65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 40)

Junoniyat By Areej Shah

ابھی تک تیرا ناشتہ نہیں بنا ۔۔۔؟وہاں سب لوگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ہیں ۔ایسی نکمی اور بےکار لڑکی ہے یہ کہ مجال ہے کوئی بھی کام ڈھنگ سے کردے ۔

میرا منہ کیا دیکھ رہی ہے مہارانی جلدی سے ہاتھ چلا ۔تیرے باپ نے ونی میں تیرے ساتھ ملازم نہیں بھیجے تھے جو تیرے حصے کا کام کر کے دیں گے ۔

وہ کچن میں داخل ہوتے ہی اسے دیکھ کر شروع ہو گئی تھیں جب کہ عمایہ بنا کچھ بھی بولے جلدی جلدی ہاتھ چلانے میں مصروف تھی۔

جی چاچی جان بس ہوگیا بنا دیا ہے ناشتہ میں باہر لگانے جا رہی ہوں وہ جلدی جلدی چائے کپوں میں ڈال کر بولی۔

کیا کہا تو نے مجھے چاچی جان۔۔۔۔۔؟ میرا تجھ سے ایسا تعلق نہیں ہے کہ تو مجھے چاچی جان کہہ کر پکارے میں تیرے لیے تیری چاچی نہیں ہوں اگرزریام نے تجھے اپنا دل بہلانے کے لیے بیوی کے حقوق دے دیے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم میرے ساتھ بھی رشتہ دار یاں بنا لو

اپنی اوقات میں رہ تیرے لئے یہی بہتر ہوگا ورنہ مجھے اوقات یاد دلانی آتی ہے وہ اس کے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے اتنی بے رحمی سے بولی کہ عمایہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے

وہ ان سے کچھ بھی کہے بنا چائے کے کپ اٹھاتی باہر کی طرف آئی تھی آج ناشتے پر ایک اور چہرہ بھی دیکھنے کو ملا تھا لیکن اسے مخاطب کیے بنا وہ چائے کے کپ رکھتی واپس کچن کی طرف جانے لگی جب اس کا سر بری طرح سے گھوما۔

اس سے پہلے کہ وہ گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا تھا ۔

آپ ٹھیک ہیں بھابی وہ نیا چہرہ جو اسے دیکھنے کو ملا تھا وہ ذریام سے کافی مشابہت رکھتا تھا وہ یقینا اس کا بھائی تھا جس کا ذکر وہ دو تین دفعہ کے سامنے کر چکا تھا ۔

اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے قدم دوبارہ اندر کی طرف بڑھا دیے تھے ۔

ان کم حیثیت لڑکیوں کو عادت ہوتی ہے ڈرامے کرنے کی اس طرح اس نے زریام کو بھی اسی طرح اپنے قابو میں کیا ہے ۔بابا جان کے الفاظ سن کر وہ حیران رہ گیا تھا

وہ اپنی بہو کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال کر رہے تھے یہ اس کے لئے عجیب نہیں تھا بلکہ اسے عجیب تو یہ بات لگی تھی کہ اس کے بابا کی سوچ بھی گوار مردوں جیسی ہو گئی تھی ۔

کہاں اس کے بابا ایک پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ انسان تھے جو کہ اس گاؤں کی رسموں کے کبھی خلاف ہوا کرتے تھے ۔

اور کہاں یہ شخص تھا جو اس کے سامنے بیٹھا اس طرح کی باتیں کر رہا تھا ۔بیشک انسان جس طرح کی صحبت میں رہتا ہے اس پر ویسا ہی اثر ہوتا ہے ۔

اکثر ہم اپنی سوچ کو اپنے دماغ کے اندر ہی ایک خالی ڈبے میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں اور دوسروں کی سوچ پر اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں ۔

°°°°°

ٹرےمیں کھانا لے کر وہ کمرے میں آیا تو اسے اب تک زمین پر بیٹھے روتے ہوئے ہی پایاتھا آہستہ سے ٹیبل پر کھانا رکھنے کے بعد وہ اس کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گیا اس کو یوں اپنے پاس بیٹھتے دیکھ وہ ڈر کر پیچھے ہوئی تھی ۔

مجھ سے ڈرو مت حرم میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے یقین کرو تم بہت انمول ہو میرے لیے وہ آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے لگا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ چکی تھی ۔

