Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 34)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 34)
Junoniyat By Areej Shah
کہاں جانے کی تیاری ہے باس آج تو بڑے چمک رہے ہو صیام نے اسےشیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی تیاری کو دیکھتے پاکرپوچھا
ہاں میں شادی میں جا رہا ہوں وہ مسکرا کر خود پر پرفیوم سپرےکرنے لگا،
شادی پہ ۔۔۔۔!کس کی شادی پہ ۔ ۔۔۔؟! وہ حیران ہو کر اس کے سامنے ہی آ کر رک گیا
حرم کے بھائی کی شادی ہے سوچا اپنے سسرال والوں کو اپنی شکل دکھا کے آتا ہوں، وہ آنکھ دباکرمسکرایا تھا
کیا مطلب ہے تمہارا میں کچھ سمجھا نہیں وہ شاید سچ میں اسے نہیں سمجھا تھا،
یہی تو مسئلہ ہے صیام شکیل تم آسانی سے کچھ سمجھتے نہیں ہو، لیکن فکر مت کرو واپس آ کر سمجھاتا ہوں نا تمہیں اپنے سسرال والوں سے میل ملاقات کر کے آتا ہوں ،
وہ سے اسکا کندھا تھپتھپاتا دل کشی سے مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا
جب کہ صیام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کرنےکیاگیا ہے
°°°°°°
کس سے ملوانے والے ہو یہ بھی تو بتاؤ دادا جان کو اس نے صبح ہی بتا دیا تھا کہ آج اس محفل میں کوئی آنے والا ہے، جس سے وہ ان کی ملاقات کروانے کا سوچ رہا ہے
لیکن وہ کس کے بارے میں بات کر رہا تھا یہ بات وہ نہیں جانتے تھے وہ ہزاربارپوچھ چکے تھے لیکن اس نے انہیں کچھ بھی نہیں بتایا تھا جس کی وجہ سے ان کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا،
پتہ نہیں میں خود بھی نہیں جانتا اسے بس اتنا پتہ ہے کہ حرم کا ٹیچر ہے اوراسکے علاوہ آپ مجھ سے کچھ مت پوچھئے گا
وہ مجھ سے ملا نہ تو مجھے لگا کہ وہ کوئی بہت اپنا ہے میرا
اسی لئے میں نے اسے شادی پر انوائٹ کیا ہے اور یقینا وہ آج ضرور آئے گا اور آپ اس سے مل کر مجھے بتائیے گا کیا وہ آپ کو بھی اتنا ہی اپنا لگا ہے جتنا کے مجھے
اس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کشمکش میں ہے دادا جان نے بناکچھ بھی کہے سر ہلا دیا تھا
°°°°°°
تم کب واپس آرہے ہو شائزم ہم سب تمہیں بہت مس کر رہے ہیں اب تو تمہارا ٹوورختم ہوگیا ہے
اب تو گھر واپس آ جاؤ اپنے ایک پوتے کو کھو چکے ہیں دوسرے کو خود سے دور کرنے سےاب ڈر لگنے لگا ہے دادا جان کے لہجے میں مایوسی تھی یقینا وہ باقر کے چلے جانے سےبہت دکھی تھے
آ جاؤں گا داداجان مجھے ٹھیک سے انجوائے تو کرنے دیجیئے اور ویسے بھی جب میں گھر آتا ہوں تو آپ لوگوں کی بزنس بزنس کی گردان شروع ہوجاتی ہے
اور مجھے نہیں گزارنی کوئی بورنگ قسم کی لائف ہے آپ مجھے بتائیں بھائی اور بھابھی کی واپسی ہوگئی کیا؟؟ وہ ٹوپک بدلتے ہوئے بولا۔
وہ تمہاری بھابھی نہیں ہے سنا تم نے ایک تو ذریام کا دماغ خراب ہو گیا ہے جو اسے اس لڑکی میں اپنی بیوی نظر آرہی ہے
جبکہ ہم اس سے بہت پہلے ہی اس چیز کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ وہ لڑکی صرف ایک ونی ہے اور جیسے ہی اس کا بھائی ہمیں مل جائے گا ہم اسے اس گھر سے دھکے مار کر باہر کر دینگے
