65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 15)

Junoniyat By Areej Shah

دور کہیں سے اذانوں کی آواز آ رہی تھی اسے اپنے بے حد قریب دیکھتے ہوئے وہ اس کا ہاتھ خود سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی

لیکن اس نے اتنی شدت سے اسے خود میں قید کر رکھا تھا کہ اس کی یہ کوشش بری طرح سے ناکام ہوئی تھی

زریام کا سر اس وقت اس کی گردن پر تھا وہ ذرا سا ہلی تو اس کے لب اس نے اپنی گردن پر سرکتے ہوئے محسوس کیے اس کے پورے بدن میں ایک سنسناہٹ سی ہوئی تھی

اس نے جلدی سے اپنا چہرہ ذرا زریام سے پیچھے کرتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا تھا بہت وجیہہ پرسنیلٹی کم مالک تھا

اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ بہت پرکشش انسان تھا کوئی بھی اسے ایک دفعہ دیکھ لے تو آسانی سے اس کے چہرے سے نظر نہیں ہٹتا آسکتا تھا

کتنی ہی دیر وہ اس کے چہرے کے کھڑے مغرور نقوش میں کھوئی رہی تھی

ایک پل کے لئے وہ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگی یہ خوبصورت انسان اس کا مقدر تھا ۔لیکن کیا اس کا دل بھی اتنا ہی خوبصورت تھا جتنا اس کا چہرہ ۔۔۔۔؟

کیا یہ سب کچھ جو وہ اسے دے رہا تھا وہ اپنے دل کی مکمل رضا مندی سے دے رہا تھا

کیا وہ اسے اپنی بیوی کا مقام اپنی مرضی سے دے رہا تھا یا صرف وقتی جذبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے قریب آرہا تھا

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ شخص نفس کا غلام تو نہیں لگتا تھا

اس کی پرسنلٹی دیکھتے ہوئے وہ اس بات کا اندازہ بہت اچھے طریقے سے لگا سکتی تھی کہ اسے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی

اور وہ جنت کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا نہیں سوچنا چاہتی تھی فی الحال اسے پتہ نہ تھا کہ جنت کون ہے

جنت کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ بھی اخذ کر کے بعد میں شرمندہ ہونے سے بہتر تھا کہ وہ اس موضوع کو وقت پر چھوڑ دے خود ہی سہی وقت پر اسے سب پتہ چل جائے گا حقیقت چھپائی نہیں چھپتی

اوروہ کون سا اس سے بہت ساری امیدیں لگائے ہوئے تھی کہ جنت کی حقیقت سامنے آنے پر اس کا دل ٹوٹ جائے گا ہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا

اس نے اپنے دل کو بہت مضبوط کرلیا تھا وہ اس شخص کی طرف سے ملنے والی ہر چوٹ کو سہنے کے لیے تیار تھی یہ سوچتے ہوئے وہ اس کے قریب سے اٹھ کر نماز ادا کرنے چلی گئی

کیونکہ وہ دنیا سے مایوس ہو چکی تھی لیکن اپنے رب سے نہیں

°°°°°°

نماز ادا کرنے کے بعد اس نے باہر کی طرف دیکھا تو اب تک باہر اندھیرا ہی چھایا ہوا تھا

وہ کھڑکی بند کرتے ہوئے واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی تھی اس کی نیند مکمل نہیں ہوئی تھی

لیکن اسے نیچے جانا تھا روشنی شروع ہوتے ہی اس نے سب کے لئے ناشتہ بنانا تھا جو اس کا روز مرہ کا کام تھا جو وہ باقاعدگی سے کرتی تھی

اسے ان کاموں سے مسئلہ نہیں تھا لیکن وہ باتیں وہ تیر جو ہر روز اس کی ذات پر چلائے جاتے تھے

وہ تھپڑ جو اس کے چہرے پر برسائے جاتے تھے وہ اسے تکلیف دیتے تھے یہ چھوٹے چھوٹے کام تووہ اپنے گھر سے سیکھ کر آئی تھی