آپ مجھے یہاں لے کر کیوں آئے ہیں مجھے میرے گھر جانا ہے پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ کر آ جائےمیں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے آپ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ یہ سب کچھ وہ روتے ہوئے اس سے بولی تھی

اگر تم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تو میں نے بھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا اور میرے سامنے اس طرح کی باتیں مت کرو نقصان نفع کی باتیں کر کے مجھے میرا ماضی واپس یاد نہ دلاؤ حرم میں تمہیں ان سب چیزوں میں نہیں گھسیٹنا چاہتا میں تمہیں ان سب سے دور رکھنا چاہتا ہوں ۔

تم بس یہ سمجھ لو کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور میری محبت مجھے تم سے نکاح کرنے پر مجبور کر رہی ہے

وہ سمجھانے والے انداز میں بولا اس کا لہجہ بہت نرم تھا

شاید اس سے پہلے اس نے کبھی بھی اسے اتنی نرمی سے بات کرتے نہیں سنا تھا اور نہ ہی اس سے پہلے اس نے اس کے سامنے اتنی زیادہ بات اردو میں کی تھی ۔

اگر آپ کے دل میں میرے لئے اس طرح کا کچھ بھی ہے تو میرے گھر جا کر رشتہ مانگے۔ آپ نے اس طرح کیوں کیا؟ آپ کو لگتا ہے اس طرح سے کچھ بھی کر کے ۔۔۔۔۔۔۔

تم میری ہو حرم میں تمہیں کسی دوسرے سے کیوں مانگوں وہ چلایا تھا ۔جبکہ اس کے چلانے پر اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا ۔

میں کیوں مانگوں کسی سے جب کہ اللہ نے تمہیں میرے لئے بنایا ہے اس نے میرے دل میں تمہارے لیے اتنی محبت ڈالی ہے تو میں کیوں تمہیں کسی سے مانگتا پھروں تم میری ہو

تمہیں میرا ہونا ہوگا اور اگر تم میری نہیں ہوئی نہ یا تم اس نکاح کے لئے راضی نہیں ہوئی تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے میرے ملک میں بہت سارے لوگ بنا شادی کے رہتے ہیں میں تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا

وہ عجیب دیوانوں والے انداز میں بول رہا تھا لیکن اس کے لہجے سے سچائی چھلک رہی تھی اور اس کی باتیں حرم کے جسم میں کپکپاہٹ طاری کر چکی تھی ۔

کیا بکواس کر رہے ہیں آپ شرم آنی چاہیے آپ کو ایسی گری ہوئے باتیں کرتے ہوئے۔حرم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تھا جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا اس کی بات کا مطلب وہ بہت گہرائی تک سمجھ چکی تھی ۔

جائز نا جائز یہ سب کچھ تمہارے ملک میں ہوتا ہے وہاں پر نہیں ہوتا وہاں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ رہتے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا تم بھی میرے ساتھ رہنا

میں ساری زندگی تمہیں اپنے پاس رکھ لوں گا۔تم کبھی اپنے خاندان سے مل نہیں پاؤ گی نہ ہی کبھی ان لوگوں کی شکل دیکھ پاؤ گی ہاں لیکن اگر تم اس رشتے کو جائز بنانا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں

اس کے لئے میں تمہیں تمہاری فیملی سے ملوانے چلوں گا انہیں تمہارے کردار کی گواہی دوں گا خود بتاؤں گا کہ تم اپنی مرضی سے گھر سے نہیں بھاگی بلکہ میں نے تمہیں اغواء کیا ہے تمہارے دادا جو اس وقت ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہے ہیں ہوسکتا ہے انہیں ایک نئی زندگی مل جائے ۔

وہ پرسکون سااس کے سامنے بیٹھا شاید اسے بلیک میل کر رہا تھا حرم گہری سوچ میں جا چکی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ شخص اتنا گھٹیا نکلے گا ۔

وہ اس کے لئے قابل احترام تھا وہ اسے بہت پسند کرتی تھی وہ باقی ٹیچرز کی طرح فضول کی باتیں نہیں کرتا تھا اس صرف اور صرف اپنے کام سے مطلب رکھتا تھا ۔وہ شروع سے ہی اسے عجیب پراسرار قسم کا لگتا تھا ۔

وہ اس کی نگاہوں کو اکثر خود پر پڑتا محسوس کرتی تھی وہ جانتی تھی کہ اس کی نگاہوں میں کچھ تو عجیب سا ہے۔جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے

اسے اب تک یقین نہیں آیا تھا کہ اس شخص کو اس نے صرف آپنے خواب میں دیکھا ہے اسے اب بھی لگتا تھا کہ شاید وہ اس کے گھر میں آیا تھا لیکن آج اس یقین ہو چکا تھا کہ یہ شخص اس کے ہر لمحے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔

آپ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے اس طرح میں بد نام ہو جاؤں گی سر میرا خاندان میرے دادا کی عزت مٹی میں مل جائے گی اگر آپ مجھے پسند کرتے ہیں تو آپ کی عزت سے رشتہ لے کر آئے جس طریقے سے شادی ہوتی ہے اس طرح شادی کریں میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں جب آپ رشتہ لے کر آئیں گے میں انکار نہیں کروں گی لیکن خدا کے لئے آپ۔۔۔۔

میں نے کہانہ میں۔تمہیں لے۔کر چلوں گا میں کوئی انکار کر رہا ہوں کیا۔۔۔؟میں نے کہا میں تمہیں تمہارے گھر لے کر چلوں گا تمہیں سب سے ملواؤں گا تمہارے کردار کی گواہی دوں گا اس کے بعد اگر وہ لوگ تو میں اسے میرے ساتھ رخصت کرتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن آنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی پڑے گا ہر قیمت پر آگے فیصلہ تم خود کر لو تمہیں کیا کرنا ہے صبح کی فلائٹ ہے

ہم یہاں سے ہمیشہ کے لیے نیویارک جا رہے ہیں ۔

مجھے آپ کے ساتھ ہی نہیں جانا سمجھے آپ وہ چیخ اٹھی۔

جو تمہیں تمہارے گھر سے آدھی رات کو لا سکتا ہے وہ تمہیں کہیں پر بھی لے کر جا سکتا ہے میرے سامنے آواز نیچی رکھنا تمہارے حق میں بہتر ہے گا

تمہارے پاس تھوڑی دیر کا وقت ہے تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آ جائے ان کے آتے ہی ہمارا نکاح ہوگا اور اگر تم نکاح کے لیے راضی نہ ہوئے تو پھر بھی میں تمہیں چار گھنٹوں کے بعد اپنے ساتھ بنا نکاح کے لے کر جاؤں گا فیصلہ کرلو بنا نکاح کے میرے ساتھ ضروری یا نکاح کر کے وہ کہہ کر اس کے قریب سے اٹھ گیا تھا جب کہ حرم کو پھر سے رونا آنے لگا

°°°°°°

خداش بار بار فون کررہا تھا سب اس کو مطمئن کر رہے تھے لیکن خداش کافی زیادہ پریشان تھا

اسے اپنی بہن کو لے کر ٹینشن ہو رہی تھی اللہ نہ کرے اس کے ساتھ کچھ غلط ہو جائے اس نے بابا کو ہسپتال میں آنے کے لئے کہا تا کہ وہ خود حرم کو ڈھونڈنے کے لئے جا سکے

اس طرح کی حرکت کون کرسکتا تھا کون ان کی عزت پر اس طرح کا وار کر سکتا تھا ایک عجیب سا خوف دل دماغ پر چھایا ہوا تھا خداش کو کوئی چیز اسے ڈرا نہیں سکتی تھی لیکن حرم کی گھرمیں نہ موجودگی اس کے لئے انتہائی خطرناک تھی

وہ بس یہ دعا مانگ رہا تھا کہ اللہ نہ کرے کہ وہ کسی بھی طرح کی مصیبت میں پھنس جائے اللہ نہ کرے کہ اس کے ساتھ کچھ بھی الٹا سیدھا ہو جائے

وہ اپنی بہن کے معاملے میں بہت حساس تھا وہ اسے بالکل اپنے بچے کی طرح پیار کرتا تھا ۔وہ اسے سرد ہوا تک نہیں لگنے دیتے سکتا تھا اس کے ساتھ اگر کچھ بھی غلط ہوتا تو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی معاف نہ کر پاتا ۔

بار بار سب کو فون کرتے ہوئے اس نے آخر کار فیصلہ کیا تھا کہ گھر سے ایک فرد ہسپتال آکر دادا جان کے پاس رہے وہ خود اپنی بہن کو ڈھونڈنے جائے گا اور چاچا جان تھوڑی ہی دیر میں آنے والے تھے ۔ان کے آتے ہی اس نے نکل جانا تھا

