Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 75)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 75)
Junoniyat By Areej Shah
وہ بے یقینی سے اپنے سامنے ہونے والے اس منظر کو دیکھ رہی تھی جس پر یقین کرنا اس کے لئے ممکن نہ تھا ۔
کیا یہ حرم تھی ۔وہ اس کے سامنے صحیح سلامت کھڑی تھی لیکن کیسے ممکن تھا حرم تو مر چکی تھی ۔اسے تو خداش نے مار ڈالا تھا تووہ اس کے سامنے کہاں سے آسکتی تھی
کیسے وہ زندہ واپس آ سکتی تھی نہیں یہ ضرور اس کا کوئی خواب تھا
اور اگر وہ خواب نہیں تھا تب بھی وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے اس منظر کو کو قبول نہیں کر پا رہی تھی ۔
وہ کتنی ہی دیر سے اپنے سینے سے لگائے کھڑا رہا۔بے تحاشا خوبصورت احساس کے تحت اس کی ننھی سی گڑیا اس کے بے حد قریب تھی وہ محبت سے اس کا ماتھا چومتا اسے اپنے سامنے کرتا اپنی آنکھوں کو سکون پہنچا رہا تھا جو اتنے دنوں کے بعد اسے دیکھ رہی تھی
ویسے ہی ہنستی مسکراتی اس کی چھوٹی سی گڑیا اس کے بالکل ساتھ تھی جبکہ اس کے پیچھے وہ آدمی کھڑا تھا جو اس کی گڑیا کو اس سے دور کر گیا تھا لیکن وہ کوئی غیر نہیں تھا
وہ ان کا اپنا تھا جس نے بہت کچھ سہا تھا بہت ساری مشکلات دیکھی تھی
وہ حرم کو خود سے علیحدہ کرتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھا تھا ۔خداش نے خود ہی پہل کرتے ہوئے اسے گلے سے لگایا تھا جبکہ وہ خاموشی سے کھڑا تھا اس نے کسی طرح کی کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی تھی ۔
اور نہ ہی اس کے دل میں اس طرح کا کچھ بھی تھا جس کی بنا پر وہ اس سے خوش دلی سے ملتا
جب کہ حرم تو دیشم سے چپکی ہوئی تھی جو اب تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔
کیا ہوا مجھے واپس دیکھ کر آپ کو خوشی نہیں ہوئی۔کیا آپ مجھ سے خفا ہو جو میں آپ کو بتائے بنا چلی گئی ۔لیکن میرا کوئی قصور نہیں ہے سارا قصور ان کا ہے آپ پلیز مجھ سے ناراض مت ہوں ورنہ میں بھی ناراض ہو جاؤں گی اس کی طرف سے یوں بے یقینی سے دیکھ کر وہ اس سے دور ہٹ کر ناراضگی سے کہنے لگی ۔
خوشی تو ہوئی ہے حرم لیکن محترمہ کو جھٹکا ذور کا لگا ہے تم چلو پہلے دادا جان سے ملو جوتمہارے واپس آنے کی خوشی میں سکون کا سانس ہی نہیں لے رہے ہیں جب سے انہیں پتا چلتا ہے کہ تم لوگ آ رہے ہو ان کے پیر زمین پر ہی نہیں ٹھہر رہے
میں آرام کرنا چاہتا ہوں خداش حرم کو سامنے والے کمرے کی طرف چلنے کا اشارہ کر رہا تھا جب اس نے کافی رکھے سوکھے لہجے میں کہا ۔
ہاں کیوں نہیں تمہارا کمرہ تیار کروا دیا ہےدادا جان نے پہلےدادا جان سے ملو پھر آرام کر لینا خداش نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا تھا
فی الحال مجھے آرام کی ضرورت ہے میں کسی سے نہیں مل سکتا اگر آپ مجھے میرا کمرہ بتا دیں تو آپ کی مہربانی ہوگی ۔
اس کا اندازہ اس کے ساتھ کچھ لیا دیا سا تھا
اسے کمرہ دکھا دو ۔اس نے پیچھے کھڑے ملازم سے کہا اور حرم کا ہاتھ تھام کر اسے دادا جان کے کمرے کی طرف لے گیا۔
حرم۔ ۔۔۔اسے جاتے دیکھ کر اس نے پکارا تھا ۔
آپ جا کر کمرے میں آرام کریں میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں وہ واپس اس کے پاس آتے ہوئے بولی
نہیں تم میرے ساتھ چلو وہ شاید بے یقینی کی کیفیت میں تھا شاید ان لوگوں پر بالکل یقین نہیں کر سکتا تھا ۔
