Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 97)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 97)
Junoniyat By Areej Shah
صبح اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے وجود میں ایک عجیب سے تھکن محسوس ہوئی۔
اپنےبے حد قریب اسے بے سدھ پڑے دیکھ کر رات کے سارے منظر اس کے آنکھوں کے سامنے آگئے تھے ۔
وہ بیڈ پر بنا شرٹ کے دنیا جہان سے بیگانہ پڑا تھا اس کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا جبکہ ریدم بس اسے گھورے جا رہی تھی شاید اس کی گھوریوں کا ہی نتیجہ تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی تھی ۔
اس نے حیرت سے اسے اپنے آپ کو دیکھتے پایا ۔
ریدم۔۔۔۔۔۔اس نےکچھ کہنا چاہا تھا لیکن نہ جانے کیوں اسے اس طرح سے خود کو گھورتے پا کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی جیسے وہ بڑی خوبصورتی سے چھپاتا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔
رات کو کیا ہوا تھا ۔؟۔۔۔۔اپنے آپ کو اس کی شرٹ میں قید دیکھتے ہوئے اس نے اوپر کے بٹن بند کر کے خود کو اس سے دور کیا تھا ۔
یہ بھی میں تمہیں بتاؤں کہ رات کو کیا ہوا تھا کوئی سستا نشہ کرکے آئی تھی تم تم نے رات کو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔اس نے اپنے سینےپردونوں ہاتھ باندھتے کہا
۔ایک شریف انسان بیان تک نہیں کر سکتا مجھے نہیں پتا تھا کہ ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں میں لٹ گیا میں برباد ہو گیا ۔
تم نے کل رات مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تم نے میرا ریپ ۔ہائے میں کیا منہ دکھاؤں گا ماریہ کو۔۔۔۔وہ بے چاری تو میرے انتظار میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہو گی میری پہلی محبت میری جان۔۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ تمہیں شرم نہیں آرہی اپنی بیوی کے سامنے اس گھٹیا لڑکی کا نام لیتے ہوئے اور میرے قریب آنے سے تم اس ماریہ کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے ہاں میں بیوی ہوں تمہاری۔ ماریہ کے ساتھ منہ کالا کرکے نہیں آئے ہو جو اس طرح بیٹھ کے عورتوں کے طرح رو رہے ہو ۔
تم میرے شوہر ہو ۔تمہارے پاس آنے کا حق صرف میرا ہے ۔اور یہ سب کچھ بہت نورمل ہوتا ہے شادی شدہ زندگی میں ہاں ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ یہ رشتہ نہیں بنانا چاہتی تھی لیکن شاید یہ ایسے ہی ہونا تھا
کل رات کو میں بہت زیادہ ڈر گٸی تھی اس آدمی نے مجھ پر حملہ کیا تھا میں مرنے والی تھی ۔میں اس آدمی کو پہچانتی ہوں ۔کل میں شاید اسی ڈر کے زیر اثر میں تمہارے پاس چلی آئی ۔
اور تم بھی موقع کی تلاش میں تھے پتا ہے مجھے تو اتنا رونا دھونہ کیوں کر رہے ہو ۔میرے سامنے معصومیت کے ڈرامے کرنا بند کرو جیسے میں تو تمہیں جانتی ہی نہیں نا ۔
اگر میں غلطی سے آ گٸی تمہارے پاس تو تم ناآتے۔ تو نہ ہوتا تمہارے ساتھ ریپ اب میں تمہارے ساتھ زبردستی تو کرنے سے رہی۔اور نہ ہی میں نے تمہیں فورس کیا ہے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔لیکن بار بار نگاہیں جھکا لیتی وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر پا رہی تھی۔شاید نہیں یقینا وہ اس سے شرما رہی تھی شاٸزم مسکرا دیا
اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سمجھ رہی تھی کہ رات بے اختیاری میں وہ خود ہی اس کے پاس چلی آئی تھی ۔
وہ اس سب کو بظاہر تو نارمل قرار دے رہی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اندر سے کس طرح کے کشمکش کا شکار ہے ۔
یقینا وہ یہ سب کچھ اس طرح سے تو ہر گز نہیں چاہتی تھی ۔رات وہ خود ہی اپنی بے اختیاری میں اس کے پاس چلا گیا تھا پھر ریدم نے اسے روکا نہیں اور وہ رکا نہیں تھا ۔
لیکن ریدم ان سب چیزوں کو قبول کر رہی تھی بنا اسے کچھ بھی الٹی سیدھی باتیں کہے اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا ۔
ناشتے کے لیے آرڈر کر دو مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ۔وہ نظر چراتے ہوئے اٹھنے لگی تھی جب اگلے ہی لمحے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکنے لگا
اب کیا تکلیف ہے وہ اسے گھورتے ہوئے کھا جانے والے انداز میں بولی جب اس نے مسکین سی شکل بنا کر اپنی طرف اشارہ کیا ۔
میں جانتا ہوں میں بہت ہاٹ ہوں لیکن میرا نہیں خیال کہ ایک بیوی ہونے کے ناطے تم مجھے اس طرح کہیں باہر جانے کی اجازت دو گی تو اگر تمہاری اجازت ہو تو میں اپنی شرٹ لے لوں۔
لے لو میں نے کب تمہیں منع کیا ہےوہ حیرانگی سے اسے دیکھ کر بولی وہ اس سے اجازت کیوں مانگ رہا تھا ۔
شاٸزم آنکھوں میں بےباک سی چمک لیے اگلے ہی لمحے اٹھ کر اس کے روبرو آتا اس کے بٹن پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا ۔
چھچھوڑے انسان الماری سے دوسری نکالو ۔جلدی سے اس کے ہاتھوں کو پیچھے کرتی اس سے کافی دور فاصلے پر جا رکی تھی ۔
اچھا نا یار تم مار کیوں رہی ہو اس کے پیچھے ہٹنے پروہ قہقہ لگاتے الماری کی طرف بڑھ رہا تھا ۔جب کہ وہ اپنا سرخ چہرہ جھکائیں جلدی سے واش روم کی طرف چلی گئی تھی ۔
جبکہ شاٸزم سوچ رہا تھا کہ اب وہ اپنے اور ریدم کے درمیان کوئی دوری نہیں آنے دے گا اس نے سوچ لیا تھا کہ ماریہ کے حوالے سے غلط فہمی کو جلد ہی ختم کرے گا
°°°°°°°
مجھے آپ کی ہیلپ چاہیے دیشم آپو آپ یہاں آ کر بیٹھیں اور مجھے بتائیں کہ میں سر شوہر کو کس طرح سے بتاؤں کہ میں ان سے پیار کرتی ہوں میرا مطلب ہے وہ کہتے ہیں کہ جب مجھے میرا مطلب ہوتا ہے صرف میں تبھی ان سے اپنے پیار کا اظہار کرتی ہوں یوں ہی کبھی بھی نہیں کرتی تھی جیسے وہ کرتے ہیں ۔
انہیں لگتا ہے کہ میں مطلبی ہوں صرف اپنے مطلب کے وقت ان سے پیار کرتی ہوں لیکن ایسا نہیں ہے میں ان سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں آپ میری ہیلپ کرو نہ ۔
صبح اٹھتے ہی وہ کچن میں آئی تھی جہاں امی اور چاچی کے ساتھ دیشم کو کھانا بنانے میں مصروف دیکھا وہ اسے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا چکی تھی ۔
ہاں تو تم مت کیا کرو نہ اس وقت اظہار جب تمہیں اپنی مطلب کی چیزیں چاہیے ہوتی ہیں شوہر کو اس بات کا احساس دلانا پڑتا ہے کہ بیوی اسے کتنا چاہتی ہے ضروری نہیں کہ الفاظ سے آپ اپنے انداز سے بھی بتا سکتے ہیں امی نے بیچ میں بولتے ہوئے اسے سمجھایا تھا ۔
ہاں تو بتائیں نا کہ میں اپنے انداز سے کس طرح سے انہیں بتاوں کہ میں ان سے پیار کرتی ہوں۔آج میں ان کے ساتھ ڈیٹ پر جانے والی ہوں۔
