65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 59)

Junoniyat By Areej Shah

صبح حرم کی آنکھ کھلی تو وہ یشام کی بانہوں میں اس کے بے حد قریب سو رہی تھی

اس کا سر اس کے سینے پر تھا جب کہ وہ اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار تنگ کیے ہوئے تھا

اس نے سر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں دنیا جہان کا سکون تھا بے شک وہ بہت پرکشش انسان تھادیکھنے میں بالکل انگلش فلموں کا ہیرو لگتا تھا ۔

چندلمحوں کے لئے ہی سہی لیکن اس کے دل میں اس کے لئے نفرت جاگی تھی جب اس نے اسے اغواءکر کے زبردستی نکاح میں لیا تھا لیکن وہ اس شخص سے نفرت نہیں کر پائی تھی کیونکہ اسے بہت بڑی ذمہ داری دی گئی تھی

اس کے دادا جان نے اس کے نازک کندھوں پر بہت بوجھ ڈال دیا تھا۔

اس کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا اب سے تم صرف اس انسان کی ہو اس سے محبت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔اورفرض بھی

اور پھر دادا جان نے اس سے وعدہ بھی تو لیا تھا ۔جسے اس نے پورا کرنا تھا دنیا میں آسان تو کچھ بھی نہیں تھا لیکن اسے یقین تھا وہ داداجان سے کیا وعدہ ضرور پورا کرے گی

کیونکہ یشام احمر اسے اپنی سانسوں سے زیادہ چاہتا تھا ۔

اس طرح خود کو دیکھنے کی وجہ جان سکتا ہوں میں اتنی اچھی تو تم ہو نہیں کہ تم یہ نظر مجھ سے محبت جتانے کی خاطر مجھ پر مرکوز کیے ہوئے ہو وہ بند آنکھوں سے بولا تو حرم نے اسے دیکھا ۔

آپ سوتے رہیں گے تو ہم ناشتہ کیسے کریں گے ۔۔!

مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ۔وہ اس کی بند آنکھیں دیکھتے ہوئے بولی تو یشام دلکشی سے مسکراتا اپنی آنکھیں کھول چکا تھا ۔

کیامیں ہی ساری زندگی تمہیں ناشتہ کرواتا رہوں گا خود کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے تمہارا میرے خیال میں تمہیں کھانا بنانا سیکھنا چاہئے اب شادی شدہ ہو چکی ہو تم ۔

اور کل رات کے بعد تم نے جو میرے جذبات کو بے لگام کیا ہے میں بہت جلد اپنے رشتے کو آگے بڑھانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔

اس کی کمر میں بازو حمائل کرتے وہ اسے اپنے قریب کر گیا تھا اس نے نوٹ کیا تھا اس کے قریب کرنے پر یا اس کے پاس آنے پر وہ کسی طرح کا احتجاج نہیں کرتی تھی

لیکن وہ کانپ جاتی تھی اس کی شدتوں کو محسوس کرتے ہوئے کل رات جو اس کی حالت ہوئی تھی اسے سوچ کر وہ مسکرا دیا تھا ۔

صبح صبح مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا میں ناشتہ نہیں بناوں گی لیکن میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے نوڈلز بنا کر کھلاؤں گی لنچ میں۔

میں نوڈلز نہیں کھاتا اس نے ایک ہی جھٹکے میں اسے بیڈ پر گراتے ہوئے خود اس پر اپنا سایہ سا بنا لیا تھا ۔

وہ بہت مزے کے ہوتے تھے ۔کل میں نے آپ کو کھلایا تھا نہ وہ زیادہ تیکھا نہیں تھالیکن اگر اس کو زیادہ تیکھا بناؤ تو بہت مزے کا بنتا ہے وہ جیسے ہر حال میں اسے نوڈلز کھلانا چاہتی تھی ۔

جان ہم کچھ اور بھی تو کھا سکتے ہیں ضروری نہیں جو تمہیں بنانا آتا ہے ہم صرف وہی کھائیں

تم کچھ اور بھی بنانا سیکھ سکتی ہو وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے نوڈلز کے علاوہ اور کچھ بنانا نہیں آتا اسی لئے وہ اسے نوڈلز کھانے پر منا رہی ہے

میرا نام جان نہیں حرم ہےوہ منہ بسور کر بولی

جی حرم جان میں جانتا ہوں وہ ہر بار کی طرح بولا تو حرم کو ہنسی آگئی

آپ میرے لئے نوڈلز نہیں کھا سکتے میں بہت اچھے بناؤں گی آئی پرومس ۔

تم کچھ مت بناؤ میں باہر سے لے آؤں گا اسے پریشان ہوتا دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا

ارے نہیں نہیں آپ باہر سے کیوں لے کر آئیں گے میں بناؤں گی نہ کیا ساری زندگی ہم باہر کا کھانا کھاتے رہیں گے بہت بری بات ہے یہ۔۔۔”

آج دیکھیے گا میں کتنے مزے کا کھانا بناؤں گی ۔وہ جوش سے بولی تھی ۔

جب کہ وہ مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گیا وہ اس کے لیے کوشش کرنا چاہتی تھی یشام کے لیے یہی بہت بڑی بات تھی ۔

ٹھیک ہے تم دوپہر کا کھانا بنانا میں ذرا ناشتے کا انتظام کر کے آتا ہوں وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے اٹھا تھا ۔

جب کہ وہ اس کے ساتھ ہی اٹھ کر باہر آ گئی تھی

°°°°°°

یہ لوگ یہاں کیوں آتے ہیں ساگر ان کا ادھر آنا جانا بند کروائیں مجھے خوف آتا ہے ہم اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں ہمیں ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے مجھے ڈر لگتا ہے

وہ آج چوتھی بار ان کے گھر ان سے ملنے کے لیے آئے تو ان کے جانے کے بعد افشین نے ساگر سے کہا تھا

افشین کیا ہوگیا ہے وہ ہمارے اپنے ہیں ہم سے ملنے آتے ہیں ۔اپنا خون کھینچتا ہے انہیں اپنی طرف۔۔”اور انہوں نے کہہ تو دیا ہے کہ وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے کہ ہم سے ان کا کسی بھی طرح کا رابطہ ہے تم فضول میں گھبرا رہی

وہ محبت سے اسے سمجھا رہا تھا لیکن افشین کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہ تھی

ساگر ان کا روز آنا مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کرتا ہے آپ سمجھنے کی کوشش کریں ۔

مجھے لگتا ہے یہ لوگ میری ہنستی کھیلتی زندگی خراب کر دیں گے کیا آپ نہیں جانتے یہ لوگ کتنے خطرناک ہیں ۔

افشین میں جانتا ہوں میں سب کچھ جانتا ہوں لیکن تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں وہ ہمارے اپنے ہیں ۔اور اپنے کبھی اپنوں کا برا نہیں چاہتے ۔یہ خون کی کشش ہے جو انہیں یہاں کھینچ لاتی ہے اور ریدم سے کتنی محبت کرتے ہیں وہ لوگ ۔

ان سب چیزوں کے بارے میں مت سوچو تم صرف ہمارے ہونے والے بچے کا خیال رکھو اور تمہیں کسی طرح کی ٹیشن میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ساگر محبت سے اسے سمجھا رہا تھا ۔

لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی افشین اپنا ڈر کم نہ کر پائی تھی

°°°°°°

وہ ہوٹل کے سارے انتظامات چیک کرنے کے بعد جب کمرے میں آیا تو اسے بستر میں گھسے ہوئے پایا

اب یقیناً تم سونے کے فضول قسم کے ڈرامے کرنے والی ہو دیشم ۔ مت کرو اس کی ضرورت نہیں ہے فی الحال میں تم سے اپنے حق وصول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔

اسی لیے تمہیں میرے سامنے یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے بالکل بے فکر ہو جاؤ جس دن میں اپنے حق لینے پر آیا اس دن تمہاری نیند کی فکر بلکل نہیں کروں گا ۔

وہ اس کے ساتھ ہی اپنی جگہ بناتے ہوئے اس سے کمبل لے کر خود پر ڈال چکا تھا۔

جب کہ وہ اس کے تھوڑے سے دور ہو کر لیٹی تو خداش کو اس کی حرکت بہت ناگوار گزری ایک تو وہ اسے وقت دے رہا تھا اپنے دل پر پتھر رکھ کر اسے خود سے دور رکھے ہوئے تھا اور اب بھی یہ ۔۔۔۔۔

اگر ساری زندگی اس کی دوری ہی برداشت کرنی تھی تو اس سے نکاح کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔

اس نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا اور ساتھ ہی اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار تنگ کر گیا

بیوی ہو میری تو بہتر ہے کہ بیوی بن کر رہو ۔ورنہ اگر میں بیوی بنانے پر آیا نا تو بہت پچھتاؤ گی تم دیشم خداش کاظمی۔کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنا چاہتی ہو۔

