65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 25)

Junoniyat By Areej Shah

اس کا دھیان پڑھائی سے پوری طرح سے غافل ہو چکا تھا وہ تو اب تک خداش کاظمی کی قربت کا ہی سوچ رہی تھی اس کا چہرہ لال گلال ہو رہا تھا ۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔وہ جب جب پڑھائی کے لئے بیٹھتی خداش کاظمی اس کے ذہن پر سوار ہو جاتا ۔

اس نے اتنا اس شخص کے بارے میں پوری زندگی نہ سوچا ہوگا جتنا اس وقت اس کے جانے کے بعد سوچ رہی تھی ۔

کیوں کیا تھا اس نے اس سے نکاح کیوں وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کر چکا تھا۔۔۔

اگر اس کا مقصد اسے نیچا دکھانا یا اس پر یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ وہ اس گھر میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے

تو پھر اس نے اس سے شادی کرنے کے لیے حامی کیوں بھری تھی جب کہ وہ اس کی بہن سے شادی کرنے سے انکار کر چکا تھا حالانکہ منشا اس سے کہیں درجے زیادہ خوبصورت بھی تھی ۔

اب وہ اس بات کو تو قبول کرنے سے رہی تھی کہ وہ اس کی محبت میں پاگل ہو کر ایسا کچھ کر رہا تھا

وہ محبت کے چکروں میں پڑنے والا انسان ہرگز نہیں تھا وہ اسے بچپن سے جانتی تھی اس کے کسی انداز سے اس نے کبھی بھی ایسا کچھ محسوس نہیں کیا تھا۔

تو پھر کیا وجہ ہوسکتی تھی ان سب چیزوں کی وہ کیوں کر رہا تھا ایسا ۔۔۔؟

کہیں داداجان نے اپنے خاندان کی عزت بچانے کے لئے تو ایسا نہیں کیا لیکن دادا جان اپنے خاندان کی عزت بچانے کے لئے بھی اپنے پوتے پر رسک نہیں لے سکتے تھے ۔

انہیں اپنے پوتے سے بہت محبت تھی ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے پوتے کی زندگی اس کے ساتھ برباد کرتے

اور نہ ہی ان کا پوتا اتنا فرمانبردار اور پپو بچہ تھا کہ انکے ایک بار کہنے پر ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جو پورے خاندان میں باغی مشہور تھی ۔

کچھ تو تھا جو اس سے چھپا ہوا تھا خیر اب کون سا پردا باقی تھا نکاح ہوچکا تھا اور جلد ہی وہ رخصت ہو کر ہمیشہ کے لئے اس کے کمرے میں جانے والی تھی ۔

اور اس کے بعد شاید وہ ساری زندگی کے لیے اس کی غلام بن جاتی اسے تو ابھی سے ہی اس کی ملازمہ بنا دیا گیا تھا کیسے حکم جاری ہو رہے تھے ۔

صبح صبح اس کیلئے ناشتہ نکال کر اس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنا اور پھر اس کے ساتھ یونیورسٹی تک کا سفر کرنا ۔

اس کے لیے آسان تو ہرگز نہ تھا شکر تھا کہ آج کا پیپر اچھا ہوگیا تھا اور وہ باہر بیٹھی اس کے انتظار میں دوسرے پیپر کی تیاری کر رہی تھی ۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ جلدی نہیں آنے والا اس کی واپسی تقریبا ڈیڑھ بجے کے قریب ہونے والی تھی جب حرم کی چھٹی کا وقت ہوجاتا اور ابھی تو اس کو لمبا انتظار کرنا تھا ۔

بہتر تھا کہ وہاں بیٹھ پیپر کی تیاری کر لیتی ۔

باجی آپ کو لینے کے لئے باہر گاڑی آ چکی ہے پیون نے آ کر اسے بتایا اس نے حیرانگی سےوقت کی جانب دیکھا

گیارہ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے اتنا جلدی کون آ گیا تھا اسے لینے کے لیے حرم کی چھٹی کو تو ابھی دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت رہ گیا تھا ۔

وہ جلدی سے اپنا نقاب سیٹ کرتی اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکلی تھی جہاں گاڑی کے ساتھ خداش کاظمی آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کےلیے گلاسس پہنے کھڑا تھا

وہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا اس کی تعریف میں یقیناً الفاظ کم پڑ جاتے ہوں گے ۔نہ جانے وہ کیوں اسے اتنے غور سے دیکھ رہی تھی حالانکہ اس سے پہلے اس نے کبھی اسے ٹھیک سے بھی نہیں دیکھا تھا