دادا جان اس کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی
دادا جان وہ آپ کے لئے کچھ بھی کیوں نہ ہو آپ یہ سوچیں کہ وہ بھائی کے لیے کیا ہے۔۔۔ اگر بھائی کو وہ لڑکی پسند ہے اور وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی گزرانا چاہتے ہیں تو اس میں کچھ غلط تو نہیں ہے نا
غلط نہیں ہے تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا شائز وہ ایک ونی ہے اور تم چاہتے ہو کہ ہمارا پوتا ہمارے خاندان کا خون اس کے ساتھ زندگی گزارے ایسا کبھی نہیں ہوگا وہ لڑکی کبھی ہمارے پوتے کی بیوی نہیں بن سکے گی دادا جان غصے سے غرائے تھے
اچھا تو اگر وہ لڑکی آپ کے پوتے کی بیوی نہیں بن سکتی تو کیوں آپ نے اس لڑکی کا نکاح کروایا تھا بھائی سے کیوں ونی کے نام پر اس لڑکی کی زندگی اجیرن کر دی
آپ لوگوں کو اس لڑکی سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا تھا کوئی رشتہ ہی نہیں بنانا تھا تو کیوں اسے بھائی کے کمرے میں بھیج دیا
اگر کل کووہ آپ کے خاندان کی نسل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گئی تو کیا کریں گے آپ ۔۔۔۔؟
بس خاموش ہو جاؤ شائز اگر ہم تمہیں بولنے کا موقع دے رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمہارے جو زبان میں آئے وہ بولتے چلے جاؤ
اس لڑکی سے نہ آج ہمارا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی آنے والے کل کو ہوگا اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو ہم اس کی کوکھ سے اپنے خاندان کا خون پیدا نہیں ہونے دیں گے ۔
ایک ونی ہر حال میں ونی ہی رہے گی وہ جیسے بات ختم کر چکے تھے
اچھا تو وہ صرف ونی ہی رہے گی واہ ۔۔۔۔آپ کو پتا ہے دادا جان مجھے لگتا تھا آپ میں اورسید قربان کاظمی میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن آپ آج مجھے اسی مقام پر کھڑے نظر آرہے ہیں جہاں کبھی وہ کھڑا تھا
اس کے پاس اپنے خون کو قبول نہ کرنے کی بہت بڑی وجہ تھی لیکن آپ کے پاس نہیں ہے اس نے تو پھر دین سے باہرکی عورت کے بطن سے اپنے خون کو قبول نہ کیا تھا لیکن آپ تو اپنے ہی دین میں ۔۔۔۔۔۔۔
خاموش گستاخ تم ہمارا مقابلہ اس نامردود سے کر رہے ہو تمہیں اس میں اور اپنےدادا جان میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا وہ بے حد غصہ سے گرجے تھے
آپ کے چلانے سے یا پھر غصہ ہونے سے میری بات بدلے گی نہیں دادا جان میں بھی آپ کا خون ہوں۔
غلط بیانی برداشت نہیں ہوتی مجھ سے بھی اپنے کہے سے مکر نہیں سکتا۔ مجھے کوئی فرق نظر نہیں آرہا آپ میں اور اس میں اب دونوں ایک جیسے ہیں اور مجھے اس بات کا افسوس ساری زندگی رہے گا وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا جب کہ دادا جان کتنی ہی غصے سے فون کو گھورتے رہے
°°°°°
انہیں یہاں آئے دوسرا دن گزر چکا تھا ذریام تو یہاں آ کر بہت خوش تھا ۔کیونکہ یہاں ان کو ڈسٹرب کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا اور اس کی پیاری سی بیوی ہر وقت اس کے ساتھ تھی ۔