کیا نخرے اٹھانے والا ہر بات ماننے والا اپنے حق کے لیے کسی طرح کی پیش قدمی نہ کرنے والا شوہر ہضم نہیں ہو رہا تم سے

اس کی مزاحمت پر خداش نے جیسے اپنی اہمیت کا احساس دلایا تھا اس کے احتجاج کرتے ہاتھ لمحے میں تھامے تھے ۔

آپ بیڈ کے اس کونے میں سوئیں گے اور میں یہاں اس نے شرطیہ انداز میں کہا لیکن خداش کا بے ساختہ قہقہ کمرے میں گونج اٹھا

کیا تم سچ میں اس وقت ایسی کنڈیشن میں ہو کہ مجھ سے کوئی بھی ڈیمانڈ کر سکو۔۔اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم ہو تو یقین مانو تم سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہے۔وہ مزید اس کےقریب ہوا

دور ہٹیں خداش کاظمی ورنہ۔۔۔۔۔” اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور کرنے کی ناکام سی کوشش کی تھی لیکن اس کا ورنہ اسے طیش دلا گیا تھا ۔

ورنہ ۔۔۔۔کچھ نہیں کر سکتی تم کچھ بھی نہیں ۔اگر یہاں کوئی کچھ کرسکتا ہے نہ تو وہ صرف اور صرف میں ہوں۔یقین مانو تمہارا یہ غرور لمحے میں پاش پاش کر سکتا ہوں

لیکن بنا غرور کے خداش کاظمی کی بیوی جچے گی نہیں ۔کبھی کبھی سوچتا ہوں جیسے یہ غرور نامی چیز بھی صرف تمہارے لیے ہی بنائی گئی ہو ۔

خیر رومنٹک موڈ میں نہیں ہوں میں اس وقت تو یہ تعریف پھر کبھی

اگر سونا چاہتی ہو تو یہی میری بانہوں میں سو سکتی ہو اور اگر جاگنا چاہتی ہو تو اس دلکش رات کو مزید دلکش بنانے کے لیے میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گا ۔

وہ اسے ڈرا رہا تھا یا محبت جتا رہا تھا دیشم کے لیے سمجھنا بے حد مشکل تھا ۔

لیکن دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں اس کا چہرہ پوری طرح خداش کے سامنے تھا جس پر اپنے گرم سانسوں کا لمس چھوڑتا وہ اس کے نازک سے وجود کو اپنی بانہوں میں قید کر کے آنکھیں بند کر چکا تھا

تھوڑی دیر کے بعد اسے خداش کے ہلکے ہلکے سے خراٹوں کی آواز آئی تو اس کے سونے پر وہ سکون کا سانس لیتی اس کا ہاتھ ہٹانے لگی

جب اس کا ہاتھ پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کے گرد اپنی گرفت سخت کر گیا وہ پہلے ہی اس کی بانہوں میں دبی ہوئی تھی مزید اپنی سانسوں کو مشکل میں ڈال کر خاموشی سے پڑی رہی۔

جانتی تھی کہ اب آزادی ممکن نہیں ہے آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی تو خداش کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آئی ۔

بہت ضدی تھی یہ لڑکی لیکن خداش کو اپنی محبت پر پورا یقین تھا ۔کہ وہ اسے جیت لے گا

°°°°°°

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ثاقب؟ایسا نہیں ہوسکتا احمر ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا؟

وہ ہماری اجازت کے بنا کسی سے شادی نہیں کرسکتا؟ ہم نہیں مانتے اس طرح کی کسی شادی کو احمر کی بیوی ایک خاندانی لڑکی ہوگی

اور اس کا تعلق ہمارے خاندان سے ہوگا ہم کسی باہر کی لڑکی کو احمر کی بیوی نہیں مانتے آج کل کی لڑکیاں دولت کے لیے کسی بھی حد تک گزر جاتی ہے

یقینا یہ جو کوئی بھی ہے دولت کے لیے اس کے پیچھے تک آئی ہوگی ۔

دولت کے لیے یہ آج کل کی لڑکیاں کچھ بھی کر سکتی ہیں اس لڑکی کو جلد سے جلد احمر کی زندگی سے نکال باہر کرو ۔احمر کی شادی وہیں ہوگی جہاں ہم نے طے کررکھی ہے

وہ اس بارے میں بہت پہلے سے ہی جانتا ہے تو ایسی غلطی کیسے کر سکتا ہے ہمیں یقین نہیں آرہا

