Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 96)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 96)
Junoniyat By Areej Shah
جج صاحب یہ کیس بالکل صاف ستھرا ہے اس شخص نے قتل کیا ہے اور خود اس نے اپنا جرم قبول کیا ہے ۔
اس شخص کے قتل کرنے کے پیچھے کوئی وجہ نہیں تھی بس اپنے دوست سے جلن اور حسد کی وجہ سے۔اس کی دولت اور جائیداد کی وجہ سے اس نے ایک ہنستے کھیلتے انسان کی زندگی ختم کر دی۔
ایک معصوم بچی کو یتیم کردیا ایک معصوم سی لڑکی کو بیوہ کردیا۔ایسے شخص کو آزاد گھومنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ۔
محالف وکیل عارف صاحب تقریبا پندرہ منٹ سے بولے جا رہے تھےاور ارحم بالکل خاموش کھڑا تھا اور خداش بھی خاموشی سے سن رہا تھا ۔
جتنا اس نے اس وکیل کا نام سن رکھا تھا اسے لگا تھا کہ اسے کافی بحث کرنی پڑے گی ۔اس کیس کو جیتنے کےلیے لیکن اب یہاں بیٹھے بیٹھے وہ بدمزہ ہونے لگا تھا
اب اس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ کیس اتنی بحث والا ہے ہی نہیں ۔وکیل بار بار ایک ہی بات دہرائی جا رہا تھا کہ ارحم کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔
کسی لڑاکا عورت کی طرح وہ کبھی باقر کی بیوی کو بیچ میں گھسیٹ تھا تو کبھی اس کی بچی کو ۔حالاں کے خداش بہت اچھے طریقے سے جانتا تھا کہ باقر کی طلاق کافی سال پہلے ہی ہوچکی تھی اور باقر کی شادی زریام کی بہن سے ہوئی تھی ۔
وکیل پندرہ بیس منٹ بول کر آرام سے اوپر بیٹھ گیا تھا جج صاحب کو فیصلہ کرنے میں مشکل تو نہیں تھی لیکن اگر وہ یہاں بیٹھا تھا تو مطلب صاف تھا کہ وہ تو کالا کوٹ پہن کر تماشہ دیکھنے ہرگز نہیں آیا
وکیل صاحب نے اسے اپنا دوست مخاطب کرتے ہوئے اسے کچھ کہنے کے لئے چھوٹ دی تھی ۔
جب جج صاحب نے بھی اسے کچھ کہنے کی اجازت دے دی ۔
شکریہ مائی لاڈ ۔۔۔۔۔میرے قابل دوست عارف صاحب نے جو کچھ کہا بالکل صحیح ہے ۔باقر کا بہت بے دردی سے قتل کیا گیا اور کسی بھی خاندان کے لیے یہ بات بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتاہے کہ ان کا جوان بیٹا اس طرح سے مارا گیا ۔
میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ان سب کے لئے بہت تکلیف دا رہا ہوگا لیکن یہ بار بار ارحم کو قاتل کہہ رہے ہیں اسے درندہ صفت اور پتا نہیں کیا کیا کہنے کی کوشش کی جا رہےہیں
وکیل صاحب کو لگتا ہے کہ میں اس کیس میں بے وجہ ہی انٹر فیر کر رہا ہوں حالانکہ یہ مقدمہ بالکل صاف ستھرا ہے اس میں کچھ بولنے کی ضرورت ہی نہیں قاتل خود اپنا جرم قبول کر چکا ہے ۔
بالکل یہ ساری باتیں غور کرنے لائق ہیں لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخر اس دن ہوا کیا تھا ۔
ایسا کیا ہوگیا کہ اگر ارحم کو اسے گولی مارنے کی ضرورت پیش آئی تھی بلکہ وہ باقر کا بہت اچھا دوست تھا اور ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا یہاں تک کہ باقر اسے اپنا بیسٹ فرینڈ بھی کہا کرتا تھا
تو پھر ایسا کیا ہوگیا ارحم جو آپ کو یہ قدم اٹھانا پڑا ۔۔
خداش وہاں موجود ہر انسان کو نظر انداز کیے صرف ارحم سے سوال جواب کرنے لگا تھا
°°°°°°°
میری اور باقر کی دوستی تین چار سال پرانی تھی وہ گھوڑے کی ریس میں خداش کاظمی کو ہرانے کا خواب دیکھتا تھا اسے یقین تھا وہ ایسا ضرور کرے گا اس کا جنون اسے بری طرح اس بات پر اکساتا تھا کہ وہ ہار نہیں سکتا