ان کاموں میں کوئی کوتاہی کرکے وہ اپنی ماں کی تربیت کو شرمندہ نہیں کرسکتی تھی

اسے گھر کے سارے کام بہت اچھے طریقے سے آتے تھے اگر کچھ نہیں آتا تھا تو وہ ان زخموں کو سہنا تھا جو اسے ہر روز دیے جاتے تھے کل کا دن بہت خوبصورت گزرا تھا وہ کسی محافظ کی طرح سارا دن اس کے ساتھ تھا

اور پھر رات کی تنہائی بھی ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بانٹی تھی کتنے خوبصورت لمحات تھے وہ اسے کسی انمول نگینے کی طرح چھوتا تھا

جیسے ذرا سی چوٹ لگنے پر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گی اس کی پناہوں میں اس کی خوشبو میں وہ خود کو اس دنیا کے سب سے خوش نصیب لڑکی تصور کرتی تھی

لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اپنی تمام تر امیدوں کا گلا گھونٹ کر رکھا تھا

وہ انہی سب سوچوں میں گم تھی کہ جب اچانک کسی نے اسے اپنی طرف کھینچ کر خود میں قید کر لیا

وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے مضبوط سینے کا حصہ بنی تھی وہ اس کے گرد بانہیں حائل کرتا اسے دیکھنے لگا

وہ گہری نیلی آنکھوں میں گزری شب کے رفاقتوں کا خمار لیےاس کے دلکش سراپے کو دیکھ رہا تھا وہ اس کی بخشی قربتوں سے مہک رہی تھی

اس کے یوں دیکھنے پروہ حیا سے نظریں جھکا گئی ۔اور اس کی یہ ادا اسے مزید بے خود بنا رہی تھی

وہ آہستہ سے اس کے چہرے کو تھامتا اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ چکا تھا

نیچے۔۔۔ جانا ہے ۔۔۔سب کا ۔۔۔ناشتہ بنانا ہے وہ اس کے ہونٹوں کو بخشتا مزید گستاخیوں پر آمادہ تھا جب وہ بول اٹھی

میں ابھی ناشتہ نہیں کرنا چاہتا وہ خمار آلود آواز میں کہتا اس کی گردن پر جھکا تھا

آپ نہیں کرنا چاہتے باقی سب ۔۔۔۔۔

میری بیوی ہو تم لڑکی باقی سب کی نہیں صرف اپنے شوہر کی فکر کیا کرو وہ نرمی سے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر انگوٹھا پھرتا ایک بار پھر سے اس کے ہونٹوں کی مٹھاس کو محسوس کرنے لگا

مزاحمتیں احتجاج سے تو وہ کوسوں دور تھی وہ خاموشی سے اس اس کے بانہوں میں پڑی تھی جب کہ وہ اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھوتا اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا آنکھیں بند گیا تھا

سو جاؤ پھر نہ کہنا کہ رات کو مجھے سونے نہیں دیا وہ آہستہ آہستہ اس کے بال سہلاتا اسے سونے کے لئے کہہ رہا تھا جب کہ وہ پریشان تھی کہ نیچے جا کر وہ ناشتہ کس طرح سے بنائے

لیکن اس کے پرسکون حصار میں وہ اس سوچ میں زیادہ دیر تک نہ رہ سکی اس کی آنکھیں کب بند ہوئیں اسے خود بھی پتا نہ چلا ۔اس وقت وہ ہر خوف سے بہت دور نکل آئی تھی

°°°°°°

ریدم اس خوبصورت وادی کی روشن صبح دیکھتے ہوئے کھڑکی کھولی ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کر رہی تھی

دروازے کے قریب والی کھڑکی اس نے نہیں کھولی تھی کیونکہ کل رات کا خوف اب تک باقی تھا

