Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 89)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 89)
Junoniyat By Areej Shah
ریدم اور حرم کی لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
ان دونوں کی لڑائی جھگڑے کو خوب انجوائے کرنے کے بعد خود واپس کمرے میں آیا
تو اسے بیڈ پر پرسکون نیند سوتے ہوئے پایا اسے امید تھی کہ جب تک وہ جاگنگ کر کے واپس آتا وہ جاگ جائے گی لیکن ایسا نہ ہوا
وہ اس کے بریک فاسٹ کرنے کے بعد بھی اب تک گہری نیند میں تھی اس کا اتنی گہری نیند میں ہونا بنتا بھی تھا آخر خداش کاظمی کی قربت نے اسے سونے ہی کہاں دیا تھا۔
خداش چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے اس کی طرف قدم در قدم چلتے ہوئے آیا اور پھر دور سے ہی اس کے دونوں طرف اپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنی گرم سانسوں کا لمس بخش نے لگا۔
اس کی اس قربت پر وہ جاگ تو گئی تھی لیکن اپنی آنکھیں کھول کر اس کی جانب نہ دیکھا اس کا دل مانو پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے قرار ہو گیا تھا وہ اس کے اتنے پاس تھا۔کہ اس نے اپنی سانسیں تک روک لی ۔
جب اسے اپنی نازک سی گردن پر اس کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا ۔
سانس لو۔۔۔۔۔۔ حکم دیا گیا
اس کے لال اناری چہرے پر جیسے سارے جسم کا خون سمٹ کر آگیا تھا۔
جبکہ اس کا ہاتھ اس کی گردن پر گردش کر رہا تھا ۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی حد کراس کرتا وہ اس کے ہاتھ کو اپنی نازک ہتھیلی میں قید کر چکی تھی ۔
چھوڑو۔۔۔۔اس کا لہجہ حکمیہ تھا ۔
خداش پلیز۔۔۔۔۔وہ یوں ہی آنکھیں بند رکھے اس سے التجا کر رہی تھی ۔
اوکے دین کس می۔۔۔۔۔۔وہ اس کے بے حد قریب جھکا اس سے فرمائش کر رہا تھا ۔جبکہ وہ گھبراتے ہوئے بند آنکھوں سے اس کا بات کرنے والا انداز بھی اسے برا ہرگز نہ لگا تھا وہ تو اس کے اس انداز کو بھی خوب انجوائے کر رہا تھا
خداش۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔اس نے آہستہ سے اپنی پلکوں کی جھالر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ اس کے بے حد قریب تھا اس نے خود کو پوری طرح اس کی پناہوں میں قید پاتے ہوئے کچھ کہنا چاہا ۔
کس می۔۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر اپنی سانسوں کی تپش نچاور کرتے وہ ایک بار پھر سے اسے حکم دے رہا تھا ۔
دیشم کافی دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی جب کہ وہ کبھی اپنی ناک سے اس کے گال سہلا رہا تھا تو کبھی اپنی سانسوں سے اس کے ہونٹوں کو چھیڑرہا تھا ۔
جب اچانک ہی اس کی جیب میں موبائل فون بجنے لگا وہ خاصہ بد مزا ہو کر اپنے فون پر آنے والی کال کو دیکھنے لگا جو اہم ہونے کی وجہ سے اٹھانا ضروری ہو گیا تھا
وہ ایک نظر اس کے کانپتے وجود پر ڈالتا فاتحانہ انداز میں اس کے قریب سے اٹھتا بالکنی کی طرف چلا گیا تھا جبکہ دیشم اپنی سانسوں کی الجھی ڈور کو سنبھالتی واش روم میں بند ہو گئی تھی
°°°°°°°
یہ تو بہت اچھی خبر ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ آج کے دن کی سب سے اچھی خبر سنائی ہے تم نے آفیسر تم نے دل خوش کردیا
اب تمہیں پتا ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے اس لڑکے کو آسانی سے نہیں چھوڑنا جتنا ہو سکے اتنے برُے کیس میں پھنسانا ہے اسے وہ آسانی سے جیل سے نکل نا سکے
