Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 43)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 43)
Junoniyat By Areej Shah
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا دادا جان ۔۔۔؟
کہاں ہے اس وقت حرم ۔۔۔۔؟
اور میں اس کے بارے میں کوئی بھی سوال کیوں نہ کروں ۔۔۔۔؟
وہ ان کے ساتھ ہی رکھی کرسی پر بیٹھا ان سے سوال کر رہا تھا ۔
میں نے کہہ دیا نا کہ میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تو خداش تو اس مطلب یہی ہے کہ میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ۔وہ زرا سخت لہجے میں گویا ہوئے
اور آپ اس بارے میں کوئی بھی بات کیوں نہیں کرنا چاہتے دادا جان ۔۔۔۔۔؟یہ کوئی نارمل بات نہیں ہے بلکہ میری بہن 32 گھنٹے سے غائب ہے ۔اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے اگر وہ محفوظ ہے تو کہاں ہے جواب دیں مجھے ۔اور میں اس کے بارے میں کوئی بھی سوال کیوں نہ کروں دادا جان مجھے حق حاصل ہے یہ جاننے کا کہ میری بہن کہاں ہے؟ کہاں بھیجا ہے آپ نے اسے ۔۔۔؟
تمہیں حق ہے خداش لیکن کیا تمہاری نظر میں ہماری یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیا تمہیں ہم پر اعتبار نہیں ہے ۔۔۔۔؟
ہم کہہ رہے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہے بالکل محفوظ ہے حفاظت سے ہے تو تم ہماری بات کو کیوں نہیں مانتے ۔وہ یہاں سے جا چکی ہے ہم نے بھیج دیا ہے اسے یہاں سے اب شاید وہ کبھی بھی واپس نہیں آئے گی ۔یہ بات کہتے ہوئے دادا جان نے اپنی نظریں جھکا لی تھیں۔ جبکہ خداش کو لگا کہ ہسپتال کی چھت اس کے سر پہ آ گری ہو۔
دادا جان پلیز پلیز مجھے کسی طرح کی پہیلی میں مت الجھائیں ۔مجھے صاف صاف بتائیں کہ حرم کہاں ہے ۔۔۔۔؟
ہم سے کچھ مت پوچھو خداش کچھ بھی نہیں ہم تمہیں فی الحال کچھ نہیں بتا سکتے ۔ وہ بہت بے بس لگ رہے تھے
میں نہیں پوچھوں گا دادا جان لیکن دنیا والے تو پوچھیں گے نہ کیا جواب دوں گا میں انہیں جواب دیجئے مجھے کیا میں ان سے یہ کہوں گا کہ میری بہن بھاگ گئی ۔
وہ ان کے سامنے بیٹھا ان سے سوال کر رہا تھا جب کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ڈاکٹر نے انہیں چیک کرتے ہوئے انہیں ہر طرح کی ٹینشن سے دور رکھنے کے لیے کہا ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے خداش بھی مزید کوئی سوال نہ کر سکا
°°°°°°°
حرم سو رہی تھی ۔۔۔
جب جہاز کو پھرسے ایک زوردار جھٹکا لگا اس سے پہلے کہ وہ گرتی یشام میں اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار مضبوط کرلیا تھا
وہ اس کے سینے سے لگی ایک پل کے لئے اپنی آنکھیں کھولتی دوبارہ آنکھیں بند کر چکی تھی
شاید اسے سخت نیند آ رہی تھی یشام نے بھی اسے جگانے یا ڈسٹرب کرنے کی بالکل کوشش نہ کی تھی ۔وہ بس اس کا معصوم سا چہرہ دیکھتا رہا
وہ اس کے ساتھ تھی اس کے پاس تھی اس کے علاوہ یشام کواور کچھ چاہیےتھا اس کی محبت ہمیشہ کے لیے اسے مل چکی تھی ۔۔۔۔
اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا وہ ہمیشہ کے لئے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آ گیا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ حرم کے ساتھ اپنی ایک نئی خوبصورت زندگی کی شروعات کرے گا جس میں اس کے ماضی کا کوئی تلخ حصہ شامل نہیں ہوگا
اس کی نئی زندگی میں پرانا کچھ نہیں ہوگا