°°°°°

وہ کمرے میں آیا تو اس وقت حرم کسی گہری سوچ میں تھی اس کے پیچھے ہی مولوی صاحب بھی آ رہے تھے وہ اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایک سائیڈ پر بیٹھ چکا تھا جب کہ حرم ان کو اندر آتے دیکھ جلدی سے اپنا دوپٹہ سیدھا کرنے لگی ۔

بیٹا کیا یہ نکاح آپ کی مرضی سے ہو رہا ہے یا آپ پر کسی طرح کی کوئی زبردستی کی جارہی ہے ۔۔۔۔؟

مولوی صاحب اس کے پاس ہی رکھیں کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگے۔

وہ اس طرح کا سوال کیوں کر رہے تھے وہ اسے سمجھ نہ آیا یقیناً اس کی حالت دیکھ کر انہوں نے اندازہ لگایا ہوگا کہ اس کے ساتھ کوئی زبردستی ہوئی ہے

اس کا دل چاہا وہ انہیں بتا دے کی اس کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے لیکن وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی شاید اس کا انجام وہ جانتی تھی جو آدھی رات کو گھر سے اغواء کر سکتا تھاوہ اس کے ساتھ کیا نہیں کر سکتا ۔

مولوی صاحب آپ اپنا کام کریں تو زیادہ بہتر ہو کا صیام نے ذرا سختی سے کہا جبکہ پیچھے ہی کچھ لڑکوں کو اندر آنے کا اشارہ کیا تھا یقینا وہ سب لوگ اس کے گواہوں کے طور پر یہاں آئے تھے ۔

مولوی صاحب نکاح شروع کریں زیادہ ٹائم نہیں ہے تھوڑی دیر میں فلائٹ ہے ہمیں جانا ہے صیام نےجلدی جلدی اس کاروائی کو ختم کرنا چاہا وہ سب کے لئے تیار نہیں تھا لیکن یشام نے اسے اپنی دوستی کی قسم دی تھی اور کہا تھا کہ اس نے اس سے وعدہ کر رکھا ہے ۔

اس نے کہا تھا کہ وہ حرم کواور اس کی فیملی کو مزید کوئی تکلیف نہیں دے گا لیکن اس کے لئے اسے اس کے نکاح میں شامل ہونا پڑے گا وہ بھی حرم کی طرف سے اور وہ اس کے لئے تیار ہو گیا تھا

وہ چاہتا تھا کہ وہ واپس چلے اگر وہ حرم کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن وہ کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔

وہ چاہتا تھا کہ وہ اپنا بدلہ بھول کر یہ ساری الٹی سیدھی حرکتیں چھوڑدے اور اس کے ساتھ واپس چلے اور وہ یہ کرنے کو تیار تھا تو اسے بھی اس کی بات ہر قیمت پر مان لی تھی

°°°°°

کچھ لمحے گزرے تھے اس کی پہچان بدل چکی تھی وہ کسی کے نکاح میں آ چکی تھی یہ سب کچھ اس کے لیے بہت عجیب تھا اس نے کہاں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ اس طرح سے کچھ ہو جائے گا وہ تو اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی گھر بار کی لاڈلی تھی اس نے اپنی زندگی کے بارے میں ایسا سوچ رکھا تھا

کہاں تھے اس کے اپنے کہاں تھا اس کا بھائی کیا اس کےگھر والوں میں سے کسی نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی تھی کیا اس کی غیر موجودگی کو کسی نے محسوس نہیں کیا تھا اس نے کہا تھا اس کے دادا جان ہسپتال میں ہے کیا ہوا تھا انہیں۔

کیا سوچ رہے ہوں گے اس کے گھر والے کہیں اس کے دادا اسی کی وجہ سے ہسپتال میں نہیں تھے

اس کے دماغ میں بہت عجیب سوچیں آرہی تھی وہ گھر جانا چاہتی تھی کسی بھی قیمت پر بےشک اسے اپنی زندگی کے ناپسندیدہ شخص کو ہی کیوں نہ قبول کرنا پڑے لیکن اسے اپنے گھر جانا تھا اور وہ جانتی تھی اگر ایک بار اپنے گھر پہنچ گئی تو اس کی کوئی اوقات نہیں رہے گی ۔