ویسے بھی کوئی اسے جیل سے نکال نہیں سکے گا کیوں کہ اس پر قتل کاکیس ہے اس نے ہمارے پوتے کا قتل کیا ہے بخشیں گے تو ہم بھی اسے ہرگز نہیں ۔
وہ عمایہ کے ساتھ نیچے آ رہا تھا جب دادا جان فون کان سے لگائے بول رہے تھے ان کی باتیں سن کر وہ یہ بات سمجھ چکا تھا کہ ارحم نے اس کی بات کو مان کر خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
اب باقی کام اس نے کرنا تھا لیکن دادا جان کے ارادے اسے کافی زیادہ خطرناک لگ رہے تھے وہ نیچے کی طرف آیا تو خود کو تنہا پایا اس نے مڑ کر دیکھا تو عمایہ سیڑھیوں کے بیچ کھڑی دادا جان کی گفتگو سن رہی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور پھر وہ وہیں سے پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
اس کا ارادہ تھا اس کے پیچھے جانے کا لیکن فی الحال اسے داداجان سے بات کرنا زیادہ ضروری تھی ۔
دادا جان قاتل کے پکڑے جانے کی وجہ سے بہت خوش تھے اور وہ اس کے ساتھ کچھ برا کرنے والے تھے لیکن اس نے عمایہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دے گا تو اپنی بیوی سے کیا وعدہ تو بھلا وہ کیسے توڑ سکتا تھا
°°°°°°°
اس کی ماں کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں تھیں ۔آخر وہ پرسکون ہو گیا تھا آج اس نے وہ کر دیا تھا جو اس کا حق تھا
اپنی ماں کو مسلمانوں کے رسم و رواج کے مطابق اس نے الوداع کیا تھا اس چیز کے لیے وہ بہت خوش تھا اپنی ماں کا دکھ اپنی جگہ لیکن اس نے اپنی ماں کو آخرت میں رسوا نہیں ہونے دیا تھا ۔
اس نے ایک مسلمان عورت کا حق اس سے چھننے نہیں دیا تھا اسے اپنے بیٹے ہونے پر فخر تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کی ماں کو بھی آج اس پر فخر ہوگا ۔
وہ واپس نہیں جانے والا تھا اس کا واپس اس جگہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ جانتا تھا پولیس اس سے طرح طرح کے سوال کرے گی
ممکن تھا کہ اسے کوئی سزا دے دی جاتی وہ یہاں سے بہت دور چلے جانا چاہتا تھا وہ کہاں جائے گا کیا کرے گا کچھ نہیں جانتا تھا
لیکن وہ ہر اس رشتے سے دور چلا جانا چاہتا تھا جو اسےسوائے تکلیفوں کے اور کچھ نہیں دے رہے تھے ۔وہ اب ان کی طرف منہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
اس کے دل میں کہیں نہ کہیں اپنے باپ اور ماں کی موت کا بدلہ لینے کی خواہش تو تھی ۔لیکن وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ اس قابل نہیں ہے کہ بدلہ لے سکے اس نے خود کو اس قابل بنانا تھا کہ ان لوگوں کو بتا سکے کہ وہ کیا ہے
°°°°°°°
بابا جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ اس لڑکے کو یہاں لانا چاہتے ہیں ۔۔۔؟
کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ کو پتہ بھی ہے اس عورت نے راحیل کو قتل کیا تھا اور کہیں نہ کہیں ہمارے بھائی کو مارنے کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ تھا ۔
آپ اس عورت کے بچے کو یہاں لانا چاہتے ہیں اس حویلی میں ۔۔۔۔۔۔؟
اس عورت کے بچے کو نہیں ثقلین میں اپنے بیٹے کے بیٹے کو اس گھر میں لانا چاہتا ہوں اپنے خون کو اس گھر میں لانا چاہتا ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ میرے احمر کا بیٹا ہے ۔
مجھے میرے احمر کا بیٹا لا دو مجھے میرا پوتا واپس لا دو میں نہیں رہ سکتا اس کے بنا وہ میرا خون ہے وہ میرا اپنا ہے خداش کی طرح وہ بھی میرے بیٹے کی اولاد ہے میں اسے در در ٹھوکر نہیں کھانے دے سکتا اپنے ماں باپ کو کھو چکا ہے وہ اسے مجھے لا دو میں پالوں گا اسے
