Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 22)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 22)
Junoniyat By Areej Shah
شائز تم نے نوٹ کیا ہے وہ لڑکی ہر وقت ہمہیں گھورتی رہتی ہے۔اس لڑکی کو ہم سے مسئلہ کیا ہے سمجھ نہیں آتا مجھے ۔
مجھے اس لڑکی پر بہت زیادہ غصہ آتا ہے وہ اس کے بازو میں باہیں ڈالے باہر آئی جب نظر ریدم ہر پڑی جو ان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
بے چاری جیلس ہے ۔اس کو اتنا کچھ جو دیکھنا پڑ رہا ہے وہ بڑبڑایا ۔
کیا مطلب ۔۔۔! ماریہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
مطلب اسے دیکھانے کےلیے ہی تو کر رہا ہوں میں یہ سب تو وہ دیکھے گی ہی نہ ۔وہ پرسکون سا بولا
جبکہ وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
کیا مطلب میں سمجھی نہیں تمہاری بات کو ۔۔۔۔!وہ اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ دلکشی سے مسکرا دیا تھا۔
آو ہو ۔۔۔ماریہ تم تو ضرورت سے زیادہ ہی ناسمجھ بننے کا ڈرامہ کر رہی ہو ۔میں نے تو تم سے نہیں پوچھا کہ وہ احسن تمہیں کیوں دیکھتا ہے یا پھر اس کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے
یا پھر وہ ذکی وہ کیوں ہر وقت تمہیں دیکھتا ہے۔وہ بات ختم کر رہا تھا۔
ڈارلنگ تم پوچھ سکتے ہو مجھ سے کچھ بھی وہ احسن میرا بوائے فرینڈ تھا ۔لیکن تمہارے لیے میں نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ وہ میرے اسیٹنڈ کا نہیں تھا ۔
اور وہ زکی ۔ہاہاہا ۔وہ میرے پیارمیں پاگل تھا بٹ ایم ناٹ انٹرسٹڈ ۔میں اسے چھوڑ چکی ہوں اور اب میں صرف تم سے پیار کرتی ہوں صرف تم ہی میرے بوائے فرینڈ ہو ۔وہ مغرورنہ انداز میں بولی
ویٹ۔۔۔ویٹ۔۔یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم ماریہ۔میں کب سے تمہارا بوائے فرینڈ ہو گیا ۔۔۔۔؟میں تو صرف اپنا ٹائم پاس کر رہا ہوں۔ ۔
میں نے تم سے کب کہا کہ میں تمہیں اپنی گرل فرینڈ بنا رہا ہوں۔ وہ لڑکی ریدم میری منگیتر ہے اور اسے جیلس کرنے کےلیے میں تم سے باتیں کرتا ہوں ۔
تمہارے ساتھ باہر جاتا ہوں۔تمہارے ساتھ ٹائم گزارتا ہوں ۔تم میرے لیے صرف میری دوست ہو اور کچھ بھی نہیں ۔میں نے تمہیں اس نگاہ سے کبھی بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی شاید کبھی دیکھوں گا۔
تم میرے اسٹینڈ کی نہیں ہوماریہ ۔تمہارے ساتھ وقت گزارنے کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھی ۔وہ لمحے میں اسے آسمان سے زمین پر لے آیا تھا ۔جبکہ وہ صرف اسے سن رہی تھی۔
یہ تم کیا کہہ رہےہو شائز۔۔۔! تم ہی تو کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ گزرا وقت تمہارے لیے انمول ہے ۔تم نے مجھے اتنی شاپنگ کروائی اور وہ گفٹ۔۔۔۔؟
