65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 28)

Junoniyat By Areej Shah

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز کوئی راستہ نکالو ناں!! تاکہ ہم اس جنگل سے نکل پائیں ۔اس کے ساتھ پیچھے پیچھے آتی ریدم بول رہی تھی ۔

جب کہ اپنے موبائل کی بیٹری کو بچانے کے لیے وہ ٹارچ بند کرتا صرف سکرین لائٹ پر آگے بڑھ رہا تھا ۔

یار تمہیں کیا میں کوئی مستری لگتا ہوں کدھر سے نکالوں میں رستہ میں بھی اس جنگل میں پہلی دفعہ ہی آیا ہوں

مجھے جنگل میں گھومنے کا ہرگز بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ مجھے پہلے اس طرح کی کنڈیشن کا کوئی اندازہ ہو مجھے نہیں پتا جنگل میں کس طرح کے کدھر سے راستے نکلتے ہیں

اور سب سے بڑا مسئلہ اس وقت جنگل سے نکلنا نہیں اپنی جان کی حفاظت کرنا ہے جنگل خطرناک جانوروں سے بھرا ہوا ہے

اللہ نہ کرے کہ یہاں کوئی بھوکا شیر بیٹھا ہو اور ہم اس کا نوالہ بن جائیں ۔وہ پریشانی سے آگے بڑھتے ہوئے بول رہا تھا جب اچانک اس نے اس کا ہاتھ کس کر تھام لیا

شائزم نے اپنے ہاتھ پر اس کی گرفت کو محسوس کیا تھا لیکن اس کے ڈر کی وجہ سے بنا کچھ بھی بولے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا آگے بڑھنے لگا

مجھے ایک بار یہاں سے نکال دو میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گی اور دیکھو میری بات یاد رکھنا اگر کوئی شیر آگیا تو مجھے اکیلے جنگل میں چھوڑ کر مت بھاگنا

وہ جیسے اس سے کوئی وعدہ لینا چاہتی تھی اس وقت اس کی باتیں اسے بالکل بچکانہ لگ رہی تھی حالانکہ پہلی دو ملاقاتوں میں اگرچہ اسے وہ بہت عقلمند نہ لگی تھی تو اتنی بے وقوف بھی محسوس نہ ہوئی تھی۔

بے فکر رہو میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں بھاگ رہا اور ویسے بھی اگر شیر نے پکڑ لیا نہ تمہیں تو صرف تمہارے کھانے سے اس کی بھوک ختم نہیں ہوگی ۔

وہ پھر بھی مجھے پکڑ کر کھا ہی لے گا تو بہتر ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی جان کی حفاظت کرے

صرف تمہیں کھانے سے کیا اس کی بھوک ختم ہو جائے گی ریدم نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تو شائزم نے اندھیرے میں اسے گھور کر دیکھا کیا مطلب تھا اس کی بات کا

کیا اگر شیر کی بھوک صرف اسے کھانے سے ختم ہوجائے تو وہ اسی کو ہی کھائے

اس سے وہ وعدے لے رہی تھی کہ وہ اسے چھوڑ کر بھاگے گا نہیں اور خود یہاں سے بچ کر بھاگنے کی پلاننگ کر رہی تھی

میرا نہیں خیال کے صرف مجھے کھانے سے بھی اس کی بھوک ختم ہوگی اسی لئے ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہیے اب قدم اٹھاؤ پتا نہیں کس طرف جانا ہے وہ اسے جواب دیتا تیزی سے قدم اٹھانے لگا تھا

تمہارے موبائل کی بیٹری تو اینڈ تھی نہ تو ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئی وہ پھر سے سوال کرنے لگی جب اچانک اس کا فون بند ہوگیا

اس کے فون بند ہونے پر اندھیرا مزید پھیل گیا

مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ میں اتنی منحوس لڑکی کو ساتھ لیے گھوم رہا ہوں وہ غصے سے کہتا تیزی سے قدم اٹھانے لگا۔

