Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 41)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 41)
Junoniyat By Areej Shah
کچن میں کھڑی عمایہ رات کا کھانا بنا رہی تھی جب اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ بس اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے ارد گرد بہت ساری چیزیں چکرا رہی ہیں ۔
وہ اپنی طبیعت کافی زیادہ خراب محسوس کر رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی وہ کام میں لگی ہوئی تھی
سارا دن مفت کی روٹیاں توڑتی رہتی ہے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتی ۔یہ برتن دھوئے ہیں تو نے ایسے برتن تیری ماں دھوتی تھی کیا وہ بد لحاظی سے باتیں سنا رہی تھی ۔عمایہ انہیں کچھ بھی نہ بولی
۔کچھ آتا جاتا بھی ہے تجھے شاید چاچی کو اس کی بےعزتی کرنے کے لئے اور کوئی بات نہیں ملی تھی ۔
تبھی برتنوں کو اٹھا اٹھا کر اسے دکھانے لگیں برتن بہت صفائی سے دھلے ہوئے تھے اس لیےوہ چولہے پر توا رکھ کر روٹی پکانے لگی تھی ۔
مجھے نخرے دکھاتی ہے میری بات کا جواب دینے کے بجائے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ ۔۔۔۔ چاچی جان نے غصہ دکھاتے ہوئے اگلے ہی لمحے اس کا بازو دبوچ کر کھینچا اور ساتھ ہی توا چولہے سے اتار کر اس کے چہرے کے بے حد قریب کر دیا ۔ان کی حرکت پر وہ سہمنے لگی ۔
مجھے نخرے دکھائے گی میری بات کا جواب دینے کے بجائے مجھے پیٹھ دکھائے گی تو۔۔۔۔۔۔وہ ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارتی آپے سے باہر ہوچکی تھی ۔
اس کے ہاتھ سے پیڑا نیچے گر گیا تھا جب کہ وہ بری طرح سہم چکی تھی ۔
جب چاچی کا ہاتھ ایک بار پھر سے اٹھا لیکن ہوا میں ہی رہ گیا ۔وہ آنکھیں بند کی ایک کھڑی چاچی کے دوسرے تھپڑ کا انتظار کر رہی تھی
°°°°°°°
مولوی صاحب کو دروازے تک چھوڑ کریشام واپس کمرے میں آیا تو اسے یوں ہی گھٹنوں میں سر دیے بری طرح سے سسکتے ہوئے پایا ۔۔۔”اس کے دل میں ایک عجیب سی درد کی لہر اٹھی تھی ۔
اس نے کب سوچا تھا کہ وہ اسے کبھی اتنی تکلیف دے گا کہ وہ یوں پھوٹ پھوٹ کر روئے گی اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے وہ تیزتیز قدم اٹھاتا اس کے بالکل ساتھ آ کر بیٹھا تھا
اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ اس سے دور ہٹنے ہی لگی کہ وہ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ تھام کراسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے وہ اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر چکا تھا
حرم میری جان پلیز رونا بند کرو میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا ۔۔”میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا میں تمہیں کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔۔۔”
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں وہ اس کے چہرے سے اس کے بال ہٹاتے ہوئے اس کے آنسو صاف کر رہا تھا جبکہ اس کی اتنی قربت پر حرم کانپنے لگی تھی
تم پریشان مت ہو حرم دیکھنا میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا تمہیں رونے کی یافکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود تمہارے ساتھ ہوں ہر قدم پر تمہارے ساتھ دوں گا۔ ۔۔”میں تم پر کسی طرح کی کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا پلیز میرا یقین کرو رو مت۔۔۔”