وہ سب تو میں اپنے دوستوں کو دیتا رہتا ہوں یار ۔وہ تو ریدم کا صدقہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہوا کہ میں تم سے ۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔ماریہ تم اتنی بےوقوف لگتی تو نہیں ہو یار۔
نو ماریہ میں صرف اپنی منگیتر کو جیلس کرنےکےلیے کر رہا تھا۔میں تم سے پیار نہیں کرتا ۔ تم میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ تم سے پیار کیا جائے
بوائے فرینڈز تم کپڑوں کی طرح بدلتی ہو اور میں تم سے ۔۔۔اب یہ شکل ٹھیک کرو اپنی ماریہ اگر یہاں کسی کو یہ پتا چلا کہ ایک لڑکے نے تمہیں ڈیچ کیا ہے تو لوگ مزاق اڑئیں گے تمہارا
ریلکس ماریہ ۔۔ہم جو سب کے ساتھ کرتے وہ کبھی کبھی ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے سو ریلکس ۔خیر میری منگیتر دیکھ رہی ہے سو بائے وہ دلکشی سے مسکراتا ایک آنکھ دبا کر اس کے قریب سے اٹھ گیا
جبکہ وہ اسے دور جاتے ہوئے دیکھتی رہی
°°°°°
اسے دلہن بنا دیا گیا تھا ۔خود سے لاپروہ سی دیشم آج دلہن کے روپ میں قیامت ڈھا رہی تھی
اس کے دونوں ہاتھ مہندی سے مہک رہے تھے۔حسین تو وہ ویسے بھی بہت تھی لیکن آج تو وہ آسمان سے اتری کوئی پری لگ رہی تھی۔
خوبصورتی کا دوسرا روپ تو آج دیشم کاظمی لگ رہی تھی ۔دیشم آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی ۔اپنے اس روپ سے تو وہ خود بھی بے خبر تھی۔
حرم اور مشال اس کے ساتھ تھی جبکہ سامیہ اور دیدم کی اپنی تیاریاں ختم نہیں ہو رہی تھی
مشال کل ہی یہاں پہنچی تھی ۔اور اس کے نکاح پر بہت زیادہ خوش بھی ہو رہی تھی منشانہیں آسکی تھی جس کا اسے دکھ تھا وہ اپنی بہن کے بہت قریب رہی تھی بچپن سے ہی
اور اب جب اس کی شادی ہو رہی تھی تب بابا بہت زیادہ پریشان تھی انہیں لگا تھا کہ ان کے بڑے بھائی ان کا ساتھ نبھائیں گے اور خداش کے لئے منشا کا رشتہ مانگیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ھوا اور منشا اس گھر سے رخصت ہو گئی
اور اب تک وہ واپس اس گھر میں آئی ہی نہیں تھی بےشک وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش تھی اور اب ماں کے رتبے پر فائز ہونے والی تھی
لیکن پھر بھی اگر اس کی شادی خداش کے ساتھ ہو جاتی تو آج وہ اسی کے گھر میں رہتی ہمیشہ اس کے پاس لیکن آج وہ اس کے نکاح میں اس سے دور تھی
جس کا اسے بہت افسوس تھا اگر تایا جان اپنی بیٹی کو یہاں بلا سکتے تھے تو پھر تھوڑی بہت کوشش کر کے منشا کو بھی بلا لیتے وہ اس وقت بہت تنہا محسوس کر رہی تھی اپنی ہر بات وہ اپنی بہن سے شیئر کرتی تھی
نہ جانے کیوں آج اس کا ذہن عجیب عجیب طرح کی باتیں سوچ رہا تھا اپنی آپ کو کچھ بھی الٹا سیدھا سوچنے سے روکنے کے باوجود بھی وہ عجیب سی کشمکش کا شکار تھی ۔
ہر کوئی اس کی تعریفیں کر رہا تھا جب کہ وہ خاموش بیٹھی تھی کچھ پیر کو ہونے والے پیپر کی ٹیشن تھی
اور کچھ ٹینشن پیرز سے بعد میں ہونے والی شادی کی بھی اور سب سے زیادہ ٹینشن آج کے دن کی تھی جب وہ خود کو کسی کی ملکیت میں دینے جا رہی تھی