اور انہوں نے مجھے کہا ہے کیا آج وہ ہم دونوں میں دوریوں کو مٹا دیں گے اور ہمارا رشتہ اور بھی مضبوط ہو جائے گا ہم ہمیشہ کے لئے ایک ہو جائیں گے لیکن ہم تو شادی کر کے ایک ہو چکے ہیں نہ ۔
میں نے ان سے کہا ہے کہ میں ڈیٹ پر آپ کو بتاؤں گی کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں اور اب آپ سب میری مدد کرو ۔وہ ان سب کو دیکھتے ہوئے بولی جبکہ چاچی تو نظریں جھکا کر مسکرانے لگی تھیں ۔
بھابھی اس کی مدد کریں اسے سچ میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔
میں کیا مدد کروں دیشم خود ہی سمجھائے گی اسے سب کچھ ۔وہ بے چارہ تو اس کی بے وقوفیوں کی نظر ہو رہا ہے شاید اسی لیے اس نے ابھی تک اس رشتے کی شروعات نہیں کی تھی ۔
اس کی بے وقوفیاں برداشت کر کے بے چارہ سوچتا ہوگا کہ اس نے شادی کی ہے یا بچی گود لے لی ہے ۔
بابا جان کو پوتی کی شادی کی فکر لگ گئی تھی اس چیز کا انہوں نے خیال تک نہیں کیا کہ یہ شادی کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔۔
دیشم سمجھاؤ اسے عقل گھٹنوں میں ہے اس کی بتاو اسے میاں بیوی کا رشتہ کس طرح سے مضبوط ہوتا ہے تاکہ یہ پھر سے کوئی بے وقوفی نہ کرے۔امی نے التجاٸی انداز میں دیشم سے کہا تھا جب کہ وہ صرف اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لے گئی تھی
°°°°°°°°
کیا ہوا تم اتنی پریشان کیوں ہو اب کونسا نیا مسئلہ لے کر بیٹھی ہوخداش کمرے میں آیا تو اسے بیڈ پر بیٹھے پایا ۔
وہ حرم اور یشام بھائی باہر گئے ہوئے نہ انہیں کو سوچ رہی تھی ۔
ان کو سوچنے کی کیا ضرورت ہے خداش کنفیوز ہو کر اس سے پوچھنے لگا اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ کیوں پریشان ہے صرف نفی میں سر ہلا کر اسے ریلیکس کرتے ہوئے وہ مسکرا دی تھی ۔
ایک بات بتاؤں مجھے حرم کو لے کر بہت سارے وہم تھے لیکن یشام کو دیکھا نا تو سمجھا کہ حرم کے معاملے میں ہم بیکار میں پریشان ہو رہے ہیں وہ انسان صرف حرم سے محبت نہیں کرتا بلکہ جنون کی حد تک اسے چاہتا ہے ۔
میں گرنٹی دے سکتا ہوں وہ انسان حرم کو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اس کی آنکھوں میں حرم کی محبت کا ایک سمندر آباد ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔
اس کا ہاتھ تھامتے وہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا تھا جب کہ اپنی بہن کے معاملے میں اس کا اتنا یقین اسے بھی مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔
اور حرم کی بیوقوفیوں کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
یشام کو حرم کی بیوقوفیاں اچھی لگتی ہیں اسے وہ ہر حال میں قبول ہے جس طرح مجھے تم ہر حال میں قبول ہو ۔
اب دیکھو نہ تھوڑے ستم تو تم نے مجھ پر بھی نہیں ڈھاٸے دن رات مجھے تڑپایا میری شادی کے اولین دنوں میں خود سے دور رکھا تمہیں یاد ہے وہ رات جب بخار کی حالت میں ۔میں تمہارے قریب آیا تھا اس دن تم نے مجھے دوھتکار دیا وہ دن میں زندگی کا سب سے بد ترین دن تھا ۔
آج بھی اگر کبھی مجھے وہ رات یاد آتی ہے نہ مجھے غصہ آنے لگتا ہے تم پر خود پر اپنے جذبات پر اپنے اٹھائے اس قدم پر ۔۔۔اس دن تم نے مجھے۔۔۔۔۔
کیا ہم سب کچھ بھلا کر آگے نہیں بڑھ سکتے خداش میں جانتی ہوں میں غلط تھی میں نے آپ کے ساتھ بہت برا رویہ رکھا لیکن میں سوائے آپ سے معافی مانگنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی ۔