°°°°°

یشام کلاس میں آیا تو ڈائریکٹ ہی اس نے اپنا ٹیسٹ شروع کر دیا تھا

اس نے حرم کے آنے یا نہ آنے کی وجہ نہیں پوچھی تھی

صاف لگ رہا تھا کہ وہ اسے نظر انداز کر رہا ہے حرم نے تو شکر منایا کہ اس کی غیر حاضری کی وجہ نہیں پوچھی گئی ویسے تو اس نے درخواست بھیج دی تھی لیکن پھر بھی اسے لگا تھا کہ سر وجہ ضرور جاننے کی کوشش کریں گے۔

لیکن یہ بھی اس کے لیے اچھا ہی تھا وہ جلدی سے ٹیسٹ لکھنے لگی تھی ٹیسٹ کی تیاری تو وہ خوب کر کے آئی تھی کہ اس کی غیر حاضری پر کوئی بات نہ کی جا سکے۔

اور جیسے ہی ٹیسٹ ختم ہوا سر سب کے ٹیسٹ لے کر کلاس سے باہر چلے گئے اور اس کے بعد بلکل نارمل دن گزرنے لگا تھا

سب سے زیادہ پریشانی اسے سر یشام کی کلاس میں ہی ہوتی تھی اسی لئے وہ بالکل ریلیکس ہو کر اپنے دن کو انجوائے کرنے لگی تھی۔

بہت ساری تصویروں کا البم وہ اپنے ساتھ لائی تھی جس میں وہ اپنے بھائی کے نکاح کی تصویریں پوری کلاس کو دکھا رہی تھی۔

سب ہی اس کی تعریف کر رہے تھے وہ لگ ہی بہت پیاری رہی تھی کوئی اس کی تعریف بھلا کیسے نہ کرتا۔

اور میشہ اور نازمین کی آمد نے تو اس محفل کو رونق لگا دی تھی وہ بہت خوش تھی ان دونوں کے آنے پر اور اب ان کو شادی پر بھی انوائٹ کر چکی تھی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اس کا ڈرائیور ہی انہیں لینے کے لیے آئے گا اور چھوڑنے بھی جائے گا

اور اس بار ان دونوں نے ہی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا کیونکہ پہلے ہی وہ کافی مصیبت اٹھا چکی تھی ایسے میں اس آفر کو رد کرنا سراسر بیوقوفی تھی۔۔۔۔۔۔

°°°°°

کیا ہوا تم کافی پریشان لگ رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں یشام تم کچھ دنوں سے ٹھیک سے کچھ بھی کھا پی نہیں رہے ہر وقت اکیلے بیٹھے رہتے ہو۔

پہلے مجھے یہ لگا کہ تم نے کچھ دن سے حرم کو نہیں دیکھا اس لیے تم اسے مس کر رہے ہو ابھی تمہاری ایسی حالت ہے

لیکن آج تو تم نے حرم کو دیکھ لیا نا اس سے بات بھی کی ہو گی تو پھر تم اس طرح سے اداس کیوں ہو مجھے تو اپنی پریشانی بتاؤ

صیام اس کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگا تھا وہ پچھلے کچھ دنوں سے بہت زیادہ پریشان نظر آرہا تھا اور اس کی پریشانی صیام کو کبھی بھی منظور نہ تھی

وہ اس کا ایک مخلص دوست تھا اور مخلص دوست ہونے کے ناطے اس کی ہر پریشانی کو حل کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا

میری ایک بات کان کھول کر سن لو صیام آج کے بعد میرا اس لڑکی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے نہ تو میں اس لڑکی کو دیکھنے کے لئے مر رہا تھا اور نہ ہی اس سے بات کرنے کے لیے بے چین تھا

وہ صرف میری ایک سٹوڈنٹ ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں اس حوالے سے مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا

اور میں تم سے بھی یہی امید کرتا ہوں کہ اب تم مزید اس حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کرو گے

وہ سخت لہجے میں گویا ہوا تو صیام پریشانی سے دیکھنے لگا

اسے ہوا کیا تھا کل تک وہ اس لڑکی کا اتنا دیوانہ تھا کہ اس کو ایک نظر نہ دیکھنے پر پریشان ہو جاتا تھا

اور اب وہ کہہ رہا تھا کہ اس لڑکی سے اس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے ایسا کیسے ممکن تھا وہ جس چیز کو چاہتا تھا اسے حاصل کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کرنے والوں میں سے تھا

اور اب وہ اپنی محبت کے لیے اس حد تک لاپرواہ ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا کچھ تو گڑبڑ تھی

