65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 90)

Junoniyat By Areej Shah

بھائی صاحب مجھے تو لگ رہا ہے کہ ہم بے کار میں ہی یہاں آئے ہیں ۔بھلا کوئی پندرہ سال کی بچی یشام کے بارے میں ہمیں کیا بتا سکتی ہے۔۔۔۔۔؟

وہ خود بھی بچی ہے ہم بھلا اس پر یقین کیسے کر سکتے ہیں ثقلین صاحب ان کے ساتھ سٹی ہوسپٹل آ تو گئے تھے لیکن اب وہ یہاں آ کر اس چیز کو وقت کا برباد کرنا قرار دے رہے تھے ۔

یہ تو میں نہیں جانتا ثقلین کے وہ لڑکی ہمیں یشام کے بارے میں کیا بتائے گی لیکن وہ بچی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے کچھ پتہ ہو یشام نے اسے کچھ بتایا ہو کہ وہ کہاں جانے والا ہے ۔اور ہوسکتا ہے اس لڑکی کا تعلق اسی شیلٹرہوم سے ہو ۔اور وہ اس کی دوست ہو

وہ آگے کی طرف چلتے ہوئے ان سے بول رہے تھے جس پر ثقلین صاحب محض کندھے اچکا کر رہ گئے یہ بھی ان کے لئے ایک امید نہیں تھی کہ انہیں یشام کے بارے میں اب کچھ پتہ چل جائے گا ۔

ہمہیں تمنا نامی لڑکی نے یہاں بلایا ہے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ تمنا کہاں ہے ۔ہمیں کسی ڈاکٹر ولید نے فون کیا تھا اس ہسپتال سے کہ تمنا نام کی پیشنٹ ہم سے ملنا چاہتی ہے کوئی چھوٹی بچی ہے وہ سامنے کھڑے وارڈ بوائے سے پوچھ رہے تھے ۔

اچھا تو آپ تمنا سے ملنے آئے ہیں وہ کمرہ نمبرسترہ میں ہے آپ لوگ وہیں پر چلے جائیں ۔ڈاکٹر ولید وہیں پر ہی ہوں گے شاید انہوں نے ہی آپ کو فون کیا ہے ۔وہ انہیں بتاتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا جب کہ وہ اس کمرے کی طرف چلے گئے تھے جہاں اس وارڈ بوائے نے اشارے سے ان لوگوں کو جانے کے لیے کہا تھا ۔

°°°°°°°

وہ اپنے کام میں کافی زیادہ مصروف تھی۔بس خداش کے لئے کچھ بیسٹ بنانا چاہتی تھی اسے پلاؤ پسند تھا اپنی ماں کے ہاتھ کا اسی لیے اس نے تائی امی کی خوب مدد لی تھی ۔

جب کہ اپنے بیٹے کی فکر میں اتنی محبت سے کچھ بنانے پر تائی امی نے بھی خوشی خوشی اس کی مدد کی تھی ۔

آلموسٹ سب کچھ ہو گیا ہے اب صرف سلاد کاٹنا رہتا ہے وہ بھی کاٹ لیتی ہوں ۔تھوڑی دیر میں خداش واپس آجائیں گے ۔کیا یاد کریں گے ۔آج ان کے لیے سپیشل دعوت کا انتظام کیا ہے انہیں بھی تو پتا چلنا چاہیے کہ ان کی بیوی کتنی سگھڑ ہے ۔

وہ اپنی ہی باتوں میں مگن بولے جا رہی تھی جب اسے اپنے بے حد قریب کسی کی بانہوں کا حصار محسوس ہوا اس سے پہلے کہ پیچھے مڑ کر دیکھتی اسے اپنی طرف کھینچا گیا تھا

اور اس کے بعد اپنی صراحی دار گردن پر اس کے جاندار بوسوں کی بارش نے اس کی دھڑکنوں میں طوفان مچا دیا تھا ۔

خداش۔۔۔۔۔کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آجائے گا اس نے گھبراتے ہوئے اور اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے روکنا چاہتا تھا