لیکن اسے اس طرح دنیا کی ٹھوکروں میں نہیں پلنے دوں گا وہ جیسا بھی ہے جو بھی ہے جس کی بھی اولاد ہے لیکن میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میرے بیٹے کا خون ہے اور وہ ہمارے پاس رہے گا ۔
بابا جان فیصلہ کر چکے تھے اور اب ان کے فیصلے کے خلاف کوئی نہیں جا سکتا تھا
ٹھیک ہے بابا جان میں اگلے ہی ہفتے وہاں جانے کی تیاری کرتا ہوں اور جلد سے جلد اس کو ڈھونڈ کر لاتا ہوں ۔
اگلے ہفتے نہیں تم کل ہی جاؤ پتہ نہیں بچہ کس حال میں ہو گا اسے کسی بھی طرح یہاں لے آؤ بابا جان نے حکم دیا تھا جس پر وہ خاموش ہو گئے تھے
°°°°°°°
آج صبح سے ہی اماں جان دیشم کو دیکھ رہی تھیں جو کافی نکھری نکھری سی اور شرمائی شرمائی سی لگ رہی تھی ۔
کیا بنا رہی ہے میری جان انہوں نے کچن میں قدم رکھا تو اسے مصروف پایا ۔
وہ اماں جان میں خداش کے لیے پلاؤ بنا رہی ہوں انہیں پسند ہے نا ویسے تو وہ ہمیشہ تائی امی کے ہاتھ کا کھاتے ہیں لیکن میں نے سوچا کہ مجھے بھی ٹرائی کرنا چاہئے آپ کیا کہتی ہیں ۔
ہاں کیوں نہیں میری جان ضرور بناؤ انہیں خوشی ہوئی تھی ۔
وہ اپنے ہی دھیان میں لگی ہوئی تھی جبکہ اماں اسے دیکھ رہی تھیں جب اچانک دیدم وہاں آ گئی ۔
آج دوپہر میں کچھ مہمان آنے والے ہیں سامیہ کے سسرال سے اور ان کے لئے کھانا بنانے کا حکم مجھے ملا ہے تو کیا میں کچھ بنا سکتی ہوں
دیشم کو اس حد تک مصروف دیکھ کروہ اس کے سر پر سوار ہوئی تھی آج کل تو دیدم اسے بالکل اچھی نہیں لگتی تھی ۔
میں خداش کے لئے کھانا بنا رہی ہوں بس تھوڑی دیر میں بن جائے گا اس کے بعد تمہیں جو بھی کرنا ہے تم کرتی رہنا
وہ اسے جواب دے کر اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی
تم خداش کے لیے اتنی محنت کیوں کر رہی ہو ۔یہ میں کر دیتی ہوں ویسے بھی اب آگے یہ سب کچھ مجھے ہی کرنا ہے تو تمہیں اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اس کے انداز میں یقین تھا
جو تمہیں کرنا تھا نہ تم کر چکی ہو اب تم کچھ نہیں کرسکتی سائیڈ پر ہو جاؤ۔وہ غصے سے بولی۔
دادا جان نے مجھے خداش کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے دیدم نے کچھ یاد دلایا تھا ۔
تو دادا جان کو جا کر کہہ دو کہ ان کی بیوی ابھی زندہ ہے ان کا خیال رکھنے کے لیے اس نے چبا چبا کر کہا تھا جبکہ دیدم بنا کچھ بولے کندھے اچکا کر کچن سے نکل گئی تھی
°°°°°°°
باباجان ہم نے ہر جگہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ہمیں کہیں بھی نہیں مل رہا یقین کریں بابا جان ہم نے لندن کا چپہ چپہ چھان مارا ہے
پولیس سٹیشن میں بھی رپورٹ کی ہے لیکن اس بچے کی کوئی خبر نہیں ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا تین مہینے سے یہاں سے غائب ہے
اور وہ کہاں گیا کوئی نہیں جانتا ہے وہ شیلٹرہوم سے اچانک غائب ہو گیا تھا بعد میں پتا چلا کہ اس کی ماں کی لاش بھی غائب ہوچکی تھی اس لڑکے کا کہنا تھا کہ اس کی ماں مسلمان ہیں اور وہ اپنی ماں کو عیسائیوں کے رسم و رواج کے مطابق دفنانے نہیں دے گا لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں چل رہا ۔
میں نے یہ سب سننے کے لیے تمہیں وہاں نہیں بھیجا مجھے نہیں پتا کہیں سے بھی اسے ڈھونڈ کر لاؤ کہاں جاسکتا ہے وہ چھوٹا سا معصوم بچہ کس طرح سے رہ رہا ہوگا نہ جانے کس طرح اپنا گزارہ کر رہا ہو گا اور تم مجھے الٹے سیدھے بہانے دے رہے ہو ۔
