Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 62)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 62)
Junoniyat By Areej Shah
بیٹا تم ٹھیک تو ہو نا کیا ہوگیا ہے میری جان ۔۔۔۔”اس طرح سے کیوں رو رہی ۔ہو۔ ۔۔۔؟ تائی امی سب سے پہلے اس کے کمرے میں آئی تھیں
اس کے کانپتے سسکتے وجود کو اپنے ساتھ لگائے وہ اسے حوصلہ دے رہی تھیں جب کہ وہ بری طرح سے رو رہی تھی۔
بیٹا ہوا کیا ہے میری جان کچھ بتاو تو سہی میرا بچہ کوئی بُرا خواب دیکھ لیا ہو گا وہ اسے ساتھ لگائے پیار سے سمجھا رہی تھی
ان لوگوں نے مار ڈالا سب کو مار ڈالا میری آنکھوں کے سامنے قاتل ہے وہ لوگ ۔۔۔۔ان لوگوں نے مار ڈالا وہ چیخے جا رہی تھی جب کہ گھر کے سارے افراد وہاں جمع ہو چکے تھے ۔
کیا ہو گیا میرا بچہ آپ چیخ کیوں رہی ہو۔۔داداجان بھاگتے ہوئے آئے ۔اس کے چیخنے نے سب کو ڈسٹرب کر دیا تھا سامیہ اور دیدم تو اسے اس طرح روتے دیکھ کراکتا گئی تھی
پہلے حرم ناکافی تھی کہ اب اس لڑکی کی بھی چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی ۔
وہ اکثر رات کو ڈر کر چخیں مارتی تھی اور آج یہی کام اس ریدم نے سرانجام دے دیا تھا اب اس نے سب کی ہمدردیاں سمیٹنی تھی
کوئی نہیں ہے بیٹا کوئی نہیں مار رہا کسی کو بھی میری جان تم بالکل ریلیکس ہو جاؤ وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سمجھا رہی تھیں
آج انہیں حرم کی یاد آ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اب تک نہیں سو سکی تھیں۔
لیکن ریدم کو اپنے ساتھ لگاتے ہی جیسے ان کی ممتا کو تھوڑا سکون ملا تھا ۔
بڑی بہو میرے خیال میں ریدم بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی ہے تم اس کے ساتھ ہی سو جاؤ
دادا جان نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا جب کہ وہ ہاں میں سر ہلاتیں نرمی سے اس کا چہرہ صاف کر رہی تھیں۔
جو آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا ۔
کچھ نہیں ہو گا میری جان سب ٹھیک ہے تم ادھر آؤ میرے پاس تو اسے محبت سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولیں جبکہ اسے تھوڑا سا ریلیکس دیکھ کر سب لوگ اپنے اپنے کمروں کی طرف جا چکے تھے۔
جب کہ وہ بھی خاموشی سے ان کے ساتھ لگی بالکل کوئی سہمی ہوئی معصوم سی بچی لگ رہی تھی اس وقت اسے شاید ان کے سہارے کی ضرورت تھی
°°°°°
کلاس میں اچانک سے ہی الٹی سیدھی باتیں ہونا بند ہو گئی تھی اب یہ لڑکیاں اس کے شوہر پر گندی نظر رکھے ہوئے ہرگز نہیں تھیں
جس کے لئے وہ بالکل ریلیکس ہو چکی تھی اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کا شوہر گندی نظروں سے بالکل محفوظ تھا
جبکہ اس کے پیچھے کی وجہ یہ تھی کہ یشام نے حرم کا اس طرح جیلس ہونا دیکھ کران سب لڑکیوں کو پرنسپل آفس میں بلا کر ان کے سامنے نہ صرف ان کی روٹین بتائی تھی بلکہ ان کی الٹی سیدھی باتوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا تھا