لیکن وہ تو آج جسے کسی اور ہی موڈ میں تھا اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے وہ اس کی کمر کے پیچھے لاک کر چکا تھا اور ایک بار پھر سے وہ اپنے ہونٹوں کی مدد سے اس کے دوپٹے کو سائیڈ پر کرتا اس کی گردن پر اپنی محبت جابجا نچھاور کرنے لگا ۔

خداش۔۔۔نہیں۔۔۔۔پلیز۔۔۔وہ اپنی الجھی ہوئی سانسوں کے ساتھ اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

لیکن وہ تو اس کی سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا وہ تو بس اپنی کر رہا تھا اس پر اپنا حق جتا رہا تھا پورے استحقاق سے اپنے حق وصول کر رہا تھا ۔

خداش۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔؟ اس کے دور ہٹنے پر غصہ ہوا تھا شاید اب اس دوری کی امید نہیں رکھتا تھا ۔

کیا مسئلہ ہے کا کیا مطلب ہوا ہم کچن میں کھڑے ہیں کوئی آ بھی توسکتا ہے نہ اس کے غصہ ہونے پروہ سمجھاتے ہوئے بولی تھی ۔

اچھا ۔۔۔۔۔” تو چلو کمرے میں وہ جیسے ہر مسئلے کا حل نکال کر آیا تھا جبکہ اس کی فرمائش پر وہ سر سے پیر تک سرخ ہو گئی تھی ۔

خداش۔۔۔۔۔۔۔

کیا خداش ۔۔۔۔۔۔؟ یہاں مسئلہ ہے کمرے میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا چلو اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لے جانے لگا تھا ۔

کیا کر رہے ہیں خداش ۔۔۔۔۔” اس طرح دن دیہاڑے ہم کمرے میں جاتے اچھا تھوڑی نہ لگے گا۔

وا ٹ نان سینس ہمارا کمرہ ہے ہم دن میں جائیں رات میں جائیں ۔اس میں اچھا یا برا لگنے والی کون سی بات ہے ۔اس کی باتوں پر اسے مزید غصہ آ رہا تھا ۔جب اچانک تائی امی کچن میں آگئیں ۔

ارے بیٹا تم آ گئے اچھا ہوا جو وقت پہ آ گئے جلدی سے فریش ہو کر آ جاؤ میری جان کیونکہ آج تمہاری بیوی نے بہت اچھا سا کھانا تیار کیا ہے تمہارے لیے ۔دیشم بیٹا تم جلدی سے کھانا لگاؤ خداش کو بھوک لگی ہوگی ۔

جی امی آو دیشم مجھے کپڑے دو ۔۔۔۔۔۔” دیشم جو امی جان کے آ جانے کی وجہ سے سکون کا سانس لے پائی تھی خداش کے حکم پر مزید نروس ہو گئی ۔

بیٹا میں تمہیں کپڑے نکال دیتی ہوں دیشم تمہیں دادا جان بلا رہے ہیں ۔امی جان نے مسئلہ ہی حل کر دیا تھا ۔

جب کہ دیشم کو تو جیسے بہانہ مل گیا تھا وہاں سے بھاگنے کا خداش کی جذبے لٹاتی نظروں کا مقابلہ کرنا اس معصوم سے نازک جذبات والی لڑکی کے بس سے باہر تھا اسی لیے وہ اگلے ہی لمحے بنا کچھ بولے دادا جان کے کمرے کی طرف دوڑ لگا چکی تھی ۔

کوئی بات نہیں ہے امی جان میں خود نکالوں گا اتنا بھی مشکل نہیں ہے ۔آپ آرام کریں وہ انہیں کہتے ہوئے خود ہی سیڑھیوں کی طرف جا چکا تھا لیکن دیشم کی حالت اس کے عنابی لبوں پر گہرا تبسم بکھیر گئی تھی ۔

°°°°°°°

اسلام علیکم میں ڈاکٹر ولید ہوں تمنا کا ڈاکٹر وہ اندر کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں موجود ڈاکٹر نے خود ہی ان لوگوں کو پہچانتے ہوئے تعارف کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا

وہ دونوں اس سے ہاتھ ملاتے ہوئےبیڈ پر بدحال سے پڑی تمنا کو دیکھنے لگے جو بیڈ پر بے سدھ پڑی ہوئی تھی اس کی حالت سے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔

یہ بچی اس کے ساتھ یہ اس کی حالت ۔۔۔۔

وہ ریپ وکٹم ہے اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے چار ماہ پہلے کسی نے اسے بے آبرو کر کے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے ۔

اگر میں یہ کہوں کہ اس کے پاس زندگی کا زیادہ وقت نہیں بچا تو غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت بہت بری حالت میں ہے شاید بچنا آسان نہ ہو ایسے میں اس لڑکی نے بڑی مشکل سے خود کو ان سب چیزوں کو فیس کرنے کے لیے تیار کیا ہے ۔

اس کا ایک مجرم اس دنیا سے جاچکا ہے جبکہ دوسرا مجرم آزاد گھوم رہا ہے ۔

اپنی سانسیں ختم ہونے سے پہلے یہ بچی آپ لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں بتانا چاہتی ہےجس نے اسےاس مقام تک پہنچایا ہے ۔میں نے بہت مشکل سے آپ لوگوں کے بارے میں پتہ کروایا ہے

کیونکہ اس معصوم سی لڑکی کو بس ایک چھوٹی سی امید ملی تھی انصاف کی احمر کاظمی نامی شخص نے اس کے لئے آواز اٹھانی چاہی تھی ۔لیکن اسے بھی درندوں نے راستے سے ہٹا دیا ۔

اور الزام اس کی بے قصور بیوی پر لگانے کی کوشش کی اس کا ایک مجرم اس کی بیوی کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے جس کا نام راحیل احمد تھا ۔

لیکن اس کا دوسرا مجرم دوسرا درندہ آزاد گھوم رہا ہے ۔اور اس لڑکی نے ایک اور انکشاف بھی کیا ہے اس لڑکی کا دعوی ہے کہ دولت کی خاطر آپ کے دوسرے بھائی ساگر کاظمی کا قتل بھی اسی آدمی نے کروایا تھا راحیل احمد کے ساتھ مل کر ۔

میں اس کیس کو دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا اس بچی کی چند ہی سانسیں بچی ہیں ۔ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں اسے بچانے کی لیکن اس کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔

اسی لیے میں نے آپ لوگوں کو ڈھونڈنا شروع کیا ۔اور آپ لوگوں کے بارے میں سب کچھ پتہ لگا کر آپ لوگوں کو یہاں بلایا ۔

مطلب کے تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ یہ بچی جانتی ہے کہ ساگراور احمر کو راحیل کے ساتھ مل کر کس نے مارا ۔۔۔۔وہ دونوں ہی تڑپ اٹھے تھے ان کا بھائی جس کو مرے ڈیڑھ سال گزر چکا تھا ۔آج اس کے قاتل کو پکڑنے کی چھوٹی سی امید نظر آئی تھی ۔

لیکن راحیل اتنا گرسکتا ہے کہ اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو یوں بے دردی سے موت کے منہ تک پہنچا دے ۔ساگر کےقتل کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا اور ساگر تنہا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کی بیوی اس کی بیٹی اس کا ہونے والا بچہ تھا جو چند ہی دن میں دنیا میں آنے والا تھا ۔

صرف ان لوگوں کو نہیں اور بہت سارے بے قصوروں کی جان لی تھی اس نے۔اور احمر کے ساتھ کنیز اور اس کا معصوم بچہ یشام جس کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا کتنے لوگ تھے جو تباہ ہوگئے تھے اس راحیل کی وجہ سے اور یہ سب کچھ اس نے کس کے کہنے پر کیا تھا ۔صرف دولت کےلیے