کیوں نہیں کر سکتی کیا تم میری زندگی سے اس رات کے نقش کو مٹا نہیں سکتی ۔کیا تم مجھے وہ رات بھولنے پر مجبور نہیں کر سکتی ۔کیاتم میری زندگی سے اس سیاہ رات کی کرچیاں مٹا نہیں سکتی
اس رات تو تم اپنی مرضی سے مجھ سے دور چلی گئی تھی تو کیا واپس اپنی مرضی سے میرے پاس نہیں آ سکتی ۔تمہیں حاصل کرنے کے بعد بھی میں خود کو مکمل نہیں تصور کر پا رہا کیا تم مجھے مکمل نہیں کر سکتی وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب اچانک دیشم نے آگے بڑھ کر اس کے لبوں پر اپنے نازک لب رکھ دئیے ۔
وہ حیران نہیں ہوا تھا نہ ہی وہ اس سے پیچھے ہٹا تھا وہ جانتا تھا دیشم اتنی بے باک نہ سہی لیکن اسے منانے کے لیے اپنی سی ایک کوشش ضرور کرےگی ۔
میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں خداش میں گزرے ہر برے دن کو آپ کی زندگی سے نکال دوں گی اپنی محبت سے اپنی چاہت سے ہربری یاد آپ کے دل سے مٹا دوں گی جو میری وجہ سے آپ کی تکلیف کی وجہ بنی ۔
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں کچھ معاملوں میں میرا دل باغی ہو گیا تھا ۔میں نے کبھی آپ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی آپ کے دل میں میرے لئے کبھی بھی کچھ غلط نہیں تھا لیکن میری بچگانہ سوچ آپ کوقبول ہی نہیں کر پا رہی تھی
آپ کے ہر فیصلے کو میں اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ لیتی تھی میں اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھی کہ آپ ہر معاملے میں صحیح تھے اور میں غلط ۔
لیکن اب ایسا نہیں ہو گا میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آپ کو ایک بہت اچھی بیوی بن کر دکھاؤں گی ۔
اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے اس کے تمام تر جذبات جگا چکی تھی.جبکہ خداش بھی اسے اپنی باہوں میں قید کیے اس کے بالوں میں چہرہ چھپانا چلا گیا
°°°°°°°°
وہ دادا جان کو گھر چھوڑنے کے بعد واپس ایک ضروری کام کے سلسلے میں آیا تھا اب واپس گھر جاتے ہوئے وہ بالکل تنہا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی گاڑی مسلسل اس کا پیچھا کر رہی ہے ۔
اس نے دو تین دفعہ اپنی گاڑی روک کر بھی چیک کیا تھا وہ گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی یا صرف اس کی غلط فہمی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس سے پہلے اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔
کون ہو سکتا ہے یہ میرے پیچھے کیوں آرہا ہے زریام نے تھوڑے فاصلے پر جاکر گاڑی ایک بار پھر سے روک دی تھی ۔اسے لگا شاید وہ رستہ بھٹک کر اس کے پیچھے آ رہا ہو لیکن گاڑی روکنے کے کافی دیر بعد تک وہ اس کے آنے کا انتظار کرتا رہا وہ نہیں آیا تو کندھے اچکا کر پھر سے اپنی گاڑی سٹارٹ کر دی تھی جب اسے پھر سے ایسا ہی محسوس ہونے لگا ۔
اس نے ایک دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھا جب اسے احساس ہوا کہ اچانک اس کی گاڑی کے سامنے کوئی اور گاڑی آئی ہے لیکن وہ کوئی گاڑی نہیں بلکہ بہت بڑا ٹرک تھا ۔اگر وہ وقت پر نہ دیکھتا تو یہ ٹرک اس کی گاڑی سے ٹکرا بھی سکتا تھا
اس ایریا میں اس طرح کے کسی ٹرک کا آنا اس کے لیے کافی حیرت انگیز تھا