اب تک اس نے اپنے نکاح سے جڑی کسی سوچ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکی تھی کہ اس کی آنے والی زندگی کیسی ہوگی
کیسا ہوگا اس کا شوہر اس کا مزاج کیسا ہوگا وہ دکھتا کیسا ہوگا ایسے بہت سارے سوال اس کے ذہن میں آ رہے تھے
بار بار کہا جا رہا تھا کہ اس کا شروع ہونے والا ہے لیکن دلہا آیا بھی تھا یا نہیں اس بات کا کوئی ذکر بھی نہیں کر رہا تھا جو اس کی پریشانی کی وجہ بن رہا تھا
°°°°°°
کیا ہوا انکل سب ٹھیک تو ہے نا گاڑی کیوں رک گئی پلیز جلدی چلیں ہمہیں جلدی پہنچانا ہے نکاح شروع ہونے والا ہے ۔
نازمین اور میشا حرم کے فورس کرنے پر اس کے بھائی کے نکاح میں آنے کے لیے مان گئی تھی ۔
لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے حرم کو اپنے ڈرائیور کو بھیجنے سے منع کردیا ۔وہ دونوں ساتھ آنے والی تھی تو پریشانی نہ تھی لیکن اب جو گاڑی رک گئی تھی یہ بہت بڑی پریشانی تھی۔
گاڑی خراب ہو گئی ہے بیٹا اسٹارٹ نہیں ہو رہی انکل نے پریشانی سے بتایا
توقنکل اب کیا ہوگا ہم نکاح میں کیسے پہنچیں گے ۔۔۔۔؟
حرم کتنی بار فون کر چکی ہے ۔ آپ کچھ کریں نہ ہمہیں کیسے بھی نکاح والے گھر پہنچا دیجئے
واپسی پر ہم اپنا انتظام کرلیں گے لیکن ہمیں پہنچا دیجئے وہ پریشانی سے انہیں دیکھ کر کہنے لگی تھی
واپسی پر وہ حرم کی گاڑی میں گھر تک آ جانے والے تھے اور ویسے بھی حرم نے کہا تھا وہ خود خداش کے ساتھ ان کے گھر تک جائے گی اور واپسی کی کوئی پریشانی بھی نہیں تھی پریشانی تو جانے کی تھی
نازمین کا تعلق ایک بہت ہی چھوٹے سے گھرانے سے تھا اسے بہت مشکل سے اجازت ملی تھی جب کہ میشا بھی کوئی بہت ہائی کلاس نہیں تھی
لیکن اس کے بابا نے اسے ٹیکسی بک کروا کر دی تھی اور یہ ڈرائیور انکل انہیں حرم کے گھر تک چھوڑنے والے تھے کہ اچانک گاڑی خراب ہوگئی
بیٹے اس کا کوئی حل نہیں ہے میرے خیال میں تم لوگوں کے لیے دوسری ٹیکسی منگوانی پڑے گی تب ہی تم لوگ وہاں پہنچ پاو گی ورنہ بہت مشکل ہو جائے گی مجھے لگتا ہے کوئی مسئلہ ہوا ہے گاڑی اسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی ہے
وہ انہیں بتا کر کسی اور ٹیکسی والے کو فون کر رہے تھے جب اچانک ان کی گاڑی کے پاس گاڑی آرکی میشا نے تو فورا ہی پہچان لیا تھا
سر یشام دیکھو نکلو اس نے نازمین کو کہا تو اپنے ٹیچر کو دیکھ وہ بھی فوراً گاڑی سے باہر نکلی تھی
نارمین میشہ تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو خیریت تو ہے نا وہ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو میشا نے فوراً اپنا مسئلہ اسے بیان کر دیا تھا
او یہ تو بہت غلط ہوا جناب آپ کسی کو فون مت کریں آپ اپنی گاڑی ٹھیک کروائی ان دونوں کو میں لے جاؤں گا یہ میری اسٹوڈنٹ ہیں
مجھے بہت بہتر طریقے سے جانتی ہیں اس کے والد کو فون کر لیں وہ بھی مجھے جانتے ہیں اس نے بہت ہی مؤدبانہ انداز میں ڈرائیور سے کہا تھا