حرم۔ مجھے یہ بات تکلیف دے رہی ہے کہ تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑا ہے تو تم اس لیے رورہی ہو دیکھو میں ٹھیک کر دوں گا تمہارے لیے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے اس کے آنسو صاف کر رہا تھا لیکن اس کے آنسو روانی سے بہتے چلے جا رہے تھے جب وہ اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتا اسے خود میں بھینچ گیا
وہ بری طرح سے روتے ہوئے احتجاج کر رہی تھی اس کے سینے پر مکے مارتے ہوئے اسےخود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ محسوس کہاں کر رہا تھا وہ تو بس اسے اپنی دھڑکنوں کے ساتھ لگائے
اسے اپنا یقین دلارہا تھا اس کے کانوں میں اپنی محبت کی سرگوشیاں کر رہا تھا
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ مجھے میرے گھر جانا ہے خدا کے لئے مجھے میرے گھر چھوڑ کر آئے آپ نے وعدہ کیا تھاآپ دھوکا نہیں سکتے ۔
وہ چلاتے ہوئے بول رہی تھی جب صیام نے کمرے میں قدم رکھا اسے آتے دیکھ وہ اسے خود سے الگ کر چکا تھا لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ چھوڑا نہیں تھا
تین گھنٹے میں فلائٹ ہے کیا کرنا ہے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا تو یشام نے ہاں میں سر ہلایا ۔جیسے کچھ سوچ کر بیٹھا ہو
°°°°°
چاچی جان حیرانگی سی کبھی اپنے ہاتھ کو تو کبھی سامنے کھڑے ذریام کو دیکھ رہی تھیں ان کا ہاتھ زریام کے ہاتھ میں مضبوطی سے قید تھا ۔
جبکہ عمایہ جو اتنی دیر سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھپڑ کا انتظار کر رہی تھی اپنے قریب اس کی خوشبو محسوس کر کے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی اور پھر اگلے ہی لمحے اس کے پیچھے ہو گئی ۔جیسے اسے تحفظ مل گیا ہو
کیا سمجھ کے رکھا ہے آپ لوگوں نے میری بیوی کو کیا وہ کوئی بھیڑ بکری ہے جس پر آپ جب چاہیں ہاتھ اٹھائیں گے جب چاہے سے زلیل کریں گے۔۔۔۔”
کتنی بار میں بتاؤں آپ کو کہ یہ میری بیوی ہے وہ آج آپے سے باہر ہوگیا تھا اتنی زور سے چلایا کہ پوری حویلی گونج اٹھی ۔وہ ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا
زر۔ ۔۔۔زریا۔ ۔۔۔چاچی نے کچھ بولنا چاہا لیکن وہ ہاتھ اٹھا کر ان کو خاموش کر چکا تھا
اس گھر میں یہ لڑکی میری بیوی ہے اور میرے نام پر رہتی ہے اگر آپ لوگوں کو اس کی ذات اتنی تکلیف دے رہی ہے تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہوں اس کے ساتھ پھر سکون آجائے گا آپ لوگوں کو۔۔ تو یہی سہی
اس کا چہرہ آپ کو آپ کے بیٹے کی لاش یاد کراتا ہے نہ تو آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا جاو عمایہ اپنا سامان پیک کرو ہم ابھی اور اسی وقت یہ گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ اسے دیکھ کر بولا تھا جبکہ چاچی جان بس سن رہی تھی۔۔۔۔۔”ان کے مطابق تو ان دونوں میں لڑائی جھگڑا چل رہا تھا یہ سب کچھ کیا تھا
یہ تم کیا کہہ رہے ہو ذریام۔۔۔ ” اس لڑکی کی خاطر ۔۔۔۔۔دادا جان نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔۔
ہاں اس لڑکی کی خاطر دادا جان بالکل اسی لڑکی کی خاطر جو کہ میرے نام سے اس گھر میں آئی ہے ۔۔،”میرے نام سے یہاں رہتی ہے۔۔۔۔۔ میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ میری بیوی کو کوئی تکلیف پہنچے کوئی سرد ہوا چھو کر گزرے اور یہاں آپ لوگ میری بیوی پر دن رات ظلم کرتے ہیں اگر یہ عزت سے اس گھر میں بیاہ کر آتی ہے تو کیا تب بھی آپ اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ۔۔۔۔۔؟
نہیں ہے برداشت مجھے میری بیوی کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک ۔۔۔اس کا وجود آپ لوگوں کی برداشت سے باہر ہے نہ تو میں لے جاتا ہوں اسے یہاں سے ہمیشہ کے لئے ویسے بھی تو جنت شہر میں اکیلی رہتی ہے ۔۔