اوروہ جو کوئی بھی تھا آزاد گھوم رہا تھا راحت صاحب نے ایک نظر اس بچی کی طرف دیکھا جو اس وقت کتنی تکلیف میں تھی سمجھنا ان کے لئے مشکل نہیں تھا اس کی حالت ان کی آنکھوں میں آنسو لے آئی تھی ۔

°°°°°°°°°

وکیل صاحب آئے ہیں ملنے کے لیے ملو تمہاری طرف سے انہیں ہائر کیا گیا ہے وہ جیل میں بیٹھا کسی امید کا منتظر تھا

جب کانسٹیبل نے اسے آکر بتایا اس کے لئے بھلا کس نے وکیل ہائر کیا تھا وہ کنفیوز ہو کر رہ گیا اس کے پاس اتنے پیسے کہاں تھے کہ وہ کسی وکیل کی فیس دے پاتا

لیکن اندر داخل ہوئے شخص کو دیکھ کر وہ کتنی ہی دیر کچھ بول ہی نہ پایا

خد ۔۔خداش صاحب۔۔۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا اپنی آنکھوں پر یقین کرنا اس کے لیے ذرا مشکل تھا ۔

بیٹھ جاؤ آرام سے ارحم مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے تمہارے طرف سے وکیل میں ہوں وہ اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا تھا ۔

آپ وکیل ہیں۔۔۔۔۔؟ وہ بے یقینی سے پوچھ رہا تھا ۔اس کی حیرت پر وہ مسکرا دیا تھا ۔

ہاں میں وکیل ہوں لیکن تم مجھ پر زیادہ امید مت رکھنا کیونکہ یہ میرا پہلا کیس ہے ۔میرے پاس کچھ خاص ایکسپیرینس نہیں ہے لیکن وہ کیا ہے نہ تمہارے سالے نے زبردستی مجھے ان سب چیزوں میں گھسیٹ دیا ۔

آپ دونوں تو دشمن ۔۔۔۔۔۔۔

بچپن کے دوست تھے بیسٹ فرینڈ بڈی ۔۔۔ایک اسکول ایک کالج ایک یونیورسٹی ایک ہوسٹل ایک روم ہم بچپن سے ساتھ ہیں۔

لیکن یہ بات آج تک کسی کو پتہ کیوں نہیں چلی آپ لوگوں کے خاندان میں اتنے دشمن ہیں ۔۔۔۔۔”

دوستی دکھاوے کی محتاج نہیں ہوتی میرے دوست پوری دنیا کو چلا چلا کر بتانا کہ ہم دوست ہیں ۔ہم ایک دوسرے کے بیسٹ فرینڈ ہیں ایک دوسرے سے ہر بات شیئر کرتے ہیں ایک دوسرے کے بنا رہ نہیں سکتے ۔یہ دوستی نہیں دکھاوا ہے اور ہم یہ دکھاوا نہیں کرتے ۔

ہم دونوں ہمیشہ سے ساتھ ہیں ان دشمنیوں کے باوجود بھی ہم نے کبھی ایک دوسرے سے جڑا تعلق نہیں توڑا کیونکہ ہماری دوستی ان سب چیزوں سے الگ ہے ۔

اب ہم اس کیس کے بارے میں کچھ بات کریں اس دن کیا ہوا تھا ان سب کو جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

اس دن کیا کیا ہوا تھا مجھے سب کچھ بتا دو وہ اس سے سوال جواب کرنے لگا تھا جبکہ ارحم اسے ایک ایک بات بتا رہا تھا ۔

°°°°°°°°

ارے چاچا آپ ہمیں لینے کے لئے کیوں آئے ہیں ڈرائیور کیوں نہیں آیا میں نے تو آپ سے کہا تھا کہ اسے بھیجئے گا ۔وہ واچ مین کو اپنی گاڑی میں بیٹھے دیکھ کر ان سے پوچھنے لگی تھی آج وہ ہانی کو لے کر واپس جا رہی تھی ۔

جی وہ تو چلا گیا اس کے کسی جاننے والے نے بتایا کہ وہ یہاں سےاپنے گاؤں واپس جا چکا ہے ۔شاید اب وہی پر کام کرے گا ۔