سر شوہر میں دادا جان سے مل کر آتی ہوں اگر آپ کو ڈاوٹ ہے تو آپ بھی چلے میرے ساتھ ملنے ان سے اس نے اس کا ہاتھ تھاما تھا
نہیں مجھے کسی سے نہیں ملنا اس گھر میں تمہارے علاوہ میرا اور کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
تو بس ٹھیک ہے آپ اوپر اپنے کمرے میں چلیں میں آپ کو پورے بیس منٹ میں جوائن کرتی ہوں ۔
اس نےبہت محبت سے اسے سمجھایا تو شاید وہ اس کی بات کو سمجھ گیا تھا ۔
بیس منٹ سے ایک سیکنڈ اوپر نہیں وہ جاتے جاتے اسے وارن کر گیا تھا۔
سر آپ کا کمرا اوپر کی طرف ہے ۔۔۔ملازم کے ساتھ وہ اوپر کی طرف جانے لگا جبکہ دیشم حیران تھی کون تھا یہ لڑکا اور حرم کے ساتھ کیوں تھی۔
کیا چل رہا تھا یہاں اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
وہ حیران کیسے کبھی دادا جان کے کمرے کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی وہ پر جاتے اس لڑکے کو جسے شاید آج سے پہلے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
لیکن پھر یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ حرم سے اس لڑکے کا کیا تعلق تھا اور حرم اس کے ساتھ کیوں گئی تھی اور وہ اتنے وقت سے اس کے ساتھ کیسے رہی تھی
°°°°°°
دادا جان کتنی ہی دیر اسے اپنے سینے سے لگائے کھڑے رہے وہ اتنی زیادہ خوش تھی کہ انتہا نہیں
دادا جان کے نکاہیں باربار دروازے کی جانب اٹھ رہی تھی جہاں سے ابھی تک کوئی بھی اندر نہیں آیا تھا خداش بھی ان کی بے چینی کو محسوس کر چکا تھا
دادا جان وہ آرام کی خاطر اپنے کمرے میں گیا ہے یقینا لمبا سفر تھا وہ تھک گیا ہوگا اور ویسے بھی فی الحال اسے یہ ساری چیزیں قبول کرنے میں تھوڑا سا وقت لگے گا آپ پلیز پریشان مت ہوں میں سب کچھ سنبھال لوں گا خداش نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں یقین دلانے والے انداز میں کہا تھا
مجھے تم پر پورا یقین ہے کہ خداش تم سب کچھ سنبھال لو گے تم نے آج تک مجھے کسی چیز نے مایوس نہیں کیا اور مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں بھی تم پیچھے نہیں ہٹوگے یہ سب کچھ تمہارے حوالے ہے ۔
ہم اسے واپس نہیں جانے دیں گے اب میں اپنے پوری خاندان کو مکمل کر دینا چاہتا ہوں میں تم لوگوں کے بغیر نہیں رہ سکتا مجھے میرا خون چاہیے اپنے خون کا ایک قطرہ بھی میں خود سے دور نہیں کر سکتا ۔وہ یشام کے معاملے میں بہت زیادہ جذباتی ہو رہے تھے اور خداش ان کی کنڈیشن کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ بھی رہا تھا ۔
دادا جان یہ کس کی شادی ہو رہی ہے یہ اتنی ساری تیاریاں کس کی شادی کی خوشی میں کی جا رہی ہیں کیا دیدم آپو یا سومیہ آپو میں سے کسی کی شادی ہے وہ کب سے اپنے دل میں یہ سوال لیے بیٹھی تھی ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
یہ ریدم کی شادی کی تیاریاں ہو رہی ہیں تم اسے نہیں جانتی لیکن تمہاری معلومات کے لیے میں بتا دیتا ہوں کہ وہ تمہارے چاچا کی بیٹی ہے تمہارے چچا ساغر کی بیٹی ۔ہمیں ہمارے بچھڑے ہوئے رشتے ملے ہیں حرم یشام بھی ہمارا پوتا ہے اور ریدم بھی ہماری پوتی ہے۔ یہ لوگ ہم سے بچھڑے ہوئے تھے بڑی مشکل سے واپس ملے ہیں۔دادا جان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بہت خوشی سے بتایا تھا جب کہ وہ خود بھی ریدم سے ملنے کے لیے کافی زیادہ ایکسائیٹڈ ہو گئی تھی ۔
تھوڑی دیر میں وہ پارلر سے واپس آ جائے گی تو تم اس سے مل لینا ۔