میں نہیں جانتا تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے یشام لیکن جو بات تم اب میرے سامنے کر رہے ہو وہ سب جھوٹ ہے

تم اس لڑکی سے محبت کرتے ہو اس لڑکی کے نام پر تمہارا دل دھڑکنے لگا ہے میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا کہ تم اس سے محبت نہیں کرتے

پلیز مجھے بتاؤ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے کونسی ٹینشن ہے تمہیں وہ اب بات ختم کرنے کو تیار نہ تھا یشام نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بولا تو جیسے صیام کے لئے کچھ بولنے کو بچا ہی نہیں

وہ دشمن ہے میری ۔میرے دشمن کی بیٹی ہے میں نہیں جانتا تھا اس کا تعلق اس خاندان سے ہوگا وہ لڑکی راحت کاظمی کی بیٹی ہے

وہ لڑکی میرے باپ کے قاتل کی بیٹی ہے ۔صیام مجھ سے میرا بچپن چھین کر میرا نام چھین کر وہ شخص اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہے۔

اس کے بیٹے کا نکاح تھا اور اس نکاح میں وہ بے انتہا خوش تھا مجھ سے میرا باپ چھین کر مجھ سے میری خوشیاں چھین کر وہ شخص اپنے بیٹے کی شادی کے شادیانے بجا رہا ہے ۔

اگر وہ راحت کاظمی کی بیٹی ہے تو کیا ہوا تو تو چاہتا ہے نا اسے صیام پریشان سا کہنے لگا۔۔

تجھے کیا لگتا ہے میں اتنا بے غیرت ہوں کہ اپنے باپ کے قاتل کی بیٹی سے محبت کروں گا ۔میں کسی سے محبت نہیں کرتا نہیں ہے مجھے اس لڑکی سے محبت۔۔۔۔

نفرت ہے مجھے اس سے اس کے خاندان سے اس کے خاندان کے نام سے میں مٹا دوں گا اس لڑکی کا نقش اپنے دل سے اور برباد کر دوں گا اس خاندان کو

اب میں وہ کروں گا جو کرنے کے لئے میں پاکستان آیا تھا اب میری نفرت کا انتقام شروع ہوگا اور اگر میرے انتقام میں وہ لڑکی آئی تو میں کبھی نہیں سوچوں گا کہ وہ لڑکی میرے لئے کیا ہے وہ صرف میرے دشمن کی بیٹی ہے اور کچھ بھی نہیں۔

اس کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے وہ جنون کی انتہا پر تھا

اس کے اندر ایک آگ جل رہی تھی اور اس آگ میں وہ اپنی محبت کو بھی جلا دینا چاہتا تھا

اس سب میں حرم کا کیا قصور ہے یشام تم اس سے محبت کرتے ہو تم اسے نقصان پہنچانے کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہو وہ تمہاری محبت ہے ۔۔۔

وہ صرف اور صرف راحت کاظمی کی بیٹی ہے صیام شکیل اور آج کے بعد میرے سامنے اس محبت کا نام مت لینا جو میرے اندر مردہ ہو چکی ہے

تمہیں میرے اندر اگر حرم کے نام کا کچھ ملا نا تو صرف ایک مردہ محبت کی لاش ہوگی اور کچھ بھی نہیں ۔

مجھے نہیں ہے محبت اس سے نہیں کرتا میں اس سے محبت سمجھا تو وہ چلا اٹھا تھا جیسے اس کے سوالوں سے تنگ آ گیا ہو

تو کیا کرتا ہے تو اس سے ۔۔۔کیوں اسے دیکھنے کو بے چین رہتا ہے اس سے ملے بنا تجھے سکون نہیں ملتا آدھی رات کو اس سے ملنے کے لئے اس کے دیدار کی خاطر تڑپ کر رہ جاتا ہے اگر یہ محبت نہیں ہے تو کیا ہے

بول اگر تو اس سے محبت نہیں کرتا تو پھر کیا کرتا ہے ۔کیوں تڑپتا ہے تیرا دل اس کے لیے کیوں اس سے ملنے کے لیے بے قرار رہتا ہے اسے دیکھے بنا سانس تک اٹکنے لگتی ہے تیری اور تو کہتا ہے تیری محبت مر گئی نہیں یشام احمر تیری محبت نہیں مری۔ تیری محبت جنونیت کا روپ اختیار کر چکی ہے ۔