جب کہ اس اندھیرے میں وہ اس سے لڑنے کی پوزیشن میں تو ہرگز نہیں تھی

اسی لئے اس منحوس لفظ کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی گی۔

°°°°°°

وہ آج بھی اسے لینے جلدی آ گیا تھا اسے تو بڑا غصہ آرہا تھا ایک تو صبح والی بات پر اور اب اس کا پھر سے جلدی آ جانا یعنی کہ وہ پھر اسے اپنے ساتھ کہیں زبردستی لے کر جانے والا تھا

اس نے پیون کو یہ بول کر واپس بھیج دیا کہ ابھی اس کا پیپر ختم نہیں ہوا جس پر اسے جواب ملا تھا میں باہر ہی ہو تم پیپر ختم کر کے آرام سے آ جاؤ ۔

ویسے تو ان جناب کی مصروفیات ہی ختم نہیں ہوتی اور اب جب سے نکاح ہوا ہے ویلے ہی ہو گئے ہیں

وہ سوچتے ہوئے اپنی کتاب اٹھا چکی تھی جب وہیں اس کی کچھ کلاس فیلوز انعم،رابعہ اور نیناں آ کر بیٹھ گئیں

لڑکی تمہاری گاڑی تو کب کی آ چکی ہے لگتا ہے تم نے آج گھر نہیں جانا رابعہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہنے لگی تھی

ویسے تم لوگوں نے ڈرائیور کچھ زیادہ ہینڈسم نہیں رکھ لئے مجھے تمہارے ڈرائیور کا نمبر مل سکتا ہے انعم شرارت سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی

وہ میرے کزن ہیں اس نے چبا چبا کر کہا جس پر ان تینوں لڑکیوں کے بےباک قہقے بلند ہوئے تھے۔

تو ایسے کزن کو باہر کیوں کھڑے رکھا ہے سنا ہے تمہارا نکاح ہوا ہے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی کہ کہیں ہم تم سے ٹریٹ نہ مانگ لے

نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے وہ دراصل سب کچھ اچانک ہی ہوا اور میرے سارے ٹیچرز میرے نکاح میں بھی شامل ہوئے تھے میں نے کلاس میں بھی سب کو ہی بتایا تھا کسی سے چھپانے والی تو بات ہی نہیں اس کا انداز بہت ہی سرسرا سا تھا

یہاں اس کی کوئی بھی ایسی دوست نہیں تھی جسے وہ اپنے نکاح میں بلاتی اور دوستیاں ویسے بھی بہت کم ہی کیا کرتی تھی

مشال آپی نے تو کہا تھا کہ وہ اپنی کلاس فیلوز کو بلالے اور اس نے سرسری انداز میں سب کو کہہ دیا تھا شاید اس کے بلانے کا انداز ہی کسی کو پسند نہیں آیا تھا مشال آپی تو اس سے پوچھتے ہی رہی کہ اس کے نکاح میں اس کی سہیلیوں میں سے کوئی بھی شامل کیوں نہیں ہوا

اور وہ انہیں کیا بتاتی کہ وہ ایسی دوستیوں سے ہزار میل دور رہنا پسند کرتی ہے جس طرح کی دوستیاں اسے اس کی یونیورسٹی میں مل رہی تھی

خیر ہم پرانی ساری باتیں بھول جاتے ہیں ٹریٹ تو تم آج بھی دے سکتی ہو اور ہمارے حساب سے تو تمہارا ایک ہی کزن تھا نہ جس کے ساتھ تمہارا نکاح ہوا ہے تو یہ جو باہر کزن ہے وہ جیجو ہی تو نہیں

یہ لڑکیاں اس وقت ضرورت سے زیادہ ہی اس کی سہیلیاں بن رہی تھی اس نے اثبات میں سر ہلا دیا