اسے یقین تھا کہ وہ اس بار جیت جائے گا چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے اس دفعہ ہار اس کا مقدر نہیں بنے گی جس کی وجہ سے اس ریس کے درمیان میں بےایمانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس بے ایمانی میں ہم سب دوست اس کے ساتھ شامل ہوگئے تھے
لیکن اس کے باوجود بھی آپ سے میرا مطلب ہے خداش کاظمی سے جیت نا سکا اور اس بات کا افسوس ہی اسے پاگل کر رہا تھا۔ارحم کےباقر کی بے ایمانی قبول کرنے پر خداش کے لبوں پر تبسم بکھرا تھا ۔وہ بے ایمانی سے بھی سے ہارا نہیں سکا تھا
وہ غصے سے آپے سے باہر ہوگیا تھا ہم سب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ یہ صرف ایک کھیل تھا جس میں ہار جیت ایک نارمل سی بات ہے
لیکن وہ کچھ بھی سننے کو تیار ہی نہیں تھا اسی لئے میں نے اس سے غصے سے کہہ دیا کہ خداش کاظمی کو ہرانا اس کے بس کی بات ہی نہیں ہے اسی بات پر اس نے پستول نکال کر مجھ پر وار کرنے کی کوشش کی تھی۔
وہ خداش کو مارنے کے لیے جانا چاہتا تھا ہم سب اسے روک رہے تھے ۔میں بھی اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ نشے میں دھت تھا ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اسے نہ روکا تو وہ ایسا کر گزرے گا
اس کا دماغ پوری طرح سے خراب ہو گیا تھا مجھے بندوق چلانا آتی ہی نہیں تھی میں نے تو کبھی پستول ہاتھ میں نہیں لی تھی ۔
تو قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے
میں بس اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا جب گولی چلی تو پستول اسی کے ہاتھ میں تھی میں نہیں جانتا مجھ سے یہ سب کچھ کیسے ہو گیا لیکن وہ میرے ہاتھوں مارا گیا جس بات کا افسوس مجھے کبھی زندگی میں نہیں آئے گا ۔
وہ ایک ایک بات انہیں بتائے چلے جا رہا تھا جب کہ وہاں موجود سب لوگ صرف اسے سن رہے تھے ۔
یہ تو من گھڑت کہانی ہے اصل میں ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا حقیقت یہ تھی کہ یہ حسد کا شکار تھا اور یہ ۔۔۔۔۔
میرے قابل دوست میرے خیال میں آپ کو آپ کی بات پیش کرنے کا مکمل موقع دیا گیا تھا ۔آپ کو اس طرح بیچ میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں ۔خداش نے نہ جانے اس وکیل کی دخل اندازی کو کس طرح اسے سہا تھا
اس نے کہا تو وکیل سے تھا لیکن وہ دیکھ جج صاحب کی طرف رہا تھا ۔
جس پر جج صاحب نے بھی اسے خاموش رہنے کی تاکید کی تھی ۔
جی تو ارحم آپ نے کہا کہ نہ تو آپ کو گولی چلانا آتی تھی اور نہ ہی آپ نے اس سے پہلے پستول کبھی ہاتھ میں لی تھی ۔اور میرا نہیں خیال کہ پستول چلانا یا کسی کا قتل کرنا کوئی اناڑیوں والا کام ہے ۔ ۔ ۔ “
پھر آپ یہ بتائیں کہ اگر یہ جو آپ بتا رہے ہیں وہ حقیقت ہے تو آپ وہاں سے بھاگ کیوں گئے۔۔۔۔۔؟
میرے دوستوں نے کہا تھا وہ سب لوگ کہہ رہے تھے کہ میں بچ نہیں پاؤں گا میرا بہت برا انجام ہوگا میں بہت زیادہ گھبرا گیا تھا وہ بوکھلاہٹ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
کہ میں کیا کروں دوستوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے میں وہاں سے بھاگ نکلا تھا اتنا عرصہ وہی لوگ مجھے پیسے وغیرہ بھیجتے رہے ۔
میں جتنا بھاگ سکتا تھا اتنا بھاگا لیکن اب یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہو گیا تھا ۔کیوں کہ جیسی چھپ چھپا کر زندگی میں گزار رہا تھا اس سے تو بہتر جیل کی قید تھی ۔