اور یہ جنونیت تجھے بھی جلا دے گی اور تیری محبت کو بھی ۔مجھے نہیں پتا کہ تو راحت کاظمی سے انتقام لے پائے گا یا نہیں لیکن اگر تجھے حرم نہ ملی تو یشام احمر بھی نہیں رہے گا ۔

وہ لڑکی تیری طلب نہیں ہے تیرا عشق ہے ۔وہ جنون ہے تیرا میں نے تجھے ہر روپ میں دیکھا ہے یشام احمر۔۔ لیکن جو روپ تو نے مجھے حرم کی طرف سے دکھایا ہے نا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے تجھ میں کچھ نہیں پایا

اگر وہ لڑکی تیری زندگی میں نہ رہی ناں تو، تو بھی نہیں رہے گا خود کو مت مار ۔میں تیرا ساتھ دوں گا حرم کو لے چل یہاں سے بھول جا سب کچھ ۔

میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں حرم تیرا ہر درد بانٹ لے گی جو دکھ جو تکلیف جو زخم تجھے راحت کاظمی نے دیے ہیں ان پر مرہم حرم کاظمی لگائے گی وہ تیرا سکون بنے گی وہ تجھے قرار دے گی۔

تو بتا دے اسے کہ تو اس سے پیار کرتا ہے اور لے چل یہاں سے

وہ میرے ساتھ نہیں چلے گی ۔۔۔۔ صیام پتہ نہیں کیا کیا بول رہا تھا جب اسے اپنے بالکل قریب سے اس کی آواز سنائی دی ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح جو سب کچھ لٹا کے بیٹھا تھا۔

کیوں نہیں چلے گی تو اسے بتا تو سہی ۔یشام مجھے یقین ہے تیرا ساتھ ضرور دے گی ۔

انتقام بدلہ ان سب چیزوں میں کچھ نہیں رکھا یہ صرف تجھے درد دے گا تکلیف دے گا ۔تیرے دکھوں کو زندہ کر دےگا

تو اپنی خوشی دیکھ تھوڑا مطلبی بن جا اور پھر دیکھنا تجھے زندگی کی ہر خوشی مل جائے گی محبت سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہوتا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں

اپنی محبت حاصل کر کے تو انتقام بھول جائے گا وہ یقین دلارہا تھا صیام نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی کی طرح کی مصیبت میں پھنسے یا پھر اپنے غصے اور انتقام کے آگ میں جل کر اپنا نقصان کر بیٹھے

وہ اس کے ساتھ یہاں آیا تھا صرف اسے کوئی غلط قدم اٹھانے سے بچانے کے لیے

اور اسے لگتا تھا شاید صیام وہ کام نہ کر سکے جو حرم کردے بس حرم کے دل میں اس کے لیے تھوڑی سی گنجائش پیدا کرنی تھی وہ جانتا تھا حرم بہت شفاف دل کی مالک ہے۔

وہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گی لیکن جو انکشاف آج اس پر ہوا تھا کہ حرم راحت کاظمی کی بیٹی ہے وہ اس کے لئے ناقابل یقین تھا

وہ خاموشی سے بیٹھا نہ جانے کون سے پہیلی حل کر رہا تھا صیام اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر اسے ایک بار پھر سے اس بدلے اور انتقام کی دنیا سے باہر نکالنے کی ایک اور کوشش کرنے

لگا

••••••

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں وہ یونیورسٹی سے باہر نکل کر اس سے پوچھنے لگی تھی جب کہ وہ اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتا خود بھی فرنٹ ڈور کھولنے لگا

پیچھے نہیں آگے بیٹھے ہو یار آج حرم نہیں ہمارے ساتھ اسے ابھی اپنے کالج سے فارغ ہونے میں تقریبا مزید دو گھنٹے لگے گیں۔

تب تک ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تھوڑا سا ٹائم سپینڈ کرنا چاہیے ویسے بھی میں فری ہوں

اپنا سارا کام نپٹا کر آیا ہوں تمہارے لئے تو ہمہیں ساتھ تھوڑا وقت گزارنا چاہیے جلدی سے آ جاؤ ۔وہ مسکرا بولا وہ یہاں آ کر خوش تھا یا ناٹک کررہا تھا وہ سمجھ نہ سکی۔

نہیں مجھے کہیں نہیں جانا آپ مجھے گھر لے کر چلے وہ تھوڑا گھبرا کر بولی

میں نے تم سے پوچھا کہ تمہیں آنا ہے یا نہیں اور جب میں کہہ چکا ہوں آگے بیٹھو تو پھر پیچھے کیوں بیٹھ رہی ہو ۔