تو بس ٹھیک ہے لڑکیوں چلو جیجو سے ٹریٹ لیتے ہیں وہ فورا اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی جبکہ دیشم پریشانی سے ان کے کپڑے دیکھنے لگی۔جو اس کے لیے شرمندگی کی وجہ بن رہے تھے

نہیں وہ بہت مصروف ہیں میرا نہیں خیال کہ وہ اتنا وقت نکال پائیں گے وہ جان چھڑواتے ہوئے کہنے لگی

ہمیں تو اتنے مصروف نہیں لگ رہے اگر وہ پچھلے پونے گھنٹے سے تمہارے انتظار میں باہر رک سکتے ہیں تو پھر ہمیں پندرہ منٹ ٹریٹ لینے میں کتنا وقت لگے گا

چلو لڑکیوں آ جاؤ باہر لڑکیاں جلدی سے کہتے باہر کی طرف چلی گئی تھی جبکہ اسے لگا جیسے اس کے قدم من بھاری ہوگئے ہیں وہ کیا سمجھے گا کہ اس کی سہیلیاں اس طرح کی ہیں۔

°°°°°°

جیجو میں انعم ہوں یہ رابعہ ہے اور یہ نیناں ہے اور ہم سب آپ کی مسز کی سہیلیاں ہیں اور تینوں شوخ و چنچل انداز میں اس کے پاس آتے ہوئے بولی تھی

ان کے پیچھے آتی دیشم کو دیکھ کر اس نے ان لڑکیوں کے حلیے کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی مشکل سے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تھا۔

جیجو یہ لڑکی بڑی بے وفا ہے اس نے ہمیں نکاح کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں اور آج جب ہمیں پتا چلا ہے تو ہم سیدھی آپ کے پاس آ گئیں آپ سے ٹریٹ لینے کے لئے۔۔!!!!

اب خبردار جو آپ نے یہ کہا کہ آپ مصروف ہیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے پونے گھنٹے سے آپ یہیں پر کھڑے اپنی مسز کا انتظار کر رہے ہیں تو پھر ہم سالیوں کو چھوٹی سی ٹریٹ تو ضرور دیں گے نیناں نے اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کہہ دیا

ارے کیوں نہیں دیں گے ضرور دیں گے ویسے شکل سے کنجوس تو بالکل بھی نہیں لگتے رابعہ کہنے لگی ۔

ہاں ضرور آئیے۔۔۔!!!!بیٹھیں گاڑی میں اس نے خوش اخلاقی سے کہا تھا جب کہ ان لڑکیوں کے ٹائٹ جینز اور چھوٹے چھوٹے ٹاپس دیکھ کر وہ اپنی منکوحہ کی سہیلیوں پر سخت بد مزا ہوا تھا کہاں وہ خود کو چھپا کر رکھنے والی لڑکی اور کہاں یہ اس کی آدھ ننگی سہیلیاں ۔

وہ اس کے ساتھ فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھی تو وہ تینوں پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گئی تھی ۔

جبکہ گاڑی شہر کے سب سے مہنگے ترین ریسٹورنٹ میں کھڑی کرتا انہیں باہر آنے کو کہہ کر دیشم کی سائیڈ کا دروازہ کھولنے لگا تھا جس پر انہوں نے ہوٹنگ کی تھی ۔

مجھے نہیں لگتا تھا تمہاری فرینڈز اس طرح کی ہوں گی خیر تھوڑی احتیاط کیا کرو دوستی کرتے ہوئے اس کے ساتھ اندر آتے ہوئے وہ بہت ہی کم آواز میں بولا تھا

جب کہ ان تینوں لڑکیوں کے حرکتیں دیکھ کر وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کاش زمین پھٹ اور وہ اس میں سما جائے ۔

°°°°°

کچھ فاصلے سے پانی گرنے کی آواز آ رہی ہے مطلب آگے کی طرف بہتا ہوا پانی ہے یا کوئی آبشار ہوگی بہت اچھا ہے اس طرف جانور ہونے کا امکان کم ہے ۔

