میں آپ کے بھائی بھی آئے تھے ان کے روئیے میں تو مجھے کسی طرح کا کوئی چینج محسوس نہیں ہوا

یہاں تک کہ وہ یشام کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کر رہے تھے اس کے ساتھ کافی سختی سے پیش آرہے تھے یشام نے انہیں سلام کیا تو تو اس بات پر غصہ ہونے لگے کہ اس نے انہیں تایا جان کیوں کہا

مجھے آپ کے بھائیوں کے یہاں آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن آپ کے کزن راحیل کے ساتھ آپ کا کوئی سگا رشتہ نہیں ہے اسی لئے آپ اپنی غیر موجودگی میں اسے یہاں نہ لایا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا ۔

اگر انہیں یشام سے ملنے یا اس سے باتیں کرنے کا شوق ہے تو شام کو جب یشام گارڈن میں جاتا ہے تو وہ اس سے مل لیا کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ آپ کی غیر موجودگی میں گھر نہ آئے تو ٹھیک ہے اس نے بہت صفائی سے بات کی تھی جبکہ اس کی بات کا برا مت منائیے بنا ہی احمر مسکرا کر رہ گئے تھے

وہ سمجھ چکے تھے کہ اس کا پردہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی غیر مرد کے سامنے آئے ۔

اور اپنے بھائیوں کی عادت سے وہ بہت اچھے طریقے سے واقف تھا وہ نہ تو اسے پسند کرتے تھے اور نہ ہی اس سے بات کرتے تھے یہاں تک کہ وہ اس کی موجودگی میں گھر کے اندر نہیں آتے تھے تو غیرموجودگی میں وہ کیا آتے ۔

ٹھیک ہے تم بالکل بے فکر ہو جاؤ میں منع کر دوں گا اس کو وہ آج کے بعد گھر کے اندر نہیں آئے گا ۔لیکن یشام کو سمجھانا ۔میں چاہتا ہوں کہ یشام اس کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارے ۔اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے جانتی ہو نہ تم اس کی شادی کو آٹھ سال ہے اللہ نے اب تک اسے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا ہے ۔

ایسے میں وہ یشام کے ساتھ اچھا محسوس کرتا ہے۔اور میں نہیں چاہتا یشام کی طرف سے اسے کسی طرح کی سردمہری کا سامنا کرنا پڑے

ٹھیک ہے میں یشام کو سمجھا لوں گی لیکن وہ آئندہ یہاں نہ ائیں میں پارک دبھیج دیا کروں گی اسے وہ جتنا چاہیں اس کے ساتھ وقت گزارے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا

اسے سچ میں یہ جان کر افسوس ہوا تھا کہ راحیل کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے یقینا ّوہ یہاں یشام کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ہی آتا تھا ۔

شاید اسے کی نظر خود پر اس نے کسی غلط فہمی کی بنا پر ہی محسوس کی ہوں ۔ہوسکتا ہے وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہو لیکن ہاں یہ الگ بات ہے کہ اسے یہاں آنا پسند نہیں تھا اور اگر وہ یشام کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا تو اسےاس بات پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا

°°°°°°

وہ گھر واپس آیا تو حرم بہت خوش تھی

کہاں چلے گئے تھے آپ میں کب سے آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی مجھ سے وعدہ کر کے پتا نہیں آپ کہاں غائب ہو گئے تھے میں تو پریشان ہو گئی تھی

کیوں پریشان ہو گئی تھی تم۔۔۔ تم سے وعدہ کیا ہے میں نے ضرور نبھاؤں گا میں اپنے وعدے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا ۔

اپنی تیاری مکمل کر لو ان شاء اللہ کل شام کی ٹکٹ کنفرم کروا لوں گا میں

کل شام کی ۔۔۔ہائے اللہ اتنا جلدی کیسے ہوگا ۔وہ پریشان ہوئی تھی

ہو جائے گا میں نے کہہ دیا نا بس تم اپنی تیاری مکمل کر وہ پیار سے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے بولا تو حرم خوشی سے اس کے سینے سے لگ گئی

آپ بیسٹ ہو آپ بہت بہت بہت اچھے ہو آئی لو یو ۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ لگے جوش سے بول رہی تھی جب کہ اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے وہ اسے بے حد قریب کر گیا تھا

°°°°°°°°°°