وہ خوشی سے اطمینان سے اپنی نئی زندگی کی شروعات کرے گا جس کے لیے وہ بہت خوش بھی تھا اس سفر کے بعد ایک نیا سفر شروع ہونا تھا
اس کی نئی زندگی شروع ہونی تھی اور اس وقت وہ صرف انہیں سب چیزوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اپنا بچپن جوانی ہر لمحہ ہریاد کووہ اپنے دماغ سے نکال چکا تھا جو اسے اذیت دیتی تھی ۔جو اس کے لئے تکلیف کا باعث بنتی تھی اب اسے خوشیاں دیکھنی تھی وہ اپنی خوشیوں کا منتظر تھا
سب کچھ بھلانا اس کے لیے آسان نہیں تھا اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو مرتے دیکھا تھا اسے تو اپنی اس عمر میں شاید باپ کے نام کی اہمیت بھی نہیں پتا تھی جب اس سے اس کے باپ کا نام چھینا گیا تھا
وہ تکلیف وہ درد وہ بھول نہیں سکتا تھا اس کی ماں اسے لیے سڑکوں پر سویا کرتی تھی ۔اس کی ماں کا امیر کبیر باپ اسے ہر روز کہتا تھا کہ وہ اپنا دین چھوڑ کر واپس آ جائے تمہیں بھی اپنا لیں گے اور تمہارے بچے کو بھی
لیکن اس نے کبھی بھی اس بات کے لئے رضامندی نہ دی وہ جیتی مرتی کیا نہ کرتی لیکن اپنے بیٹے کو بھوکا نہیں سونے دیتی تھی لیکن جگر کی تکلیف نے اس کی جان لے لی تھی ۔
باپ تو پہلے ہی چھوڑ گیا تھا لیکن ماں کے جانے کے بعد وہ اصل میں یتیم ہوگیااور یتیموں کی زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے یشام سے بہتر شاید ہی کوئی جان سکتا تھا
لیکن آج وہ اپنی ہر تکلیف کو بھلا چکا تھا اپنی خوشیوں کی خاطر اس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا وہ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر آیا تھا
اسے کوئی مطلب نہیں تھا ان لوگوں سے۔۔۔اپنی خوشیوں کی خاطر اس نے ہر چیز کو نظر انداز کر دیا تھا اس کی ماں نے کسی سے بدلہ لینا نہیں سکھایا تھا بلکہ اس کی ماں نے اسے درگزر کرنا سکھایا تھا معاف کرنا سکھایا تھا وہ معاف نہیں کر سکتا تھا ہاں لیکن وہ ان لوگوں کو اپنی زندگی سے نکال سکتا تھا اور وہ ایسا ہی کر رہا تھا
حرم کے ساتھ ایک پرسکون اور خوشحال زندگی گزارنے کے لئے وہ سب کو بھول جانا چاہتا تھا
لیکن وہ جانتا تھا حرم سب کو نہیں بھولے گی وہ اس کی فیملی ہے اس کے اپنے ہیں ۔وہ ان لوگوں سے محبت کرتی ہے
انہیں بھول کر آگے بڑھنا اس کے لیے بہت مشکل ہوگا وہ ضد کرے گی شاید اس سے نفرت کرنے لگے لیکن وہ اپنی محبت سے اس کو بدل دے گا وہ اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرے گا
اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گا وہ انہی سوچوں میں مصروف تھا جب جہاز لینڈ ہونے کا اعلان ہونے لگا اس نے حرم کو آہستہ سے اپنے مزید قریب کر لیا تھا کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے ڈر لگتا ہے
اس کےقریب کرنے پر حرم نے ذرا سی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا نیند سے ڈوبی ہوئی آنکھوں میں کچی نیند سے جاگنے کا خمار تھا
جب اچانک جہاز کو جھٹکا لگا تو وہ اس کا کالر اپنی مٹھی میں دبوچتے ہوئے اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی
پیشام پرسکون سا اسے اپنے قریب پا کے ان خوبصورت لمحوں کو محسوس کر رہا تھا اس کی قربت اس کے دل میں ہلچل پیدا کر رہی تھی
جب کہ حرم کے دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا بس اتنا پتا تھا کہ آگے زندگی آسان نہیں ہونے والی۔لیکن وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا وہ حرم کو خود میں اتنا مگن کردے گا کہ اسے ان لوگوں کی یاد ہی نہیں آئے گی ۔اسے اپنی محبت پر اعتبار تھا