جی جی انکل یہ ہمارے ٹیچر ہیں اور میرے خیال میں یہ بھی وہی جا رہے ہیں ہم ان کے ساتھ چلے جائیں گے
میشا کو تو جیسے پر لگ گئے تھے اس نے فورا ہی یشام کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا
میشہ کے والد سے بات کرنے کے بعد وہ ان دونوں کو لے کر وہاں سے نکل چکا تھا جب کہ وہ دونوں اب بالکل بے فکر ہو چکی تھی
°°°°°
کیا ہوا حرم تم یہاں باہر کیا کر رہی ہو بیٹا ۔راحت صاحب مہمانوں کو ریسو کر رہے تھے جب اسے پریشان سا باہر کسی کا منتظر دیکھا۔
بابا میری فرینڈز آنےوالی تھی لیکن ابھی تک نہیں آئی مجھے ان کی پریشانی ہورہی ہے ان کا فون بھی نہیں لگ رہا اس لیے ٹیشن ہو رہی ہے وہ انہیں دیکھتے ہوئے بتانے لگی۔
جب اچانک گاڑی آکر رکی ۔ حرم نے گاڑی سے باہر نکلتی نازمین کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔
وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بھری تھی انہیں اپنے گھرپر میں دیکھ اسے بہت خوشی ہو رہی تھی
تھینک یو سو مچ تم دونوں یہاں آئی مجھے اب تک یقین نہیں آرہا کہ میری فرینڈز میرے گھر آئی ہیں آو میں تم دونوں کو سب سے ملواتی ہوں
وہ خوشی سے ان دونوں سے کہنے لگی جب کہ میشہ پیچھے اشارہ کر رہی تھی گاڑی کے اندر ۔
اس نے میشا کے اشارے پر دیکھا تو اپنے سامنے یشام کو دیکھ خود بھی حیران رہ گئی تھی
جب کہ وہ تو جیسے بس اسی کو ہی دیکھے جا رہا تھا اس کی نگاہیں اس کے حسین سراپےسے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
اسے دیکھتے ہی وہ بھی گاڑی سے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا وہ اس کے پاس آتے ہوئے اسے سلام کرنے لگی
جب کہ وہ سر کے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیتا اس کے اس حسین روپ میں کھویا ہوا تھا جس میں وہ اسے پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔
سراندر آئیں میرے بھائی کا نکاح ہے ۔آپ یہاں آئے مجھے بہت خوشی ہوئی پلیز آپ اندر بھی چلیں نکاح کی رسم کو جوائن کرے وہ اسے بھی اندر انوائٹ کرنے لگی تھی ۔
نہیں حرم تھینک یو سو مچ میں اندر نہیں آ سکتا میں ان دونوں کو چھوڑنے کے لئے آیا تھا اصل میں میں تو اپنے فلیٹ جا رہا تھا ان دونوں کو مسئلے میں دیکھا تو سوچا ان دونوں کی مدد کر دیتا ہوں ۔
وہ مسکرا کر اسے بتا رہا تھا جب کہ وہ اپنے بابا کو اس کے پاس آنے کا اشارہ کر رہی تھی
راحت صاحب جو اپنے مہمانوں کو ریسیو کر رہے تھے اس کے اشارے پر فورا اس کی طرف آ گئے تھے ۔
بابا یہ میرے سر ہیں سر یہ میرے بابا ہیں حرم ان دونوں کو متعارف کرواتی خود مشال کے اشارے پر ان دونوں کو لے کر اندر بھاگ گئی تھی جبکہ راحت صاحب بس اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے جہاں ایک گہری مسکراہٹ تھی