بہتر ہے کہ میں بھی وہیں اپنا فلیٹ واپس اوپن کر لوں ویسے بھی مجھے ہر ہفتے شہر اپنے کام کے سلسلے میں جانا پڑتا ہے اب سے میں وہی رہوں گا وہ فیصلہ کرتے ہوئے بولا
نہیں زریام ایسا کیوں کہہ رہے ہو ۔۔۔۔؟تمہارے علاوہ تو کوئی نہیں ہے ہمارے پاس نہ جنت ہے نہ شائزم۔۔۔۔اماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔وہ اپنے بیٹے سے دور نہیں رہنا چاہتی تھیں
آئی ایم سوری ماما لیکن ان حالات میں ،میں اپنی بیوی کو یہاں نہیں رکھ سکتا اگر ان لوگوں کی نظروں میں میری بیوی کی کوئی عزت ہی نہیں ہے تو میں اپنا مقام کیا سمجھوں ۔۔۔؟میں یہاں نہیں رہ سکتا وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولا
اس لڑکی کی خاطر تم حویلی چھوڑ کر جانا چاہتے ہو اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا چاہتے ہو بابا کو بھی بیچ میں بولنا پڑا تھا
لڑکی یہ ہو یا کوئی بھی ہو لیکن مجھے فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ میرا نام ہے ۔۔۔۔”یہ لڑکی میرے نام پر اس گھر میں آئی ہے اس کی ذات کے ساتھ میرا بہت خاص تعلق ہے۔۔۔”
اللہ نے ہم دونوں میں اپنا سب سے پسندیدہ رشتہ قائم کیا ہے اگر آپ اس کی عزت نہیں کر سکتے تو میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا
یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہے میں اپنی بیوی پر کسی طرح کا کوئی تشدد ہوتے نہیں دیکھ سکتا وہ کسی طرح کی رعایت دینے کو تیار نہ تھا
تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو میں نے کہا جا کر اپنا سامان لے کر آؤ وہ عمایہ کو دیکھ کر غصے سے بولا تھا جب وہ اگلے ہی لمحے سیڑھیوں کی طرف جانے لگی ۔
رک جاؤ لڑکی ۔۔۔۔”خبردار جو تم نے کمرے کی طرف قدم بڑھائے اور کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کو بھی گھر چھوڑ کر جانے کی ۔
زریام جیسا چاہتا ہے ویسا ہی ہو گا جس کو بھی اس لڑکی سے یا اس کے اس گھر میں رہنے سے مسئلہ ہے وہ اسے مخاطب نہیں کرے گا ۔لیکن ہم زریام کو اس گھر سے جانے نہیں دے سکتے دادا جان فیصلہ کرکے اپنی چھڑی لیتے کمرے کی طرف جانے لگے۔
یقینا وہ بھی عمایہ سے مخاطب نہیں ہونا چاہتے تھے کیونکہ وہ بھی اسے پسند نہیں کرتے تھے چاچی تو غصے سے اسے گھورتی تانیہ کے ساتھ کمرے میں بند ہو گئی تھیں جب کہ بابا جان بھی مزید وہاں نہیں رکے ۔
عمایہ بچے کھانا لگاؤ زریام کو بھوک لگی ہوگی ۔ماما نے ذریام کی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا اور اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے گئیں ۔
جب کہ عمایہ اپنے آنسو صاف کرتی اپنے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ سجاکر کچن کی طرف آ گئی تھی
°°°°°
اس نے پوری اسائنمنٹ بنا کر ایک لڑکی کے ہاتھوں ان کے کلاس روم بھیج دی تھی۔۔۔۔۔”’
وہ دونوں خوش ہوگئی تھی آخران کا کام ہو گیا تھا وہ بھی صرف ایک بار مدد مانگنے پر ۔۔۔۔۔'”وہ سچ میں بہت اچھا انسان تھا ان دونوں نے ہی کلاس ختم ہونے کے بعد اس کا شکریہ ادا کرنے کے بارے میں سوچا تھا ۔
ایک منٹ یار اس نے ہماری بہت مدد کی ہے ۔۔۔۔””مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں روکھا سوکھا سا صرف تھینک یو کہنا چاہیے میرے خیال میں ہمیں ان کو گفٹ دینا چاہیے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اس نے پہلی بار کسی سے مدد لی تھی اور وہ بھی اتنی آسانی سے ان کی مدد کے لئے تیار ہو گیا تھا
وہ اسے تھینک یو بولتے ہوئے کوئی تحفہ دینا چاہتی تھی