در حقیقت میں خود کو اس بات کے لیے معاف نہیں کر پا رہا تھا کہ میرے ہاتھوں ایک جیتا جاگتا شخص موت کے گھاٹ اتر گیا ۔وہ سر جھکائے بولے جا رہا تھا ۔خداش نے صرف اس کے جھکے سر کو دیکھاتھا۔اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ سچ بول رہاہے یا جھوٹ لیکن اس نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی
یو آنر آپ نے میرے مؤکل کی ساری بات سنی ہے ۔اور یقینا مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ قتل سیلف ڈیفنس میں ہوا ہے ۔
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ عارف صاحب کو دیکھنے لگا جن کے چہرے پر اسہتزایہ مسکراہٹ تھی ۔
بے شک اب ان کے بولنے کی باری تھی ۔
آپ نے جو باتیں کہی ہیں وہ بالکل درست ہے خداش صاحب لیکن یہ فیصلہ آپ نہیں کریں گے کہ یہ قتل سیلف ڈیفنس میں ہوا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے
کیونکہ میرے سننے میں آیا ہے یہ باقراور خداش کاظمی کا پہلا مقابلہ نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بھی خداش کاظمی سے وہ چھ سات بار ہار چکا تھا ۔تو اس بار اتنا غصہ کے باقر اپنی ہی جان کا دشمن بن گیا یہ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ۔
اب میں نے ہاضمے کی گولیاں تو رکھی نہیں ہیں اپنے پاس ۔ان کی مسکراہٹ پر اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود سب لوگ ہی ہنسنے لگے تھے
لیکن عارف صاحب کو شاید اپنی بےعزتی محسوس ہو گئی تھی ۔اور پھر جج صاحب کے آرڈر آرڈر نے سب کے چہرے سے مسکراہٹ نوچ ڈالی تھی.
کاظمی صاحب کیا آپ کے پاس کوئی ثوبت ہے کہ یہ قتل اپنا بچاو کرتے ہوئے ہوا ہے کہاں ہیں باقر کے دوست جو اس بات کی گواہی دیں
کیونکہ بقول ارحم کے وہ سب وہاں موجود تھے۔اور ان کے سامنے ہی یہ واقع پیش آیا ہے تو ان سب کو یہاں ہونا چاہے۔عارف اسے لاجواب کرنےکی کوشش کررہا تھا۔
جی یورانر وہ سب یہاں موجود ہیں ۔جج صاحب کے اس کی طرف دیکھتے ہی اس نے بڑے ادب سے کہا جس پر عارف کی زبان پھر بند ہو گئی ۔
°°°°°°°
میرا نام شاکر خان ہے اور میں نے اس دن ارحم کو وہاں سے بھاگنے کے لیے کہا تھا میں جانتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن اس دن ہم سب بہت زیادہ گھبرا گئے تھے ۔
باقر کی حالت شراب پینے کی وجہ سے بہت خراب ہو چکی تھی وہ کسی بھی حالت میں خداش سے انتقام لینا چاہتا تھا اس کا ارادہ خداش کے پاس جا کر اسے قتل کر دینے کا تھا ہم سب اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے ۔
لیکن وہ ہماری بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا ہم نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن ہم لوگ کامیاب نہ ہو سکے ہم بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئے تھے سب لوگ ڈر گئے تھے ۔
جہاں ایک دوست کو کھونے کا دکھ تھا وہی دوسرے دوست کے ساتھ کچھ غلط ہونے کا بھی ڈر تھا بس اسی لئے ہم نے یہی سوچا کہ ارحم کو موقع واردات سے بھگا دیتے ہیں لیکن ہمیں ہرگز اندازہ نہ تھا کہ ایسا کرکے ہم اسے مزید مصیبت میں پھنسا رہے ہیں کہیں نہ کہیں ارحم کے بھاگنے کے پیچھے ہمارا ہی ہاتھ تھا
ہم نے اسے مجبور کر دیا تھا وہاں سے جانے کے لیے اس کے لئے ہم شرمندہ ہیں ۔
شاکر سر جھکا کے بولے جا رہا تھا جب کہ اس کی پوری بات سننے کے بعد اس نے عارف صاحب کو اس سے کچھ پوچھنے کے لئے کہا تھا جس پر وہ نفی میں سر ہلا گئے ان کے پاس کوئی سوال نہ تھا ۔