وہ آواز سنتے ہوئے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتا آگے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ وہ بالکل خاموشی سے اس کے ساتھ چل رہی تھی اس وقت اس کے پاس یہی ایک آسرا تھا ۔

اور تھوڑی ہی دیر میں وہ درختوں کے اندھیرے سے نکل کر چاند کی روشنی میں آ گئے تھے

شکر ہے اللہ پاک کم از کم کوئی راستہ نظر آیا وہ پرسکون سا بہتی آبشار کے کے پاس آ گیا تھا کم از کم سب نظر تو آ رہا تھا وہ اندھیرے سے نکل آئے تھے

اب صبح یہاں سے آگے بڑھیں گے چل چل کر پیروں میں درد ہو گیا ہے وہ پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگی تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا

جب کہ وہی ایک لکڑی اٹھاتے ہوئے ٹائیگر کو اشارے کر رہا تھا

تم کیا کرنے والے ہو وہ اس لکڑی کے ساتھ وہ جڑی بوٹی کو توڑتے ہوئے دیکھ اس سے پوچھنے لگی

اپنی بھوک کا کچھ انتظام کرنے لگا ہوں تم تو کھا پی کر آئی ہو میں تو بلکل خالی پیٹ ہوں بہت سخت بھوک لگی ہوئی ہے مجھے وہ ٹائیگر کے منہ سے کچھ نکالتے ہوئے اس کے ساتھ باندھنے لگا وہ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی

یہ کتا کیا لے کر ۔۔۔۔

بھاو بھاو ۔۔وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ اچانک ٹائیگر نے اس پر بھونکنا شروع کر دیا

میرا مطلب ہے ٹائیگر جی یہاں کیا لے کر آئے ہیں اور تم یہ لکڑی سے کیوں باندھ رہے ہو وہ شائزم کے پیچھے چھپے ہوئے عزت سے ٹائیگر کو پکار کر کہنے لگی

کیڑا ہے یار اس نے اپنا ہاتھ کھولتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود چلتے پھرتے کیڑے کو دکھایا تھا جس پر وہ چیخ کر پیچھے ہٹی ۔

زیادہ چیخو مت شیر آگیا نہ تو اپنا انجام تم جانتی ہو وہ اس کی چیخ کو نظر انداز کرتا اپنے لکڑی پانی میں پھینک چکا تھا ۔

تمہیں لگتا ہے اس طرح کوئی مچھلی تمہارے ہاتھ آئے گی اور کیا اسے یہ کیڑا پسند ہو گا کھانے میں میرے خیال میں اس وقت تو مچھلی کچھ بھی نہیں کھائے گی وہ اپنی پیٹ پوجا کر کے آرام سے سو رہی ہو گی اندر ۔

وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر اپنے روشن خیالات اس پر ظاہر کرنے لگی

تم سچ میں اتنی بیوقوف ہو یا مجھے بیوقوف سمجھتی ہو وہ اسے گھورتے ہوئے بولا

اب تم نے مجھے بیوقوف بولا ناتو میں تمہارا منہ توڑ دوں گی کب سے برداشت کر رہی ہوں میں تمہیں وہ غصے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی یہ آدمی اب ضرورت سے زیادہ ہی سر پر چڑھتا جا رہا تھا ۔

بس بس دکھالی تم نے اپنی ہمت بیٹھ جاؤ واپس اگر میں یہاں سے چلا گیا نا سوچو تمہارے ساتھ کیا ہوگا وہ لمحے میں اسے آسمان سے زمین پر اتار لایا تھا

تم بہت برے انسان ہو آئی ہیٹ یو میں واپس جاکر کبھی تمہارے منہ نہیں لگوں گی وہ واپس بیٹھتے ہوئے کہنے لگی ۔

جب کہ اپنی لکڑی پر دباؤ محسوس کرتے ہی وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا

اور اگلے دو منٹ میں ایک موٹی تازی مچھلی اس کے سامنے تڑپ رہی تھی

ہائے بے چاری تم اسے کھا جاؤ گے وہ اس مچھلی کو دیکھتے ہوئے اس ظالم سفاک شخص سے پوچھنے لگی تھی ۔

جب کہ وہ اپنے کارنامے پر بڑا ہی خوش نظر آ رہا تھا ۔

کھاؤں گا میں تو مزے لے لے کر کھاؤں گا ویسے بے چارہ وہ ہوتا ہے جو بھوکا ہوتا ہے اور تمہارے حساب سے تو یہ اپنا پیٹ بھر کر سو رہی تھی نہ تو کیا ضرورت ہے لالچ کرنے کی ۔

اب ہٹو پیچھے وہ مچھلی کے دم نکلنے کا انتظار کرتے ہوئے وہیں سے لکڑیاں اکٹھی کرنے لگا لیکن بیوقوف آدمی آگ کہاں سے لگائے گاوہ سوچ ہی رہی تھی جب اس نے ماچس نکالی

یہ ماچس کدھر سے لائے تم وہ اس کے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی ۔

جبکہ ماچس کے ساتھ سگریٹ کی ڈبی دکھاتا وہ اس کی بات کا جواب دے کر آگ جلا چکا تھا

آیییی گندے تم سموکنگ کرتے ہو ۔سموکنگ نہیں کرنی چاہیے یہ صحت کے لئے بہت خطرناک ہوتی ہے اس کے اندر کا ہم درد انسان جاگ آیا تھا ۔

میں نے تم سے ٹپس مانگیں۔۔۔۔؟ وہ مچھلی کو لکڑی کے اوپر ٹانگتے ہوئے کہنے لگا

لیکن میں پھر بھی تمہیں بتانا چاہوں گی یہ تمہاری صحت کے لیے بہت برا ہے اس سے انسان بہت جلدی مر جاتا ہے ۔ریدم نے اسے ڈرانا چاہا تھا

کیا بات کر رہی ہو تمہیں لگتا ہے سگریٹ پینے سے انسان مر جاتا ہے چلو آؤ میں تمہیں چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں

لندن میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام اینتھنی تھا وہ بہت زیادہ سموکنگ کرتا تھا ایک دفعہ اس نے سوچا کہ چلو میں سموکنگ چھوڑ دیتا ہوں اور یہ سارے پیسے بچاتا ہوں جو میں سگریٹ پر خرچ کرتا ہوں

دیکھتا ہوں اس سے مجھے کیا فائدہ ہوتا ہے تمہیں پتا ہے اس نے ایک سال تک سموکنگ چھوڑ دی اور ایک سال کے بعد اسموکنگ کے جتنے بھی پیسے اکٹھے کیے تھے ان پیسوں سے بائیک لے لی وہ بڑے ہی جوش سے بتا رہا تھا

جبکہ ریدم جس نے شروع میں اس کی کہانی میں کسی طرح کا کوئی انٹرسٹ نہیں دکھایا تھا اب خوش ہوتے ہوئے سننے لگی تھی

دیکھا اس نے سموکنگ چھوڑیں تو اسے نئی بائیک مل گئی وہ اسے فائدہ بتا رہی تھی

ہاں لیکن اسی بائیک کی پہلی ڈرائیو میں ہی اس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مر گیا بیچارے کے سگریٹ کے سارے پیسے ضائع ہوگئے

اس سے تو بہتر تھا کہ ایک سال سگریٹ پیتا رہتا اور پھر اپنی بائیک سےمرنے کے بجائے کسی بس کا سفر کرتے ہوئے مر جاتا ۔

بیچارہ ایک سال تک اپنے مزے سے بھی دور رہا اور مر بھی گیا وہ اسے بتاتے ہوئے ساتھ ہی سگریٹ سلگا چکا تھا ۔