نہ جانے اگر وہ وہاں سے نہ بھاگتی تو یقین وہ کتا اسے کچا چبا جاتا ہے لیکن شکر تھا کہ وہ واپس بھاگ چکی تھی

اور کمرہ قریب تھا ورنہ نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوتا وہ تو اس سے زیادہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی

ایک تو اسے کتوں سے بے حد خوف آتا تھا اور انہیں دیکھتے ہی اس کی جان لگنے لگتی تھی

لیکن کل رات اس میں اتنی ہمت صرف اور صرف اپنی کیٹی کو بچانے کی وجہ سے آئی تھی

اگر اس کتے کے منہ میں اس کی معصوم سی کیٹی نہ ہوتی تو یقینا وہ اس خونخوار کتے کے سامنے جانے کی غلطی کبھی بھی نہ کرتی

اپنی بزدلی کو وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی اگر کل رات وہ ہمت نہ کرتی تو شاید وہ اپنی کیٹی کو بھی نہ بچا پاتی ۔

اس کتے کا مالک کتنا ظالم شخص تھا کیسے کہہ رہا تھا کہ جا کر کھا جاؤ اس کو

ایک انسان ہو کر وہ دوسرے انسان کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے ریدم کو تو اس شخص پر غصہ آ رہا تھا

جو کل رات اپنے کتے کی بھوک کو مٹانے کے لیے اس کی قربانی دینے پر تُلا تھا

اپنی سوچ کو جھٹکتے ہوئے وہ اپنی کیٹی کو دیکھنے لگی جو مندی آنکھیں کھولے ہر طرف دیکھ رہی تھی وہ اس کی طرف آتی ہوئی محبت سے اس کا نازک سا وجود اپنی باہوں میں اٹھانے لگی

کیٹی چلو آؤ مارننگ واک کرنے چلتے ہیں مارننگ واک صحت کے لئے بہت اچھی ہوتی ہے اور اب سے ہم دونوں روز واک کیا کریں گے

وہ بھی اس خوبصورت وادی سے شروع کر کے وہ مسکرا کر اسے اٹھائے باہر کی طرف چل دی تھی

آہستہ آہستہ چلتی وہ سب سے پہلے ڈرائیور چچا کے کمرے کے پاس آئی تھی جو ایک کمرہ چھوڑ کر آگے تھا

اس نے آہستہ سے کمرے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے کو کھول کر اندر دیکھا تو چاچا کو قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف پایا

ڈرائیور چاچا آپ تلاوت کرلیں میں زرا وہ سامنے والی سڑک پر واک کرنے جا رہی ہوں وہ یہ کہتے ہوئے انہیں تنگ کیے بنا ہی کمرے سے باہر نکل آئی

°°°°°°

وہ آہستہ آہستہ چلتی سڑک تک آئی تھی جو پہاڑی کے بالکل ساتھ ساتھ تھی یہ بہت خوبصورت جگہ تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس نے آج سے پہلے اتنی خوبصورت وادی کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی

اس جگہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے وہ اللہ پاک کی خوبصورت ترین قدرت کا نظارہ تھا

وہ آہستہ آہستہ کب پہاڑی سے نیچے کی طرف جانے لگی اسے خود بھی پتہ نہ چلا تھا وہ بس اس خوبصورت وادی کے حسین نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی جب اچانک سامنے سے ایک کتا تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا

اس وقت اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ یہاں سے بھاگ کر ہوٹل کی طرف چلی جائے اس کی تو ٹانگیں کانپنے لگی تھی

کیونکہ وہ کتا اس کے بے حد نزدیک تھاوہ وہیں کھڑی آنکھیں بند کرتے ہوئے چیخیں مارنے لگی تھی جب کہ کتا کب اس کے قریب سے گزر گیا اسے پتہ بھی نہیں چلا

لڑکی تمہیں کس بے وقوف نے کہا ہے کہ یہاں آواز گونجتی ہے تو تم چیخیں مارنا شروع کر دو