°°°°°°°
بہت شکریہ مگر مجھے اس گفٹ کی ہرگز ضرورت نہیں تھی وہ گفٹ تھامتے ہوئے بولا وہ اتنے خلوص سے یہ تحفہ لے کر آئی تھیں کہ انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن وہ دوبارہ اس کی مدد لینے کے بعد اس طرح کا کوئی گفٹ نہ لائیں اسی لیے اس نے کہنا ضروری سمجھا تھا
کیوں ضرورت نہیں تھی آپ نے بس ایک بار کہنے پر ہماری مدد کی اپنے قیمتی وقت میں سے ہمارے لئے وقت نکالا یہ ہمارے لئے بہت بڑی بات ہے اور اس کے لئے ایک چھوٹا سا گفٹ تو بنتا ہی تھا شکریہ کے طور پر غزل نے مسکراتے ہوئے کہا
جی نہیں بالکل نہیں بنتا تھا یہ گفٹ اور اگر آپ نے آئندہ مجھے اس طرح کا کوئی گفٹ دیا تو پلیز میرے پاس مدد کے لیے ہر گز مت آئیے گا میں مدد اس لئے کرتا ہوں تاکہ اللہ کی طرف سے مجھے تھوڑا سا ثواب مل جائے اس لیے نہیں کرتا کہ مجھے آپ لوگوں سے گفٹ ملے اس لیے آئندہ احتیاط کیجئے گا۔مجھے لڑکیوں سے تحفے لینا پسند نہیں اس بار وہ مسکرایا نہیں تھا
اس کی یہ بات تو غزل کو کافی بری لگی تھی اس کا چہرہ اتر گیا تھا لیکن نہ جانے کیوں افشین کو اس کی بات بہت اچھی لگی تھی آج کل پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا اس شخص کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی
وہ جب سے اس سے ملی تھی وہ اس کی سوچوں کا حصہ اکثر بن جاتا تھا ۔یہ کیوں ہو رہا تھا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی شاید ابھی تک تو وہ اپنے ہی دماغ کی سوچ سے بہت دور تھی
°°°°°°°
مجھے یقین نہیں آرہا احمر یہ تم نے کیا کیا تم نے یہاں شادی کر رکھی ہے تمہارا ایک بچہ بھی ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اگر یہ بات بابا جان تک پہنچ گئی تو وہ تمہیں اپنی جائیدادسے بے دخل بھی کر سکتے ہیں ۔
ثاقب کاظمی آج ان سے ملنے کے لیے لندن پہنچے تو سیدھے اپنے گھر کی طرف بھی آئے تھے ۔ان کا بھائی ان کے گھر میں ہی رہائش پذیر تھا لیکن یہاں ایک انگریز لڑکی کے ساتھ ایک چھوٹے سے بچے کو دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے
جس طرح سے یہ بات پچھلے چار سال سے چھپی ہوئی تھی آگے بھی چھپ سکتی تھی لیکن شاید اب احمر یہ بات چھپا چھپا کر تھک چکا تھا
وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اور بچہ اس کے خاندان کے سامنے آجائیں وہ کافی وقت سے اپنے بابا جان سے اس حوالے سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا
لیکن پھر بابا جان کے ری ایکشن کا سوچ کر وہ چپ ہو جاتا آج ثاقب کے سامنے خود ہی یہ بات آ گئی تو اس نے بھی بنا کچھ بھی چھپائےانہیں سچ سچ بتا دیا جس کے بعد وہ شاکڈ تھے
یقین کر لیں بھائی جان یہی سچ ہے یہ میری بیوی ہے اور یہ میرا معصوم سا بچہ اس نے اپنی گود میں بیٹھےمعصوم سے یشام کو چوم ڈالا
اور ویسے بھی بابا جان تو یشام کو دیکھ کر خوش ہو جائیں گے بس ایک ہی دھن سوار رہتی ہے انہیں خداش خداش خداش جب ا نہیں پتہ چلے گا کہ خداش کے علاوہ ان کا ایک اور پوتا بھی ہے دیکھیے گا ان کے چہرے کی رونق
میں یہ سب کچھ نہیں جانتا مجھے بس یہ پتا ہے کہ بابا جان نے تمہارا رشتہ اپنی دور کی بہن کی بیٹی سے طے کر رکھا ہے اور تو اور وہ پورے خاندان کے سامنے یہ بات کہہ چکےہیں اور بابا جان کتنی دفعہ محفلوں میں اس بات کا ذکر کرچکے ہیں اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تم نے ایک عیسائی لڑکی سے شادی کر رکھی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معذرت بھائی جان میں آپ کی بات کاٹ رہا ہوں لیکن میری بیوی عیسائی نہیں ہے وہ مسلمان ہے وہ اسلام قبول کر چکی ہے میں نکاح سے پہلے ہی اسلام کی سچائی پر یقین دلا چکا ہوں اور خدا کے لیے پلیز اسے عیسائی کہہ کر اس کے یقین کو شرمندہ نہ کریں