کہ ہمارا سب سے قابل بیٹا اس حد تک چلا گیا ہم نے اس کی ہر بات مانی ہر خواہش کو پورا کیا وہ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟

ہم اس کی اس شادی کو نہیں مانتے تم جاؤ اس سے ملنے کے لیے اور بتا کر آؤ کہ اگر اپنے باپ کی خوشی چاہتا ہے تو اس لڑکی کو وہیں طلاق دے اور یہاں واپس آجائے

بابا ایسا ممکن نہیں ہے اس کا ایک بیٹا بھی ہے اور یقین کریں وہ اس لڑکی کو نہیں چھوڑے گا وہ اس سے محبت کرتا ہے اور مجھے کنیز فاطمہ کہیں سے بھی دولت کی لالچی نہیں لگتی

۔بہت ہی زیادہ پیاری لڑکی ہے آپ ایک بار اس سے مل لیں آپ کو خوشی ہوگی ثاقب نے اپنے بھائی کی حمایت میں بولنا چاہا تھا

نہیں ایسا ممکن نہیں ہے وہ لڑکی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو لیکن ہم اس شادی کو کبھی قبول نہیں کریں گے ساگر کی ایک غلطی کی وجہ سے ہم پورے خاندان میں بدنام ہو گئے ہیں ۔

ایسی ہی ایک غلطی ہم احمر کو نہیں کرنے دے سکتے جاکر اس لڑکی سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتی ہے دولت پیسہ شہرت جو چیز چاہیے اسے اس کے قدموں میں ڈھیر کر دو

لیکن ہمارے بیٹے کو اس سے آزادی دلوا دو اور اس کی اس شادی کی بھنک بھی یہاں کسی کو نہیں پڑنی چاہیے ۔

وہ بہت کچھ سوچ کر بول رہے تھے جب اچانک ہی ثقلین کا سالہ راحیل دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔جو رشتے میں ان کا بھانجا بھی تھا

ماموں جان میں گھر جا رہا تھا سوچا جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں۔ ان کے اچانک خاموش ہو جانے پر وہ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے جھکا تھا جب کہ بابا جان اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے چکے تھے ۔

اس نے کچھ سنا تو نہیں ہوگا اس کے کمرے سے نکلتے ہی بابا جان نے ثاقب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

اس کے چہرے سے لگتا تو نہیں کہ اس نے کچھ سنا ہے لیکن پھر بھی میں اس کو باہر تک چھوڑنے جاتا ہوں میں اندازہ لگا لوں گا

آپ پریشان مت ہوں جب تک آپ نہیں چاہیں گے یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں نکلے گی ثاقب مسکرا کر کہتا وہاں سے نکل چکا تھا ۔

جبکہ راحیل کو دروازے تک لے کر جاتے ہوئے اس نے پوری طرح اس بات کی یقین دہانی کر لی تھی کہ اس نے احمر کی شادی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنا ۔

لیکن ضروری نہیں کہ ثاقب اتنا ہی چالاک تھا جتنا وہ خود کو سمجھتا تھا کچھ معاملوں میں راحیل کا دماغ اس سے زیادہ کام کرتا تھا

°°°°°

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم زریام تم اس گھر سے کہیں نہیں جا سکتے کس کی اجازت سے یہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تم نے ۔۔۔۔؟

وہ سب سے مل رہا تھا جب دادا جان اپنے کمرے سے باہر نکل کر اس سے سوال کرنے لگے ۔

سوری دادا جان ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میری بیوی کی طبیعت کافی خراب ہے اسے ٹینشن سے دور رکھا جائے اور میں اسے اس گھر میں نہیں رکھ سکتا

جہاں سوائے ٹینشن کے اور کچھ بھی نہیں ہیں میری بیوی کو پرسکون ماحول چاہیے میں اپنے بچے اور اپنی بیوی کی صحت پر کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا

وہ بڑے ہی سکون سے بولتا دادا جان کا ضبط آزما گیا تھا

جتنی نفرتیں انہیں اس بے ضرر سی لڑکی سے تھی اتنا ہی ان کا پوتا اسے اہمیت دے رہا تھا اور یہ بات انہیں ہرگز پسند نہیں تھی لیکن وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے

کیا تکلیف ہے اسے یہاں پر ہم اسے کچھ نہیں کہہ رہے اپنی مرضی سے جیسے چاہے ویسے رہ رہی ہے دادا جان نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا جو سہم کر زریام کے پیچھے ہو گئی تھی ۔