میرا نہیں خیال کہ اس کی بھی واپسی ہوگی میں جلدی ہی کسی دوسرے ڈرائیور کا انتظام کروا دوں گا جی آپ کے لیے۔۔ بڑا اچھا اور نیک بچہ تھا ایسا ڈرائیور ملنا مشکل تو ہے لیکن کوئی نہ کوئی انتظام ہو جائے گا ۔

نہیں وہ ایسے نہیں جا سکتا وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے ۔آپ مجھے اس کا نمبر دیجیے میں خود بات کروں گی ۔میں اسے کہیں نہیں جانے دوں گی اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے سکول میں پیرنٹس میٹنگ میں جائے گا ۔

اور مجھے ٹیچر کی ڈانٹ سے بچائے گا ۔۔۔۔ہانی نے ضدی لہجے میں بول رہی تھی جبکہ اس کی باتوں نے جنت کو اچھا خاصہ شرمندہ کر دیا تھا ۔

ہانی یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم بدتمیز لڑکی تمہاری ماں میں ہوں تمہارے ساتھ پیرنٹس میٹنگ میں صرف میں جا سکتی ہوں ۔جنت نے اسے ڈانٹتے ہوئے سمجھایا تھا ۔

آپ تو میری ماما ہو نا لیکن اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے بابا بنیں گے ۔اور جھوٹ جھوٹ کے بابا بن کرکے وہ مجھے ڈانٹ سے بچائیں گے وہ نہیں جا سکتے ۔

شٹ اپ ہانی یہ سب سیکھتی رہی ہو تم اس ڈرائیور کے ساتھ ۔۔۔۔اس کی باتیں سن کر جنت کو بہت زیادہ غصہ آ رہا تھا اور اس نے ڈرائیور کا بھی لحاظ کیے بنا گاڑی میں ہی اس کی کلاس لگا دی تھی

معاف کیجیے گا میڈم میں بیچ میں دخل اندازی کر رہا ہوں ۔لیکن اس میں قصور نہ تو ہانی بٹیا کا ہے اور نہ ہی اس بے چارے ارحم کا۔

ایک دن جب وہ ہانی کو لینے اسکول پہنچا تو اس کی عمر کے بہت سارے لڑکے لڑکیاں اس کا مذاق بنا رہے تھے کہ اس کے بابا نہیں ہیں

تو ہانی بٹیا نے خود کو ان سب چیزوں سے بچانے کے لیے کہہ دیا کہ ارحم اس کا بابا ہے ۔اور ان سب بچوں نے سچ مچ میں اس کو ہانی بٹیا کا بابا ہی سمجھ لیا ۔

یہاں تک کہ ان بچوں نے ان کے ٹیچرز کو بھی بتا دیا وہ اکثر ہانی کی باتیں ارحم کو بتاتے تھے وہ یہ بات بتانے کے لئےوہ آپ کے پاس بھی آنا چاہتا تھا ۔لیکن کوئی نہ کوئی مسئلہ ہو جاتا اور پھر آپ بھی تو اسے قابل اعتبار کہتی تھی اسی لیے ہم نے اس بات کو اتنا بڑھایا نہیں ۔

چلیں ٹھیک ہے جو بھی ہوا جلدی سے جلدی کسی ڈرائیور کا انتظام کردیں ۔وہ بات کو ختم کرتے ہوئے بولی ہانی نے کچھ کہنا چاہا لیکن اسے گھور کر اس نے چپ کروا دیا تھا

اس وقت اسے اپنی بیٹی پر بہت غصہ آ رہا تھا جو پتہ نہیں کس کو اپنا باپ بنا کر پتا نہیں کیا کیا کرتی رہی

°°°°°°°°

میری بچی میں نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں انصاف ہم ضرور دلوائیں گے .ہمیں بس اس درندے کا نام بتا دو ۔راحت صاحب اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے یقین دلاتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔

وہ دیکھ رہے تھے کہ تمنا بولنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی اس شخص کا نام لینے کی کوشش کر رہی ہے جس نے اسے یہاں تک پہنچایا ۔