بابا جان پلیز آپ غصہ نہ ہوں ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ہم اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔
اپنے دل سے اس کے لئے ہر طرح کی الٹی سیدھی بات نکال کر اسے ڈھونڈو بابا جان نے پریشانی سے کہا تھا ۔
اگر آپ نے انہیں معاف کر دیا ہے تو ہم بھی آپ کے حکم کے غلام ہیں ۔ہمارے دل میں اس کے لیے کوئی الٹی سیدھی بات نہیں ہے ہم پوری ایمانداری سے اسے تلاش کر رہے ہیں
لیکن وہ کہیں نہیں مل رہا نہ جانے کہاں چلا گیا ہے ۔لیکن پھر بھی ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے آپ پریشان مت ہوں وہ فون بند کرتے ہوئے بول رہے تھے جبکہ بابا جان بس اسے واپس لانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہے تھے
°°°°°°
تم مجھے یہاں لے کر کیوں آئے ہو جب کہ میں تمہیں سیدھا گھر چلنے کے لئے کہہ چکی ہوں
وہ گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر روک چکا تھا جبکہ ریدم شاید پورے نخرے دکھانے کے موڈ میں تھی اسی لیے اسے گھورتے ہوئے اس سے سوال کر رہی تھی ۔
یہ سوال تم اندر چل کر بھی مجھ سے پوچھ سکتی ہو یار مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے اور سیریسلی جب میں بھوکا ہوتا ہوں نہ تب بیوی کے چونچلے ہر گز برداشت نہیں کرتا وہ گاڑی سے نکلتے ہوئے اس کے سائیڈ کا دروازہ بھی کھول چکا تھا ۔
واٹ چونچلے۔۔۔۔۔۔میں نے کون سے بیوی والے چونچلے کیے ہیں تمہارے سامنے جو تم سے برداشت نہیں ہو رہا وہ غصے سے گاڑی سے نکلتے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی تھی ۔
ڈارلنگ یہ ادائیں یہ بہانے بہانے سے چھونا نخرے دکھانا چونچلے ہی کہلاتے ہیں وہ بڑے مزے سے بولا۔
لیکن پلیز تم برا مت مناؤ ڈارلنگ میں تو یہ چونچلے اٹھانے کے لئے مرا جا رہا ہوں لیکن ابھی مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے اور میرا نہیں خیال کہ تم یہاں سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ہو کر کسی طرح کا کوئی ڈرامہ افوڈ کر سکتی ہو ویسے میں تو ہرگز نہیں کر سکتا اسی لئے چل کر کچھ کھا لیتے ہیں ۔
افکورس ڈئیرسٹوپڈ ہسبینڈ تمہارے دیدار سے پیٹ بھرنے سے رہا میرا ۔وہ بڑے ہی دلربا انداز میں مسکراتے ہوئے آگے پیچھے کافی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر ریسٹورنٹ کے اندر قدم بڑھا چکی تھی ۔جب کہ وہ اس کے انداز پر عش عش کر اٹھا ۔
دل جلانے کا یہ انداز سچ مچ میں شائزم کو بری طرح سےسلگا دیتا تھا
°°°°°°°
وہ لوگ تھک چکے تھے اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر دو ماہ گزر چکے تھے اس کی تلاش میں لیکن وہ کہاں نکل گیا تھا کوئی نہ جان سکا۔
اگر پتا تھا تو صرف اتنا کہ وہ ان کی پہنچ سے بہت دور جا چکا تھا اس کا کہیں کوئی آتاپتا انہیں نہ ملا وہ پریشان تھے اس کے لیے
نہ جانے کیوں وہ بے چین ہوگئے تھے ایک چھوٹا سا بچہ صرف دس سال کا نہ جانے کون سے سڑکوں پر ٹھوکریں کھا رہا تھا ۔
اور وہ اتنے بے بس تھے کے اس کا پتہ ہی نہیں لگاپارہے تھے ۔پچھلے دو مہینوں سے انہوں نے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں تھی جہاں ان لوگوں نے اسے تلاش نہ کیا ہو ۔
لیکن آج انہیں ہسپتال سے فون آیا تھا وہاں موجود 15 سالہ لڑکی نے انہیں فون کر کے ملنے کے لیے بلایا تھا ۔شاید وہ ان لوگوں کو یشام کے بارے میں کچھ بتا سکتی تھی
°°°°°°
عمایہ کیا ہوگیا ہے میری جان تم کیوں اس طرح سے رو رہی ہو کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے ۔۔۔۔؟