السلام علیکم کاظمی صاحب کیسے ہیں آپ آپ سے مل کر خوشی ہوئی چہرے پر مسکراہٹ لئے ان سے کہہ رہا تھا
پرسرار مسکراہٹ کے ساتھ یہ شاطر نگاہیں انہیں لمحے میں کانپنے پر مجبور کر گئی تھی
اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے تیزی سے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھا دیے تھے اس کے سلام کا جواب دیے بنا جبکہ وہ دور تک اپنی پرسرار مسکراہٹ کے ساتھ انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا
°°°°°°
کیا ہوا بھائی صاحب آپ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔۔؟ ثاقب صاحب جو ان کو بلانے کےلیے آئے تھے ان سے پوچھنے لگے۔
احمر۔۔۔۔۔۔ثاقب وہ وہ۔۔۔و۔۔۔احمر۔وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرنے لگے
احمر ہاں بھائی صاحب احمر اور ساغر کی یاد تو مجھے بھی بہت آ رہی ہے کاش آج وہ دونوں اس خوشی میں ہمارے ساتھ ہوتے ۔ثاقب صاحب کچھ افسرادہ سے ہوگئے تھے
جبکہ راحت صاحب بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے ۔لیکن اب وہاں کوئی نہیں کھڑا تھا
کیا ہوا بھائی صاحب مجھے آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی
آپ ٹھیک تو ہیں نا وہ ان کے چہرے پر پسینے کی بوندیں دیکھ کر کہنے لگے جبکہ وہ باربار پیچھے دیکھ کر اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھانے لگے
ارے انہیں کیا ہو گیا اچانک سے بھائی صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ثاقب صاحب پریشانی سے بڑبڑاتے ہوئے خود ہی باہر آ کر مہمانوں کو ریسو کرنے لگے تھے
جب انہوں نے ایک گاڑی جاتے ہوئے دیکھی یہ گاڑی کس کی تھی یہ تو وہ نہیں جانتے تھے لیکن گاڑی کے پیچھے بہت بڑے بڑے الفاظ میں احمر لکھا ہوا تھا
اس نام کو پڑھتے ہوئے وہ مسکرا دیئے اس نام کے ساتھ ان کی بہت ساری حسین یادیں جڑی ہوئی تھی
۔ان کا بچپن جوڑا ہوا تھا ۔لیکن کچھ نام زندگی بھر کے لیے بچھڑ جایا کرتے ہیں شاید راحت صاحب کی حالت میں اس نام کو دیکھ کر ہی ایسی ہوئی تھی۔
بہت عرصے کے بعد انہوں نے یہ نام پڑھا تھا ورنہ اس نام کو کھوئے ہوئے بھی زمانے گزر چکے تھے
شاید اسی لیے وہ آج خود سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو یاد کر رہے تھے
°°°°°°
اسے باہر لایا گیا تھا ۔تھوڑی ہی دیر میں وہ کسی اور کی ہونے والی تھی ۔سامیہ اور دیدم اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔جبکہ حرم بھی اپنی فرینڈز کے ساتھ آ گئی تھی
واو تمہاری کزن کتنی پیاری ہے حرم ۔ماشاءاللہ یہ دلہن بنے کتنی خوبصورت لگ رہی ہے میں نے آج تک اتنی پیاری دلہن نہیں دیکھی نازمین نے اس کی تعریف کی تو جھنیپ گئی
ارے صرف کزن ہی نہیں ہونے والی بھابھی بھی کہو ۔میشا نے لقمہ دیا تو دیشم کو جیسے جھٹکا سا لگا۔جبکہ حرم خوشی سے چہک کی تھی
لڑکیوں میری ہونے والی بھابھی کو تنگ کرنا سختی سے منع ہے سائیڈ ہو جاو ۔ مولوی صاحب آ رہے ہیں اندر مشال نے ان کے پاس آتے ہوئے بتایا ۔