جس پر سر نے انہیں کافی زیادہ ڈانٹا اور یونیورسٹی سے باہر کر دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
اور اس دن سے لے کر اب تک سکون ہی سکون تھا ان لڑکیوں نے دوبارہ کبھی یشام پر الٹا سیدھا کمنٹ نہیں کیا تھا ۔
جبکہ اس سنڈے جو کہ حرم نے کھانا بنانے کا وعدہ کیا تھا وہ پورا نہ ہو سکا تھا کیونکہ اچانک ہی حرم کو پتہ چل گیا تھا کہ یشام اور صیام کو ان کی تنخواہ ملی ہے
جس پر اس نے سنڈے کے دن اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارٹی رکھی تھی ۔جس کا سارا خرچہ صیام نے اٹھایا تھا جب کہ یشام کی تنخواہ پر اس نے خوب ساری شاپنگ کی تھی ۔
شوہر سر میں کیا پوچھ رہی تھی کیا ہم اس لیپ ٹاپ سے کسی کو بھی میل کرسکتے ہیں پوری دنیا میں۔۔۔۔؟ اگر میں کسی کو میل کرنا چاہوں وہ کیسے کروں گی وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کر رہی تھی ۔
جب کہ وہ جو ٹیلی ویژن پر فٹبال میچ دیکھنے میں مصروف تھا ایک نظر اسے دیکھتا دوبارہ ٹی وی کی طرف دیکھنے لگا
بتائیں نا میں نے ٹام کروز کو ای میل بھیجنی ہے ۔اس نے پھر سے پوچھا تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
اسے ای میل بھیج کر کیا کروگی وہ تو اب بڈھا ہوچکا ہے۔
خبردار جو اسے کچھ بھی کہا میرا فیورٹ ہے بتائیں مجھے میں کیسے اس کو ای میل کروں۔ وہ ناراضگی سے بولی
جان کسی کو بھی ای میل کرنے کے لئے اس کا ای میل ایڈریس آپ کے پاس ہونا ضروری ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے اسی لئے اپنے نوٹس پر توجہ دو وہ سختی سے بولا تو حرم منہ بنا گئی
°°°°°
شائزم یہ کیا بیوقوفی ہے بیٹا تم ہم کیوں نہیں بات رہے ہیں اب تو ہم نے تمہیں سب کچھ بتا دیا ہے تمہاری اس ضد کا ہم کیا مطلب نکالیں
کوئی ضد نہیں دادا جان کچھ بھی نہیں بس میں آپ سے اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گا
آپ کا نقصان بہت بڑا ہے دادا جان شاید میں ہی غلطی پر تھا وہ بس اتنا کہہ کر کمرے کی طرف جانے لگا تھا
جب کہ دادا جان اس کی اداس شکل دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے آج تک انہوں نے اپنے پوتے کی کوئی خواہش نہیں ٹالی تھی۔
ہم کیسے ریلیکس ہو جائیں تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو ہماری بات کو ضروری تو نہیں کہ جس چیز کو ہم چاہے اسے ہم حاصل بھی کر لے اس خاندان نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے ۔
بہت کچھ برداشت کیا ہے ہم نے اب مزید ہمت نہیں ہم میں وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولے
دادا جان میں کچھ نہیں کہہ رہا میں اپنی ہر بات کو واپس لے رہا ہوں میں اپنے الفاظ واپس لے رہا ہوں میں آپ کے سامنے کوئی بات نہیں کروں گا لیکن مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں۔
فی الحال میں کسی سے کچھ نہیں کہنا چاہتا سوچ رہا ہوں کچھ دن کے لیے یہاں سے کہیں چلا جاؤں جب نارمل ہو جاؤں گا خود ہی واپس آ جاؤں گا۔
وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولا جس پر دادا جان نے فوراً نفی میں سر ہلایا تھا
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے تمہیں کہیں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ہم تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتے شائزم
تو میں اسی لیے تو جا رہا ہوں دادا جان کہ میری وجہ سے گھر میں کسی کو کوئی مسئلہ نہ ہو اور میں بھی نہیں چاہتا کہ آپ مجھے اداس دیکھیں ان سب چیزوں سے نکلنے میں مجھے تھوڑا ٹائم لگے گا
فکر نہ کریں میں اپنے دل کو سمجھا دوں گا وہ انہیں پیار سے کہتا وہاں سے جا چکا تھا جب کہ دادا جان اسے خاموشی سے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے
°°°°°°
کیا سارا دن اس کمرے میں رہنے کے لئے آئی ہوتم لڑکی کم ازکم اس کمرے سے باہر نکلا کرو
گھر میں کوئی پریشانی ہے کوئی ٹینشن ہے یہ جاننا تمہارا بھی اتنا ہی فرض ہے جتنا کہ ہمارا جب دیکھو اس کمرے میں گھسی رہتی ہو
دیدم بنا اجازت اس کے کمرے کے اندر آئی اور پھر بولتی ہی چلی گئی ۔
جبکہ ریدم نے ایک نظر اس لڑکی کی طرف دیکھا تھا جو بڑی ہی دلیری سے اس کے کمرے میں آ کر اسی سے اونچی آواز میں بات کر رہی تھی۔
ریدم ساگر شاہ میرا نام اچھے طریقے سے اب یاد کر لو آج کے بعد خبردار جو تم نے مجھے لڑکی کہہ کر بلایا ۔
اور کس کی اجازت سے تم اس طرح میرے کمرے میں آئی ہو کیا تمہیں مینرز نہیں سکھائے گئے ۔
اور یہ آواز کم رکھو تو بہتر ہوگا ورنہ آواز بند کروانا میں بہت اچھے طریقے سے جانتی ہوں ریدم بنالحاظ کے بولی ۔
مجھے مینرز سکھانے والی تم کون ہوتی ہو تم ہو کیا ایک ہوسٹل سے آئی لڑکی۔۔۔
اس طرح کے عیش و عشرت اگر پہلے دیکھے ہوتے تو کم ازکم اس کمرے سے باہر نکلتی۔دیدم نے حقارت اور نفرت بھرے لہجے میں کہا کہ اگلے ہی ریدم کا ہاتھ اس کے بالوں میں الجھ گیا۔
تو مجھے طعنے مارے گی مجھے ۔۔۔تیری ہمت کیسے ہوئی میرے سامنے بکواس کرنے کی
تو مجھے دولت عشرت کا مطلب بتائے گی میرے باپ کے بھی اتنے ہی پیسے تھے جتنے تیرے باپ کے اتنا غرور کس بات کا ہے تجھے
اتنی اکڑ کیوں دکھا رہی ہے تو۔۔ کیا میں تیری پراپرٹی پر کھڑی ہوں جو تو مجھے عیش و عشرت کے طعنے دے گی
دیدم نے بڑی مشکل سے اپنے بالوں کو اس کے ہاتھ سے چھڑایا تھا جو اگلے ہی لمحے وہ اس کا ہاتھ اس کی کمر سے لگاتی اسےچیخنے پر مجبور کر گئی تھی ۔
میری جان ہوسٹل کی لڑکیوں سے کبھی پنگے نہیں لیتے وہ اوقات یاد کروا دیتی ہیں وہ اسے جھٹکا دیتی خود سے دور کر چکی تھی جبکہ تائی امی اورچاچی ان کا شور سن کر کمرے میں داخل ہوئیں
کیا ہو رہا ہے۔۔۔ یہاں ہوا کیا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ وہ غصے سے پیر پٹختی کمرے سے نکل گئی تھی
°°°°°°
بچے یہ کیا ہے میری جان آپ کھانا نہیں کھا رہی لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں کھانا چھوڑ دینا کہاں کی عقلمندی ہے