اس کی حالت بگڑرہی ہے میرے خیال میں یہ سہی وقت نہیں ہے ڈاکٹر نے تمنا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں سمجھانا چاہتا تھا جبکہ اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر وہ دونوں پیچھے ہٹ گئے ۔

لیکن شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ لوگ یہاں سے جائیں اس نے راحت صاحب کے ہاتھ کو اپنے کمزور سے ہاتھ میں تھام رکھا تھا ۔

وہ۔۔۔۔درندہ۔۔۔۔۔سردار۔۔۔ہے۔۔۔۔۔۔اس نے بڑی مشکل سے یہ لفظ ادا کیے تھے جبکہ وہ اس نام پر الجھ کر رہ گئے تھے سردار نام کا کوئی بھی آدمی ان کی پہچان میں نہیں تھا ۔

سردار کون سر دار ہم تو ایسے کسی انسان کو نہیں جانتے ۔کیا وہ شاہ خاندان میں سے ہے بتاؤ بیٹا ہمیں بتاؤ کوشش کرو تم بتا سکتی ہو ۔ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس حیوان کو موت کے منہ تک پہنچا دیں گے بس ہمیں بتاؤ کہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا کس نے ہمارے بھائیوں کی جان لی ۔

کس نے ہمارا ہنستا کھیلتا گھر برباد کر دیا بتاؤ بیٹا ہم تمہیں انصاف دلائیں گے راحت صاحب ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اس سے کچھ بلوا پانے کی ۔

سردار نے ۔۔۔۔میرے بابا کو ۔۔۔۔۔مار ڈالا ۔ ۔ ۔۔۔۔مارڈا۔۔۔لا۔۔۔۔۔۔

پلیز آپ ہٹ جائیں اس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے ۔ڈاکٹر نے ان لوگوں کو کمرے سے نکل جانے کے لیے کہا تھا جبکہ تمنا ان کی طرف آنے کی کوشش کر رہی تھی ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے انہیں بہت کچھ بتانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاید وقت اس کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا ۔

اپنی ادھوری سچائی کے ساتھ وہ راحت صاحب کا ہاتھ تھامے وہیں دم توڑ چکی تھی ۔جبکہ اپنی منزل کے اتنے پاس آکر یوں نا امید لوٹ جانا انہیں بری طرح سے تڑپاگیا تھا ان کا دل چاہا وہ دھاڑیں مار مار کر روئیں ان کے بھائیوں کا قتل ہوا تھا ۔

ان کے ہنستے کھیلتے گھر تباہ ہو گئے تھے ۔وہ دونوں اپنی زندگی میں خوش تھے۔لیکن ان کی خوشیوں کو نظر لگائی گئی تھی کون تھا سردار ۔۔۔۔کہاں سے تعلق تھا اس کا ۔۔۔۔۔۔۔”

کیا دشمنی تھی اس شخص کی احمر اور ساگر کے ساتھ ۔

وہ کچھ بھی نہ جان پائے تھے کچھ بھی نہ ہی یشام کے بارے میں کچھ پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے تھے اور نہ ہی انہیں پتہ چلا تھا ان کے بھائیوں کا قاتل کون ہے راحیل مر چکا تھا اگر وہ زندہ ہوتا تو یقینا خود اسے مار ڈالتے ۔

لیکن آج وہ خود بے موت مر رہے تھے ۔انہوں نے ہر موڑ پر اپنے بھائیوں کا ساتھ دیا تھا انہیں ہمیشہ بابا جان کی ڈانٹ سے بچا کر بڑے بھائی کا مان دیا تھا لیکن سب ختم ہوگیا یہ سب کس نے ختم کیا تھا وہ نہیں جانتے تھے وہ ٹوٹ چکے تھے ۔

ثقلین کاظمی کو سینے سے لگا کر وہ تڑپ تڑپ کر آنسو بہاتے رہے لیکن اپنے بھائیوں کے لئے وہ کچھ نہ کر سکے

°°°°°°