میری بیوی مجھ سے زیادہ میرے دین سے محبت کرتی ہے میرا دین اسے میرے قریب لے کر آیا ہے وہ اپنے سارے خاندان کے خلاف جا کر میرے ساتھ آئی ہے میں نے اس سے نکاح کیا ہے میں جانتا ہوں یہ بات گھر والوں کو نہ بتا کر میں نے غلطی کی ہے لیکن میں اب مزید گھر والوں سے کچھ نہیں چھپاؤں گا اور آپ اس میں میری مدد کریں گے
میں اپنی بیوی بچے کو چھوڑ کر فل حال پاکستان نہیں آ سکتا ایسے میں آپ نے خود ہی بابا جان سے اس حوالے سے بات کرنی ہے کوئی مناسب وقت دیکھ کر انہیں اس حقیقت سے آگاہ کر دیجئے میں جانتا ہوں میں نے ان کی نافرمانی کی ہے لیکن آپ میرے ساتھ ہوں گے تو یقیناً وہ مجھے معاف کر دیں گے اس نے یقین سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا
ثاقب صاحب کے پاس جیسے الفاظ ہی ختم ہو چکے تھے انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس موضوع پر مزید کیا کہیں
°°°°°°
کیا بات ہےثقلین میں دیکھ رہا ہوں آج صبح سےتم کچھ زیادہ ہی غصے میں ہو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا اگر تم ٹھیک محسوس نہیں کر رہے تو گھر واپس چلے جاؤ وہ راحت کے دفتر میں آیا تو وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا۔
نہیں راحت بھائی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے آرام نہیں کرنا اور ویسے بھی اگر میں آرام کرنے بیٹھ گیا تو یقینا بابا جان کو پھر سے مجھ پر غصہ کرنے کا موقع مل جائے گا
ان کی بھی مجھے سمجھ میں نہیں آتی ایک بیٹا لندن بیٹھا ہے جسے دل کھول کر محبتیں بھیجی جارہی ہے تحفے بھیجے جا رہے ہیں اور ایک بیٹے کو یونیورسٹی میں داخل کروا رکھا ہے اور باقی سارا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا ہے
لیکن جب بھی بےعزتی کرتے ہیں ہماری کرتے ہیں باتیں سناتے ہیں تو ہمیں سناتے ہیں ان دونوں کو کچھ نہیں کہتے
اور پھر جب بات کام پر آ جاتی ہے تب بھی صرف ہمیں ہی سننے کو ملتا ہے کوئی انہیں کچھ نہیں کہتا ۔لیکن جب اماں جان نے جائیداد کی بات کی تو کہتے ہیں کہ اپنے پانچ بیٹوں میں برابر میں تقسیم کریں گے
وہ بھائی وہ دونوں تو صرف بیٹھ کر کھا رہے ہیں یہاں کام تو ہمیں کرنا پڑتا ہے ہر چیز کی دیکھ بھال ہم کرتے ہیں تو انہیں کیا سب کچھ پلیٹ میں سجا کر دیں گے وہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا تو راحت نے جلدی سے اٹھ کر دروازے کو اچھے سے لاک کیا تھا
میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے جائیداد اور بٹوارے کی باتیں یہاں کھلے عام مت کیا کرو یہ ساری باتیں راز کی ہوتی ہیں
اور فکر مت کرو جو جتنی محنت کرے گا اس کو اتنا ہی ملے گا اور جو کچھ نہیں کرے گا اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اتنا اعتبار تم کر نہیں سکتے ہو اپنے بھائی پر
وہ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ذرا مسکرا کر بولا تو ثقلین کو جیسے کچھ تسلی ہوئی وہ صرف ہاں میں سر ہلا گیا
°°°°°°°
عمایہ کچن میں کام کر رہی تھی اس کا ارادہ ذریام کے لیے گرم چائے کا کپ بنا کر کمرے میں لے جانے کا تھا