اس کی آنکھ کھلی تو اپنے آس پاس عمایہ کو کہیں بھی نہ پا کر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اس کا ارادہ باہر جانے کا تھا یقینا وہ بھی باہر ہی کہیں اس خوبصورت سے موسم کو انجوائے کر رہی تھی
وہ شرٹ پہنتا باہر نکلا تھا جب اس کا فون بجنے لگا یہ وہ واحد چیز تھی جیسے وہ خودسےدور نہیں کر سکتا کیونکہ گھر میں سے کبھی بھی کسی کا بھی فون آجاتا تھا
لیکن اس وقت فون گھر سے نہیں بلکہ کہیں اور سے آیا تھا اس نے اگلے ہی لمحے فون کو اٹینڈ کر کے اپنے کانوں سے لگایا تھا
سراس لڑکے کا پتہ چل چکا ہے وہ لڑکا اور کہیں نہیں بلکہ اس وقت مری میں ہے اور اسی ہوٹل میں رہ رہا ہے جہاں پر آپ رہتے ہیں ۔اور سر ایک اور بات ۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا ذریام کو مزید تجسس نے آ لیا تھا
اور کیا تم خاموش کیوں ہو گئے بولو کیا کہہ رہے تھے تم وہ اس کے خاموش ہونے پر تیزی سے بولا تھا
سر آپ کی مسز اس بارے میں جانتی ہیں اور وہ دو تین بار اس سے مل بھی چکی ہیں ۔اور میرے خیال میں وہ ہوٹل میں چھپا ہوا تھا اور جب سے آپ کی بیگم کو یہ بات پتہ چلی ہے وہ آپ کے ساتھ وڈ ہاؤس میں چلی گئی ہیں
تاکہ آپ کو اس چیز کی بھنک نہ پڑے وہ بولے جا رہا تھا جب کہ چائے کی ٹرے لیے اندر آتی عمایہ کے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ وہ اسے گھورنے لگا تھا
میں تم سے پھر بات کرتا ہوں اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا جبکہ عمایہ اس کے لیے چائے کا کپ اٹھا کر اس کے پاس ہی آ گئی تھی
ہوٹل میں کس سے مل رہی تھی تم وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
کسی سے نہیں ۔۔۔عمایہ کو گھبراہٹ نے آلیا تھا
جھوٹ نہیں مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے تم ہوٹل میں کس سے ملی تھی وہ گرجتے ہوئے بولا تھا
کسی سے بھی نہیں آپ کو کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔ ۔۔۔۔۔اس کا تھپڑاتنا شدید تھا کہ عمایہ کے ہاتھ میں چائے کا کب زریام کے ہاتھ پر الٹ گیا تھا جبکہ وہ خود دور جا گری تھی
کیا کہا تھا میں نے تم سے مجھ سے جھوٹ مت بولنا ۔لیکن تم نے وہی کام کیا جس سے مجھے نفرت ہے .آخری بارپوچھتا ہوں کس سے ملتی تھی تم۔اس رات کمرے میں،میں نے کھڑکی کےپاس پیروں کےنشان دیکھے تھے۔لیکن تم نے کہا کوئی نہیں میں نےتم پر یقین کیا
اپنی آنکھوں دیکھا جھٹلاکر ۔میں نےبار بار پوچھا تم کچھ کہنا چاہتی ہو تم نےکہا نہیں۔
میں نےتم پر یقین کیا عمایہ لیکن تم نے۔۔۔۔۔۔۔سب کےخلاف جا کر تمہیں اپنایا عمایہ لیکن تم نے وہی کیا جس سے مجھے نفرت ہے۔
کیا لگتا ہے وہ بچ جائے گا نہیں دنیاکی کوئی طاقت اسے مجھ سے بچا نہیں سکتی یاد رکھنا۔سامان پیک کرو ہم واپس جا رہے ہیں ہم ابھی ۔وہ کہہ کر اپنا فون لےکرباہر چلا گیا ۔جبکہ وہ وہی بیٹھی روتی رہی
°°°°°°°°
سروہ عجیب بندہ تھا ہم نے بہت دفع نوٹ کیا آپ لوگ جہاں جا رہے ہیں وہ آپ لوگوں کے پیچھے پیچھے جاتا تھا لیکن جب آپ لوگ وڈ ہاؤس کی طرف گئے تھے تب وہ یہاں سے نکل گیا تھا
عجیب قسم کا پرسرار بندہ تھا ایسا لگتا تھا جیسے کسی سے چھپ کر یہاں بیٹھا ہو