میں تمہارا ڈرائیور تھوڑی ہوں وہ ذرا آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا تو اپنا سامان پیچھے رکھتی وہ ڈور بند کرتے ہوئے فرنٹ ڈور کی طرف آگئی۔

نہیں آپ میرے ڈرائیور کیسے ہو سکتے ہیں بلکہ ملازمہ تو میں ہوں آپ کی ۔وہ دانت پیس کر کم آواز میں بولی

خداش نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا لیکن بولا کچھ نہیں بلکہ گاڑی سٹارٹ کردی

تمہیں بھوک لگی ہوگی کیا کھاؤ گی تم وہ بہت محبت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا

نہیں ابھی بھوک نہیں ہے میں سیدھے گھر ہی جا کر کھاؤں گی ویسے بھی ابھی لنچ کا ٹائم نہیں ہوا ۔اس کا انداز اگنور کرنے والا تھا ۔نہ جانے کیسے اس نے اس اگنورینس کو برداشت کر لیا تھا ۔

آئس کریم ۔اس نے آفر کی تھی

نو تھینکس موڈ نہِیں ہے وہ باہر دیکھنے لگی۔وہ پھر سے اس کی اس حد تک نظر اندازی برداشت کر گیا۔

بیچ پر چلیں ۔۔۔۔؟اس کا لہجہ محبتوں کی شیریں میں ڈوبا تھا۔

نہیں۔گھر چلنا ہے ۔وہ۔کہہ کر پھر سے باہر دیکھنے لگی

چلو آؤ تمہیں کچھ دلاتا ہوں ۔اپنے نکاح کی خوشی میں ایک تحفہ تو بنتا ہے ۔تھوڑی ہی دیر میں آنے والی پہلی جیولری شاپ پر گاڑی روکتے ہوئے بولا

نہیں مجھے کوئی تحفہ نہیں چاہیے اس کا انداز کافی تلخ تھا۔

میں نے تم سے پوچھا ۔۔،؟اب وہ بھڑک اٹھا تھا

دیکھو دیشم میں نے تمہاری بہت بد تمیزی برداشت کی ہے لیکن کچھ معاملوں میں میں اپنی سنتا ہوں تو بہتر ہے کہ تم بھی میری سنو ورنہ اپنے انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔اس کا انداز بہت کچھ جتا گیا تھا جبکہ دیشم تو سلگ اٹھی۔

ورنہ۔۔۔۔؟ ورنہ کیا کریں گے آپ بتائیں مجھے ۔کیا انجام ہوگا میرا میں جاننا چاہتی ہوں ۔وہ بھی بدتمیزانہ انداز میں بولی تو خداش نے ایک نظر اسے دیکھا

حجاب میں پوری طرح سے قید اس کا سرخ اناری چہرہ اس وقت غصے کی شدت سے مزید سرخ ہو رہا تھا ۔

خداش اس وقت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے جواب دینا بہت ضروری ہو گیا تھا اس نے لمحے میں اس کے سر کو پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا ۔

اور پورے استحقاق سے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے ۔اس کا انداز شدت سے بھر پور تھا چند لمحوں کا کھیل تھا ۔اور ویسے بھی بتایا گیا تھا کہ وہ کیا کچھ نہیں کر سکتا وہ اس کے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا

دیشم سے تو سر اٹھانا بھی محال ہو گیا وہ صرف یہ سوچ رہی تھی کہ اسے یہ حرکت کرتے ہوئے یہاں بازار کے بیچ کتنے لوگوں نے دیکھا ہو گا

مزید جاننا چاہتی ہو کہ میں کیا کر سکتا ہوں ۔۔؟وہ پیچھے ہٹتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا

جب کہ دیشم خاموشی سے سر جھکاتے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرنے لگی

باہر آو جلدی سے بیویوں کے نخرے اٹھانے والوں میں سے نہیں ہوں میں لیکن تمہارے تھوڑے بہت اٹھا لوں گا میرے ساتھ تعاون کرو دیشم خداش کاظمی اگر اپنی بھلائی چاہتی ہو تو ۔

ورنہ ہم لوگ کچھ معاملوں میں بہت شدت پسند ہوتے ہیں ۔خیر کہاں تھا میں ہاں تمہیں گفٹ دینا ہے

باہر نکلو وہ بات ختم کرتے ہوئے گاڑی سے نکلا تو دیشم نے ایک پل لگایا تھا گاڑی سے باہر نکلنے میں ۔اور پھر خداش اس کانازک سا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سڑک کے سامنے پار جیولری شاپ کی طرف لے گیا تھا۔

°°°°