لیکن فی الحال جاؤ تم یشام تمہارا انتظار کر رہا ہوں گا دادا جان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۔
میں تو انہیں صرف 20 منٹ کہہ کر آئی تھی اب وہ یقینا مجھ سے ناراض ہو جائیں گے آپ نہیں جانتے آپ کا یہ جو سڑو پوتا ہے نہ بہت زیادہ والا سڑو ہے ۔یہ تو میں ہوں جو ان کھڑوس کو لائن پر لگا کر رکھتی ہوں ورنہ وہ اتنے کوئی۔ ۔۔۔۔۔”کیا ہوا آپ مجھے گھور کیوں رہے ہیں وہ اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی اور نہ جانے وہ کیا کیا بولنے والی تھی جب دادا جان کو خود کو گھورتے پاکر ان سے پوچھنے لگی ۔
تم ہمارے سامنے ہمارے پوتے کے لئے اتنے عجیب قسم کے الفاظ استعمال کر رہی ہو تو کیا تم ہم سے شاباشی کی امید رکھتی ہو وہ ذرا سخت لہجے میں بولے ۔
واوا پوتے کوآئے دو منٹ نہیں ہوئے کہ اتنی خوبصورت حسین پلس معصوم پوتی بھول گئی ۔مت بھولیں ان کو یہاں میں لے کر آئی ہوں اور اگر میں چاہوں تو ان کو واپس بھی لے کر جا سکتی ہوں۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ پہلے پوتی سے پیار محبت جتائیں پھر پوتے سے ورنہ مجھ سے پنگا ناٹ چنگا وہ انہیں دیکھتے ہوئے ذرا سی گردن اکڑا کر بولی تھی اب کوئی معمولی بات تو تھی نہیں اس نے دادا جان کا خواب پورا کیا تھا ان کے پوتے کو ان کی حویلی لے کر آئی تھی
جس پر وہ ان سے زیادہ نہیں تو آدھی پونی جائیداد لکھوانے کا تو کا ارادہ رکھتی تھی ۔
خداش ہماری چھری لاکر دو پہلے ہم اس کی گردن کی اکڑ ختم کرتے ہیں ۔ہمارے سامنے گردن اکڑاتی ہے کدھر گئی ہماری چھری۔ ۔۔؟
وہ آگے پیچھے دیکھتے خداش سے بولے جو ان لوگوں کو لڑتے دیکھ کر پہلے ہی یہاں سے غائب ہوچکا تھا جبکہ ان کو چھری کی طرف کافی سیریس طور پر متوجہ دیکھ کے وہ بھی وہاں سے بھاگ نکلی تھی ۔
جبکہ اس کے کمرے سے بھاگتے ہی دادا جان کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی تھی آج وہ صحیح معنوں میں خوش تھے ان کا پورا خاندان ان کے ساتھ تھا ان کے پاس تھا ان کے بچھڑے رشتے ان کو مل چکے تھے ۔
اب بس ان رشتوں کے دل میں موجود نفرت کی دھول کو صاف کرنا تھا جو مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں
°°°°°°
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو یشام کو دائیں سے بائیں ٹہلتے ہوئے پایا وہ بے چین لگ رہا تھا اسے آتے دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف قدم بڑھاتا اس کے دونوں بازو کو تھام چکا تھا
کیا کہا ان لوگوں نے تمہیں میرے بارے میں کہیں ان لوگوں نے تمہیں مجھے چھوڑنے کے لئے تو نہیں کہا۔۔۔۔۔؟
دیکھو اگر ایسا کچھ بھی ہے تو مجھے صاف صاف بتا دو میں ابھی کے ابھی اپنے ساتھ لے کر چلوں گا
مجھے ان لوگوں پر بالکل یقین نہیں ہے یہ تمہیں مجھ سے چھیننے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں
مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا مجھے ان لوگوں کی نیت پر پہلے ہی شک تھا اتنی دیر سے تم سے کیا باتیں کر رہے تھے یہی نہ کہ تم مجھے چھوڑ دو سب سمجھ میں آرہا ہے مجھے یہ لوگ ہمیشہ سے ۔۔۔۔۔۔۔
ِیہ سب کیا کہہ رہے ہیں آپ وہ لوگ ایسا کیوں چاہیں گے سب کو پتہ ہے میں آپ کی بیوی ہوں اور آپ کو یہاں تک لے کر آئی ہوں اپنے ساتھ کوئی بھی مجھے آپ کو چھوڑنے پر مجبور کیوں کہے گا
یشام آپ اتنے زیادہ شکی کیوں ہوگئے ہیں اس سے پہلی بار اسے اس کے نام سے پکارا تھا