دادا جان پلیز وہ ڈر رہی ہے اسے اس طرح گھبراتے دیکھ وہ انہیں ٹوک گیا جس پر وہ اسے گھور کر رہ گئے

دادا جان میں کسی طرح کی بحث نہیں کرنا چاہتا میں اپنی بیوی کو ایک اچھا ماحول دینا چاہتا ہوں ۔

سو جا رہا ہوں یہاں سے پریشان مت ہوں ہمیشہ کے لئے نہیں جا رہا میں جب یہ بہتر ہو جائے گی واپس آ جاؤں گا وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ۔

تمہیں گھر چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے کوئی اس لڑکی کو کچھ نہیں کہے گا دادا جان نے جیسے گارنٹی دینے کی کوشش کی تھی

ناراض وہ اس سے تھے لیکن زریام نخرے ان سے اٹھوا رہا تھا ۔

دادا جان فی الحال تو میں اسے لے کر جا رہا ہوں کیونکہ شہر میں ایک ڈاکٹر سے میں نے اس کی کنڈیشن شیئر کی تھی ان کا کہنا ہے کہ اسے مکمل چیک اپ کے لئے مجھے شہر لے کر جانا پڑے گا

باقی میں ایک ہفتے میں واپس آ کر گھر کا ماحول چیک کروں گا اگر یہ میری بیوی کے مطابق مناسب ہوا تو میں اسے واپس لے آؤں گا لیکن فی الحال میں اسے یہاں سے لے کر جا رہا ہوں

چلو جان وہ سکون سے کہتا اس کا ہاتھ تھام کر باہر نکل گیا تھا جبکہ دادا جان کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک لڑکی کی خاطر وہ اتنی بغاوت پر بھی اتر سکتا ہے وہ انہیں وقت دے رہا تھا ۔

گھر کا ماحول ٹھیک کرنے کے لئے ورنہ وہ واپس اس گھر میں نہیں آنا چاہتا تھا وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے تھے ۔

اس وقت انہیں اپنے اس فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا تھا جب وہ اس لڑکی کو ونی کرکے اس گھر میں لائے تھے

°°°°°°°

تھینک یو سو مچ مجھے تو لگا تھا کہ تم اس سائیڈ کا رستہ بھول گئے ہو پھر میں نے سوچا کہ تم بہت ڈھیٹ ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔

ہو سکتا ہے تمہارے پاس میرے لئے کچھ لانے کے پیسے نہ ہوں

وہ اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ کا ڈبہ لے کر روم فریزر میں رکھنے کے بعد آئس کریم کھانے لگی تھی ۔

تم مجھے بھی آفر کر سکتی ہو وہ سے اکیلے اتنا بڑا باول بنا آفر کے کھاتے دیکھ کر بولا ۔

جس راستے سے تم آئے ہو اس راستے میں اور بھی دکانیں ہوتی ہوں گی نا آئس کریم کی وہاں سے اور لے کر کھا لینا ۔

اور بتاؤ نانا جان کیسے ہیں ۔۔۔۔؟مجھے یاد تو کرتے ہوں گے وہ موضوع بدل چکی تھی جبکہ وہ اسے آئس کریم کے آفر نہ کرتے دیکھ خود ہی اس کے ہاتھ سے چمچ لے چکا تھا ۔

کتنے بھوکے ہو تم میرے لئے لے کر آئے تھے نا اسے اس کا انداز بالکل پسند نہ آیا ۔

ایسا ہی ہوں میں اور ایسے ہی شخص کے ساتھ تمہیں ساری زندگی گزارا کرنا ہے اچھا ہے ابھی سے شیئرنگ سیکھ جاو اور دادا بالکل ٹھیک ہیں تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ۔

تمہارا آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ۔پیپر تو ہو گئے تھے نا تمہارے وہ موضوع بدل چکا تھا جب کہ وہ مزید آگے نہ پڑھنے کے بہانے دے رہی تھی۔

لیکن اس کے بہانے اسے قابل قبول نہیں لگ رہے تھے وہ چاہتا تھا کہ ریدم اپنی پڑھائی جاری رکھے ۔لیکن وہ بھی بھرپور بحث کے موڈ میں تھی

سارا سارا دن اپنی کیٹی سے بات کرتے یا پھر اس کمرے میں رہتے وہ کافی بور ہو جاتی تھی لیکن شائزم کا آنا سے خوش کر تا تھا

چھپ چھپا کر ہی سہی لیکن وہ اس کے لیے آتا ضرور تھا

°°°°°°°°