وہ حیرانگی سے انہیں سن رہی تھی اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا اس کا نکاح کس کے ساتھ ہونے والا تھا
یہ سمجھنا اس کے لئے مشکل نہیں تھا لیکن وہ کچھ بھی سمجھنانہیں چاہتی تھی اس کے لئے ان باتوں پر یقین کرنا ممکن نہ تھا کہ خداش کاظمی کے ساتھ اس کا نکاح ہو رہا تھا لیکن یہ کیسے ممکن تھا
وہ خداش کاظمی جو اس کی بہن سے نکاح کرنے سے صاف انکار کر چکا تھا وہ اس سے نکاح کرنے کے لیے راضی کیسے ہوا تھا کیسے وہ اس سے شادی کر رہا تھا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا
وہ اس سے نکاح نہیں کر سکتی تھی وہ کیسے۔۔۔۔؟ کیسےاس شخص کے نکاح میں جاسکتی تھی جس سے وہ نفرت کرتی ہے۔۔۔؟ہاں وہ نفرت کرتی تھی اس سے
اس کی نفرت کی کوئی انتہا نہ تھی تو کیسے وہ اس شخص کو زندگی بھر کے لیے اپنے ساتھ جوڑ لیتی کیسے برداشت کرتی اس شخص کا نام ساری زندگی اپنے نام کے ساتھ
وہ نہیں برداشت کر سکتی تھی ایک ایسے شخص کی حکومت خود پر جس سے وہ ساری زندگی نفرت کرتی آئی تھی
وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب اچانک شور اٹھا مولوی صاحب کمرے میں تشریف لا رہے تھے اور ان کے ساتھ ہی مرد حضرات بھی ۔
ساری لڑکیوں کو باہر جانے کے لیے کہہ دیا گیا تھا جب کہ بابا اس کے قریب آ کر بیٹھ گئے
اس نے اپنے ساتھ کچھ ہوتا محسوس نہ کیا اسے کچھ بھی سمجھ نہ آیا تھا بابا کا ہاتھ اس کے سر پر تھا ۔
وہ بہت خوش تھے ان کی آنکھوں میں مان تھا ان کی بیٹی ان کا مان بڑھا رہی تھی وہ اس کے پاس بیٹھے اسے سائن کرنے کے لئے کہہ رہے تھے
جبکہ مولوی صاحب کے سوال پر وہ خالی خالی نگاہوں سے اپنے اوپرپڑے اس جالی کے دوپٹے کو دیکھ رہی تھی
جو اس شخص کے نام کا تھا جس کے ساتھ وہ اس طرح کا تعلق جوڑنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
مولوی صاحب اس سے سوال کر رہے تھے جب کہ بابا اس کے پاس بیٹھے اسے ہاں کہنے کے لئے کہہ رہے تھے
وہ انکار کرنا چاہتی تھی وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی وہ اس تعلق کے لیے تیار نہیں تھی
لیکن اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا وہ اپنے باپ کا مان نہیں توڑ سکتی تھی ۔
اسے اپنے باپ کا مان رکھنا تھا وہ بیٹیوں کا باپ تھا اور بیٹیوں کے باپ کو شرمندہ نہیں کیا جاتا ۔۔بیٹیوں کا باپ ہر سر اٹھائے اچھالگتا ہے شرم سے سر جھکائے نہیں ۔
قبول ہے ۔۔۔۔اپنے خواب مار کر اپنا آپ مار کر اپنا غرور مار کر وہ اس شخص کا ناپسندیدہ ساتھ قبول کر چکی تھی ۔
ہاں وہ دیشم ثاقب کاظمی سے دیشم خداش کاظمی بن چکی تھی۔
سب لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے تھے ۔نکاح کی رسم مکمل ہوچکی تھی ۔باہر مبارکباد کا شور مچا ہوا تھا جبکہ اندر اس کی دنیا تباہ ہو چکی تھی۔۔۔
°°°°°°