کیوں یہاں پر پلیوشن پھیلا رہی ہو۔کیا ایک پرسکون وادی تم لوگوں سے ہضم نہیں ہو رہی

اچانک اسے اپنے قریب سے سرد مگر طنزیہ سی آواز سنائی دی تھی اس نے آنکھیں کھول کر اسی کتے کے مالک کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا

وہ تم کتا ۔۔۔۔

کیا تم نے مجھے کتا کہا تم نے مجھے گالی دی تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے گالی دینے کی

وہ تو بھڑک ہی اٹھا تھا

جبکہ ریدم نفی میں سر ہلانے لگی اس نے کب اسے گالی دی تھی کہ وہ اس پر اتنا چلا رہا تھا

نہیں میں نے گالی نہیں دی وہاں تمہارا کتا میرا مطلب ہے تمہارا کتا ابھی مجھے کاٹنے والا تھا ۔

وہ میرا ٹائیگر ہے اسے بار بار کتا مت بولو میں تمہیں آخری بار بار وارن کر رہا ہوں اور وہ ابھی نہیں رات کو تمہیں کاٹنے والا تھا

وہ ابھی ابھی فریش ہوا ہے وہ فریش ہونے کے فورا بعد بریک فاسٹ نہیں کرتا تو بالکل بے فکر ہو جاؤ

فلحال مورننگ واک کر رہا ہے اس کے بعد اسےایکسرسائز بھی کرنی ہے۔اگر تمہیں اس کا ناشتہ بننے کا اتنا ہی شوق ہے نا تو تھوڑی دیر کے بعد آ جانا

جب اس کے ناشتے کا وقت ہوگا وہ کہہ کر کندھے اچکا کر جانےلگا تھا جب کہ وہ حیرانگی سے سن رہی تھی

اسے کون سا شوق تھا ایک کتے کے لئے خود کو پیش کرنے کا عجیب آدمی تھا یہ وہ سے جھٹکتی آگے بڑھنے لگی تھی جب اسے پھر سے پیچھے سے آواز سنائی دی

سنو لڑکی اس طرف نیچے مت جانا میں نے تھوڑی دیر پہلے اس طرف بھیڑے دیکھے ہیں میرے کتے کا نہ سہی لیکن تم ان کا ناشتہ تم بن سکتی ہو اور تمہاری کیٹی بھی

میں نے سنا ہے کہ یہ جنگل اتنا خطرناک ہے کہ کسی کا نام ونشان بھی نہیں ملتا تمہارا نام و نشان تو پھر شاید مل جائے لیکن تمہاری کیٹی اگر کسی جانور کے ہاتھ چڑ گئی نہ تو میرے خیال میں اس کا نشان بھی نہیں ملے گا

شائزم جانتا تھا یہ جنگل کتنا خطرناک ہے وہ نہیں چاہتا تھا وہ لڑکی نیچے کی طرف جائے اور اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ اپنی ذات پر بات آنے پر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس طرف چلی جائے

لیکن یقینا وہ اپنی معصوم بلی کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالے گی

ہاں تو وہاں جا کون رہا ہے میں تو ادھر ہی ہوں اس نے ہوٹل کے پیچھے کی طرف اشارہ کیا تو وہ کندھے اچکا کر نکل گیا

اس نے ایک نظر نیچے پہاڑی کی طرف دیکھا تھا شکر ہے اسے پہلے پتہ چل گیا یہ جگہ خطرناک ہے ورنہ اس کی اور اس کی کیٹی کی لاش بھی نہیں ملتی

°°°°°

دیشم گاڑی میں آکر بیٹھی تو خداش نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی جبکہ حرم کا ابھی تک ناشتہ ہی مکمل نہیں ہوا تھااور آج وہ اماں کے ہتھے چڑھ گئی تھی

اماں اس کو ڈانٹ رہیں تھیں جب کہ وہ نجانے کتنی کوششوں کے بعد کچھ کھانے کے لئے راضی ہوئی تھی اس سے صبح کچھ بھی کھایا نہیں جاتا تھا