شام کو تائی امی اس کے کمرے میں بیٹھیں اسے سمجھا رہی تھیں جو کہ رات کا کھانا کھانے سے صاف انکار کر چکی تھی
اگر اس جھگڑے کی بھنک باباجان کے کانوں میں پڑ جاتی تو جانے کیا ہو جاتا ہے انہوں نے ریدم کو کسی بھی طرح کے ٹینشن دینے سے سختی سے منع کر رکھا تھا
انہوں نے کہا تھا کہ ریدم جیسا چاہتی ہے اسے ویسا کرنے دو اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔
مجھے کچھ نہیں کھانا اور نہ ہی مجھے باہر جانا ہے اس گھر میں میری کوئی عزت نہیں ہے جس کا دل چاہتا ہے مجھے طعنے مارنے لگتا ہے
وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ میں ہوسٹل میں پلی بڑی لڑکی ہوں مجھے گھر میں رہنا نہیں آتا ۔ہاں مجھے نہیں آتا نہیں سکھایا گیا مجھے گھر میں کیسے رہا جاتا ہے
اگر میرے ماں باپ ہوتے تو مجھے سکھاتے، مجھے بھی بتاتے کہ ان بڑی بڑی حویلیوں کے بڑے بڑے کمرے میں کیسے رہا جاتا ہے مجھے نہیں آتا یہ سب کچھ
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجھے اس بات کے طعنے دیے جائیں مجھے اس بات پرنیچا دکھایا جائے
بہتر ہوگا کہ آپ اپنی لاڈلی کو بتا دیجیے کہ ان کے سروں پر ماں باپ کا سایہ ہے لیکن میں صرف چھ سال کی تھی جب میری آنکھوں کے سامنے میرے ماں باپ کو قتل کر دیا گیا
اب بے شک اس حویلی کے لوگ کتنا ہی پیار مجھ سے کیوں نہ جتائیں لیکن حقیقت کبھی بدل نہیں سکتی کہ آج میں نے اپنے ماں باپ کو ان لوگوں کی وجہ سے کھویا ہے ۔
مجھے نہیں کھانا کچھ بھی بتا دیجئے اور جا کر اسے بھی بتا دیجیے جو مجھے طور طریقے سیکھانے آئی تھی اب اسے مجھ پر محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ میں جلدی یہاں سے چلی جاؤں گی
مجھے اس گھر میں نہیں رہنا جہاں مجھے بات بات پر اس بات کا احساس دلایا جائے کہ میرے پاس اس کی طرح حویلی میں رہنے کا سینس نہیں ہے
جہاں تک کھانے کی بات ہے تو یہاں پر مجھے عزت نہیں ملتی وہاں میں کھانا نہیں کھاتی اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں کھانا کھاؤں تو جا کر کہیں اپنے لاڈلی سے آکر مجھ سے معافی مانگے
وہ بات ختم کرتے اٹھ کر واش روم میں بند ہوگئی تھی پھر تائی امی خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں
°°°°°
ریدم کہاں ہے وہ آج ابھی تک کھانا کھانے باہر کیوں نہیں آئی ایک تو بچی ویسے بھی کمرے سے باہر نہیں نکلتی اور آج ڈری ہوئی بھی ہے
تم سب لوگ اس کا ٹھیک سے خیال تو رکھ رہے ہو نہ دادا جان ان سب کو دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگے
جی سب کچھ ٹھیک ہے بابا جان وہ دراصل صبح ایک چھوٹا سا جھگڑا ہو گیا تھا دیدم نے ریدم کے کمرے میں جاکر فضول طرح کی بحث تھی
اور اس کے ساتھ کافی بدتمیزی کی اب ریدم کا کہنا ہے کہ وہ تب تک کھانا نہیں کھائے گی جب تک دیدم اس سے معافی نہیں مانگتی۔