انہوں نے دوستوں کو پیش کرنے کے لئے کہا تھا جب کہ وہ پوری تیاری سے یہاں آیا ہوا تھا ۔وہ اس کیس کو جتنا آسان سمجھ رہے تھے یہ اتنا ہی الٹا نکلا تھا ۔
ان کے حساب سے اس کیس میں ایسا کچھ بھی نہ تھا جس پر بحث کی جاتی یا زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی لیکن ابھی انہیں احساس ہو رہا تھا کہ وہ یہ کیس لے کر غلطی کر چکے ہیں ۔
کیس کی کاروائی اگلی تاریخ تک منتقل کر دی گئی تھیں فیصلہ اگلی تاریخ پر ہونا تھا ۔
زریام کو کچھ حوصلہ ہوا تھا کیونکہ اب کافی حد تک وہ اس کیس سے اچھی کی امید رکھتا تھا یقینا عمایہ اس کے انتظار میں بیٹھی یہی سوچ رہی ہوگی کہ آخر کیا ہوا ہے۔
اس کا دل تو چاہا تھا کہ پہلے اسے فون کرکے بتا دے کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ وہ گھر ہی جا رہا ہے اس نے اسے فون نہ کیا تھا وہ دادا جان کو تھام کر باہر آیا تو کافی زیادہ پریشان لگ رہے تھے ۔
میں نے کہا تھا نہ کہ یہ لڑکا اس چیز میں ہاتھ ڈال رہا ہے تو مطلب صاف ہے کہ یہ ہم سے کوئی پرانی دشمنی نکال رہا ہے دیکھا تم نے کس طرح وہ ہر بات پر باقر کو غلط ثابت کر رہا تھا اسے شراب کے نشے میں ثابت کر رہا تھا اور وہ ارحم کو تو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا ۔
دادا جان باقر کہ ڈی این اے ٹیسٹ میں بھی یہی آیا تھا کہ وہ بری طرح شراب کے نشے میں تھا اور آپ تو جانتے ہی ہیں نا کہ وہ نشے میں کس طرح کی حرکتیں کرتا تھا۔
مجھے کہیں نہ کہیں یہ بات ٹھیک لگ رہی ہے کیونکہ اس کے یہ سارے دوست کافی سمجھدار تھے یقینا ان لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش کی ہوگی ۔وہ کہاں کسی کی سنتا تھا ۔
بے شک زندگی اور موت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن ارحم نے جو بھی کیا وہ اپنے بچاؤ میں کیا اور اپنے بچاؤ میں کیے جانے والا کوئی بھی قدم قانون کی نظروں میں غلط نہیں ہے ۔
اور یہ بھی مت بولئے کہ باقر کے پستول پراس کی اپنی انگلیوں کے نشان تھے ارحم کےنہیں ارحم تو صرف موقع واردات سے بھاگ جانے کی وجہ سے قاتل ثابت ہوا ہے ۔
اور اب قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کوئی جھوٹ تو نہیں بولے گا اور باقی جہاں تک خداش کی بات ہے تو ارحم خداش کا کوئی سگا نہیں ہے ۔جو وہ اس کے لیے پریشان ہوتا ۔
خداش کا نہ سہی لیکن تمہارا تو سگا ہے نہ تمہاری بیوی کا بھائی ہے ۔ان کا لہجہ زہر میں ڈوبا ہوا تھا اپنے ایک پوتے کی لڑائی میں وہاپنے دوسرے پوتے کو بری طرح سے ہرٹ کر رہے تھے ۔
بے شک وہ میری بیوی کا بھائی ہے اور اگر وہ مجرم ثابت ہوگیا تو آپ سے پہلے میں اسے سزا دوں گا ۔
لیکن افسوس مجھے ایسا لگتا نہیں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے کہ ارحم نے صرف موقع واردات سے بھاگ کر غلطی کی ہے باقی اس نے کچھ نہیں کیا باقر اپنی غلطی کی وجہ سے مرا ہے ۔
خیر دادا جان ہمہیں آپ گھر چلنا چاہیے بہت وقت ہو گیا ہے ۔وہ کہہ کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا جب کہ دادا جان خاموشی سے اس کے پیچھے چلے آئے تھے ۔
°°°°°°°
چھوڑ دو چھوڑ میرے بابا کو مت مارو ماما بابا۔۔۔۔۔۔ریدم نیند میں چلائی جارہی تھی جبکہ اس کے بالکل ساتھ بیٹھا شائزم پہلے تو اس کی حالت پر حیران ہوا تھا لیکن پھر آہستہ سے اس کے گرد باہوں کا حصار بناتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا ۔