لیکن اس وقت تووہ اتنی ذہنی اذیت کے شکار میں تھا کہ وہ اس چیز کو محسوس ہی نہیں کر پایا تھا
کوئی مجھے آپ سے دور لے کر نہیں جائے گا اور نہ ہی میں آپ کو کبھی چھوڑ کر جاؤں گی یہاں کوئی نہیں ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہے یہاں سب لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں وہ آہستہ سے اپنے نازک سے ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے سمجھا رہی تھی جب اچانک ہی یشام نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا
واپس چلتے ہیں حرم میں یہاں پاگل ہو جاؤں گا اس تھوڑی سی دیر نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے میں نہیں رہ سکتا ان لوگوں کے بیچ ایک عجیب سا ڈر مجھے ہر وقت ہی رہتا ہے
جتنی دیر ہوئی ہے مجھے یہاں آئے ہوئے اتنی دیر سے بس دل میں ایک ہی ڈر ہے کہ کہیں تمہیں مجھ سے چھین نہ لیا جائے مجھے نہیں ہے بھروسہ ان لوگوں پر میں نہیں اعتبار کر سکتا کسی پر بھی پلیز ہم واپس چلتے ہیں نہ ۔
وہ اس کے کندھے پر سر رکھے اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا جب حرم نے آہستہ سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر سامنے کیا
ہم صرف پندرہ دن تک یہاں رہیں گے اگر ان پندرہ دن میں آپ کو اس بات کا یقین نہ ہوا کہ یہ لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں اور ہمیں یہاں کوئی ایک دوسرے سے الگ نہیں کرے گا تو ہم واپس چلیں گے ۔اور اگر آپ کو یقین ہو بھی گیا تب بھی ہم وہی کریں گے جو آپ چاہتے ہیں پلیز ریلیکس ہو جائیں میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ جو بھی آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا
اتنا تو یقین کر سکتے ہیں نہ آپ اپنی حرم جان پر ۔۔۔۔؟وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جب کہ یشام نے اگلے ہی لمحے اسے تھام کر خود میں بھینچ لیا تھا جیسے ایک سیکنڈ کے لئے بھی الگ نہ کرنا چاہتا ہو۔
حرم بچے نیچے آجاؤریدم پارلر سے آگئی ہے اسے باہر سے خداش کی آواز سنائی دی تھی ۔
آپ کو پتا ہے میری ایک اور کزن بھی ہے اس کا نام ریدم ہے آپ ملیں گے اس سے ۔
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا ۔وہ اسے خود سے الگ کرتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا تھا ۔
یہاں کمرے میں بور ہو جائیں گے نیچے شادی ہو رہی ہے بہت مزا آئے گا آئیں نا چلتے ہیں اس نے بہت پیار سے اس کا بازو تھامتے ہوئے کہا تھا
نہیں میں کہیں نہیں جانا چاہتا میں تھوڑی دیر آرام کروں گا تم جاؤ اور جلدی واپس آنا ۔وہ خود کو ریلیکس کرتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دینے لگا ۔
ٹھیک ہے بس آپ آرام کریں بلکہ تھوڑی دیر کے لئے سو جائیں یہاں اس کمرے میں کوئی آواز نہیں آئے گی اور نہ ہی یہاں اس طرف کوئی آئے گا آپ جتنی دیر چاہے آرام کر سکتے ہیں میں جلدی آ جاؤں گی بلکہ میں ہر تھوڑی دیر میں جھانکی مارتے رہوں گی
۔تاکہ آپ کے دل میں یہ جو الٹے سیدھے وہم پیدا ہوتے ہیں نا یہ پیدا ہونا بند ہوجائیں وہ اس کے دونوں گالوں کو کھینچتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھ گئی تھی ۔جب اچانک یشام نے اس کا ہاتھ تھام لیا
تم جانتی ہو میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں اس کے سوال پر اس نے مڑ کر اسے دیکھا تھا ۔