لیکن جب سے اس نے کالج جانا شروع کیا تھا اس کی واپسی بہت دیر سے ہو رہی تھی اور اماں کو ہرگز پسند نہ تھا کہ وہ باہر کا کھانا کھاتی

وہ فائل نکالے نہ جانے کیا کرنے میں مصروف تھی ۔خداش گردن موڑے اسی کو دیکھ رہا تھا جو مکمل اس سے بے نیاز تھی

اس بار بھی حل غلط نکلنے پر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔

اخر اتنی محنت کے بعد بھی اسے کیوں یہ میتھس کا سوال سمجھ نہیں آرہا تھا ایک تو میتھس میں گریجویشن کرنے کے خواب نےاسے اچھا خاصہ ذلیل کر رکھا تھا

اور خداش جانتا تھا یہ سب کچھ صرف اس کے مقابلے میں ہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ کب سے اسکو سر کھپاتے دیکھ کر گہرا سا مسکرایا

پھر ہاتھ بڑھا کر اس نے اس کے ہاتھ سے وہ فائل لے کر اپنی طرف بڑھائی تھی دیشم بنا کچھ بھی بولے فائل کو دیکھتی رہی

جو چیز مشکل نظر آتی ہے ضروری نہیں کہ وہ مشکل ہو ہر ایک چیز کے دو رخ ہوتے ہیں

بالکل اس سوال کی طرح میں سمجھاتا ہوں تمہیں یہ دیکھو ادھر وہ اسے حل کرنے لگا تو وہ بھی خاموشی سے اس کی مدد لینے لگی

ویسے کل میں نے جو بھی کہا وہ مزاق میں کہا تھا تمہیں ہرٹ کرنے یا پھر شرمندہ کرنے کے لئے میں نے وہ سب کچھ نہیں بولا تھا

وہ صرف حرم کو خوش کرنے کے لئے کہا تھا میں نے لیکن تمہیں برا لگا اس کے لیے سوری

اس کے سوری کہنے پر وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص اس سے سوری بول رہا تھا جو شاید خود کو کبھی غلط تصور بھی نہیں کر سکتا تھا

اور یہ وہی انسان ہے جو کہا کرتا تھا کہ خداش کاظمی سے کبھی کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی لیکن وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا

میں نہیں جانتا دیشم کون سی ایسی چیز ہے جو تمہیں مجھ سے بدگمان کرتی ہے لیکن میرا یقین مانو میرے دل میں تمہیں لے کر کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں آئی

میرے لیے تم بہت خاص ہو کل دادا جان نے تمہیں میری وجہ سے ڈانٹا تھا اس کے لیے میں تم سے معذرت کرتا ہوں

پلیز اپنے دل سے میرے لیے یہ بدگمانی نکال دو

دادا جان کے لئے ہم سب اہم ہیں تم بھی میں بھی سب تمہیں بس ایسا لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

شکریہ میں کر لوں گی باقی وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے اس کے ہاتھ سے فائل لے چکی تھی وہ تقریبا سارا سوال حل کر چکا تھا

اور دیکھے مسٹر خداش کاظمی میں جانتی ہوں میں دادا جان کے لیے کتنی اہم ہے آپ کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور اپنی اہمیت کا اندازہ بھی مجھے بہت اچھے طریقے سے ہے اور کل تو اور بھی اچھے طریقے سے ہو گیا ہے

میری ذات پر مذاق کرنے کا آپ کوئی حق نہیں ہے اور میرا نام لے کر کسی کو بہلانے کی کوشش مت کیجئے گا

سو پلیز یہ جو آپ پتہ نہیں کس طرح خود کو مجھ سے معافی مانگنے پر مجبور کر رہے ہیں مت کرے