ہم نے دو تین دفعہ انکوائری کرنے کی کوشش کی تو وہ آگے سے الٹی سیدھی صفائیاں دینے لگا
دکھنے میں خطرناک نہیں لگ رہا تھا اسی لیے ہم نے بھی اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور پھر اس دن صبح آپ کی مسزاس سے باتیں کر رہی تھی
ہمیں لگا کہ ان دونوں میں جان پہچان ہے لیکن پھر ہم نے آپ لوگوں کا پرسنل میڑ سمجھ کر کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کی
مینجر اس کے سامنے کھڑا اس کے غصے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا
اتنے مہینوں سے وہ آدمی جو ان کے ہوٹل میں بنا کسی جان پہچان کےرہ رہا تھا اس کے بارے میں اس طرح پوچھ تاچھ ہوگی یہ تو وہ جانتے تک نہیں تھے
یہ ان کے لئے عجیب بات تھی وہ تو اپنے ہوٹل کی ریسپشن بچانے کے لیے کسی طرح کا کوئی ہنگامہ نہیں کرنا چاہتے تھے
کوئی انجان پرسرار آدمی تم لوگوں کے ہوٹل میں آ کر رہے گا تو کیا تم لوگ اس سے کچھ بھی پوچھیں بنا اسے یہاں رکھولوگے وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا
جانتے ہو وہ کون ہے وہ ایک خطرناک مجرم تھا ایک قتل کرکے بھاگا ہوا ہے دو مہینوں سے اس کی تلاش کی جا رہی ہے اور وہ کہیں نہیں مل رہا ہے کیوں کہ وہ یہاں تم لوگوں کے ہوٹل میں چھپ کر بیٹھا ہوا تھا
چھوڑوں گا نہیں میں تم سب کو دیکھ لوں گا دیکھنا میں کیا کرتا ہوں جانے کس کا غصہ وہ کس پر نکال رہا تھا لیکن وہ لوگ دھمکی سے واقعی خوف زدہ ہو چکے تھے۔
جبکہ خوف کے باوجود عمایہ اس کا سرخ ہوتا ہاتھ دیکھ رہی تھی جو گرم چائے گرنےکی وجہ سے بری طرح جھلس چکا تھا لیکن اسے اپنی پرواہ کہاں تھی
°°°°°°°
میں تو کہتی ہوں تمہیں ضرورت کیا تھی اتنا بھاری لہنگا بنوانے کی یار دلہن تم نہیں تمہاری کزن ہے وہ اسے دونوں طرف سے تھامے اسے چلنے میں مدد کر رہی تھی
اس نے تو اپنی دوستوں کے سامنے صاف صاف بتا دیا تھا اس لہنگے میں چلنا اس کے بس سے باہر ہے
لیکن اب سوچ رہی تھی کہ کاش ایک بار ٹرائی کر لیتی کاش وہ ایک بار دیکھ ہی لیتی کہ کیا وہ اس لہنگے میں آسانی سے چل پائے گی
خیر اب کیا ہو سکتا تھا
دیکھو تم لوگ پورے فنکشن میں میرے بالکل ساتھ ساتھ رہنا اگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ مجھےاس بھاری لہنگے میں چلنا نہیں آ رہا تو تم دونوں کی خیر نہیں
حرم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے ساتھ باہر آئی تھی جبکہ نارمین اور میشہ دونوں اس کے دائیں بائیں سےلہنگا تھامے ہوئے تھیں
ارے یار ہم نے کہاں جانا ہے تمہارے ساتھ رہنا ہے بےفکررہو ہم تمہیں بالکل نہیں گرنے دیں گے دونوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
جب وہ آہستہ آہستہ چلتی سیڑھیوں کے پاس پہنچی
احتیاط سے قدم اٹھانا یہ نہ ہو کے گر جاؤ وہ ایک بار پھر سے اسے سمجھا رہی تھیں دونوں کا دھیان اس کے لہنگے پر تھا
جبکہ وہ خود بھی اپنے لہنگے والے فیصلے پر پچھتاتی قدم اٹھا ہے رہی تھی جب لہنگے کا کام دار حصہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا
اور اس کے ساتھ ہی وہ خود بھی سیڑھوں سے نیچے گری لیکن اس کی قسمت اچھی تھی یا پھر سامنے والے کی ٹائمنگ پرفیکٹ تھی وہ اس کی باہوں میں جھول گئی تھی