مجنوں جتنا ۔۔۔اس نے بازو پھیلا کر جواب دیا تھا اور اس کے دلکش انداز پر خود مسکرا دیا ۔
اس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔”
رانجھے جتنا ۔۔۔۔؟اس نے پھر سے جواب دیا
بچھڑنے والوں کی بات کیوں کرتی ہو تم اس نے ذرا سختی سے پوچھا
تو پھر کس کی بات کروں۔ ۔۔۔۔؟ وہ اسے دیکھ کر سوال کرنے لگی
یشام احمر جتنا کہو ۔۔۔۔۔کیونکہ یشام احمر جتنا پیار کوئی نہیں کر سکتا ۔اس نے اپنے نام پر زور دیا تھا ۔جب اچانک ہی وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے اس کے گال پر اپنے گداز لبوں کا لمس چھوڑتی وہاں سے بھاگ نکلی تھی جب کہ وہ کتنی ہی دیر اپنے گال پر ہاتھ رکھے اس کے لمس کو محسوس کرتا رہا
°°°°°°
تم ایسے جاؤ گی شادی پر وہ کمرے میں آیا تو اسے سرخ رنگ کی خوبصورت فراک میں بے حد خوبصورتی سے تیار پا کر اس کے سامنے کھڑا ہوتے پوچھنے لگا
ہاں یہ فراک آپ لے کر آئے تھے میں نے سوچا آج کے فنکشن کی مناسبت سے یہ بہت خوبصورت لگے گی کیسی لگ رہی ہے مجھ پر وہ پوری طرح گھوم کر اسے دکھاتے ہوئے بولی
بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی اتارو اسے اور اگر ایسا لباس پہنا ہو تو بند کمرے میں میرے سامنے پہنا کرو خبردار جو تو اسے پہن کر باہر نکلی کچھ اور پہنو
ہزار طرح کے کام ہوں گے مجھے وہاں پر سارا دن تمہیں دیکھتا رہوں گا تو کام کیسے کروں گا ۔اس طرح سے تو میرا دھیان ہی تم پر سے نہیں ہٹے گا بیوی ایسا ظلم میں برداشت نہیں کر سکتا چلو شاباش چینج کر کے آؤ
زریام نے اس کے منہ پر انکار مارا تھا
کیا مطلب ہے آپ کا میں اچھی لگ رہی ہوں اس لیے یہ ڈریس نا پہنوں یاآپ کو اچھا نہیں لگ رہا وہ گول مول جواب پر کنفیوز ہوئی تھی ۔
بیوی تمہیں ساری زندگی مطلب سمجھاتے سمجھاتے میں بڈھا ہو جاؤں گا میری پیاری بیوی اگر تم اس لباس میں باہر نکلو گی تو میرا دھیان تم پر رہے گا اور میں اور کسی کام کے قابل نہیں رہوں گا
اس لئے میں نہیں چاہتا کہ تم اس طرح سج سنورکر نکلو کوئی اور رنگ پہن لو یہ دیکھ کر میرا دماغ خراب ہو جاتا ہے
پھر وہاں شادی میں تو ہزار طرح کی لڑکیوں نے سرخ رنگ پہنے ہوں گے کیا سب کو دیکھ کر آپ کا دماغ خراب ہو جائے گا وہ لڑائی کے موڈ میں آ چکی تھی کیا مطلب ہے اس کا سرخ رنگ اسے اتنی بری طرح سے ری ایکٹ کرتا ہے کہ وہ کسی کو پہنے ہوئے دیکھ ہی نہیں سکتا
اووو میری بیوقوف جھلی بیوی مجھے دنیا والوں سے کیا واسطہ جب خدا نے میرے نصیب میں اتنا خوبصورت چاند سا چہرہ اور نور سے بھرا دل لکھ دیا ہے مجھے اور کسی سے کوئی مطلب نہیں لیکن تمہیں اس خوبصورت روپ میں دیکھ کر میں اپنے دل پر قابو نہیں رکھ سکوں گا
اب تو میں تیار ہوں گی آپ اپنے دل پر قابو کریں یا پھر کچھ بھی کریں میں چینج نہیں کرنے والی اور بھولیے گا مت کہ آپ آج مجھے ایک سرپرائز دینے والے ہیں وہ کہتے ہوئے دوپٹہ سر پر لیتی کمرے سے ہی نکل گئی تھی مطلب صاف تھا وہ بے چین ہو یا اس کی نگاہیں اسی پر جمی رہیں وہ کسی کام کے قابل نہ رہے لیکن وہ کپڑے بلکل چینج نہیں کرے گی ۔
مطلب وہ چاہتی تھی کہ اس کی نگاہیں صرف اور صرف اسی پر ہی جمی رہی
بڑی چالاک ہوگئی ہے یہ بیوی میری ۔۔وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود بھی اس کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکلا تھا۔
°°°°°°°°°°°°