تائی امی نے اس کا پیغام جاکر دیدم کے کمرے میں دے دیا تھا جس پر وہ بھڑک اٹھی تھی اور صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ اس لڑکی سے معافی مانگنے ہرگز نہیں جائے گی تب ہی تائی امی نے یہ بات داداجان تک پہنچائی تھی ۔
دیدم تم نے کیوں کی اس سے بحث حد ہوتی ہے کسی بات کی ہم اس سے خود سے منا رہے ہیں اور تم نے اسے اور خفا کر دیا جاؤ اور جلدی سے جا کر اس سے معافی مانگو اور اسے ڈنر ٹیبل پر لے کر آؤ دادا جان نے بے حد غصے سے اسے مخاطب کیا تھا
لیکن دادا جان ۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں جاؤ اور اس کو لے کر آؤ وہ بے حد غصے سے بولے
°°°°°
دادا کے مجبور کرنے پر آخر دیدم اس کے کمرے میں آ گئی تھی اس کا نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو جان سے مار ڈالے
جس سے اسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا تھا اس لڑکی سے نفرت ہوتی جا رہی تھی اسے مسئلہ اس بات سے تھا کہ ایک تو آج تک ان پوتیوں کو اہمیت ملی ہی نہیں تھی اور پھر ریدم بھی پوتی ہی تھی
لیکن اسے اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی جا رہی تھی یہ چیز اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی بس اسی لیے وہ صبح اس کے کمرے میں جا کر اسے باتیں سنانے آئی تھی لیکن الٹا یہ سب اسی کے گلے پڑ گیا۔
کیا میں اندر آ سکتی ہو اسے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا ۔
باہر سے اس کی آواز سنتے ہوئے اس نے کافی دیر سے دروازہ کھولا تھا ۔
تم نے اتنا لیٹ دروازہ کیوں کھولا وہ اسے دیکھ کر سوال کرنے لگی
اپنا کام کرو جو کرنے آئی ہو فضول طرح کی باتیں مجھے ہرگز پسند نہیں اس نے اسے اپنے کمرے میں آنے کی اجازت بھی نہیں دی تھی ۔
وہ میں تمہیں سوری بولنے آئی تھی آکر نیچے ڈنر ٹیبل پر کھانا کھالو دادا جان تمہیں بلا رہے ہیں
کیا بولنے آئی تھی وہ ٹیڑھا کر کے بولی
سوری بولنے آئی تھی ۔دیدم نے بڑی مشکل سے کہا
تو بولو نا ۔۔۔سینے پہ ہاتھ باندھتے بڑی فرصت سے سے دیکھنے لگی ۔
بول تو چکی ہوں۔دیدم نے غصے سے کہا
سوری ڈارلنگ میں نے سنا نہیں زرا اونچا بولو ۔وہ دلکشی سے مسکرانے لگی۔
آئی ایم سوری چلواب نیچے آؤ وہ احسان کرنے والے انداز میں بولی
ہمارے ہوسٹل میں اس طرح سے سوری کرنا ہرگز نہیں سکھایا جاتا اور نہ ہی میں اس طرح کے سوری کو قبول کرتی ہوں تو تم جا سکتی ہو ۔
ریدم۔ ۔۔۔پلیز نیچے چلو دادا جان بہت غصے میں ہیں اس سے پہلے کے وہ دروازہ بند کرتی وہ منت بھرے لہجے میں بولی ۔
دادا جان غصے میں ہیں تو ٹھیک سے سوری بولو نا تم میرے ساتھ فضول میں ٹائم پاس کیوں کر رہی ہو
اور چلو نیچے میں کہاں انکار کر رہی ہوں لیکن سوری بولنے کا ایک اچھا سا طریقہ ہونا چاہیے
اتنے بڑے گھر میں رہتی ہو کیا تمہیں اس گھر میں کسی نے سوری بول بھی نہیں سکھایا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولی
دیدم جو اسے اب تک دبو سی لڑکی سمجھے ہوئے تھی اس کی چالاکی پر صرف اسے گھور کر رہ گئی ۔