اس کی حقیقت سب کے سامنے کھول دے گی ایسے معاملے اس کے گھر والے حل کر سکتے تھے وہ اپنے بھائی پر اعتبار کرتی تھی اسےبس ایک بار اپنے گھر پہنچنا تھا پھر یہ شخص اس کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا بس اسی سوچ کے ساتھ اس نے اس شخص کو قبول کر لیا تھا ۔

°°°°°°

ارے بھابھی آپ یہاں میرے کمرے کے باہر کیا کر رہی ہیں اب انکار مت کیجئے گا میں پہلے بھی تین بار آپ کو کمرے کے باہر دیکھ چکا ہوں

شائزم اس بار اٹھ کر باہر آ گیا تھا وہ کافی دیر سے اسے بے چینی سے اپنے کمرے کے اردگرد گھومتے دیکھ رہا تھا ۔

میں نے آپ سے ۔،۔وہ مجھے زریام ۔۔۔۔میرا مطلب ہے وہ مجھے بات کرنی تھی ۔۔۔۔۔فون پہ ۔۔۔آپ کیا اپنا فون دے سکتے ہیں ۔۔۔۔؟اس نے گھبراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی جبکہ اس کے انداز پر شائزم مسکرا دیا تھا ۔

تو میاں کی یاد ستا رہی ہے ایسا کہیں ناں ابھی ملا دیتے ہیں آپ کو آپ کے میاں جی کا فون

انہوں نے فون نہیں دیا ہے کیا آپ کو وہ اپنا موبائل نکالتے ہوئے اس سے کہنے لگا جس پر اس نے فورا نا میں سر ہلایاتھا

کیا میرے بھائی نے ابھی تک آپ کو فون نہیں دیا ۔آپ نے انہیں باہر جانے کی اجازت کیوں دی خیر کوئی بات نہیں میں سفارش کروں گا فون تو مل ہی جائے گا وہ ابھی تک مسکرا رہا تھا

السلام علیکم چھوٹے کیسا ہے تو دوسری طرف سے آواز آئی تھی ۔

وعلیکم السلام الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن آپ کی مسز ٹھیک نہیں ہے ذرا بات کر لیں ان سے وہ فون فورا ہی اس کے حوالے کر چکا تھا ۔

جب کہ خود فاصلے پر جا کر رک گیا تھا عمایہ بھی سائیڈ پر آتے ہوئے فون کان سے لگا چکی تھی ۔

ہیلو۔۔۔۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا ۔

جلدی بات کرو میرے پاس ٹائم نہیں ہے دوسری طرف سے سرد سی آواز سنائی دی ۔

وہ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔زریام۔۔میں۔۔۔۔۔وہ ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھتی تھوڑی اور سائیڈ پر ہوتے ہوئے اپنی بات شروع کرنے لگی۔

یہ وہ وہ۔۔۔۔کیا کر رہی ہو سیدھی بات کرو ۔کیا کہنا چاہتی ہو بتاؤ جلدی میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے میں مصروف ہوں ۔اس نے ایک بار پھر سے سختی سے کہا تھا

آپ کب واپس آئیں گے اس کی آواز میں اداسی تھی ۔

یہ پوچھنے کے لیے فون کیا ہے تم نے دوسری طرف سے ایک بار پھر سے غصے سے بھرپور آواز سنائی دی ۔

نہیں وہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے اس نے ایک بار پھر سے پیچھے کی طرف دیکھا تو شائزم کو لگا کہ شاید اس کی موجودگی کی وجہ سے وہ ٹھیک سے بات نہیں کر پا رہی وہ فوراً ہی اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اندر چلا گیا تھا ۔

جلدی بتاؤ۔۔۔ وہ اجازت دے رہا تھا

آپ جلدی سے گھر واپس آ جائیں پھر بتاؤں گی

یہ کہنے کے لیے اتنا وقت برباد کیا ہے تم نے اسے غصہ آیا تھا اگر وہ بات کرنا ہی چاہتی تھی تو بات کرے بات گھما کیوں رہی تھی ۔

جب وہ میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔زریام۔۔۔۔وہ اصل میں ۔۔مجھے لگتا ہے کہ ۔۔۔۔

بس کرو دو تین دن میں واپس آ رہا ہوں ۔تمہاری بات تو شاید ختم ہی نہیں ہوگی۔فضول میں وقت برباد کر رہی ہو میرا ۔وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا جب کہ عمایہ کتنی دیر سکرین کو دیکھتی رہی

وہ بہت کوشش کے بعد بھی اسے کچھ نہیں بتا سکتی تھی ۔

°°°°°°