لیکن اپنی گاڑی پیچھے مڑتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وہ ٹرک آیا نہیں بلکہ لایا گیا ہے وہ بھی کسی خاص مقصد کے لئے ۔
اپنے پیچھے آتی گاڑی کی سپیڈ کے ساتھ ہی وہ ان کا مقصد سمجھ چکا تھا اگلے ہی لمحے اس نے ماہرانہ انداز میں اپنی گاڑی ان دونوں گاڑیوں کے بیچ سے نکالی تھی اس کا شک بلکل درست ثابت ہوا تھا ۔
یہ اس پر ایک جان لیوا حملہ تھا اس نے اپنی گاڑی روکے بنا وہاں سے نکالنا چاہی تھی وہ سمجھ چکا تھا کہ اس ٹرک کو یہاں کیوں بھیجا گیا ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ ایسا کون کروا سکتا تھا اس کا کوئی دشمن بھی نہیں تھا ۔تو پھر کس کی ہو سکتی تھی یہ حرکت ۔سوچتے ہوئے اس نے اپنی گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کر دی تھی ۔
اس گاڑی کے ساتھ دو گاڑیاں اور بھی اس کا پیچھا کرنے لگی تھی اس وقت گاڑی روکنایا ان لوگوں کے بارے میں جاننا سراسر بیوقوفی تھی ۔وہ لوگ یہاں اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے ۔
اس سے جتنا ہو سکا اس نے اتنی تیزی سے اپنی گاڑی ان لوگوں کی پہنچ سے دور کر دی تھی لیکن ذہن میں سوال تھےبلااس کے ساتھ ایسا کون کروا سکتا ہے
°°°°°°°
واو شوہر سر یہ تو بہت خوبصورت جگہ ہے۔وہ کیمپ کے باہر اس خوبصورت جگہ کو دیکھ رہی تھی جو آج کی رات کے لئے اسپیشل یشام نے تیار کروائی تھی ۔
آپ نے تو ہماری ڈیٹ کے لئے بالکل پرفیکٹ جگہ چنی ہے ۔ماننا پڑے گا آپ کی پسند لاجواب ہے وہ ریڈ کلر کی خوبصورت فراک کے ساتھ ہائی ہیل پہنے اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی ۔
یہ خوبصورت سی ڈریس اس نے خود اس کے لیے خریدی تھی ۔اور آج صبح گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے اسے یہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تیار رہنا لیکن یہ ہائی ہیل پہن کر آنا اس کا اپنا فیصلہ تھا ۔
کیونکہ حرم کو لگتا تھا کہ اس کا قد اپنے شوہر کے قد سے بہت چھوٹا ہے ۔
تم سے خوبصورت اور کچھ بھی نہیں ۔آج میں تمہیں یہاں کس لئے لایا ہوں یہ تو تم جانتی ہی ہونا ۔لیکن میں آج تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔
لسٹ ڈانس ۔۔۔۔اس نے اس کے سامنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس سے کہا تھا ۔جبکہ حرم نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ اسے اپنے بے حد قریب کرتا آہستہ آہستہ اسے اپنے ساتھ موو کرنے لگا تھا ۔
مجھے نہیں پتا تھا آپ کو یہ سب کچھ بھی آتا ہے مجھ سے پہلے اور کتنی ڈیٹ کر چکے ہیں اس کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ جمائے وہ اس سے سوال کرنے لگی تھی
میری زندگی میں تمہارے علاوہ کبھی کسی اور عورت کا وجود نہیں رہا حرم میرے لیے تم ہی میرا سب کچھ ہو تم سے پہلے میری ماں جن سے میں نے بہت محبت کی ۔اور اب تم میری زندگی بس تمہی دونوں پر ختم ہوتی ہے ۔
وہ اسے گھماتے ہوئے ایک بار پھر سے اپنے بے حد قریب کرگیا ۔
مطلب کے آپ بھی میری طرح ناٹ ایکسپیریمنڈ ہو وہ کھکھلاتے ہوئے بولی تو اس نے مسکراتے ہوئے اس کے سرخ رخسارو پر اپنے لب رکھ دئیے تھے ۔حرم نے مسکرا کر نگاہیں جھکا لی تھی ۔
حرم وعدہ کرو کہ ہمیشہ ایسی ہی رہو گی ۔کبھی بدلو گی نہیں ۔میں چاہتا ہوں کہ تمہاری یہ معصومیت ہمیشہ قائم رہے ۔ میری محبت کے رنگ میں گھل جانے کے بعد بھی تم ایسی ہی رہنا ۔