ریدم بس اسے گھور کر رہ گئی ۔اس آدمی سے باتوں میں جیتنا آسان تو ہرگز نہیں تھا بہتر تھا کہ وہ بحث ہی چھوڑ دے تھوڑی دیر میں وہ بڑے مزے سے اس کے سامنے بیٹھا مچھلی کھا رہا تھا ۔

اور اسے سگریٹ کے فوائد بھی بتا رہا تھا ۔

°°°°°°

وہ صبح صبح ہی ان سے ٹیسٹ لے کر چلا گیا تھا آج کوئی لیکچر نہیں ہوا تھا بلکہ مسلسل ان کا ٹیسٹ ہی چلتا رہا تھا

جس میں وہ سارے ہی مصروف رہے اپنے ٹیسٹ کو لکھتے ہوئے حرم خود پر اس کی نظروں کو محسوس کرتی رہی تھی

دو تین بار اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو اسے پوری کلاس میں نظر دوڑاتے دیکھ کر اپنا خیال رکھتے ہوئے اپنے ٹیسٹ پر دھیان دینے لگی

لیکن پھر بھی وہ بار بار اس کی نگاہوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی جب ان کا ٹیسٹ ختم ہوا تو سب کے ٹیسٹ لے کر وہ کلاس سے نکل گیا تھا سب لوگوں نے سکون کا سانس لیا تھا جب اس نے ٹیبل پر کچھ پڑا دیکھا

اس نے جلدی سے اٹھ کر ٹیبل پر سے اپنی کی چین اٹھائی تھی جو اس دن سر نے اس سے لے لی تھی یہ ان کے موبائل کے ساتھ لگی تھی تو اتر کیسے گئی وہ سمجھ نہ سکی لیکن وہ اس کو پہچان ضرور پا رہی تھی

ارے یہ سر یہیں چھوڑ گئے کیا۔۔۔؟ میشا اس کے پاس آتے ہوئے کہنے لگی

ویسے یہ سر کی نہیں ہے تیری ہے نا تو لے واپس رکھ لیں تو کوئی ضرورت نہیں ہے انہیں دینے کی میشا نے شرارت سے کہا تو وہ خود بھی ہنس پڑی تھی۔

جب وہ واپس کلاس میں داخل ہوا اور اس کے ہاتھ میں موجود اپنی کیچین دیکھ کے اس کے پاس ہی آ گیا

کیا ہوا آپ کو چاہیے کیا یہ۔۔!!!؟؟؟ وہ اس سے سوال کرنے لگا تھا بالکل سیریس انداز میں شاید وہ اسے واپس کرنا چاہتا تھا لیکن وہ کیوں اسے واپس لیتی وہ تو اس کی تھی ہی نہیں یہ بات تو اسے پوری کلاس کے سامنےایکسپٹ کی تھی

نہیں مجھے نہیں چاہیے یہ آپ کی ہے اس نے فورا اس کے ہاتھ میں دے کر اپنی سیٹ سنبھال لی تھی

جس پر بہت دلکشی سے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود کی چین پر اپنی گرفت سخت کرتا کلاس سے نکل گیا تھا

تم بھی میری ہو حرم کاظمی اور یہ بات میں بہت جلد بتاؤں گا ۔صحیح کہتا ہے صیام جس چیز کو میں چاہتا ہوں اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک گزر جاتا ہوں تو تم سے محبت کر بیٹھا ہوں

تم سے دستبردار ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تم میری ہو اور ہمیشہ میری ہی رہو گی ۔راحت کاظمی کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کی غلطیوں کی سزا میں خود کو دوں گا ۔

میں نے تمہیں چاہا ہے اور تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں کوئی بھی حد کراس کر جاؤں گا نا تو میں راحت کاظمی کو معاف کروں گا اور نہ ہی تمہیں چھوڑوں گا میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ اس کے روح بھی کانپ اٹھے گی۔۔۔

°°°°°°