غزل نے کچھ بھی نہیں کہا بس کندھے اچکا دیے
ٹھیک ہے یار جیسے تمہاری مرضی ہے لیکن مجھے کیا پتا ان لڑکوں کو کیا پسند ہو سکتا ہے اور ویسے بھی اس کی پسند ناپسند کے بارے میں کچھ بھی تو نہیں آئیڈیا غزل اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تھی جب کہ وہ سوچ میں تھی
ایسا کرتے ہیں کل ایک اچھا سا پین خریدتے ہیں اور انہیں دے دیتے ہیں تھینک یو کے طور پر یقینا انہیں ہمارا تحفہ پسند آئے گا وہ پڑھائی کا شوقین ہے تو پین ایسےانسان کے لیے ایک بہترین تحفہ ہو گا اور ویسے بھی قلم تو ہر انسان کی ضرورت ہے خاص کر سٹوڈنٹس کی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تو غزل کو بھی اس کا آئیڈیا بہت پسند آیا
تو بس فیصلہ ہوگیا آج ہی پین لیتے ہیں اورکل ان کو دے دیں گے وہ بھی اس کے ساتھ ہی کلاس روم سے باہر نکلی تھی ۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ انہیں باہر کی طرف جاتا ہوا نظر آیا تھا وہ کافی عجلت میں تھا ۔شاید اسے جلدی میں کہیں پہنچنا تھا
آج کل کے زمانے میں ایسے لوگ ہوتے کہاں ہیں جو اپنے قیمتی وقت سے کسی دوسرے کو وقت دیتے ہیں یقینا وہ بہت ہی اچھے انسان ہیں ان کا تھینکیو تو بنتا ہے وہ سوچتے ہوئے آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہی تھی
وہ آج تک کسی غیر مرد سے مخاطب تک نہیں ہوئی تھی اور کہاں اب وہ کسی مرد کو گفٹ دینےکے بارے میں سوچ رہی تھی ۔لیکن اس وقت اس کے ذہن میں ایسی کوئی بھی سوچ نہیں تھی ۔اور نہ ہی وہ یہ جانتی تھی
کہ آگے اس کی زندگی میں کیا ہونے والا ہے
°°°°°
دادا جان کو ہوش آ چکا تھا
چاچاجان نے فورا ہی گھر پر فون کر کے انہیں بتا دیا تھا لیکن پھر بھی یہ اتنی اچھی خبر سننے کے بعد بھی کسی کو بھی زیادہ خوشی نہ ہوئی تھی۔۔۔،
کیونکہ گھر میں پہلے ہی حرم کی غیر موجودگی بہت بڑی پریشانی بنی ہوئی تھی ابھی تک حرم کے بارے میں ان لوگوں کو کچھ بھی پتہ نہیں چلا تھا ۔
خداش حرم کی تلاش میں نہ جانے کہاں سے کہاں جا چکا تھا لیکن فی الحال کسی کو اس کا کوئی اتا پتا نہ چلا تھا ۔
جب کہ سب کا کہنا تھا کہ پولیس میں رپورٹ کروا دینی چاہیے یہ بات ان کی عزت پر حرف لا سکتی تھی لیکن وہ اپنی بیٹی کی جان اور عزت پر بھی رسک نہیں لے سکتے تھے ۔
فی الحال یہ بات صرف گھر میں ہی تھی ۔ولیمہ کا سب کو فون کرکے کینسل کردیا گیا تھا گھر میں جو مہمان تھے انہیں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ابھی کوئی ولیمہ نہیں ہوگا جب تک داداجان صحت یاب نہیں ہو جاتے ۔
اور ان لوگوں کو حرم کی غیر موجودگی کے بارے میں بھی نہیں بتایا تھا سب کو یہی لگ رہا تھا کہ حرم دادا جان کے ساتھ ہسپتال میں ہے ۔
جبکہ وہ لوگ اسے پورے گاوں میں ڈھونڈ چکے تھے آگے پیچھے کا کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں انہوں نے جاکر حرم کو نہ ڈھونڈا ہو ۔اب اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ اسے اغواء کیا گیا تھا اور یقیناً یہ کام ان کے کسی دشمن نے کیا تھا ۔لیکن کس نے ۔۔۔۔اور اگر یہ تو تاوان کے لئے کیا گیا تھا تو اب تک اس حوالے سے کسی طرح کا کوئی رابطہ کیوں نہیں کیا گیا ۔
°°°°°°
وہ اسے اپنے ساتھ نہ جانے کہاں لے کر آیا تھا وہ پہلے یہاں نہیں آئی تھی باہر بڑا سا ہسپتال کا نام لکھا تھا ۔۔۔۔”وہ اسے ہسپتال لے کر کیوں آیا تھا ۔۔۔۔؟
اس نے کہا تھا اس کے دادا جان ہسپتال میں ہے تو کیا وہ اسےان سے ملنے کے لئے لے کر یہاں آیا تھا ۔
کیا وہ سچ میں اپنا وعدہ پورا کر رہا تھا وہ یقین تو نہیں کرسکتی تھی لیکن جلدی سے گاڑی سے نکلی تھی ۔