وہ ناراض ہوتا تھا لیکن اتنا ناراض نہیں لگ رہا تھا جتنا کے پہلے لگ رہا تھا
اور اس کی تسلی کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ زیادہ غصے میں نہیں ہے وہ جلدی جلدی چائے کا کپ بنا کر جانےلگی جب دروازے پر بری طرح سے سرچکرا گیا
اس کے سامنے زمین آسمان گھوم کر رہ گیا تھا لیکن نظر انداز کرتے ہوئے وہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھنے ہی لگی تھی
کہ اسے ایک بار پھر سے اس کا سر چکرانے لگا اور اس بار اسے سیڑھیوں کی گرل کو تھام کر وہیں بیٹھنا پڑ گیا تھا وہ اپنی طبیعت ضرورت سے زیادہ خراب محسوس کر رہی تھی
بھابی آپ ٹھیک تو ہے نا کیا ہوا ہے آپ کو شائزم جو ابھی ابھی گھر کے اندر داخل ہوا تھا اسے سیڑھیوں پر بیٹھا دیکھ تقریباً بھاگ کر اس کے پاس آیا تھا
کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں میں اوپر جا رہی ہوں اس نے جلدی سے اٹھنا چاہا جب اس کا سر پھر سے گھوما تھا
آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ یہاں بیٹھے میں بگ بی کو بلا کر لاتا ہوں وہ اسے وہی بیٹھنے کا کہتا جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بھاگا تھا اور اگلے دو منٹ میں ہی زریام اس پر پہنچ چکا تھا
کیا ہوا ہے تمہیں کب سے چکر آ رہے ہیں کب سے طبیعت خراب ہے تمہاری وہ جلدی سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا ماتھا چیک کر رہا تھا بخار تو نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
بگ بی میں گاڑی نکالتا ہوں آپ جلدی سے بھابی کو باہر لے کر آ جائے وہ زریام سے کہتا جلدی سے باہر کی طرف بھاگا
جبکہ زریام اس کی کسی بھی بات کو اہمیت دیے بنا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے سہارا دیتا باہر لے گیا تھا
°°°°°°
کانگریچولیشن مسٹر شاہ آپ کو بہت بہت مبارک ہو آپ کی بیگم ماں بننے والی ہیں ان کا دوسرا مہینہ چل رہا ہے
میں آپ کو کچھ احتیاط لکھ کر دیتی ہوں آپ ان پر عمل کیجئے گا ۔پہلا بچہ ہے تو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوگی
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ایک پرچی اس کے حوالے کی تھی جبکہ ذریام تو جیسے سکتے میں تھا اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے ۔
وہ اس کے ہاتھ سے پرچی تھام چکا تھا کل رات عمایہ کا شرمانہ گھبرانا اور پھر شاید اس نے اسی سلسلے میں فون کیا تھا
وہ اسے یہی خوشخبری سنانا چاہتی تھی لیکن زریام کے چہرے پر اس خبر کو سن کسی طرح کی کوئی خوشی نہیں آئی تھی
وہ باپ بننے والا تھا اس کے وجود کا حصہ اس دنیا میں آنے والا تھا لیکن اس کے چہرے پر توجیسے چپ ہی لگ گئی تھی ڈاکٹر نے بھی شاید اس کی خاموشی کو محسوس کر لیا تھا
جتنی خوشی سے اس نے یہ خبر اسے سنائی تھی دوسری طرف سے اتنا ہی ٹھنڈا ریسپونس اسے ملا تھا ڈاکٹر بنا کچھ بھی کہے گا عمایہ کو باہر آنے کا اشارہ کر چکی تھی
پہلا بچہ تو کسی بھی شادی شدہ جوڑے کے لئے بہت خوشی کا باعث بنتا ہے لیکن شاید آپ ابھی باپ بننے کے لئے تیار نہیں تھے
لیکن اس نوازنے والی ذات نے آپ کے لئے یہی وقت مقرر کیا ہے ڈاکٹر نے اس کی خاموشی کو محسوس کر کے اسے اس خبر کی اہمیت کا احساس دلایا تھا
جبکہ ڈاکٹر کی بات پر وہ بھی زریام کے چہرے پر خوشی کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ اسے باہر آنے کا اشارہ کرتا خود باہر نکل گیا تھا جہاں شائزم ان کا انتظار کر رہا تھا
°°°°°