یا الہی
شکر ہے اللہ کا ۔۔۔۔وہ دونوں ایک آواز میں بولی تھی جبکہ یشام یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس کا لہنگا زیادہ بھاری ہے یا وہ خود
اس کا ہاتھ اس کی کمر میں کافی سختی سے حائل اگر وہ ذرا سا بھی اپنے ہاتھ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا تو وہ نیچے گر جاتی
اس نے بڑی ہی احتیاط سے اس کے نازک سے وجود کو سیدھا کیا تھا ۔حالانکہ اس وقت اس کے دل کی دھڑکنیں کافی تیز ہو گئی تھی ۔شاید سامنے والی کی قربت کا ہی اثر تھا
آپ ٹھیک ہیں حرم وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا جب کہ وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اور سرہاں میں ہلاکر اسے مطمئن کر رہی تھی
شکر ہے اور احتیاط سے چلے جس طریقے سے آپ چل رہی ہیں نا ایک دو ہڈیاں تو تڑوا ہی لے گی
اور میں بندہ پریکٹیکل قسم کا ہوں ٹوٹی پھوٹی لڑکی کے ساتھ میرا گزارہ نہیں دوسرا جملہ اس نے کافی کم آواز میں بولا تھا جبکہ حرم اسے گھورنے لگی تھی
میرا مطلب ہے مشکل ہو جائے گی آپ کے لیے اگر کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تو،خیر یہ بتائیں کہ آپ کے بھائی کس طرف ہیں
انہوں نے بلایا ہے مجھے آپ نے تو انوائٹ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہوگی اس نے مسکراتے ہوئے میٹھا ساطنز کیا تھا
آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ آنا چاہتے ہیں وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالتے ہوئے پریشانی سے بولی تھی
شادی پہ انوائٹ ہونے والے لوگوں کو کیاپہلے بتانا پڑتاہے کہ وہ شادی پہ آنا چاہتے ہیں یا نہیں سوری مجھے یہ نہیں پتا تھا آئندہ خیال کروں گا وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا
جبکہ حرم اب ان دونوں کی گھوریاں دیکھ رہی تھی شاید اس نے کوئی بیوقوفی والی بات کی تھی
°°°°°°°
پتا نہیں یشام کس طرف نکل آیا تھا راہداری بالکل خالی تھی اس کا ارادہ تو خداش سے مل کر واپس جانے کا تھا۔لیکن وہ اسے ملا ہی نہیں
وہ باہر کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا جب اسے ایک بھاری آواز سنائی دی اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ در آئی تھی
وہ آگے جانے کا ارادہ کینسل کرتے ہوئے اسی کمرے کی طرف چل گیا تھا جہاں سے یہ آواز سنائی دے رہی تھی
وہ خود بھی اپنے ہاتھ میں چشمہ پکڑے جلد بازی میں کمرے سے نکل رہے تھے
جبکہ فون اب تک کان سے لگا ہوا تھا ۔
فون رکھتے ہوئے وہ سامنے کی طرف دیکھنے لگے جب کوئی ان کواپنی طرف چلتے ہوئے نظر آرہا تھا
اس کی چال ان کے لئے کافی جانی پہچانی تھی لیکن حیران کن بھی تھی وہ اپنی عینک صاف کرتے ہوئے اپنی دھندلائی آنکھوں سے سامنے آنے والے شخص کو دیکھنے لگے
لیکن پیروں سے شروع ہونے والا نظروں کا یہ سفر اختتام ہوتے ہوتے جیسے ان کی دنیا ہلا گیا تھا وہ چہرے پرسرار مسکراہٹ لئے ان کو دیکھ رہا تھا
اور اس کا چہرہ دیکھ کر انہیں لگا جیسے ان کا دل بند ہو جائے گا
قربان کاظمی کیسے ہیں آپ۔۔۔!