میں نے کیا کہا تھا تم سے اسے کچھ نہیں ہوگا تمہارا ذریام اسے کچھ نہیں ہونے دے گا کیا تمھیں مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے
وہ کمرے میں آیا تو اسے بری طرح سے روتے ہوئے پایا وہ جانتا تھا وہ داداجان کی ساری باتیں سن چکی ہے اور ان سب چیزوں نے اسے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔
ہر بہن کی طرح وہ بھی اپنے بھائی کے لیے بے حد پریشان ہوگئی تھی وہ اس کی پریشانی کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا اور اپنے وعدے کے مطابق وہ ارحم کی پوری مدد بھی کرنے والا تھا لیکن عمایہ کے آنسو اسے بری طرح بے قرار کر رہے تھے ۔
زریام وہ بھائی کو بہت بڑی سزا دلوانے والے ہیں بہت بڑے کیس میں پھنسانے والے ہیں مجھے یقین ہے کچھ نہ کچھ بُراضرور ہوگا اگر بھائی جیل سے آزاد نہ ہو سکے تو ۔
میری جان ریلیکس ہو جاؤ کچھ نہیں ہوگا میں نے تم سے وعدہ کیا ہے نہ ارحم کو کچھ بھی نہیں ہوگا میں اسے جیل سے چھڑواؤں گا اسے باعزت بری کرواؤں گا اسے اس کیس سے نکالوں گا پلیز یہ ان خوبصورت آنکھوں کا حشر مت کرو اس کی دونوں آنکھوں کو چومتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا ۔
اس کا ڈر غلط نہیں تھا سچ میں ارحم کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا لیکن وہ ساری پلاننگ کر کے بیٹھا ہوا تھا
°°°°°°°
کیا بات ہے حرم جان بہت خوش نظر آ رہی ہو اس نے کمرے میں قدم رکھا تو حرم گنگنا رہی تھی اور اس کا گنگنانا اس بات کاگواہ تھا کہ وہ بہت خوش تھی
ویسے تو اس کی خوشی کی وجہ وہ جانتا تھا ریدم جو تھوڑی دیر پہلے اپنے شوہر کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی بے شک پہلی دفعہ اس نے اسے رخصت کرتے ہوئے آنسو بہائے تھے لیکن آج وہ بہت خوشی سے لہرا لہرا کر گا رہی تھی ۔
ہاں نا وہ بوجنی چلی گئی قسمے میری جان عذاب کر رکھی تھی مجھے جلانے کے لئے آئی تھی وہ ہمارے گھر میں جانتی ہوں میں کمینی نہ ہو تو ۔
بس بس گالی مت دو بہت بری بات ہوتی ہے اپنی تیاری کرو ہمارے واپس جانے میں زیادہ دن نہیں ہیں ۔اس نے اچانک بیڈ پر لیٹتے ہوئے اسے یاد کروایا تھا ۔
انہیں یہاں آئے آٹھ دن گزر چکے تھے مطلب جانے میں سات دن باقی تھے اور اب تک وہ یشام کے دل میں گھر والوں میں سے کسی کے لیے بھی کوئی بھی جذبات جگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی
اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ کتنی بڑی بے وقوفی کر رہی تھی وہ تو شادی کو انجوائے کرنے کے چکر میں لگی ہوئی تھی اور یہاں یشام تو جلد سے جلد اس گھر کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا
ابھی تک وہ گھر میں کسی بھی انسان کے قریب نہ آ سکا تھا اور نہ ہی حرم نے خود ایسی کوئی کوشش کی تھی ۔
لیکن اس نے دادا جان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کچھ بھی کر کے یشام کو ہمیشہ کے لیے اس گھر میں رکھے گی ۔کچھ بھی کرکے ان کا پوتا انہیں واپس دے گی لیکن یہ سب اسے بہت مشکل لگ رہا تھا ۔
کیا ہوا کن سوچوں میں لگ گئی وہ اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے بولا تو حرم نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا ۔
وہ مسکراتے ہوئے اسے صیام کی ویڈیو کال دکھاتا اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا جب کہ وہ بھی صیام سے بات کرنے لگی ۔اور اب وہ سوچ رہی تھی کہ کیوں نہ اس کام کے لیے وہ صیام سے مدد لے
°°°°°°