ریلیکس میری جان کوئی نہیں ہے یہاں کوئی تمہارے بابا کو کچھ نہیں کرے گا آنکھیں کھولو ریدم۔۔۔۔۔۔دیکھو میں تمہارے پاس ہوں ۔
وہ۔۔مار دے گا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔۔اس کے سینے میں خود کو چھپاتے ہوئے وہ چلا رہی تھی جب کہ وہ اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
کوئی تمہیں کچھ نہیں کر سکتا میری جان میں تمہارے ساتھ ہوں اس کے بخار سے تپتے وجود کو خود سے لگاتے ہوئے وہ پریشانی سے کہہ رہا تھا وہ کس طرح سے اس ڈر کم کرےکس طرح اسے اپنے ہونے کا احساس دلائے ۔
اس حملے کے بعد وہ بری طرح سے ڈر گئی تھی۔وہ تحفظ چاہتی تھی ۔وہ کسی کا سہارا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کوئی ہو جو اس کے لیے اس کی ڈھال بنے ۔لیکن شاید وہ اس پر یقین نہیں کر پا رہی تھی ۔
وہ اسے خود سے دور نہیں جانے دینا چاہتی تھی شاید وہ جانتی تھی ۔کہ اس کے قریب وہ محفوظ ہے ۔
سب کچھ بھول جاؤ سب کچھ اپنے دماغ سے نکال دو ریدم کوئی نہیں ہے یہاں صرف میں ہوں دیکھو مجھے میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں چھو بھی نہیں سکتا ۔
اس کے گالوں پر اپنے لبوں کو حرکت دیتے ہوئےوہ اسے اپنے قریب کرتا جا رہا تھا ۔اس وقت ان سوچوں سے اس ڈر سے نکالنے کے لئے وہ اسے اپنے ہونے کا احساس دلارہا تھا اس کا ارادہ اس کی مرضی کے بنا اس کے ساتھ کسی طرح کا تعلق قائم کرنے کا ہرگز نہیں تھا لیکن بہکتا جا رہا تھا ۔
پناہوں میں سچی چاہت ہو اور پھر اس پر جائز تعلق تو خود کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے اور اس وقت شاید شائزم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ اس کا ساتھ چاہتی تھی ۔
اور شائزم اس کی قربت میں اپنا آپ بھلائے جا رہا تھا ۔وہ اتنے کمزور اعصاب کا مالک تو ہرگز نہ تھا کہ وہ کسی لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف چھوتا اس کی گردن پر گردش کرتے اپنے بے باک لبوں کو لگام دیتا وہ اس کے قریب سے اٹھنے لگا تھا جب اسے اپنے گرد اس کی باہوں کا حصار محسوس ہوا ۔
وہ اسے اپنے پاس رکھنے کے لئے ہر قیمت پر تیار تھی ۔وہ بس اس کا ساتھ چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسےخود سے دور کر دے ۔
اور شائزم بھی اسے خود سے دور نہیں کر پایا تھا اس کے نازک سے وجود کو خود میں قید کرتے ہوئے وہ اس پر جھکتا چلا گیا ۔
وہ جو شروعات میں اس بات کو لے کر پریشان تھا کہ وہ پہلے ہی اسےاور اس کے کردار کو کوستی ہے تو اس سب کے بعد کیا وہ آسانی سے اس کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کر سکے گی
لیکن اب جو بھی تھا وہ بہت آگے بڑھ چکا تھا اور یہاں سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس کے نازک سے وجود کو خود میں قید کرتے ہوئے وہ اپنی تمام تر سچے جذبات کے ساتھ اس پر اپنی شدتیں لٹاتا چلا گیا ۔
ریدم نے کوئی مزاحمت نہ کی تھی ۔نہ ہی اس نے اسےروکا تھا بلکہ اس کے محبت سے اٹھائیں گے قدم کو اس نے خاموشی سے قبول کر لیا تھا ۔
اور ریدم کی اس قبولیت نے اسے مزید اس کے پاس آنے پر مجبور کر دیا تھا وہ اپنی تمام تر حدود کراس کرتا اسے اپنا بنا رہا تھا ۔اس کے دل میں نہ تو اب کل کا کوئی ڈر تھا اور نہ ہی کوئی ریدم کی سوچ کا کوئی دکھ وہ بس یہ لمحہ جینا چاہتا تھا اپنی محبت کو پا لینا چاہتا تھا اور اس نے اسے پا لیا تھا
°°°°°°