پہچانا مجھے۔۔۔۔ ارے آپ کیسے پہچانیں گے مجھے میں تو آپ کے لیے انجان ہوں نا اتنا بھی آسان نہیں ہو سکتا کسی انجان کو پہچاننا لیکن یہ شکل ۔۔اس نے تو آپ کو کچھ یاد کروا دیاہو گا ہے نا کچھ یاد آیا۔۔۔۔؟
میرا نام نہیں پوچھیں گے خیر میں خود ہی بتا دیتا ہوں ۔وہی ہوں میں جس سے اس کا نام اس کی پہچان چھین لی تھی آپ نے سید یشام احمر کاظمی سن آف سر احمر قربان کاظمی مجھ سے مل کر کیسا لگادادا جان
وہ انہیں وہیں دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ لئے کسی سرپرائز کی طرح ان کے سامنے کھڑا تھا
جب کہ دادا جان اگلے ہی لمحے اپنا ہاتھ اپنی بائیں سائیڈ پر رکھ چکے تھے ان کا دل بند ہونے لگا تھا انہیں لگ رہا تھا جیسے زمین آسمان سے جا ملی ہو ان کی دھڑکنیں ان کا ساتھ چھوڑ رہی تھی
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دل کے مقام کو تھامیں زمین پر بیٹھتے چلے جا رہے تھے
جب کہ وہ حیران ہوئے بنا اپنی مسکراہٹ کو خود سے دور کئے انہیں دیکھ رہاتھا
جیسے ان کے سانسس ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا
وہ زمین پر بری طرح سے تڑپ رہے تھے جب کہ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گیا چہرے پر معصوم بچوں جیسے مسکراہٹ تھی جیسے یہ سارا تماشہ دیکھ کر اسے بہت سکون مل رہا ہو
ارے دادا جان آپ سے تو خوشی برداشت نہیں ہو رہی کیا آپ کو میرے بابا جان کے پاس جانے کا بہت شوق ہے چلیں میری امی سے بھی ملاقات کر لیجئے گا
اور ان سے معافی ضرور مانگے گا انہیں بتائیے گا
کہ وہ خود تو ساری دنیا میں مجھے احمر قربان شاہ کا بیٹا ثابت نہ کرسکی لیکن احمر قربان شاہ کے چہرے نے ان کے دشمنوں کی ہستی ہلا دی ہے
وہ ان کے سامنے بیٹھا شاید آج اپنا سارا غصہ نکال دینا چاہتا تھا اس کا انداز بہت عجیب تھا جیسے کوئی پاگل انسان سکون سے اپنی منزل پا رہا ہو
اسے دور سے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تو وہ اگلے ہی لمحے وہاں سے اٹھتا تیزی سے راہداری سے نکلتا چلا گیا
جب کہ خداش دادا جان کی غیر موجودگی کو محسوس کرکے ان کے کمرے کی طرف آیا تھا لیکن انہیں زمین پر بری طرح تڑپتے دیکھتے ہوئے وہ بھاگ کر ان کے پاس آیا
۔۔
داداجان آپ تو ٹھیک ہیں کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔
وہ ان کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے ان کی حالت سے بہت کچھ معلوم ہو چکا تھا، جب کہ دادا جان باربار راہداری کی طرف اشارہ کر رہے تھے ان کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکل رہے تھے
۔۔۔۔ احم۔۔۔۔۔۔اح۔۔۔۔۔خداش ۔۔۔احمر۔۔۔میرا۔۔۔بچہ
°°°°°°°