وہ اسے لے کر ہسپتال کے اندر آ گیا جب کہ وہ بالکل خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے قدم اٹھا رہی تھی۔۔”
بنا کسی بھی طرف نگاہ اٹھائے وہ بس اسی کے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔
وہ اسے اس کے کسی اپنے کے پاس لے کر جا رہا تھا اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتی تھی اور نہ ہی کچھ جاننا چاہتی تھی بس کچھ ہی لمحے باقی تھے اور پھروہ اس شخص کی حقیقت کو سامنے لاکر ہمیشہ کے لئے اس سے دور ہو جانے والی بھی اسے یقین تھا اس کے گھر والے اسے شخص کے ساتھ کبھی نہیں بھیجیں گے ۔
وہ اس شخص کے ساتھ کی خواہش مند نہیں تھی ۔اور نہ ہی اسے اس کی محبت چاہیے تھی وہ اس شخص سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی اسے اس سے کوئی سروکار نہیں تھا
وہ بس ایک بار اپنے اپنوں کے پاس چلی جانا چاہتی تھی اس کے بعد اسے کچھ بھی نہیں کرنا تھا اس کے اپنے سب کچھ کرنے والے تھے
وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہی تھی جب اس نے ایک دروازہ کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا اور پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھ کر اندر آنے کا اشارہ کیا ۔
وہ خاموشی کے ساتھ اندر آئی تھی لیکن بیڈ پر لیٹے ہوئے اپنے دادا جان کو دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی تھی ۔
شاہ صاحب اپنی آنکھیں کھولئے دیکھیں آپ سے ملنے کون آیا ہے اور مسکراتے ہوئے ان کے سامنے آکر رکاجب کہ اس کی آواز سن کر وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے ۔
مجھے بھولے تو نہیں ہوں گے آپ ارے کل رات کو ہی تو آپ سے بات ہوئی ہے اب تک تو آپ کو مجھے دیکھ کر مجھے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا لیکن خیر آپ کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کر دیتا ہوں ۔
خیر اپنی پوتی سے ملاقات کر لیجئے کہ دو گھنٹے میں ہم یہاں سے روانہ ہونے والے ہیں تو اسے رخصت کر دیجیے ۔دعائیں دیجئے اسے میں یہاں سے لے کر جا رہا ہوں یہاں سے ہمیشہ کے لئے کیا یاد کریں گے آپ، میں نے آپ کو معاف کیا
وہ ان کے پاس ہوا اور حرم کا ہاتھ تھام کر اسے ان کے سامنے کر چکا تھا جب کہ وہ روتے ہوئے ان کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی ۔
وہ کیا کہہ رہا تھا کیوں اس کے دادا جان کو ٹارچر کررہا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن دادا جان کے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ اس شخص سے نفرت نہیں کرتے یہ سب کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن دادا جان کا ہاتھ اس کے سر پر آ روکا تھا ۔
خوش۔۔۔۔۔ رہو ۔۔۔میری۔۔۔۔ بچی ۔۔۔میں نے تمہیں۔۔۔خود ۔۔۔عزت۔۔۔اور۔۔۔مان۔۔سے رخصت کیا ۔۔۔وہ بڑی مشکل سے اپنی بات مکمل کر پائے تھے۔
جب کہ وہ حیرانگی سے ان کا چہرہ دیکھنے لگی تھی یہ وہ کیا بول رہے تھے اسے کچھ سمجھ نہ آیا وہ تو ان کے پاس اپنے تحفظ کے لیے آئی تھی لیکن وہ تو اس شخص کے ساتھ رخصت کر رہے تھے ۔
یشام کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔آخر وہ شخص ہار ہی گیا تھا
جب کہ حرم کو اگلے ہی لمحے وہ بازو سے پکڑ کر ان سے الگ کرتا اسے اپنے ساتھ لے کر روم سےچلا گیا۔
وہ رونے لگی تھی اپنے دادا کو پکارنے لگی تھی اس کی آواز بلند ہونے لگی تو اسے مجبور اس کےمنہ پر اپنا ہاتھ دبا کر رکھنا پڑا وہ کسی طرح کا کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا
اور پھر وہ اسے ان سب سے دور لے کر چلا گیا
°°°°°°°°