کیوں کہ مجھے انداز ہی نہیں کہ میں آپ کو کون کون سے بات پر معاف کروں ۔آپ نے مجھ سے بہت کچھ چھینا ہے ۔جواب زندگی میں مجھے کبھی واپس نہیں مل سکتا

اور نہ ہی میں واپس کبھی حاصل کرنا چاہتی ہوں تو یہ جو کسک میرے دل میں ہے نہ یہ کبھی نکل نہیں سکتی نہ آپ اپنا معیار گرائیں اور نہ ہی اپنی ناک نیچی کریں ۔

اس سب کے پیچھے جو وجہ ہے وہ بتا دیں مجھے تاکہ مجھے آپ کی اصل بات سمجھ میں آئے وہ فائل ایک طرف رکھتے ہوئے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے اس سے پوچھنے لگی تھی خداش آہ بھر کر رہ گیا۔وہ اس کی بات کو پیار سے سمجھنے والی نہیں تھی

دادا جان کو سوری بول دو ان سے کہو کہ جو کچھ تم انجانے میں کر دیتی ہو اس کے لئے تو معذرت خواہ ہو اور آئندہ ایسی کوئی غلطی نہیں کرو گی جس سے ان کا دل دکھے

وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کر چکا تھا جب کہ وہ حیرانگی سےاسے سن رہی تھی اس نے کب دادا جان کا دل دکھایا تھا کب ان سے کچھ ایسا کہا تھا جس سے وہ ہرٹ ہوں

میں نے اب ایسی کون سی غلطی کر دی جس کی وجہ سے مجھے دادا جان سے معافی مانگنی پڑے گی

وہ اسے گھورتے ہوئے بولی

اس نے پھر سے دادا جان کے دل میں اس کے لئے کوئی بات تو نہیں ڈال دی تھی اس کا پہلا شک اسی پر جاتا تھا

تم نے کچھ نہیں کیا لیکن پچھلے کچھ وقت سے جو تم حرکتیں کرتی ہو ضد کرتی ہو ہر بات پر ڈٹ جاتی ہو دادا جان کو یہ ساری چیزیں پسند نہیں ہیں

ان سب چیزوں کی وجہ سے وہ ہمارے مستقبل کو لے کر کافی پریشان ہیں تم ایک بار ان سے معذرت کر لوں تاکہ دادا جان کی پریشانی کچھ کم ہو سکے

ابھی تک دادا جان نے خداش کی پسند کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا خداش کیا سوچ رہا ہے اور اب وہ دیشم کو لے کر کافی پریشان تھے

کل رات انہوں نے کہا تھا اگر دیشم آگے بھی ایسی ہی رہی تو وہ اس بات کو یہیں ختم کر دیں گے یہ سوچے بغیر کہ وہ لڑکی ان کے پوتے کی خواہش ہے

ہمارا مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔وہ ساری باتوں میں سے بس یہ دو لفظ پکڑ کر رہ گئی تھی

ہمارا مستقبل مطلب ہم سب کا مستقبل دادا جان کے سوچیں ہم سب کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں

اس کا دل تو چاہا تھا کہ آس پاس پڑی کوئی بھاری چیز اس کے سر پر دے مارے تا کہ اس کی کی عقل ٹھکانے آ جائے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا

ہاں یہ لڑکی تو خداش کاظمی کے دل پر حکومت کرتی تھی اسے تو سات خون معاف تھے

یہ میرا اور میرے دادا جان کا مسئلہ ہے آپ کو بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی معذرت والے ڈرامے کرنے کی ضرورت ہے

وہ حرم کو آتے دیکھ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی

تمہیں میری زات سے اتنی چڑکیوں ہے۔۔۔۔؟ اس نے پوچھا لیکن حرم ڈور کھول چکی تھی

اس لیے اس کےسوال کا جواب بیچ میں ہی رہ گیا جبکہ وہ اسے گھور کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا اس لڑکی کو سمجھانا اس کے بس میں تو ہرگز نہیں تھا

°°°°°