فائن۔ ۔۔۔۔دیکھو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ رہی ہوں خدا کے لئے نیچے چلو دادا جان مجھ پر بہت غصہ ہیں کیونکہ میں تمہارے کمرے میں اگر تم سے لڑائی کر چکی ہوں
میں آئندہ تم سے بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کروں گی لیکن خدا کے لئے ابھی چلو وہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی جب کہ اس کے اس طرح معافی مانگنے پر ریدم کو اندر تک سکون ملا تھا
گڈ بچہ۔۔۔” پتا ہے آج تک جو بھی مجھ سے پنگا لیتا ہے نہ اس کا میں یہی حال کرتی ہوں تو مجھے خود سے کم ہرگز مت سمجھنا جس سکول میں تم یہ سب کچھ سیکھ رہی ہو نہ اس کی پرنسپل ہوں میں
جاؤ میں چینج کرکے آتی ہوں وہ بس اتنا بول کر اس کے منہ پر دروازہ بند کر چکی تھی جب کہ دیدم پیر پٹختی وہاں سے نکل گئی
°°°°°
باہر آجاؤ وہ چلی گئی اس کے جاتے ہی اس نے بیڈ کی چادر ہٹا کر نیچے دیکھا تھا جہاں وہ بڑے مزے سے بیڈ کے نیچے چھپ کے کیٹی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا
شکر ہے یار تمہاری یہ کزن تو بالکل چڑیل ہے اور اس کا اور تمہارا نام کتنا ملتا جلتا ہے جیسے دونوں سگی بہنیں ہوں
خدا کے لئے ایسی بہن اللہ پاک مجھے کبھی بھی نہ دے وہ تو میرے بابا جان کی کرم نوازی ہے جن کو اپنی اس بھتیجی سے ضرورت سے زیادہ محبت تھی اور اسی لئے انہوں نے میرا نام اس کے نام سے ملتا جلتا رکھا تھا۔
اور تمہیں پتا ہے مجھے اس لڑکی سے تب سے نفرت ہے جب سے میرے بابا اس کا ذکر کرتے تھے ۔
وہ اس سےبہت محبت کرتے تھے دیدم یہ دیدم وہ ۔۔۔۔اف۔ “
مجھے بہت برا لگتا تھا کیونکہ وہ میرے بابا تھے اس کا نام کیوں لیتے تھے ۔
اس کے اندر کی جیلسی بول رہی تھی جب کہ شائزم اس کے انداز پر مسکرا دیا ۔
واو یار تمہیں تمہارے بابا کی ساری باتیں یاد ہیں اتنی چھوٹی ایج میں تو مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ مجھے کھانے میں کیا پسند تھا اور تمہیں ان کی ایک ایک بات یاد ہے کیسے ۔۔۔؟
جو لوگ کھو جاتے ہیں نا ان کی بس یادیں رہ جاتی ہیں ۔عمر کوئی بھی کیوں نہ ہو لیکن بچے اپنے والدین کی باتیں ان کا چہرہ کبھی نہیں بھولتے۔اور میں نے تو اپنے ماں باپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا ہے ۔
کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکتی ہو ریدم وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
میں ان لوگوں کو مرتے دم تک نہیں بھول سکتی ۔تم جاؤ میں ڈنر کرنے جاتی ہوں نیچے بڈھا میرے لئے بھوکا بیٹھا ہوگا ۔
وہ تمہارے دادا ہیں یار تھوڑی عزت دو شائزم کو اس کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔
سوری مجھے ہوسٹل میں دادے کوعزت دینا نہیں سکھایا گیا ۔وہ آنکھ دبا کر بولی تو شائزم مسکرا دیا ۔
غلط بات ہے ۔اب سیکھ لو تمہارے لئے بہت اچھا رہے گا وہ مسکرا کر کہتا کھڑکی طرف بڑھنے لگا جبکہ وہ بھی کمرے سے نکل چکی تھی
°°°°°