یشام احمر کا عشق بن کر ۔اس کی گردن پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ اس کی ریڈ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کر گیا تھا ۔
ایک لمحے کے لیے اس کا ہاتھ یشام کے کندھے سے ہٹا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اسے اپنے بےحد قریب کرتے ہوئے اس کے لبوں پر جھک گیا ۔
جب کہ وہ اس کی گردن میں اپنی باہیں ڈالتے ہوئے خود کو پوری طرح اس کے سپرد کر چکی تھی اگر اس کے پاس اس کا سہارا نہ ہوتا تو یقینا وہ زمین پر گر جاتی ۔
لیکن یشام احمر کا سہارا اب اس سے کوئی الگ نہیں کر سکتا تھا اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار تنگ کرتے ہوئے وہ اسے اپنے مزید قریب کرتا چلا جا رہا تھا ۔
کرو مجھ سے وعدہ کہ ایسی ہی رہو گی ۔کبھی خود کو بدلو گی نہیں کسی کے کہنے پر خود کو چینج کرنے کی کوشش نہیں کرو گی ۔
نہیں کروں گی ۔۔۔۔ہمیشہ ایسی رہوں گی اب میں اپنی ہیل اتار دوں میرے پیر میں چب رہی ہے ۔وہ میں جوش جوش میں پہن کر آ گئی تھی کہ میری ہاٸٹ آپ کی ہائٹ سے زیادہ کم نہ لگے ۔اس نے بڑی معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
کیا تمہارے پیروں میں درد ہو رہا ہے تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی وہ اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے زمین پر بیٹھ کر اس کی ہیل اتارنے لگا تھا ۔
آپ وہاں سے اٹھ جائے شوہر پیروں پر بیٹھا اچھا نہیں لگتا ۔وہ خود ہی اس کے ساتھ بیٹھ کر اپنی ہیل اتارنے لگی تھی جب کہ وہ اس کی سنی ہی کہاں رہا تھا اس کے پیروں سےہیل اتارتے ہوئے وہ اس کے نازک سے پیروں کو دیکھنے لگا تھا
اور اگلے ہی لمحے اسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بنا اپنی باہوں میں قید کرتا ہوا اٹھا کر اندر کیمپ کی طرف لے گیا تھا ۔
آپ کوبس مجھے گودی میں لینے کا شوق ہے ویسے میں چل سکتی ہوں اس کی گردن میں باہیں حمائل کرتے ہوئے اس نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھتے شرارت سے کہا تھا ۔
میرا بس چلے تو میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی باہوں میں قید کرلوں یہ تو کچھ بھی نہیں اسےبیڈ پر رکھتے ہوئے اس نے نرمی سے اس کے گالوں کا بوسہ لیا تھا ۔
تم میں ایسی کشش ہے حرم جو میرے جیسے پتھر دل کو بھی مدہوش کر دیتی ہے ۔جانتی ہو کتنی محبت کرتا ہوں میں تم سے ۔آج میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں آج کے بعد ہم دونوں ایک ہو جائیں گے ۔
جس دن سے دیکھا ہے نہ تمہیں اپنا بھی حوش نہیں رہا ۔ہر وقت تمہارے خیالوں میں کھویا رہتا تھا ۔خود سے بھاگنے لگا تھا اپنے دل کے سوالوں سے بھاگنے لگا تھا ۔اس کے گالوں کو بیقراری سے چومتے ہوئے وہ بولتا چلا گیا ۔
تمہارے بنا اب اس دل بے چین کو کوئی قرار نہیں تم ہی ہو سب کچھ تم ہو۔ تم پر تو اب یہ جان بھی نثار ۔
اب تم سوچ رہی ہو گئی کیا عجیب دیوانوں جیسی باتیں کر رہا ہوں دیوانہ ہی تو کر دیا ہے تم نے ۔اس کے گرد اپنی باہیں پھیلاتے ہوئے وہ اس کے چہرے کے اتنے قریب تھا کہ اس کی سانسیں بھی حرم اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔
لیکن آج وہ اس سے پیچھے ہٹے یا دور جانے کا ارادہ رکھتا ہی نہیں تھا آج تو وہ فاصلہ مٹا دینا چاہتا تھا ۔
جانتا ہوں تم نے مجھے کوئی ادائیں نہیں دکھائی لیکن ایسا جادو چلایا مجھ پر ایسے برے طریقے سے پھنسایا ہے کہ اب خود کو مظلوم اور تمہیں جادوگرنی سمجھنے لگا ہوں وہ بولتے ہوئے مسکرا دیا تھا
کیونکہ وہ آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔یقینا اسے امید نہ تھی کہ وہ اسے ایسا کوئی نام دینے والا ہے ۔
ایسے مت دیکھو خود پر کنٹرول نہیں کر پاؤں گا وہ ایک جھٹکے سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا تو اب حرم کو اس سے عجیب سا خوف محسوس ہونے لگا
ایسا دیوانہ ہوا ہےیہ دل کہ ہمیشہ تمہاری قربت کےلیے مچلتا رہتا ہے لیکن پھر بھی میرے صبر کی انتہا دیکھو خیر اب تو میرا جہان تمہاری آغوش میں سمٹے گا ۔
جانتا ہوں صرف ان لوگوں نے تمہیں معصوم سے بچی بنا کر رکھا ہوا ہے اتنی معصوم نہیں ہو کہ میرے جذبات کو سمجھ ہی نا سکو۔بتا دو اگر ابھی مزید تڑپانے کا ارادہ ہے تودماغ ٹھکانے لگا دوں گا ۔کیوں کہ میرا مزید تڑپنے کا یا تم سے دور رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے آج تو سارے فاصلے مٹا دوں گا ۔
اب صرف تمہارا نام میرے نام سے نہیں جوڑے گا بلکہ تمہاری ایک ایک سانس پر میری حکومت ہو گی تم میری ہو جاؤ گی آج ۔
وہ کب سے بولے جا رہا تھا جبکہ حرم صرف اسے سن رہی تھی یا پھر اس کے لبوں کا لمس کبھی اپنی گردن پر کبھی گالوں پر کبھی آنکھوں پر محسوس کر رہی تھی ۔
اس کے جسم میں ایک سنسناہٹ تھی وہ کانپ رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس کی ساری حرکتوں کو خاموشی سے سہ رہی تھی ۔
وہ اس کی محبت میں ڈوبی آواز سے اپنے لیے بے قراریاں سن رہی تھی ۔جب اچانک یشام نے اسے کھینچ کر خود میں بھینچ لیا ۔
تو کہو کہ تم میری ہونے کے لیے تیار ہو۔بنا لوں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنا اسے خود میں قید کرتے ہوئے اس نے بڑے ہی دلفریب انداز میں پوچھا تھا جیسے وہ انکار کر دے گی تو وہ پیچھے ہٹ جائے گا لیکن وہ تو شاید آج واپس جانے کا کوئی بھی راستہ چھوڑ کر ہی نہیں آیا تھا ۔
اس کے یوں ہی کتنی دیر خاموش رہنے پر اس نے مزید اس کے جواب کا انتظار نہ کرتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں بھر کر خود میں قید کر لیا تھا اس کے بے باک لب بے قراری سے اس کے نازک وجود پرپھسلتے چلے جا رہے تھے ۔
اور حرم خاموشی سے اس کی شدتوں کو سہتی چلی جارہی تھی ۔بنا کچھ بولے بنا کچھ کہے وہ اپنا آپ اس شخص کے نام کر چکی تھی ۔جس کی بے قراریاں عروج پر تھی ۔
یشام۔ ۔۔۔۔اس کی شدتیں حد سے بڑھنے لگیں تواس کی بے قراریوں میں سانسیں لیتی وہ بے چینی سے اس کا نام پکار بیٹھی تھی۔
جب اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اس کے لبوں کو چوما تھا حرم کچھ بھی نہیں بول پائی تھی۔اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا تے ہوئے اس کی دھڑکنوں میں اشتعال برپا کرتا وہ اس کے ہوش اڑاچکا تھا ۔
خوبصورت لمحات آہستہ آہستہ سے گزر رہے تھے ۔اور گزرتے ہر پل کے ساتھ وہ اپنی بے قراریاں اس پر عیاں کرتا چلا گیا ۔آسماں پر دور کہیں بادلوں میں چاند بھی شرما کر اپنا آپ بادلوں میں چھپاگیا تھا
°°°°°°°°°
